Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 4

Book of the Caliphate

Hadith 9027–9066

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

9027

Majma al-Zawaid #9027

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى عَمَلٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خِرْ لِي؟ قَالَ: "" الْزَمْ بَيْتَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْفُرَاتُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger employed a man over a work who said, O Messenger choose for me. He said, stay in your house. > **"Stay in your house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کام کا اہلکار مقرر کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھر میں رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرات بن ابوفرات ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9028

Majma al-Zawaid #9028

وَعَنْ عِصْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خِرْ لِي؟ قَالَ: "" اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger employed a man over charity who said, O Messenger choose for me. He said, sit in your house. > **"Sit in your house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو زکوۃ کی وصولی کا اہلکار مقرر کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک صورت کو منتخب کر لیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھر میں بیٹھے رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9029

Majma al-Zawaid #9029

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الطَّائِيِّ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَبَعَثَ مَعَهُ مَعَ ذَلِكَ الْجَيْشِ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَسَرَاةَ أَصْحَابِهِ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا جَبَلِي طَيِّءٍ فَقَالَ عَمْرٌو: انْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ دَلِيلٍ بِالطَّرِيقِ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ رَبِيلًا، فَسَأَلْتُ طَارِقًا: مَا الرَّبِيلُ؟ قَالَ: اللِّصُّ الَّذِي يَغْزُو الْقَوْمَ وَحْدَهُ فَيَسْرِقُ. قَالَ رَافِعٌ: فَلَمَّا قَضَيْنَا غَزَاتَنَا وَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا خَرَجْنَا مِنْهُ تَوَسَّمْتُ أَبَا بَكْرٍ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا صَاحِبَ الْحَلَالِ إِنِّي تَوَسَّمْتُكَ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِكَ فَائْتِنِي بِشَيْءٍ إِذَا حَفِظْتُهُ كُنْتُ مِنْكُمْ وَمِثْلَكُمْ. فَقَالَ: أَتَحْفَظُ أَصَابِعَكَ الْخَمْسَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: اشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ إِنْ كَانَ لَكَ مَالٌ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، حَفِظْتَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: وَأُخْرَى: لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ. قُلْتُ: وَهَلْ تَكُونُ الْإِمْرَةُ إِلَّا فِيكُمْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ قَالَ: يُوشِكُ أَنْ تَفْشُوا حَتَّى تَبْلُغَكَ وَمَنْ هُوَ دُونَكَ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَّا بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّاسُ فِي الْإِسْلَامِ، فَمِنْهُمْ مَنْ دَخَلَ فَهَدَاهُ اللَّهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَكْرَهَهُ السَّيْفُ، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجِيرَانُ اللَّهِ فِي خِفَارَةِ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ أَمِيرًا فَتَظَالَمَ النَّاسُ بَيْنَهُمْ فَلَمْ يَأْخُذْ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ انْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُ، إِنِ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَتُؤْخَذُ شَاةُ جَارِهِ فَيَظَلُّ نَاتِئَ عَضَلَتِهِ غَضَبًا لِجَارِهِ وَاللَّهُ مِنْ وَرَاءِ جَارِهِ قَالَ رَافِعٌ: فَمَكَثْتُ سَنَةً، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتُخْلِفَ فَرَكَنْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَنَا رَافِعٌ كَنْتُ لَقِيتُكَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ: عَرَفْتُ قَالَ: كُنْتَ نَهَيْتَنِي عَنِ الْإِمَارَةِ ثُمَّ رَكَبْتَ أَعْظَمَ مِنْ ذَلِكَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: نَعَمْ فَمَنْ لَمْ يُقِمْ فِيهِمْ كِتَابَ اللَّهِ فَعَلَيْهِ بَهْلَةُ اللَّهِ - يَعْنِي لَعْنَةَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Amr al-Tai, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger sent Amr ibn al-As over Dhat al-Salasil with Abu Bakr, Umar and chief Companions till they camped at the mountains of Tayy, and Amr sought a guide known only as Rafi ibn Amr the thief raider. After the campaign he asked Abu Bakr for something to be of them, and he taught five on fingers: testimony, prayer, zakah if wealth, Hajj, fasting Ramadan, and another, command not even two. He asked, is command but among you Badr folk. He said, soon it shall spread to you and below, for when the Prophet was sent people entered Islam, some guided, some by sword, guests and neighbours of Allah. When a ruler lets people wrong one another and takes not for some from some, Allah avenges him. A man's neighbour's sheep is taken and he burns in anger for him, and Allah behind him. After a year Abu Bakr was made successor and he reminded him, you forbade command yet rode greatest of Muhammad's nation. He said yes, whoever establishes not Allah's Book among them, upon him is the curse of Allah. > **"Bear witness there is no god but Allah and Muhammad is His servant and Messenger, establish prayer, give zakah, perform Hajj, fast Ramadan. Command not even two. Whoever establishes not Allah's Book among them, upon him is the curse of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن عمرو طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ذات سلال کے لشکر کا امیر مقرر کر کے بھیجا آپ نے اس لشکر کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور جلیل القدر صحابہ کرام کو بھی بھیجا یہ لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ انہوں نے طے کے دو پہاڑوں کے درمیان پڑاؤ کیا ، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسے شخص کو ڈھونڈ لو جو راستے کے بارے میں رہنمائی کرے ‘ تو لوگوں نے کہا : ہمارے علم کے مطابق صرف رافع بن عمرو یہ کام کر سکتا ہے ‘ کیونکہ وہ ربیل ہے ( روایت کے ایک راوی کہتے ہیں : ) میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : ربیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : چور ‘ جو اکیلا لوگوں کے پاس جا کر چوری کر لیتا ہے ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے اپنی جنگی مہم مکمل کر لی اور میں اس مقام پر پہنچا جہاں سے میں نکلا تھا تو میں نے وہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا : جناب میں نے آپ کے ساتھیوں میں سے آپ کو پایا ہے کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں کہ جب میں اسے یاد کر لوں ‘ تو میں آپ میں سے ہو جاؤں اور آپ کی مانند ہو جاؤں انہوں نے فرمایا : کیا تم پانچ انگلیوں کے اوپر ( پانچ چیزیں ) یاد رکھ سکتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا : پھر تم یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم نماز ادا کرو اور تم زکوۃ ادا کرو اور اگر تمہارے پاس مال موجود ہو تو تم بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو ‘ کیا تم یاد رکھو گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : ایک اور بات بھی ہے کہ تم کبھی بھی دو آدمیوں پر امیر نہ بننا میں نے کہا : کیا امیر ہونا صرف آپ لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اہل بدر ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : ہو سکتا ہے کہ یہ آگے چل کے پھیل جائے یہاں تک کہ یہ تم تک بھی پہنچ جائے بلکہ تم سے نیچے کے افراد تک بھی پہنچ جائے اللہ تعالیٰ نے جب اپنے نبی کو مبعوث کیا ، تو لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے کہ جو اسلام میں داخل ہوئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی تھی ان میں سے کچھ ایسے افراد تھے جنہیں تلوار نے مجبور کیا تھا ، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اللہ تعالیٰ کے پڑوسی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں ہیں جب کوئی شخص امیر بنے اور لوگوں پر ظلم کرے اور ان میں سے ایک سے دوسرے کا حق نہ وصول کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے انتقام لے گا تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے پڑوسی کی بکری کی وجہ سے گرفت میں آ جائے گا کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ ناراضگی کی وجہ سے اس پر قبضہ رکھے گا حالانکہ اس کے پڑوسی سے پرے ‘ اللہ تعالیٰ بھی ہے ۔ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک سال گزر گیا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا میں ان کے پاس آیا میں نے کہا : میں رافع ہوں میری آپ سے فلاں فلاں جگہ پر ملاقات ہوئی تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے پہچان لیا ہے حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ‘ تو مجھے امیر بننے سے منع کرتے تھے اور آپ اس سے بڑے امیر بن گئے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ کی پوری امت کے امیر بن گئے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! جو شخص ان میں اللہ کی کتاب ( کے احکام ) کو برقرار نہیں رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی ’’ بہلت ہو گی راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ کی لعنت ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9030

