Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 9

Book of the Caliphate

Hadith 9227–9266

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9227

Majma al-Zawaid #9227

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَيَرْعُفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ فَيَسِيلُ رُعَافُهُ "". فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِيَ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say, a tyrant of Umayyad tyrants shall surely nosebleed upon my minbar and his nosebleed flows. One who saw Amr ibn Said ibn al-As nosebleed upon the Messenger's minbar till it flowed told him. > **"A tyrant of Umayyad tyrants shall surely nosebleed upon my minbar and his nosebleed flows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرے اس منبر پر ‘ بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کی ضرور نکسیر پھوٹے گی اور اُس کی نکسیر بہنے لگے گی ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے اُس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے عمرو بن سعید بن العاص کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کے منبر پر اس کی نکسیر پھوٹ پڑی اور وہ بہنے لگی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9228

Majma al-Zawaid #9228

وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَشَاتَمَانِ فَجَعَلَ الْحَسَنُ يَكُفُّ الْحُسَيْنَ فَقَالَ مَرْوَانُ: أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ. فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ: أَقُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ؟ فَوَاللَّهِ لَعَنَكَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ ..

EnglishUnverified translation

Abu Yahya reports that he was between al-Hasan and al-Husayn while al-Husayn and Marwan reviled each other, and al-Hasan restrained al-Husayn. Marwan said, a cursed household. Al-Hasan angered saying, did you say a cursed household. By Allah, Allah cursed you upon His Prophet's tongue while in your father's loins.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویحیی بیان کرتے ہیں : میں ، حضرت امام حسن رحمۃ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے پاس موجود تھا ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور مروان کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوئی ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو روکنا شروع کیا ‘ مروان نے کہا : اہل بیت ملعون ہیں ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے : کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ اہل بیت ملعون ہیں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی تم پر لعنت کی ہے ‘ جبکہ تم اُس وقت اپنے باپ کی پشت میں تھے ۔

9229

Majma al-Zawaid #9229

وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ: وَاللَّهِ ثُمَّ وَاللَّهِ لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدْ تَغَيَّرَ.

EnglishUnverified translation

In a version, al-Hasan and al-Husayn said, by Allah then by Allah, Allah cursed you, and the rest similar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! پھر اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تم پر لعنت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد کی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ روایت کے الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو تغیر کا شکار ہو گیا تھا ۔

9230

Majma al-Zawaid #9230

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ: وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ لَقَدْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُلَانًا وَمَا وُلِدَ مِنْ صُلْبِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَقَدْ لَعَنَ اللَّهُ الْحَكَمَ - وَمَا وُلِدَ - عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَعِنْدَهُ رِوَايَةٌ كَرِوَايَةِ أَحْمَدَ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports that he heard Abdullah ibn al-Zubayr leaning on the Kabah saying, by this Kabah's Lord, the Messenger cursed so-and-so unborn from his loins. Ahmad and al-Bazzar report, except he said Allah cursed al-Hakam and his issue upon His Prophet's tongue. Al-Tabarani similar, and Ahmad's men men of Sahih.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سنا ‘ انہوں نے اُس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور وہ یہ بیان کر رہے تھے : رب کعبہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ تم نے فلاں شخص پر لعنت کی ہے اور وہ ابھی اپنے باپ کی پشت سے پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ نے ‘ اپنے نبی ﷺ کی زبانی ، حکم پر لعنت کی تھی ‘ حالانکہ وہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ انہوں نے ایک روایت امام احمد کی روایت کی مانند بھی نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9231

Majma al-Zawaid #9231

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا، وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِي» "". وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"When Bani Abi Fulan reach thirty men they take Allah's wealth as fortune, Allah's religion as intrusion, Allah's servants as servants."** Ahmad and al-Bazzar say Bani Abi al-As. Al-Tabarani in al-Awsat and Abu Yala, with weakness, rest men of Sahih.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بنوابی فلاں ، تیس کی تعداد میں پہنچ جائیں گے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے مال کو ذاتی دولت بنا لیں گے ‘ اللہ تعالیٰ کے دین میں دخل دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ جب ابوالعاص کے بچے ‘ تیس تک پہنچ جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9232

Majma al-Zawaid #9232

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْعَاصِي ثَلَاثِينَ كَانَ دِينُ اللَّهِ دَخَلًا، وَمَالُ اللَّهِ دُوَلًا، وَعِبَادُ اللَّهِ خَوَلًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ وَلَمْ يَنْسُبْهُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَلَمْ أَعْرِفْ إِسْمَاعِيلَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, when Bani Abi al-As reach thirty, Allah's religion is intrusion, Allah's wealth fortune, Allah's servants servants.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابوالعاص کے بچے ‘ تیس تک پہنچ جائیں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے دین میں دخل دیا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ کا مال ‘ ذاتی دولت بن جائے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے بندے ‘ غلام بن جائیں گے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسماعیل کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جو اُس نے ابن عجلان سے روایت کی ہے ‘ انہوں نے اسماعیل کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ‘ اور میں اسماعیل سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9233

Majma al-Zawaid #9233

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدُهُ "" لِيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ "" فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى دَخَلَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that they sat with the Prophet while Amr ibn al-As went to dress to join him, and he said while with him, a cursed man shall surely enter upon you. By Allah he remained anxious watching in and out till so-and-so entered, meaning al-Hakam. Ahmad and al-Bazzar say till al-Hakam ibn Abi al-As entered. Al-Tabarani in al-Awsat, Ahmad's men men of Sahih. > **"A cursed man shall surely enter upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے ( یعنی تبدیل کرنے ) کے لئے گئے ‘ اُن کا ہم سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ‘ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ اسی دوران آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے سامنے ایک لعین شخص آئے گا ‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں پریشانی کے عالم میں ‘ ہر آنے جانے والے کو غور سے دیکھتا رہا ‘ یہاں تک کہ فلاں شخص آ گیا ، اُن کی مراد حکم تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ یہاں تک کہ حکم بن ابوالعاص آ گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9234

