Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 2

Book of the Caliphate

Hadith 8947–8986

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8947

Majma al-Zawaid #8947

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا عَلِيُّ إِنْ وَلِيتَ الْأَمْرَ بَعْدِي، فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ قَيْسٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said. > **"O Ali, if you take charge after me, expel the people of Najran from the Arabian Peninsula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! اگر تم میرے بعد حکمران بنے ‘ تو تم اہل نجران کو جزیرہ نما عرب سے نکال دینا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس ہے جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ قیس بن ربیع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8948

Majma al-Zawaid #8948

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ، فَتَنَفَّسَ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ "". قُلْتُ: فَاسْتَخْلِفْ. قَالَ: "" مَنْ؟ "" قُلْتُ: أَبَا بَكْرٍ. قَالَ: فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ "". قُلْتُ: فَاسْتَخْلِفْ. قَالَ: "" مَنْ؟ "" قُلْتُ: عُمَرَ. فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ "". قُلْتُ: فَاسْتَخْلِفْ. قَالَ: "" مَنْ؟ "" قُلْتُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: "" أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ أَطَاعُوهُ لَيَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ أَجْمَعِينَ أَكْتَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مِينَا وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reports that he was with the Prophet on the night of the delegation of the jinn, and he breathed and he asked what is wrong. He said, my death has been announced to me O Ibn Masud. He said, appoint a successor. He said, whom. He said, Abu Bakr, and he fell silent. After a while he breathed again and said the same, he said Umar, and he fell silent. Again he breathed and he said Ali ibn Abi Talib. > **"My death has been announced to me. By Him in Whose Hand is my soul, if they obey him they shall all enter Paradise entirely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا نبی اکرم ﷺ نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے اپنی ذات کے حوالے سے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ‘ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے پھر کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : پھر آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ‘ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے پھر ہم کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہرا سانس لیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے کہا : آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر لوگ اس کی اطاعت کریں ‘ تو وہ سب کے سب ‘ جنت میں داخل ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مینا ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

8949

Majma al-Zawaid #8949

وَعَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَكُونُ الْخِلَافَةُ فِيهِمْ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَتَلُوا عُثْمَانَ، فَلَا تَعُودُ الْخِلَافَةُ فِيهِمْ أَبَدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Maymunah reports that Muawiyah ibn Abi Sufyan said, the people of Makkah expelled the Messenger of Allah so the caliphate shall not be among them, and the people of Madinah killed Uthman so the caliphate shall never return among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومیمونہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل مکہ نے اللہ کے رسول کو نکالا تھا تو ان کے درمیان خلافت نہیں ہو گی اور اہل مدینہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو ان کے درمیان خلافت کبھی واپس نہیں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8950

Majma al-Zawaid #8950

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ "". وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah say, among you is one who shall fight for the interpretation of the Quran as I fought for its revelation. Abu Bakr asked, is it I, he said no. Umar asked, is it I, he said no, but it is the mender of the sandal, and he had given Ali his sandal to mend. > **"Among you is one who shall fight for the interpretation of the Quran as I fought for its revelation. It is the mender of the sandal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ تم میں سے ایک فرد ایسا ہے جو قرآن کی تفسیر کے حوالے سے جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ جوتوں کو گانٹھنے والا ہو گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ﷺ کو اپنے جوتے دیے تھے اور وہ انہیں گانٹھ رہے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8951

Majma al-Zawaid #8951

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ عَلِيًّا عَلَى مِنْبَرِكُمْ هَذَا يَقُولُ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُقَاتِلَ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Rabiah reports that he heard Ali upon this minbar say, the Prophet covenanted to me to fight the breakers of pledges, the unjust deviators, and the seceders from religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمہارے اس منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں ( بیعت ‘ یا عہد کو ) توڑنے والوں ‘ حق سے روگرداں ہونے والوں اور ( دین سے ) نکل جانے والوں سے جنگ کروں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8952

Majma al-Zawaid #8952

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ «أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيَّنَّا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: "" يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وَلِيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ "". قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى ابْتُلِيتُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ فَوَصَلَهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Amr ibn Said ibn al-As reports that Muawiyah took the water vessel after Abu Hurayrah to follow the Messenger, and Abu Hurayrah complained ill. While Muawiyah performed ablution for the Messenger he raised his head once or twice and said. > **"O Muawiyah, if you are given authority, fear Allah and be just."** Muawiyah said, I ever thought I would be tried with office because of that saying until I was tried.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن لے لیا جسے وہ ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلا کرتے تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کو وضو کروا رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے وضو کے دوران اپنا سر اٹھا کر ایک یا شاید دو مرتبہ دیکھا اور پھر فرمایا : اے معاویہ ! اگر تم حکمران بن گئے ‘ تو تم اللہ سے ڈرنا اور عدل سے کام لینا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مسلسل میں پر امید رہا کہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے مجھے حکومت ملے گی یہاں تک کہ مجھے وہ مل گئی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور یہ روایت مرسل ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سعید کے حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے موصول روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ عبدالملک بن عمر کے حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ‘ توثیق کی گئی ہے ۔

8953

Majma al-Zawaid #8953

عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: "" انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ نَجْمًا؟ "" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" مَا تَرَى؟ "" قَالَ: قُلْتُ: الثُّرَيَّا. قَالَ: "" أَمَا إِنَّهُ سَيَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَيْنِ فِي فِتْنَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَيْسَرَةَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا فِي تَرْجَمَةِ أَبِي قُبَيْلٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas, may Allah be pleased with him, reports that he was with the Prophet one night and he said, look, do you see a star in the sky. He said yes. He said, what do you see. He said, al-Thurayya. He said. > **"As many as its number shall rule this nation from your loins, O uncle, in tribulation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : آپ دیکھیں کہ آپ کو آسمان میں کوئی ستارہ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : آپ نے کیا دیکھا ہے میں نے جواب دیا : ثریا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ عنقریب اتنی ہی تعداد میں ‘ آپ کی اولاد میں سے لوگ اس امت کے حکمران بنیں گے ‘ جو ایک آزمائش ( کے بعد حکمران بنیں گے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومیسرہ ہے جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں البتہ ابوقبیل کے ترجمہ میں اس کا تذکرہ ہے امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8954

