Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 5

Book of the Caliphate

Hadith 9067–9106

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9067

Majma al-Zawaid #9067

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ «أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ضَرَبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا فَخَرَجُوا، فَرَجَعَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَلَمْ تَكُنْ خَرَجْتَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي [سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثًا أُرِيدُ أَنْ أَضَعَهُ عِنْدَكَ مَخَافَةَ أَنْ لَا تَلْقَانِي] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مِنْ وَلِيَ عَمَلًا فَحَجَبَ بَابَهُ عَنْ ذِي حَاجَةِ الْمُسْلِمِينَ، حَجَبَهُ اللَّهُ أَنْ يَلِجَ بَابَ الْجَنَّةِ، وَمَنْ كَانَتْ هِمَّتُهُ الدُّنْيَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِوَارِي، فَإِنِّي بُعِثْتُ بِخَرَابِ الدُّنْيَا، وَلَمْ أُبْعَثُ بِعِمَارَتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ جَبْرُونَ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Juhayfah, may Allah be pleased with him, reports that Muawiyah dispatched a mission and Abu al-Dahdah returned. Muawiyah asked, had you not gone out. He said yes, but I heard from the Messenger a narration I wish to place with you fearing not to meet you. > **"O people, whoever holds office then shuts his door upon the needy Muslims, Allah shall bar him entering Paradise's gate. Whoever's concern is this world, Allah forbids him my neighbourhood. I was sent with ruin of this world, not its building."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ایک مہم بھیجی وہ لوگ روانہ ہوئے ابودحداح واپس آ گئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : کیا تم گئے نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک حدیث ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے یہ چاہا کہ میں اسے آپ کے سامنے بیان کر دوں اس اندیشے کے تحت کہ بعد میں میری آپ سے ملاقات نہ ہو ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے لوگو ! جو کسی کام کا نگران بنے اور پھر مسلمانوں کے حاجت مند افراد کے حوالے سے اپنے دروازے کو بند کر لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے محجوب کر دے گا کہ وہ جنت کے دروازے میں سے داخل ہو اور جس شخص کا مقصود دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ میرا پڑوس اس پر حرام کر دے گا کیونکہ مجھے دنیا کی خرابی کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے اس کی تعمیر کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جبرون بن عیسیٰ کے حوالے سے یحیی بن سلمان جفری سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9068

Majma al-Zawaid #9068

عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فَقَالَ: أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسَبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ، فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِأُخَرَةَ: أَنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ، أَلَا فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تُجْمِرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ. وَأَبُو فِرَاسٍ لَمْ أَرَ مَنْ جَرَحَهُ وَلَا وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Firas reports that Umar ibn al-Khattab addressed the people saying, a time came when I thought whoever reads Quran intends Allah, then it seemed men read it intending what people have. So intend Allah in recitation and deeds. Beat not Muslims humiliating them, detain not in armies trialing them, lodge not in thickets wasting them, withhold not their rights driving them to ingratitude. Part in Sahih.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوفراس بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : خبردار ! مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا جب میں یہ سمجھتا تھا کہ جب کوئی شخص قرآن پڑھے گا تو وہ اس کے ذریعے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پاس موجود ( اجر و ثواب ) کا ارادہ رکھتا ہو گا پھر بعد میں مجھے یہ خیال آیا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو قرآن سیکھیں گے اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے پاس موجود ( دنیاوی فوائد ) کے حصول کا ارادہ کریں گے خبردار تم اپنی قرائت کے ذریعے اللہ تعالیٰ ( کی رضامندی ) کا ارادہ کرو اور اپنے اعمال کے ذریعے اسی کا ارادہ کرو خبردار تم مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو کہ تم انہیں ذلت کا شکار کر دو اور نہ تم انہیں لشکروں میں روک کے رکھو ( کہ انہیں گھر ہی نہ جانے دو ) تو یوں تم انہیں آزمائش کا شکار کر دو گے اور نہ ہی تم جنگلات کے پاس ( یعنی آبادیوں سے دور ) ٹھہراؤ ‘ ورنہ تم انہیں ضائع کر دو گے ‘ اور نہ ہی تم ان کے حقوق روکو ‘ ورنہ تم انہیں ناشکری پر مجبور کر دو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ۔ کسی ابوفراس نامی راوی پر جرح کرتے ہوئے یا کسی کو اس کی ‘ توثیق کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9069

Majma al-Zawaid #9069

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، لَمْ يَحْفَظْهُمْ بِمَا حَفِظَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"No one of my nation rules anything of the people and guards them not as he guards himself and family but shall not find fragrance of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا جو بھی فرد کسی بھی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان لوگوں کی حفاظت اس طرح نہ کرے جس طرح وہ اپنے آپ کی اور اپنے اہلخانہ کی حفاظت کرتا ہے ‘ تو ایسا شخص جنت کی خوشبو نہیں پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9070

Majma al-Zawaid #9070

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى يَنْظُرَ فِي حَوَائِجِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said. > **"Whoever rules anything of the Muslims, Allah shall not look to his need till he looks to their needs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز کا نگران بنے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی حاجت کی طرف اس وقت تک نظر نہیں کرے گا ‘ جب تک وہ شخص ان لوگوں کی حاجتوں کی طرف نظر نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا شخص ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9071

Majma al-Zawaid #9071

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَعَانَ بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ، أَذَلَّهُ اللَّهُ مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ مِنَ الْخِزْيِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ كِتَابُهُ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ، وَمَنْ تَوَلَّى مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَوْلَى بِذَلِكَ، وَأَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ، فَقَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَجَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَنْ تَرَكَ حَوَائِجَ النَّاسِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى يَنْظُرَ فِي حَوَائِجِهِمْ، وَيُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَمِنْ أَكْلَ دِرْهَمَ رِبًا فَهُوَ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ زَنْيَةً، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ حَمْزَةُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said, whoever aids falsehood to refute truth is free of Allah's and His Messenger's covenant. Whoever walks to Allah's sultan on earth to humiliate him, Allah humiliates him with stored disgrace on Resurrection. Allah's sultan on earth is His Book and His Prophet's practice. Whoever rules Muslims then employs one knowing a worthier knower of Book and Sunnah among them betrays Allah, His Messenger and believers. Whoever neglects people's needs, Allah neglects his till he attends theirs and pays their right. Whoever eats a dirham of riba, it is thirty-three adulteries. Flesh grown of unlawful, Fire worthier of it. > **"Whoever aids falsehood to refute truth is free of Allah's and His Messenger's covenant. Whoever rules then employs one knowing a worthier knower of Book and Sunnah betrays Allah, His Messenger and all believers. Flesh grown of unlawful, Fire is worthier of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص باطل کی مدد کرے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور جو شخص زمین میں اللہ کے سلطان کی طرف چل کر جائے تاکہ اسے ذلت کا شکار کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا شکار کر دے گا ‘ اور اس کے ہمراہ قیامت کے دن اس کے لئے رسوائی کو سنبھال کے رکھے گا ‘ اور زمین میں اللہ کا سلطان اس کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے ‘ اور جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے اور پھر ان لوگوں پر ایسے شخص کو عامل مقرر کر دے ‘ جب کہ وہ یہ جانتا ہو کہ ان لوگوں کے درمیان ایسا فرد موجود ہے جو اس عہدے کا اس سے زیادہ حق رکھتا ہے ‘ اور جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے ‘ تو ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو گا ‘ اور جو شخص لوگوں کی حاجتوں کو چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی طرف اس وقت تک نظر نہیں کرے گا ‘ جب تک وہ شخص لوگوں کی حاجت کی طرف نظر نہیں کرے گا ‘ اور لوگوں کو ان کے حقوق ادا نہیں کرے گا ‘ اور جو شخص سود کا ایک درہم کھائے گا ‘ تو یہ تینتیس مرتبہ زنا کرنے کے مترادف ہے ‘ اور جس گوشت کی نشو و نما حرام سے ہوئی ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد جزری حمزہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9072

