Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 7

Book of the Caliphate

Hadith 9147–9186

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9147

Majma al-Zawaid #9147

وَفِي رِوَايَةٍ: " قُمْ فَانْزِلْهَا ". فَأَبَى فَعَزَمَ عَلَيْهَا.

EnglishUnverified translation

In a version, rise and enter it, but he refused and he insisted. > **"Rise and enter it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ تم اُٹھو اور اس میں جاؤ ‘ اس شخص نے انکار کیا ، تو اس امیر نے اس بارے میں تاکید کی ‘‘۔

9148

Majma al-Zawaid #9148

وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ""؟. قَالَ: نَعَمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

In a version, no obedience in disobedience of Allah, and he said yes. > **"No obedience in disobedience of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں ‘ کسی کی اطاعت نہیں ہو گی ‘ تو امیر ( یعنی گورنر ) بننے والے صحابی نے جواب دیا : جی ہاں ! ‘‘ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

9149

Majma al-Zawaid #9149

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «أَنَّهُ مَرَّتْ عَلَيْهِ أَحْمِرَةٌ وَهُوَ بِالشَّامِ تَحْمِلُ خَمْرًا فَأَخَذَ شَفْرَةً مِنَ السُّوقِ فَقَامَ إِلَيْهَا حَتَّى شَقَّقَهَا ثُمَّ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُنَا فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ - أَحْسَبُهُ قَالَ -: الْمَظْلُومَ وَنَمْنَعَهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَبْنَاءَنَا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reports that while in Sham donkeys bearing wine passed him, so he took a blade from the market and tore them, then said, we pledged the Messenger to hear and obey in energy and laziness, hardship and ease, command good forbid evil, speak for Allah fearing no blame, and aid the wronged protecting him as ourselves and sons. Then he mentioned the narration. > **"We pledged the Messenger to hear and obey in energy and laziness, hardship and ease, command good forbid evil, speak for Allah fearing no blame of a blamer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت ﷺ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کے پاس سے کچھ گدھے گزرے ‘ جن پر شراب لادی گئی تھی ، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اس وقت شام میں موجود تھے ‘ انہوں نے بازار سے ایک چھری لی ‘ اور شراب کے مشکیزوں کی طرف جا کر انھیں چیر دیا ‘ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت اس بات پر کی تھی : کہ ہم چاک و چوبند ہونے اور سست ہونے ‘ تنگ دست ہونے یا خوشحال ہونے ( یعنی ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ‘ اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کریں گے ‘ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ہمیں گرفت میں نہیں لے گی ‘ اور ہم مظلوم کی مدد کریں گے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی ہر اس چیز کے حوالے سے حفاظت کریں گے ‘ جس کے حوالے سے ہم ‘ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9150

Majma al-Zawaid #9150

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «يَا سَعْدُ عَلَيْكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَنْ لَا تُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ يَدْعُوكَ إِلَى خِلَافِ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ دَعَوْكَ إِلَى خِلَافِ مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَاتَّبِعْ كِتَابَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Ubadah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"O Sad, upon you is hearing and obedience in hardship and ease, energy and dislike. Dispute not the affair with its folk unless they call you to خلاف what is in Allah's Book. If they call you to خلاف what is in Allah's Book, follow Allah's Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے سعد ! تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے ‘ جو تمہاری تنگدستی اور خوشحالی ‘ خوشی اور زبردستی ( ہر عالم میں ) ہو گی ‘ اور تم نے حکومت سے متعلقہ افراد کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا ‘ البتہ اس صورت کا حکم مختلف ہے ‘ جب وہ تمہیں اللہ کی کتاب میں موجود حکم کے خلاف کی طرف بلائیں ‘ اگر وہ تمہیں اللہ کی کتاب میں موجود حکم کے خلاف کی طرف بلائیں ، تو تم اللہ کی کتاب کی پیروی کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

9151

Majma al-Zawaid #9151

وَعَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُحْرِجُوا أُمَّتِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - اللَّهُمَّ مَنْ أَمَرَ أُمَّتِي بِمَا لَمْ تَأْمُرْهُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ مِنْهُ فِي حِلٍّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Utbah al-Khawlani, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Burden not my nation, burden not my nation, burden not my nation. O Allah, whoever commands my nation what You commanded them not, they are free of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعتبہ خولانی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میری امت کو حرج میں مبتلا نہ کرنا ‘‘۔ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر یہ فرمایا :’’ اے اللہ ! جو شخص میری امت کو کوئی ایسا حکم دے ‘ جو حکم تو نے انہیں نہ دیا ہو ‘ تو وہ لوگ اس شخص کی طرف سے آزاد ہوں گے ( کہ اس کا وہ حکم نہ مانیں ) “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن زیاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9152

Majma al-Zawaid #9152

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا تَعْرِفُونَ، وَيَعْلَمُونَ مَا تُنْكِرُونَ فَلَيْسَ أُولَئِكَ عَلَيْكُمْ بِأَئِمَّةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْأَعْشَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"There shall be rulers after me commanding you what you know and doing what you deny, and those are no imams over you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد ‘ عنقریب ایسے حکمران ہوں گے ‘ جو تمہیں ان باتوں کا حکم دیں گے ، جنہیں تم معروف سمجھتے ہو گے ‘ اور وہ خود ایسے عمل کریں گے ‘ جنہیں تم منکر قرار دو گے ‘ تو تمہارے پیشوا نہیں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اعشی بن عبدالرحمان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9153