Majma al-Zawaid #8954

«وَعَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ عِنْدِي لَحَدِيثًا، وَلَوْ أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ بِهِ الدُّنْيَا أَكَلْتُهَا، وَلَكِنْ لَا يَسْأَلُنِي اللَّهُ عَنْ حَدِيثٍ أَرْفَعُهُ إِلَى السُّلْطَانِ، قَالَ أَبِي: قُلْتُ: مَا هُوَ؟ فَقَالَ: لَمَّا خَرَجَ زَيْدٌ أَتَيْتُ خَالَتِي الْغَدَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّهُ قَدْ خَرَجَ زَيْدٌ فَقَالَتْ: الْمِسْكِينُ يُقْتَلُ كَمَا قُتِلَ آبَاؤُهُ. فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّهُ خَرَجَ مَعَهُ ذَوُو الْحِجَا. فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ فَقَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَذَاكَرُوا الْخِلَافَةَ بَعْدَهُ فَقَالُوا: وَلَدُ فَاطِمَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَصِلُونَ إِلَيْهَا أَبَدًا وَلَكِنَّهَا فِي وَلَدِ عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي حَتَّى يُسَلِّمُوهَا إِلَى الدَّجَّالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Muawiyah reports that he had a narration by which he could earn the world but would not carry it to the ruler. His father asked what it is. He said, when Zayd revolted he came to his maternal aunt next morning saying Zayd has revolted. She said, the poor one shall be killed as his fathers were. He said, men of understanding went with him. She said, I was with Umm Salamah, wife of the Prophet, when they mentioned the caliphate and she said, they were with the Prophet and mentioned the caliphate after him saying the children of Fatimah. The Messenger said. > **"They shall never reach it, but it is in the children of my uncle and namesake of my father until they hand it to the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعاویہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ فرماتے ہیں : میرے پاس ایک حدیث موجود ہے اگر میں چاہوں ‘ تو اس کے ذریعے دنیا حاصل کر سکتا ہوں ، لیکن اللہ تعالیٰ مجھ سے ایسی حدیث کے بارے میں نہیں دریافت کرے گا ‘ جو میں حکمران تک لے کے جاؤں ، میرے والد نے کہا وہ روایت کون سی ہے ؟ انہوں نے بتایا جب امام زید نے خروج کیا ، تو اگلے دن صبح میں اپنی خالہ کے پاس آیا میں نے ان سے کہا : اے امی جان ! امام زید نے خروج کر لیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ مسکین قتل ہو گا جس طرح اس کے باپ دادا قتل ہوئے تھے میں نے ان سے کہا : ان کے ساتھ صاحب حیثیت لوگوں نے بھی خروج کیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں لوگوں نے خلافت کا تذکرہ کیا ‘ تو سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ۔ لوگوں نے آپ کے بعد خلافت کا تذکرہ کیا اور عرض کی : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کو ( خلافت ملے گی ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اس تک کبھی نہیں پہنچیں گے بلکہ خلافت میرے چچا کی اولاد میں سے ہو گی جو میرے والد کے سگے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگ اسے ( یعنی حکومت کو ) دجال کے حوالے کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8955

Majma al-Zawaid #8955

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: "" «لَا يَمْلِكُ أَحَدٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ سَنَةً إِلَّا مَلَكَ وَلَدُ الْعَبَّاسِ سِنِينَ "". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ كَمَا أَنَّكَ هَهُنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يُونُسَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that no one of Banu Umayyah shall rule a year but a child of al-Abbas shall rule years. A sitter said, O Abu Hamzah, did the Messenger say it. He said, yes, as surely as you are here. > **"No one of Banu Umayyah shall rule a year but a child of al-Abbas shall rule years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بنوامیہ میں سے اگر کوئی شخص ایک سال حکمران رہے گا ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد کا فرد دو سال ( یا چند سال ) حکمران رہے گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا : اے ابوحمزہ کیا یہ بات نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! جس طرح تم یہاں ہو ( اسی طرح یہ حقیقت ہے کہ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یونس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8956

Majma al-Zawaid #8956

وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: «مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ فَقَالَ: "" يَا أُمَّ الْفَضْلِ "" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ "" قُلْتُ: وَكَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ؟ قَالَ: "" هُوَ مَا أَقُولُ فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ "" قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُهُ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ "" قَالَتْ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَعْلَمْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا لَبَّاسًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ فَتَلَبَّسَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا عَمِّيَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ "". فَقَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضُ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَلِمَ لَا أَقُولُ هَذَا يَا عَمُّ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي وَوَارِثِي، وَخَيْرُ مَنْ أَخْلُفُ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَهْلِي؟! "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: "" هِيَ يَا عَبَّاسُ بَعْدَ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةٍ، ثُمَّ مِنْكُمُ السَّفَّاحُ وَالْمَنْصُورُ وَالْمَهْدِيُّ، وَهِيَ فِي أَوْلَادِهِمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمِ الَّذِي يُصَلِّي بِالْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Fadl, may Allah be pleased with her, reports that she passed the Messenger sitting at al-Hijr and he said, O Umm al-Fadl, she answered. He said, you are pregnant with a boy. She said, how when Quraysh have sworn not to approach women. He said, it is as I say, and when you deliver bring him to me. When she delivered she brought him, he called adhan in his right ear and iqamah in his left, fed him of his saliva and named him Abdullah, then said, take away the father of the caliphs. She told al-Abbas, a handsome tall well-dressed man, who dressed and came to the Prophet. The Prophet rose, kissed between his eyes, seated him at his right and said, this is my uncle, let whoever wills boast of his uncle. Al-Abbas said, some saying O Messenger. He said, why should I not say, O uncle, while you are my uncle, remnant of my fathers, my heir and best of my family I leave behind. He asked about Umm al-Fadl's words. He said, it is after one hundred thirty-two, then among you al-Saffah, al-Mansur and al-Mahdi, and it remains in their children until the last of them prays with the Messiah Isa son of Maryam. > **"Look, do you see a star. You are pregnant with a boy. Take away the father of the caliphs. This is my uncle, let whoever wills boast of his uncle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزری آپ اس وقت حطیم میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ایک لڑکے کا حمل ہے میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ‘ جبکہ قریش نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ خواتین کے پاس نہیں جائیں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ویسا ہی ہو گا جیسے میں نے کہا ہے ‘ جب تم اس بچے کو جنم دو تو اسے میرے پاس لے کے آنا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب میں نے اس بچے کو جنم دیا تو میں اس کو لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی نبی اکرم ﷺ نے اس کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آپ نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس کا نام عبداللہ رکھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خلفاء کے باپ کو لے جاؤ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ ایک خوش لباس ‘ وجیہ و شکیل ، لمبی قامت کے شخص تھے ، انہوں نے ( باہر جانے کا ) لباس پہنا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے جب انہیں ملاحظہ فرمایا : تو آپ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور پھر انہیں دائیں طرف بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا یہ میرے چچا ہیں جو شخص چاہے وہ اپنے چچا کے ساتھ مقابلہ کر لے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یا رسول اللہ ! ایک بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں یہ بات کیوں نہ کہوں کہ یہ چچا ہیں جبکہ آپ میرے چچا ہیں اور میرے آباء و اجداد کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور میرے وارث ہیں اور ان سب میں بہتر ہوں گے جنہیں میں اپنے خاندان کے افراد میں سے پیچھے چھوڑ کے جاؤں گا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ام فضل نے یہ ‘ یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا اے حضرت عباس ! یہ ایک سو بتیس کے بعد ہو گا پھر آپ لوگوں کی اولاد میں سفاح ہو گا منصور ہو گا مہدی ہو گا ‘ اور یہ حکومت ان کی اولاد میں باقی رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری فرد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن راشد ہلالی ہے اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔

8957

Majma al-Zawaid #8957

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ بِيَدِ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَبَّاسُ إِنَّهُ لَا تَكُونُ نُبُوَّةٌ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا خِلَافَةٌ، وَسَيَلِي مِنْ وَلَدِكَ آخِرَ الزَّمَانِ سَبْعَةَ عَشَرَ، مِنْهُمُ السَّفَّاحُ، وَمِنْهُمُ الْمَنْصُورُ، وَمِنْهُمُ الْمَهْدِيُّ وَلَيْسَ بِمَهْدِيٍّ، وَمِنْهُمُ الْجَمُوحُ، وَمِنْهُمُ الْعَاقِبُ، وَمِنْهُمُ الْوَاهِنُ مِنْ وَلَدِكَ، وَوَيْلٌ لِأُمَّتِي مِنْهُ كَيْفَ يَعْقِرُهَا وَيُهْلِكُهَا وَيَذْهَبُ بِأَمْوَالِهَا هُوَ وَأَتْبَاعُهُ عَلَى غَيْرِ دِينِ الْإِسْلَامِ، فَإِذَا بُويِعَ لِصُلْبِهِ فَعِنْدَ الثَّامِنِ عَشَرَ انْقِطَاعُ دَوْلَتِهِمْ وَخُرُوجُ أَهْلِ الْمَغْرِبِ مِنْ بُيُوتِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُعَلِّمِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir, may Allah be pleased with him, reports that he saw the Messenger take the hand of his uncle al-Abbas and say. > **"O Abbas, there is no prophethood but caliphate follows it. At the end of time seventeen from your children shall rule, among them al-Saffah, al-Mansur, al-Mahdi who is no Mahdi, al-Jamuh, al-Aqib, al-Wahin from your children. Woe to my nation from him, how he shall hamstring it, destroy it and consume its wealth, he and his followers upon other than Islam. When allegiance is given to his loins, at the eighteenth their state ends and the people of the west emerge from their homes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر ارشاد فرمایا : اے حضرت عباس ! جب بھی نبوت ہو تو اس کے بعد خلافت ہوتی ہے آخری زمانے میں آپ کی اولاد کے لوگ حکمران بنیں گے وہ سترہ افراد ہوں گے ان میں سے ایک سفاح ہو گا ان میں سے ایک منصور ہو گا ان میں سے ایک مہدی ہو گا ‘ جو مہدی نہیں ہو گا ان میں سے ایک جموح ہو گا ان میں سے ایک عاقب ہو گا ان میں سے ایک واہن ہو گا ‘ جو آپ کی اولاد میں سے ہو گا ‘ اور اس کے حوالے سے میری امت کے لئے بربادی ہے کہ وہ کیسے انہیں بانجھ کر دے گا انہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ان کے اموال ضائع کر دے گا وہ اور اس کے پیرو کار لوگ دین اسلام پر نہیں ہوں گے اور جب اس کے سگے بیٹے کی بیعت کی جائے گی ‘ تو اٹھارویں فرد کے وقت ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور اہل مغرب اپنے گھروں سے نکل آئیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاول بن عبداللہ معلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8958

Majma al-Zawaid #8958

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ: "" لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلُكَ مِنْ وَلَدِكَ يَا عَمُّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ انْقِطَاعِ دَوْلَتِهِمْ وَهُوَ الثَّامِنُ عَشَرَ، يَكُونُ مَعَهُ فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ يُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ آلَافٍ تِسْعَةُ آلَافٍ وَتِسْعُمِائَةٍ، لَا يَنْجُو مِنْهَا إِلَّا الْيَسِيرُ يَكُونُ قِتَالُهُمْ بِمَوْضِعٍ مِنَ الْعِرَاقِ "". قَالَ: فَبَكَى الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُبْكِيكَ؟ إِنَّهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَطْلُبُونَ الدُّنْيَا وَلَا يَهْتَمُّونَ لِلْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مِينَاءُ وَهُوَ كَذَّابٌ خَبِيثٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said to al-Abbas. > **"O uncle, the world shall not pass until one of your children rules at the end of time at the end of their state, the eighteenth, with a blind deaf tribulation in which nine thousand nine hundred of every ten thousand are killed and few escape, their fighting in a place in Iraq."** Al-Abbas wept and he said, what makes you weep, they are the worst of my nation who dart out of religion as the arrow darts from the target, seeking this world caring not for the Hereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اے چچا ! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک آپ کی اولاد میں سے آخری زمانے میں کچھ افراد حکمران نہیں بنیں گے اور پھر ان کی حکومت ختم ہو جائے گی اور وہ اٹھارواں فرد ہو گا جس کے ساتھ ایک ایسا فتنہ ہو گا ‘ جو گونگا ‘ اور بہرا کر دے گا ‘ اور اس کے دوران ہر دس ہزار افراد میں سے نو ہزار نو سو افراد قتل ہو جائیں گے صرف معمولی سے لوگ اس سے بچیں گے اور ان کی لڑائی عراق نامی جگہ پر ہو گی راوی کہتے ہیں : ‘ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ رو پڑے نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ یہ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے جو دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے یہ لوگ دنیا کے طلبگار ہوں گے اور انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میناء ہے ‘ اور وہ کذاب اور خبیث ہے ۔

8959

Majma al-Zawaid #8959

وَعَنْ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَذْهَبُ وَلَدُ الْعَبَّاسِ حَتَّى تَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ أَحْيَاءُ الْعَرَبِ، فَيَكُونُ أَشَدُّ مَا يَكُونُ لَيْسَ لَهُمْ فِي السَّمَاءِ نَاصِرٌ وَلَا فِي الْأَرْضِ عَاذِرٌ كَأَنِّي بِهِمْ عَلَى بَغْلَاتِهِمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيِّ الْكُوفَةِ فَتَقُولُ الْعَاتِقُ فِي خِدْرِهَا: اقْتُلُوهُمْ قَتْلَهُمُ اللَّهُ لَا تَرْحَمُوهُمْ لَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ فَطَالَمَا لَمْ يَرْحَمُونَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Nufayr ibn Malik reports that the Messenger of Allah said. > **"The children of al-Abbas shall not perish until the tribes of the Arabs rage against them, at their hardest with no helper in heaven nor excuser on earth. As if I see them upon their mules in Kufa and the veiled maiden in her chamber says, kill them, may Allah kill them, show them no mercy, may Allah show them no mercy, for long they showed us no mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نفیر بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک عرب کے قبیلے ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہیں ہوں گے اور اس وقت کی صورت حال ان کے لئے سب سے زیادہ سخت ہو گی ‘ جب نہ تو آسمان میں ان کا کوئی مددگار ہو گا ‘ اور نہ زمین میں کوئی ان کا عذر پیش کرنے والا ہو گا میں گویا اس وقت بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کوفہ کے درمیان اپنے خچروں پر سوار ہوں گے اور اس وقت کوئی پردہ نشین عورت پردے میں یہ کہے گی : ان لوگوں کو قتل کر دو ! اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے تم ان پر رحم نہ کرنا اللہ تعالیٰ ان پر رحم نہ کرے ‘ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ہم پر رحم نہیں کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث آگے چل کر ظلم و ستم کرنے والے حکمرانوں سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

