Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 3

Book of the Caliphate

Hadith 8987–9026

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8987

Majma al-Zawaid #8987

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: "" هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟ "" فَقَالُوا: [لَا] إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا. فَقَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ "" ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا أَقْسَمُوا أَقْسَطُوا، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger stood over a house of Quraysh holding the doorposts asking if any but Qurashi is inside, they said only our nephew, and he said the nephew is of them, then said. > **"The nephew of a people is of them. This affair is in Quraysh as long as when mercy is sought they show mercy, when they judge they are just, when they distribute they are equitable. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک گھر کے پاس آ کر کھڑے ہوئے جس میں قریش کے کچھ افراد موجود تھے آپ نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑ لیا اور دریافت کیا : گھر میں صرف قریشی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! ہمارا ایک بھانجا بھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گا ‘ جب تک ان سے رحم مانگا جائے ‘ تو وہ رحم کریں گے اور جب تک وہ فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور تقسیم کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8988

Majma al-Zawaid #8988

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا فِي بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ رَجَاءَ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْبَابِ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْهِ فَقَالَ: "" الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ، وَلَهُمْ ذَلِكَ مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا عَاهَدُوا وَفَّوْا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَإِذَا ائْتَمَنُوا أَدُّوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا خَالَفَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that they were in a house of Muhajirun and Ansar when the Messenger came and each made room hoping he sits beside him, but he stood at the door holding its posts and said. > **"The leaders are from Quraysh, and I have a great right over you, and they have the like as long as they do three: when mercy is sought they show mercy, when they judge they are just, when they covenant they fulfill. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people."** In a version, when entrusted they discharge.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک ایسے گھر میں موجود تھے جس میں مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ہم میں سے ہر ایک شخص نے جگہ بنانی شروع کی یہ امید رکھتے ہوئے کہ شاید آپ اس کے پہلو میں تشریف فرما ہو جائیں لیکن نبی اکرم ﷺ دروازے کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے اس کے کواڑوں کو پکڑا اور فرمایا حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم پر بڑا حق ہے ‘ اور ان لوگوں کا بھی حق ہو گا ‘ جب تک وہ تین کام کریں گے ‘ جب ان سے رحم مانگا جائے ‘ تو رحم کریں جب وہ فیصلہ دیں ‘ تو عدل سے کام لیں گے ‘ جب عہد کریں ‘ تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب انہیں امین بنایا جائے ‘ تو وہ ادائیگی کریں ( یعنی امانت واپس کر دیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات ( دوسروں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے اس راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8989

Majma al-Zawaid #8989

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ الْقَوْسُ، وَأَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الِاخْتِلَافِ الْمُوَالَاةُ لِقُرَيْشٍ، قُرَيْشُ أَهْلُ اللَّهِ، فَإِذَا خَالَفَتْهَا قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ صَارُوا حِزْبَ إِبْلِيسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَأَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الِاخْتِلَافِ» "". وَفِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ: "" «قُرَيْشٌ أَهْلُ اللَّهِ» "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"The safety of earth people from drowning is the bow, and the safety of earth people from division is loyalty to Quraysh. Quraysh are the people of Allah. When any Arab tribe opposes them they become the party of Iblis."** In a version, safety of my nation from division, and Quraysh are the people of Allah thrice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل زمین کے ڈوبنے سے امان ‘ قوس ( شاید مراد قوس قزح کا نمودار ہونا ) ہے ‘ اور اختلاف کے حوالے سے اہل زمین کی امان قریش کے ساتھ محبت ہے قریش اللہ والے ہیں عربوں کا کوئی قبیلہ جب ان کی مخالفت کرے گا ‘ تو وہ ابلیس کے گروہ میں ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اختلاف کے حوالے سے میری امت کی امان ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : ” قریش اللہ والے ہیں ‘‘۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8990

Majma al-Zawaid #8990

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"People follow Quraysh in good and evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بھلائی اور برائی ( ہر معاملے ) میں لوگ قریش کے پیروکار ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

8991

Majma al-Zawaid #8991

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، وَأَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ خِيَارَ أَئِمَّةِ قُرَيْشٍ خِيَارُ أَئِمَّةِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn al-Harith, Kathir ibn Murrah, Amr ibn al-Aswad and Abu Umamah, may Allah be pleased with them, report that the Prophet said. > **"The best leaders of Quraysh are the best leaders of the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن حارث رضی اللہ عنہ حضرت کثیر بن رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قریش کے بہترین حکمران لوگوں کے بہترین حکمران ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

8992

Majma al-Zawaid #8992

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ - وَهُوَ عَدْلٌ عَلَى نَفْسِهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَزَالُ وَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُنَيْدٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَهَذَا مِنْهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, reports while on the minbar that al-Dahhak ibn Qays, just in himself, told him the Messenger said. > **"A governor from Quraysh shall ever remain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : کہ ضحاک بن قیس نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ اور یہ اپنی ذات کے حوالے سے عادل شخص ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ حکمران ہمیشہ قریش سے رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنید ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے حجاج بن سلیمان سے اس کے روایت کرنے کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