Majma al-Zawaid #9030

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ أَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَأَلْتُهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ فَاسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ: أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا. فَقَالَ: أَمَا إِنِّي عَلَى مَا تَرَى وَجِعٌ، وَجَعَلْتُمْ لِيَ شُغْلًا مَعَ وَجَعِي، جَعَلْتُ لَكُمْ عَهْدًا مِنْ بَعْدِي، وَاخْتَرْتُ لَكُمْ خَيْرَكُمْ فِي نَفْسِي، فَكُلُّكُمْ وَرِمٌ لِذَلِكَ أَنْفُهُ، رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ لَهُ، وَرَأَيْتُ الدُّنْيَا أَقْبَلَتْ وَلَمَّا تُقْبِلُ وَهِيَ جَائِيَةٌ، وَسَتَجِدُونَ بُيُوتَكُمْ بِسُتُورِ الْحَرِيرِ وَنَضَائِدِ الدِّيبَاجِ، وَتَأْلَمُونَ ضَجَائِعَ الصُّوفِ الْأَذْرَبِيِّ كَأَنَّ أَحَدَكُمْ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ، وَاللَّهِ لَأَنْ يُقَدَّمَ أَحَدُكُمْ فَيُضْرَبَ عُنُقُهُ فِي غَيْرِ حَدٍّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسِيحَ فِي غَمْرَةِ الدُّنْيَا. ثُمَّ قَالَ: أَمَّا إِنِّي لَا آسَى عَلَى شَيْءٍ إِلَّا عَلَى ثَلَاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ، وَثَلَاثٌ لَمْ أَفْعَلْهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي فَعْلَتُهُنَّ وَثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُنَّ. فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّتِي وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ: فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ كَشَفْتُ بَيْتَ فَاطِمَةَ وَتَرَكْتُهُ، وَأَنْ أُغْلِقَ عَلَى الْحَرْبِ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ سَقِيفَةَ بَنِي سَاعِدَةَ قَذَفْتُ الْأَمْرَ فِي عُنُقِ أَحَدِ الرَّجُلَيْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَوْ عُمَرَ وَكَانَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَكُنْتُ وَزِيرًا، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ أَقَمْتُ بِذِي الْقَصَّةِ، فَإِنْ ظَفِرَ الْمُسْلِمُونَ ظَفِرُوا، وَإِلَّا كُنْتُ رِدْءًا وَمَدَدًا. وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُهَا: فَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْأَشْعَثِ أَسِيرًا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ لَا يَكُونُ شَرٌّ إِلَّا طَارَ إِلَيْهِ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أَتَيْتُ بِالْفُجَاةِ السُّلَمِيِّ لَمْ أَكُنْ أَحْرَقْتُهُ وَقَتَلْتُهُ سَرِيحًا أَوْ أَطْلَقْتُهُ نَجِيحًا، وَوَدِدْتُ أَنِّي حِينَ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الشَّامِ وَجَّهْتُ عُمَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَكُونُ قَدْ بَسَطْتُ يَمِينِي وَشِمَالِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ. وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُنَّ: فَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ فَيْمَنْ هَذَا الْأَمْرُ؟ فَلَا يُنَازِعُهُ أَهْلَهُ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ: هَلْ لِلْأَنْصَارِ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَبَبٌ؟ وَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنِ الْعَمَّةِ وَبِنْتِ الْأَخِ فَإِنَّ فِي نَفْسِي مِنْهُمَا حَاجَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهَذَا الْأَثَرُ مِمَّا أُنْكِرَ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Awf, may Allah be pleased with him, reports that he visited Abu Bakr in his fatal illness asking how he is, and he sat upright praising Allah well, yet in pain burdened with their charge, having covenanted after him choosing their best while each coveted it. He saw the world advancing with silk curtains and brocade and woollen beds as thorns of sadan, and by Allah one's neck struck without hadd is better than plunging in worldliness. He regretted three done wishing undone: uncovering Fatimah's house, closing upon war, casting the affair at Saqifah upon Abu Ubaydah or Umar while minister. He regretted three undone wishing done: striking al-Ashath captive, sparing al-Fujah al-Sulami, sending Umar to Iraq with Khalid to Sham. He regretted three unasked of the Messenger: in whom is this affair that none dispute its folk, have Ansar a share therein, and the paternal aunt and brother's daughter of which he had need.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس بیماری کے دوران ‘ ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا جس بیماری کے دوران کا انتقال ہو گیا تھا میں نے انہیں سلام کیا ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا حال ہے ‘ تو وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے انہوں نے کہا الحمدللہ اب میں بہتر ہوں انہوں نے فرمایا : مجھے جو تکلیف ہے وہ تم دیکھ رہے ہو اور اس تکلیف کے باوجود تم لوگوں نے مجھے ایک مصروفیت دی ہے میں نے تم لوگوں کے لئے اپنے بعد ایک عہد طے کیا ہے ‘ اور تمہارے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو میرے نزدیک تم میں سب سے بہتر ہے حالانکہ تم میں سے ہر ایک شخص حکومت میں دلچپسی رکھتا ہے ‘ یہ امید رکھتے ہوئے کہ حکومت اس کو مل جائے میں نے دنیا کو دیکھا کہ وہ آ رہی ہے ‘ اور جب وہ آ رہی ہے تو سمجھ لو آ چکی ہے ‘ عنقریب تم اپنے گھروں کو ریشم کے پردوں اور دیباج کے کپڑوں کے ذریعے آراستہ کر لو گے اور اذربی اون کے بچھونوں سے تمہیں یوں الجھن ہو گی جس طرح کسی کو سعد ان کے کانوں پر رکھ دیا گیا ہے اللہ کی قسم ! تم میں سے کسی ایک شخص کو آگے کر کے کسی جرم کے بغیر اس کی گردن اڑا دی جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ دنیا میں ڈوب جائے پھر انہوں نے فرمایا : مجھے کسی بھی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا تین چیزوں پر ہے جو میں نے کی تھیں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ‘ اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ میں نے وہ نہیں کی ہیں ‘ میری یہ خواہش تھی کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں اور تین ایسی چیزوں پر افسوس ہے کہ جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کر لیا ہوتا جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ نہ کی ہوتیں ، تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پردے کو نہ ہٹایا ہوتا اور اسے چھوڑ دیا ہوتا اور یہ کہ میں نے لڑائی کو بند کر دیا ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ بنو سقیفہ بنو ساعدہ کے دن میں نے حکومت کا معاملہ ابوعبیدہ یا عمر ‘ ان دونوں میں سے کسی ایک کی گردن میں ڈال دیا ہوتا وہ امیرالمؤمنین ہوتا اور میں وزیر ہوتا اور میری یہ خواہش ہے کہ جب میں نے خالد بن ولید کو مرتدین کی طرف بھیجا تھا تو میں خود زوالقصہ میں ٹھہر جاتا اگر مسلمان کامیاب ہو جاتے ‘ تو ہو جاتے ورنہ میں ان کو کمک پہنچانے اور مدد کرنے کے لئے موجود ہوتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے کہ جن کی میری یہ خواہش ہے کہ میں نے وہ کر لی ہوتیں تو میری یہ خواہش ہے کہ جس دن میرے پاس اشعث کو قیدی بنا کر لایا گیا تھا اس دن میں نے اس کی گردن اڑا دی ہوتی کیونکہ مجھے یہ خیال آیا تھا کہ جو بھی خرابی ہو گی وہ اس کی طرف جائے گا ‘ اور میری یہ خواہش تھی کہ جس دن فجاة سلمی کو میرے پاس لایا گیا تھا میں نے اسے جلا دیا نہ ہوتا بلکہ آرام سے قتل کر دیا ہوتا یا اسے چھوڑ دیتا اور میری یہ خواہش تھی کہ جب میں نے خالد بن ولید کو شام کی طرف بھیجا تھا تو عمر کو عراق کی طرف بھیج دیتا تو یوں میں اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں کو اللہ کی راہ میں پھیلا دیتا ۔ جہاں تک ان تین چیزوں کا تعلق ہے جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ان کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا تو میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ دریافت کر لیا ہوتا کہ حکومت کس کو ملے گی ؟ تاکہ کوئی شخص اس کے اہل شخص سے تنازع نہ کرتا اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کر لیا ہوتا کیا حکومت میں انصار کا بھی کوئی حصہ ہو گا ‘ اور میری یہ خواہش ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پھوپھی اور بھتیجی ( کی وراثت ) کے بارے میں دریافت کیا ہوتا کیونکہ ان دونوں کے حوالے سے میرے ذہن میں ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علوان بن داؤد بجلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور یہ اصل ان روایات میں سے ہے جنہیں منکر قرار دیا گیا ہے ۔