Majma al-Zawaid #9072

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «قَدِمَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ أَمِيرًا أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَتَقَدَّمَ عَلَيْنَا غُلَامًا سَفِيهًا يَسْفِكُ الدِّمَاءَ سَفْكًا شَدِيدًا، وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مِنَ السَّبْعَةِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُفَقِّهُونَ أَهْلَ الْبَصْرَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ لَهُ: انْتَهِ عَنْ مَا أَرَاكَ تَصْنَعُ فَإِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَقَالَ لَهُ: مَا أَنْتَ وَذَاكَ؟ إِنَّمَا أَنْتَ حُثَالَةٌ مِنْ حُثَالَاتِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَهَلْ كَانَتْ فِيهِمْ حُثَالَةٌ لَا أُمَّ لَكَ؟ بَلْ كَانُوا أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَشَرَفٍ مِمَّنْ كَانُوا مِنْهُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "" مَا مِنْ إِمَامٍ وَلَا وَالٍ بَاتَ لَيْلَةً سَوْدَاءَ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "". ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَنَحْنُ نَعْرِفُ فِي وَجْهِهِ مَا قَدْ لَقِيَ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا زِيَادٍ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِكَلَامِ هَذَا السَّفِيهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي عِلْمٌ خَفِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أَقُولَ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ عَلَانِيَةً، وَوَدِدْتُ أَنَّ دَارَهُ وَسِعَتْ أَهْلَ هَذَا الْمِصْرِ فَسَمِعُوا مَقَالَتِي وَسَمِعُوا مَقَالَتَهُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَازِلٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَأَنَا آخِذٌ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا مَخَافَةَ أَنْ تُؤْذِيهِ إِذْ قَالَ: "" لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَكْرَهُ أَنْ أُفْنِيَهَا لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلَ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الْجِنِّ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى هَيْآتِهَا وَعُيُونِهَا إِذَا نَظَرَتْ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ "". ثُمَّ قَامَ الشَّيْخُ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَمَا لَبِثَ أَنْ مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ: أَتَعْهَدُ إِلَيْنَا شَيْئًا نَفْعَلُ بِهِ الَّذِي تُحِبُّ؟ قَالَ: أَوَفَاعَلٌ أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ الْكِلَابِ وَغَيْرِهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reports that Ubaydullah ibn Ziyad came as ruler appointed by Muawiyah, a foolish youth shedding blood severely, while Abdullah ibn Mughaffal al-Muzani, Companion and one of seven sent by Umar to teach Basra, entered upon him saying, desist from what I see you do, for worst shepherds are the crushing. He said, what are you but refuse of Muhammad's Companions. He said, was there refuse among them, rather houses of honour. I bear I heard the Messenger say. > **"No imam or governor spending a dark night betraying his subjects but Allah forbids him Paradise."** Then he left to the mosque and they saw his face. He was asked why speak to this fool publicly, and he said he had hidden knowledge he wished not to die till proclaiming. Then he told of being with the Messenger under a tree holding a branch lest it harm him, when he said, were dogs not a nation I hate to exterminate I would order killing them, so kill every jet black for it is a devil. Pray not in camel resting places for created of jinn, see their form and eyes, and pray in sheep pens for nearer mercy. The shaykh rose and soon sickened unto death, and Ubaydullah visited asking a covenant to act as he loves, asking will you act, he said yes. Part in Sahih on dogs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد امیر بن کر ہمارے پاس آئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا انہوں نے ایک بے وقوف لڑکے کو ہم پر امیر مقرر کر دیا جو بہت زیادہ خون بہاتا تھا اس وقت ہمارے درمیان حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ موجود تھے جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی تھے یہ ان سات افراد میں سے ایک تھے جنہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا تھا ایک دن حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے ‘ اور اس سے کہا : تم اس چیز سے باز آ جاؤ جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کر رہے ہو کیونکہ سب سے برے حکمران وہ ہوتے ہیں جو ( غیر ضروری ) سختی کریں ‘ اس نے ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا معاملہ ہے آپ ‘ تو حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے چھان بورے کے طور پر باقی رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے کیا ان اصحاب میں چھان بورا ہونا تھا ؟ بلکہ وہ لوگ ‘ تو عزت والے اور معزز لوگ تھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو بھی حکمران ‘ یا والی ایک سیاہ رات ایسی حالت میں گزارتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہو تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے ‘‘۔ پھر وہ اس شخص کے پاس سے نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے ‘ اور تشریف فرما ہوئے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے انہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اندازہ ہمیں ان کے چہرے سے ہو گیا میں نے ان سے کہا : اے ابوزیاد ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے لوگوں کے سامنے آپ کو اس بے وقوف کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے تھی انہوں نے فرمایا : اگر میرے پاس نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی پوشیدہ علم تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایسے نہ مر جاؤں جب تک میں لوگوں کے سامنے علانیہ طور پر اسے بیان نہیں کر دیتا اور میری یہ خواہش ہے کہ اس کا گھر اس شہر کے تمام لوگوں کے لئے گنجائش والا ہوتا ( یعنی ہر کوئی اس کے پاس آ سکتا ) اور میری گفتگو اور اس کی گفتگو سن لیتا پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بیان کرنا شروع کی :’’ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا نبی اکرم ﷺ نے ایک درخت کے سائے میں پڑاؤ کیا ہوا تھا میں نے اس درخت کی کچھ ٹہنیاں پکڑی ہوئی تھیں تاکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو اذیت نہ پہنچائیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اگر کتے مخلوق کی مستقل قسم نہ ہوتے اور میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا کہ میں اس مخصوص قسم کو ہی فنا کر دوں ‘ تو میں نے انہیں مار دینے کا حکم دینا تھا تا ہم تم ان میں سے ہر ایک کالے سیاہ کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا ‘ اور تم اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو کیونکہ انہیں جنات سے پیدا کیا گیا ہے کیا تم نے ان کی ہیئت اور ان کی آنکھوں کو نہیں دیکھا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہوتی ہیں ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ بزرگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے اس کے بعد وہ اس بیماری میں مبتلاء ہو گئے جس میں ان کا انتقال ہوا تھا اس بیماری کے دوران عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کرنے کے لئے آیا اس نے ان سے کہا : کیا آپ ہمیں کوئی تلقین کرنا چاہیں گے جس کے بارے آپ یہ پسند کریں کہ ہم ویسا کریں انہوں نے دریافت کیا : تم ایسا کر لو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے جو کتوں کے بارے میں حکم اور دیگر امور پر مشتمل ہے ۔