Majma al-Zawaid #9153

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ، أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ، فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ، أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: "" كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَيَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say, take the stipend while it is a gift. When it becomes a bribe for religion take it not, yet you shall not leave it, poverty and need preventing you. Verily the mill of Islam turns, so turn with the Book where it turns. The Book and the sultan shall part, so part not the Book. Rulers over you shall judge for themselves what they judge not for you. If you disobey they kill you, if you obey they misguide you. They asked, O Messenger, what to do. He said, as the companions of Isa son of Maryam did, sawn with saws and carried upon wood. Death in obedience of Allah is better than life in His disobedience. > **"Take the stipend while it is a gift. When it becomes a bribe for religion take it not. Turn with the Book where it turns. Part not the Book. Death in obedience of Allah is better than life in disobedience of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سرکاری عطیات اُس وقت تک وصول کرو ‘ جب تک وہ عطیات رہیں ، جب وہ دین کے بارے میں رشوت بن جائیں ‘ تو تم انہیں وصول نہ کرو ‘ لیکن تم لوگ انہیں چھوڑو گے نہیں ، کیونکہ وہ تمہیں غربت اور حاجت مندی سے بچا کے رکھتے ہیں ، خبردار ! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے ‘ تو تم کتاب کے احکام کے ساتھ گھومو ‘ وہ جہاں بھی گھوم کر جاتی ہے ‘ خبردار ! کتاب اور حکمران ‘ عنقریب ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے ‘ تو تم لوگ کتاب سے الگ نہ ہونا ‘ خبردار ! عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو اپنی ذات کے بارے میں ایسے فیصلے دیں گے کہ اس طرح کے فیصلے وہ تمہارے حق میں نہیں دیں گے ‘ جب تم ان کی نافرمانی کرو گے ‘ تو وہ تمہیں قتل کر دیں گے اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ‘ تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اُسی طرح کرو ‘ جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا تھا ‘ کہ انہیں آروں کے ذریعے چیر دیا گیا اور لکڑی پر مصلوب کر دیا گیا ( یعنی انہوں نے موت کو گلے لگا لیا ) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے مر جانا ‘ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں زندہ رہنے سے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ یزید بن مرثد نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ وضین بن عطاء کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9154

Majma al-Zawaid #9154

وَعَنْ أَبِي سُلَالَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ أَرْزَاقَكُمْ يُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ وَيُسِيؤُونَ الْعَمَلَ، لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ، فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ فَإِذَا تَجَاوَزُوا فَمَنْ قُتِلَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ شَهِيدٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sulalah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"There shall be leaders over you owning your provisions, speaking to you lying, acting doing evil. They are not pleased with you till you beautify their ugly and affirm their lie. Give them the right while they are pleased with it. When they exceed, whoever is killed thereupon is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسلالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو تمہارے رزق کے مالک ہوں گے ‘ وہ تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولیں گے اور عمل کرتے ہوئے برے عمل کریں گے ‘ وہ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے ‘ جب تک تم اُن کی قبیح چیزوں کو اچھا قرار نہ دو ‘ اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہ کرو ‘ تم ان لوگوں کو حق دو ‘ جب تک وہ حق کے حوالے سے راضی رہتے ہیں ‘ اور جب وہ اس سے تجاوز کریں ، تو جو شخص ایسی صورتحال میں مارا جائے ‘ وہ شہید شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9155

Majma al-Zawaid #9155

وَعَنْ أَبِي هِشَامٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يَمْلِكُونَ رِقَابَكُمْ وَيُحَدِّثُونَكُمْ فَيَكْذِبُونَ وَيَعْمَلُونَ فَيُسِيؤُونَ لَا يَرْضَوْنَ مِنْكُمْ حَتَّى تُحَسِّنُوا قَبِيحَهُمْ وَتُصَدِّقُوا كَذِبَهُمْ فَأَعْطُوهُمُ الْحَقَّ مَا رَضُوا بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hisham al-Sulami, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"There shall be leaders over you owning your necks, speaking to you lying, acting doing evil. They are not pleased till you beautify their ugly and affirm their lie. Give them the right while they are pleased with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہشام سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو تمہاری گردنوں کے مالک ہوں گے ‘ وہ تمہارے ساتھ بات کرتے ہوئے جھوٹ بولیں گے اور عمل کرتے ہوئے برائی کریں گے ‘ وہ تم سے اُس وقت تک راضی نہیں ہوں گے ‘ جب تک تم ان کی قبیح چیزوں کو عمدہ قرار نہ دو اور اُن کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو ‘ لیکن تم انہیں حق دینا ‘ جب تک وہ اُس ( حق ) سے راضی رہتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9156

Majma al-Zawaid #9156

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ فَمَنْ نَابَذَهُمْ نَجَا وَمَنِ اعْتَزَلَهُمْ سَلِمَ وَمَنْ خَالَطَهُمْ هَلَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ هَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"There shall be rulers after me knowing and denying. Whoever opposes them is saved, whoever isolates from them is safe, whoever mixes with them is destroyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو اچھائیاں بھی کریں گے اور برائیاں بھی کریں گے ‘ جو انہیں دور کر دے گا ‘ وہ نجات پائے گا ‘ جو اُن سے لاتعلقی اختیار کرے گا ‘ وہ سلامت رہے گا ‘ اور جو اُن سے گھل مل جائے گا ‘ وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9157

Majma al-Zawaid #9157

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلُوا فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ فَانْ لَمْ تَفْعَلُوا فَكُونُوا حِينَئِذٍ زَرَّاعِينَ أَشْقِيَاءَ تَأْكُلُونَ مِنْ كَدِّ أَيْدِيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Be upright to Quraysh while they are upright to you. When they are not, place your swords on your shoulders and annihilate their green. If you do not, be then wretched farmers eating from toil of your hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم قریش کے لیے ٹھیک رہنا ‘ جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہتے ہیں ‘ جب وہ ایسا نہ کریں ، تو تم اپنی تلواریں ‘ اپنے کندھوں پر رکھنا ‘ اور ان کے بڑوں ( یعنی حکمرانوں ) کو ہلاک کر دینا ‘ اگر تم ایسا نہیں کرو گے ‘ تو ایسی صورت میں ، تم بدنصیب کسانوں کے ساتھ ہو جانا اور اپنی ہاتھوں سے محنت کر کے کھا لینا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔

9158

Majma al-Zawaid #9158

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَقِيمُوا لَكُمْ فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, reports that he heard the Messenger say. > **"Be upright to Quraysh while they are upright to you. If they are not upright to you, place your swords on your shoulders and annihilate their green."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم قریش کے لیے ‘ اُس وقت تک ٹھیک رہنا ‘ جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہیں ‘ اگر وہ تمہارے لئے ٹھیک نہ رہیں ، تو تم اپنی تلواریں ‘ اپنے کندھوں پر رکھنا ‘ اور اُن کے بڑوں ( یعنی حکمرانوں ) کو ہلاک کر دینا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9159

