عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: عَبْسٌ الْغِفَارِيُّ، وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبْسٌ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ: لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبُ» ""؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا: إِمْرَةُ السُّفَهَاءِ وَبَيْعُ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي (الْأَوْسَطِ) وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْسٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِهِ سِتَّ خِصَالٍ: إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ وَالرُّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ وَنُشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً». وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Zadhan Abu Umar reports from Ulaym that they sat on a roof with a Companion, Ulaym thought Abbas al-Ghifari, while people left in plague, and Abbas said thrice, O plague take me. Ulaym asked why, did the Messenger not say none wishes death at severance of his deed nor returned to seek amends. He said, I heard the Messenger say, hasten with death six: rule of fools, sale of judgment, belittling blood, severing kin, youth taking Quran as flutes advancing a man singing them though least in understanding. Ahmad, al-Bazzar, al-Tabarani in al-Awsat and al-Kabir similar, except from Abbas al-Ghifari, I heard the Messenger fearing upon his nation six traits: rule of boys, many police, bribery in judgment, severing kin, belittling blood, youth taking Quran as flutes advancing one not most understanding nor virtuous singing. > **"None of you wishes death at severance of his deed. Hasten with death six: rule of fools, sale of judgment, belittling blood, severing kin, youth taking Quran as flutes advancing a man singing them though least in understanding."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
زاذان ابوعمر نے علیم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہم لوگ ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بیان کی تھی کہ وہ حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ‘ طاعون کی وبا کے دوران لوگ نکل رہے تھے ‘ حضرت عبس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے : یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ‘ تو علیم نے اُن سے کہا : آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے :’’ کوئی شخص موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ‘ کیونکہ اس صورت میں اُس کا عمل منقطع ہو جائے گا اور اسے دوبارہ واپس بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ ( اللہ تعالیٰ کی ) رضا کے حصول کے لیے مزید کوشش کرتا ‘‘۔ تو حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بیوقوفوں کی حکومت ‘ عدالتی فیصلے کی فروخت ‘ خون ( یعنی قتل ) کو کمتر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ‘ وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ‘ جو انہیں گا کر سنائے گا ‘ اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سے کم ہو ‘‘ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آپ ﷺ نے اپنی امت کے حوالے سے ‘ چھ چیزوں کے بارے میں اندیشے کا اظہار کیا ‘ بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ‘ عدالتی فیصلے میں رشوت ‘ رشتہ داری کے حقوق کو پامال کرنا ، قتل کو ہلکا سمجھنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ‘ وہ ایسے شخص کو امامت کے لیے آگے کریں گے ‘ جو اُن میں سب سے بڑا عالم ‘ یا سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ انہیں گا کر ( قرآن ) سنائے گا “ امام احمد کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ‘ ایک سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