Majma al-Zawaid #9275
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ: "" النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ "" وَقَالَ: "" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ». فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: كَذَبْتَ. وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خُدَيْجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ، وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا؛ فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لَيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا: صَدَقَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abu Sa'id al-Khudri (رضي الله عنه) reports from the Messenger ﷺ that when the verse When the help of Allah comes and the victory arrived, the Messenger ﷺ recited it to its completion and explained that mankind formed one camp while he and his Companions formed another camp, and that migration ended with the conquest while only jihad and intention remained. Marwan accused Abu Sa'id of lying in the presence of Rafi' ibn Khudayj (رضي الله عنه) and Zayd ibn Thabit (رضي الله عنه) as they sat with him on a couch, whereupon Abu Sa'id observed that fear of losing leadership and charity duties kept them silent until Marwan raised a stick to strike him and they then affirmed his truthfulness. > **"People are one camp, and I and my Companions are one camp. There is no hijrah after the conquest, but only jihad and intention."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پڑھا اور پوری سورت کو پڑھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا :’’ دیگر لوگ ایک جگہ میں ہیں ‘ اور میں اور میرے اصحاب ایک جگہ میں ہیں ، آپ نے فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت ہیں “ ( راوی کہتے ہیں : ) تو مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اس وقت مروان کے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ دونوں چاہیں ‘ تو یہ بھی تمہیں یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں لیکن یہ صاحب اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ تم انہیں ان کی قوم کے عہدے دار کے عہدے سے الگ کر دو گے اور یہ دوسرے صاحب اس بات سے ڈرتے ہیں کہ تم انہیں صدقہ کی وصولی سے الگ کر دو گے یہ دونوں صاحبان خاموش رہے مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے درہ اٹھایا جب ان دونوں صاحبان نے یہ بات دیکھی تو ان دونوں نے کہا : یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