9073

Majma al-Zawaid #9073

وَفِي رِوَايَةٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ إِمَامٍ يَبِيتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَعَرْفُهَا يُوجَدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ ثَابِتِ بْنِ نُعَيْمٍ الْهَوْجِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُنَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّرِيقِ الْأُولَى ثِقَاتٌ، وَفِي الثَّانِيَةِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

In a version, he heard the Prophet say. > **"No imam spending night betraying his subjects but Allah forbids him Paradise whose fragrance is found on Resurrection from seventy years' journey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو بھی حکمران ایسی حالت میں رات گزارتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دیدے گا حالانکہ اس کی خوشبو قیامت کے دن ستر برس کی مسافت سے محسوس ہو گی ‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے اپنے استاد ثابت بن نعیم ہو جی کے حوالے سے نقل کی ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے پہلے طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسرے طریق میں عبداللہ بن مغفل ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

9074

Majma al-Zawaid #9074

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَغَشَّهُمْ فَهُوَ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Whoever rules anything of the Muslims then betrays them is in Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے اور پھر ان کے ساتھ دھوکہ کرے وہ جہنم میں جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میسرہ ابولیلی ہے ‘ اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9075

Majma al-Zawaid #9075

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ وَلِيَ أُمَّةً مِنْ أُمَّتِي قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ فَلَمْ يَعْدِلْ فِيهِمْ كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maqil ibn Yasar, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Whoever rules any nation of my nation, few or many, and is not just among them, Allah shall hurl him on his face in Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص میری امت کے کسی بھی گروہ کا نگران بنے گا خواہ ان کی تعداد کم ہو یا زیادہ ہو اور پھر وہ ان لوگوں کے بارے میں عدل سے کام نہ لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اُس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9076

Majma al-Zawaid #9076

وَفِي رِوَايَةٍ فِي الصَّغِيرِ: " «فَلَمْ يَنْصَحْ لَهُمْ وَلَا يَجْتَهِدْ لَهُمْ كَنَصِيحَتِهِ وَجُهْدِهِ لِنَفْسِهِ» ".

EnglishUnverified translation

In al-Saghir version, if he is not sincere to them nor strives for them as for himself. > **"If he is not sincere to them nor strives for them as his sincerity and striving for himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معجم صغیر کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ وہ ان کے لئے خیرخواہی نہ کرے اور وہ ان کے لئے کوشش نہ کرے جس طرح وہ اپنی خیرخواہی کرتا ہے ‘ اور اپنی ذات کے لئے کوشش کرتا ہے ‘‘۔

9077

Majma al-Zawaid #9077

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: بَعَثَ عُمَرُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَلَى الْكُوفَةِ أَمِيرًا، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْعُدَ لَهُمْ وَلَا يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ، فَبَلَغَ عُمَرَ أَنَّهُ يَحْتَجِبُ عَنْهُمْ وَيُغْلِقُ الْبَابَ دُونَهُمْ، فَبَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَأَمْرَهُ إِنْ قَدِمَ وَالْبَابُ مُغْلَقٌ أَنْ يُشْعِلَهُ نَارًا، وَإِنْ كَانَ بُكْرَةً رَاحَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ عَشِيَّةً غَدَا بِهِ بُكْرَةً، فَقَدِمَ عَمَّارُ الْكُوفَةَ فَحَرَقَ عَلَيْهِ الْبَابَ وَأَشْخَصَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them both, report that Umar sent Sad ibn Abi Waqqas as ruler of Kufa ordering him to sit for them and not veil. News reached Umar that he veiled and closed the door, so he sent Ammar ibn Yasir ordering if the door is closed to burn it, whether morning or evening. Ammar came to Kufa, burned his door and removed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا امیر بنا کر بھیجا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے لئے بیٹھ جایا کریں اور وہ ان کے لئے پردے میں نہ رہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ لوگوں کو چھوڑ کر پردے میں رہتے ہیں اور دروازہ بند رکھتے ہیں ( یعنی لوگوں سے ملتے نہیں ہیں ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا جب وہ ( ان کے گھر ) آئیں اور اس وقت دروازہ بند ہو تو ان کے گھر کو آگ لگا دیں اگر صبح کا وقت ہو تو ایسا کر لیں شام کا وقت ہو تو اگلے دن صبح ایسے کریں جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو انہوں نے وہ دروازہ جلا دیا اور ( واپس ) روانہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

9078

Majma al-Zawaid #9078

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ بِالشَّامِ وَحَوْلَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ جُلُوسٌ فَقَالَ: يَا عُمَرُ. فَقَالَ: هَا أَنَا عُمَرُ. فَقَالَ لَهُ بِلَالٌ: إِنَّكَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ، وَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ اللَّهِ أَحَدٌ، فَانْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَكَ إِنْ يَأْكُلُونَ، إِلَّا لُحُومَ الطَّيْرِ قَالَ: صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا حَتَّى تَكْفُلُوا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُ وَحَظَّهُ مِنَ الزَّيْتِ وَالْخَلِّ. فَقَالُوا: هَذَا إِلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الرِّزْقِ وَأَكْثَرَ مِنَ الْخَيْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reports that Bilal came to Umar ibn al-Khattab in Sham surrounded by commanders and said, O Umar. He answered, here is Umar. Bilal said, you are between Allah and these, none between you and Allah. Look right, left, before, behind. These around you eat but bird meat. He said, true, by Allah I shall not rise till you guarantee each Muslim his food and share of oil and vinegar. They said, this is yours O Amir al-Muminin, Allah has widened provision for you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو اس وقت شام میں موجود تھے اور ان کے اردگرد لشکروں کے امیر بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : اے حضرت عمر ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہاں ہوں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ اللہ تعالیٰ اور ان لوگوں کے درمیان ہیں لیکن آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نہیں ہے ‘ تو آپ اپنے دائیں طرف بھی دیکھیں اور بائیں طرف بھی دیکھیں اور آپ آگے بھی جائزہ لیں اور پیچھے بھی دیکھیں یہ لوگ جو آپ کے اردگرد موجود ہیں یہ لوگ صرف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ہے اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں اٹھوں گا ‘ جب تک تم لوگ اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ مسلمانوں کے ہر فرد کو اس کا کھانا اور زیتون اور سرکہ میں سے اس کا حصہ ملے گا ان لوگوں نے کہا : اے امیرالمؤمنین آپ کو یہ چیز ملتی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق میں وسعت عطا کی ہے ‘ اور زیادہ بھلائی عطا کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن احمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہیں ۔