8960

Majma al-Zawaid #8960

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ بَشِيرُ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ فَقَالَ: يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ [اللَّهُ] أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا [ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا]، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُبُوَّةٍ "". ثُمَّ سَكَتَ». قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ فَقُلْتُ: إِنِّي لَأَرْجُوَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ - بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ فَأَدْخَلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَسُّرَ بِهِ وَأَعْجَبَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ النُّعْمَانِ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with them both, reports that they sat in the mosque and Bashir was reticent, then Abu Thalabah al-Khushani asked, O Bashir ibn Sad, do you remember the narration about rulers. Hudhayfah said, I remember his sermon, and Abu Thalabah sat. Hudhayfah said, the Messenger of Allah said. > **"Prophethood shall be among you as long as Allah wills, then He lifts it when He wills. Then caliphate upon the method of prophethood as long as Allah wills, then He lifts it. Then biting kingship as long as Allah wills, then He lifts it. Then tyrannical kingship as long as Allah wills, then He lifts it. Then caliphate upon the method of prophethood."** Then he fell silent. Habib said, when Umar ibn Abd al-Aziz rose and Yazid ibn al-Numan was among his companions, he wrote this narration reminding him hoping the Commander of the Believers after the biting and tyrannical kingship is Umar, and Umar was pleased.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ایسے شخص تھے جو زیادہ بات نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے ‘ اور بولے اے بشیر بن سعد کیا آپ کو نبی اکرم ﷺ کی حکمرانوں کے بارے میں حدیث یاد ہے ‘ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مجھے نبی اکرم ﷺ کا خطبہ یاد ہے پھر حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ‘ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :’’ جب تک اللہ کو منظور ہو گا نبوت تمہارے درمیان رہے گی ( یعنی نبی تمہارے درمیان زندہ رہیں گے ) پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت ہو گی جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ، تو اسے اٹھا لے گا پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا ‘ تو اسے اٹھا لے گا پھر آمریت والی بادشاہی ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا وہ رہے گی پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اسے اٹھا لے گا پھر نبوت کی منہاج پر خلافت آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے ۔ حبیب نامی راوی کہتے ہیں : جب حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے اور یزید بن نعمان بن بشیر ان کے ساتھیوں میں شامل ہوئے ‘ تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ کر دی اور میں نے انہیں یہ بات یاد کروائی میں نے کہا : مجھے یہ امید ہے کہ اس سے مراد امیرالمؤمنین یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز ہی ہوں گے کیونکہ وہ مضبوطی والی اور آمریت والی بادشاہی کے بعد آئے ہیں انہوں نے میرا مکتوب حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سامنے پڑھ کر سنایا تو وہ اس پر خوش ہوئے ‘ اور انہیں یہ اچھا لگا ۔ یہ روایت امام احمد نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول روایات کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8961

Majma al-Zawaid #8961

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: «كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ يَتَنَاجَيَانِ بَيْنَهُمَا بِحَدِيثٍ فَقُلْتُ لَهُمَا: مَا حَفِظْتُمَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَوْصَاهُمَا بِي. فَقَالَا: مَا أَرَدْنَا أَنْ نَنْتَجِيَ بِشَيْءٍ دُونَكَ إِنَّا ذَكَرْنَا حَدِيثًا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَا يَتَذَاكَرَانِهِ وَقَالَا: "" إِنَّهُ بَدَأَ هَذَا الْأَمْرُ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ كَائِنٌ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ كَائِنٌ مُلْكًا عَضُوضًا، ثُمَّ كَائِنٌ عُتُوًّا وَجَبْرِيَّةً وَفَسَادًا فِي الْأُمَّةِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ [وَالْفُرُوجَ] وَالْفَسَادَ [فِي الْأُمَّةِ] يُنْصَرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُرْزَقُونَ أَبَدًا حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَحْدَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنْ أَوَّلَ دِينِكُمْ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً» "" فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Thalabah al-Khushani, may Allah be pleased with him, reports that Muadh ibn Jabal and Abu Ubaydah whispered and he said, have you not remembered the bequest of the Messenger who entrusted you with me. They said, we only recalled a narration he told us. > **"This affair began as prophethood and mercy, then shall be caliphate and mercy, then biting kingship, then insolence and tyranny and corruption in the nation. They shall permit silk, wine, private parts and corruption in the nation, and shall be helped and provided upon that until they meet Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث کے بارے میں سرگوشی میں بات کر رہے تھے میں نے ان دونوں سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی وصیت کو یاد نہیں رکھا نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں صاحبان کو میرے بارے میں وصیت کی تھی ان دونوں نے کہا ہم نے یہ ارادہ نہیں کیا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر سرگوشی میں کوئی بات چیت کریں ہم ‘ تو ایک حدیث کا ذکر کر رہے تھے جو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمائی تھی پھر ان دونوں نے حدیث کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی ( کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ) ’’ اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر مضبوطی والی بادشاہی ہو گی پھر سرکشی اور آمریت ہو گی اور اس امت میں فساد ہو گا کہ وہ لوگ ریشم اور شراب اور شرمگاہوں کو حلال قرار دیں گے اور اس امت میں فساد ہو گا کہ اس بارے میں ان کی مدد کی جائے گی اور انہیں ہمیشہ رزق دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے صرف حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے دین کا آغاز نبوت اور رحمت کے ساتھ ہوا ہے اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔

8962

Majma al-Zawaid #8962

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ مُعَاذٍ وَأَبِي عُبَيْدَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي يَعْلَى وَزَادَ: "" «يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ، وَالْفُرُوجَ، وَالْخُمُورَ» "". وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani reports from Muadh and Abu Ubaydah that the Messenger said similar to Abu Yala's narration adding, they shall permit silk, private parts and wines. > **"They shall permit silk, private parts and wines."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ وہ دونوں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد راوی نے امام ابویعلیٰ کی نقل کردہ حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ’’ وہ لوگ ریشم ، شرمگاہوں ‘ اور شراب کو حرام قرار دیدیں گے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8963

