Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 6

Book of the Caliphate

Hadith 9107–9146

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9107

Majma al-Zawaid #9107

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ يَسِيرٍ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتَنِ؟ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَكْتُمُ شَيْئًا، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالْجَمَاعَةِ، وَإِيَّاكَ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الضَّلَالَةُ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a version from Yusayr, he met Abu Masud when Ali was killed and adjured him by Allah what he heard of tribulations. He said, we conceal nothing, upon you is piety and unity, beware division for it is error, for Allah would not gather Muhammad's nation upon error.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یسیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو میری ملاقات حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں ان کے پیچھے آیا میں نے ان سے دریافت کیا : میں نے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ فتنوں کے بارے میں آپ نے نبی اکرم ﷺ سے کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہم کوئی چیز نہیں چھپائیں گے تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ‘ اور تم پر فرقہ بندی سے بچ کے رہنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ گمراہی ہے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس دوسرے طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔

9108

Majma al-Zawaid #9108

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ زِيَادٍ قِيلَ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet of Allah said. > **"Satan is man's wolf as the wolf of sheep taking the far and edge sheep. Beware ravines, and upon you is unity, the multitude and the mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ شیطان آدمی کے لئے بھیڑیے کی مانند ہے جس طرح بکریوں کے لیے بھیٹریا ہوتا ہے کہ وہ الگ ہونے والی اور کونے پر موجود بکری کو پکڑ لیتا ہے ‘ اور تم پر گھاٹیوں میں رہنا لازم ہے ‘ اور تم پر مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے سے بچنا لازم ہے ‘ اور تم پر جماعت کے ساتھ رہنا عام افراد کے ساتھ رہنا اور مسجد میں آنا لازم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ علاء بن زیاد کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

9109

Majma al-Zawaid #9109

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ نَاكِثًا بَيْعَتَهُ لَقِيَهُ وَهُوَ أَجْذَمُ، وَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَمَنْ مَاتَ لَيْسَ لِإِمَامِ جَمَاعَةٍ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Paradise is not lawful for a disobedient. Whoever meets Allah breaking his pledge meets Him leprous. Whoever leaves unity a span deliberately casts Islam's yoke from his neck. Whoever dies with no obedience to an imam of unity dies an ignorant death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک جنت کسی گناہ گار کے لئے حلال نہیں ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ اس نے اپنی بیعت ‘ توڑ دی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ وہ جذام زدہ ہو گا ‘ اور جو شخص بالشت بھر جماعت سے نکلے گا ‘ جب کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا ہو تو وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ الگ کر دے گا ‘ اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی امام کا پیروکار نہ ہو جو ( امام ) جماعت ( یعنی مسلمانوں کی جماعت ) کا حکمران ہو تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

9110

Majma al-Zawaid #9110

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ نَاكِثٌ بَيْعَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَقِيَهُ وَهُوَ أَجْذَمُ، وَمَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ لَيْسَ لِأَمِيرِ جَمَاعَةٍ عَلَيْهِ طَاعَةٌ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَعْثَ مَنْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةٍ، وَلِوَاءُ غَدْرٍ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُوَيْبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger stood among them saying. > **"Paradise is not lawful for a disobedient. Whoever meets Allah breaking his pledge meets Him on Resurrection leprous. Whoever leaves obedience a span casts Islam's yoke from his neck. Whoever mornings with no obedience to a ruler of unity, Allah raises him as one dying an ignorant death, with a banner of treachery at his back on Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار جنت کسی گناہ گار کے لئے حلال نہیں ہے ‘ اور جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ اس نے اپنی بیعت کو توڑ دیا ہو تو جب قیامت کے دن وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ جذام زدہ ہو گا ‘ اور جو شخص بالشت بھر اطاعت سے نکلے گا ‘ تو وہ اپنی گردن سے اسلام کے پٹے کو اتار دے گا ‘ اور جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس پر ( مسلمانوں کی ) جماعت کے امیر کی فرمانبرداری نہ ہو تو جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا ‘ تو اسے ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ جیسے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرا تھا ‘ اور قیامت کے دن اس کا عہد شکنی کا جھنڈا اس کی پشت پر ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رویبہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

9111

Majma al-Zawaid #9111

وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى حُبَيْشِ بْنِ دُلْجَةَ فَبَايَعْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ، (إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ) قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ يَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ "". قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bishr ibn Harb reports that Ibn Umar came to Abu Said asking, was I not told you pledged two rulers before people agreed on one. He said yes, I pledged Ibn al-Zubayr, then Syrians drove me to Hubaysh ibn Duljah and I pledged him. Ibn Umar said, this I feared, this I feared, and Hammad raised his voice. Abu Said said, O Abu Abd al-Rahman, did you not hear the Messenger say, whoever can not sleep a day nor morning nor evening but with a ruler over him. He said yes, but I dislike pledging two rulers before people agree on one. > **"Whoever can not sleep a day nor morning nor evening but with a ruler over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور بولے اے ابوسعید ! مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ آپ نے لوگوں کے کسی ایک امیر پر اکٹھا ہونے سے پہلے ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے پہلے ابن زبیر کی بیعت کی تھی پھر اہل شام آئے ‘ اور مجھے ہانک کر حبیش بن دلجہ کے پاس لے گئے ‘ تو میں نے اس کی بھی بیعت کر لی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا دوسری مرتبہ میں حماد نے بلند آواز کر کے یہ بات نقل کی حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے :’’ جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ دن کے وقت نہ سوئے ‘ اور ایسی حالت میں صبح نہ کرے یا شام نہ کرے مگر یہ کہ کوئی اس پر امیر ہونا چاہیے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اکٹھا ہونے سے پہلے میں دو امیروں کی بیعت کر لوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے ۔