9079

Majma al-Zawaid #9079

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ أُعَلِّمُكُمْ كِتَابَ رَبِّكُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَأُنَظِّفُ لَكُمْ طُرُقَكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, said, the Commander of the Believers sent me to teach you your Lord's Book and your Prophet's practice and clear your roads.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیرالمومنین نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت کی تعلیم دوں اور تمہارے راستوں کو تمہارے لئے صاف کر دوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9080

Majma al-Zawaid #9080

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ قَالَ: أَتَيْتُ نُعَيْمَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَإِذَا فِيهَا: مِنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّا عَهِدْنَاكَ، وَأَمْرُ نَفْسِكَ لَكَ مُهِمٌّ فَأَصْبَحْتَ وَقَدْ وَلِيتَ أَمْرَ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدَيْكَ الْوَضِيعُ وَالشَّرِيفُ، وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حَظُّهُ مِنَ الْعَدْلِ، فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ، فَإِنَّا نُحَذِّرُكَ يَوْمًا تُعْنَى فِيهِ الْوُجُوهُ، وَتَنْقَطِعُ فِيهِ الْحُجَجُ لِحُجَّةِ مَلِكٍ قَاهِرٍ قَدْ قَهَرَهُمْ بِجَبَرُوتِهِ، وَالْخَلْقُ دَاخِرُونَ لَهُ يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آخِرِ زَمَانِهَا سَيَرْجِعُ إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَنْزِلَ كِتَابُنَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِنَا فَإِنَّا إِنَّمَا كَتَبْنَا بِهِ نَصِيحَةً لَكَ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ: مِنْ عُمَرَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، سَلَامٌ عَلَيْكُمَا أَمَّا بَعْدُ: أَتَانِي كِتَابُكُمَا تَذْكُرَانِ أَنَّكُمَا عَهِدْتُمَانِي، وَأَمْرُ نَفْسِي لِي مُهِمٌّ، فَأَصْبَحْتُ وَقَدْ وَلِيتُ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحْمَرِهَا وَأَسْوَدِهَا، يَجْلِسُ بَيْنَ يَدِي الْوَضِيعُ وَالشَّرِيفُ، وَالْعَدُوُّ وَالصَّدِيقُ، وَلِكُلٍّ حَظُّهُ مِنَ الْعَدْلِ، وَكَتَبْتُمَا: فَانْظُرْ كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ لِعُمَرَ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ. وَكَتَبْتُمَا لِي تُحَذِّرَانِي مَا حُذِّرَتْ بِهِ الْأُمَمُ قَبْلَنَا قَدِيمًا وَإِنْ كَانَ اخْتِلَافَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ (بِآجَالِ النَّاسِ يُقَرِّبَانِ كُلَّ بَعِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ جَدِيدٍ، وَيَأْتِيَانِ بِكُلِّ مَوْعُودٍ، حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ) وَكَتَبْتُمَا تُحَذِّرَانِي أَنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيَرْجِعُ فِي آخِرِ زَمَانِهَا إِلَى أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءَ السَّرِيرَةِ، وَلَسْتُمْ بِأُولَئِكَ وَلَيْسَ هَذَا بِزَمَانِ ذَلِكَ، وَذَلِكَ زَمَانٌ تَظْهَرُ فِيهِ الرَّغْبَةُ وَالرَّهْبَةُ، يَكُونُ رَغْبَةُ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ لِصَلَاحِ دُنْيَاهُمْ. وَكَتَبْتُمَا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُنْزِلَ كِتَابَكُمَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِي نَزَلَ مِنْ قُلُوبِكُمَا وَأَنَّكُمَا كَتَبْتُمَاهُ نَصِيحَةً لِي وَقَدْ صَدَقْتُمَا فَلَا تَدَعَا الْكِتَابَ إِلَيَّ فَإِنَّهُ لَا غِنَى لِي عَنْكُمَا، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ وَصِيَّةُ أَبِي بَكْرٍ لِعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي بَابِ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Suqah reports that he came to Nuaym ibn Abi Hind who produced a document from Abu Ubaydah ibn al-Jarrah and Muadh ibn Jabal to Umar ibn al-Khattab, peace upon you, we knew you with self-concern, now you rule red and black of the nation, low and noble, foe and friend sit before you, each a share of justice, so consider yourself O Umar. We warn you a day faces humble, proofs severed before a conquering King's proof, creation submissive hoping mercy fearing punishment. We talked the nation's affair at latter times shall become open brothers secret foes, and we seek refuge that our letter lodge other than its heart place, written but as counsel. Umar wrote back, from Umar to Abu Ubaydah and Muadh, peace, your letter came reminding me of self-concern and my rule of this nation red and black. No might nor power for Umar therein but by Allah. You warn what nations before were warned, though night and day with people's terms near every far, bring every new and promised till people reach homes of Paradise and Fire. You warn the affair shall return to open brothers secret foes, but you are not they nor this its time, a time of desire and fear for worldly gain. You wrote seeking refuge I lodge your letter but where its heart, and you wrote as counsel, you spoke truth, so cease not writing me for I need you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سوقہ بیان کرتے ہیں : میں نعیم بن ابوہند کے پاس آیا انہوں نے ایک صحیفہ نکال کر مجھے دکھایا اس میں یہ تحریر تھا : ’’ یہ ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی طرف سے حضرت عمر بن خطاب کے نام ہے آپ کو سلام ہو ۔ اما بعد ! ہم آپ کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ آپ کی ذات کا معاملہ آپ کے لئے اہم ہے آپ کی یہ حالت ہے کہ آپ نبی اکرم ﷺ کی امت کے ہر سیاہ فام اور سفید فام کے معاملے کے نگران بن گئے ہیں آپ کے سامنے کم حیثیت کا شخص اور معزز شخص دشمن اور دوست ( ہر قسم کے لوگ ) بیٹھتے ہیں اور ہر ایک کا عدل میں سے حصہ ہوتا ہے ‘ تو آپ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اے حضرت عمر ! آپ اس وقت کیسے ہوتے ہیں ہم آپ کو اس دن سے ڈرنے کی تلقین کرتے ہیں جس میں چہرے لرزاں ہوں گے اور جس میں زبردست بادشاہ کی حجت کے سامنے تمام حجتیں ختم ہو جائیں گی وہ اپنی عظیم بادشاہی کی بنیاد پر لوگوں پر غلبہ ظاہر فرمائے گا ‘ اور مخلوق اس کے سامنے کمتر ہو گی ‘ وہ لوگ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوں گے ‘ اور اس کے عذاب سے ڈر رہے ہوں گے ہم لوگ یہ بات چیت کرتے ہیں کہ آخری زمانے میں اس امت کا معاملہ اس طرح ہو جائے گا کہ لوگ علانیہ کام کرنے والے ہوں گے پوشیدہ چیز کے دشمن ہوں گے ‘ تو ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ اس مکتوب کے ذریعے ہمارا جو مقصود ہے آپ اس کی بجائے کوئی اور مفہوم مراد لیں ہم نے آپ کی خیرخواہی کے لئے اسے تحریر کیا ہے ‘ اور آپ پر سلام ہو ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جواب لکھا : ’’ یہ عمر کی طرف سے ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کے نام ہے آپ دونوں پر سلام ہو ‘ اما بعد ! آپ دونوں کا مکتوب میرے پاس آیا آپ دونوں نے یہ نصیحت کی کہ آپ دونوں مجھے یہ تلقین کرنا چاہتے ہیں کہ میری ذات کا معاملہ میرے لئے اہمیت کا مالک ہے ‘ اور میری حالت یہ ہے کہ میں اس امت کے ہر سفید فام اور سیاہ فام کے معاملے کا نگران بن گیا ہوں ‘ اور میرے سامنے ہر کم حیثیت کا شخص اور معزز شخص اور ہر دشمن اور ہر دوست ( ہر قسم کا فرد ) بیٹھتا ہے ‘ اور ہر ایک کا عدل میں سے حصہ ہوتا ہے ‘ تو آپ دونوں نے یہ لکھا ہے کہ تم اس بات کا جائزہ لو کہ اے عمر تم ایسی حالت میں کیا کرتے ہو تو عمر کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے آپ دونوں نے مجھے لکھا ہے ‘ اور مجھے اس چیز سے بچنے کی تلقین کی ہے جس سے ہم سے پہلی امتوں کو بچنے کی تلقین کی گئی تھی اگرچہ رات اور دن کا اختلاف ہے ‘ لیکن لوگوں کی اجل دور کی چیز کو قریب کر دیتی ہے ‘ اور رات اور دن ہر نئی چیز لے آتے ہیں اور دونوں وہ چیز لے آتے ہیں جس کا وعدہ کیا گیا ہو یہاں تک کہ ایک وہ وقت آئے گا کہ جب لوگ جنت یا جہنم میں اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جائیں گے آپ دونوں نے مجھے خط لکھا اور مجھے اس بات سے بچنے کی تلقین کی کہ اس امت کا معاملہ عنقریب آخری زمانے میں اس صورت حال کی طرف جائے گا کہ لوگ اعلانیہ کام کریں گے پوشیدہ چیزوں سے بچ کے رہیں گے آپ لوگ وہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ زمانہ وہ زمانہ ہے ‘ یہ وہ زمانہ ہے جس میں رغبت ظاہر ہو گی اور ڈرنا ظاہر ہو گا بعض لوگوں کی رغبت دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے ہو گی آپ دونوں نے یہ لکھا ہے کہ آپ دونوں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ میں آپ دونوں کی تحریر کو اس کی بجائے کسی اور مقصد پر محمول کروں جو آپ کے دل میں ہے ‘ تو آپ دونوں نے خیرخواہی کے لئے اس کو لکھا ہے آپ دونوں نے سچ کہا ہے ‘ اور آئندہ بھی آپ دونوں مجھے اس طرح مکتوب لکھنا نہ چھوڑیں کیونکہ میں آپ دونوں سے بے نیاز نہیں ہوں ‘ باقی آپ دونوں پر سلام ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس صحیفے تک اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت گزر چکی ہے جو نبی اکرم ﷺ کے بعد خلفاء سے متعلق باب میں گزری ہے ۔