Majma al-Zawaid #8963

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: «لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْفَعْنِي إِلَى رَجُلٍ حَسَنِ التَّعْلِيمِ، فَدَفَعَنِي إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ثُمَّ قَالَ: "" قَدْ دَفَعْتُكَ إِلَى رَجُلٍ يُحْسِنُ تَعْلِيمَكَ وَأَدَبَكَ "". فَأَتَيْتُ وَهُوَ وَبَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو النُّعْمَانِ يَتَحَدَّثَانِ فَلَمَّا رَأَيَانِي سَكَتَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَاجْلِسْ حَتَّى نُحَدِّثَكَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ فِيكُمُ النُّبُوَّةَ ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا وَجَبْرِيَّةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَرَجُلٌ مَجْهُولٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abu Thalabah al-Khushani, may Allah be pleased with him, reports that he met the Messenger and asked, entrust me to a man of good teaching, and he entrusted him to Abu Ubaydah ibn al-Jarrah saying, I entrust you to one who teaches and disciplines well. He came while Abu Ubaydah and Bashir ibn Sad conversed and fell silent on seeing him. He said, by Allah this is not as the Messenger told me. He said, sit till we tell you. > **"Among you is prophethood, then caliphate upon the method of prophethood, then kingship and tyranny."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کسی ایسے شخص کے سپرد کیجئے جو اچھی طرح تعلیم دیتا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا اور پھر ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں ایک ایسے شخص کے حوالے کیا ہے جو تمہیں اچھے طریقے سے تعلیم دے گا ‘ اور تمہاری اچھی تربیت کرے گا ۔ حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں آیا تو اس وقت حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ‘ حضرت ابونعمان بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے جب ان دونوں نے مجھے دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے میں نے کہا : اے حضرت ابوعبیدہ ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے ‘ تو مجھے اس طرح بیان نہیں کیا تھا انہوں نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ہم تمہیں بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تمہارے درمیان نبوت ہو گی پھر نبوت کی منہاج پر خلافت ہو گی اور پھر بادشاہت اور آمریت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی مجہول بھی ہے ۔

8964

Majma al-Zawaid #8964

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ إِمَارَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَتَكَادَمُونَ عَلَيْهَا تَكَادُمَ الْحَمِيرِ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ رِبَاطِكُمْ عَسْقَلَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"The first of this affair is prophethood and mercy, then caliphate and mercy, then kingship and mercy, then command and mercy. Then they shall jostle over it as donkeys jostle. Upon you is jihad, the best of your jihad is guarding the frontier, and the best of your guarding is Asqalan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اس معاملے کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر بادشاہی اور رحمت ہو گی پھر حکمرانی اور رحمت ہو گی اور پھر لوگ اس کے حوالے سے یوں ایک دوسرے کو کاٹیں گے جس طرح گدھے ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں ، تو تم پر جہاد کرنا لازم ہے ‘ اور تمہارے جہاد میں سب سے زیادہ فضیلت پہریداری کو حاصل ہے ‘ اور تمہاری سب سے زیادہ فضیلت والی پہریداری عسقلان میں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8965

Majma al-Zawaid #8965

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ جَابِرٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ، وَمِنْ بَعْدِ الْخُلَفَاءِ أُمَرَاءُ، وَمِنْ بَعْدِ الْأُمَرَاءِ مُلُوكٌ، وَمِنْ بَعْدِ الْمُلُوكِ جَبَابِرَةٌ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جُورًا، ثُمَّ يُؤَمَّرُ الْقَحْطَانِيُّ فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا هُوَ دُونَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Jabir al-Sadafi from his father from his grandfather reports that the Messenger of Allah said. > **"There shall be after me caliphs, after the caliphs princes, after the princes kings, after the kings tyrants. Then a man of my household shall emerge filling the earth with justice as it was filled with injustice. Then the Qahtani shall be appointed, and by Him who sent me with truth he is no less than him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن جابر صدفی ‘ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور خلفاء کے بعد امراء ہوں گے اور امراء کے بعد بادشاہ ہوں گے اور بادشاہوں کے بعد ظالم حکمران ہوں گے پھر میرے اہل بیت کا ایک شخص نکلے گا ‘ جو زمین کو عدل سے یوں بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی پھر ایک قحطانی کو امیر بنایا جائے گا اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے وہ اس سے کم نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8966

Majma al-Zawaid #8966

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثُونَ نُبُوَّةٌ، وَمُلْكٌ ثَلَاثُونَ وَجَبَرُوتٌ، وَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ لَا خَيْرَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَطَرُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّمْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"Thirty years prophethood, and thirty years kingship and tyranny, and no good in what is beyond that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تیس ( سال ) نبوت ہو گی تیس سال بادشاہی اور جبر کی حکومت ہو گی اور پھر اس کے بعد جو ہو گا اس میں بھلائی نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطر بن علاء رملی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8967

Majma al-Zawaid #8967

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمْ يَمْلُكُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ خَلِيفَةٍ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُذْ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ، وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Masruq reports that they sat with Abdullah while he taught Quran, and a man asked, O Abu Abd al-Rahman, did you ask the Messenger how many caliphs shall rule this nation. Abdullah said, none asked me since I came to Iraq before you, yes we asked the Messenger and he said. > **"Twelve, like the number of the chiefs of the Children of Israel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے ایک شخص نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ اس امت میں خلافت کب تک رہے گی ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب سے میں عراق آیا ہوں تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا پھر انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! ہم نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ” بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد میں بارہ ( خلفاء ) ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8968

Majma al-Zawaid #8968

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَمِّي عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ: "" «لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي صَالِحًا حَتَّى يَمْضِيَ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً "" وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ، فَقُلْتُ لِعَمِّي وَكَانَ أَمَامِي: مَا قَالَ يَا عَمُّ؟ قَالَ: "" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Juhayfah, may Allah be pleased with him, reports that he was with his uncle at the Prophet while he preached saying, the affair of my nation shall remain sound until twelve caliphs pass, and he lowered his voice. He asked his uncle before him what he said, he said. > **"The affair of my nation shall remain sound until twelve caliphs pass. All of them from Quraysh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے چچا کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا آپ خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت کا معاملہ ٹھیک رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء گزر جائیں ‘‘۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے پست آواز میں کوئی بات ارشاد فرمائی ، میں نے اپنے چچا سے دریافت کیا : جو مجھ سے آگے موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے : اے چچا ! انہوں نے جواب دیا : ( نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے : ) ’’ ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8969

Majma al-Zawaid #8969

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا مَلَكَ اثْنَا عَشَرَ مِنْ بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ كَانَ الْبُغْضُ وَالنِّفَاقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ذُؤَادُ بْنُ عُلَبْةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ ذُؤَادٍ تِلْمِيذُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"When twelve of Bani Murrah ibn Kab rule, hatred and hypocrisy shall last till the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بنو مرہ بن کعب میں سے جب بارہ افراد حکمران بن جائیں گے ‘ تو پھر قیامت تک بغض اور نفاق ( حکومتی معاملات میں رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں زواد بن عبلہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور ایک راوی اسماعیل بن ذؤاد ہے ‘ جو اس کا شاگرد ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8970