Majma al-Zawaid #9234

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحِجْرِ إِذْ مَرَّ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَيْلٌ لِأُمَّتِي مِمَّا فِي صُلْبِ هَذَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim, may Allah be pleased with him, reports that while sitting with the Prophet in al-Hijr, al-Hakam ibn Abi al-As passed and the Prophet said. > **"Woe to my nation from what is in this one's loins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ’’ حطیم ‘‘ میں بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران حکم بن ابوالعاص وہاں سے گزرا ‘ تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اس کی پشت میں جو ( بچہ ) موجود ہے ‘ اُس کی وجہ سے میری اُمت کی بربادی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9235

Majma al-Zawaid #9235

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ: «كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ مَا اسْتَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ: أَنْتَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيكَ: {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا} [الأحقاف: 17] فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ أَبَاكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah al-Bahi, freedman of al-Zubayr, reports that he was in the mosque while Marwan preached, and Abdur Rahman ibn Abi Bakr said, by Allah Abu Bakr appointed none of his folk successor. Marwan said, you are in whom was revealed, he who says to his parents fie. Abdur Rahman said, you lied, but the Messenger cursed your father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے غلام ‘ عبداللہ بہی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں موجود تھا ، مروان خطبہ دے رہا تھا ، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ میں سے ‘ کسی کو اپنا نائب ( یا جانشین ) مقرر نہیں کیا ، تو مردان بولا : تمہیں وہ فرد ہو ‘ جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ کو یہ : کہا تمہارے لیے اُف ہے “ تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے تمہارے باپ پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

9236

Majma al-Zawaid #9236

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَزَالُ هَذَا أَمْرُ أُمَّتِي قَائِمًا بِالْقِسْطِ حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ مَنْ يَثْلُمُهُ رَجُلٌ مَنْ بَنِيَ أُمَيَّةَ يُقَالُ لَهُ: يَزِيدُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

Abu Ubaydah ibn al-Jarrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"This affair of my nation shall ever stand with equity till the first to breach it, a man of Banu Umayyah called Yazid."** Makhul did not meet Abu Ubaydah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری اُمت کا معاملہ عدل پر گامزن رہے گا ‘ یہاں تک کہ سب سے پہلے ‘ اُس میں بنوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص رخنہ ڈالے گا ‘ جس کا نام یزید ہو گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ البتہ مکحول نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

9237

Majma al-Zawaid #9237

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتٍ فِيهِ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَقَالَ: "" إِنَّ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَنْ فِتْنَتُهُ عَلَى أُمَّتِي أَشَرُّ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger passed a house with twelve men saying. > **"In this house is one whose trial upon my nation is worse than the trial of the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک گھر کے پاس سے گزرے ، جس میں بارہ افراد موجود تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس گھر میں ایسا شخص موجود ہے ‘ جس کا فتنہ ‘ میری امت کے لیے ‘ دجال کے فتنے سے زیادہ برا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9238

Majma al-Zawaid #9238

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ خَلِيفَةٌ هُوَ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said. > **"There shall be a caliph, he and his issue of Fire folk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک خلیفہ ہو گا ‘ وہ اور اُس کی اولاد اہل جہنم میں سے ہونگے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9239

Majma al-Zawaid #9239

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «هَجَّرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو الْحَسَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ادْنُ مِنِّي يَا أَبَا الْحَسَنِ "" فَلَمْ يَزَلْ يُدْنِيهِ حَتَّى الْتَقَمَ أُذُنَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَسَارِهِ حَتَّى رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ كَالْفَزِعِ فَقَالَ: "" قَرَعَ الْخَبِيثُ بِسَمْعِهِ الْبَابَ "". فَقَالَ: "" انْطَلِقْ يَا أَبَا الْحَسَنِ فَقُدْهُ كَمَا تُقَادُ الشَّاةُ إِلَى حَالِبِهَا "". فَإِذَا أَنَا بِعَلِيٍّ قَدْ جَاءَ بِالْحَكَمِ آخِذًا بِأُذُنِهِ وَلَهَازِمِهِ جَمِيعًا، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَعَنَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: "" أَجْلِسْهُ نَاحِيَةً "" حَتَّى رَاحَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، ثُمَّ دَعَا بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَا إِنَّ هَذَا سَيُخَالِفُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ وَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ فِتْنَتُهُ يَبْلُغُ دُخَانُهَا السَّمَاءَ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هُوَ أَقَلُّ وَأَذَلُّ مِنْ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" بَلَى وَبَعْضُكُمْ يَوْمَئِذٍ شِيعَتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حَسَنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that he went early to the Prophet, then Abul Hasan came and the Prophet said, draw near O Abul Hasan, drawing him till he whispered in his ear. Then the Prophet came to his left raising his head startled saying, the wicked knocked at the door with his hearing. He said, go O Abul Hasan leading him as a sheep led to its milker. Ali came with al-Hakam holding his ear and jaws together till he stood before the Prophet, and Allah's Prophet cursed him thrice. The Prophet said to Ali, seat him aside, till Muhajirun and Ansar came to the Prophet. Then he called him saying, this shall oppose Allah's Book and His Prophet's practice, and from his loins emerges one whose trial's smoke reaches heaven. A Muslim said, Allah and His Messenger spoke truth, is he too little and low for that. He said, yes, and some of you that day his partisans. > **"Go O Abul Hasan leading him as a sheep led to its milker. This shall oppose Allah's Book and His Prophet's practice, and from his loins emerges one whose trial's smoke reaches heaven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جلدی حاضر ہو گیا ، حضرت ابوالحسن رضی اللہ عنہ تشریف لائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے ابوالحسن ! تم میرے قریب ہو جاؤ ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اتنا زیادہ قریب کر لیا کہ اُن کے کان کے پاس منہ کر لیا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بائیں طرف سے آئے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے پریشانی کے عالم میں اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : خبیث شخص نے دروازہ بجایا ہے ‘ آپ نے فرمایا : ابوالحسن ! تم جاؤ اور اُسے یوں لے کر آؤ ‘ جس طرح بکری کو دودھ دوہنے کے لیے لے جایا جاتا ہے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ حکم کو لے کر آئے ‘ جسے انہوں نے سر اور کانوں سے پکڑا ہوا تھا اور اُسے لا کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ اس پر لعنت کی ‘ پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : اسے کونے میں بٹھا دو ! پھر کچھ مہاجرین اور انصار ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم کو بلوایا اور ارشاد فرمایا : یہ شخص ، عنقریب اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی خلاف ورزی کرے گا اور اس کی پشت میں سے وہ شخص نکلے گا ‘ جس کے فتنہ کا دھواں آسمان تک پہنچے گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے یہ کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ‘ لیکن یہ لوگ تو اس سے کم تعداد میں ہیں اور کم حیثیت کے مالک ہیں کہ ان کا یہ حال ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسا ہی ہو گا ، اُس وقت تم میں سے کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قیس رحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9240