8993

Majma al-Zawaid #8993

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ فَقَالَ: "" أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" فَإِنِّي سَائِلُكُمْ عَنِ اثْنَيْنِ: عَنِ الْقُرْآنِ وَعَنْ عِتْرَتِي. أَلَا وَلَا تَقَدَّمُوا قُرَيْشًا فَتَضِلُّوا، وَلَا تَخَلَّفُوا عَنْهَا فَتَهْلِكُوا، وَلَا تُعَلِّمُوهَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ. قُوَّةُ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَفْضَلُ مِنْ قُوَّةِ رَجُلَيْنِ مِنْ غَيْرِهِمْ. لَوْلَا أَنْ تَبْطُرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرَتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى، خِيَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Hantab, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger addressed them at al-Juhfah asking, am I not more worthy of you than yourselves, they said yes. He said, I ask you of two, the Quran and my kin. Do not advance before Quraysh lest you stray, nor lag behind them lest you perish, nor teach them for they know more than you. The strength of a Qurashi man exceeds two others. Were Quraysh not to exult I would tell what they have with Allah. The best of Quraysh are the best of people. > **"Am I not more worthy of you than yourselves. I ask you of the Quran and my kin. Advance not before Quraysh lest you stray, lag not behind them lest you perish. The best of Quraysh are the best of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجفہ کے مقام پر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کے نزدیک تمہاری جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر میں دو چیزوں کے بارے میں تم سے ‘ توقع رکھتا ہوں قرآن کے بارے میں اور اپنی عترت کے بارے میں ‘ خبردار ! تم قریش سے آگے نہ بڑھنا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے اور ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے اور انہیں تعلیم بھی نہ دینا کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں قریش کے ایک فرد کی قوت ان کے علاوہ کسی اور قوم کے دو افراد کی قوت سے زیادہ ہے اگر قریش کے سرکش ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں کیا مرتبہ و مقام حاصل ہے قریش کے بہترین لوگ ‘ لوگوں میں سے بہترین ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا شخص ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8994

Majma al-Zawaid #8994

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ، فَإِذَا لَمْ تَفْعَلُوا فَضَعُوا سُيُوفَكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ فَأَبِيدُوا خَضْرَاءَهُمْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَكُونُوا حِينَئِذٍ زَرَّاعِينَ أَشْقِيَاءَ، تَأْكُلُونَ مِنْ كَدِّ أَيْدِيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ النُّعْمَانِ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Be upright to Quraysh as long as they are upright to you. If you do not, place your swords on your shoulders and annihilate their green. If you do not, be then wretched farmers eating from toil of your hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قریش کے لئے ٹھیک رہنا جب تک وہ تمہارے لئے ٹھیک رہیں گے ‘ جب تم ایسا نہیں کرو گے ‘ تو تم اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھ لینا اور ان کو فنا کر دینا ‘ ( شاید یہ مراد ہے کہ جو قریش کی مخالفت کریں گے ان کو فنا کر دینا ) اگر تم ایسا نہیں کرو گے ‘ تو ایسی صورت میں تم کھیتی باڑی کرنے والے بدنصیب ہو جاؤ گے اور اپنے ہاتھوں کی محنت کر کے کھاؤ گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آگے آئے گی ۔

8995

Majma al-Zawaid #8995

وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ: لَا يَدْخَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَابٍ إِلَّا دَخَلَ مَعَهُ أُنَاسٌ، فَلَا أَدْرِي مَا تَأْوِيلُ قَوْلِهِ حَتَّى طُعِنَ عُمَرُ، فَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثَلَاثًا، وَأَمَرَ أَنْ يَجْعَلَ لِلنَّاسِ طَعَامًا تِلْكَ الثَّلَاثِ الْأَيَّامِ حَتَّى يَجْتَمِعَ أَهْلُ الشُّورَى عَلَى رَجُلٍ، فَلَمَّا رَجَعُوا مِنَ الْجِنَازَةِ جَاؤُوا وَقَدْ وُضِعَتِ الْمَوَائِدُ، فَأَمْسَكَ النَّاسُ لِلْحُزْنِ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا بَعْدَهُ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا. أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ، فَمَدَّ يَدَهُ وَمَدَّ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ فَأَكَلُوا فَعَرَفْتُ تَأْوِيلَ قَوْلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ahnaf ibn Qays reports that he heard Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, say no Qurashi enters a door but people enter with him, and he knew not its meaning till Umar was stabbed and ordered Suhayb to lead three days and food for the days of consultation. When they returned from the funeral tables were laid but people abstained in grief, then al-Abbas ibn Abd al-Muttalib said, O people the Messenger died and we ate and drank after him, and Abu Bakr died and we ate and drank. O people eat of this food. He stretched his hand and they ate, and he understood his saying.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا : قریش سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد جس دروازے سے داخل ہو گا ، تو لوگ بھی اس کے ساتھ داخل ہوں گے احنف بن قیس کہتے ہیں : مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ان کی بات کا مطلب کیا ہے ؟ یہاں تک کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ تین دن تک ایسا کریں گے ۔ انہوں نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان تین دنوں میں کھانا تیار کریں یہاں تک کہ شوری کے اراکین کسی ایک فرد پر متفق ہو جائیں جب وہ لوگ جنازے سے واپس آئے ‘ تو کھانا رکھ دیا گیا تھا لوگ جس غم کا شکار تھے اس کی وجہ سے انہوں نے کھانا نہیں کھایا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا آپ کے بعد بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا پھر بھی ہم کھاتے پیتے رہے ہیں ، تو اے لوگو ! تم لوگ یہ کھانا کھاؤ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ آگے بڑھائے ‘ اور کھانا پینا شروع کیا اس وقت مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کا مفہوم سمجھ میں آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8996

Majma al-Zawaid #8996

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْأَحْكَامِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said the caliphate is in Quraysh, and the narration was mentioned before in the Book of Rulings. > **"The caliphate is in Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خلافت قریش میں ہو گی ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو اس سے پہلے کتاب الاحکام کے آغاز میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ‘ اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