Majma al-Zawaid #8970

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: "" «اثْنَا عَشَرَ قَيِّمًا مِنْ قُرَيْشٍ لَا يَضُرُّهُمْ عَدَاوَةُ مَنْ عَادَاهُمْ» "". فَالْتَفَتُّ خَلْفِي فَإِذَا أَنَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي أُنَاسٍ فَأَثْبَتُوا لِي الْحَدِيثَ كَمَا سَمِعْتُ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مِنْ حَدِيثِهِ وَحَدِيثِ أَبِيهِ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger preaching on the minbar say. > **"Twelve custodians of Quraysh, the enmity of whoever opposes them shall not harm them."** He turned behind and Umar ibn al-Khattab among people confirmed the narration as he heard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ بارہ حکمرانوں کا تعلق قریش سے ہو گا ‘ جو شخص ان سے دشمنی رکھے گا اس کی دشمنی انہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ‘‘۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں موجود تھے ‘ انہوں نے میری اس حدیث کو اسی طرح درست قرار دیا جس طرح میں نے سنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں ‘ ان کی اور ان کے والد کی نقل کردہ حدیث کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

8971

Majma al-Zawaid #8971

وَفِي رِوَايَةٍ: "" لَا تَزَالُ هَذِهِ "". وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In a version, this affair shall remain, with Rawh ibn Ata who is weak. > **"This affair shall remain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ یہ معاملہ مسلسل اسی طرح رہے گا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8972

Majma al-Zawaid #8972

رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَحْدَهُ زَادَ فِيهِ: ثُمَّ رَجَعَ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ: "" «ثُمَّ يَكُونُ الْهَرَجُ» "". وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bazzar reports from Jabir ibn Samurah alone adding that the Prophet returned home and he asked, what then, he said. > **"Then shall be killing and chaos."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام بزار نے صرف حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ اپنے گھر واپس تشریف لے گئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : پھر کیا ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : پھر قتل و غارت گری ہو گی ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

8973

Majma al-Zawaid #8973

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَجَاءَ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: فِدَاؤُكَ أَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا، مَاتَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَأْنِهِمْ إِلَّا ذَكَرَهُ، قَالُوا: وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَوْ سَلَكَتِ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ "". وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ: "" قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ "". قَالَ: فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Abd al-Rahman reports that the Messenger died while Abu Bakr was in a district of Madinah. He came, uncovered his face, kissed him and said, may my father and mother be for you, how pure alive and dead, Muhammad has died by the Lord of the Kabah. Then Abu Bakr and Umar set out till they reached them, and Abu Bakr spoke omitting nothing revealed in Quran or mentioned by the Messenger concerning them. They said, you know the Messenger said, had people take a valley and the Ansar a valley I would take the valley of the Ansar. And you know O Sad, while you sat, the Messenger said, Quraysh are guardians of this affair, the righteous of people follow their righteous and the wicked follow their wicked. Sad said, you spoke truth, we are ministers and you are princes. > **"Had people take a valley and the Ansar take a valley, I would take the valley of the Ansar. Quraysh are guardians of this affair."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے وہ آئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا نبی اکرم ﷺ کو بوسہ دیا اور پھر بولے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندہ ہونے اور وصال فرمانے کے بعد کتنے پاکیزہ ہیں ! رب کعبہ کی قسم ! حضرت محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ انصار کے پاس آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ‘ تو کوئی ایسی چیز ترک نہیں کی جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہو یا جس کا ذکر نبی اکرم ﷺ نے کیا ہو جس کا تعلق ان کے معاملے سے تھا وہ ہر چیز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ذکر کر دی لوگوں نے کہا : آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا ‘‘۔ ( تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سعد ! تم یہ بات جانتے ہو جب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو تم بھی اس وقت وہاں موجود تھے ( آپ نے فرمایا تھا : ) ’’ قریش اس معاملے کے نگران بنیں گے لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے پیروکار ہوں گے اور لوگوں میں سے برے لوگ ان کے برے لوگوں کے پیروکار ہوں گے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ نے سچ کہا ہے ہم لوگ وزیر ہوں گے اور آپ لوگ امیر ہوں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ صحیح میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے البتہ حمید بن عبدالرحمن نامی راوی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

8974

Majma al-Zawaid #8974

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, reports that his ears heard and his heart retained from the Messenger of Allah. > **"People follow Quraysh, their righteous follow their righteous and their wicked follow their wicked."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے کانوں نے یہ بات سنی ہے ‘ اور میرے دل نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کو محفوظ رکھا ہے ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ لوگ قریش کے تابع ہوں گے لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے اور لوگوں میں سے برے لوگ ان کے برے لوگوں کے پیروکار ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ‘ اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ‘ توثیق کی گئی ہے ۔

8975

Majma al-Zawaid #8975

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «خَطَبَ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "" أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ أَلَا إِنَّ الْأُمَرَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ مَا أَقَامُوا بِثَلَاثٍ: مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَمَا عَاهَدُوا فَوَفُّوا، وَمَا اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعَنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger addressed the people one day saying. > **"Verily rulers are from Quraysh, verily rulers are from Quraysh, verily rulers are from Quraysh, as long as they uphold three: when they judge they are just, when they covenant they fulfill, when mercy is sought they show mercy. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے خبردار ! حکمران قریش میں سے ہوں گے ‘ جب تک وہ تین کام کریں گے فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیں گے اور عہد کریں ، تو اس کو پورا کریں ‘ اور جب ان سے رحم مانگا جائے ‘ تو رحم کریں ‘ ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8976

Majma al-Zawaid #8976

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ: أَبْرَارُهَا أُمَرَاءُ أَبْرَارِهَا، وَفُجَّارُهَا أُمَرَاءُ فُجَّارِهَا، وَلِكُلٍّ حَقٌّ، فَآتُوا كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ [مُجَدَّعٌ] فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا لَمْ يُخَيِّرْ أَحَدَكُمْ بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَضَرْبِ عُنُقِهِ، فَإِذَا خَيَّرَ [بَيْنَ إِسْلَامِهِ وَبَيْنَ ضَرْبِ عُنُقِهِ] فَلْيَمْدُدْ عُنُقَهُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ فَلَا دُنْيَا لَهُ وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيِّ قَالَ الْحَاكِمُ: حَدَّثَ بِغَيْرِ حَدِيثٍ لَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"The leaders are from Quraysh. Their righteous are rulers of their righteous, and their wicked are rulers of their wicked. Each has a right, so give each rightful his right. Even if a mutilated Abyssinian slave is appointed over you, hear and obey him, unless one of you is given choice between his Islam and striking of his neck. If he is given choice between his Islam and striking of his neck, let him stretch his neck, may his mother weep, for no world nor Hereafter remains after loss of his religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حکمران قریش میں سے ہوں گے قریش کے نیک لوگ ‘ لوگوں میں سے نیک لوگوں کے حکمران ہوں گے اور قریش کے برے لوگ لوگوں میں سے برے لوگوں کے حکمران ہوں گے اور ہر فرد کا حق ہوتا ہے ‘ تو تم ہر حق دار کو اس کا حق دو اگر تم پر ایسے حبشی غلام کو امیر بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں ، تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ! جب تک وہ تم میں سے کسی ایک شخص کو اس چیز کا اختیار نہیں دیتا کہ وہ یا تو اسلام کو باقی رکھے یا پھر قتل ہو جائے ‘ جب وہ کسی شخص کو اسلام باقی رکھنے یا قتل ہو جانے کے درمیان اختیار دے ‘ تو پھر آدمی کو اپنی گردن آگے کر دینی چاہیے اس کی ماں اسے روئے ‘ جب اس کا دین رخصت ہو گیا تو نہ دنیا اس کے لئے فائدہ مند ہو گی نہ آخرت ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد حفص بن عمر بن صباح رقی سے نقل کی ہے ۔ امام حاکم کہتے ہیں : اس نے اس کے علاوہ ایک ایسی حدیث نقل کی ہے ۔ جس میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

