Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 26 · Chapter 1

Book of Jihad

Hadith 9275–9314

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9275

Majma al-Zawaid #9275

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} [النصر: 1] قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ: "" النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ "" وَقَالَ: "" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ». فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: كَذَبْتَ. وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خُدَيْجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ، وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا؛ فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لَيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا: صَدَقَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (رضي الله عنه) reports from the Messenger ﷺ that when the verse When the help of Allah comes and the victory arrived, the Messenger ﷺ recited it to its completion and explained that mankind formed one camp while he and his Companions formed another camp, and that migration ended with the conquest while only jihad and intention remained. Marwan accused Abu Sa'id of lying in the presence of Rafi' ibn Khudayj (رضي الله عنه) and Zayd ibn Thabit (رضي الله عنه) as they sat with him on a couch, whereupon Abu Sa'id observed that fear of losing leadership and charity duties kept them silent until Marwan raised a stick to strike him and they then affirmed his truthfulness. > **"People are one camp, and I and my Companions are one camp. There is no hijrah after the conquest, but only jihad and intention."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پڑھا اور پوری سورت کو پڑھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا :’’ دیگر لوگ ایک جگہ میں ہیں ‘ اور میں اور میرے اصحاب ایک جگہ میں ہیں ، آپ نے فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت ہیں “ ( راوی کہتے ہیں : ) تو مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اس وقت مروان کے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ دونوں چاہیں ‘ تو یہ بھی تمہیں یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں لیکن یہ صاحب اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ تم انہیں ان کی قوم کے عہدے دار کے عہدے سے الگ کر دو گے اور یہ دوسرے صاحب اس بات سے ڈرتے ہیں کہ تم انہیں صدقہ کی وصولی سے الگ کر دو گے یہ دونوں صاحبان خاموش رہے مروان نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے درہ اٹھایا جب ان دونوں صاحبان نے یہ بات دیکھی تو ان دونوں نے کہا : یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9276

Majma al-Zawaid #9276

«وَعَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِابْنِ أَخٍ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Mujashi' ibn Mas'ud (رضي الله عنه) reports that he brought his nephew to the Prophet ﷺ to pledge allegiance for hijrah, whereupon the Messenger ﷺ declined that form and directed that the pledge be for Islam instead, since hijrah had ended after the conquest and the boy would belong among the righteous followers. > **"No, rather he shall pledge allegiance for Islam, for there is no hijrah after the conquest, and he shall be among the followers in goodness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے بھتیجے کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم ﷺ اس سے ہجرت کی بیعت لیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی نہیں ! بلکہ اس سے اسلام کی بیعت لی جائے گی ‘ کیونکہ فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف یحیی بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9277

Majma al-Zawaid #9277

وَعَنْ غَزِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ «أَنْ شَبَابًا مِنْ قُرَيْشٍ أَرَادُوا أَنْ يُهَاجِرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَاهُمْ آبَاؤُهُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هُوَ الْجِهَادُ وَالنِّيَّةُ».

EnglishUnverified translation

Ghaziyyah ibn al-Harith (رضي الله عنه) reports that some youths of Quraysh intended to migrate to the Messenger ﷺ but their fathers forbade them, and when the matter was mentioned to the Messenger ﷺ he explained that hijrah had ended after the conquest and that only jihad and intention remained. > **"There is no hijrah after the conquest; there is only jihad and intention."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت غزید بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش کے کچھ نوجوانوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کریں ان کے اباؤ اجداد نے انہیں اس سے منع کر دیا ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی اب جہاد اور نیت نہیں ‘‘۔

9278

Majma al-Zawaid #9278

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ غَزِيَّةَ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هِيَ ثَلَاثٌ: الْجِهَادُ وَالنِّيَّةُ وَالْحَشْرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كُلَّهُ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ghaziyyah (رضي الله عنه) reports in another narration that he heard the Prophet ﷺ state that hijrah had ended after the conquest and that only three matters remained, namely jihad, intention, and gathering. > **"There is no hijrah after the conquest; there are only three: jihad, intention, and gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت غزیہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی یہ تین چیزیں ہیں جہاد ‘ نیت اور حشر “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی تمام اسناد مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9279

Majma al-Zawaid #9279

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ غَزِيَّةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هُوَ الْإِيمَانُ وَالنِّيَّةُ وَالْحَشْرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn Ghaziyyah (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger ﷺ say on the day of the conquest of Makkah that hijrah had ended after the conquest and that only faith, intention, and gathering remained. > **"There is no hijrah after the conquest; there is only faith, intention, and gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن غزیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو فتح مکہ کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی اب ایمان نیت اور حشر ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبیداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