8997

Majma al-Zawaid #8997

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَقَصْرًا يُسَمَّى عَدَنًا، حَوْلَهُ الْبُرُوجُ وَالصُّرُوحُ، لَهُ خَمْسَةُ آلَافِ بَابٍ عِنْدَ كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافِ خَيِّرَةٍ، لَا يَدْخُلُهُ وَلَا يَسْكُنُهُ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ [أَوْ شَهِيدٌ] أَوْ إِمَامٌ عَادِلٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"In Paradise is a palace called Adn, around it towers and chambers, with five thousand doors, at each door five thousand chosen ones. None enters or dwells it but a prophet, a truthful one, a martyr, or a just imam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایک محل ہے جس کا نام عدن ہے اس کے اردگرد برج اور صروح ہیں ‘ اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر ہر دروازے کے پاس پانچ ہزار پانچ ہزار منتخب خواتین ہونگی ‘ اس محل میں صرف کوئی نبی یا صدیق یا شہید یا عادل حکمران داخل ہوں گے ‘ اور رہائش اختیار کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8998

Majma al-Zawaid #8998

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «السُّلْطَانُ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ، فَإِنْ عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَكَانَ - يَعْنِي عَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ - وَإِنْ جَارَ أَوْ حَافَ أَوْ ظَلَمَ كَانَ عَلَيْهِ الْوِزْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ، وَإِذَا حُورِبَ الْوُلَاةُ قَحَطَتِ السَّمَاءُ، وَإِذَا مُنِعَتِ الزَّكَاةُ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي، وَإِذَا ظَهَرَ الزِّنَا ظَهَرَ الْفَقْرُ وَالْمَسْكَنَةُ، وَإِذَا أَخَفَرَتِ الذِّمَّةُ أُدِيلَ الْكُفَّارُ "" أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو مَهْدِيٍّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet said the sultan is the shade of Allah on earth to whom every wronged servant resorts. If he is just he has reward and upon subjects is thanks, if unjust or oppressive the burden is upon him and upon subjects is patience. When rulers are fought the sky withholds, when zakah is withheld cattle perish, when adultery appears poverty appears, when covenant is betrayed disbelievers prevail. > **"The sultan is the shade of Allah on earth to whom every wronged of His servants resorts. If he is just he has reward, and if he is unjust the burden is upon him and patience upon the subjects."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سلطان زمین میں اللہ کا سایہ ہوتا ہے جس کی طرف اللہ کے بندوں میں سے ہر مظلوم شخص پناہ کے لئے آتا ہے اگر وہ ( حکمران ) عدل سے کام لے گا ‘ تو اسے اجر ملے گا ‘ اور وہ ہو گا ( راوی کہتے ہیں : یعنی رعایا پر ) شکر لازم ہو گا ‘ اور اگر وہ ستم کرے یا زیادتی کرے یا ظلم کرے ‘ تو اس کا وبال اس پر ہو گا ‘ اور رعایا پر صبر کرنا لازم ہو گا ‘ اور جب حکمرانوں کے ساتھ جنگ کی جائے ‘ تو آسمان سے قحط نازل ہوتا ہے ‘ جب زکوۃ ادا نہ کی جائے ، تو مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں جب زنا ظاہر ہوتا ہے ‘ تو غربت اور مسکینی ظاہر ہوتی ہے ‘ اور جب ذمہ کی خلاف ورزی کی جاتی ہے ‘ تو کفار کو غلبہ عطا کر دیا جاتا ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں : یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ابومہدی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

8999

Majma al-Zawaid #8999

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيَهِمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maqil ibn Yasar, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Injustice shall not linger after me but little till it rises, and whenever injustice rises the like of justice departs, till one born in injustice knows nothing else. Then Allah shall bring justice, and whenever justice comes the like of injustice departs, till one born in justice knows nothing else."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میرے بعد تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد ظلم آ جائے گا ‘ اور جب بھی ظلم سامنے آئے گا ‘ تو اتنا ہی عدل رخصت ہو جائے گا یہاں تک کہ ظلم کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے ظلم کے علاوہ کسی اور چیز کا پتہ ہی نہیں ہو گا پھر اللہ تعالیٰ عدل لے آئے گا پھر جیسے جیسے عدل آئے گا اسی حساب سے ظلم رخصت ہوتا جائے گا یہاں تک کہ عدل کے زمانے میں کوئی بچہ پیدا ہو گا اسے اس کے علاوہ کسی چیز ( یعنی ظلم ) کا پتہ ہی نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن طہمان ہے ‘ جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ابن حبان کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9000

Majma al-Zawaid #9000

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا إِذَا قَالَتْ صَدَقَتْ، وَإِذَا حَكَمَتْ عَدَلَتْ، وَإِذَا اسْتُرْحِمَتْ رَحَمَتْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"This nation shall ever be well as long as when they speak they are truthful, when they judge they are just, when mercy is sought they show mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک یہ بات کرتے ہوئے سچ بولیں گے فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور جب ان سے رحم مانگا جائے گا ، تو رحم کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9001

Majma al-Zawaid #9001

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا حَكَمْتُمْ فَاعْدِلُوا وَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"When you judge be just, and when you kill do well, for Allah is Good and loves the good-doers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم فیصلہ کرو تو عدل سے کام لو اور جب تم ( سزا دیتے ہوئے یا جنگ میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھائی فرمانے والا ہے ‘ اور اچھائی کرنے والے کو پسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9002