Majma al-Zawaid #9240

وَعَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَإِذَا النَّاسُ يَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ قَالَ: قُلْتُ: مَاذَا؟ قَالُوا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَعَنَ اللَّهُ الْقَائِدَ (وَالْمَقُودَ، وَيْلٌ لِهَذِهِ يَوْمًا) - لِهَذِهِ الْأُمَّةِ - مِنْ فُلَانٍ ذِي الْأَسْتَاهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nasr ibn Asim al-Laythi reports from his father that he entered Madinah mosque with people saying, we seek refuge in Allah from Allah's anger and His Messenger's. He asked what. They said, the Messenger preached on his minbar when a man rose taking his son's hand out of the mosque, and the Messenger said, may Allah curse the leader and the led. Woe to this nation one day from so-and-so of broad buttocks. > **"May Allah curse the leader and the led. Woe to this nation one day from so-and-so of broad buttocks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نصر بن عاصم نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں داخل ہوا ‘ تو کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے ہم اللہ تعالیٰ کے غضب اور اُس کے رسول ﷺ کے غضب سے ‘ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ‘ میں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ اپنے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ‘ اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اُس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ کو پکڑا ‘ اور اسے مسجد سے باہر لے گیا ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ لے جانے والے پر ‘ اور جانے والے پر لعنت کرے ‘ ایک دن ‘ اس امت کی بربادی ہو گی ، جو فلاں شخص کی وجہ سے ہو گی ‘ جو پیچھے والا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9241

Majma al-Zawaid #9241

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: «اسْتَأْذَنَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفَ كَلَامَهُ فَقَالَ: "" ائْذَنُوا لَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ (إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ) وَقَلِيلٌ مَا هُمْ يَشْرُفُونَ فِي الدُّنْيَا وَيَرْذُلُونَ فِي الْآخِرَةِ ذَوُو مَكْرٍ وَخَدِيعَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا، وَفِي غَيْرِهِ: "" «وَمَا يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّا الصَّالِحِينَ مِنْهُمْ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ» "". وَفِيهِ أَبُو الْحَسَنِ الْجَزَرِيُّ وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Murrah al-Juhani, a Companion, reports that al-Hakam ibn Abi al-As sought permission upon the Messenger, who knew his speech saying, permit him, upon him is curse of Allah, angels and all people. What emerges from his loins but their righteous, few, honoured in this world abased in Hereafter, folk of plotting and deceit. In another, what emerges from his loins but their righteous, few. Abu al-Hasan al-Jazari veiled, rest trustworthy. > **"Permit him, upon him is curse of Allah, angels and all people. What emerges from his loins but their righteous, few, honoured in this world abased in Hereafter, folk of plotting and deceit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حکم بن ابوالعاص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُس کی آواز پہچان لی ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسے اجازت دیدو ! اس پر اللہ تعالیٰ ‘ فرشتوں اور انسانوں ‘ سب کی لعنت ہو ‘ اور اُن پر بھی لعنت ہو ‘ جو اس کی پشت سے نکلیں گے ‘ البتہ اُن لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اُن میں سے نیک ہوں گے ‘ اور ایسے لوگ تھوڑے ہوں گے وہ ( یعنی اس کی پشت میں سے نکلنے والے ) لوگ ‘ دنیا میں نمایاں حیثیت کے مالک ہوں گے اور آخرت میں فقیر ہوں گے ‘ وہ دھوکہ اور فریب کرنے والے لوگ ہونگے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ‘ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ اور وہ جو اس کی پشت میں سے نکلے ‘ اُس پر بھی لعنت ہو ‘ البتہ اُن میں سے نیک لوگوں کا حکم مختلف ہے ‘ اور وہ تھوڑے ہوں گے ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوالحسن جزری ہے ‘ اور وہ مستور ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9242