9112

Majma al-Zawaid #9112

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ مَهْمَا كَانَ، فَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا جِئْتُكُمْ بِهِ فَإِنَّهُمْ يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ وَتُؤْجَرُونَ بِطَاعَتِهِمْ، وَإِنْ أَمَرُوكُمْ بِشَيْءٍ مِمَّا لَمْ آتِكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ، ذَلِكُمْ بِأَنَّكُمْ إِذَا لَقِيتُمُ اللَّهَ قُلْتُمْ: رَبَّنَا لَا ظُلْمَ، فَيَقُولُونَ: لَا ظُلْمَ فَتَقُولُونَ: رَبَّنَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رُسُلًا فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْنَا خُلَفَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ وَأَمَّرْتَ عَلَيْنَا أُمَرَاءَ فَأَطَعْنَاهُمْ بِإِذْنِكَ فَيَقُولُ: صَدَقْتُمْ هُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdam ibn Madikarib, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Obey your rulers whatever they are. If they command you of what I brought you they are rewarded and you rewarded by obeying. If they command you of what I brought not, it is upon them and you are free. For when you meet Allah you shall say, our Lord no injustice, and they shall say no injustice. You shall say, our Lord You sent messengers and we obeyed by Your permission, appointed successors and we obeyed by Your permission, appointed rulers and we obeyed by Your permission. He shall say, you spoke truth, it is upon them and you are free thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنے امراء کی اطاعت کرو خواہ وہ جو بھی ہیں اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں جو میں تمہارے پاس لے کے آیا ہوں تو انہیں اس کا اجر ملے گا ‘ اور تمہیں ان کی فرمانبرداری کا اجر ملے گا ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی ایسی چیز کے بارے میں حکم دیں ‘ جو میں تمہارے پاس نہیں لے کے آیا تو اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ‘ تو تم لوگ یہ کہو گے اے ہمارے پروردگار کوئی ظلم نہیں ہو گا وہ کہیں گے کوئی ظلم نہیں ہو گا ‘ تو تم کہو گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف رسول بھیجے ‘ تو ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر ان کے جانشین مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی پھر تو نے ہم پر امراء مقرر کیے ہم نے تیرے اذن کے تحت ان کی اطاعت کی ، تو پروردگار فرمائے گا : تم لوگوں نے سچ کہا ہے اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا اور تم لوگ لاتعلق ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور امام نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9113

Majma al-Zawaid #9113

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي قَوْمِكَ فَأَوْصِهِمْ بِنَا. قَالَ: "" أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أُمَّتِي لَا تَبْغَوْا عَلَى أُمَّتِي بَعْدِي "". ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: "" سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ طَاعَتَهُمْ فَإِنَّ الْأَمِيرَ مِثْلُ الْمِجَنِّ يُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَصْلَحُوا أُمُورَكُمْ بِخَيْرٍ فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاؤُوا فِيمَا أَمَرُوكُمْ بِهِ فَهُوَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdam ibn Madikarib and Abu Umamah al-Bahili, may Allah be pleased with them both, report that a man came to the Messenger saying, if this affair is in your people enjoin them regarding us. He said, I remind you of Allah concerning my nation, transgress not upon my nation after me. Then he said to people, there shall be rulers after me, so render them obedience, for the ruler is like a shield shielded with. If they set your affairs right with good, for you and them. If they do evil in what they command, it is upon them and you are free. > **"I remind you of Allah concerning my nation, transgress not upon my nation after me. There shall be rulers after me, so render them obedience, for the ruler is like a shield shielded with. If they do evil it is upon them and you are free."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) آپ کی قوم میں رہے گی ، تو آپ ہمارے بارے میں انہیں تلقین کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنی امت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں تم میرے بعد میری امت کے خلاف سرکشی نہ کرنا پھر آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کی اطاعت انہیں ادا کرنا کیونکہ امیر کی مثال ڈھال کی طرح ہوتی ہے جس کے ذریعے بچا جاتا ہے اگر وہ بھلائی کے ساتھ تمہارے معاملات ٹھیک رکھیں گے ‘ تو تمہیں بھی اجر ملے گا ‘ اور انہیں بھی اجر ملے گا ‘ اور اگر وہ اس چیز کے بارے میں برائی کریں گے جس کا انہوں نے تمہیں حکم دیا ہے ‘ تو اس کا وبال ان لوگوں پر ہو گا ‘ اور تم لوگ بری الذمہ ہو گے ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9114

Majma al-Zawaid #9114

«وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ مَنْ بَعْدِكَ يَأْخُذُونَا بِالْحَقِّ الَّذِي عَلَيْنَا وَيَمْنَعُونَا الْحَقَّ الَّذِي (جَعَلَهُ اللَّهُ) لَنَا نُقَاتِلُهُمْ وَنَعْصِيهِمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Salamah al-Jufi, may Allah be pleased with him, asked, O Messenger, if rulers after you take from us the right upon us and withhold the right Allah made for us, shall we fight and disobey them. The Prophet said, upon them is what they bear and upon you is what you bear. > **"Upon them is what they bear and upon you is what you bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن سلمہ جعفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوتے ہیں جو ہم سے وہ حق وصول کر لیتے ہیں جو ہمارے ذمہ ہے ‘ اور ہمیں وہ حق نہیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمارا حصہ مقرر کیا ہے ‘ تو کیا ہم ان حکمرانوں کے ساتھ جنگ کریں اور ان کی نافرمانی کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : انہوں نے جو کیا ہو گا ۔ اس کا وبال ان پر ہو گا ‘ اور تم نے جو کیا ہو گا اس کا ذمہ تم پر ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن عبیدہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9115

Majma al-Zawaid #9115

وَعَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ، فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةُ اللَّهِ، وَإِنَّ مَعْصِيَتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَلِكَ فَهُوَ وَلِيِّي وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِكُمْ شَيْئًا فَعَمِلَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَسَيَلِي أُمَرَاءُ إِنِ اسْتُرْحَمُوا لَمْ يَرْحَمُوا، وَإِنْ سُئِلُوا الْحَقَّ لَمْ يُعْطُوا، وَإِنْ أُمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ أَنْكَرُوا وَسَتَخَافُونَهُمْ وَيَتَفَرَّقُ مَلَأُكُمْ حَتَّى لَا يَحْمِلُوكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا احْتَمَلْتُمْ عَلَيْهِ طَوْعًا وَكَرْهًا، فَأَدْنَى الْحَقِّ أَنْ لَا تَأْخُذُوا لَهُمْ عَطَاءً وَلَا يُحَضَرُ لَهُمْ فِي الْمَلَأِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Layla al-Ashari, Companion of the Messenger, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, hold to obedience of your leaders and oppose them not, for their obedience is Allah's obedience and their disobedience Allah's disobedience. Allah sent me calling to His path with wisdom and good exhortation, so who succeeds me therein is my ally, and whoever rules you acting otherwise, upon him is curse of Allah, angels and all people. Rulers shall come who when mercy sought show none, when right asked give none, when good commanded deny, and you shall fear them and your assembly split till they burden you willingly or unwillingly, so least truth is take no stipend from them nor attend their assembly. > **"Hold to obedience of your leaders and oppose them not, for their obedience is Allah's obedience and their disobedience Allah's disobedience. Rulers shall come who when mercy sought show none, when right asked give none. Least truth is take no stipend from them nor attend their assembly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھو ان کی مخالفت نہ کرو کیونکہ ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے ‘ اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے تاکہ میں حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے اس کے راستے کی طرف دعوت دوں جو شخص میرے بعد میرا جانشین ہو گا وہ میرا ولی ہو گا ‘ اور جو شخص تمہارے کسی معاملے کا نگران بنے گا ‘ اور اس کے علاوہ عمل کرے گا ‘ تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اور عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ اگر ان سے رحم مانگا جائے گا ، تو وہ رحم نہیں کریں گے اگر ان سے حق مانگا جائے گا ‘ تو وہ نہیں دیں گے اگر انہیں نیکی کا حکم دیا جائے گا ‘ تو وہ انکار کریں گے اور عنقریب تم ان سے ڈرو گے اور تمہارا اجتماعی شیرازہ منتشر ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ جب تمہیں کسی بات کا پابند کریں گے ‘ تو تمہیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ویسا کرنا پڑے گا ‘ اور زیادہ مناسب یہ ہے ‘ کہ تم ان سے تنخواہ نہ وصول کرو اور نہ ہی ان کی محفل میں حاضر ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9116