8977

Majma al-Zawaid #8977

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «بَيَّنَّا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرِيبًا مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ، لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفِيحَةَ وُجُوهٍ [رِجَالٍ قَطُّ] أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَإِنَّكُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ، فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ عَلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى [هَذَا] الْقَضِيبُ "". لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلُدُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reports that they were near eighty men of Quraysh with the Messenger, none but Qurashi, and he never saw more beautiful faces. They mentioned women till he wished silence. He came and testified then said. > **"O assembly of Quraysh, you are guardians of this affair as long as you do not disobey Allah. When you disobey Him He shall send upon you one who peels you as this stick is peeled."** For a stick in his hand, then he peeled it till white and smooth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ہم تقریباً اسی افراد تھے جن کا تعلق قریش سے تھا ان میں موجود ہر فرد قریشی تھا اللہ کی قسم ! میں نے اس دن ان لوگوں کے چہروں سے زیادہ خوبصورت چہرے کبھی نہیں دیکھے ان لوگوں نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بات چیت شروع کی یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ وہ خاموش ہو جائیں حضرت عبداللہ کہتے ہیں : پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ اما بعد ! اے قریش کے گروہ ! تم لوگ اس معاملے کے نگران بنو گے ‘ جب تک تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے جب تم اس کی نافرمانی کرو گے ‘ تو وہ تم پر ایسے لوگوں کو بھیج دے گا ‘ جو تمہیں اس طرح چھیل دیں گے ، جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک میں موجود ایک چھڑی کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی : پھر آپ نے اس چھڑی کو چھیلا تو وہ ملائم اور سفید ہو گئی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

8978

Majma al-Zawaid #8978

وَعَنْ بُكَيْرِ بْنِ وَهْبٍ الْجَزِرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي أَنَسٌ: أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ: "" الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَإِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ، مَا إِنِ اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِنْ عَاهَدُوا وَفُّوا، وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْهُمَا وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Bukayr ibn Wahb al-Jazari reports that Anas said, shall I tell you a narration I do not tell everyone. The Messenger stood at the door of the house while they were inside and said. > **"The leaders are from Quraysh. I have a right over you, and they have a like right over you, as long as when mercy is sought they show mercy, when they covenant they fulfill, when they judge they are just. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people."** In a version al-Bazzar said kingship is in Quraysh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بکیر بن وہب جزری بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا میں تمہیں ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں ہر ایک کو بیان نہیں کرتا ہوں نبی اکرم ﷺ گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہم لوگ اس گھر کے اندر موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حکمران قریش میں سے ہوں گے میرا تم لوگوں پر حق ہے اور اُن لوگوں کا بھی تم پر اس کی مانند حق ہے ‘ جب تک ان سے رحم مانگا جائے ‘ تو وہ رحم کریں گے اور جب وہ عہد کریں ، تو وہ پورا کریں اور جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں گے ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ جو ان دونوں سے زیادہ مکمل ہے اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” بادشاہی قریش میں ہو گی “۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

8979

Majma al-Zawaid #8979

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَائْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"I have a right over Quraysh, and Quraysh have a right over you, as long as they judge justly, when entrusted they discharge, when mercy is sought they show mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا قریش پر حق ہے ‘ اور قریش کا تم لوگوں پر حق ہے ‘ جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں اور جب انہیں امین بنایا جائے ، تو وہ ادائیگی کریں اور جب ان سے رقم مانگا جائے ‘ تو وہ رحم کریں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8980

Majma al-Zawaid #8980

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ: "" فِيكُمُ النُّبُوَّةُ وَالْمَمْلَكَةُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger said to al-Abbas. > **"Among you are prophethood and kingdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ آپ لوگوں ( یعنی قریش ) میں نبوت اور حکمرانی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن عامری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8981

Majma al-Zawaid #8981

وَعَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ وَإِنَّ فِي أُذُنِي لَقُرْطَيْنِ وَأَنَا غُلَامٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ "" ثَلَاثًا "" مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُ وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا سُكَيْنَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sayyar ibn Salamah Abu al-Minhal reports that he entered with his father upon Abu Barzah while as a boy with earrings in his ears, and he said the Messenger said. > **"Rulers are from Quraysh, rulers are from Quraysh, rulers are from Quraysh, as long as they do three: when they judge they are just, when mercy is sought they show mercy, when they covenant they fulfill. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیار بن سلامہ ابومنہال بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے کان میں دو بالیاں تھیں میں لڑکا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ حکمران قریش میں سے ہوں گے ‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( اور پھر فرمایا : ) ’’ جب تک وہ لوگ تین کام کریں گے فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لیں گے ‘ جب ان سے رحم مانگا جائے ، تو رحم کریں گے اور جب عہد کریں گے ‘ تو اس کو پورا کریں گے ان میں سے جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ ‘ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جس میں پورا واقعہ مذکور ہے امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سکین بن عبدالعزیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

8982

Majma al-Zawaid #8982

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقُرَيْشٍ: "" إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِيكُمْ وَأَنْتُمْ وُلَاتُهُ، حَتَّى تُحْدِثُوا أَعْمَالًا، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَ خَلْقِهِ، فَالْتَحُوكُمْ كَمَا يُلْتَحَى الْقَضِيبُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Masud al-Ansari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said to Quraysh. > **"This affair is among you and you are its guardians until you innovate deeds. When you do that Allah shall set over you the worst of His creation who shall peel you as the stick is peeled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے قریش سے فرمایا :’’ یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) تمہارے درمیان ہو گی اور تم اس کے نگران ہو گے یہاں تک کہ تم نئے ( منفی ) کام کرو گے ‘ جب تم ایسا کرو گے ‘ تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بدترین لوگ تم پر مسلط کر دے گا ‘ اور وہ لوگ تمہیں یوں چھیل دیں گے جس طرح چھڑی کو چھیلا جاتا ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف قاسم بن عبدالرحمن بن حارث کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