9081

Majma al-Zawaid #9081

عَنْ أَبِي عِنَبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تُحْرِجُوا أُمَّتِي اللَّهُمَّ مَنْ أَحْرَجَ أُمَّتِي فَانْتَقَمَ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Inabah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"Burden not my nation. O Allah, whoever burdens my nation, take vengeance from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعنبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کو حرج میں مبتلاء نہ کرو اے اللہ جو شخص میری امت کو حرج میں مبتلاء کرے ‘ تو اس سے انتقام لینا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9082

Majma al-Zawaid #9082

عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdad ibn al-Aswad and Abu Umamah, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger said. > **"When the ruler seeks suspicion among people he corrupts them."** Abu Umamah's narration is in Abu Dawud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب امیر لوگوں میں مشکوک ( یعنی پوشیدہ معاملات ) کو تلاش کرے گا ‘ تو انہیں خراب کر دے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9083

Majma al-Zawaid #9083

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd and Abu Umamah, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger said. > **"When the ruler seeks suspicion among people he corrupts them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب امیر لوگوں میں مشکوک ( پوشیدہ معاملات ) کو تلاش کرے گا ‘ تو انہیں خراب کر دے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9084

Majma al-Zawaid #9084

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا وَلِيَ أَحَدٌ وِلَايَةً إِلَّا بُسِطَتْ لَهُ الْعَافِيَةُ، فَإِنْ قَبِلَهَا بُسِطَتْ لَهُ وَتَمَّتْ لَهُ، وَإِنْ حَفَزَ عَنْهَا فُتِحَ لَهُ مَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ "". قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَفَزَ عَنْهَا؟ قَالَ: تَطْلُبُ الْعَثَرَاتِ وَالْعَوْرَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said, no one takes office but safety is spread for him. If he accepts it is spread and completed, if he shuns it what he cannot bear is opened. He was asked what shunning is, he said seeking slips and faults. > **"No one takes office but safety is spread for him. If he accepts it is spread and completed, and if he shuns it what he cannot bear is opened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جو شخص کسی عہدے کا نگران بنتا ہے ‘ اور اس کے لئے عافیت کو پھیلا دیا جاتا ہے ‘ تو اگر وہ اسے قبول کر لے گا ‘ تو اس کے لئے اسے پھیلایا جائے گا ‘ اور اس کے لئے اسے مکمل کیا جائے گا ‘ اور اگر وہ اس کو پس پشت ڈال دیتا ہے ‘ تو اس کے لئے وہ چیز کشادہ کر دی جائے گی جس کی اس میں طاقت نہیں ہو گی ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : لفظ حفز عنہا کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ ان کے لغزشوں اور پوشیدہ معاملات کی تفتیش کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9085