Majma al-Zawaid #9116

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (وَهُوَ قَائِلٌ بِكَفِّهِ هَكَذَا كَأَنَّهُ) يُشَبِّرُ شَيْئًا: "" مَنْ فَارَقَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا خَرَجَ مِنْ عُنُقِهِ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ، وَالْمُخَالِفُونَ بِأَلْوِيَتِهِمْ يَتَنَاوَلُونَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ وَرَاءِ ظُهُورِهِمْ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَبَعْضُهُ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that he saw the Messenger gesturing with his palm as measuring saying. > **"Whoever parts the Muslim unity a span, Islam's yoke leaves his neck. Opposers with their banners shall bear them on Resurrection behind their backs."** Part in Sahih.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرما رہے تھے : ’’ جو شخص مسلمانوں کی جماعت سے بالشت بھر الگ ہو گا وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دے گا ‘ اور جو لوگ اپنے جھنڈوں کی بنیاد پر مخالفت کرنے والے ہوں گے وہ قیامت کے دن اپنے ان جھنڈوں کو اپنی پشت پر رکھیں گے “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس کا بعض حصہ صحیح میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9117

Majma al-Zawaid #9117

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَهُوَ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ} [النمل: 62] فَالْخِلَافَةُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَهُوَ يَذْهَبُ بِهِ وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَهُوَ يُؤْخَذُ بِهِ، عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ فِيمَا أَمَرَكَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Junadah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, whoever parts unity is in Fire on his face. Allah says, who answers the distressed when he calls and removes evil and makes you successors on earth. So caliphate is from Allah, if good he takes it, if evil he is seized for it. Upon you is obedience in what Allah commanded. > **"Whoever parts unity is in Fire on his face. Caliphate is from Allah. Upon you is obedience in what Allah commanded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرے گا وہ چہرے کے بل جہنم میں جائے گا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ پریشان حال شخص کی دعا کون سنتا ہے ‘ جب وہ اسے پکارتا ہے ‘ اور اس سے تکلیف کو دور کرتا ہے اس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے ‘‘۔ تو خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر وہ بہتر ہو گا ‘ تو اسے لے جائے گا ‘ اور اگر وہ برا ہو گا ‘ تو اس کے حوالے سے اس کی گرفت ہو گی تم پر اطاعت کرنا لازم ہے اس چیز کے بارے میں ‘ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9118

Majma al-Zawaid #9118

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا، وَعَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ، فَلَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Three are not questioned: a man parting unity disobeying his imam dying disobedient, a slave fleeing his master, and a woman whose husband absent providing her worldly need then displaying adornment after him. They are not questioned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین قسم کے لوگ ہیں جن سے سوال نہیں کیا جائے گا ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ‘ اور حکمران کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں مر جائے ایک وہ غلام یا کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے ‘ اور ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو اور اس کے شوہر نے اسے تمام ضروریات کی چیزیں فراہم کی ہوئی ہوں ‘ اور اس کے بعد وہ اپنی زینت کو ظاہر کر دے ‘ تو ان سے سوال نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9119

Majma al-Zawaid #9119

وَعَنِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ «أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ أَشْيَاءَ فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ (يَا رَسُولَ اللَّهِ): نَشْهَدُ. فَقَالَ: (لَا) "" يَا زِبْرِقَانُ فَاسْمَعْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَأَطِعْ "". قَالَ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ». قُلْتُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ الْمَسْمُوعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Zibrqan ibn Badr, may Allah be pleased with him, reports that he came to the Messenger mentioning things, and al-Zibrqan said, we bear witness. He said, no, O Zibrqan, hear Allah and His Messenger and obey. He said, hearing and obedience to Allah and His Messenger. Thus found in the heard original. > **"O Zibrqan, hear Allah and His Messenger and obey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کچھ چیزوں کے بارے میں ذکر کیا حضرت زبرقان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم گواہی دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں اسے زبرقان تم اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی جاتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے اصل مسموع میں اس کو اسی طرح پایا ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

9120

Majma al-Zawaid #9120

وَعَنْ عَمْرٍو الْبِكَالِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالْجِهَادِ فَقَدْ حَرُمَ عَلَيْكُمْ سَبُّهُمْ وَحَلَّ لَكُمُ الصَّلَاةُ خَلْفَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Amr al-Bikali, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"When rulers over you command you prayer, zakah and jihad, reviling them is forbidden you and prayer behind them is lawful for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بکالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم پر ایسے حکمران آئیں جو تمہیں نماز جہاد اور زکوۃ کا حکم دیں ، تو تم پر انہیں برا کہنا حرام ہے ‘ اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنا تمہارے لئے حلال ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

9121

Majma al-Zawaid #9121

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ أَلْتَمِسُ الْفَرِيضَةَ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَمْرٌو الْبِكَالِيُّ أُصِيبَتْ يَدُهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَوْمَ أَجْلَتِ الرُّومُ مِنَ الشَّامِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْعَتَكِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In his version also, from Abu Tamimah who came to Sham seeking obligation and found a man circled by people, asking who, they said Amr al-Bikali whose hand was lost at Yarmuk when Romans left Sham, and he heard him say the Messenger said similar. > **"When rulers over you command you prayer, zakah and jihad, reviling them is forbidden you and prayer behind them is lawful for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں شام آیا میں فریضہ تلاش کر رہا تھا وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے گرد لوگ چکر لگا رہے تھے میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ حضرت عمرو بکالی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا ہاتھ جنگ یرموک میں ضائع ہو گیا تھا یہ اس موقع کی بات ہے کہ جب رومیوں کو شام سے جلاوطن کر دیا گیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر عتکی ہے ‘ جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9122