9031

Majma al-Zawaid #9031

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعْتُهُ فَبَلَغَنِي: أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُرْسِلَ جَيْشًا إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّ الْجَيْشَ وَأَنَا لَكَ بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ. قَالَ: "" افْعَلْ "". فَكَتَبْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَتَى وَفْدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِهِمْ وَطَاعَتِهِمْ. فَقَالَ: "" يَا أَخَا صُدَاءٍ إِنَّكَ لَمُطَاعٌ فِي قَوْمِكَ؟ "". قُلْتُ: بَلْ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِمْ. قَالَ: "" أَفَلَا أُؤَمِّرُكَ عَلَيْهِمْ؟ "" قُلْتُ: بَلَى. فَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ فَكَتَبَ لِي بِذَلِكَ كِتَابًا، وَسَأَلْتُهُ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ فَفَعَلَ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ [فَنَزَلَ مَنْزِلًا]، فَأَعْرَسْنَا مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَلَزِمْتُهُ وَجَعَلَ أَصْحَابِي يَتَقَطَّعُونَ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ رَجُلٌ غَيْرِي، فَلَمَّا تَحَيَّنَ الصُّبْحُ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَخَا صُدَاءٍ أَمَعَكَ مَاءٌ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ. قَالَ: "" صُبَّهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ "" [فَأَتَيْتُهُ] فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَرَأَيْتُ بَيْنَ كُلِّ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ، قَالَ: "" يَا أَخَا صُدَاءٍ لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّيَ لَسَقَيْنَا وَاسْتَسْقَيْنَا، نَادِ فِي النَّاسِ مَنْ يُرِيدُ الْوُضُوءَ؟ "" قَالَ: فَاغْتَرَفَ مَنِ اغْتَرَفَ وَجَاءَ بِلَالٌ لِيُقِيمَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ "" فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ أَتَاهُ أَهْلُ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ وَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَنَا بِمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ [وَأَنَا فِيهِمْ] وَقَالَ: "" لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ "" فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِي وَأَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ فَقَالَ: "" مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَهُوَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ "" فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَاتِ. فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَرْضَ فِي الصَّدَقَاتِ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ حَتَّى جَعَلَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ "" فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْ إِمَارَتَكَ فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا. قَالَ: "" وَلِمَ؟ "" قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: "" لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ "" وَقَدْ آمَنْتُ وَسَمِعْتُكَ تَقُولُ: "" مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ "" وَقَدْ سَأَلْتُكَ وَأَنَا غَنِيٌّ. قَالَ: "" هُوَ ذَاكَ فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ وَإِنْ شِئْتَ فَدَعْ "". قَالَ: قُلْتُ: بَلْ أَدَعُ. قَالَ: "" فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُوَلِّيهِ "". فَدَلَلْتُهُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْوَفْدِ فَوَلَّاهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا بِئْرًا إِذَا كَانَ الشِّتَاءُ وَسِعَنَا مَاؤُهَا فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهَا، وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مَاؤُهَا فَتَفَرَّقْنَا عَلَى مِيَاهِ مَنْ حَوْلَنَا، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ الْيَوْمَ أَنْ نَتَفَرَّقَ كُلُّ مَنْ حَوْلَنَا عَدُوٌّ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسَعَنَا مَاؤُهَا. قَالَ: فَدَعَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَفَرَكَهُنَّ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَقَالَ: "" إِذَا أَتَيْتُمُوهَا فَأَلْقُوا وَاحِدَةً [وَاحِدَةً] وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ "". فَمَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى قَعْرِهَا بَعْدُ». قُلْتُ: فِي السُّنَنِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَرَدَّ عَلَى مَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ziyad ibn al-Harith al-Sudai, may Allah be pleased with him, reports that he pledged the Prophet and hearing he would send an army to his folk guaranteed their Islam and obedience. He wrote them and a delegation came. He asked, O brother of Suda, are you obeyed among them, he said rather Allah guided them. He said, shall I appoint you over them, he said yes, and wrote it granting their charity. On a journey he stayed with him alone till dawn, he called adhan, was asked for water little not sufficing, poured in a vessel, the Prophet placed his hand and springs flowed between fingers saying, O brother of Suda, were I not shy of my Lord we would drink and water. Call who wishes ablution. Bilal came to iqamah and he said, the brother of Suda called, and who calls makes iqamah. After Fajr locals complained of their agent's pre-Islamic grudge, and he told Companions, no good in leadership for a believing man. It entered his heart, and a beggar asked and he said begging in richness is headache, so he returned his paper. The Prophet accepted, and part is in the Sunan. > **"O brother of Suda, are you obeyed among your folk. Pour it in the vessel. The brother of Suda called, and who calls makes iqamah. No good in leadership for a believing man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کی بیعت کی ( یعنی آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ) مجھے یہ اطلاع ملی کہ آپ میری قوم کی طرف کوئی لشکر روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لشکر کو روک لیں میں آپ کو ان کے اسلام اور فرما برداری کی ضمانت دیتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے اپنی قوم کو خط لکھا ان لوگوں کا وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے اور فرمانبرداری کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے صداء قبیلے کے فرد تمہاری قوم میں تمہاری بات مانی جاتی ہے میں نے عرض کی : جی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کی ہے ‘ اور ان کے ساتھ اچھائی کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر نہ کر دوں ؟ میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے ان لوگوں کا امیر مقرر کر دیا اور اس بارے میں آپ نے میرے لئے تحریر لکھوا دی میں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران بھی بنا دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ایسا بھی کر دیا ایک دن سفر کے دوران نبی اکرم ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ہوا تھا ہم لوگوں نے رات کے ابتدائی حصہ میں پڑاؤ کر لیا تھا میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا میرے ساتھی ادھر ادھر چلے گئے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میرے علاوہ اور کوئی فرد نہیں رہا جب صبح صادق کا وقت ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا میں نے اذان دی پھر آپ نے دریافت کیا : اے صداء قبیلے کے فرد ! کیا تمہارے پاس پانی ہے میں نے عرض کی : جی ہاں تھوڑا سا ہے وہ آپ کے لئے کفایت نہیں کرے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو برتن میں ڈالو اور پھر میرے پاس لے آؤ میں اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آیا نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ‘ تو میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں سے ہر دو انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے صداء ، قبیلے کے فرد اگر مجھے اپنے پروردگار سے حیاء نہ آتی ہوتی ‘ تو ہم اسے پی بھی لیتے اور پینے کے لئے حاصل بھی کر لیتے تم لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص وضو کرنا چاہتا ہے ( وہ آ جائے ) راوی کہتے ہیں :‘ تو لوگوں نے وہ پانی حاصل کر لیا ( جب نماز کا وقت ہوا ) تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا صداء قبیلے کے فرد نے اذان دی تھی اور جو اذان دے وہی اقامت کہتا ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز ادا کر لی ‘ تو اس پڑاؤ کی جگہ کے افراد آپ کے پاس آئے ‘ اور انہوں نے اپنے متعلقہ اہلکار کی شکایت کی اور یہ عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے ہم سے اپنے اور اپنی قوم کے درمیان موجود زمانہ جاہلیت کی ناراضگی کا بدلہ لیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے جن میں ‘ میں بھی شامل تھا آپ نے ارشاد فرمایا کسی مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے راوی کہتے ہیں : یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی پھر ایک شخص آپ سے کچھ مانگنے کے لئے آیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہے ‘ تو یہ چیز سر کا درد اور پیٹ کی بیماری ہے اس نے کہا آپ صدقات میں سے مجھے کچھ دیدیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ‘ صدقات کے بارے میں کسی نبی کے حکم یا نبی کے علاوہ کسی کے حکم سے راضی نہیں ہوتا اس نے صدقات کے مستحق آٹھ قسم کے افراد بنائے ہیں اگر تم اُن میں سے ایک ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیدیتا ہوں جب اگلے دن صبح ہوئی ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ریاستی عہدہ واپس لے لیں ( جو آپ نے مجھے عطا کیا تھا ) مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ‘‘ مومن شخص کے لئے امارت میں بھلائی نہیں ہے ‘‘۔ اور میں ایک مومن شخص ہوں ‘ اور میں نے آپ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص خوشحالی کے باوجود لوگوں سے مانگے گا ‘ تو یہ چیز سر کا درد ہے ‘ اور پیٹ کی بیماری ہے ‘‘۔ تو میں نے ‘ تو اس حال میں یہ مانگا ہے کہ جب میں خوشحال ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ ایسا ہی ہے اگر تم چاہو تو اسے لے لو اور اگر چاہو تو اسے چھوڑ دو راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا : پھر میں اسے چھوڑتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم مجھے کسی ایسے فرد کے بارے میں بتاؤ جسے میں اس کا نگران مقرر کر دوں میں نے وفد میں سے ایک شخص کے بارے میں آپ کی خدمت میں گزارش کی ‘ تو آپ نے اسے امیر مقرر کر دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے ‘ جب سردی کا موسم ہو تو اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جاتا ہے ہم اس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب گرمی کا موسم آتا ہے ‘ تو اس کا پانی تھوڑا ہو جاتا ہے ‘ اور ہم اپنے ارد گرد مختلف پانیوں کی طرف بکھر جاتے ہیں پہلے ایسا ہوتا تھا ، لیکن اب ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ ہم ادھر ادھر بکھر جائیں کیونکہ ہمارے ہر طرف دشمن موجود ہے آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اس کا پانی ہمارے لئے کفایت کر جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سات کنکریاں لیں انہیں اپنی ہتھیلی پر پھیلایا اور پھر ارشاد فرمایا جب تم اس کنویں کے پاس جاؤ تو اللہ کا نام لے کر ایک ایک کنکری اس میں ڈالتے جانا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد ان لوگوں کو بھی اس کنویں کی نچلی تہہ نظر نہیں آئی ( یعنی اس کے بعد وہ ہمیشہ پانی سے بھرا رہتا تھا ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سنن میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے احمد بن صالح نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اس شخص کے قول کو مسترد کیا ہے جس نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9032