Majma al-Zawaid #9085

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَكْرَمَ سُلْطَانَ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي الدُّنْيَا أَكْرَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الدُّنْيَا أَهَانَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ: "" مَنْ أَهَانَ "" دُونَ: "" مَنْ أَكْرَمَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ: "" «الْإِمَامُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"Whoever honours Allah's sultan in this world, Allah honours him on Resurrection. Whoever degrades Allah's sultan in this world, Allah degrades him on Resurrection."** Al-Tirmidhi reports only the degrading part. Al-Tabarani adds at start, the imam is Allah's shade on earth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دنیا میں اللہ کے سلطان کی عزت افزائی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی عزت افزائی کرے گا ‘ اور جو شخص دنیا میں اللہ کے مقرر کردہ سلطان کی اہانت کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی اہانت کرے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ۔ لیکن انہوں نے اس میں سے صرف اہانت والا حصہ نقل کیا ہے عزت افزائی والا حصہ نقل نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ امام زمین میں اللہ کا سایہ ہوتا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9086

Majma al-Zawaid #9086

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مِنْ إِكْرَامِ جَلَالِ اللَّهِ إِكْرَامُ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ، وَالْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَحَامِلِ الْقُرْآنِ لَا يَغْلُو فِيهِ، وَلَا يَجْفُو عَنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَدُحَيْمٌ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"Of honouring Allah's majesty is honouring the grey Muslim, the just imam, and the Quran bearer who neither exaggerates therein nor shuns it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بوڑھے مسلمان کا احترام کیا جائے عادل حکمران کا اور قرآن کے عالم کا احترام کیا جائے اس میں غلو بھی نہ کیا جائے ‘ اور ان کے ساتھ زیادتی بھی نہ کی جائے ( یعنی اس میں کوتاہی بھی نہ کی جائے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیمان بن ابوجون ہے ‘ جسے ابن حبان اور دحیم نے ثقہ قرار دیا ہے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9087

Majma al-Zawaid #9087

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: "" أَلَا إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبُ فَيَلِيَكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِي يَعْمَلُونَ مَا تَعْمَلُونَ وَيَعْمَلُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَطَاعَةُ أُولَئِكَ طَاعَةٌ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي أَئِمَّةِ الْجَوْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger addressed them saying in his sermon. > **"I am soon called and shall answer. Workers after me shall rule you doing what you do and what you know, and obedience to them is obedience."** The full narration is in unjust rulers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے اپنے خطبے کے دوران ہمیں یہ ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا ‘ اور مجھے جانا ہو گا میرے بعد تم لوگوں کے اہلکار ایسے آئیں گے جو وہ عمل کریں گے جو تم عمل کرتے ہو گے اور وہ عمل کریں گے جسے تم معروف سمجھتے ہو گے ‘ تو ان لوگوں کی فرمانبرداری ہی صحیح فرمانبرداری ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ مکمل روایت ظالم حکمرانوں سے متعاق باب میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن علی مروزی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔

9088

Majma al-Zawaid #9088

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَلِلْأَئِمَّةِ عَلَيْكُمْ حَقًّا، مَا قَامُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا أَوْفُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"I have a right over you, and rulers have a right over you, as long as three stand: when mercy is sought they show mercy, when they judge they are just, when they covenant they fulfill. Whoever of them does not, upon him is curse of Allah, angels and all people. None of their obligatory or voluntary accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میرا تم پر حق ہے ‘ اور حکمرانوں کا بھی تم پر حق ہے ‘ جب تک وہ تین چیزیں قائم رکھیں جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو وہ رحم کریں اور جب وہ فیصلہ دیں ، تو انصاف سے کام لیں اور جب وہ عہد کریں ‘ تو اسے پورا کریں ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ایسے لوگوں کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9089

Majma al-Zawaid #9089

عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ قَوْمٍ مَشَوْا إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ لِيُذِلُّوهُ إِلَّا أَذَلَّهُمُ اللَّهُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا كَثِيرَ بْنَ أَبِي كَثِيرٍ التَّيْمِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"No folk marching to Allah's sultan to humiliate him but Allah humiliates them before Resurrection."** Many narrations on hearing and obeying shall come.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حکمران کی طرف چل کر جائیں تاکہ اسے ذلت کا شکار کریں ، تو قیامت کے دن سے پہلے اللہ تعالیٰ انہیں ذلت کا شکار کر دے گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف کثیر بن ابوکثیر تیمی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اطاعت و فرمانبرداری کے بارے میں بہت سی احادیث آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

9090

Majma al-Zawaid #9090

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ عَبَدَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ. وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ، وَسَمِعَ وَعَصَى فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said, whoever worships Allah associating none, establishes prayer, gives zakah, hears and obeys, Allah admits him by whichever of Paradise's eight gates He wills. Whoever worships, prays, gives zakah, but hears and disobeys, Allah has choice, if He wills He mercies him and if He wills He punishes. > **"Whoever worships Allah associating none, establishes prayer, gives zakah, hears and obeys, Allah admits him by whichever of Paradise's eight gates He wills. Whoever hears and disobeys, Allah has choice, if He wills He mercies him and if He wills He punishes him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے جس بھی دروازے سے وہ چاہے گا اسے داخل کر دے گا ‘ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے نماز قائم کرے زکوۃ ادا کرے لیکن نافرمانی کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بارے میں اختیار ہو گا ‘ اگر وہ چاہے گا ‘ تو اس پر رحم کر دے گا ‘ اور اگر چاہے گا ‘ تو اسے عذاب دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9091

Majma al-Zawaid #9091

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: «كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ: اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ، فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَنَا وَقَالَ: "" إِنَّهُ كَائِنٌ بِعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعَزِّرُهُ "". أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (أَنْ) لَا تَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ: (أَنْ) نَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَنُعَلِّمُ النَّاسَ السُّنَنَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A man reports that they carried goods for Abu Dharr intending to give, sought him at al-Rabadhah finding he sought Hajj permission, and met him at Mina. It was said Uthman prayed four, and it weighed heavily and he spoke harshly saying, I prayed with the Messenger two, with Abu Bakr and Umar two. Then Abu Dharr rose and prayed four. He was asked, you faulted Amir al-Muminin then did it. He said, dissension is worse. The Messenger addressed them saying there shall be a sultan after me, humiliate him not. Whoever seeks to humiliate him casts Islam's yoke from his neck, his repentance unaccepted till he mends its breach, which he shall not, then returns among its strengtheners. The Messenger ordered them not to be overcome in three: commanding good, forbidding evil, teaching people the practices. > **"There shall be a sultan after me, so humiliate him not. Whoever seeks to humiliate him casts Islam's yoke from his neck. I command you not to be overcome in commanding good, forbidding evil and teaching the practices."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے لئے کچھ سامان لاد کر گئے ہمارا یہ ارادہ تھا کہ یہ انہیں دیں گے ‘ جب ہم ربذہ آئے ‘ اور ان کے بارے میں دریافت کیا : ‘ تو وہ ہمیں نہیں ملے اور ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ حج کے لئے تشریف لے گئے ہیں ہم شہر آ گئے یعنی منی آ گئے ‘ ایک مرتبہ ہم ان کے پاس موجود تھے انہیں بتایا گیا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعت ادا کر لیں ہیں ، تو انہوں نے شدید ناگواری کا اظہار کیا اور اس بارے میں انہوں نے سخت کلمات کہے ‘ اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دو رکعت ادا کی تھیں اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ( انہوں نے بھی دو رکعت ہی ادا کی تھیں ) پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ اور انہوں نے چار رکعت ادا کر لیں ان سے کہا گیا آپ نے پہلے امیرالمؤمنین پر اس حوالے سے اعتراض کیا تھا ‘ اور پھر خود وہی کام کر لیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : ( حاکم وقت سے ) اختلاف کرنا زیادہ شدت والا کام ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد حکمران ہوں گے ‘ تم انہیں ذلت کا شکار نہ کرنا جو شخص انہیں ذلت کا شکار کرنے کا ارادہ کرے گا وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دے گا ایسے شخص کی ‘ توبہ قبول نہیں ہو گی جب تک وہ اپنے بنائے ہوئے شگاف کو پر نہیں کرتا اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا اور پھر وہ شخص واپس آئے ‘ اور ان لوگوں میں شامل ہو جائے جو اس حکمران کا ساتھ دیتے ہیں ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم تین چیزوں کے حوالے سے مغلوب نہ ہوں ہم نیکی کا حکم دیں ہم برائی سے منع کریں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم دیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9092