Majma al-Zawaid #9122

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَسْأَلُكَ عَنْ طَاعَةِ مَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ وَلَكِنْ مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا - يَذْكُرُ الشَّرَّ. فَقَالَ: "" اتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Adi ibn Hatim, may Allah be pleased with him, reports that they said, O Messenger, we ask not of obeying the pious reformer, but one doing such and such mentioning evil. He said. > **"Fear Allah and hear and obey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ سے اس شخص کی اطاعت کے بارے میں نہ پوچھیں جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے ‘ اور اصلاح کرتا ہے ‘ لیکن جو شخص ایسا ایسا کرے انہوں نے شر کا ذکر کیا ( تو اس کے بارے میں کیا کرنا ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن قیس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9123

Majma al-Zawaid #9123

وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَالشَّيْطَانُ مَعَ مَنْ خَالَفَهُمْ يَرْكُضُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Arfajah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"Allah's Hand is with unity, and Satan with whoever opposes them rushing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اور شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو ان سے علیحدگی اختیار کرتا ہے ‘ اور وہ ٹھونگا مارتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9124

Majma al-Zawaid #9124

وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: «لَمَّا أَنْكَرَ النَّاسُ سِيرَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَزِعَ النَّاسُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: اصْبِرُوا فَإِنَّ جَوْرَ إِمَامِكُمْ خَمْسِينَ عَامًا خَيْرٌ مِنْ هَرَجِ شَهْرٍ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَارَةٍ بَرَّةٍ أَوْ فَاجِرَةٍ، فَأَمَّا الْبَرَّةُ فَتَعْدِلُ فِي الْقَسَمِ وَتُقَسِّمُ فَيْئَكُمْ فِيكُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَأَمَّا الْفَاجِرَةُ فَيُبْتَلَى فِيهَا الْمُؤْمِنُ. وَالْإِمَارَةُ الْفَاجِرَةُ خَيْرٌ مِنَ الْهَرَجِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرَجُ؟ قَالَ: "" الْقَتْلُ وَالْكَذِبُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رِزْقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr ibn Hubaysh reports that when people denied al-Walid ibn Uqbah's conduct they fled to Abdullah ibn Masud, and Abdullah said, be patient, for fifty years of your imam's injustice is better than a month of chaos. For he heard the Messenger say, people must have rule righteous or wicked. The righteous judges justly in division and distributes your fay equally, the wicked tries the believer therein. And wicked rule is better than chaos. He was asked what is chaos, he said killing and lying. > **"People must have rule righteous or wicked. Wicked rule is better than chaos. Chaos is killing and lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے طرز عمل کو منکر قرار دیا ، تو لوگ گھبرا کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تمہارے حکمران کا پچاس سال تک ظلم کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ایک ماہ کی قتل و غارت گری ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں کے لئے کسی امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا گناہگار ہو اگر وہ نیک ہو اور تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام لے اور تمہارا مال فئے تمہارے درمیان برابری کے طور پر تقسیم کرے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اور اگر وہ گناہگار ہو تو پھر اس کی حکومت میں مومن شخص کو آزمائش کا شکار کیا جائے گا ‘ اور بری حکمرانی ‘ حرج سے بہتر ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! حرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : قتل و غارت گری اور جھوٹ “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب اللہ بن رزق ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9125

Majma al-Zawaid #9125

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؟ "" قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي؟ "" قَالُوا: بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ فَقَدْ أَطَاعَكَ وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ. قَالَ: "" فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ، أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ فَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" أَئِمَّتَكُمْ "" بَدَلَ: "" أُمَرَائَكُمْ "".

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that he was among companions when the Messenger came saying, do you not know I am Allah's Messenger to you. They said yes we bear you are Allah's Messenger. He said, do you not know whoever obeys me obeys Allah and of Allah's obedience is my obedience. They said yes we bear whoever obeys Allah obeys you and of Allah's obedience is your obedience. He said, of Allah's obedience is you obey me, and of my obedience is you obey your rulers. Obey your rulers, if they pray sitting pray sitting. > **"Do you not know I am Allah's Messenger to you. Of Allah's obedience is you obey me, and of my obedience is you obey your rulers. Obey your rulers, if they pray sitting pray sitting."** Ahmad reports similar with imams instead of rulers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ کچھ اصحاب کے درمیان موجود تھے اسی دوران نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں میری اطاعت کرنا بھی شامل ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ آپ کی بھی اطاعت کرے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت بھی شامل ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم اپنے امراء کی اطاعت کرو ‘ تم لوگ اپنے امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں ‘ تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے لفظ ’’ امراء ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ آئمہ ‘‘ نقل کیا ہے ۔

9126

Majma al-Zawaid #9126

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ قُطْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said, O people, upon you is obedience and unity for it is Allah's rope He commanded. What you dislike in unity is better than what you love in division. Long narration shall come in Tribulations.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے لوگو تم پر اطاعت اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جماعت کی صورت میں تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو وہ اس سے زیادہ بہتر ہو گی جو علیحدگی کی صورت میں تم پسند کرتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو فتنوں سے متعلق کتاب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن قطبہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9127

Majma al-Zawaid #9127

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: يَا حَارِثُ بْنَ قَيْسٍ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ تَسْكُنَ وَسَطَ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَالْزَمْ جَمَاعَةَ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn Qays reports that Abdullah ibn Masud said, O Harith ibn Qays, would you love to dwell mid Paradise. He said yes. He said, cling to the people's unity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن قیس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے حارث بن قیس ! تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم جنت کے درمیان میں رہو ؟ حارث نے جواب دیا : جی ہاں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں کی جماعت کے ساتھ رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9128

Majma al-Zawaid #9128

عَنْ رِبْعَيِّ بْنِ خِرَاشٍ قَالَ: «انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: يَا رِبْعَيُّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنْ أَيِّهِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ. قَالَ: فَسَمَّيْتُ رِجَالًا مِمَّنْ خَرَجَ إِلَيْهِ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ribi ibn Khirash reports that he went to Hudhayfah at al-Madain on nights people marched to Uthman, and he asked, O Ribi, what did your folk do. He asked which, he said those who went out to this man. He named some, and he said he heard the Messenger say. > **"Whoever parts unity and humiliates rule meets Allah with no face with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربعی بن خراش بیان کرتے ہیں : میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدائن آیا یہ ان دنوں کی بات ہے ‘ جب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ربعی تمہاری قوم کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے کہا : آپ کس چیز کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ان میں سے جو لوگ نکل کر ان صاحب کی طرف گئے ہیں ربعی کہتے ہیں : میں نے کچھ ایسے افراد کا نام لیا جو نکل کر ان کی طرف گئے ہیں ، تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے ‘ اور امیر کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا کوئی چہرہ نہیں ہو گا ( یا اسے کوئی اجر نہیں ملے گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9129