9280

Majma al-Zawaid #9280

وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتِلُ» "". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْهِجْرَةُ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا هَجْرُ السَّيِّئَاتِ، وَالْأُخْرَى يُهَاجِرُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ، وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكُفِيَ النَّاسُ الْعَمَلَ» "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ بَعْضَ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ حَدِيثِ ابْنِ السَّعْدِيِّ، وَالْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَابْنِ السَّعْدِيِّ فَقَطْ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Sa'di (رضي الله عنه) reports that the Prophet ﷺ said hijrah would not cease while the enemy was fought. Mu'awiyah (رضي الله عنه), 'Abd al-Rahman ibn 'Awf (رضي الله عنه), and 'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ described hijrah as two qualities, abandoning evil deeds and migrating to Allah and His Messenger, continuing while repentance is accepted until the sun rises from the west, after which every heart is sealed with its contents and people are spared further deeds. > **"Hijrah will not cease while the enemy is fought. Hijrah is two qualities: abandoning evil deeds, and migrating to Allah and His Messenger. Hijrah will not cease while repentance is accepted, and repentance will continue to be accepted until the sun rises from the west; when it rises, every heart will be sealed with what is in it and people will be relieved of deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن سعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جائے گی ‘‘۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے ایک قسم وہ ہے کہ جو برائیوں سے لاتعلق ہونا ہے اور دوسری قسم اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنا ہے تو ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی اور توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہو جاتا اور جب وہ ( سورج مغرب کی طرف سے ) طلوع ہو جائے گا ، تو ہر دل پر اس میں موجود کیفیت کے حوالے سے مہر لگا دی جائے گی اور عمل کے حوالے سے لوگوں کی کفایت ہو جائے گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤ داور امام نسائی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس میں انہوں نے حضرت ابن سعدی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ امام بزار نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت ابن سعدی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9281

Majma al-Zawaid #9281

وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ «أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بَعْضُهُمْ: الْهِجْرَةُ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Junadah ibn Abi Umayyah (رضي الله عنه) reports that some Companions of the Messenger ﷺ disagreed over whether hijrah had ceased, so he went to the Messenger ﷺ and asked about people claiming its cessation, whereupon the Messenger ﷺ affirmed that it would not cease while jihad continued. > **"Hijrah will not cease while jihad remains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جنادہ بن ابوامیه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا : ہجرت منقطع ہو چکی ہے ان لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! الوگ یہ کہہ رہے ہیں ہجرت منقطع ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تک جہاد ہے ہجرت منقطع نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9282

Majma al-Zawaid #9282

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ: احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: "" ادْخُلْ "" فَدَخَلَ، فَقَالَ: "" حَاجَتُكَ؟ "" قَالَ: حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي: أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ». قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn al-Sa'di (رضي الله عنه) of Banu Malik ibn Hanbal reports that he came to the Prophet ﷺ with companions who asked him, as the youngest, to guard their mounts and then enter, after which he fulfilled their needs, sought permission, entered, and asked whether hijrah had ceased. The Prophet ﷺ replied that his need was better than theirs and that hijrah would not cease while the enemy was fought. > **"Your need is better than their needs. Hijrah will not cease while the enemy is fought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ ‘ جن کا تعلق بنو مالک بن حنبل سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے کچھ ساتھیوں سمیت آئے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم ہماری سواریوں کی حفاظت کرو ‘ اور پھر تم آ جانا وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ۔ انہوں نے ان لوگوں کے تمام کام کیے پھر نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : میں آ جاؤں ؟ وہ اندر آ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے یہ کام ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت ختم ہو چکی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ‘ جو کام ہے وہ ان لوگوں کی ضرورت سے زیادہ بہتر ہے ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9283

Majma al-Zawaid #9283

وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ «عَنِ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: "" لَا تَنْقَطِعُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَحَيْوَةُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Raja' ibn Haywah reports from his father, from the envoy who asked the Messenger ﷺ about hijrah, that the Messenger ﷺ replied that it would not cease while the enemy was fought. > **"It will not cease while the enemy is fought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رجاء بن حیوہ نے اپنے والد کے حوالے سے اس قاصد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جائے گی “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے حیوہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9284

Majma al-Zawaid #9284

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَنْ تَنْقَطِعَ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ said hijrah would never cease while the disbelievers were fought. > **"Hijrah will never cease while the disbelievers are fought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک کفار کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ راحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9285

Majma al-Zawaid #9285

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتْقَذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ -، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تُقِيلُ حَيْثُ يُقِيلُونَ وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِلَى الْمَدِينَةِ فِي الْمَغَازِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Umar (رضي الله عنهما) reports that he heard the Messenger ﷺ say there would be hijrah after hijrah toward the migration place of their father Ibrahim (peace be upon him), until only the worst people remained on earth, rejected by their land, detested by the mercy of the Most Merciful, gathered by fire with apes and swine, with the fire resting where they rest and lodging where they lodge, seizing whoever falls from them. > **"There shall be hijrah after hijrah to the migration place of your father Ibrahim, until none remains on earth except its worst people, whom their lands expel, whom the mercy of the Most Merciful detests, and whom the Fire shall gather with apes and swine, resting where they rest and lodging where they lodge, and whatever falls from them belongs to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی جو تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہجرت کے مقام کی طرف ہو گی ‘ یہاں تک کہ زمین میں صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان کی زمین انہیں پھینکے گی اور رحمان کی روح انہیں برا کرے گی اور آگ ان کا حشر بندروں اور خنزیروں کے ساتھ کرے گی وہ لوگ جہاں رکیں گے وہ آگ وہاں رکے گی وہ لوگ جہاں رات بسر کریں گے وہ آگ ان کے ہمراہ رات بسر کرے گی ان میں سے جو شخص آگ میں گرے گا وہ آگ کا ہو جائے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ‘ جو باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں احادیث آگے چل کر ’’ مغازی ‘‘ سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

