عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ قَالَ: أَتَيْتُ نُعَيْمَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَإِذَا فِيهَا: مِنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّا عَهِدْنَاكَ، وَأَمْرُ نَفْسِكَ لَكَ مُهِمٌّ فَأَصْبَحْتَ وَقَدْ وَلِيتَ أَمْرَ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيْكَ الْوَضِيعُ وَالشَّرِيفُ، وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حَظُّهُ مِنَ الْعَدْلِ، فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ، فَإِنَّا نُحَذِّرُكَ يَوْمًا تُعْنَى فِيهِ الْوُجُوهُ، وَتَنْقَطِعُ فِيهِ الْحُجَجُ لِحُجَّةِ مَلِكٍ قَاهِرٍ قَدْ قَهَرَهُمْ بِجَبَرُوتِهِ، وَالْخَلْقُ دَاخِرُونَ لَهُ يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ زَمَانِهَا سَيَرْجِعُ إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَنْزِلَ كِتَابُنَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِنَا فَإِنَّا إِنَّمَا كَتَبْنَا بِهِ نَصِيحَةً لَكَ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: مِنْ عُمَرَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، سَلَامٌ عَلَيْكُمَا أَمَّا بَعْدُ: أَتَانِي كِتَابُكُمَا تَذْكُرَانِ أَنَّكُمَا عَهِدْتُمَانِي، وَأَمْرُ نَفْسِي لِي مُهِمٌّ، فَأَصْبَحْتُ وَقَدْ وَلِيتُ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدِي الْوَضِيعُ وَالشَّرِيفُ، وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حَظُّهُ مِنَ الْعَدْلِ، وَكَتَبْتُمَا: فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ لِعُمَرَ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ. وَكَتَبْتُمَا لِي تُحَذِّرَانِي مَا حُذِّرَتْ بِهِ الْأُمَمُ قَبْلَنَا قَدِيمًا وَإِنْ كَانَ اخْتِلَافَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ (بِآجَالِ النَّاسِ يُقَرِّبَانِ كُلَّ بَعِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ جَدِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ مَوْعُودٍ، حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) وَكَتَبْتُمَا تُحَذِّرَانِي أَنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيَرْجِعُ فِي آخِرِ زَمَانِهَا إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَلَسْتُمْ بِأُولَئِكَ وَلَيْسَ هَذَا بِزَمَانِ ذَلِكَ، وَذَلِكَ زَمَانٌ تَظْهَرُ فِيهِ الرَّغْبَةُ وَالرَّهْبَةُ، يَكُونُ رَغْبَةُ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ لِصَلَاحِ دُنْيَاهُمْ. وَكَتَبْتُمَا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُنْزِلَ كِتَابَكُمَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِكُمَا وَأَنَّكُمَا كَتَبْتُمَاهُ نَصِيحَةً لِي وَقَدْ صَدَقْتُمَا فَلَا تَدَعَا الْكِتَابَ إِلَيَّ فَإِنَّهُ لَا غِنَى لِي عَنْكُمَا، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ وَصِيَّةُ أَبِي بَكْرٍ لِعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي بَابِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn Suqah reports that he came to Nuaym ibn Abi Hind who produced a document from Abu Ubaydah ibn al-Jarrah and Muadh ibn Jabal to Umar ibn al-Khattab, peace upon you, we knew you with self-concern, now you rule red and black of the nation, low and noble, foe and friend sit before you, each a share of justice, so consider yourself O Umar. We warn you a day faces humble, proofs severed before a conquering King's proof, creation submissive hoping mercy fearing punishment. We talked the nation's affair at latter times shall become open brothers secret foes, and we seek refuge that our letter lodge other than its heart place, written but as counsel. Umar wrote back, from Umar to Abu Ubaydah and Muadh, peace, your letter came reminding me of self-concern and my rule of this nation red and black. No might nor power for Umar therein but by Allah. You warn what nations before were warned, though night and day with people's terms near every far, bring every new and promised till people reach homes of Paradise and Fire. You warn the affair shall return to open brothers secret foes, but you are not they nor this its time, a time of desire and fear for worldly gain. You wrote seeking refuge I lodge your letter but where its heart, and you wrote as counsel, you spoke truth, so cease not writing me for I need you.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