Majma al-Zawaid #9032

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّكَ مَحْبُوبٌ فِي النَّاسِ، فَسِرْ إِلَى الشَّامِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِقَرَابَتِي وَصُحْبَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالرَّحِمِ الَّتِي بَيْنَنَا، فَلَمْ يُعَاوِدْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Nafi reports that when Uthman was killed Ali came to Ibn Umar saying, you are beloved among people, so go to Sham. Ibn Umar said by kinship and companionship to the Messenger and womb between us, and he did not repeat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ‘ اور بولے لوگوں میں تم پسندیدہ شخصیت کے مالک ہو تم شام کی طرف جاؤ ( اور لوگوں کو میری اطاعت کی ترغیب دو ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے صحابی ہونے اور ہمارے درمیان موجود رشتے داری کا واسطہ ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا ) تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ انہیں نہیں کہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ مدلس ہے ۔

9033

Majma al-Zawaid #9033

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَكَّهُ بِرُّهُ، أَوْ أَوْثَقَهُ إِثْمُهُ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ، وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"No man rules ten or more but comes to Allah on Resurrection shackled hand to neck, his righteousness freeing him or his sin binding him. Its first is blame, middle regret, last disgrace on Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی شخص دس یا اس سے زیادہ آدمیوں کے معاملے کا نگران بنتا ہے ‘ تو قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اس کی نیکی اسے چھڑوا دے گی یا اس کا گناہ اسے پابند کروا دے گا اس ( یعنی ولایت یعنی حکومت ) کی ابتداء ملامت ہے درمیانی حصہ ندامت ہے ‘ اور آخری حصہ قیامت کے دن رسوائی ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابومالک ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9034

Majma al-Zawaid #9034

وَعَنْ عُبَادَة‍َ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ، حَتَّى يُطْلِقَهُ الْحَقُّ أَوْ يُوثِقَهُ، وَمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ أَجْذَمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"No ruler of ten but brought on Resurrection with hand shackled to neck till truth frees him or binds him. Who learns Quran then forgets it meets Allah leprous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ‘ دس آدمیوں کا امیر ہو گا وہ بھی جب قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ حق اسے آزاد کروا دے گا یا ( ظلم ) اسے بندھوائے رکھے گا ‘ اور جو شخص قرآن سیکھے اور پھر اسے بھول جائے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ جذام زدہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور ان کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔

9035

Majma al-Zawaid #9035

وَعَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْ ذَلِكَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man reports from Sad ibn Ubadah, may Allah be pleased with him, heard more than once or twice, that the Messenger said. > **"No ruler of ten but brought on Resurrection shackled, none freeing him from that shackle but justice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک شخص نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے وہ شخص کہتا ہے : میں نے انہیں ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں ( اس سے زیادہ مرتبہ یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص دس آدمیوں کا بھی امیر ہو گا ، تو اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ‘ تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے اور زیادتی اسے نہیں چھڑوا سکے گی صرف عدل چھڑوائے گا “۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے امام احمد کی اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9036

Majma al-Zawaid #9036

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يَفُكَّهُ الْعَدْلُ أَوْ يُوثِقَهُ الْجَوْرُ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"No ruler of ten but brought on Resurrection shackled till justice frees him or injustice binds him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دس آدمیوں کا امیر ہو گا وہ بھی جب قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ عدل اسے چھڑوا دے گا یا ظلم اسے بندھوا دے گا ‘‘۔

9037

Majma al-Zawaid #9037

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا زِيدَ غُلًّا إِلَى غُلِّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِالْأَوَّلِ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ فِي الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a version, if he was evil his shackle is increased, reported by al-Bazzar and al-Tabarani in al-Awsat. > **"If he was evil his shackle is increased unto his shackle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اگر وہ زیادتی کرنے والا ہو گا ‘ تو اس کی بندش میں اضافہ ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے پہلی روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت کے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9038

Majma al-Zawaid #9038

وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا: " «عَافَاهُ اللَّهُ بِمَا شَاءَ أَوْ عَاقَبَهُ بِمَا شَاءَ» ".