9286

Majma al-Zawaid #9286

«عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: خَرَجْتُ مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى فَلَمَّا سَلَّمَ وَالنَّاسُ مِنْ بَيْنِ خَارِجٍ وَقَائِمٍ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى جَالِسًا إِلَّا دَنَا إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ: "" هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "" وَبَدَأَ بِالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ بِالثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثِ حَتَّى دَنَا إِلَيَّ فَقَالَ: "" هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَمَا حَاجَتُكَ؟ "" قُلْتُ: الْإِسْلَامُ. قَالَ: "" هُوَ خَيْرٌ لَكَ "" قَالَ: "" وَتُهَاجِرُ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" هِجْرَةَ الْبَادِيَةِ أَوْ هِجْرَةَ الْبَاتَّةِ؟ "" قُلْتُ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" هِجْرَةُ الْبَاتَّةِ. وَهِجْرَةُ الْبَاتَّةِ أَنْ تَثْبُتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهِجْرَةُ الْبَادِيَةِ: أَنْ تَرْجِعَ إِلَى بَادِيَتِكَ وَعَلَيْكَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَكْرَهِكَ وَمَنْشَطِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ "". قَالَ: فَبَسَطْتُ يَدِيَ إِلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ وَاسْتَثْنَى لِي حَيْثُ لَمْ أَسْتَثْنِ لِنَفْسِي قَالَ: "" فِيمَا اسْتَطَعْتَ "". قَالَ: وَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي، فَوَافَقْتُ أَبِي جَالِسًا فِي الشَّمْسِ يَسْتَدْبِرُهَا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ بِتَسْلِيمِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: أَصَبَوْتَ؟ فَقُلْتُ: أَسْلَمْتُ. فَقَالَ: لَعَلَّ اللَّهَ يَجْعَلُ لَنَا وَلَكَ فِيهِ خَيْرًا، فَرَضِيتُ بِذَلِكَ مِنْهُ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa' (رضي الله عنه) reports that he came migrating to the Messenger ﷺ, who after prayer approached seated people rank by rank asking whether they needed anything until he reached him. When Wathilah sought Islam and hijrah, the Prophet ﷺ asked whether he wanted desert hijrah or decisive hijrah, explained that the decisive form meant remaining with the Messenger ﷺ while the desert form meant returning to his land with obedience in hardship, ease, dislike, eagerness, and preference over him, then accepted his pledge with the allowance of ability. Wathilah later went to his family at Tabuk, greeted his father sitting in the sun with the greeting of Islam, and was answered with hope for goodness. > **"Do you have a need. What is your need. It is better for you. Will you migrate. The hijrah of the desert or the decisive hijrah. The decisive hijrah is that you remain with the Messenger of Allah, and the hijrah of the desert is that you return to your desert with hearing and obedience in your hardship and ease, dislike and eagerness, and preference over you, as far as you are able."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی جب آپ نے سلام پھیرا تو کچھ لوگ نکل رہے تھے کچھ کھڑے ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے جس بھی کھڑے ہوئے شخص کو دیکھا آپ اس کے پاس گئے ‘ اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ آپ نے پہلی صف میں ایسا کیا پھر دوسری صف میں کیا پھر تیسری صف میں کیا یہاں تک کہ جب آپ میرے پاس تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ۔ میں نے عرض کی : اسلام نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم ہجرت کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بادیہ ہجرت یا باتہ ہجرت ؟ میں نے عرض کی دونوں میں کون سی زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : باتہ ہجرت ، باتہ ہجرت یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ رہو اور بادیہ ہجرت یہ ہے کہ تم اپنے علاقے کی طرف واپس چلے جاؤ ‘ تنگی اور آسانی ناپسندیدگی اور پسندیدگی اور اپنے ساتھ ترجیحی سلوک ( ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری کرنا تم پر لازم ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھایا اور آپ کی بیعت کر لی آپ نے میرے لیے اس چیز کا استثناء کیا جس چیز کا میں نے استثناء اپنے لئے نہیں کیا تھا آپ نے فرمایا : ( یہ بیعت اس حد تک ہو گی ) جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ۔ راوی کہتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے اعلان کروایا تو میں نکل کر اپنے اہل خانہ کی طرف گیا میں نے اپنے والد کو دھوپ میں بیٹھے ہوئے پایا انہوں نے دھوپ کی طرف پشت کی ہوئی تھی میں نے انہیں اسلام کے طریقے کے مطابق سلام کیا انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے دین تبدیل کر لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے اسلام قبول کر لیا ہے انہوں نے فرمایا : شاید اللہ تعالیٰ اسے ہمارے لئے اور تمہارے لئے بہتر کر دے تو میں ان کی اس بات سے راضی ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9287

Majma al-Zawaid #9287

«عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ؟ فَقَالَ: "" لَتَأْتِينَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ "". قَالَ: فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mut'im (رضي الله عنه) reports that he asked the Messenger ﷺ about claims that they had no reward in Makkah, whereupon the Messenger ﷺ assured him that their rewards would reach them even in a foxhole, then leaned toward him and confided that among his Companions were hypocrites. > **"Your rewards shall surely reach you even if you are in a foxhole. Among my Companions are hypocrites."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ یہ کہتے ہیں : ہمارے لئے مکہ میں اجر نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے اجور عنقریب تم تک آ جائیں گے خواہ تم لومڑی کی بل میں ہو ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میری طرف سر بڑھایا اور فرمایا : میرے ساتھیوں میں کچھ لوگ منافق ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9288