محمد بن سوقہ بیان کرتے ہیں : میں نعیم بن ابوہند کے پاس آیا انہوں نے ایک صحیفہ نکال کر مجھے دکھایا اس میں یہ تحریر تھا : ’’ یہ ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی طرف سے حضرت عمر بن خطاب کے نام ہے آپ کو سلام ہو ۔ اما بعد ! ہم آپ کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ آپ کی ذات کا معاملہ آپ کے لئے اہم ہے آپ کی یہ حالت ہے کہ آپ نبی اکرم ﷺ کی امت کے ہر سیاہ فام اور سفید فام کے معاملے کے نگران بن گئے ہیں آپ کے سامنے کم حیثیت کا شخص اور معزز شخص دشمن اور دوست ( ہر قسم کے لوگ ) بیٹھتے ہیں اور ہر ایک کا عدل میں سے حصہ ہوتا ہے ‘ تو آپ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اے حضرت عمر ! آپ اس وقت کیسے ہوتے ہیں ہم آپ کو اس دن سے ڈرنے کی تلقین کرتے ہیں جس میں چہرے لرزاں ہوں گے اور جس میں زبردست بادشاہ کی حجت کے سامنے تمام حجتیں ختم ہو جائیں گی وہ اپنی عظیم بادشاہی کی بنیاد پر لوگوں پر غلبہ ظاہر فرمائے گا ‘ اور مخلوق اس کے سامنے کمتر ہو گی ‘ وہ لوگ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوں گے ‘ اور اس کے عذاب سے ڈر رہے ہوں گے ہم لوگ یہ بات چیت کرتے ہیں کہ آخری زمانے میں اس امت کا معاملہ اس طرح ہو جائے گا کہ لوگ علانیہ کام کرنے والے ہوں گے پوشیدہ چیز کے دشمن ہوں گے ‘ تو ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ اس مکتوب کے ذریعے ہمارا جو مقصود ہے آپ اس کی بجائے کوئی اور مفہوم مراد لیں ہم نے آپ کی خیرخواہی کے لئے اسے تحریر کیا ہے ‘ اور آپ پر سلام ہو ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جواب لکھا : ’’ یہ عمر کی طرف سے ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کے نام ہے آپ دونوں پر سلام ہو ‘ اما بعد ! آپ دونوں کا مکتوب میرے پاس آیا آپ دونوں نے یہ نصیحت کی کہ آپ دونوں مجھے یہ تلقین کرنا چاہتے ہیں کہ میری ذات کا معاملہ میرے لئے اہمیت کا مالک ہے ‘ اور میری حالت یہ ہے کہ میں اس امت کے ہر سفید فام اور سیاہ فام کے معاملے کا نگران بن گیا ہوں ‘ اور میرے سامنے ہر کم حیثیت کا شخص اور معزز شخص اور ہر دشمن اور ہر دوست ( ہر قسم کا فرد ) بیٹھتا ہے ‘ اور ہر ایک کا عدل میں سے حصہ ہوتا ہے ‘ تو آپ دونوں نے یہ لکھا ہے کہ تم اس بات کا جائزہ لو کہ اے عمر تم ایسی حالت میں کیا کرتے ہو تو عمر کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے آپ دونوں نے مجھے لکھا ہے ‘ اور مجھے اس چیز سے بچنے کی تلقین کی ہے جس سے ہم سے پہلی امتوں کو بچنے کی تلقین کی گئی تھی اگرچہ رات اور دن کا اختلاف ہے ‘ لیکن لوگوں کی اجل دور کی چیز کو قریب کر دیتی ہے ‘ اور رات اور دن ہر نئی چیز لے آتے ہیں اور دونوں وہ چیز لے آتے ہیں جس کا وعدہ کیا گیا ہو یہاں تک کہ ایک وہ وقت آئے گا کہ جب لوگ جنت یا جہنم میں اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جائیں گے آپ دونوں نے مجھے خط لکھا اور مجھے اس بات سے بچنے کی تلقین کی کہ اس امت کا معاملہ عنقریب آخری زمانے میں اس صورت حال کی طرف جائے گا کہ لوگ اعلانیہ کام کریں گے پوشیدہ چیزوں سے بچ کے رہیں گے آپ لوگ وہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ زمانہ وہ زمانہ ہے ‘ یہ وہ زمانہ ہے جس میں رغبت ظاہر ہو گی اور ڈرنا ظاہر ہو گا بعض لوگوں کی رغبت دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے ہو گی آپ دونوں نے یہ لکھا ہے کہ آپ دونوں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ میں آپ دونوں کی تحریر کو اس کی بجائے کسی اور مقصد پر محمول کروں جو آپ کے دل میں ہے ‘ تو آپ دونوں نے خیرخواہی کے لئے اس کو لکھا ہے آپ دونوں نے سچ کہا ہے ‘ اور آئندہ بھی آپ دونوں مجھے اس طرح مکتوب لکھنا نہ چھوڑیں کیونکہ میں آپ دونوں سے بے نیاز نہیں ہوں ‘ باقی آپ دونوں پر سلام ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس صحیفے تک اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت گزر چکی ہے جو نبی اکرم ﷺ کے بعد خلفاء سے متعلق باب میں گزری ہے ۔