Majma al-Zawaid #9159

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ثَلَاثٌ: رَجُلٌ قَرَأَ كِتَابَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا رُئِيَتْ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ وَكَانَ عَلَيْهِ رِدَاءُ الْإِسْلَامِ أَعَارَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِيَّاهُ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَضَرَبَ بِهِ جَارَهُ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّامِي أَحَقُّ بِهِ أَمِ الْمَرْمِيُّ؟ قَالَ: "" الرَّامِي. وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ سُلْطَانًا فَقَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَكَذَبَ، لَيْسَ لِخَلِيفَةٍ أَنْ يَكُونَ جُنَّةً دُونَ الْخَالِقِ، وَرَجُلٌ اسْتَخَفَّتْهُ الْأَحَادِيثُ كُلَّمَا قَطَعَ أُحْدُوثَةً حَدَّثَ بِأَطْوَلَ مِنْهَا أَنْ يُدْرِكَ الدَّجَّالَ يَتْبَعُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, the most I fear for my nation are three: a man reading Allah's Book till its splendour appears upon him with Islam's cloak Allah lent him, then unsheathes his sword striking his neighbour accusing him of idolatry. Asked, O Messenger, accuser or accused worthier, he said the accuser. A man given rule saying, who obeys me obeys Allah and who disobeys me disobeys Allah, lying, for no caliph may be a shield دون the Creator. A man trifling with narrations, whenever one ends telling longer, till he reaches the Dajjal following him. > **"The most I fear for my nation are three. A man reading Allah's Book then striking his neighbour accusing him of idolatry. A man given rule claiming obedience to him is obedience to Allah. A man trifling with narrations till he reaches the Dajjal following him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ تین چیزوں کے حوالے سے ہے ‘ وہ شخص جو اللہ کی کتاب پڑھے گا یہاں تک کہ اس کا نور اس شخص پر نظر آنے لگے گا ‘ اور اس شخص پر اسلام کی چادر موجود ہو گی ‘ جو اللہ تعالیٰ نے اُسے عطا کی ہو گی ‘ تو وہ شخص اپنی تلوار سونت لے گا اور اُس کے ذریعے اپنے پڑوسی پر حملہ کر دے گا اور اس پر شرک کا الزام لگائے گا ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! مارنے والا ( یا الزام لگانے والا ) اس ( یعنی شرک ) کا زیادہ حقدار ہو گا ؟ یا وہ زیادہ حقدار ہو گا ، جس کو مارا گیا ہو ( یعنی جس پر الزام لگایا گیا ہو ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مارنے والا ( یا الزام لگانے والا اس شرک کا ) زیادہ حقدار ہو گا ‘ اور ایک وہ شخص ‘ جسے اللہ تعالیٰ حکومت عطا کرے اور پھر وہ یہ کہے : جو شخص میری اطاعت کرے گا ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی ‘ حالانکہ اس کی یہ بات جھوٹ ہو گی ‘ کسی خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خالق کے سامنے ڈھال بنے اور ایک وہ شخص ‘ جو حدیث بیان کرتے ہوئے ‘ اسے ہلکا سمجھے گا ‘ جب اس کی ایک بات ختم ہو گی ‘ تو وہ اُس سے زیادہ طویل روایت بیان کرنا شروع کر دے گا ‘ وہ دجال تک پہنچ جائے گا اور اس کی پیروی کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

9160

Majma al-Zawaid #9160

وَعَنْ مَغْرَاءَ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَامِرٍ الشَّامَ، أَتَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِهِمْ، إِلَّا أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِهِ فَقَالَ: لَا أَرِي أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَانِي لَآتِيَنَّهُ فَلْأَقْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، فَأَتَاهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَتَانِي أَصْحَابُكَ وَلَمْ تَأْتِنِي فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ فَأَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ. فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَا كُنْتَ قَطُّ أَصْغَرَ فِي عَيْنِ اللَّهِ وَلَا فِي عَيْنِي مِنَ الْيَوْمِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَتَغَيَّرَ لَكُمْ إِذَا تَغَيَّرْتُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maghra reports that when Ibn Amir came to Sham, whomever Allah willed of the Prophet's Companions and others came to him except Abu al-Darda. He said, Abu al-Darda came not to me, I shall go to him fulfilling his right. He came greeting saying, your companions came but you came not, so I wished to come fulfilling your right. Abu al-Darda said, never were you smaller in Allah's eye nor mine than today. The Messenger ordered us to change for you when you change.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مغراء بیان کرتے ہیں : جب ابن عامر شام آئے ‘ تو اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب میں سے ‘ جتنے کے بارے میں ‘ اللہ کو منظور تھا اتنے صحابہ کرام اور دوسرے لوگ ان کے پاس آئے ‘ صرف حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس نہیں آئے ‘ تو انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ میرے پاس نہیں آئے ‘ میں اُن کے پاس ضرور جاؤں گا اور اُن کے حق کو ادا کروں گا ، پھر وہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا اور بولے : آپ کے ساتھی میرے پاس آ گئے تھے ‘ لیکن آپ میرے پاس نہیں آئے ‘ تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں آپ کے پاس آ جاؤں اور آپ کے حق کو ادا کروں ، حضرت ابودرداء نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ‘ اور اپنی نظر میں ‘ میں کبھی بھی آج کے دن سے زیادہ چھوٹا نہیں ہوا ‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جب تم لوگ ( یعنی حکمران ) تبدیل ہو جاؤ ‘ تو تمہارے لیے ہم بھی تبدیل ہو جائیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9161

Majma al-Zawaid #9161

عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِ قَالَ: «جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ، فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ، ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ: أَلَمْ تَسْمَعْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدُّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ ""؟. فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ: يَا هِشَامُ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِذِي سُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُو بِهِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ ""؟. وَإِنَّكَ أَنْتَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ، إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ، فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِشُرَيْحٍ مِنْ عِيَاضٍ وَهِشَامٍ سَمَاعًا وَإِنْ كَانَ تَابِعِيًّا.