Majma al-Zawaid #9002

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَوْمٌ مِنْ إِمَامٍ عَادِلٍ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً، وَحَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ بِحَقِّهِ أَزْكَى فِيهَا مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ عَامًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ أَبُو غِيلَانَ الشَّيْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"A day of a just imam is better than worship of sixty years, and a hadd established on earth in its right is purer therein than rain of forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عادل حکمران کی طرف سے ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ اور زمین میں کسی حق کی بنیاد پر کسی حد کا قائم کیا جانا ( یعنی سزا کا جاری ہونا ) زمین کے لئے چالیس سال بارش ہونے سے زیادہ پاکیزہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد ابوغیلان شیبانی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9003

Majma al-Zawaid #9003

وَعَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ: وُجِدَ فِي زَمَانِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ: هَذَا نَبْتُ [فِي] زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو قَحْذَمٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qahdham reports that in the time of Ziyad a purse was found with date-stone-like things inscribed, this grew in a time when justice was practiced.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقذم بیان کرتے ہیں : زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں گٹھلیوں جتنی چیزیں تھیں اور ان پر یہ تحریر تھا : یہ اس زمانے کی پیداوار ہے کہ جس میں عدل پر عمل ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور ابوقحذم نامی شخص ضعیف ہے ۔

9004

Majma al-Zawaid #9004

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"The severest of people in punishment on the Day of Resurrection is an unjust imam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ظالم حکمران کو ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9005

Majma al-Zawaid #9005

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا فِي الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْكِنَهُ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"In Hell is a valley, in the valley a well called Habhab. It is binding upon Allah to lodge every obstinate tyrant therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جہنم میں ایک وادی ہے اس وادی میں ایک کنواں ہے جس کا نام ’’ ہبہب ‘‘ ہے اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر ظالم سرکش ( حکمران ) کو اس میں ٹھہرائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

9006

Majma al-Zawaid #9006

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: "" إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامُ عَدْلٍ رَفِيقٍ، وَشَرَّ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ خَرِقٌ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said the best of people in rank with Allah on Resurrection is a just gentle imam, and the worst of Allah's servants in rank is an unjust harsh imam. > **"The best of people in rank with Allah on the Day of Resurrection is a just gentle imam, and the worst is an unjust harsh imam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت اس حکمران کو حاصل ہو گی جو انصاف کرنے والا اور مہربان ہو اور قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اللہ کے بندوں میں سب سے برا شخص ظالم اور سرکش حکمران ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

9007

Majma al-Zawaid #9007

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَعٍ قَالَ: قِيلَ لَعَلِيٍّ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Saba reports that it was said to Ali, will you not appoint a successor. He said, no, but I leave you to what the Messenger left you to.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سبع بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا آپ کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! میں تمہیں اسی طرح کی صورت حال پر چھوڑتا ہوں جس طرح کی صورت حال پر نبی اکرم ﷺ نے تمہیں چھوڑا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9008

Majma al-Zawaid #9008

وَعَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ، فَإِنَّ التُّقَى أَمْرٌ مَحْفُوظٌ، ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَ مَعْرُوضٌ لَا يَسْتَوْجِبُهُ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ، فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ، وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَعَمِلَ بِالْمُنْكَرِ يُوشِكُ أَنْ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ، وَأَنْ يَحْبَطَ بِهِ عَمَلُهُ فَإِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ عَلَيْهِمْ أَمْرَهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجِفَّ يَدَيْكَ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَأَنْ تُضْمِرَ بَطْنَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنْ تَجِفَّ لِسَانَكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ فَافْعَلْ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالْأَغَرُّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Agharr Abu Malik reports that when Abu Bakr wished to appoint Umar he summoned him and said, I call you to a wearying affair for its bearer. Fear Allah O Umar by obedience and obey Him by piety, for piety is guarded. The affair is presented, none deserves it but who acts by it. Who commands truth but acts falsehood, commands good but acts evil, his hope shall soon sever and his deed be void. If you rule them, keep your hands dry of their blood, your belly lean of their wealth, your tongue dry of their honours, and no strength but by Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اغر ابومالک بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو انہیں پیغام بھیج کر بلوایا جب وہ ان کے پاس آئے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسے معاملے کی طرف بلانے لگا ہوں کہ جو شخص اس کا نگران بنے گا یہ معاملہ اسے پریشانی کا شکار کرے گا اے عمر ! تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ہمراہ اس سے ڈرو ‘ اور اس کی پرہیزگاری کے ہمراہ اس کی اطاعت کرو کیونکہ پرہیزگاری ایک محفوظ معاملہ ہے ‘ اور پھر اس کے بعد ایک اور معاملہ ہوتا ہے اس کو وہ شخص واجب کرتا ہے جو اس پر عمل کرتا ہے جو شخص حق کے مطابق حکم دے اور باطل کے مطابق عمل کرے یا نیکی کے بارے میں حکم دے اور برائی پر عمل کرے ‘ تو عنقریب اس کی آرزوئیں کی ختم ہو جائیں گی اور اس کا عمل ضائع ہو جائے گا ‘ جب تم ان کے معاملے کے نگران بنو گے تو اگر تم سے ہو سکے ‘ تو اپنے ہاتھوں کو ان کے خون سے محفوظ رکھنا اپنے پیٹ کو ان کے اموال سے بچا کے رکھنا اور اپنی زبان کو ان کی عزتوں سے محفوظ رکھنا تم ایسا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اغر نامی راوی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9009