Majma al-Zawaid #9242

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَكَلَّمَهُ فِي حَوَائِجِهِ، فَقَالَ: اقْضِ حَاجَتِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُؤْنَتِي لَعَظِيمَةٌ، أَصْبَحْتُ أَبَا عَشْرَةٍ، وَأَخَا عَشْرَةٍ، وَعَمَّ عَشْرَةٍ، فَلَمَّا أَدْبَرَ مَرْوَانُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا بَلَغَ بَنُو أَبِي الْحَكَمِ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا آيَاتِ اللَّهِ بَيْنَهُمْ دُوَلًا، وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا، وَكِتَابَهُ دَخَلًا، فَإِذَا بَلَغُوا سَبْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَرْبَعَمِائَةٍ كَانَ هَلَاكُهُمْ أَسْرَعَ مِنَ التَّمْرَةِ "" قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَذَكَرَ مَرْوَانُ حَاجَةً لَهُ، فَرَدَّ مَرْوَانُ عَبْدَ الْمَلِكِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ هَذَا فَقَالَ: "" أَبُو الْجَبَابِرَةِ الْأَرْبَعَةِ؟ "" قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَلِذَلِكَ ادَّعَى مُعَاوِيَةُ زِيَادًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mawhab reports that he was with Muawiyah ibn Abi Sufyan when Marwan entered asking his needs, saying, fulfill my need O Amir al-Muminin, by Allah my burden is great, father of ten, brother of ten, uncle of ten. When Marwan turned, with Ibn Abbas sitting with Muawiyah on his couch, Muawiyah adjured, O Ibn Abbas, know you the Messenger said, when Bani Abi al-Hakam reach thirty men they take Allah's signs as fortune among them, Allah's servants as servants, His Book as intrusion. When they reach four hundred ninety-seven their ruin is swifter than a date. He said, O Allah yes. Marwan mentioned a need, then returned Abd al-Malik to Muawiyah speaking therein. When he turned Muawiyah adjured, O Ibn Abbas, know you the Messenger mentioned this saying, father of the four tyrants. He said, O Allah yes. Therefore Muawiyah claimed Ziyad. > **"When Bani Abi al-Hakam reach thirty men they take Allah's signs as fortune among them, Allah's servants as servants, His Book as intrusion. When they reach four hundred ninety-seven their ruin is swifter than a date. He is father of the four tyrants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں : وہ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ‘ مروان اُن کے پاس آیا اور اپنی ضروریات کے بارے میں اُن کے ساتھ بات چیت کی ‘ اُس نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! میری حاجت پوری کر دیں ‘ اللہ کی قسم میرے اخراجات زیادہ ہیں ، میں دس افراد کا باپ ہوں ، دس افراد کا بھائی ہوں ‘ دس افراد کا چچا ہوں ‘ جب مروان چلا گیا ‘ تو اس وقت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اُن کے پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب ابوالحکم کے بیٹے تیسں تک پہنچ جائیں گے تو وہ اپنے درمیان اللہ تعالیٰ کی آیات کو دولت بنا لیں گے ‘ اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اس کی کتاب میں دخل دیں گے اور جب وہ چار سو ستانوے ہو جائیں گے ‘ تو اُن کی ہلاکت کھجور سے زیادہ تیزی سے ہو گی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ‘ مروان نے اپنی حاجت کا ذکر کیا تھا ، پھر مروان نے عبدالملک کو دوبارہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، اس نے ان کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی ‘ جب وہ واپس چلا گیا ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا :’’ یہ چار ظالموں کا باپ ہے ‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : اسی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کا دعوی کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

9243

Majma al-Zawaid #9243

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَوَّلُ مَنْ يَطْلُعُ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَطَلَعَ فُلَانٌ "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" لَيَطْلُعَنَّ رَجُلٌ عَلَيْكُمْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى غَيْرِ سُنَّتِي أَوْ غَيْرِ مِلَّتِي "". وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَبِي فِي الْمَنْزِلِ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ، فَطَلَعَ غَيْرُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ هَذَا». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، وَحَدِيثُهُ مُسْتَقِيمٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ غَيْرُ مُبَيَّنٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said, the first to emerge upon you from this door is a man of Fire folk, and so-and-so emerged. In a version, a man shall surely emerge upon you raised on Resurrection upon other than my practice or my creed. He left his father home fearing it he, but another emerged and the Messenger said, it is this. > **"The first to emerge upon you from this door is a man of Fire folk. A man shall surely emerge upon you raised on the Day of Resurrection upon other than my practice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا :’’ اس دروازے سے ‘ سب سے پہلے سامنے آنے والا شخص ‘ جہنمی ہو گا ‘ تو فلاں شخص سامنے آیا ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ تمہارے سامنے ایک ایسا شخص ضرور آئے گا ‘ جسے قیامت کے دن میری سنت کے علاوہ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے دین کے علاوہ پر اٹھایا جائے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے والد کو گھر چھوڑ کر آیا تھا ‘ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مراد نہ ہوں ، لیکن پھر ایک اور شخص آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ وہ ‘ یہ ہے ‘‘۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق بن راہویہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث مستقیم ہوتی ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے لیکن وہ زیادہ واضح نہیں ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9244

Majma al-Zawaid #9244

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: «كَانَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي يَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا تَكَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اخْتَلَجَ، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَنْتَ كَذَلِكَ "" فَمَا زَالَ يَخْتَلِجُ حَتَّى مَاتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reports that al-Hakam ibn Abi al-As sat with the Prophet, and when the Prophet spoke he twitched. The Prophet saw him saying, so you are, and he twitched till he died. > **"So you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حکم بن ابوالعاص ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ گفتگو کرنے لگے تو اسے اختلاج ہونے لگا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے دیکھا اور ارشاد فرمایا : تم اسی طرح رہو ! تو وہ شخص مرتے دم تک مسلسل اختلاج کا شکار رہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9245

Majma al-Zawaid #9245

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ قِيلَ لَهُ فِي الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِي فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَحُلَّ عُقْدَةً عَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْعَبْسِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: فِيهِ جَهَالَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that when the Prophet was taken and Abu Bakr made successor, he was spoken to of al-Hakam ibn Abi al-As, and he said, I would not untie a knot the Messenger tied.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ، تو اُن سے حکم بن ابوالعاص کے بارے میں بات کی گئی ‘ تو انہوں نے فرمایا : میں اُس گرہ کو نہیں کھولوں گا ‘ جو گرہ ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے لگائی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عیسیٰ عبسی ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : اس میں مجہول ہونا پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9246