EnglishUnverified translation

In al-Tabarani's al-Awsat version, Allah pardons whom He wills or punishes whom He wills. > **"Allah pardons him as He wills or punishes him as He wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اسے عافیت عطا کر دے گا ‘ اور جسے چاہے گا اسے سزا دے گا ‘‘۔

9039

Majma al-Zawaid #9039

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُجَاءُ بِالْإِمَامِ الْجَائِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتُخَاصِمُهُ الرَّعِيَّةُ فَيُفْلَحُوا عَلَيْهِ فَيُقَالُ لَهُ: سُدَّ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"The unjust imam shall be brought on Resurrection and the subjects dispute him and prevail, and it is said to him, fill a pillar of Hell's pillars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن ظالم حکمران کو لایا جائے گا رعایا اس کے ساتھ جھگڑا کرے گی اور اس کے خلاف ان لوگوں کو کامیاب قرار دیا جائے گا ‘ اور اس حکمران سے کہا جائے گا : تم جہنم کے ارکان میں سے ایک رکن ( یا کونے ) کو بھر دو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9040

Majma al-Zawaid #9040

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَلَى صَدَقَاتِ هَوَازِنَ فَتَخَلَّفَ بِشْرٌ فَلَقِيَهُ عُمَرُ قَالَ: مَا خَلَّفَكَ أَمَا لَنَا سَمْعٌ وَطَاعَةٌ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "". قَالَ: فَخَرَجَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَئِيبًا حَزِينًا فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا حَزِينًا؟ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَكُونُ كَئِيبًا حَزِينًا، وَقَدْ سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا "". فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَمَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: لَا. قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ وَلِيَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَجَا وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا وَهِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ "". فَأَيُّ الْحَدِيثَيْنِ أَوْجَعُ لِقَلْبِكَ؟ قَالَ: كِلَاهُمَا قَدْ أَوْجَعَ قَلْبِي، فَمَنْ يَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا؟ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: مَنْ سَلَتَ اللَّهُ أَنْفَهُ، وَأَلْصَقَ خَدَّهُ بِالْأَرْضِ، أَمَّا إِنَّا لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَعَسَى إِنْ وَلَّيْتَهَا مَنْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا أَنْ لَا يَنْجُو مِنْ إِثْمِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Wail Shaqiq ibn Salamah reports that Umar employed Bishr ibn Asim over Hawazin charities and he lagged. Umar asked, is not hearing and obedience ours, he said yes, but he heard the Messenger say, whoever rules anything of Muslims is brought on Resurrection till stood upon the bridge of Hell, if good he is saved, if evil the bridge splits and he falls seventy autumns. Umar went out grieved and Abu Dharr met him asking why, and Umar told. Abu Dharr asked, did you not hear it from the Messenger, he said no. Abu Dharr bore witness he heard the Messenger say, whoever rules anyone is brought till stood upon the bridge dark and black, if good saved, if evil split and falls seventy autumns. Which narration pains your heart more, he said both pained, who can bear it. Abu Dharr said, one whose nose Allah cuts and cheek dusts, we know but good, and if you appoint one unjust he may not escape its sin. > **"Whoever rules anything of the Muslims is brought on the Day of Resurrection till stood upon the bridge of Hell. If he was good he is saved, and if evil the bridge splits with him and he falls therein seventy autumns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بشر بن عاصم کو ہوازن کے صدقات وصول کرنے کا اہلکار مقرر کیا ۔ بشر وہاں نہیں گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں نہیں گئے ؟ کیا تم پر اطاعت و فرمانبرداری لازم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ‘ اور اسے جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا ‘ اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ‘ تو نجات پا جائے گا ‘ اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو وہ پل اسے نیچے گرا دے گا ‘ اور وہ ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے غمگین اور پریشان ہو کر نکلے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی ‘ انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے میں آپ کو غمگین اور پریشان دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا : میں کیوں غمگین اور پریشان نہ ہوؤں جبکہ میں نے بشر بن عاصم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے گا اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ‘ اور جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا ‘ اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ‘ تو اس سے نجات پا جائے گا ‘ اور اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ‘ تو وہ پل ایسے نیچے گرا دے گا ‘ اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا ‘‘۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات نہیں سنی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ، تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص لوگوں میں سے کسی ایک کے معاملے کا نگران بنے گا ‘ تو اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے جہنم کے پل پر ٹھہرا دیا جائے گا ‘ اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا ‘ تو نجات پا جائے گا ‘ اور اگر وہ برائی کرنے والا ہوا ‘ تو وہ پل اُسے نیچے گرا دے گا ‘ اور وہ شخص جہنم میں ستر برس تک گرتا رہے گا ‘ اور وہ جہنم سیاہ تاریک ہے ‘‘۔ ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) ان دو روایت میں سے کون سی آپ کے لئے زیادہ پریشانی کا باعث ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان دونوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اس ( حکومت ) میں جو خرابی پائی جاتی ہے ‘ تو پھر کون اس کو حاصل کرے گا ‘ تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ وہ شخص کہ جس کی ناک کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہو ‘ اور جس کے رخسار کو زمین سے ملا دیا ہو جہاں تک ہمارا تعلق ہے ‘ تو ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے اور عنقریب اس کا نگران وہ شخص بنے گا ، جو اس کے بارے میں نہ عدل سے کام لے گا ‘ اور نہ ہی اس کے گناہ سے نجات پائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

9041

Majma al-Zawaid #9041

«وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ إِلَيْهِ يَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ فَأَبَى أَنْ يَعْمَلَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُمِرَ بِالْوَالِي فَيُوقَفُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فَيَأْمُرُ اللَّهُ الْجِسْرَ فَيَنْتَفِضُ انْتِفَاضَةً فَيَزُولُ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ [ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ الْعِظَامَ فَتَرْجِعُ إِلَى مَكَانِهِ] ثُمَّ يَسْأَلُهُ، فَإِنْ كَانَ [لِلَّهِ] مُطِيعًا اجْتَبَذَهُ، فَأَعْطَاهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، وَإِنْ كَانَ [لِلَّهِ] عَاصِيًا خَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِي جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْأَحْكَامِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Asim reports from his father that Umar ibn al-Khattab sent him to aid in charity and he refused, saying he heard the Messenger say, on Resurrection the governor is ordered and stood upon Hell's bridge, Allah orders the bridge to shake removing every bone from place, then orders bones to return, then asks. If obedient to Allah He rescues and gives two shares of reward, if disobedient the bridge splits and he falls in Hell seventy autumns. Similar narrations precede in Rulings. > **"On the Day of Resurrection the governor is ordered and stood upon the bridge of Hell, and the bridge shakes removing every bone. If obedient to Allah He rescues him, and if disobedient he falls seventy autumns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن عاصم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں ( یعنی ان کے والد کو ) کسی جگہ سے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن والی کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے جہنم کے پل پر کھڑا کر دیا جائے گا اللہ تعالیٰ پل کو حکم دے گا وہ ہلے گا ‘ تو اس شخص کی ہر ایک ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گی پھر اللہ تعالیٰ ان ہڈیوں کو حکم دے گا وہ دوبارہ اپنی جگہ پر واپس چلی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا ‘ اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا ‘ اور اسے اجر کے دو کفل عطا کرے گا ‘ اور اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہو گا ، تو پل اسے نیچے گرا دے گا ‘ اور وہ شخص ستر سال تک جہنم میں گرتا رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

9042

Majma al-Zawaid #9042

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - يَرْفَعُهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ وَلِي عَشْرَةً إِلَّا جِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports in raised form that the Messenger said. > **"No man rules ten but brought on Resurrection with hand shackled to neck till judgment between him and them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص دس آدمیوں کا بھی نگران بنے گا ‘ تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے یہاں تک کہ اس شخص اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو گا ‘‘۔ ( یا اس وقت تک بندھے رہیں گے ‘ جب تک اس شخص اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9043