EnglishUnverified translation

Shurayh ibn Ubayd and others report that Iyad ibn Ghanm flogged a house owner when it was opened, and Hisham ibn Hakim rebuked him harshly till Iyad angered. After nights Hisham came apologizing, then said, did you not hear the Messenger say the severest torment are those most tormenting people in this world. Iyad ibn Ghanm said, O Hisham we heard what you heard and saw what you saw. Did you not hear the Messenger say, whoever wishes to counsel a sultan in a matter, let him not show openly, but take his hand in privacy. If he accepts then so, else he discharged his duty. And you O Hisham are bold, daring against Allah's sultan. Did you not fear the sultan kills you becoming slain of Allah's sultan. Part in Sahih from Hisham alone. > **"The severest torment are those most tormenting people in this world. Whoever wishes to counsel a sultan, let him not show openly, but take his hand in privacy. If he accepts then so, else he discharged his duty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ‘ یہ اس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ‘ تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ‘ یہاں تک کہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ‘ پھر کچھ دن گزرنے کے بعد ہشام بن حکیم ‘ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ‘ پھر ہشام نے یہ کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ’’ لوگوں میں ‘ سب سے زیادہ شدید عذاب ‘ اُس شخص کو ہو گا ‘ جو دنیا میں ‘ لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا “۔ تو حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ہشام بن حکیم ! جو آپ نے سنا ہے ‘ وہ ہم نے بھی سنا ہوا ہے ‘ لیکن جو ہم نے دیکھا ہے وہ آپ نے نہیں دیکھا ، کیا آپ ﷺ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ جو شخص کسی حکمران کی خیرخواہی کرنے کا ارادہ رکھے ‘ تو وہ معاملہ اعلانیہ طور پر اس کے سامنے ظاہر نہ کرے ‘ بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ‘ اسے تنہائی میں لے جائے ‘ اگر وہ حکمران اُس کی بات کو قبول کر لے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ اس نے اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دیا ‘‘۔ اے ہشام ! تم اس حوالے سے جرات مند ہو ‘ تم نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حکمران کے سامنے جرات کا مظاہرہ کیا ہے ‘ تم اس بات سے ڈرے کیوں نہیں ؟ کہ سلطان تمہیں قتل کروا سکتا ہے ‘ اور تم اللہ کے سلطان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے فرد بن جاتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں ‘ اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ‘ جو ہشام سے منقول روایت ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ میں نے شریح کے حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ یا حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ‘ اگرچہ وہ تابعی ہے ۔

9162

Majma al-Zawaid #9162

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ «أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ وَمَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا عِيَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا ""؟. فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ: إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ، وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ، وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr reports that Iyad ibn Ghanm punished a house owner when opened, and Hisham ibn Hakim rebuked him harshly. After nights Hisham came apologizing saying, O Iyad, know you not the Messenger said the severest torment on Resurrection are those most tormenting people in this world. Iyad said, we heard what you heard, saw what you saw, companied whom you companied. Did you not hear O Hisham the Messenger say, whoever has counsel, then he mentioned similar. Its men trustworthy, chain connected. > **"The severest torment on the Day of Resurrection are those most tormenting people in this world. Whoever has counsel for a sultan, let him take his hand in privacy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ‘ یہ اُس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ‘ تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، کچھ دن گزرنے کے بعد ‘ ہشام بن حکیم ‘ اُن کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ‘ اور یہ کہا : اے عیاض ! کیا آپ نہیں جانتے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگوں میں ‘ سب سے زیادہ شدید عذاب ‘ اُس شخص کو ہو گا ، جو دنیا میں ‘ لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا ‘‘۔ تو حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جو آپ نے سنا ہے وہ ہم نے بھی سنا ہے ‘ جو آپ نے دیکھا ہے ‘ وہ ہم نے بھی دیکھا ہے اور ہم بھی اُسی طرح صحابی ہیں ، جس طرح آپ صحابی ہیں ، لیکن اے ہشام ! کیا آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : جس شخص کے پاس کوئی نصیحت ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے ۔

9163

Majma al-Zawaid #9163

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ: «لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى - وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ: مَا فَعَلَ وَالِدُكَ؟ قُلْتُ: قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ. قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ، قَالَ: قُلْتُ: الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا؟ قَالَ: بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا. قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ وَيَفْعَلُ بِهِمْ؟ قَالَ: فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ قَالَ: وَيَحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ - مَرَّتَيْنِ - إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Jumhan reports that he met Abdullah ibn Abi Awfa blind in sight and greeted. He asked who, he said Said ibn Jumhan. He asked of his father, he said the Azariqah killed him. He said, may Allah curse the Azariqah. The Messenger told us they are dogs of Fire. He asked, Azariqah alone or all Khawarij, he said all Khawarij. He asked, the sultan wrongs people doing this and that. He took his hand squeezing hard saying, woe to you O Ibn Jumhan, upon you is the greatest multitude, twice. If the sultan hears from you, come to his house informing what you know. If he accepts then so, else leave him, for you know not more than he. Part in Ibn Majah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میری ملاقات حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ‘ میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے ؟ میں نے بتایا : انہیں ازارقہ نے قتل کر دیا ہے ‘ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ لوگ جہنم کے کتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ ؟ یا تمام خوارج ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ‘ میں نے دریافت کیا : اگر کوئی حکمران لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور اُن کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے زور سے چبھویا اور پھر بولے : اے ابن جمہان ! تمہارا ستیاناس ہو ‘ تم نے سواد اعظم کے ساتھ رہنا ہے ‘ یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی اور پھر بولے : اگر حکمران تمہاری بات سنتا ہے تو تم اس کے گھر میں ‘ اُس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے اطلاع دو ! اگر وہ تمہاری بات کو قبول کر لیتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ‘ کیونکہ تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9164

Majma al-Zawaid #9164

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَدَعُونَ مِنَ السُّنَّةِ مِثْلَ هَذِهِ، فَإِنْ تَرَكْتُمُوهَا جَعَلُوهَا مِثْلَ هَذِهِ، فَإِنْ تَرَكْتُمُوهَا جَاؤُوا بِالطَّامَّةِ الْكُبْرَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said, rulers over you shall leave of the Sunnah like this. If you leave it they make it like this. If you leave it they bring the great calamity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو سنت کو اتنا چھوڑ دیں گے ‘ تو اگر تم نے اُسے چھوڑ دیا ‘ تو وہ اس کو اس کی مانند بنا دیں گے ‘ اور اگر تم نے اسے ترک کر دیا ‘ تو وہ زیادہ بڑی مصیبت لے آئیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9165