Majma al-Zawaid #9288

وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حِبَّانَ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ؟ خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ؟ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ، أَمْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً، أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ؟ " قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ، وَإِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَةِ ". قَالَ: يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Farzdaq ibn Hibban reports that he and 'Ubaydullah ibn Haydah met 'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As (رضي الله عنهما) on the Syrian road, who told of a bold Bedouin from their tribe asking the Messenger ﷺ whether hijrah was toward him wherever he was, toward a known land, toward a particular people, or ending with his death. The Messenger ﷺ fell silent briefly, called for the questioner, and declared that establishing prayer and paying zakah made one a migrant even if dying in Hadramah, a place in al-Yamamah. > **"Where is the questioner about hijrah. When you establish prayer and pay zakah, you are a migrant, even if you die in Hadramah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فرزدق بن حبان بیان کرتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کروں ؟ جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور اس کے بعد میں اسے نہیں بھولا ہوں ، ایک مرتبہ میں اور عبیداللہ بن حیدہ شام کے راستے میں تھے ہمارا گزر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے بتایا تم دونوں کی قوم سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی شخص جو جرات مند تھا وہ آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہجرت کہاں ہو گی آپ کی طرف خواہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں یا کسی متعین سرزمین کی طرف ؟ یا کسی مخصوص قوم کی طرف یا جب آپ کا وصال ہو جائے گا ، تو یہ ختم ہو جائے گی ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا : ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہاں ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم نماز قائم کرو ‘ اور زکوۃ ادا کرو تو تم مہاجر ہو گے اگرچہ تم ’’ حضرمہ ‘‘ میں مر جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : یہ یمامہ میں موجود ایک جگہ کا نام ہے ۔

9289

Majma al-Zawaid #9289

وَفِي رِوَايَةٍ: "" الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ حَسَنٌ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the same encounter, the Messenger ﷺ defined hijrah as abandoning open and hidden immoralities, establishing prayer, and paying zakah, by which one becomes a migrant. > **"Hijrah is to abandon immoralities, what is apparent of them and what is hidden, and to establish prayer and pay zakah; then you are a migrant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہجرت یہ ہے کہ تم برائیوں سے لاتعلق رہو ان میں سے جو ظاہر ہیں یا جو پوشیدہ ہیں اور تم نماز قائم کرو ‘ اور تم زکوۃ ادا کرو تو تم مہاجر ہو گئے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

9290

Majma al-Zawaid #9290

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَاسٍ مَنْ خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلَهُمْ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ الدِّيَةِ ثُمَّ قَالَ: "" أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reports from Khalid ibn al-Walid (رضي الله عنه) that the Messenger ﷺ sent Khalid to some people of Khath'am who sought protection through prostration but were killed, so the Messenger ﷺ paid half their blood money and declared himself free of every Muslim residing among the polytheists, to the point that their fires should not see one another. > **"I am free of every Muslim who resides among the polytheists; their two fires shall not see one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خثعم قبیلے کے کچھ افراد کی طرف بھیجا ان لوگوں نے سجدہ کر کے خود کو بچانا چاہا لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کی نصف دیت ادا کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ میں ایسے ہر مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے ساتھ مقیم رہتا ہے ( ان دونوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور رہنا چاہیے ) کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی آگ کو نہ دیکھ سکیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9291

Majma al-Zawaid #9291

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا بِهَا حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ رَبِيعَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar (رضي الله عنهما) reports that the Prophet ﷺ, whenever he entered Makkah, supplicated Allah not to cause their deaths there until He brought them out from it. > **"O Allah, do not cause our deaths in it until You bring us out from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں یہاں موت نہ دینا تو ہمیں یہاں سے نکال دینا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ربیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9292

Majma al-Zawaid #9292

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتَ تَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ فِي الْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا؟ قَالَ: "" بَلَى وَلَعَلَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَرْفَعُكَ فَيَنْصُرُ بِكَ قَوْمًا وَيَنْفَعُ آخَرِينَ بِكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa (رضي الله عنه) reports that Sa'd (رضي الله عنه) fell ill in Makkah and the Prophet ﷺ visited him, whereupon Sa'd asked whether the Prophet disliked a man dying in the land from which he had migrated. The Prophet ﷺ affirmed this and supplicated that Allah elevate him, aid a people through him, and benefit others by him. > **"Yes. Perhaps Allah, blessed and exalted, will elevate you, aid a people through you, and benefit others by you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بات کو ناپسند نہیں کرتے ہیں کہ آدمی اس جگہ پر مر جائے کہ جہاں سے وہ ہجرت کر کے چلا گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ نصیب کرے گا ‘ اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کی مدد کرے گا ‘ اور تمہارے ذریعے کچھ دوسرے لوگوں کو نفع پہنچائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمر بن ہیاج کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9293

Majma al-Zawaid #9293

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: مَا بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَمَّا سَلَمَةُ فَقَدِ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ. فَقَالَ جَابِرٌ: لَا تَقُلْ ذَاكَ فَإِنِّي «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَسْلَمَ: "" أَبُدُوًّا يَا أَسْلَمُ؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا. فَقَالَ: "" أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَعُمَرُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn 'Abd al-Rahman ibn Jarhad reports hearing a man ask Jabir ibn 'Abdullah (رضي الله عنهما) who remained of the Prophet's Companions with him, to which Jabir named Anas ibn Malik (رضي الله عنه) and Salamah ibn al-Akwa' (رضي الله عنه). When the man claimed Salamah had apostatized from his hijrah, Jabir forbade that speech and recalled the Messenger ﷺ asking Aslam whether they would take up Bedouin life, and reassuring their fear of reverting after hijrah by affirming their migrant status wherever they were. > **"Will you take up Bedouin life, O Aslam. You are migrants wherever you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن عبدالرحمن بن جرہد بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا آپ کے ہمراہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے کتنے لوگ باقی رہ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اس شخص نے کہا : جہاں تک حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ‘ تو وہ ہجرت کرنے کے بعد واپس چلے گئے تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسلم قبیلے کے افراد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : اے اسلم قبیلے کے لوگو ! کیا تم بدوی زندگی اختیار کرو گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر ہم نے ہجرت کر لی تو اس کے بعد واپس نہ چلے جائیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ( یعنی عمرو بن عبدالرحمن ) جہاں کہیں بھی ہوں گے تم مہاجر شمار ہو گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے عمر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9294