Majma al-Zawaid #9043

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مِنْ وَلِيَ عَشْرَةً فَحَكَمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَحَبُّوا أَوْ كَرِهُوا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَإِنْ كَانَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، وَلَمْ يَحِفْ فِي حُكْمٍ وَلَمْ يَرْتَشِ أُطْلِقَتْ يَمِينُهُ "". فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَاءِ عَطَاءٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَمَا بُدُّ مِنْ غُلٍّ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ. وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said, whoever rules ten judging between them as they love or hate is brought on Resurrection with hand shackled to neck. If he judged by what Allah revealed, was not partial nor bribed, his right is freed. A sitter of Ata asked, O Abu Muhammad, must there be a shackle, he said yes by this Building, pointing to the Kabah. > **"Whoever rules ten and judges between them as they love or hate is brought on Resurrection with hand shackled to neck. If he judged by what Allah revealed and was not bribed, his right is freed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دس آدمیوں کا نگران بنتا ہے ‘ اور ان کے درمیان ایسا فیصلہ دیتا ہے ‘ جسے وہ پسند کرتے ہیں یا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں ، تو اس شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا ، تو اس شخص کے ہاتھ گردن پر بندھے ہوئے ہوں گے اگر اس نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہو گا ‘ اور فیصلہ دینے میں کوئی زیادتی نہیں کی ہو گی ۔ اور رشوت نہیں لی ہو گی ‘ تو اس کو کھول دیا جائے گا ‘‘ اس وقت عطاء کے پاس بیٹھے ہوئے افراد میں سے کسی نے کہا : اے ابومحمد پھر تو ملاوٹ ( یا زیادتی ) کی کوئی گنجائش نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس عمارت کے پروردگار کی قسم ! انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خانہ کعبہ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

9044

Majma al-Zawaid #9044

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ وَالِي ثَلَاثَةٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ مَغْلُولَةً يَمِينُهُ، فَكَّهُ عَدْلُهُ، أَوْ غَلَّهُ جَوْرُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَكَذَّبَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"No governor of three but meets Allah with right shackled, his justice freeing him or his injustice binding him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تین آدمیوں کا بھی جو نگران ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو گا کہ اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہو گا عدل اسے چھڑوا دے گا یا ظلم اسے پابند رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی عنسانی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے جھوٹا کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9045

Majma al-Zawaid #9045

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشْرَةٍ إِلَّا أَتَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا فُكَّ عَنْهُ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا زِيدَ غُلًّا إِلَى غُلِّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ وَكَّلَاهُمَا فِيهِ ضَعْفٌ وَلَمْ يُوَثَّقْ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"No ruler of ten but comes to Allah on Resurrection with hand shackled to neck. If good he is freed, if evil his shackle is increased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دس آدمیوں کا بھی امیر ہو گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ گردن پر بندھا ہوا ہو گا ‘ اگر وہ اچھائی کرنے والا ہو گا ، تو اسے نجات مل جائے گی اور اگر وہ برائی کرنے والا ہو گا ، تو اس کی بندش میں اضافہ ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند میں ایسے راوی ہیں جو ضعیف ہیں اور ان کی توثیق نہیں کی گئی ہے ۔

9046

Majma al-Zawaid #9046

وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَعَلَّكَ أَنْ يُنْسَأَ فِي أَجْلِكَ حَتَّى تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ حِينَ يَسْكُنُ النَّاسُ الْكَفُورَ فَإِيَّاكَ أَنْ تُؤَمَّرَ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يُقَامُ أَحَدٌ عَلَى عَشْرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللَّهَ مَغْلُولَةً يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ، لَا يَفُكُّهُ مِنْ غِلِّهِ ذَلِكَ إِلَّا الْعَدْلُ إِنْ كَانَ عَدَلَ بَيْنِهِمْ وَلَا تُعَمِّرَنَّ الْكَفُورَ فَإِنَّ عَامِرَ الْكَفُورِ كَعَامِرِ الْقُبُورِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مَسْلَمَةَ بْنِ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, freedman of the Messenger, may Allah be pleased with him, said, perhaps your term is prolonged till you rule ten when people dwell villages, so beware ruling ten or more, for none stood over ten but comes to Allah with hand shackled to neck, nothing freeing but justice if just among them. And settle not villages, for settler of villages is as settler of graves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ فرماتے ہیں : ہو سکتا ہے کہ تمہاری عمر زیادہ ہو اور تم دس آدمیوں کے امیر بن جاؤ ایسی جگہ جہاں لوگ آبادی سے ہٹ کے رہتے ہوں ، تو تم دس یا اس سے زیادہ لوگوں کے امیر بننے سے بچنے کی کوشش کرنا کیونکہ جس بھی شخص کو دس آدمیوں یا اس سے زیادہ آدمیوں کا امیر بنایا جائے ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہو گا اس نے جو زیادتی کی ہوئی ہو گی وہ اسے نہیں چھڑوائے گی ۔ صرف عدل اسے چھڑوا سکے گا ‘ اگر اس نے لوگوں کے درمیان عدل کیا ہوا ہو گا اور تم آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو ہرگز آباد نہ کرنا ‘ کیونکہ آبادی سے ہٹ کر موجود جگہ کو آباد کرنے والا شخص ، قبروں کو آباد کرنے والے کی مانند ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مسلمہ بن رجاء کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9047

Majma al-Zawaid #9047

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلٌّ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ زَوْجَتِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ لِزَوْجِهَا وَمَسْؤُولَةٌ عَنْ بَيْتِهَا وَوَلَدِهَا، وَالْمَمْلُوكُ رَاعٍ عَلَى مَوْلَاهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْ مَالِهِ، وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَأَعِدُّوا لِلْمَسَائِلِ جَوَابًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جَوَابُهَا؟ قَالَ: "" أَعْمَالُ الْبِرِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْأَوْسَطِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, each of you is a shepherd responsible for his flock. The ruler is shepherd over people, the man over his household and wife and owned, the woman over husband's house and child, the slave over master's wealth. Each is shepherd responsible, so prepare answers to questions. They asked, O Messenger, what is its answer, he said deeds of righteousness. > **"Each of you is a shepherd and each responsible for his flock. The ruler is a shepherd over people responsible for them, the man over his household, the woman over her husband's house and child, the slave over his master's wealth. Prepare answers to questions. Deeds of righteousness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ‘ اور اس شخص سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا امیر ( یعنی حکمران ) لوگوں کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے اہل خانہ کا نگران ہے اس سے اس کی بیوی کے بارے میں اور اس کے زیر ملکیت لوگوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا عورت اپنے شوہر کے حوالے سے نگران ہے اس سے اُس کے گھر اور اس کے بچوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا غلام اپنے آقا کے حوالے سے نگران ہے اس سے اس کے مال کے بارے میں حساب لیا جائے گا تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ‘ اور تم میں سے ہر ایک شخص سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘ تو تم حساب کے لئے جواب تیار رکھو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا جواب کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا نیکی کے کام ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ معجم اوسط کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9048

Majma al-Zawaid #9048

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَرْطَأَةُ بْنُ الْأَشْعَثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that the Prophet said. > **"Each of you is a shepherd and responsible."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ تم میں سے ہر ایک نگران ہے ‘ اور اس سے حساب لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ بن اشعث ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

9049

Majma al-Zawaid #9049

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ رَاعٍ يَسْتَرْعِي رَعْيَةً إِلَّا سُئِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَقَامَ فِيهَا أَمْرَ اللَّهِ أَمْ أَضَاعَهُ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عَيَّاشٍ الْمِصْرِيُّ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said. > **"No shepherd entrusted a flock but asked on Resurrection, did he uphold Allah's order therein or waste it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو بھی شخص کسی رعایا کا نگران ہو گا اس سے قیامت کے دن حساب لیا جائے گا کہ اس نے اس رعایا کے بارے میں اللہ کے حکم کو برقرار رکھا یا اسے ضائع کیا ؟“ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعیاش مصری ہے ‘ اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

9050

Majma al-Zawaid #9050

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ وَقَالَ: "" كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَنْ أَهْلِهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْهُمْ، وَامْرَأَةُ الرَّجُلِ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ، أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ» "". قُلْتُ: لِأَبِي لُبَابَةَ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Lubabah ibn Abd al-Mundhir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger forbade killing house snakes and said, each of you shepherd responsible, the ruler over people, the man over family, the wife over husband's house, the servant over master's wealth. Verily each shepherd responsible. Part in Sahih is only the prohibition. > **"Each of you is a shepherd responsible for his flock. The ruler over people is a shepherd responsible, the man over his family, the wife over her husband's house, the servant over his master's wealth. Verily each of you is a shepherd and responsible."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ‘ اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا امیر ‘ لوگوں کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے اہلخانہ کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی کی بیوی اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اس سے اس کے حوالے سے حساب لیا جائے گا آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا خبردار تم میں سے ہر ایک نگران ہے ‘ اور تم میں سے ہر ایک سے حساب لیا جائے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے جس میں صرف سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا تذکرہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9051