Majma al-Zawaid #9165

وَعَنْ عُمَرَ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «كَانَ فِي نَفْسِي مَسْأَلَةٌ قَدْ أَحْزَنَتْنِي لَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُهُ، فَدَخَلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَوَافَقْتُهُ عَلَى حَالَتَيْنِ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أُوَافِقَهُ عَلَيْهِمَا، وَجَدْتُهُ فَارِغًا طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَسْأَلَكَ؟ قَالَ: "" سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ "" قُلْتُ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُهُمْ إِيمَانًا؟ قَالَ: "" أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُهُمْ إِسْلَامًا؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ فَصَمَتَ طَوِيلًا حَتَّى خِفْتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْهِ، وَتَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بِالْأَمْسِ: "" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا لَمَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَيْهِمْ فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ "". فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "" كَيْفَ قُلْتَ؟ "". قُلْتُ: أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي إِنْكَارِ الْمُنْكَرِ فِي الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Umar al-Laythi reports that a question grieved him he asked not the Messenger nor heard asked, so he awaited. One day he entered while he performed ablution, finding him free and pleasant, two states he loved. He asked permission to ask, and he said ask what occurs. He asked, what is faith, he said patience and tolerance. Who has best faith, best character. Who has best Islam, from whose hand and tongue people are safe. What jihad is best. He lowered his head silent long till he feared burdening him, recalling yesterday he said the greatest crime among Muslims is asking of what was not forbidden then forbidden for his asking. He sought refuge from Allah's and His Messenger's anger. He raised his head asking how he said. He said, what jihad is best. He said, a word of justice before an unjust imam. Similar narrations shall come in denouncing evil. > **"Faith is patience and tolerance. The best in faith are best in character. The best in Islam are those from whose hand and tongue people are safe. The best jihad is a word of justice before an unjust imam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ذہن میں ایک مسئلہ تھا ‘ جس نے مجھے غمگین کیا ہوا تھا کہ میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے کیوں دریافت نہیں کیا ‘ اور میں نے کسی کو نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا بھی نہیں ، میں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا ‘ ایک مرتبہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ اس وقت وضو کر رہے تھے ‘ میں نے آپ کو دو حوالوں سے ایسی صورتحال میں پایا کہ میری خواہش تھی کہ مجھے وہ صورتحال نصیب ہو جاتی ‘ میں نے آپ کو پایا کہ آپ کو فراغت حاصل تھی ‘ اور آپ کا مزاج خوشگوار تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ سے ایک سوال کروں ، نبی کرم ﷺ نے فرمایا تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم پوچھ لو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان کیا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : صبر اور نرمی ‘ میں نے دریافت کیا : اہل ایمان میں ‘ ایمان کے حوالے سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ، میں نے دریافت کیا : مسلمانوں میں کون ‘ اسلام کے حوالے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں ، میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور خاصی دیر خاموش رہے ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں نے آپ ﷺ کو ناگواری کا شکار کر دیا ہے ‘ میری یہ آرزو ہوئی کہ میں نے آپ سے سوال نہ کیا ہوتا ، کیونکہ اُس سے پہلے میں آپ ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سن چکا تھا : ’’ مسلمانوں میں سب سے زیادہ گناہ ‘ اس شخص کو ہوتا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے ‘ جو ان لوگوں پر حرام نہ تھی اور اُس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے ‘ وہ چیز حرام ہو جائے “ تو میں نے یہ کہا : میں اللہ تعالیٰ کے غضب اور اُس کے رسول ﷺ کے غضب سے ‘ اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، پھر نبی اکرم نے اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا : تم نے کیا کہا تھا ؟ میں نے عرض کی : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ ظالم حکمران کے سامنے ‘ عدل ( یعنی حق ) کی بات کہنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ‘ فتنوں سے متعلق باب میں ‘ منکر کا انکار کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

9166

Majma al-Zawaid #9166

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَا تَدْخُلَنَّ عَلَى الْأُمَرَاءِ فَإِنْ غُلِبْتَ عَلَى ذَلِكَ فَلَا تُجَاوِزْ سُنَّتِي، وَلَا تَخَافَنَّ سَيْفَهُمْ وَسَوْطَهُمْ أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"O Abu Hurayrah, enter not upon rulers. If you are overcome thereby, exceed not my practice. Fear not their sword and whip to command them to fear Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! تم حکمرانوں کے پاس نہ جانا اور اگر کبھی تم مجبور ہو جاؤ ‘ تو میری سنت سے تجاوز نہ کرنا ‘ اور ان کی تلوار اور ان کے کوڑے سے ‘ اس حوالے سے خوفزدہ نہ ہونا کہ تم انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

9167

Majma al-Zawaid #9167

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَضَرَ إِمَامًا فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever attends a ruler, let him speak good or be silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص حکمران کے پاس موجود ہو ‘ وہ بھلائی کی بات کہے ‘ یا پھر خاموش رہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد بن زیاد ہے ‘ اسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9168

Majma al-Zawaid #9168

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ فَقَالَ: "" مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ غَزِيٍّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that charity camels passed the Messenger and he reached to a wool from a camel's side saying. > **"I have no more right to this wool than any Muslim man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ صدقہ کے اونٹ ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ‘ نبی اکرم نے اپنا دست مبارک بڑھا کر ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا اور ارشاد فرمایا : ’’ میں اس بال کے بارے میں بھی ‘ مسلمانوں کے کسی فرد سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن غزی ہے ‘ جسے کسی نے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9169

Majma al-Zawaid #9169

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ حَسَنٌ: يَوْمَ الْأَضْحَى - فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ - يَعْنِي الْوِزَّ - فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ. فَقَالَ: يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Zurayr reports that he entered upon Ali ibn Abi Talib, Hasan said on the day of sacrifice, and he brought khazirah. He said, may Allah set you right, would you bring of this duck, meaning geese, for Allah increased good. He said, O Ibn Zurayr, I heard the Messenger say. > **"Nothing is lawful for a caliph of Allah's wealth but two bowls: a bowl he and his family eat, and a bowl he places before people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : وہ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : یہ عید الاضحی کے دن کی بات ہے ‘ انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ رکھا ‘ تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ‘ اگر آپ ہمارے سامنے یہ ’’ بط ‘‘ ( کھانے کے لیے ) رکھتے ‘ ( تو زیادہ مناسب ہوتا ) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ بھلائی عطا کر دی ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے ابن زریر ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کسی خلیفہ کے لئے ‘ اللہ کے مال میں سے ‘ صرف دو پیالے حلال ہیں ، ایک وہ پیالہ ‘ جسے وہ اور اُس کے اہل خانہ کھائیں اور ایک وہ پیالہ ‘ جسے وہ لوگوں کے سامنے رکھ دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9170