Majma al-Zawaid #9129

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ «أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَاضْطَجَعَ فِيهِ، فَكَانَ هُوَ بَيْتَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (الْمَسْجِدَ) لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ (نَائِمًا) مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟ "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ أَنَامُ؟ وَهَلْ لِي (مِنْ) بَيْتٍ غَيْرُهُ؟ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ؟ "" قَالَ: إِذًا أَلْحَقُ بِالشَّامِ فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا. فَقَالَ لَهُ: "" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ؟ "" قَالَ: إِذًا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَكُونُ بَيْتِي وَمَنْزِلِي. قَالَ: "" فَكَيْفَ بِكَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ؟ "" قَالَ: إِذًا فَآخُذُ سَيْفِي فَأُقَاتِلُ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ (قَالَ)، فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ: "" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ "" قَالَ: بَلَى، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ حَتَّى تَلْقَانِي وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid, may Allah be pleased with her, reports that Abu Dharr served the Messenger and when done sheltered in the mosque sleeping therein as his home. The Messenger entered one night finding him sprawled, nudged him with his foot till he sat, asking do I see you sleeping. He said, O Messenger, where shall I sleep, have I another house. He sat with him asking, how when they expel you from it. He said, I join Sham for land of migration, gathering and prophets. He asked, how when expelled from Sham. He said, I return here as home. He asked, how when expelled a second time. He said, I take my sword fighting for myself till I die. He smiled fixing him with his hand saying, shall I guide to better than that. He said yes, may father and mother be for you. He said. > **"I see you sleeping. How when they expel you from it. Shall I guide to better than that. Submit to them where they lead you, and be driven where they drive you till you meet me upon that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کر کے فارغ ہوتے تھے ‘ تو مسجد میں آ جاتے تھے اور وہاں لیٹ جاتے تھے مسجد ہی ان کا گھر تھا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت مسجد میں تشریف لائے ‘ تو انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سوئے ہوئے پایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاؤں کے ذریعے انہیں ٹہوکہ دیا تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں سویا ہوا نہیں پا رہا ہوں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں سوؤں ؟ کیا میرا اس کے علاوہ کوئی اور گھر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس بیٹھ گئے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ‘ جب لوگ تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ‘ میں شام چلا جاؤں گا کیونکہ شام ہجرت کی سرزمین ہے ‘ اور محشر کی سرزمین ہے ‘ اور انبیاء کی سرزمین ہے وہاں کے افراد میں سے ایک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب وہ لوگ تمہیں شام سے بھی نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : اس صورت میں ‘ میں واپس آ جاؤں گا یہی میرا گھر اور ٹھکانہ ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ‘ جب وہ یہاں سے تمہیں دوبارہ نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں تلوار پکڑوں گا ‘ اور جنگ کرنا شروع کر دوں گا یہاں تک کہ مر جاؤں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ان کے ہاتھ کو تھپتھپایا ‘ اور فرمایا : کیا میں اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : وہ تمہیں جس طرف بھیجیں گے تم ادھر چلے جانا وہ تمہیں جس طرف ہانک کر لے جائیں گے تم ادھر چلے جانا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو اور تم اسی حالت میں ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ‘ توثیق کی گئی ہے ۔

9130

Majma al-Zawaid #9130

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: "" {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} [الطلاق: 2 - 3] "" فَجَعَلَ يُعِيدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ "" قُلْتُ: إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ فَأَكُونُ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ الْحَرَمِ. قَالَ: "" فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟ "" قَالَ: قُلْتُ: إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ. قَالَ: "" فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟ "" قَالَ: إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَخَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ وَفِي ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلِيلٍ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا ذَرٍّ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet recited the verse, whoever fears Allah He makes him a way out and provides whence he reckons not, and whoever trusts Allah He suffices him, repeating till he drowsed, then said, O Abu Dharr, what when expelled from Madinah. He said, to ease I go as a dove of the Sanctuary. He said, what when expelled from Makkah. He said, to ease to Sham and the holy land. He said, what when expelled from Sham. He said, by Him who sent you with truth I place my sword on my shoulder. The Prophet said, better than that is hear and obey though an Abyssinian slave. Part of its end in Sahih and its start in Ibn Majah. > **"Whoever fears Allah He makes him a way out and provides whence he reckons not. Better than that is hear and obey though an Abyssinian slave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دے گا ‘ اور اسے وہاں سے رزق عطا کرے گا ‘ جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہو گا ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے ‘‘۔ ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت میرے سامنے دہرائی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آ گئی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر اس وقت تم کیا کرو گے ‘ جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف جاؤں گا میں چلا جاؤں گا ‘ اور حرم کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا ( یعنی مکہ میں رہائش اختیار کر لوں گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ‘ جب تمہیں مکہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف شام اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ‘ جب تمہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس صورت میں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اپنی تلوار اپنی گردن پر رکھ لوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم بات سنو اور اطاعت کرو خواہ ( حکم دینے والا حکمران ) کوئی حبشی غلام ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا آخری حصہ منقول ہے ‘ اور ابن ماجہ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلیل ضریب بن نفیر نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

9131

Majma al-Zawaid #9131

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ، أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ إِلَّا مَحْرَمٌ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: "" «بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ» "". وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabiah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, whoever dies with no obedience upon him dies an ignorant death. If he casts it after عقدing it on his neck he meets Allah with no proof. Let no man seclude with a woman, for their third is Satan, except a mahram. Satan is with one and farther from two. Whose evil displeases him and good pleases him is a believer. > **"Whoever dies with no obedience upon him dies an ignorant death. If he casts it after عقدing it on his neck he meets Allah with no proof. Let no man seclude with a woman, for their third is Satan. Whose evil displeases him and good pleases him is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کسی کی اطاعت نہ ہو تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ‘ اور اگر وہ اس ( اطاعت ) کو اپنی گردن میں باندھ لینے کے بعد اسے اتار دے ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کی کوئی حجت نہیں ہو گی خبردار کوئی شخص کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا البتہ اگر عورت کا ) کوئی محرم ہو تو حکم مختلف ہے شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اور دو سے زیادہ دور ہوتا ہے جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ‘ اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ یہ امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس کے اس اطاعت کو اپنی گردن باندھ لینے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9132