Majma al-Zawaid #9246

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى فِي مَنَامِهِ كَأَنَّ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ وَيَنْزِلُونَ فَأَصْبَحَ كَالْمُتَغَيِّظِ فَقَالَ: "" مَا لِي رَأَيْتُ بَنِي الْحَكَمِ يَنْزُونَ عَلَى مِنْبَرِي نَزْوَ الْقِرَدَةِ "". قَالَ: فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى مَاتَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger saw in sleep as if Bani al-Hakam leaped upon his minbar descending, and mornings angered saying, why did I see Bani al-Hakam leaping upon my minbar like monkeys. After that the Messenger was never seen laughing fully till he died. > **"Why did I see Bani al-Hakam leaping upon my minbar like monkeys."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ حکم کے بچے آپ ﷺ کے منبر پر اتر اور چڑھ رہے ہیں ‘ صبح کے وقت آپ کو غصہ آیا ہوا تھا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں نے حکم کے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ میرے منبر پر ‘ بندروں کی طرح چڑھ رہے تھے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد نبی اکرم ﷺ کو ‘ آپ ﷺ کے وصال تک کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ صرف مصعب بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9247

Majma al-Zawaid #9247

وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُرِيتُ بَنِي مَرْوَانَ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي فَسَاءَنِي ذَلِكَ، وَرَأَيْتُ بَنِي الْعَبَّاسِ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي فَسَرَّنِي ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"I was shown Bani Marwan alternating upon my minbar displeasing me, and Bani al-Abbas alternating upon my minbar pleasing me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے خواب میں ‘ بنو مروان دکھائے گئے ‘ جو میرے منبر پر اتر چڑھ رہے تھے ‘ تو مجھے یہ بات بری لگی ‘ پھر میں نے بنوعباس کو دیکھا کہ وہ میرے منبر پر چڑھ اور اتر رہے تھے ‘ تو مجھے یہ بات اچھی لگی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زید بن معاویہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

9248

Majma al-Zawaid #9248

وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ سِنَانٍ الْجَدَلِيَّةِ قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَلِيٍّ، فَرَدَّهُ قُنْبُرٌ فَأَدْمَى أَنْفَهُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا لَكَ وَمَا لَهُ يَا أَشْعَثُ؟ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ بِعَبْدِ ثَقِيفٍ تَمَرَّسْتَ اقْشَعَرَّتْ شُعَيْرَاتُ اسْتِكَ، قِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ عَبْدُ ثَقِيفٍ؟ قَالَ: غُلَامٌ يَلِيهِمْ لَا يُبْقِي أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا أَدْخَلَهُمْ ذُلًّا، قِيلَ: كَمْ يَمْلِكُ؟ قَالَ: عِشْرِينَ إِنْ بَلَغَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Hakim bint Amr ibn Sinan al-Jadaliyyah reports that al-Ashath ibn Qays sought permission upon Ali, and Qunbar repelled him bloodying his nose. Ali emerged asking, what is yours and his O Ashath. By Allah had you grappled a slave of Thaqif the hairs of your privates would bristle. Asked, O Amir al-Muminin, who is Thaqif's slave. He said, a boy ruling them leaving no Arab house but entering humiliation. Asked, how long he rules. He said, twenty if he reaches.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حکیم بنت عمرو بن سنان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اشعث بن قیس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ‘ قنبر نے انہیں روکا ‘ اور ان کی ناک کو خون آلود کر دیا ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : اے اشعث ! تمہارا اس کے ساتھ کیا مقابلہ ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر ثقیف قبیلے کے کسی غلام کے ساتھ تمہارا جھگڑا ہوا ہوتا ‘ تو تمہاری شرمگاہ کے بالوں پر بھی لرزہ طاری ہو جانا تھا ، اُن سے کہا گیا : اے امیرالمؤمنین ! ثقیف قبیلے کا غلام کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ایک غلام ہو گا ، جو لوگوں کا امیر بن جائے گا اور عربوں کے ہر ایک گھرانے میں ‘ ذلت داخل کر دے گا ، اُن سے دریافت کیا گیا : وہ کتنا عرصہ حکمران رہے گا ؟ انہوں نے جواب دیا بیس سال ‘ اگر وہ پہنچ گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے جے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9249

Majma al-Zawaid #9249

وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِبَنِي الْعَبَّاسِ رَايَتَيْنِ أَعْلَاهَا كُفْرٌ وَمَرْكَزُهَا ضَلَالَةٌ فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَلَا تَضِلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ نُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Bani al-Abbas have two banners, its top disbelief and its centre error. If you reach it do not stray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بنو عباس کے دو جھنڈے ہوں گے ‘ جن میں سے اوپر والا ( حصہ ) کفر ہو گا ‘ اور گاڑھے جانے کی جگہ والا ( حصہ ) گمراہی ہو گا ‘ اگر تم اس کو پاؤ تو تم گمراہ نہ ہونا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ‘ اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

9250

Majma al-Zawaid #9250

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا لِي وَلِبَنِي الْعَبَّاسِ شَيَّعُوا أُمَّتِي وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَأَلْبَسُوهَا ثِيَابَ السَّوَادِ أَلْبَسَهُمُ اللَّهُ ثِيَابَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"What are mine and Bani al-Abbas. They divide my nation, shed their blood and dress them black clothes. Allah dresses them clothes of Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا بنو عباس کے ساتھ کیا واسطہ ؟ وہ میری اُمت کو لے کر چلیں گے اور اُن کا خون بہائیں گے اور انہیں سیاہ رنگ کے کپڑے پہنائیں گے ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے کپڑے پہنائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زید بن ربیع ہے ، جس پر کلام ‘ پہلے گزر چکا ہے ۔