Majma al-Zawaid #9170

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: يَا عَائِشَةُ انْظُرِي اللِّقْحَةَ الَّتِي كُنَّا نَشْرَبُ مِنْ لَبَنِهَا وَالْجَفْنَةَ الَّتِي كُنَّا نَصْطَبِحُ فِيهَا وَالْقَطِيفَةَ الَّتِي كُنَّا نَلْبَسُهَا، فَإِنَّا كُنَّا نَنْتَفِعُ بِذَلِكَ حِينَ كُنَّا نَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِذَا مِتُّ فَارْدُدِيهِ إِلَى عُمَرَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ أَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَحِمَكَ اللَّهُ لَقَدْ أَتْعَبْتَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ali, may Allah be pleased with them both, reports that when Abu Bakr was dying he said, O Aishah, look to the milch camel whose milk we drank, the bowl we ate in, the velvet we wore. We benefited thereby while ruling Muslims. When I die return it to Umar. When Abu Bakr died she sent it to Umar, and Umar said, may Allah have mercy on you, you tired whoever comes after you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے عائشہ ! وہ اونٹنی جس کا دودھ ہم پیتے تھے ‘ اور وہ پیالہ جس میں ہم کھاتے تھے ‘ اور وہ لحاف جسے ہم اوڑھا کرتے تھے ‘ ہم ان چیزوں سے اُس وقت تک نفع حاصل کرتے رہے ‘ جب تک ہم مسلمانوں کے امور کے نگران رہے ‘ جب میں مر جاؤں گا ‘ تو تم یہ چیزیں عمر کو دے دینا ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے وہ چیزیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ‘ آپ نے اپنے بعد آنے والے کو مشکل کا شکار کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9171

Majma al-Zawaid #9171

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ تَمِيمٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِلْخَلِيفَةِ بَعْدَكَ؟ قَالَ: "" مَا لِي، مَا رَحِمَ ذَا الرَّحِمِ وَأَقْسَطَ فِي الْقِسْطِ وَعَدَلَ فِي الْقِسْمَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Tamim, a Companion, reports that he asked, O Messenger, what is for the caliph after you. He said. > **"What is for me, while he shows mercy to kin, is equitable in equity and just in division."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن تمیم رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد والے خلیفہ کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : وہ جو مجھے ملتا ہے ‘ جب تک وہ رحم کے مستحق پر رحم کرتا رہے ‘ انصاف سے کام لے اور تقسیم کرتے ہوئے عدل کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9172

Majma al-Zawaid #9172

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَتَّابَ بْنَ أُسَيْدٍ - وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ - يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَصَبْتُ فِي عَمَلِي هَذَا الَّذِي وَلَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ثَوْبَيْنِ مُعَقَّدَيْنِ فَكَسَوْتُهُمَا مَوْلَايَ كَيْسَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Abi Aqrab reports that he heard Attab ibn Usayd, leaning his back to the House of Allah, say, by Allah I gained in this office the Messenger gave me but two knotted garments which I clothed my freedman Kaysan with.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں ! میں نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ‘ اُس وقت انہوں نے بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ‘ اور وہ یہ کہہ رہے تھے : یہ کام ‘ جس کا نگران ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھے مقرر کیا ہے ‘ اللہ کی قسم ! اس کے حوالے سے مجھے صرف دو کپڑے ملے ہیں ‘ جو میں نے اپنے غلام کیسان کو پہننے کے لئے دیدیے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9173

Majma al-Zawaid #9173

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَئِنْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ تَرَكَا هَذَا الْمَالَ لَقَدْ غُبِنَا وَضَلَّ رَأْيُهُمَا - وَايْمُ اللَّهِ - مَا كَانَا مَغْبُونَيْنِ وَلَا نَاقِصَيِ الرَّأْيِ وَإِنْ كَانَ لَا يَحِلُّ لَهُمَا فَأَخَذْنَاهُ بَعْدَهُمَا لَقَدْ هَلَكْنَا - وَايْمُ اللَّهِ - مَا جَاءَ الْوَهْمُ إِلَّا مِنْ قِبَلِنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn al-As, may Allah be pleased with him, said, if Abu Bakr and Umar left this wealth we were cheated and their opinion strayed. By Allah, they were neither cheated nor deficient in opinion. If it was not lawful for them and we take it after them we perish. By Allah, delusion comes but from us.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مال چھوڑا ہوتا ‘ تو ان دونوں کے ساتھ دھوکہ ہونا تھا اور اُن دونوں کی رائے خراب ہو گئی ہوتی ‘ لیکن اللہ کی قسم ! نہ تو ان دونوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ‘ اور نہ ہی اُن دونوں کی رائے ناقص تھی ، اگر یہ اُن دونوں کے لئے حلال نہیں تھا ‘ اور ان دونوں کے بعد ہم اسے حاصل کر لیتے ہیں ‘ تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ‘ اللہ کی قسم ! پھر وہم تو ہماری طرف سے ہی آئے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9174

Majma al-Zawaid #9174

عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ شَدَّ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Sad ibn Ubadah reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever strengthens his sultan by disobedience of Allah, Allah weakens his plot till the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے حکمران کو ‘ اللہ کی معصیت کے حوالے سے مضبوط کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کے فریب کو قیامت کے دن تک کے لئے کمزور کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9175

Majma al-Zawaid #9175

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: «قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الشَّامِ: يَا يَزِيدُ إِنَّ لَكَ قَرَابَةً عَسَيْتَ أَنْ تُؤْثِرَهُمْ بِالْوِلَايَةِ وَذَلِكَ أَكْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَحَدًا مُحَابَاةً فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتَّى يُدْخِلَهُ جَهَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطَى أَحَدًا حِمَى اللَّهِ فَقَدِ انْتَهَكَ فِي حِمَى اللَّهِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ "" أَوْ قَالَ: "" تَبَرَّأَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Abi Sufyan reports that Abu Bakr, may Allah have mercy on him, said when sending him to Sham, O Yazid you have kin and may favour them with office, my greatest fear for you. The Messenger said, whoever rules anything of the Muslims then appoints over them one by favouritism, upon him is Allah's curse. Allah accepts from him neither صرف nor عدل till He admits him to Hell. Whoever grants Allah's preserve then violates it without right, upon him is Allah's curse, or Allah's covenant is free of him. > **"Whoever rules anything of the Muslims then appoints over them one by favouritism, upon him is Allah's curse. Allah accepts from him neither صرف nor عدل till He admits him to Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب مجھے شام بھجوانے لگے ‘ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے یزید ! تمہارے ساتھ رشتہ دار بھی ہونگے ‘ تو ہو سکتا ہے تم حکمرانی کی وجہ سے اُن کے ساتھ ترجیحی سلوک کرو ‘ تمہارے بارے میں مجھے زیادہ اندیشہ اسی بات کا ہے ‘ کیونکہ نبی اکرم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنے اور اُن پر کسی شخص کو ’’ محابات ‘‘ ( یعنی تساہل ) کے طور پر ( نا اہل شخص کو ) امیر بنا دے ‘ تو اُس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ‘ اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ اُسے جہنم میں داخل کر دے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کسی شخص کو دے ‘ اور وہ شخص اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کے بارے میں ناحق طور پر کوئی کام کرے ‘ تو اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9176

