وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهْوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثًا: انْتِضَالَكَ بِقَوْسِكَ، وَتَأْدِيبَكَ فَرَسَكَ، وَمُلَاعَبَتَكَ أَهْلَكَ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ؛ صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ أَحْمَدُ: مَتْرُوكٌ. وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that everything of worldly pastime is false except three: shooting with the bow, training the horse, and sporting with the wife, for these are of the truth. He further said to shoot and to ride, though shooting is dearer to him, and that Allah, the Mighty and Majestic, admits three persons into Paradise for a single arrow: its maker who hopes for reward in it, its supplier, and its shooter. > **"Everything of the pastime of the world is false except three: your shooting with your bow, your training of your horse, and your sporting with your wife, for they are of the truth. Shoot and ride, and that you shoot is dearer to me. Indeed Allah, the Mighty and Majestic, admits three into Paradise for a single arrow: its maker who hopes for reward therein, its supplier, and its shooter."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا کے لہو سے تعلق رکھنے والی ہر چیز باطل ہے البتہ تین چیزوں کا معاملہ مختلف ہے تمہارا اپنی کمان کے ذریعے تیراندازی کرنا تمہارا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور تمہارا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا ‘ کیونکہ یہ حق میں سے ہیں “۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تیراندازی کرو ! گھڑ سواری کرو ‘ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا اسے بنانے والا جو اسے بنانے میں ثواب کی امید رکھتا ہو اسے پکڑانے والا اور اسے پھینکنے والا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے اور یہ روایت مکمل روایت نفلی صدقہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں : یہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے دحیم اسے ثقہ کہتے ہیں : اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