Majma al-Zawaid #9051

وَعَنِ الْمِقْدَامِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَكُونُ رَجُلٌ عَلَى قَوْمٍ إِلَّا جَاءَ يَقْدُمَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ رَايَةٌ يَحْمِلُهَا وَهُمْ يَتْبَعُونَهُ فَيُسْأَلُ عَنْهُمْ وَيُسْأَلُونَ عَنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdam, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"No man over a people but comes on Resurrection preceding them with a banner he carries and they follow him. He is asked of them and they of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو بھی شخص لوگوں کا نگران بنے گا قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے آگے چلتا ہوا آئے گا اس نے ایک جھنڈے کو اٹھایا ہوا ہو گا لوگ اس کے پیچھے ہوں گے اس شخص سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ‘ اور لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9052

Majma al-Zawaid #9052

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ أَمِيرٍ يُؤَمَّرُ عَلَى عَشْرَةٍ إِلَّا سُئِلَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger said. > **"No ruler appointed over ten but asked of them on Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی امیر دس آدمیوں کا بھی نگران بنے گا ‘ تو قیامت کے دن اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9053

Majma al-Zawaid #9053

وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - سَائِلٌ كُلَّ ذِي رَعِيَّةٍ فِيمَا اسْتَرْعَاهُ أَقَامَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى فِيهِمْ أَمْ أَضَاعَهُ؟ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُسْأَلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatadah reports that Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said, Allah shall ask every guardian of his charge, did he uphold Allah's order or waste it, till a man is asked of his household. Qatadah heard not from Ibn Masud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس چیز کے بارے میں حساب لے گا جس کا اسے نگران بنایا گیا تھا اگرچہ اس نے ان لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم رکھا یا اسے ضائع کر دیا یہاں تک کہ آدمی سے اس کے اہلخانہ کے بارے میں حساب لیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ قتادہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9054

Majma al-Zawaid #9054

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعْفَرًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حِينَ قَدِمَ مِنَ الْحَبَشَةِ: "" مَا أَعْجَبُ شَيْءٍ رَأَيْتَهُ؟ "" قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلًا مِنْ طَعَامٍ، فَمَرَّ فَارِسٌ فَرَكَضَهُ فَأَبْدَرَهُ، فَجَلَسَتْ تَجْمَعُ طَعَامَهَا ثُمَّ الْتَفَتَتْ فَقَالَتْ: وَيْلٌ لَكَ إِذَا وَضَعَ الْمَلِكُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - كُرْسِيَّهُ فَأَخَذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصْدِيقًا لِقَوْلِهَا: "" لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ - أَوْ كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ - لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ لَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger asked Jafar on return from Abyssinia what most amazed him. He said, a woman bearing a food basket on her head, a horseman knocked it scattering her food, she sat gathering then turned saying, woe to you when the King sets His Throne and takes for wronged from wrongdoer. The Messenger confirming her said. > **"No nation is sanctified, or how is a nation sanctified, whose weak cannot take his right from the strong without distress."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم نے حیران کن چیز کیا دیکھی ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس نے اپنے سر پر اناج کا پیمانہ ( یا برتن ) رکھا ہوا تھا ایک گھڑ سوار وہاں سے گزرا اس نے اس کو ایڑھ لگائی اور اس عورت کا برتن گرا دیا وہ عورت بیٹھ کر اپنا اناج اکٹھا کرنے لگی پھر اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی : تمہارا ستیاناس ہو ! جب بادشاہ ( اللہ تعالیٰ ) اپنی کرسی رکھے گا ‘ اور پھر ظالم سے مظلوم کو انصاف دلائے گا ( پھر دیکھنا تمہارا کیا حال ہو گا ) راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے اس قول کی تصدیق کے لئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ وہ امت پاکیزہ نہیں ہو گی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ امت کیسے پاکیزہ ہو سکتی ہے جس میں کمزور شخص طاقتور سے اپنا حق کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9055

Majma al-Zawaid #9055

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ تَلَقَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَجِلَ إِعْظَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ لَهُ: "" يَا حَبِيبِي أَنْتَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِخُلُقِي وَخَلْقِي وَخُلِقْتَ مِنَ الطِّينَةِ الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا، يَا حَبِيبِي حَدِّثَنِي عَنْ بَعْضٍ عَجَائِبِ أَهْلِ الْحَبَشَةِ "". قَالَ: نَعَمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ فِي بَعْضِ طُرُقِهَا إِذَا أَنَا بِعَجُوزٍ عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٍ وَأَقْبَلَ شَابٌّ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ فَزَحَمَهَا وَأَلْقَى الْمِكْتَلَ عَنْ رَأْسِهَا، وَاسْتَوَتْ قَائِمَةً وَأَتْبَعَتْهُ الْبَصَرَ وَهِيَ تَقُولُ: الْوَيْلُ لَكَ غَدًا إِذَا جَلَسَ الْمَلِكُ عَلَى كُرْسِيِّهِ فَاقْتَصَّ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ. قَالَ جَابِرٌ: فَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: "" لَا قَدَسَّ اللَّهُ أُمَّةً لَا تَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ حَقَّهُ مِنَ الظَّالِمِ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَكِّيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّعَيْنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that when Jafar came from Abyssinia the Messenger met him, and Jafar blushed in awe, so the Messenger kissed between his eyes saying, O beloved, you most resemble me in character and form, created of the clay I was created of. O beloved tell me of Abyssinian wonders. He said, by my father and mother, as I stood in a road an old woman with a basket on her head was pushed by a youth racing a horse dropping it, she stood straight following him with sight saying, woe to you tomorrow when the King sits on His Throne and requites wronged from wrongdoer. Jabir said, he saw the Messenger say. > **"O beloved, you most resemble me in character and form. Allah shall not sanctify a nation where the wronged cannot take his right from the wrongdoer without distress."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ ان سے ملنے کے لئے آئے ‘ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو نبی اکرم ﷺ کے احترام میں ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا : اے میرے محبوب شخص ! میرے اخلاق اور میری ظاہری شخصیت کے حوالے سے تم مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو تمہیں بھی اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس سے مجھے پیدا کیا گیا اے میرے محبوب فرد تم اہل حبشہ کی کوئی حیران کن بات مجھے بتاؤ تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں ایک راستے پر کھڑا ہوا تھا اسی دوران ایک بوڑھی عورت گزری جس کے سر پر ایک برتن تھا پھر ایک نوجوان آیا اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی وہ اس عورت کے پاس سے گزرا تو عورت کے سر سے اس کا برتن گر گیا وہ عورت سیدھی کھڑی ہوئی اور اس نے اپنی نگاہ اس گھڑ سوار کے پیچھے کی اور یہ کہا : کل تمہارا ستیاناس ہو گا ، جب بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھے گا ‘ اور ظالم سے مظلوم کو بدلہ دلوائے گا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں مظلوم شخص ظالم سے اپنا حق کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9056

Majma al-Zawaid #9056

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَرَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: أَلَا نَمْنَعَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَبْنِيَ دَارًا فِينَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوَآمِرٌ بِذَلِكَ وَأَنَا ظَالِمٌ "" أَوْ "" فَأَنَا ظَالِمٌ لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ نَفْسِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي الْأَحْكَامِ وَأَحَادِيثُ غَيْرِهِ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that Ibn Masud wished to build a house and Quraysh said, shall we prevent Ibn Umm Abd building among us. The Messenger said, shall I command that while unjust, or I am unjust. Allah sanctifies no nation where the weak's right is not taken from the strong. Similar of Ibn Masud passed in Rulings. > **"Shall I command that while I am unjust. Allah sanctifies no nation where the right of its weak is not taken from its strong."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے گھر بنانے کا ارادہ کیا ، تو قریش نے کہا : ہم ابن ام عبد کو اس بات سے روک نہ دیں کہ وہ ہمارے درمیان گھر بنائے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں اس بارے میں حکم دوں گا ؟ تو پھر تو میں ظالم ہوؤں گا اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزہ نہیں کرتا جس میں طاقتور سے کمزور کے لئے ( حق کو ) وصول نہیں کیا جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ‘ اور وہ متروک ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے جو اسی واقعہ کے بارے میں ہے وہ کتاب الاحکام میں گزری ہے اس کے علاوہ اس نوعیت کی دیگر احادیث اس باب میں مذکور ہیں ۔