Majma al-Zawaid #9294

وَعَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحُصَيْبِ فَقَالَ: ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ؟ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَبُدُوًّا يَا أَسْلَمُ فَتَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ، وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ؟ "". فَقَالُوا: إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا. فَقَالَ: "" أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ». قُلْتُ: لِسَلَمَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Iyas ibn Salamah ibn al-Akwa' reports from his father that when Salamah (رضي الله عنه) arrived in Madinah, Buraydah ibn al-Husayb (رضي الله عنه) asked whether he had reverted from his hijrah. Salamah sought refuge in Allah, cited the Messenger's permission, and recalled the Messenger ﷺ inviting Aslam to Bedouin life, breathing breezes and dwelling in ravines, then reassuring their fear of harm to their hijrah by affirming their migrant status wherever they were. > **"Will you take up Bedouin life, O Aslam, breathing the winds and dwelling in the ravines. You are migrants wherever you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاس بن سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے سلمہ کیا تم ہجرت کرنے کے بعد واپس چلے گئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا : اس بات سے اللہ کی پناہ ہے مجھے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اجازت ملی ہوئی ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اسلم قبیلے کے لوگو ! کیا تم لوگ بدوی زندگی اختیار کر لو گے کہ جہاں پر تم ہواؤں میں رہو اور گھاٹیوں میں رہائش اختیار کرو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ ہماری ہجرت کے حوالے سے ہمیں یہ چیز نقصان پہنچائے گی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم مہاجر ہو گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ایاس بن سلمہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9295

Majma al-Zawaid #9295

«وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَنْتُمْ بَدْوُنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضَرِكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa' (رضي الله عنه) reports that he came to the Prophet ﷺ, who told him that they were his Bedouins while he was their townsman. > **"You are our Bedouins and we are your townsfolk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ہمارے دیہاتی ہو اور ہم تمہارے شہری ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9296

Majma al-Zawaid #9296

وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ أَعْشَبَتِ الْقِفَارُ فَلَوِ ابْتَعْتَ أَعْنُزًا فَتَنَزَّهْتَ تَصِحُّ. فَقَالَ: لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي الْبَدَاءِ غَيْرَ أَسْلَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muslim ibn Jarhad reports that Ibn 'Umar (رضي الله عنهما) fell ill and a man suggested buying goats and going to the green wilderness for health, whereupon Ibn 'Umar replied that none of them had been permitted to adopt Bedouin life except Aslam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم بن جرہد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ایک صاحب نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! خالی جگہیں گھاس پھوس والی ہو گئی ہیں ‘ اگر آپ بکریاں خرید لیں ‘ اور آبادی سے باہر چلے جائیں ، تو آپ ٹھیک ہو جائیں گے انہوں نے فرمایا : اسلم قبیلے کے افراد کے علاوہ ‘ ہم میں سے اور کسی کو ‘ بدوی زندگی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومریم عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔

9297

Majma al-Zawaid #9297

وَعَنْ شَدَّادٍ «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَاشْتَكَى. فَقَالَ: "" مَا لَكَ يَا شَدَّادُ؟ "" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَكَيْتُ وَلَوْ شَرِبْتُ مِنْ مَاءِ بَطِحَانَ لَبَرِئْتُ. قَالَ: "" فَمَا يَمْنَعُكَ؟ "" قُلْتُ: هِجْرَتِي. قَالَ: "" اذْهَبْ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ حَيْثُ كُنْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shaddad (رضي الله عنه) reports that he came to the Prophet ﷺ, pledged for hijrah, then fell ill. When the Prophet ﷺ asked his condition, Shaddad explained that drinking from Bathana water would cure him but his hijrah prevented him, whereupon the Prophet ﷺ ordered him to go and affirmed his migrant status wherever he was. > **"What is wrong with you, O Shaddad. What prevents you. Go, for you are a migrant wherever you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ہجرت کی بیعت کر لی پھر وہ بیمار ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے شداد تمہیں کیا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں اگر میں بطحان کا پانی پی لوں گا ‘ تو ٹھیک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تم ایسا کرتے کیوں نہیں ہو ؟ میں نے عرض کی : اپنی ہجرت کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! تم جہاں بھی ہو گے تم مہاجر شمار ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9298