Majma al-Zawaid #9092

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ عَمِلَ لِلَّهِ فِي الْجَمَاعَةِ فَأَصَابَ، قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ وَإِنْ أَخْطَأَ غَفَرَ لَهُ، وَمَنْ عَمِلَ يَبْتَغِي الْفُرْقَةَ فَأَصَابَ لَمْ يَتَقَبَّلِ اللَّهُ وَإِنْ أَخْطَأَ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"Whoever works for Allah in unity and is right, Allah accepts from him, and if mistaken He forgives. Whoever works seeking division and is right, Allah accepts not, and if mistaken let him take his seat in Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جماعت میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا ہے ‘ اور وہ درست کام کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرے گا ‘ اور اگر اس نے غلطی کی ہو گی ، تو اس کی مغفرت کر دے گا ‘ اور جو شخص ( مسلمانوں میں ) علیحدگی پیدا کرنے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اگرچہ وہ کام ٹھیک ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا ‘ اور اگر اس نے غلطی کی ہو گی ‘ تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید حنفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

9093

Majma al-Zawaid #9093

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ السَّامِعَ الْمُطِيعَ لَا حُجَّةَ عَلَيْهِ وَإِنَّ السَّامِعَ الْعَاصِي لَا حُجَّةَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: خَطَّ أَبِي عَلَى هَذِهِ الزِّيَادَةِ فَلَا أَدْرِي قَرَأَهَا عَلَيَّ أَمْ لَا؟ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا جَبْلَةَ بْنَ عَطِيَّةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"The hearing obedient has no proof against him, and the hearing disobedient has no proof for him."** Abdullah said his father marked this addition doubting its reading.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ سننے والا اور اطاعت کرنے والا ‘ اس کے خلاف کوئی حجت نہیں ہو گی اور سننے والا اور نافرمانی کرنے والا اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد نے اس اضافے پر لکیر لگا دی تھی مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے سامنے اس کو پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

9094

Majma al-Zawaid #9094

وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ مَمْطُورٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَرَاهُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ: آمُرُكُمْ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ رَأَسِهِ، وَمَنْ دَعَا دُعَاءَ جَاهِلِيَّةٍ فَهُوَ مِنْ جَثَا جَهَنَّمَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ: "" وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، وَلَكِنْ تَسَمَّوْا بِاسْمِ اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمُ (عِبَادَ اللَّهِ) الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَلِيَّ بْنَ إِسْحَاقَ السُّلَمِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «فَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ قَوْسٍ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاةٌ وَلَا صِيَامٌ، وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ» "".

EnglishUnverified translation

Abu Sallam Mamtur reports from a Companion, likely Abu Malik al-Ashari, may Allah be pleased with him, that the Messenger said. > **"I command you five: hearing and obedience, unity, migration and jihad in Allah's path. Whoever leaves unity a span casts Islam's yoke from his head. Whoever calls a call of ignorance is of Hell's throng."** They said, O Messenger, though he fasts and prays. He said, though he fasts and prays, but name yourselves by Allah's name who named you His servants, Muslims, believers. Al-Tabarani adds, whoever parts unity a bow's span, no prayer nor fasting accepted, they are fuel of Fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلام ممطور ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میرا خیال ہے وہ حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں میں تمہیں اطاعت و فرمانبرداری کرنے جماعت کے ساتھ رہنے ہجرت کرنے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہوں جو شخص جماعت سے ایک بالشت نکل جائے گا وہ اپنے سر سے اسلام کا پٹہ الگ کر دے گا ‘ اور جو شخص زمانہ جاہلیت کی طرح پکارے گا ‘ تو وہ جہنم میں جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو لیکن تم اپنے آپ کو اس نام سے پکارو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام رکھا ہے اس نے تمہیں اللہ کے بندوں ، مسلمانوں اور مؤمنوں کا نام دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صبح کے رجال ہیں صرف علی بن اسحاق سلمی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص جماعت سے ایک کمان جتنا الگ ہو گا اس کی کوئی نماز یا روزہ قبول نہیں ہو گا ‘ اور یہی لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ‘‘۔

9095

Majma al-Zawaid #9095

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ (وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ): آمُرُكُمْ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِالطَّاعَةِ جَمِيعًا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ عَلَى ذَلِكَ، وَأَنْ تَنَاصَحُوا وُلَاةَ الْأَمْرِ (مِنَ) الَّذِينَ يَأْمُرُونَكُمْ (بِأَمْرِ اللَّهِ). وَأَنْهَاكُمْ عَنْ قِيلٍ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مُقَارِبُ الْحَالِ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"I command you three and forbid you three: command you to associate none with Allah, hold to obedience altogether till Allah's order comes while upon it, and counsel your rulers who command you by Allah's order. Forbid you hearsay, much questioning and wasting wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میں تمہیں تین چیزوں کا حکم دیتا ہوں ‘ اور میں تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دو اور تم سب اطاعت کو مضبوطی سے تھام لو ! یہاں تک کہ تمہارے پاس اللہ کا حکم آ جائے ‘ اور تم اسی حالت میں ہو اور تم حکمرانوں کی خیرخواہی کرو ان لوگوں کی جو تمہیں اللہ کے حکم کے مطابق حکم دیتے ہیں اور میں تمہیں قیل و قال کرنے بکثرت ( غیر ضروری ) سوالات کرنے اور مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحال ہے امام نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

9096

Majma al-Zawaid #9096

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "" «أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

A man reports that he reached the Prophet while he said. > **"O people, upon you is unity, and beware division."** Thrice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ یہ فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ‘ اور تم پر علیحدگی سے بچنا لازم ہے ‘‘۔ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے زکریا بن سلام نے اپنے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