9251

Majma al-Zawaid #9251

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهَا سَتَخْرُجُ رَايَتَانِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ لِبَنِي الْعَبَّاسِ، أَوَّلُهَا مَثْبُورٌ وَآخِرُهَا مَبْتُورٌ، لَا تَنْصُرُوهُمْ لَا نَصَرَهُمُ اللَّهُ، مَنْ مَشَى تَحْتَ رَايَةٍ مِنْ رَايَتِهِمْ أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَهَنَّمَ، أَلَا إِنَّهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ، وَأَتْبَاعُهُمْ شِرَارُ خَلْقِ اللَّهِ، يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ مِنِّي أَلَا إِنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَهُمْ مُنِّيَ بُرَآءُ، عَلَامَاتُهُمْ يُطِيلُونَ الشُّعُورَ وَيَلْبَسُونَ السَّوَادَ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فِي الْمَلَأِ وَلَا تُبَايِعُوهُمْ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا تَهْدُوهُمُ الطَّرِيقَ وَلَا تَسْقُوهُمُ الْمَاءَ، يَتَأَذَّى بِتَكْبِيرِهِمْ أَهْلُ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَقَدِ اتُّهِمَ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, two banners shall emerge from the east for Bani al-Abbas, its first destroyed its last cut. Aid them not, may Allah aid them not. Whoever walks under their banner Allah admits him Hell on Resurrection. They are worst of Allah's creation and their followers worst. They claim they are of me, but I am free of them and they free of me. Their marks are long hair and black clothes. Sit them not in assembly, trade them not in markets, guide them not the road, water them not. Heaven folk are harmed by their takbir. > **"Two banners shall emerge from the east for Bani al-Abbas, its first destroyed its last cut. Aid them not, may Allah aid them not. Whoever walks under their banner Allah admits him Hell on the Day of Resurrection. They claim they are of me, but I am free of them and they free of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مشرق کی طرف سے ‘ بنو عباس کے لیے جھنڈے نکلیں گے ‘ جن کا پہلا حصہ بربادی والا ہو گا اور آخری دم کٹا ہو گا ، تم اُن لوگوں کی مدد نہ کرنا ‘ اللہ تعالیٰ اُن کی مدد نہ کرے ‘ جو شخص ان کے جھنڈوں میں سے کسی جھنڈے کے نیچے چلے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے دن جہنم میں داخل کرے گا ، خبردار ! وہ لوگ اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے اور ان کے پیروکار ‘ اللہ کی مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے ‘ وہ لوگ یہ کہیں گے : کہ اُن کا مجھ سے تعلق ہے ‘ حالانکہ میں اُن سے لاتعلق ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ، ان کی علامت یہ ہیں کہ وہ لوگ لمبے بال رکھیں گے اور سیاہ لباس پہنیں گے ‘ تم محفلوں میں اُن کے ساتھ نہ بیٹھنا اور بازاروں میں اُن کے ساتھ خرید و فروخت نہ کرنا ، انہیں راستہ نہ بتانا ‘ پانی نہ پلانا ، اُن کے تکبیر کہنے سے آسمان والوں کو اذیت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

9252

Majma al-Zawaid #9252

عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Dawud ibn Abi Salih reports that Marwan came finding a man laying his face on the grave asking, know you what you do. He turned, it was Abu Ayyub, saying, yes I came to the Messenger not the stone. I heard the Messenger say. > **"Weep not over religion when its folk rule it. Weep over religion when other than its folk rule it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

داؤد بن ابوصالح بیان کرتے ہیں : ایک دن مروان آیا ‘ اس نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اپنا چہرہ نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک پر رکھا ہوا تھا ، تو مروان نے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟ اس شخص نے مڑ کر دیکھا ‘ تو وہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے ‘ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا ہوں ‘ میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں ‘ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ اُس وقت دین پر نہ رونا ‘ جب اہل افراد ‘ اُس کے نگران ہوں ، لیکن تم دین پر اُس وقت رونا ‘ جب اس کا نگران ‘ نا اہل فرد بن جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

9253

Majma al-Zawaid #9253

عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: عَبْسٌ الْغِفَارِيُّ، وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبُ» ""؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا: إِمْرَةُ السُّفَهَاءِ وَبَيْعُ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي (الْأَوْسَطِ) وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْسٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِهِ سِتَّ خِصَالٍ: إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ وَالرُّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً». وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zadhan Abu Umar reports from Ulaym that they sat on a roof with a Companion, Ulaym thought Abbas al-Ghifari, while people left in plague, and Abbas said thrice, O plague take me. Ulaym asked why, did the Messenger not say none wishes death at severance of his deed nor returned to seek amends. He said, I heard the Messenger say, hasten with death six: rule of fools, sale of judgment, belittling blood, severing kin, youth taking Quran as flutes advancing a man singing them though least in understanding. Ahmad, al-Bazzar, al-Tabarani in al-Awsat and al-Kabir similar, except from Abbas al-Ghifari, I heard the Messenger fearing upon his nation six traits: rule of boys, many police, bribery in judgment, severing kin, belittling blood, youth taking Quran as flutes advancing one not most understanding nor virtuous singing. > **"None of you wishes death at severance of his deed. Hasten with death six: rule of fools, sale of judgment, belittling blood, severing kin, youth taking Quran as flutes advancing a man singing them though least in understanding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زاذان ابوعمر نے علیم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہم لوگ ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بیان کی تھی کہ وہ حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ‘ طاعون کی وبا کے دوران لوگ نکل رہے تھے ‘ حضرت عبس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے : یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ‘ تو علیم نے اُن سے کہا : آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے :’’ کوئی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ‘ کیونکہ اس صورت میں اُس کا عمل منقطع ہو جائے گا اور اسے دوبارہ واپس بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ کی ) رضا کے حصول کے لیے مزید کوشش کرتا ‘‘۔ تو حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بیوقوفوں کی حکومت ‘ عدالتی فیصلے کی فروخت ‘ خون ( یعنی قتل ) کو کمتر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ‘ وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ‘ جو انہیں گا کر سنائے گا ‘ اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سے کم ہو ‘‘ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آپ ﷺ نے اپنی امت کے حوالے سے ‘ چھ چیزوں کے بارے میں اندیشے کا اظہار کیا ‘ بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ‘ عدالتی فیصلے میں رشوت ‘ رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرنا ، قتل کو ہلکا سمجھنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ‘ وہ ایسے شخص کو امامت کے لیے آگے کریں گے ‘ جو اُن میں سب سے بڑا عالم ‘ یا سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ انہیں گا کر ( قرآن ) سنائے گا “ امام احمد کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ‘ ایک سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9254