Majma al-Zawaid #9298

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَى أَصْحَابِهِ بِتُسْتَرَ يَزُورُهُمْ فَيُقِيمُ يَوْمَ دُخُولِهِ وَالثَّانِيَ وَيَخْرُجُ فِي الثَّالِثِ فَيَقُولُونَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «نَهَانِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ التَّنَاءَةِ، فَمَنْ أَقَامَ بِبَلَدِ الْخَرَاجِ فَقَدْ تَنَأَ، فَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُقِيمَ» .. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Sa'd ibn al-Atwal reports that his father 'Abdullah (رضي الله عنه) visited companions in Tustar, staying only the day of arrival and the next before leaving on the third, explaining from his father that the Messenger ﷺ had forbidden him from rural isolation, since settling in kharaj land amounted to such isolation, which he disliked. > **"The Messenger of Allah forbade me from desert seclusion; whoever settles in the land of kharaj has adopted seclusion, so I dislike remaining."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ ’’ تستر ‘‘ میں اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے ۔ وہ ان سے ملنے کے لئے جاتے تھے ‘ تو جس دن وہ آتے تھے اس دن مقیم رہتے تھے اگلے دن مقیم رہتے تھے اور تیسرے دن نکل آتے تھے لوگ ان سے کہتے تھے : اگر آپ اور مقیم رہتے تو یہ مناسب تھا ، تو وہ یہ بیان کرتے تھے میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے ‘ آپ نے آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے سے منع کیا ہے کہ جو شخص خراج والے علاقے میں مقیم ہو گا ‘ وہ آبادی سے باہر رہائش اختیار کرنے والا ہو گا ، تو مجھے یہاں مقیم رہنا ناپسند ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9299

Majma al-Zawaid #9299

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَدَا جَفَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ said whoever took up Bedouin life became harsh. > **"Whoever takes up Bedouin life becomes harsh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے اس میں سختی آ جاتی ہے “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9300

Majma al-Zawaid #9300

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ بَدَا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، إِلَّا فِي فِتْنَةٍ فَإِنَّ الْبُدُوَّ خَيْرٌ مِنَ الْمُقَامِ فِي الْفِتْنَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ thrice cursed whoever adopted Bedouin life after hijrah, except in tribulation, when Bedouin life is better than remaining amid fitnah. > **"May Allah curse whoever takes up Bedouin life after hijrah. May Allah curse whoever takes up Bedouin life after hijrah. May Allah curse whoever takes up Bedouin life after hijrah, except in fitnah, for Bedouin life is better than residence during fitnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ہجرت کے بعد بدوی زندگی اختیار کر لیتا ہے البتہ فتنہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ فتنے کی جگہ ٹھہرے رہنے کے مقابلے میں بدوی زندگی اختیار کر لینا زیادہ بہتر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9301

Majma al-Zawaid #9301

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلْمُهَاجِرِينَ مَنَابِرَ مِنْ ذَهَبٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ أَمِنُوا مِنَ الْفَزَعِ». قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ لَوْ حَبَوْتُ بِهَا أَحَدًا لَحَبَوْتُ بِهَا قَوْمِي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ حَمْزَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي أَوَاخِرِ الْمَنَاقِبِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ said the Muhajirun would have pulpits of gold on the Day of Resurrection, seated securely from terror, whereupon Abu Sa'id swore that had he favored anyone with that news he would have favored his own people. > **"The Muhajirun shall have pulpits of gold upon which they shall sit on the Day of Resurrection, safe from terror."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مہاجرین کے لئے سونے کے بنے ہوئے منبر ہوں گے جن پر وہ قیامت کے دن بیٹھیں گے اور وہ گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے ‘‘۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر میں اس حوالے سے ‘ کسی کو قریب کرتا ‘ تو میں نے اپنی قوم کو قریب کرنا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد حمزہ بن مالک بن حمزہ سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مہاجرین اور انصار کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث ’’ مناقب ‘‘ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔

9302

Majma al-Zawaid #9302

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: مَا تُسَمُّونَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ فِيكُمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى لَيْسَ لَهُمْ فِيكُمْ نَسَبٌ وَلَا قَرَابَةٌ؟ قُلْتُ: نُسَمِّيهِمُ الْعُلُوجَ وَالسُّقَاطَ. فَقَالَتْ عَائِشَةَ: كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الشَّامِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

'Imran ibn Hittan reports that 'A'ishah, Mother of the Believers (رضي الله عنها), asked him what they called villagers without lineage or kinship who joined them, and when he answered that they called them 'uluj and saqat, she replied that in the time of the Messenger ﷺ they used to call them Muhajirun. > **"We used to call them Muhajirun in the time of the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بن حطان بیان کرتے ہیں : ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : جو لوگ تمہارے پاس آتے ہیں جن کا تعلق دوسری بستیوں سے ہوتا ہے تمہارے درمیان ان کا نسب نہیں ہوتا کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ہے ‘ تو تم انہیں کیا نام دیتے ہو ؟ میں نے کہا : ہم انہیں علوج اور سقاط کہتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم ان لوگوں کو مہاجرین کہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد احمد بن موسیٰ شامی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

9303

Majma al-Zawaid #9303

عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ قَالَ: «خَرَجَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَقِمِ الصَّلَاةَ وَآتِ الزَّكَاةَ وَاهْجُرِ السُّوءَ وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ صَالِحَ بْنَ بَشِيرٍ أَرْسَلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ فُدَيْكٍ.

EnglishUnverified translation

Salih ibn Bashir ibn Fudayk reports that Fudayk (رضي الله عنه) came to the Messenger ﷺ and asked about claims that whoever did not migrate perished, whereupon the Messenger ﷺ commanded prayer, zakah, abandoning evil, and residing wherever he wished in his people's land. > **"Establish prayer, pay zakah, abandon evil, and dwell in your people's land wherever you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صالح بن بشیر بن فدیک بیان کرتے ہیں حضرت فدیک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ یہ کہتے ہیں : جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو برائی سے لاتعلق رہو اور اپنی قوم کے علاقے میں رہائش پذیر رہو جہاں تم چاہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ صالح بن بشیر نے اسے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حضرت فدیک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔

9304

Majma al-Zawaid #9304

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْأَرْضُ أَرْضُ اللَّهِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ فَحَيْثُ وَجَدَ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُقِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-'Awwam (رضي الله عنه) reports that he heard the Messenger ﷺ say that the earth belongs to Allah and His servants belong to Allah, so wherever one finds goodness he should fear Allah and settle. > **"The earth is the earth of Allah and the servants are the servants of Allah; wherever one of you finds goodness, let him fear Allah and settle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ساری زمین اللہ کی زمین ہے اور سارے بندے اللہ کے بندے ہیں ، تم میں سے جو شخص جہاں بھلائی پائے وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے وہاں مقیم ہو جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9305

Majma al-Zawaid #9305

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدَكُمْ، ذَاكَ أَمِيرٌ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَمَّارَ بْنَ خَالِدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) said that when three are on a journey they should appoint one of them over themselves, for that is a commander appointed by the Messenger ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم تین افراد سفر میں ہوں ، تو اپنے میں سے ایک فرد کو اپنے اوپر امیر مقرر کر لو یہ وہ امیر ہو گا جسے اللہ کے رسول نے امیر قرار دیا ہے یا یہ وہ امیر ہو گا ‘ جس کے بارے اللہ کے رسول نے حکم دیا ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عمار بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9306

Majma al-Zawaid #9306

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا سَافَرْتُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَقُرَؤُكُمْ وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَكُمْ، فَإِذَا أَمَّكُمْ فَهُوَ أَمِيرُكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ said that when travelling, the most Quran-knowing among them should lead them even if youngest, and when he leads them he is their commander. > **"When you travel, let the most Quran-knowing among you lead you, even if he is the youngest among you; when he leads you, he is your commander."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب تم لوگ سفر کرو تو جو قرآن کا سب سے بڑا عالم ہو وہ تمہاری امامت کرے خواہ وہ تم سے عمر میں سب سے کم ہو اور جب وہ تمہاری امامت کرے گا ‘ تو وہ تمہارا امیر بھی ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9307

Majma al-Zawaid #9307

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ، وَإِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ: "" «لَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُبَيْسَ بْنَ مَرْحُومٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar (رضي الله عنهما) reports that the Prophet ﷺ said that when three are together, two should not converse privately excluding the third, and when three are travelling they should appoint one of them as leader. > **"When they are three, two should not converse privately excluding the third, and when three are on a journey, let them appoint one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب وہ تین افراد ہوں ، تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی میں بات نہ کریں اور جب سفر میں تین افراد ہوں ، تو وہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث مذکور ہے : دو آدمی سرگوشی میں بات نہ کریں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف عبیس بن مرحوم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9308

Majma al-Zawaid #9308

وَعَنْ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فِي سَفَرٍ فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدَكُمْ وَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah (رضي الله عنه) said that when three are on a journey they should appoint one of them over themselves, and two should not converse privately excluding their companion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تم سفر میں تین افراد ہو ‘ تو اپنے میں سے کسی ایک کو اپنے اوپر امیر بنا لو ‘ اور دو آدمی اپنے ساتھی ( یعنی تیسرے فرد ) کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9309

Majma al-Zawaid #9309

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ سَفَرًا فَلْيُسَلِّمْ عَلَى إِخْوَانِهِ فَإِنَّهُمْ يَزِيدُونَهُ بِدُعَائِهِمْ إِلَى دُعَائِهِ خَيْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ said that when one of them intends travel he should bid peace upon his brothers, for they add goodness to his supplication through their supplication. > **"When one of you intends travel, let him bid peace upon his brothers, for they add goodness through their supplication to his supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی سفر کا ارادہ کرے تو اپنے بھائیوں کو سلام کرے ‘ کیونکہ وہ اس کی دعا کے ہمراہ دعائے خیر کر کے بھلائی میں اضافہ ہی کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9310

Majma al-Zawaid #9310

عَنْ سَفِينَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Safinah (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ forbade travelling with the Quran to enemy land for fear the enemy would seize it. > **"The Messenger of Allah forbade travelling with the Quran to the land of the enemy, fearing the enemy would seize it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ قرآن ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر کیا جائے اس اندیشہ کے تحت کہ کہیں دشمن اسے لے کر ( اس کی بے حرمتی نہ کرے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن سفینہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9311

Majma al-Zawaid #9311

عَنْ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا غَزَوْنَا فَدَعَا رَجُلٌ فِي آخِرِ الْقَوْمِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْأَوَّلُ أَنْ نَنْتَظِرَهُ حَتَّى يَلْحَقَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reports that the Messenger ﷺ used to command them when campaigning that if a man at the rear called to the front to wait until he joined, they should wait for him. > **"O foremost, wait for him until he joins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب ہم کسی جنگ میں حصہ لینے کے لئے جائیں ‘ تو پیچے والے لوگوں میں سے کوئی شخص پکار کر کہے : اے پہلے والو ! تو آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم اس کا انتظار کریں جب تک وہ آ کے مل نہیں جاتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9312

Majma al-Zawaid #9312

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ دَعَاهُ، فَأَمَرَهُ بِتَقْوَى اللَّهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: "" اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ لَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثٍ: ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْهِجْرَةِ إِنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ هُمْ لَمْ يَفْعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَلَا فِي الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ، وَيَجُوزُ عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَإِنْ هُمْ أَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي تُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، ثُمَّ إِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تُعْطِيَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ أَعْطِهِمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَخْفِرْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمُرَادِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ. وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ مَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ فِي الْحَرْبِ