Majma al-Zawaid #9009

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ مُعَاوِيَةُ [لِيَزِيدَ] حَجَّ، فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا يَزِيدَ فَبَايِعُوهُ فَقَامَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُ، فَإِنَّ أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ وَجَدِّي خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ وَأُمِّي خَيْرٌ مِنْ أُمِّهِ وَأَنَا خَيْرٌ مِنْهُ. فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ جَدَّكَ خَيْرٌ مِنْ جَدِّهِ فَصَدَقْتَ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أُمَّكَ خَيْرٌ مَنْ أُمِّهِ فَصَدَقْتَ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مَنْ بِنْتِ مُجَدَّلٍ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ، فَقَدْ قَارَعَ أَبُوكَ أَبَاهُ فَقَضَى اللَّهُ لِأَبِيهِ عَلَى أَبِيكَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ خَيْرٌ مِنْهُ، فَلَهُوَ أَرَبُّ مِنْكَ وَأَعْقَلُ مَا يَسُرُّنِي بِهِ مِثْلُكَ أَلْفٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شَيْخٌ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin reports that when Muawiyah took pledge for Yazid he performed Hajj passing Madinah and addressed the people, we have pledged Yazid so pledge him. Al-Husayn ibn Ali stood saying, by Allah I am worthier of it than he, my father better than his father, my grandfather better than his grandfather, my mother better than his mother, and I better than he. Muawiyah answered, as to your grandfather better than his, true, the Messenger better than Abu Sufyan. As to your mother better than his, true, Fatimah better than the daughter of Mujaddal. As to your father better than his, your father contended with his and Allah decreed for his over yours. As to you better than he, he is more cunning and wiser than you, I would not delight in a thousand like you for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے لئے بیعت لی اس کے بعد وہ حج کرنے کے لئے آئے ان کا گزر مدینہ منورہ سے ہوا ۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ہم نے یزید کے لئے بیعت لے لی ہے ‘ تو تم لوگ بھی اس کی بیعت کرو تو حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ اور بولے : اللہ کی قسم ! اس ( حکومت ) کے بارے میں ‘ میں اس ( یعنی یزید ) سے زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میرے والد اس کے والد سے بہتر ہیں میرے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہیں اور میں اس سے بہتر ہوں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ کے نانا اس کے دادا سے بہتر ہیں ، تو آپ نے ٹھیک کہا ہے اللہ کے رسول حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ آپ کی والدہ اس کی ماں سے بہتر ہے ‘ تو آپ نے یہ بھی سچ کہا ہے اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مجدل کی بیٹی ( یعنی یزید کی ماں ) سے بہتر ہیں جہاں تک آپ نے یہ بات ذکر کی ہے آپ کے والد اس کے باپ سے بہتر ہیں ، تو آپ کے والد نے اس کے والد کے ساتھ قرعہ اندازی کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے مقابلے میں اس کے والد کے حق میں فیصلہ دیدیا جہاں تک آپ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ اس سے بہتر ہیں ، تو یہ آپ سے زیادہ سمجھ دار اور زیادہ عقل مند ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں آپ جیسے ہزار فرد مل جائیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن ربیع ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ایک ایسا شیخ ہے جو معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9010

Majma al-Zawaid #9010

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"When pledge is given to two caliphs, kill the latter of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب دو خلفاء کی بیعت کر لی جائے ‘ تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

9011

Majma al-Zawaid #9011

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ فِي الْكَلَامِ الَّذِي جَرَى بَيْنَهُمَا فِي بَيْعَةِ يَزِيدَ: وَأَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا كَانَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَتَانِ فَاقْتُلُوا آخِرَهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Jubayr reports that Abdullah ibn al-Zubayr said to Muawiyah in their dispute over Yazid's pledge, O Muawiyah, you told me the Messenger said. > **"When there are two caliphs on earth, kill the latter of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے جب یزید کی بیعت کے بارے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی ‘ تو اس دوران انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا : اے معاویہ ! آپ نے مجھے یہ بات بتائی تھی ‘ کہ ” جب زمین میں دو خلیفہ ہوں ، تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9012

Majma al-Zawaid #9012

عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ. قَالَ: أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَاضٍ بِهِ [وَأَنَا رَاضٍ بِهِ، وَأَنَا رَاضٍ بِهِ] .. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abi Mulaykah reports that it was said to Abu Bakr, O Caliph of Allah. He said, I am the caliph of the Messenger of Allah, and I am content with it, and I am content with it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا گیا : اے اللہ کے خلیفہ ! تو انہوں نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا خلیفہ ہوں ‘ اور میں اس بات سے راضی ہوں ‘ اور میں اس بات سے راضی ہوں ‘ اور میں اس بات سے راضی ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن ملیکہ نامی شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

9013

Majma al-Zawaid #9013

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَلَّمَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الشَّامِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ. فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي قَصَّرَ فِي كُنْيَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ عَابُوا عَلِيَّ شَيْئًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ أَمَا إِنِّي قَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنِّي لَأَخَالَهُ قَدْ كَانَ بَعْضَ الَّذِي تَقُولُ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ حِينَ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ قَالُوا: وَاللَّهِ لَنَعْرِفَنَّ دِينَنَا وَلَا نُقَصِّرُ تَحِيَّةَ خَلِيفَتِنَا، وَإِنِّي لَأَخَالَكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ أَمِيرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاوِيَةَ وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَفِي مَنَاقِبِ عُمَرَ: أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri reports that Uthman ibn Hunayf greeted Muawiyah with Syrians present saying, peace upon you O Amir. They asked, who is this hypocrite who shortened the title of Amir al-Muminin. Uthman said to Muawiyah, they blame me for what you know better, for I greeted Abu Bakr, Umar and Uthman with it. Muawiyah said, I think it was as you say, but Syrians since the tribulation say, by Allah we know our religion and shorten not greeting of our caliph, and I think you Medinans call the charity collector amir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو سلام کیا اس وقت ان کے پاس اہل شام موجود تھے ۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر آپ کو سلام ہو ! اہل شام نے کہا : یہ منافق شخص کون ہے ؟ جس نے امیرالمؤمنین کے لفظ کو مختصر کر دیا ہے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا یہ لوگ مجھ پر ایک ایسی چیز کے حوالے سے اعتراض کر رہے ہیں جس کے بارے میں آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ میں نے ان کلمات کے ذریعے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی سلام کیا ہے ‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ ایسا ہوا تھا جس طرح تم بیان کر رہے ہو لیکن جب اختلافات پیدا ہو گئے ‘ تو اہل شام یہ کہتے ہیں : کہ اللہ کی قسم ! ہم اپنے دین کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں اور ہم اپنے خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے الفاظ میں کی نہیں کریں گے اے اہل مدینہ ! تم لوگوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم لوگ زکوۃ وصول کرنے والے اہلکار کو بھی امیر کہتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے تاہم اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب میں یہ بات شامل ہے کہ وہ پہلے فرد ہیں جنہیں ’’ امیر المؤمنین “ کا خطاب دیا گیا ۔