Majma al-Zawaid #9254

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ سِتًّا: إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ وَسَفْكُ الدِّمَاءِ (وَبَيْعُ الْحُكْمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ)». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"I fear upon you six: rule of fools, shedding blood, sale of judgment, severing kin, youth taking Quran as flutes, and many police."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے تمہارے بارے میں ‘ چھ چیزوں کا اندیشہ ہے ‘ بے وقوفوں کی حکومت ‘ خون بہایا جانا ‘ عدالتی فیصلے کو فروخت کرنا ‘ رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ‘ اور شرطیں زیادہ لگانا ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9255

Majma al-Zawaid #9255

عَنْ عِلْبَاءٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلُكَ النَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ: جَهْجَاهٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ilba al-Sulami, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"The Hour shall not rise till a man of freedmen called Jahjah rules people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علباء سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی ‘ جب تک ’’ موالی ‘‘ سے تعلق رکھنے والا ‘ ایک شخص لوگوں کا بادشاہ نہیں بنے گا ‘ اور اس کا نام ’’ جہجاہ ‘‘ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9256

Majma al-Zawaid #9256

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنْ تَبِعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا» "". قُلْتُ: لَمْ أَجِدْهُ فِي نُسْخَتِي مِنْ أَبِي دَاوُدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ الْحَكَمِ النَّخْعِيَّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Whoever dwells the desert is harsh, whoever follows hunting is heedless, whoever comes to sultans' gates is trialed. No servant nears the sultan but distances from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے اس میں سختی آ جاتی ہے ‘ جو شخص شکار کے پیچھے جاتا ہے وہ غفلت کا شکار ہو جاتا ہے ‘ جو شخص سلطان کے دروازے پر جاتا ہے ‘ وہ آزمائش میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بندہ ‘ سلطان کے جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے ‘ وہ ( بندہ ) اللہ تعالیٰ سے اُتنا ہی دور ہوتا چلا جاتا ہے ‘‘۔ میں یہ کہتا ہوں : میں نے اپنے پاس موجود ’’ سنن ابوداؤد ‘‘ کے نسخے میں یہ روایت نہیں پائی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ‘ صرف حسن بن حکم نخفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

9257

Majma al-Zawaid #9257

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزَءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي سُلْطَانُ الْفِتَنِ عَلَى أَبْوَابِهِمْ كَمَبَارِكِ الْإِبِلِ لَا يُعْطُونَ أَحَدًا شَيْئًا إِلَّا أُخِذَ مِنْ دِينِهِ مِثْلُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Harith ibn Jaz al-Zubaydi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"After me shall be a sultan of trials, upon whose doors as camel resting places. They give none anything but the like taken of his religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ‘ جن کے دروازوں پر فتنے یوں ہونگے ‘ جیسے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے ‘ وہ کسی شخص کو اگر کوئی چیز دیں گے ‘ تو اُسی حساب سے اُس شخص کا دین واپس لے لیا جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسان بن غالب ہے اور وہ متروک ہے ۔

9258

Majma al-Zawaid #9258

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلْمَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِيَّاكُمْ وَأَبْوَابَ السَّلَاطِينِ فَإِنَّهُ أَصْبَحَ صَعْبًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of Bani Salma reports that the Messenger said. > **"Beware gates of sultans, for it has become hardship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنوسلمیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سلاطین کے دروازوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ یہ مشقت کا شکار کر دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح “ کے رجال ہیں ۔

9259

Majma al-Zawaid #9259

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَضَرَ إِمَامًا فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ فَلْيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ عَدِيٍّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"Whoever attends a ruler, let him speak good or be silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص حکمران کے پاس موجود ہو ‘ وہ بھلائی کی بات کرے ‘ ورنہ خاموش رہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد بن زیاد ہے ‘ جسے امام احمد اور ابن عدی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9260

Majma al-Zawaid #9260

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَا تَدْخُلَنَّ عَلَى الْأُمَرَاءِ، فَإِنْ غُلِبْتَ عَلَى ذَلِكَ فَلَا تُجَاوِزْ سُنَّتِي وَلَا تَخَافَنَّ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْبَابُ وَفِيهِ أَحَادِيثُ غَيْرُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"O Abu Hurayrah, enter not upon rulers. If you are overcome thereby, exceed not my practice. Fear not their sword and whip to command them to fear Allah."** The chapter preceded with other narrations.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! تمام امراء کے پاس ہرگز نہ جانا ‘ اگر تم مجبور ہو جاؤ ‘ تو میری سنت سے تجاوز نہ کرنا ‘ اور حکمران کی تلوار ‘ یا اُس کا کوڑا ‘ اُس سے یوں خوفزدہ نہ ہونا کہ تم انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم نہ دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے اس سے پہلے باب گزر چکا ہے ‘ جس میں اس کے علاوہ احادیث موجود ہیں ۔

9261

Majma al-Zawaid #9261

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ أُمَرَاءُ يَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ وَحَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" «فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ مِنِّي بَرِيءٌ» "". وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said, rulers with entourages and retinues lying and wronging. Whoever enters upon them affirming their lie aiding their wrong is not of me nor I of him. Whoever enters them not, affirms not their lie, aids not their wrong, is of me and I of him. Ahmad and Abu Yala add, I am free of him and he free of me. > **"Rulers with entourages and retinues lying and wronging. Whoever enters upon them affirming their lie aiding their wrong is not of me nor I of him. Whoever enters them not and aids them not is of me and I of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ایسے حکمران آئیں گے ‘ جن کے پاس ہر قسم کے لوگ موجود ہوں گے ‘ وہ لوگ جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے ‘ جو شخص اُن کے پاس جا کر اُن کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم میں مدد نہ کرے ‘ اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ میں اُس سے لاتعلق ہوؤں گا اور وہ مجھ سے لاتعلق ہو گا “ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوسلیمان قرشی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9262