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas (رضي الله عنهما) reports that when the Messenger ﷺ appointed a commander over an army, he summoned him, enjoined Allah-consciousness and goodness toward accompanying Muslims, then commanded fighting in Allah's name against disbelievers without betrayal, treachery, mutilation, or killing children, and instructed inviting polytheist enemies to one of three courses: Islam and then hijrah with rights and duties of Muhajirun, or the status of Bedouin Muslims without share in fay' and ghanimah while subject to Allah's law, without granting Allah's judgment or protection as one's own but granting one's own protection, since violating one's own protection is lighter than violating Allah's protection. > **"Fight in the name of Allah; fight those who disbelieve in Allah; do not embezzle, betray, mutilate, or kill a child. When you meet your polytheist enemy, invite them to one of three courses: invite them to Islam and to hijrah, then invite them to the status of Bedouin Muslims; do not impose upon them the judgment of Allah, but impose your own judgment; do not grant them the protection of Allah, but grant them your protection and that of your companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی کو کسی لشکر کا امیر مقرر کرتے تھے ‘ تو اسے بلاتے تھے اور اسے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بہتری کا رویہ رکھنے کا حکم دیتے تھے اور پھر آپ یہ حکم دیتے تھے : ’’ تم اللہ کا نام لے کر جنگ میں حصہ لو ‘ اور جو لوگ اللہ کا انکار کرتے ہیں ، تم ان کے ساتھ جنگ کرو تم خیانت نہ کرنا عہد شکنی نہ کرنا مثلہ نہ کرنا کسی کمسن کو قتل نہ کرنا جب مشرکین سے تعلق رکھنے والے اپنے دشمن سے تمہارا سامنا ہو ‘ تو تم انہیں تین میں سے ایک بات کی دعوت دینا تم انہیں اسلام کی دعوت دینا اگر وہ تمہاری بات مان لیں ‘ تو تم ان سے اس چیز کو قبول کر لینا اور ان سے جنگ کرنے سے رک جانا پھر تم انہیں ہجرت کی دعوت دینا کہ جو کچھ بھی مہاجرین کو ملتا ہے وہ انہیں بھی ملے گا ‘ اور جو فرائض مہاجرین پر عائد ہوتے ہیں وہ ان پر بھی عائد ہوں گے ‘ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں ، تو تم ان سے یہ قبول کر لینا اور ان سے رک جانا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو تم انہیں یہ بتانا کہ ان کی حالت دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گی انہیں مال فئے یا غنیمت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن ان پر اللہ کا وہ حکم جاری ہو گا جو مسلمانوں پر جاری ہوتا ہے اگر وہ ( یعنی دشمن ) یہ ارادہ کریں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق رکھو تو تم ایسا نہ کرنا ‘ کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرو گے یا نہیں ؟ بلکہ تم انہیں اپنے فیصلے کے مطابق تیار کرنا اور اگر وہ تم سے یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کی پناہ دو تو تم ایسا نہ کرنا بلکہ تم انہیں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دینا ، کیونکہ اگر تم اپنی دی ہوئی یا اپنے ساتھیوں کی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرو گے تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم اللہ کی پناہ کی خلاف ورزی کرو “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبدالواحد مرادی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس باب سے تعلق رکھنے والی بقیہ احادیث اس باب میں آئیں گے جس میں جنگ کے دوران قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔

9313

Majma al-Zawaid #9313

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ إِلَى مُعَاذٍ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَ: "" تَشَاوَرَا وَتَطَاوَعَا وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ الْعَبْدِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar (رضي الله عنهما) reports that the Messenger ﷺ sent word to Mu'adh (رضي الله عنه) and Abu Musa (رضي الله عنه) to consult one another, obey one another, make ease without hardship, and give glad tidings without repulsion. > **"Consult one another, obey one another, make ease and do not make hardship, give glad tidings and do not repel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : ’’ تم ایک دوسرے سے مشورہ کرتے رہنا تم ایک دوسرے کی فرمانبرداری کرتے رہنا آسانی فراہم کرنا تنگی کا شکار نہ کرنا خوشخبری سنانا متنفر نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوخلیفہ عبدی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9314

Majma al-Zawaid #9314

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا كَانَتِ الْأَرْضُ مُخْصَبَةً فَاقْصُرُوا فِي السَّيْرِ وَأَعْطُوا الرِّكَابَ حَقَّهَا، فَإِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَإِذَا كَانَتِ الْأَرْضُ مُجْدِبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَمَرَاحُ السِّبَاعِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفُهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas (رضي الله عنهما) reports from the Prophet ﷺ that in fertile land they should shorten pace and give mounts their due, for Allah is gentle and loves gentleness, while in barren land they should hasten through, keep to night travel since the earth is folded at night, and avoid encamping on the highway which shelters snakes and haunts beasts. > **"When the land is fertile, shorten the pace and give the mounts their due, for Allah is gentle and loves gentleness. When the land is barren, hasten through it. Keep to night travel, for the earth is folded at night. Beware of encamping on the highway, for it is the refuge of snakes and the resort of beasts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب زمین سرسبز و شاداب ہو ‘ تو آرام سے سفر کرو ‘ اور سواریوں کو ان کا حق دو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے اور جب زمین خشک ہو ‘ تو وہاں سے تیزی سے گزر جاؤ ‘ اور تم پر رات کے وقت سفر کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ رات میں زمین کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور تم راستے کے درمیان میں رات کے وقت پڑاؤ کرنے سے بچنا ‘ کیونکہ وہ سانپوں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں اور درندوں کی گزرگاہ ہوتے ہیں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابونعیم ہے جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