وَعَنْ أَبِي قُبَيْلٍ «عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ عِنْدَ خُطْبَتِهِ: إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ شِئْنَا أَعْطَيْنَاهُ وَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاهُ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِمَّنْ حَضَرَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: كَلَّا إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَيْءُ فَيْئُنَا فَمَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حَاكَمْنَاهُ إِلَى اللَّهِ بِأَسْيَافِنَا، فَنَزَلَ مُعَاوِيَةُ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَأَدْخَلَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَلَكَ الرَّجُلُ ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ فَوَجَدُوا الرَّجُلَ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلنَّاسِ: إِنَّ هَذَا أَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَقُولُونَ وَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، يَتَقَاحَمُونَ فِي النَّارِ كَمَا تَتَقَاحَمُ الْقِرَدَةُ "". وَإِنِّي تَكَلَّمْتُ أَوَّلَ جُمُعَةٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ أَحَدٌ فَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ مِنْهُمْ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ فَلَمْ يَرُدَّ أَحَدٌ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: إِنِّي مِنَ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَكَلَّمْتُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّالِثَةِ فَقَامَ هَذَا الرَّجُلُ فَرَدَّ عَلَيَّ فَأَحْيَانِي أَحْيَاهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Qubayl reports that Muawiyah ibn Abi Sufyan ascended the minbar Friday saying in his sermon, wealth is ours and fay is ours. Whom we will we give, whom we will we withhold, and none answered. The second Friday likewise, none answered. The third Friday likewise, and a man attending the mosque stood saying, nay, wealth is ours and fay is ours. Whoever bars us therefrom we sue him to Allah with our swords. Muawiyah descended sending for the man admitting him. Folk said the man perished. Then people entered finding him with him upon the couch, and Muawiyah said to people, this revived me, may Allah revive him. I heard the Messenger say, rulers after me shall speak unanswered, plunging in Fire as monkeys plunge. I spoke first Friday unanswered fearing I am of them, second Friday saying in myself I am of the folk, third this man answered reviving me, may Allah revive him. > **"Rulers after me shall speak unanswered, plunging in Fire as monkeys plunge."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوقبیل بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے ‘ خطبے کے دوران انہوں نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ یہ ( سرکاری ) مال ‘ ہمارا مال ہے اور مال فے ‘ ہمارا مال فے ہے ہم جسے چاہیں گے ‘ اُسے ( یہ مال ) دیں گے اور جسے چاہیں گے اسے نہیں دیں گے ‘ کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا ، جب اگلا جمعہ آیا ‘ تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی ، لیکن پھر کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا ‘ جب تیسرا جمعہ آیا ‘ تو انہوں نے اسی کی مانند بات کہی ‘ تو مسجد میں موجود حاضرین میں سے ایک صاحب ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بولے : ہرگز نہیں ! یہ ( سرکاری ) مال ‘ ہمارا مال ہے اور مال غنیمت ‘ ہمارا مال غنیمت ہے ‘ جو شخص اس کے بارے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا ‘ ہم اپنی تلواروں کے ہمراہ اُس کا مقدمہ ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کریں گے ‘ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے ( اور نماز کے بعد گھر تشریف لے گئے ) تو انہوں نے اُس شخص کو پیغام بھیجا ‘ اس کو ان کے پاس لے جایا گیا ‘ لوگوں نے کہا : یہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ، جب لوگ اندر اُن کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے اُس شخص کو پلنگ پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا : اس شخص نے مجھے زندگی دی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ عنقریب میرے بعد حکمران آئیں گے ‘ وہ ( غلط ) بات کریں گے اور کوئی اُن کو جواب نہیں دے گا اور وہ جہنم میں یوں اچھلتے پھریں گے ‘ جس طرح بندر اچھلتے ہیں ‘‘۔ میں نے پہلے جمعہ کلام کیا ‘ تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا ، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میں اُن لوگوں میں سے ایک ہوؤں گا ، پھر میں نے دوسرے جمعہ کلام کیا ، تو کسی نے مجھے کچھ نہیں کہا ‘ تو میں نے دل میں سوچا کہ میں اُن لوگوں میں سے ہوں ، پھر میں نے تیسرے جمعہ کلام کیا ، تو یہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے مجھے جواب دیا ‘ ( یا میری بات کو مسترد کیا ) تو اس نے مجھے زندگی دی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے زندگی دے ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