Majma al-Zawaid #9132

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ "". قَالَ: فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ. "" إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةَ "". قَالَ: "" أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ فَأَنْ تُعْطِيَ الرَّجُلَ بَيْعَتَكَ ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said prayer to the prayer before it is expiation except for three, and they knew a new matter came. Except associating with Allah, breaking the bargain, and abandoning the Sunnah. As for breaking the bargain, it is to give a man your pledge then fight him with your sword. As for leaving the Sunnah, it is leaving the unity. > **"Prayer to the prayer before it is expiation except for three. Except associating with Allah, breaking the bargain, and abandoning the Sunnah. Breaking the bargain is to give a man your pledge then fight him with your sword. Leaving the Sunnah is leaving the unity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک نماز اپنے سے پہلے کی نماز کے درمیان کی چیزوں کا کفارہ بن جاتی ہے البتہ تین امور کا معاملہ مختلف ہے راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ ہو گیا کہ کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جائے یا سودے کو ختم کر دیا جائے یا سنت کو ترک کر دیا جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یا راوی نے کہا ) جہاں تک سودے کو ختم کرنے کا تعلق ہے ‘ تو وہ یہ ہے کہ تم کسی شخص کی بیعت کرو اور پھر تلوار لے کر اس سے جنگ کرنے چل پڑو اور سنت کو ترک کرنے سے مراد یہ ہے کہ جماعت سے نکل جانا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

9133

Majma al-Zawaid #9133

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِ عُمَّالِكُمْ وَشِرَارِهِمْ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" خِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لَكُمْ مَنْ تُحِبُّونَهُ وَيُحِبُّكُمْ وَتَدْعُونَ اللَّهَ لَهُمْ وَيَدْعُونَ اللَّهَ لَكُمْ، وَشِرَارُهُمْ لَكُمْ مَنْ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَدْعُونَ اللَّهَ عَلَيْهِمْ وَيَدْعُونَ اللَّهَ عَلَيْكُمْ "". فَقَالُوا: أَلَا نُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا دَعُوهُمْ مَا صَامُوا وَصَلُّوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يُونُسَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said, shall I tell you of the best of your workers and the worst. They said yes O Messenger. He said, their best for you are those you love and who love you, you supplicate for them and they supplicate for you. Their worst for you are those you hate and who hate you, you supplicate against them and they supplicate against you. They asked, shall we fight them. He said, no, leave them as long as they fast and pray. > **"Shall I tell you of the best of your workers and the worst. Their best are those you love and who love you. Their worst are those you hate and who hate you. No, leave them as long as they fast and pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین حکمرانوں اور بدترین حکمرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں سے بہتر وہ ہوں گے جو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوں گے جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور وہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور ان میں سے برے وہ ہوں گے جو تمہارے لئے زیادہ برے ہوں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے ضرر کرو اور وہ تمہارے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے ساتھ جنگ نہ کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ۔ جب تک وہ روزے رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں تم انہیں ایسے ہی رہنے دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یونس ہے ‘ جسے احمد عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9134

Majma al-Zawaid #9134

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: أَنْكَرَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ فِي زَمَنِ حُذَيْفَةَ شَيْئًا، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلَا تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَرَفَعَ حُذَيْفَةُ رَأْسَهُ، فَعَرَفَ مَا أَرَادَ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ لَحَسَنٌ، وَلَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُشْهِرَ السِّلَاحَ عَلَى أَمِيرِكَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ خَالِدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that people objected to a ruler in Hudhayfah's time, and a man came through the great mosque till he stood over Hudhayfah sitting in a circle and said, O Companion of the Messenger, will you not command good and forbid evil. Hudhayfah raised his head perceiving his intent and said, commanding good and forbidding evil is good, but it is not of the Sunnah to brandish a weapon against your ruler.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے اس وقت کے گورنر کی کسی چیز کا انکار کیا ایک شخص شہر کی بڑی مسجد میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تک پہنچ گیا جو اس وقت ایک حلقے میں تشریف فرما تھے وہ ان کے سرہانے کھڑا ہوا اور بولا اے اللہ کے رسول کے صحابی کیا آپ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا انہیں اس کی مراد کا اندازہ ہو گیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا اچھا کام ہے ‘ لیکن یہ سنت نہیں ہے کہ تم اپنے امیر کے خلاف ہتھیار اٹھا لو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن خالد ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔

9135

Majma al-Zawaid #9135

وَعَنْ جَبَلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ فَارَقَ الْإِسْلَامَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabalah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever parts unity a span has parted Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو گا وہ اسلام سے الگ ہو جائے گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9136

Majma al-Zawaid #9136

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيَاسَ أَوْ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ فَمِيتَتُهُ مِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ مَاتَ تَحْتَ رَايَةِ عَصَبِيَّةٍ (يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً) فَقِتْلَتُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever parts unity a span or a bowspan casts Islam's yoke from his neck. Whoever dies with no imam over him, his death is an ignorant death. Whoever dies under a banner of partisanship calling to or aiding partisanship, his killing is an ignorant killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو جائے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے ‘ اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کوئی امام نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے ‘ اور جو شخص کسی عصبیت کے جھنڈے کے تحت مرے کہ وہ عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہو تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9137

Majma al-Zawaid #9137

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَعْطَى بَيْعَةً ثُمَّ نَكَثَهَا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَيْسَتْ مَعَهُ يَمِينُهُ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that he heard the Messenger of Allah say. > **"Whoever gives a pledge then breaks it meets Allah with no oath with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کے ساتھ اس کا دایاں ہاتھ نہیں ہو گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ( اس بارے میں ) منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سعد ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

9138

Majma al-Zawaid #9138

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَنْطَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever dies with no imam over him dies an ignorant death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مر جائے ‘ اور اس پر کوئی امام نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن حسن قنطری ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9139

Majma al-Zawaid #9139

وَعَنِ الْأَشْتَرِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُمْ: "" «إِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَالْفَذُّ مَعَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ الْحَقَّ أَصْلٌ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْبَاطِلَ أَصْلٌ فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Ashtar reports that Umar ibn al-Khattab mentioned the Messenger said to them. > **"Allah's Hand is with unity and the lone is with Satan. Truth is a root in Paradise and falsehood a root in Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اشتر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ کا دست رحمت ‘ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے اور علیحدہ شخص شیطان کے ساتھ ہوتا ہے اور حق کی بنیاد جنت میں ہے ‘ اور باطل کی بنیاد جہنم میں ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9140