9014

Majma al-Zawaid #9014

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبَدَ الْمُطَّلِبِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا؟ "" قَالَ: [بَلْ] نَفْسٌ أُحْيِيهَا. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that Hamzah ibn Abd al-Muttalib came to the Messenger saying, O Messenger of Allah, place me over something to live by. The Messenger said, O Hamzah, is a soul you give life to dearer to you or a soul you kill. He said, a soul I give life to. He said, upon you is your own soul. > **"O Hamzah, is a soul you give life to dearer to you or a soul you kill. Upon you is your own soul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی کام کا نگران مقرر کر دیں تاکہ اس کے ذریعے میں زندگی گزار سکوں ( یعنی روزی کما سکوں ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے حمزہ کسی جان کو زندگی دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا اسے موت دینا آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ بلکہ کسی جان کو زندگی دینا محبوب ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر آپ پر اپنے آپ کا خیال رکھنا لازم ہے ( یا اپنے آپ کو زندگی دینا لازم ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9015

Majma al-Zawaid #9015

«وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ. قَالَ: "" أَكَذَاكَ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ، وَأَعْطَانِي إِنَاءً أَتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا فَقَالَ: "" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ "". فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِمُسْلِمٍ "" ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ - أَوْ دَاءٌ - "". فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي فَقَالَ: "" مَا شَأْنُكَ؟ "" فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟! قَالَ: "" هُوَ مَا سَمِعْتَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hibban ibn Buh al-Sudai reports that his people disbelieved and he heard the Prophet prepared an army to them, so he came saying his people are upon Islam. He asked, is it so, he said yes. He followed him till dawn, called adhan, was given a vessel, the Prophet placed fingers therein and springs burst, saying whoever wishes ablution let him perform. He prayed and was appointed over them with their charity. A man complained of injustice and the Prophet said, no good in leadership for a Muslim. Then a beggar asked charity and he said charity is headache and burning in belly, so he returned his document of command and charity asking how to accept after hearing that, and he said, it is as you heard. > **"Is it so. Whoever wishes ablution let him perform. No good in leadership for a Muslim. Charity is headache in the head and burning in the belly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے لوگ کافر تھے مجھے یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم ﷺ ان کی طرف لشکر روانہ کرنے لگے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : میری قوم اسلام پر عمل پیرا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ایسا ہی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں راوی کہتے ہیں : میں رات بھر صبح ہونے تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہا پھر میں نے نماز کے لئے اذان دی پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں اس سے وضو کر لوں نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں ، تو ان انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرنا چاہتا ہو وہ وضو کر لے میں نے وضو کیا میں نے نماز ادا کی نبی اکرم ﷺ نے مجھے میری قوم کا امیر مقرر کیا اور مجھے ان کے صدقات وصول کرنے کا نگران مقرر کیا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کے لئے امیر ہونے میں بھلائی نہیں ہے پھر ایک اور ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے آپ سے صدقہ مانگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا صدقہ ‘ تو سر کا درد ہوتا ہے ‘ اور پیٹ میں آگ کا باعث ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیماری کا باعث ہوتا ہے راوی کہتے ہیں : تو میں نے صحیفہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے امیر ہونے اپنے صدقات وصول کرنے کا نگران ہونے کا صحیفہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے آپ کی زبانی یہ بات سن لی ہے ‘ تو اب میں اسے کیسے قبول کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ویسا ہی ہے جس طرح تم نے سنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9016

Majma al-Zawaid #9016

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِهِمْ يَوْمٌ وَدَّ أَنَّهُ مُعَلَّقٌ بِالنَّجْمِ، وَأَنَّهُ لَمْ يَلِ عَمَلًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ النَّصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that she heard the Messenger say. > **"Woe to the rulers, woe to the overseers, woe to the trustees. A day shall come upon one when he wishes he hung from a star and never held office."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے ‘ اور امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) ان لوگوں پر ایک ایسا دن آئے گا کہ جب وہ شخص یہ آرزو کرے گا کہ اسے ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا لیکن وہ کسی ریاستی عہدے کا ذمہ دار نہ بنا ہوتا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید نسری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم مدلس ہے ۔

9017

Majma al-Zawaid #9017

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ فِي طَرِيقَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet said. > **"Woe to the rulers, woe to the overseers, woe to the trustees. Peoples on Resurrection shall wish their forelocks hung by Thurayya swaying between heaven and earth and they never held anything."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : امراء کے لئے بربادی ہے عرفاء کے لئے بربادی ہے امناء کے لئے بربادی ہے ( یعنی سرکاری اہلکاروں کے لئے بربادی ہے ) قیامت کے دن کچھ لوگ یہ آرزو کریں گے کہ ان کے بالوں کے ذریعے انہیں ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا وہ آسمان اور زمین کے درمیان جھول رہے ہوتے لیکن انہوں نے کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہ دی ہوتی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور چار میں سے دو طریق کے ان کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔

9018

Majma al-Zawaid #9018

وَعَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ؟ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ، وَمَا كَلَّمَهُمْ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ: فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةً تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi al-Tai, companion of Abu Bakr in Dhat al-Salasil, reports that he asked him of their pledge, and he told of the Ansar's speech and his speech to them and Umar's speech reminding of his leading them by the Messenger's order in illness, so they pledged him for that and he accepted fearing tribulation followed by apostasy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رافع طائی ، جو غزوہ ذات السلاسل میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : کہ ان لوگوں کی بیعت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ‘ تو انہوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ انصار کا کیا موقف تھا ‘ اور انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا بات چیت کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے انصار سے کیا بات چیت کی اور کس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو میری امامت کے بارے میں ترغیب دی کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران جو حکم دیا تھا ( کہ میں امامت کروں ) تو انصار نے اس حوالے سے میری بیعت کر لی اور میں نے اس بیعت کو ان کے حوالے سے قبول کر لیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی فتنہ نہ آ جائے جس کے بعد مرتد ہونا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد علی بن عیاش کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

9019

Majma al-Zawaid #9019

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ «أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ؟ "" قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ قَالَ: وَلَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَيَزِيدُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Mawhab reports that Uthman said to Ibn Umar, judge among people. He said, I shall not judge between two nor lead two, did you not hear the Messenger say, whoever seeks refuge in Allah has sought mighty refuge. He said yes. He said, I seek refuge in Allah from your employing me, so he excused him saying, tell none. > **"Whoever seeks refuge in Allah has sought mighty refuge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن موہب بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں ( یعنی قاضی کے فرائض سر انجام دیں ) انہوں نے فرمایا : میں ‘ تو دو آدمیوں کے درمیان بھی فیصلہ نہیں دوں گا ‘ اور میں ، تو دو آدمیوں کی بھی امامت ( یا حکمرانی ) نہیں کروں گا کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے ’’ جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے وہ زبردست پناہ لیتا ہے ‘‘۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ مجھے سرکاری اہلکار مقرر کریں ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور کہا : تم اس بارے میں کسی کو نہ بتانا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9020

Majma al-Zawaid #9020

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بِئْسَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نِعْمَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ لِمَنْ أَخْذُهَا بِحَقِّهَا وَحِلِّهَا، وَبِئْسَ الشَّيْءُ الْإِمَارَةُ لِمَنْ أَخَذَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا تَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reports that he said before the Prophet, evil is leadership, and the Prophet said. > **"Good is leadership for one who takes it in its right and lawful, and evil is leadership for one who takes it without its right. It shall be regret on Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے انہوں نے کہا حکومت ایک بری چیز ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ حکومت ایک اچھی چیز ہے اس شخص کے لئے جو اس کے حق کے ہمراہ اور اس کی حلال چیزوں کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے ‘ اور حکومت اس شخص کے حق میں بری چیز ہے جو اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے قیامت کے دن یہ اس شخص کے لئے حسرت کا باعث ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9021

Majma al-Zawaid #9021

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، وَهُوَ أَخِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ افْتَتَحَ إِيلِيَاءَ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ يُرَاجِعُ مُعَاوِيَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «يَذْكُرُ الْإِمَارَةَ فَقَالَ: "" أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ، وَثَالِثُهَا عَذَابٌ [مِنَ اللَّهِ] يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ رَحِمَ وَعَدَلَ وَقَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا بِيَدِهِ بِالْمَالِ "". ثُمَّ سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ: "" كَيْفَ بِالْعَدْلِ مَعَ ذِي الْقُرْبَى»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws, brother of Hassan and conqueror of Iliya for Muawiyah, reports while reviewing Muawiyah that he heard the Messenger mention leadership saying. > **"Its first is blame, its second regret, its third punishment from Allah on Resurrection, except one who shows mercy and is just and gives wealth thus and thus with his hand."** Then he fell silent as Allah willed then said, how can justice be with kin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ جو حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے لئے ایلیاء کو فتح کیا تھا انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امارت کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم ﷺ کو امارت کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ندامت ہے ‘ اور تیسری چیز قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا عذاب ہو گا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو رحم کرتا ہے ‘ اور عدل سے کام لیتا ہے ‘ اور اس اس طرح کرتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے مال کے بارے میں فرمایا ( کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر جب تک اللہ کو منظور تھا نبی اکرم ﷺ اس وقت تک خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : رشتے داروں کی موجودگی میں عدل کیسے ہو سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مزنی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

9022

Majma al-Zawaid #9022

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأَتُكُمْ عَنِ الْإِمَارَةِ وَمَا هِيَ؟ "". فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَثَانِيهَا نَدَامَةٌ وَثَالِثُهَا عَذَابٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ عَدَلَ، وَكَيْفَ يَعْدِلُ مَعَ قَرَابَتِهِ»؟ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said, shall I tell you of leadership and what it is. He called thrice in loudest voice, what is it O Messenger. He said. > **"If you wish I tell you of leadership and what it is. Its first is blame, its second regret, its third punishment on Resurrection except one who is just. And how can he be just with his kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں امارت کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ‘ تو میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اس کی پہلی چیز ملامت ہے دوسری ملامت ہے ‘ اور تیسری قیمت کے دن عذاب ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو عدل سے کام لیتا ہے ‘ اور اپنے قرابت داروں کی موجودگی میں وہ کیسے عدل کر سکتا ہے ؟‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9023