9057

Majma al-Zawaid #9057

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُقْضَى فِيهَا بِالْحَقِّ وَيَأْخُذُ الضَّعِيفُ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said. > **"Allah shall not sanctify a nation where truth is not judged and the weak cannot take his right from the strong without distress."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا جس میں حق ادا نہیں کی جاتا اور کمزو شخص کسی پریشانی کے بغیر کسی طاقتور سے اپنا حق نہیں لے سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9058

Majma al-Zawaid #9058

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنْ سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِي: هَلْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ قَوِيِّهَا وَهُوَ غَيْرُ مُضْطَهَدٍ» "". فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ فَاحْمِلْهُ عَلَى الْبَرِيدِ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: نَعَمْ. فَحَمَلَهُ عَلَى الْبَرِيدِ مِنْ مِصْرَ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabiah ibn Yazid reports that Muawiyah wrote to Maslamah ibn Mukhallad to ask Abdullah ibn Amr ibn al-As whether he heard the Messenger say, no sanctified nation whose weak cannot take his right from its strong without compulsion. If yes, send by post. He said yes, so he sent from Egypt to Sham, and Muawiyah said, I too heard it but wished verification. > **"No sanctified nation whose weak cannot take his right from its strong without compulsion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا کہ تم حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سوال کرو : کیا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کی جاتی ہے جس کا کمزور فرد اس کے طاقتور فرد سے اپنا حق ‘ پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا ‘‘۔ اگر وہ جواب دیں جی ہاں ، تو تم اس کو لکھ کر ڈاک کے ذریعے بھجوا دینا مسلمہ بن مخلد نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو مسلمہ بن مخلد نے یہ تحریر کر کے ڈاک کے ذریعے مصر سے شام بھجوایا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا تھا ‘ اور جو انہوں نے بتایا تھا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ‘ لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس بارے میں مزید تحقیق کر لوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9059

Majma al-Zawaid #9059

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِمَامُ الضَّعِيفُ مَلْعُونٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ رَجُلٌ بَيْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ وَبَيْنَ ابْنِ عُمَرَ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"The weak imam is cursed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کمزور حکمران ملعون ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں عبدالکریم بن حارث اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان موجود شخص ساقط ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9060

Majma al-Zawaid #9060

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ يَمْلُكُ أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Never shall succeed a people whose affair is ruled by a woman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسی قوم کامیاب نہیں ہوتی جن کے معاملے کی نگران ( یعنی حکمران ) کوئی عورت ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد ابوعبیدہ عبدالوارث بن ابراہیم سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9061

Majma al-Zawaid #9061

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَجَنَّعِ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْنَا: هَذِهِ عَائِشَةُ كَنْتَ تَقُولُ: عَائِشَةُ عَائِشَةُ، هِيَ ذِي عَائِشَةُ قَدْ جَاءَتْ، فَاخْرُجْ مَعَنَا. فَقَالَ: إِنِّي ذَكَرْتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ بِلْقِيسَ صَاحِبَةَ سَبَأٍ فَقَالَ: "" لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أَمَةً قَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ». قُلْتُ: لِأَبِي بَكْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Hajna reports that when Aishah, wife of the Prophet, came, they went to Abu Bakrah saying, here is Aishah come, go out with us. He said, I remembered a narration heard from the Messenger mentioning Bilqis of Saba. > **"Allah shall not sanctify a nation led by a woman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ہجنع بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ہم حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ تو ہم نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہہ رہی ہیں کہ عائشہ عائشہ ہے جو عائشہ والی ہے وہ آ گئی ہے ‘ تو تم ہمارے ساتھ نکلو ‘ تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ہے جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا کہ آپ نے سباء کی حکمران بلقیس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا جن کی قیادت عورت کرتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

9062

Majma al-Zawaid #9062

عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا أُمِّرَ كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ مِنْ أَهْلِهِ، بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِمَعْصِيَتِهِ، وَهُوَ مَعَ مَنْ أَطَاعَ مِنْهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim reports that Abdullah said, when a ruler is appointed he has two inner circles of his folk, one commanding obedience of Allah and one commanding His disobedience, and he is with whichever of them he obeys. Al-Qasim did not meet Ibn Masud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب امیر کو امیر مقرر کیا جاتا ہے ‘ تو اس کے اہل میں سے اس کے دو بطانہ ( یعنی فرشتہ اور شیطان ) ہوتے ہیں ، ایک اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ‘ اور ایک اسے اس کی نافرمانی کا حکم دیتا ہے ‘ تو وہ ان دونوں میں سے جس کی پیروی کرتا ہے ‘ اس کے ساتھ ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ قاسم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

9063

Majma al-Zawaid #9063

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whomever Allah places over any affair of the Muslims intending good for him, He gives him a truthful minister. If he forgets he reminds him, and if he remembers he aids him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران مقرر کرے اور پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے ‘ تو اسے سچا وزیر عطا کر دیتا ہے اگر وہ شخص بھول جائے ‘ تو وہ وزیر اسے یاد کروا دیتا ہے ‘ اور اگر اس ( وزیر ) کو یاد ہو تو وہ شخص اس کی مدد کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9064

Majma al-Zawaid #9064

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مِنْ أَبْلَغَ ذَا سُلْطَانٍ حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهُ، يُثَبِّتُ اللَّهُ قَدَمَيْهِ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِيهِ سَعِيدٌ الْبَرَّادُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger say. > **"Whoever conveys to a sultan the need of one unable to convey it, Allah shall make his feet firm on the Bridge on a day feet slip."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی حاکم کے پاس ایسے شخص کی حاجت پہنچائے جو اس کو ( حاکم تک ) پہنچانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس ( حاجت پہنچانے والے ) کے دونوں پاؤں کو پل صراط پر اس وقت مضبوط رکھے گا ‘ جب قدم لڑ کھڑا رہے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید براد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9065

Majma al-Zawaid #9065

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِي الضَّعَفَةِ وَالْحَاجَةِ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Whoever rules anything of the people then veils himself from the weak and needy, Allah shall veil Himself from him on Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص لوگوں کے معاملے میں کسی چیز کا نگران بنے اور پھر کمزوروں اور حاجت مندوں سے حجاب میں رہے ‘ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے حجاب فرمائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

9066

Majma al-Zawaid #9066

وَعَنْ أَبِي السَّمَاحِ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ وَذِي الْحَاجَةِ، أَغْلَقَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ دُونَ حَاجَتِهِ، وَفَقْرُهُ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى. وَأَبُو السَّمَاحِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Sammah al-Azdi reports from a cousin of his among Companions who came to Muawiyah saying he heard the Messenger say. > **"Whoever rules the people then closes his door upon the poor, wronged and needy, Allah shall close doors of His mercy upon his need when neediest thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسماح ازدی ‘ اپنے چچازاد جن کا تعلق صحابہ کرام سے ہے ‘ ان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص لوگوں کے معاملے کا نگران بنے اور پھر مسکینوں مظلوموں اور حاجت مندوں کے لئے اپنا دروازہ بند کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا حالانکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اس سے زیادہ ضرورت ہو گی ‘ جتنی ( کسی حاجت مند یا کمزور شخص کو ) اس کی ضرورت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوسماح نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