Majma al-Zawaid #9140

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ، وَحَتَّى يَحْلِفَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ، وَيَبْذُلَ نَفْسَهُ بِخَطْبِ الزُّورِ، فَمَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، وَمَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ (عَبْدُ اللَّهِ بْنُ) إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said, preserve me in my Companions, then those after them, then those after them. Then lying shall appear till a man testifies before he is asked and swears before he is asked and spends himself for false speech. Whoever delights in the midst of Paradise, let him cling to unity, for Allah's Hand is upon unity. Satan is with one and farther from two. Let no man seclude with a woman, for their third is Satan. Whose evil displeases him and good pleases him is a believer. > **"Preserve me in my Companions, then those after them, then those after them. Then lying shall appear. Whoever delights in the midst of Paradise, let him cling to unity, for Allah's Hand is upon unity. Satan is with one and farther from two. Let no man seclude with a woman, for their third is Satan. Whose evil displeases him and good pleases him is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری وجہ سے میرے اصحاب کا دھیان رکھنا پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر جھوٹ ظاہر ہو گا پھر کسی شخص سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی لیکن وہ پھر بھی گواہی دے گا ‘ اور کسی شخص سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، لیکن وہ پھر بھی حلف اٹھا لے گا وہ جھوٹ کے بیان کے عوض میں اپنے آپ کو خرچ کرے گا ‘ جو شخص جنت کے درمیان میں رہنا چاہتا ہو وہ جماعت کے ساتھ رہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے ‘ اور شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اور وہ دو سے زیادہ دور ہوتا ہے ‘ اور کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا ‘ اور جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ‘ اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خالد مصیصی ہے ‘ اور وہ متروک ہے اس سے پہلے والے باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔

9141

Majma al-Zawaid #9141

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُنَا فِي أَمْرِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ اللَّهَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ زَيْنَبَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that Muadh ibn Jabal asked, O Messenger, if rulers over us follow not your practice nor take your order, what do you command. The Messenger said. > **"No obedience to one who obeys not Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران آ جاتے ہیں جو آپ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور آپ کے حکم کو اختیار نہیں کرتے ہیں ، تو ان لوگوں کے معاملے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ کی اطاعت نہیں کرے گا اس کی اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن زینب ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9142

Majma al-Zawaid #9142

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أَصْلَى بِحَرِّهَا وَيَصْلَوْنَ بِبَرْدِهَا، إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي. قَالَ: فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ: فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ، قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ: أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِيَ الْحَكَمَ؟ قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ: فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ: أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ""؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ عِمْرَانُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ. أَوِ اللَّهُ أَكْبَرُ».

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Samit reports that Ziyad wished to send Imran ibn Husayn over Khurasan and he refused. His companions asked, did you leave Khurasan. He said, by Allah I delight not to burn with its heat while they cool, fearing in the enemy's throat a letter from Ziyad comes, if I proceed I perish and if I return my neck is struck. Then he sought al-Hakam ibn Amr al-Ghifari who accepted. Imran asked for al-Hakam to be called, and when he came Imran asked, did you hear the Messenger say there is no obedience to anyone in disobedience of Allah. He said yes. Imran said, praise be to Allah, or Allah is Greatest. > **"No obedience to anyone in disobedience of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زیاد نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کا گورنر مقرر کرے ‘ تو انہوں نے یہ بات نہیں مانی ‘ تو ان کے ساتھیوں نے کہا : کیا آپ نے خراسان کا گورنر بننے کو ترک کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس عہدے کی تپش مجھے ملے اور اس کی ٹھنڈک لوگوں کو ملے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ جب میں دشمن کے سامنے ہوؤں گا ‘ تو زیاد کی طرف سے ایک مکتوب آ جائے گا ‘ اگر میں اسے جاری رکھتا ہوں ‘ تو ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہوں ‘ اور اگر میں واپس آتا ہوں ، تو میری گردن اڑا دی جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر زیاد نے حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو گورنر کا عہدہ پیش کیا ، تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا کوئی حکم کو میرے پاس بلا کر لائے گا قاصد گیا ۔ حضرت حکم رضی اللہ عنہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ جب وہ ان کے پاس آئے ‘ تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے حضرت حکم رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔

9143

Majma al-Zawaid #9143

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ الْحَسَنِ: «أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ: أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ؟ فَقَالَ لَهُ: لِمَ؟ فَقَالَ: أَتَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ: قَعْ فِي النَّارِ فَأُدْرِكَ فَاحْتُبِسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ""؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَلْفَاظٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ: "" «لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a version from al-Hasan, Ziyad employed al-Hakam al-Ghifari over an army and Imran ibn Husayn met him among people asking, do you know why I came. He asked why. He said, do you recall the Messenger's word to the man whose commander said fall in fire but he was caught and held back, and when told the Messenger said had he fallen both would enter Fire, no obedience in disobedience of Allah. He said yes. He said, I only wished to remind you of this narration. In some paths, no obedience to a creature in disobedience of the Creator. > **"Had he fallen therein both would enter Fire. No obedience in disobedience of Allah. No obedience to a creature in disobedience of the Creator."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حسن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : زیاد نے حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا عامل مقرر کیا ‘ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ‘ اور لوگوں کے درمیان ان سے ملے اور فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں ؟ میں آپ کے پاس کس لئے آیا ہوں ؟ انہوں نے دریافت کیا : کس لئے آئے ہیں ؟ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ کو نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان یاد ہے ؟ جو آپ نے اس شخص سے فرمایا تھا ، جسے اس کے امیر نے یہ کہا تھا : تم آگ میں داخل ہو جاؤ ! لیکن پھر اس شخص کو پکڑ لیا گیا ‘ اس کو داخل نہیں ہونے دیا گیا ‘ ( جب بعد میں ) اس بات کی اطلاع ‘ نبی اکرم ﷺ کو دی گئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا :’’ اگر وہ شخص آگ میں داخل ہو جاتا ‘ تو وہ دونوں افراد ( یعنی وہ امیر اور وہ فرد ) آگ میں داخل ہوتے ‘ کیونکہ اللہ تعالی کی معصیت کے بارے میں ( کسی مخلوق کی ) اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو یہ حدیث یاد دلانے کا ارادہ کر کے آیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ’’ خالق کی معصیت میں ‘ مخلوق کی اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9144