Majma al-Zawaid #9262

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَسْجِدِ تِسْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَوَالِي وَخَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ - فَقَالَ: "" إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَغَشِي أَبْوَابَهُمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ». وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُعَيْسٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said, rulers after me over you commanding you what they practise not. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of him, and shall never come to me at the Hawd. Ahmad and al-Bazzar say, the Prophet emerged with nine in the mosque, four freedmen five Arabs, saying, rulers over you, whoever aids their wrong affirming their lie frequenting their gates is not of me nor I of him, and shall never come to me at the Hawd. Whoever aids them not nor affirms is of me and I of him, and shall come to me at the Hawd. > **"Rulers after me over you commanding you what they practise not. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of him, and shall never come to me at the Hawd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو تمہیں ان کاموں کا حکم دیں گے ‘ جو وہ خود نہیں کرتے ہوں گے ‘ جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر ‘ میرے پاس نہیں آ سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ اس وقت مسجد میں ‘ نو افراد موجود تھے ‘ جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور پانچ کا تعلق عربوں سے تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور اُن کے دروازوں پر جائے گا ‘ اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ‘ اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ‘ اور جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ‘ اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ‘ اور میرا اُس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آ جائے گا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قعیس ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9263

Majma al-Zawaid #9263

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: "" أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ "". قَالَ: وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: "" أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي. يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصِّيَامُ جَنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ - أَوْ قَالَ: بُرْهَانٌ. يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعُ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ بَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said to Kab ibn Ujrah, may Allah protect you from rule of fools. He asked what is rule of fools. He said, rulers after me guided not by my guidance nor practising my practice. Whoever affirms their lie aiding their wrong, those are not of me nor I of them, nor coming to my Hawd. Whoever affirms them not nor aids is of me and I of them, and shall come to my Hawd. O Kab ibn Ujrah, fasting is a shield, charity extinguishes sin, prayer is nearness, or proof. O Kab ibn Ujrah, people are two mornings: self-buyer freeing it, or self-seller ruining it. Ahmad and al-Bazzar add, no flesh grown of unlawful enters Paradise, Fire worthier of it. > **"May Allah protect you from rule of fools. Rulers after me guided not by my guidance nor practising my practice. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of them, nor coming to my Hawd. Whoever affirms them not is of me and I of them. Fasting is a shield, charity extinguishes sin, prayer is nearness. No flesh grown of unlawful enters Paradise, Fire is worthier of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں بے وقوفوں کی حکومت سے بچا کے رکھے ! انہوں نے دریافت کیا : بے وقوفوں کی حکومت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کچھ حکمران ‘ جو میرے بعد ہونگے ‘ وہ میری ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ‘ میری سنت کی پیروی نہیں کریں گے ‘ جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ‘ تو ایسے لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ‘ اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا ، تو ایسے لوگوں کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُن سے تعلق ہو گا اور وہ لوگ عنقریب میرے حوض پر آئیں گے ‘‘۔ اے کعب بن عجرہ ! روزہ ‘ ڈھال ہے ‘ اور صدقہ ‘ گناہ کو بجھا دیتا ہے ‘ نماز ‘ قربت کے حصول کا باعث ہے ‘ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برہان ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو قسم کی حالت میں ہوتے ہیں کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر ‘ خود کو آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے ‘ خود کو ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کی نشو و نما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ‘ آگ اس کی زیادہ حقدار ہے “۔ ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9264

Majma al-Zawaid #9264

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَّضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ، فَقَالَ: "" أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَةٌ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger came out to them in the mosque after Isha raising his sight to heaven then lowering till they thought something happened in heaven, saying, rulers after me wronging and lying. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of them. Whoever affirms them not nor aids is of me and I of him. Muslim blood is expiation. Glory be to Allah, praise be to Allah, no god but Allah, Allah is Greatest are the enduring good. He has another on enduring good in Ibn Majah. > **"Rulers after me wronging and lying. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of them. Whoever affirms them not is of me and I of him. Muslim blood is expiation. Glory be to Allah, praise be to Allah, no god but Allah, Allah is Greatest are the enduring good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ ہم اُس وقت عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں موجود تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے نگاہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اسے جھکا لیا ‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آسمان میں کوئی چیز رونما ہوئی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ‘ جو شخص اُن کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ‘ اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا ‘ اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ نہیں دے گا ‘ اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ‘ خبردار ! مسلمان کا خون ‘ کفارہ ہے ‘ خبر دار ! سبحان اللہ ‘ الحمدللہ ‘ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا ‘ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ‘ باقی رہنے والی نیکیوں کے بارے میں ‘ ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے اور اسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

9265

Majma al-Zawaid #9265

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعْنِهُمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"Rulers over you wronging and lying. Whoever affirms their lie aiding their wrong is not of me nor I of him, nor coming to me at the Hawd. Whoever affirms them not nor aids them is of me and I of him, and shall come to me at the Hawd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو تم پر ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ‘ جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ‘ اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ‘‘ اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ‘ اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا ‘ اور جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ‘ اور ان کی ( ظلم میں ) مدد نہیں کرے گا ‘ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا ‘ اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ‘ اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا ‘‘۔ یہ راویت امام احمد ‘ امام بزار ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار کی اسانید میں سے ‘ ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ اور امام احمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

9266

Majma al-Zawaid #9266

وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ: «كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: "" أَتَسْمَعُونَ؟ "" قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - قَالَ: "" إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Khabbab, may Allah be pleased with him, reports that they sat at the Prophet's door and he emerged saying, do you hear. They said, we heard, twice or thrice. He said, rulers over you, affirm them not in their lie nor aid them in their wrong. Whoever affirms their lie aiding their wrong shall not come to me at the Hawd. > **"Do you hear. Rulers over you, affirm them not in their lie nor aid them in their wrong. Whoever affirms their lie aiding their wrong shall not come to me at the Hawd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ سنتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم سن رہے ہیں یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا پھر آپ نے فرمایا : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ‘ اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا وہ حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