9097

Majma al-Zawaid #9097

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ - أَوْ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ -: "" مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ وَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ وَتَرْكُهَا كُفْرٌ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ». قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ: عَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ. قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ؟ فَنَادَى أَبُو أُمَامَةَ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ: {فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ} [النور: 54]. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said upon these sticks or this minbar. > **"Whoever thanks not little thanks not much. Whoever thanks not people thanks not Allah. Speaking of Allah's blessing is thanks, leaving it ingratitude. Unity is mercy and division punishment."** Abu Umamah al-Bahili said, upon you is the great multitude. Asked what it is, he recited the verse of al-Nur, if they turn, upon him is what he is charged and upon you what you are charged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لکڑیوں پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ جو شخص تھوڑے کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں بات چیت کرنا شکر ہے ‘ اور اس ( نعمت کے اظہار و اعتراف ) کو ترک کرنا کفر ہے ‘ اور جماعت رحمت ہے ‘ اور فرقہ بندی عذاب ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے ایک صاحب نے دریافت کیا : سواد اعظم سے مراد کیا ہے ؟ تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں یہ آیت تلاوت کی جو سورہ نور میں ہے : ’’ اگر وہ لوگ منہ موڑ لیتے ہیں ‘ تو اس ( رسول ) کے ذمہ وہ ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

9098

Majma al-Zawaid #9098

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمُ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمُ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمُ الْجُلُودُ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْوَلِيدُ صَاحِبُ عَبْدِ اللَّهَ الْبَهِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"There shall be rulers over you whom hearts trust and skins soften to, then rulers over you from whom hearts recoil and skins shudder."** A man asked, shall we fight them O Messenger. He said, no, as long as they establish prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جن سے تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری کھالیں ان کے لئے نرم ہوں گی پھر ایسے حکمران آئیں گے کہ جن سے تمہارے دل غیر مطمئن ہوں گے اور تمہاری کھالیں ان سے لرزاں ہوں گی ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کے ساتھ جنگ کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! جب تک وہ نماز قائم کرتے ہیں ( تم ان کے ساتھ جنگ نہ کرو ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوولید ہے جو عبداللہ بہی کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9099

Majma al-Zawaid #9099

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ، وَثَلَاثَةٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَجْمَعْ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"Two are better than one, three better than two, four better than three. Upon you is unity, for Allah shall not gather my nation but upon guidance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ دو ‘ ایک سے بہتر ہوتے ہیں اور تین ‘ دو سے بہتر ہوتے ہیں اور چار ‘ تین سے بہتر ہوتے ہیں ، تو تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو صرف ہدایت پر ہی اکٹھا رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بختری بن عبید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9100

Majma al-Zawaid #9100

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مَرْزُوقَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said. > **"My nation shall never agree upon error. Upon you is unity, for Allah's Hand is upon unity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو گی تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے بے شک اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف مرزوق کا معاملہ مختلف ہے جو آل طلحہ کا غلام ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

9101

Majma al-Zawaid #9101

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى الْجَمَاعَةِ، فَإِذَا شَذَّ الشَّاذُّ مِنْهُمُ اخْتَطَفَهُ الشَّيْطَانُ كَمَا يَخْتَطِفُ الذِّئْبُ الشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Sharik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Allah's Hand is upon unity. When one strays, Satan snatches him as the wolf snatches the sheep from the flock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہوتا ہے ‘ اور جب ان میں سے کوئی الگ ہونے والا الگ ہوتا ہے ‘ تو شیطان اسے اچک لیتا ہے جیسے بھیڑیا ‘ ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری کو اچک لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9102

Majma al-Zawaid #9102

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» ".

EnglishUnverified translation

Muawiyah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Whoever dies without an imam dies an ignorant death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص امام کے بغیر مر جائے ( یعنی ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی امام کا پیروکار نہ ہو ) تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ‘‘۔

9103

Majma al-Zawaid #9103

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In a version, whoever dies without a pledge on his neck dies an ignorant death. > **"Whoever dies without a pledge on his neck dies an ignorant death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو ‘ تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔

9104

Majma al-Zawaid #9104

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَيْتُ حُجْرَ بْنَ عَدِيٍّ حِينَ أَخَذَهُ مُعَاوِيَةُ يَقُولُ: هَذِهِ بَيْعَتِي لَا أُقِيلُهَا وَلَا أَسْتَقِيلُهَا سَمَاعَ اللَّهِ وَالنَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq reports that he saw Hujr ibn Adi when Muawiyah seized him saying, this is my pledge I neither rescind nor seek rescission, in hearing of Allah and people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑا تو وہ یہ کہہ رہے تھے : یہ میری بیعت ہے نہ ‘ تو میں اسے واپس کر رہا ہوں اور نہ ہی میں اس کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہوں ‘ اور یہ بات اللہ تعالیٰ بھی سن رہا ہے ‘ اور لوگ بھی سن رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9105

Majma al-Zawaid #9105

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيَلِيكُمْ بَعْدِي وُلَاةٌ فَيَلِيكُمُ الْبَرُّ بِبِرِّهِ، وَالْفَاجِرُ بِفُجُورِهِ، فَاسْمَعُوا لَهُمْ وَأَطِيعُوا فِي كُلِّ مَا وَافَقَ الْحَقَّ، وَصَلُّوا وَرَاءَهُمْ فَإِنْ أَحْسَنُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَسَاؤُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"Rulers after me shall rule you, righteous by his righteousness and wicked by his wickedness. Hear and obey them in all accordant with truth. Pray behind them. If they do good, for you and them, and if evil, for you and upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب میرے بعد کچھ لوگ تمہارے حکمران بنیں گے نیک شخص اپنی نیکی کے ہمراہ اور گناہ گار شخص اپنے گناہ کے ہمراہ تمہارا نگران بنے گا ‘ تو تم لوگ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہر اس چیز کے بارے میں ، جو حق کے مطابق ہو اور ان کے پیچھے نماز ادا کرنا اگر وہ اچھائی کریں گے ‘ تو تمہیں اس کا بدلہ ملے گا ‘ اور انہیں بھی اس کا اجر ملے گا ‘ اور اگر وہ برائی کریں گے ‘ تو تمہیں اجر مل جائے گا ‘ اور ان پر و بال ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

9106

Majma al-Zawaid #9106

وَعَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ احْتَجَبَ فِي بَيْتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِ النَّاسِ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْمَعْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَيُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ.

EnglishUnverified translation

Yus archaeological reports that when Uthman was killed Abu Masud secluded in his house, and he asked him of people's affair. He said, upon you is unity, for Allah did not gather Muhammad's nation upon error. Be patient till a righteous rests and rest from a wicked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یسیر بن عمرو بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے لوگوں کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا : ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ نیک شخص راحت حاصل کرے یا برے شخص سے راحت حاصل ہو جائے ۔