Majma al-Zawaid #9144

وَعَنْ عِمْرَانَ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Imran and al-Hakam ibn Amr al-Ghifari, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger of Allah said. > **"No obedience in disobedience of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران رضی اللہ عنہ اور حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں کسی کی اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9145

Majma al-Zawaid #9145

وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ «فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (إِنَّا بَايَعْنَاهُ) عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَأَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعُهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي بَايَعَنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَى اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ، فَإِمَّا أَنْ تَكُفَّ عَنِّي عُبَادَةَ وَإِمَّا أَنْ أُخَلِّيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ - أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ - قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَانِبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا عُبَادَةُ بْنَ الصَّامِتِ مَالَنَا وَلَكَ؟ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا (إِنَّهُ) يَقُولُ: "" سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِطُولِهِ وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فَزَادَ عَنْ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَيَّاشٍ رَوَاهُ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ، وَرِوَايَتُهُ عَنْهُمْ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ismail ibn Ubayd al-Ansari reports the narration in which Ubadah, may Allah have mercy on him, said to Abu Hurayrah, you were not with us when we pledged the Messenger to hear and obey in energy and laziness, spend in hardship and ease, command good forbid evil, speak for Allah fearing no blame, and aid the Prophet when he comes to Yathrib protecting him as ourselves sons and wives, and ours is Paradise. This is the pledge, who breaks harms himself, who fulfills Allah fulfills for him. Then Muawiyah wrote to Uthman that Ubadah corrupted Sham and its folk, either restrain him or leave him to Sham. Uthman wrote, mount Ubadah back to his home in Madinah. Ubadah came to Uthman in the house with only a predecessor present, and Uthman turned saying, O Ubadah what is ours and yours. Ubadah stood among people saying, I heard the Messenger Abul Qasim Muhammad say, rulers after me shall rule you enjoining what you deny and denying what you know, so no obedience to who disobeys Allah, make no excuse by your Lord. > **"We pledged him to hear and obey in energy and laziness, spend in hardship and ease, command good forbid evil, speak for Allah fearing no blame. Rulers after me shall enjoin what you deny and deny what you know, so no obedience to who disobeys Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن عبید انصاری کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : انہوں نے پوری حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ بات نقل کی ہے : حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم اُس وقت ہمارے ساتھ نہیں تھے ‘ جب ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیعت کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم چاک و چوبند ہونے ‘ یا سست ہونے ( یعنی ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ‘ اور خوشحالی اور تنگی ( ہر حال میں ) خرچ کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے ‘ اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کریں گے اور اس کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ‘ اور یہ کہ جب نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس ‘ یثرب تشریف لائیں گے ‘ تو ہم آپ کی مدد کریں گے اور ہر اس چیز کے حوالے سے اُن کی حفاظت کریں گے ‘ جس کے حوالے سے ہم اپنے آپ ‘ اپنے بیٹوں اور اپنی بیویوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘ اور اس کے بدلے میں ہمیں جنت ملے گی ‘ یہ اللہ کے رسول کی لی ہوئی وہ بیعت تھی ، جو ہم نے کی تھی ‘ اور جو شخص اُس کو توڑے گا ‘ تو یہ توڑنا اس کے خلاف جائے گا اور جو شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کی ہوئی بیعت کا پورا اجر عطا کرے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ‘ کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ‘ شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر رہے ہیں ‘ تو یا آپ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو میرے حوالے سے روک دیں ، یا پھر میں اُن کے اور اہل شام کے درمیان رکاوٹ نہیں بنتا ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا : تم عبادہ کے لئے سواری کا بندوبست کرو اور اسے مدینہ میں موجود اُس کے گھر واپس بھیج دو ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ‘ یہاں تک کے وہ مدینہ منورہ آ گئے ‘ ایک مرتبہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اُن کے گھر آئے ‘ اس وقت گھر میں سبقت لے جانے والے لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ‘ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، وہ لوگوں کے پاس آئے ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت گھر کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے عبادہ ! تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ تو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور بولے : میں نے حضرت ابوالقاسم محمد ﷺ کو ‘ جو اللہ کے رسول ہیں ، انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب میرے بعد ‘ تم لوگوں کے امور کے نگران ‘ ایسے لوگ بنیں گے ‘ جو تمہارے سامنے اس چیز کو معروف قرار دیں گے جسے تم منکر سمجھتے ہو گے ‘ اور وہ تمہارے سامنے اُس چیز کو منکر قرار دیں گے ‘ جسے تم معروف سمجھتے ہو گے ‘ تو اس شخص کی اطاعت نہیں ہو گی جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے ‘ تم اپنے پروردگار کی ذات کے حوالے سے کسی غلطی کا شکار نہ ہونا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ اسماعیل کے حوالے سے ‘ اس کے والد سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں اپنے والد کے حوالے سے اضافی الفاظ نقل کئے ہیں ‘ امام طبرانی نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ‘ ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ اسماعیل بن عیاش نے اسے اہل حجاز سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں سے اس کی نقل کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے ۔

9146

Majma al-Zawaid #9146

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ بِقُطْرٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتُعْمِلَ عَلَى سِجِسْتَانَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ حِينَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى جَيْشٍ وَعِنْدَهُ نَارٌ قَدْ أُجِّجَتْ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قُمْ فَانْزِلْهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ، إِنَّهُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - "؟ وَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا».

EnglishUnverified translation

Bilal ibn Buqtr reports that a Companion of the Prophet was employed over Sijistan, and another Companion met him saying, do you recall when the Messenger employed a man over an army with a kindled fire and he told a companion rise and enter it, and when it reached the Messenger he said had he entered both would enter Fire, no obedience in disobedience of Allah. I only wished to remind you this. > **"Had he entered therein both would enter Fire. No obedience in disobedience of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بلال بن بقطر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم کے ایک صحابی کو ‘ سجستان کا گورنر مقرر کیا گیا ، تو نبی اکرم کے ایک اور صحابی ان سے ملے اور بولے : کیا تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا تھا ‘ اس امیر کے پاس آگ جلائی گئی ‘ تو اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے یہ کہا : تم اٹھو اور اس میں داخل ہو جاؤ ! جب نبی اکرم کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ شخص اُس میں داخل ہو جاتا ‘ تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہوتے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں ‘ کسی کی اطاعت نہیں ہو گی ‘‘۔ پھر اُن ( دوسرے ) صحابی نے ( گورنر صحابی سے ) یہ کہا : میں تمہیں یہ بات یاد دلانا چاہتا تھا ۔