Majma al-Zawaid #9176

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَثَلًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبْعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ. قَالَ: فَضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا قَالَ: "" إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبُّرٍ وَعَدَاءٍ، فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ، فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْأَحْلَجُ الْكِنْدِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَقَدْ ضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger struck for them parables one three five seven nine eleven. He struck one leaving the rest saying, a folk weak and poor fought by tyrannical hostile folk, and Allah made the weak prevail. Then they turned to their enemy employing and empowering them, angering Allah upon them till the day they meet Him. > **"A folk weak and poor fought by tyrannical hostile folk, and Allah made the weak prevail. Then they employed their enemy empowering them, angering Allah upon them till the day they meet Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے مختلف مثالیں بیان کیں ‘ ایک ‘ تین ‘ پانچ ‘ سات ‘ نو اور گیارہ ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے ایک مثال بیان کی ‘ اور باقی سب کو ترک کر دیا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو لوگ ضعیف اور کمزور ہوں اور اُن کے ساتھ جبر اور دشمنی کرنے والے لوگ لڑائی کریں اور پھر اللہ تعالیٰ ان کمزور لوگوں کو ظالموں پر غلبہ دیدے ‘ پھر وہ لوگ اپنے دشمن کی طرف جائیں اور انہیں اپنا عامل بنا لیں ‘ اور انہیں مسلط کر لیں ‘ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنے پر ‘ اُس دن تک کے لیے ‘ ناراض کر لیں گے ‘ جب وہ لوگ ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احلح کندی ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9177

Majma al-Zawaid #9177

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أُمَرَاءُ ظَلَمَةٌ وَوُزَرَاءُ فَسَقَةٌ وَقُضَاةٌ خَوَنَةٌ وَفُقَهَاءٌ كَذَبَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ مِنْكُمْ فَلَا يَكُونَنَّ لَهُمْ جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا وَلَا شُرَطِيًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: ضَعِيفٌ جِدًّا. وَمُعَاوِيَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"In the end of time are unjust rulers, sinful ministers, treacherous judges and lying scholars. Whoever of you reaches that time, let him not be their collector, overseer nor policeman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں ‘ ظالم حکمران ہونگے ‘ فاسق وزراء ہوں گے ‘ خیانت کرنے والے قاضی ہونگے ، جھوٹ بولنے والے علماء ہونگے ‘ تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ‘ وہ اُن کے لیے جابی ‘ یا عریف ‘ یا سپاہی ‘ ( یعنی سرکاری اہلکار ) ہرگز نہ بنے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان خراسانی ہے ‘ امام طبرانی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ ازدی کہتے ہیں : یہ انتہائی ضعیف ہے ‘ اس میں ایک راوی معاویہ بن ہیثم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9178

Majma al-Zawaid #9178

وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ. فَقَالَ: وَمَا كَانَ قَالَهُ قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ. فَقَالَ: مَا اسْمُكَ؟ فَقَالَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرْطَتِهِ فَقَالَ: ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ. فَسَأَلَ عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ؟ فَرَجَعَ الرَّسُولُ فَقَالَ: وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ. فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ إِلَّا وَلَدُ بَغِيٍّ وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ "". وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: "" لَا يَسْعَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Walid al-Qurashi reports that he was with Bilal ibn Abi Burdah when a man of Abd al-Qays came saying, may Allah set the ruler right, people of al-Taff pay not zakah of their wealth. He knew what he said and told the ruler, who asked his tribe and name, such son of such. He wrote to his police chief, send to Abd al-Qays asking of such son of such, how is his lineage among them. The messenger returned finding his lineage impugned. He said, Allah is Greatest. My father told me from my grandfather Abu Musa that the Messenger said, none rebels against people but a base-born child or one with its vein. Abu al-Walid said, strives. The rest trustworthy, Abu al-Walid unknown. > **"None rebels against people but a base-born child or one with its vein therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوولید قریشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا ، عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ‘ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ’’ طف ‘‘ کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں ‘ راوی کہتے ہیں : اس نے جو بات بیان کی تھی ، مجھے اُس کا علم تھا ، میں نے اس بارے میں امیر کو بتایا ‘ انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : عبدالقیس قبیلے سے ‘ انہوں نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ‘ انہوں نے وہاں کے کوتوال کو خط لکھا اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے میں کسی کو بھیج کر فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ اُن کے درمیان اس شخص کا حسب کیسا ہے ؟ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا : میں نے یہ بات پائی ہے کہ اُس کے حسب پر اعتراض کیا جاتا ہے ‘ تو بلال بن ابوبردہ نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے ‘ میرے دادا حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگوں کے خلاف سرکشی وہ شخص کرے گا ‘ جو سرکشی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو گا یا اس ( کی پیدائش ) میں اُس ( سرکشی ) کا حصہ ہو گا ‘‘۔ ابوولید نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں :’’ وہ ( لوگوں کے خلاف ) کوشش کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ابوولید قرشی نامی راوی مجہول ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9179

Majma al-Zawaid #9179

وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلُّوا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَدَّى الْأَمَانَةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَقِيقُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Masud ibn Qabisah or Qabisah ibn Masud reports that this clan of Muharib prayed Fajr, and when they prayed a youth among them said, I heard the Messenger say. > **"The easts of the earth and its wests shall be opened for you. Their workers are in Fire except who fears Allah and renders trust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسعود بن قبیصہ یا شاید قبیصہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : انہوں نے محارب قبیلے کے علاقے میں ‘ صبح کی نماز ادا کی ‘ جب اُن لوگوں نے نماز ادا کر لی ‘ تو اُن میں سے ایک نوجوان نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب زمین کے مشرقی اور مغربی علاقے تمہارے لیے فتح ہو جائیں گے اور وہاں کے اہلکار جہنم میں جائیں گے البتہ اُن لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شقیق بن حیان ہے ‘ ابوحاتم کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔

9180

Majma al-Zawaid #9180

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ أُمَرَاءَ كَذَبَةً، وَوُزَرَاءَ فَجَرَةً، وَأُمَنَاءَ خَوَنَةً، وَقُرَّاءً فَسَقَةً، سِمَتُهُمْ سِمَةُ الرُّهْبَانِ وَلَيْسَ لَهُمْ رَغْبَةٌ - أَوْ قَالَ: رَعِيَّةٌ أَوْ قَالَ: رِعَةٌ - فَيُلْبِسُهُمُ اللَّهُ فِتْنَةً غَبْرَاءَ مُظْلِمَةً، يَتَهَوَّكُونَ فِيهَا تَهَوُّكَ الْيَهُودِ فِي الظُّلْمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عِمْرَانَ الْكَلَاعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"The Hour shall not rise till Allah sends lying rulers, wicked ministers, treacherous trustees and sinful reciters, their mark monks with no desire, or flock, or moisture. Allah clothes them a dusty dark trial wherein they plunge as Jews plunge in injustice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی ‘ جب تک اللہ تعالیٰ جھوٹے حکمرانوں ‘ گناہگار وزیروں ‘ خیانت کرنے والے امینوں اور فاسق علماء کو نہیں بھیجے گا ، جن کا ظاہری حلیہ راہبوں جیسا ہو گا اور انہیں کوئی رغبت نہیں ہو گی ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں تاریک ‘ غبار آلود فتنے کا شکار کر دے گا ، جس میں وہ یوں بھٹکتے پھریں گے ، جس طرح یہودی ، ظلم کرنے میں بھٹکتے پھرتے تھے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عمران کلاعی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9181

Majma al-Zawaid #9181

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آَخِرِ الزَّمَانِ "" أَوْ قَالَ: "" يَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آَخِرِ الزَّمَانِ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي غَضَبِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, mentions the Messenger said. > **"In this nation at the end of time, or men of this nation shall emerge at the end of time with whips as cow tails, morning in Allah's wrath and evening in His anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اس امت میں آخری زمانے میں ۔ راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں ۔ آخری زمانے میں ‘ اس امت میں ‘ ایسے لوگ نکلیں گے ‘ جن کے ساتھ گائے کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اُس کے غضب میں شام کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

9182

Majma al-Zawaid #9182

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: "" «فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْ بَطَانَتِهِمْ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In his version, beware to be of their entourage. Ahmad's men trustworthy. > **"Beware to be of their entourage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم اس بات سے بچنا کہ تم ان کے ساتھی بنو “۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9183

Majma al-Zawaid #9183

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ يُوشِكُ أَنْ تَرَى أَقْوَامًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ بِأَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"If your life prolongs you shall soon see folk morning in Allah's wrath and evening in Allah's curse, in their hands like cow tails."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ‘ تو تم عنقریب ایسے لوگوں کو دیکھو گے ‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اُس کی لعنت میں شام کریں گے ‘ اُن لوگوں کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9184

Majma al-Zawaid #9184

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «رَأَيْنَا كُلَّ شَيْءٍ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" رِجَالٌ يُقَالُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ضَعُوا أَسْيَاطَكُمْ وَادْخُلُوا النَّارَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that they saw all the Messenger told them except he said men told on Resurrection, lay your whips and enter Fire. > **"Men told on the Day of Resurrection: lay your whips and enter Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے بیان کی تھی ‘ البتہ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ’’ کچھ لوگ ایسے ہوں گے ، جنہیں قیامت کے دن یہ کہا جائے گا : تم اپنے کوڑے کو رکھ دو ! اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ! “ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ہے اور وہ متروک ہے ۔

9185

Majma al-Zawaid #9185

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ "". قَالَ: "" وَلَابُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ عَرِيفٍ وَالْعَرِيفُ فِي النَّارِ، وَيُؤْتَى بِالشُّرَطِيِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: ضَعْ سَوْطَكَ وَادْخُلِ النَّارَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, can none of you recite in a night, Say He Allah is One, for it equals all Quran. He said, people must have an overseer and the overseer is in Fire. The policeman is brought on Resurrection told, lay your whip and enter Fire. > **"Can none of you recite in a night: Say He Allah is One, for it equals all Quran. People must have an overseer and the overseer is in Fire. Policeman brought on the Day of Resurrection is told: lay your whip and enter Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم میں سے کوئی ایک یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ رات کے وقت سورۂ اخلاص پڑھ لے ؟ کیونکہ یہ پورے قرآن کے برابر ہے ‘‘۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے لیے عریف ( یعنی سرکاری اہلکار ) کا ہونا ضروری ہے اور عریف ‘ جہنم میں جائے گا ‘ قیامت کے دن کوتوال کو لایا جائے گا اور اس سے یہ کہا جائے گا : تم اپنا کوڑا رکھ دو اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ! ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

9186

Majma al-Zawaid #9186

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «رَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُ فَقَالَ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ. قَالَ: فَكُلُّنَا مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ. قَالَ: كُلُّنَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنَ النِّبْطِ. قَالَ: تَنَحَّ عَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" قَتَلَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَعْوَانُ الظَّلَمَةِ فَإِذَا اتَّخَذُوا الرِّبَاعَ وَشَيَّدُوا الْبُنْيَانَ فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِغْوَلٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports that Abu Hurayrah saw a man admiring his appearance asking, of whom is the man. He said of those Allah blessed. He said, all of us blessed, of whom are you. He said of earth folk. He said, all of earth folk, of whom. He said of the Nabateans. He said, away from me. I heard the Messenger say, killers of prophets and helpers of oppressors. When they take lands and raise buildings, flee flee. > **"Killers of prophets and helpers of oppressors. When they take lands and raise buildings, flee flee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا اُس کی ہیئت انہیں اچھی لگی ‘ انہوں نے دریافت کیا : یہ شخص کس سے تعلق رکھتا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یہ ان لوگوں میں سے ہے ‘ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ‘ حضرت ابوہریرہ ﷺ نے فرمایا : ہم سب اُن لوگوں میں سے ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ‘ تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : اہل زمین سے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم سب اہل زمین سے ہیں ، تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے کہا : نبطیوں ( یہ عراق اور اردن کے درمیان رہنے والی ایک قوم ہے ) سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ یہ لوگ انبیاء کے قاتل اور ظالموں کے مددگار ہیں ‘ جب یہ لوگ زمینیں کھانا شروع کریں ‘ اور عمارتیں قائم کریں ‘ تو ان سے دور ) بھاگ جانا ‘ بھاگ جانا ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغوول ہے اور وہ متروک ہے ۔