Majma al-Zawaid #9023

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - قَالَ شَرِيكٌ: لَا أَدْرِي رَفْعَهُ أَمْ لَا؟ - قَالَ: "" الْإِمَارَةُ أَوَّلُهَا نَدَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا غَرَامَةٌ، وَآخِرُهَا عَذَابٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports, Sharik doubted its raising, that leadership is first regret, middle fine, last punishment on Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : شریک نامی راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل کی ہے ۔ یا مرفوع حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل نہیں کی ہے وہ فرماتے ہیں : ’’ امارت کا ابتدائی حصہ ندامت ہے درمیانی حصہ تاوان ہے ‘ اور آخری حصہ قیامت کے دن عذاب ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

9024

Majma al-Zawaid #9024

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ عَلَى جَرِيدَةَ خَيْلٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: "" كَيْفَ رَأَيْتَ؟ "" قَالَ: رَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ وَيَصْنَعُونَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَيْسَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ ذَاكَ "". فَقَالَ الْمِقْدَادُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى عَمَلٍ أَبَدًا. فَكَانُوا يَقُولُونَ لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ بِنَا فَيَأْبَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ مَعِينٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger employed al-Miqdad ibn al-Aswad al-Kindi over a cavalry detachment, and on return asked how he found it. He said he saw them exalting and acting till he thought himself not so, and the Prophet said, it is so. Al-Miqdad swore by Him who sent him with truth never to work an office again, and they would ask him to lead prayer and he refused. > **"How did you find it. It is so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ ’’ جریدہ خیل ‘‘ کا عامل مقرر کیا جب وہ آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیسا پایا ؟ تو انہوں نے عرض کی : میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ بلند کرتے تھے اور وہ کام کرتے تھے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ میں ایسا نہیں ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہے ‘ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اب میں کبھی کوئی ریاستی ذمہ داری سرانجام نہیں دوں گا راوی کہتے ہیں : لوگ ان سے یہ کہا کرتے تھے : آپ آگے بڑھ کے ہمیں نماز پڑھا دیں ‘ تو وہ یہ بات بھی نہیں مانتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن داؤد ابوحمزہ ہے ‘ جسے امام احمد ابن حبان اور یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

9025

Majma al-Zawaid #9025

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَبْعَثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي: "" كَيْفَ تَجِدُ نَفْسَكَ؟ "" قُلْتُ: مَا زِلْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ مَعِي خَوَلًا لِي وَايْمُ اللَّهِ لَا أَتَأَمَّرُ عَلَى رَجُلَيْنِ بَعْدَهَا أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَيْرَ بْنَ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger sent him on a mission and on return asked how he finds himself. He said he ever thought servants were with him, and by Allah he shall never command even two men after it. > **"How do you find yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک جگہ بھیجا جب میں واپس آیا تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تم نے اپنے آپ کو کیسا پایا ؟ میں نے عرض کی : میں مسلسل یہی گمان کرتا رہا کہ میرے ساتھ میرے غلام ہیں ( جو میری فرمانبرداری کر رہے ہیں ) اللہ کی قسم ! اب میں اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کا امیر بھی نہیں بنوں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اور عبداللہ بن احمد نامی ایک راوی ہے جو ثقہ اور مامون ہے ۔

9026

Majma al-Zawaid #9026

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ الْحَضْرَمِيُّ: فِي كِتَابِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ رَجُلٍ - قَالَ: «اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَلَمَّا مَضَى وَرَجَعَ إِلَيْهِ قَالَ لَهُ: "" كَيْفَ وَجَدْتَ الْإِمَارَةَ؟ "" قَالَ: كُنْتُ كَبَعْضِ الْقَوْمِ إِذَا رَكَنْتُ رَكَنُوا وَإِذَا نَزَلْتُ نَزَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ [صَاحِبَ] السُّلْطَانِ عَلَى بَابِ عَتَبٍ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - "". فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ لَا أَعْمَلُ لَكَ وَلَا لِغَيْرِكَ أَبَدًا. فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn al-Harith reports from a man, in Abu Kurayb's book from Humayd from a man, that the Prophet employed a man over a detachment, and on return asked how he found command. He said he was as the folk, when he inclined they inclined, when he halted they halted. The Prophet said, the bearer of authority is at the gate of reproach except whom Allah protects. The man swore never to work for him or another, and the Prophet laughed till his molars appeared. > **"How did you find command. The bearer of authority is at the gate of reproach except whom Allah protects."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن حارث نے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ حضرمی کہتے ہیں : ابوکریب کی تحریر میں یہ بات ہے کہ حمید کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ایک جنگی مہم کا عامل مقرر کیا وہ شخص چلا گیا اور پھر جب وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم نے امارت کو کیسا پایا ؟ اس نے عرض کی : میں ‘ تو لوگوں کی طرح ایک عام فرد تھا جب میں مائل ہوتا تھا تو وہ بھی مائل ہو جاتے تھے جب میں پڑاؤ کرتا تھا تو وہ بھی پڑاؤ کر لیتے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ریاستی عہدہ رکھنے والا شخص عتاب کے دروازے پر ہوتا ہے البتہ جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اس کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس شخص نے کہا اللہ کی قسم ! اب میں نہ ‘ تو آپ کے لئے ‘ اور نہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے ‘ کبھی کسی کے لئے کوئی ذمہ داری سر انجام نہیں دوں گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