8983

Majma al-Zawaid #8983

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَابِ الْبَيْتِ لِبَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ وَأَخَذَ بِعَضَادَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: "" هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ؟ "" قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانِ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ "" ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا [دَامُوا] إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَّمُوا أَقْسَطُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ "" فَقَطْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger stood at the door of a house with Quraysh inside, holding the doorposts, asking if any but Qurashi is inside. They said only the son of our sister, and he said the nephew of a people is of them, then said. > **"The son of the sister of a people is of them. This affair is in Quraysh as long as when mercy is sought they show mercy, when they judge they are just, when they distribute they are equitable. Whoever of them does not do that, upon him is the curse of Allah, the angels and all people. None of his obligatory or voluntary deed is accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے اس گھر میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجو تھے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دروازے کے کواڑوں کو پکڑا اور ارشاد فرمایا : کیا گھر میں صرف قریشی افراد موجود ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک بھانجا ہے جو قریشی نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) قریش میں رہے گی جب تک وہ اس حال میں رہیں گے ‘ کہ جب ان سے رحم مانگا جائے ‘ تو وہ رحم کریں جب فیصلہ دیں ‘ تو عدل سے کام لیں جب تقسیم کریں ، تو انصاف سے کام لیں ان میں سے جو فرد ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ‘‘۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ قوم کا بھانجا ان کا ایک فرد ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

8984

Majma al-Zawaid #8984

وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَفِي وَسَ يَ عُ ودُ إِ لَ يْ هِ مْ». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَذَا هُوَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعٌ، وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ بِهِ عَلَى الِاسْتِوَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارِ الْحُرُوفِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Dhu Mikhbar, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah said. > **"This affair was in Himyar, then Allah removed it from them and placed it in Quraysh, and it shall return to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ذومخبر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ معاملہ ( یعنی حکومت ) حمیر میں تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے اسے الگ کر دیا اور اسے قریش میں رکھ دیا اور یہ عنقریب ان کی طرف لوٹ جائے گی ‘‘۔ عبداللہ کہتے ہیں : میری والد کی تحریر میں یہ الفاظ اسی طرح الگ الگ ذکر ہوئے ہیں لیکن جب وہ ہمیں یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو یہ پورا جملہ صحیح بولتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اسے حروف کے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

8985

Majma al-Zawaid #8985

وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ، وَكَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يَكْرِبَ، وَأَبُو أُمَامَةَ: «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا فِي قَوْمِكَ؟ قَالَ: "" بَلَى "". قَالَ: فَوَصِّهِمْ بِنَا. فَقَالَ لِقُرَيْشٍ: "" إِنِّي أُحَذِّرُكُمُ اللَّهَ أَنْ تَشُقُّوا عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي "". ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: "" سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ طَاعَتَهُمْ، فَإِنَّ الْأَمِيرَ مِثْلُ الْمِجَنِّ يُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ صَلُحُوا وَاتَّقَوْا وَأَمَرُوكُمْ بِخَيْرٍ، وَإِنْ أَسَاؤُوا وَأَمَرُوكُمْ بِهِ، فَعَلَيْهِمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَآءٌ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shurayh ibn Ubayd reports from Jubayr ibn Nufayr, Kathir ibn Murrah, Amr ibn al-Aswad, al-Miqdam ibn Madikarib and Abu Umamah that a man came to the Prophet asking if rule is only in his people, he said yes. He asked to enjoin them regarding us, so he said to Quraysh, I warn you by Allah lest you burden my nation after me, then said to the people. > **"I warn you by Allah lest you burden my nation after me. There shall be rulers after me, so render them their obedience, for the ruler is like a shield to be shielded with. If they are righteous and Godfearing and command you to good it is well, and if they do evil and command you to it, it is upon them and you are free of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : جبیر بن نفیر ، کثیر بن مرہ ، عمرو بن اسود ، حضرت مقدام بن معدیکرب اور حضرت ابوامامہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ معاملہ صرف آپ کی قوم میں رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : پھر ان لوگوں کو ہمارے بارے میں وصیت کر دیں نبی اکرم ﷺ نے قریش سے فرمایا میں تم لوگوں کو اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں کہ تم میرے بعد میری امت کو مشقت کا شکار کرو پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کی اطاعت کرنا کیونکہ امیر کی مثال ڈھال کی طرح ہوتی ہے جس کے ذریعے بچاؤ کیا جاتا ہے اگر وہ ٹھیک رہیں اور پرہیز گاری اختیار کریں اور بھلائی کا حکم دیں ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اور اگر وہ برائی کریں اور تمہیں برائی کا حکم دیں ‘ تو ان پر ( اس کا وبال ہو گا ) اور تم اس سے لاتعلق ہو گے “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8986

Majma al-Zawaid #8986

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مِلْحَةَ الْمُزَنِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَاعِدًا مَعَهُمْ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَقَالَ: "" ادْخُلُوا عَلَيَّ وَلَا يَدْخُلُ عَلَيَّ إِلَّا قُرَشِيٌّ "" فَتَسَالَّلْتُ فَدَخَلْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ هَلْ مَعَكُمْ أَحَدٌ لَيْسَ مِنْكُمْ؟ "" قَالُوا: نُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا مَعَنَا ابْنُ الْأُخْتِ وَالْمَوْلَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّكُمُ الْوُلَاةُ بَعْدِي لِهَذَا الْأَمْرِ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} [آل عمران: 103] {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} [آل عمران: 105] {وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ} [البينة: 5] يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي وَأَبْنَائِهِمْ وَأَبْنَاءِ أَبْنَائِهِمْ رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf al-Muzani, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger sat with them then entered his house saying none but Qurashi shall enter upon me. He asked if any not of them is with them, they said a nephew and a freedman, and he said the ally and nephew are of them, then enjoined Quraysh with unity and verses, and mercy for the Ansar. > **"The ally of a people is of them and the nephew of a people is of them. O assembly of Quraysh, you are guardians after me of this affair, so die not but as Muslims. Hold to the rope of Allah all together and be not divided. Be not as those who divided after clear proofs came. O assembly of Quraysh, preserve me in my Companions and their sons and sons of sons. May Allah have mercy on the Ansar and sons of the Ansar and sons of sons of the Ansar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف بن یزید بن ملحہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اندر آ جاؤ لیکن صرف قریشی اندر آئیں راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا اور اندر آ گیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے قریش کے افراد ! کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم آپ کو بتاتے ہیں ہمارے ساتھ ہمارا ایک بھانجا ہے ‘ اور ایک غلام ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا حلیف ان میں سے ایک ہوتا ہے ‘ اور قوم کا بھانجا ان میں سے ایک ہوتا ہے اے قریش کے گروہ ! تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنو گے ‘ تو تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا اور تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا اور فرقوں میں تقسیم نہ ہونا اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جو فرقوں میں تقسیم ہو گئے ‘ اور انہوں نے اختلاف کیا اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ گئی تھیں اور ان لوگوں کو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا کہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے ‘ اور صحیح راستے پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں وہ نماز قائم کریں زکوۃ ادا کریں یہی مضبوط دین ہے اے قریش کے گروہ ! میرے اصحاب ان کے بیٹوں ان کے بیٹوں کے بیٹوں کے بارے میں میرا دھیان رکھنا اللہ تعالیٰ انصار پر انصار کے بیٹوں پر انصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر رحمت فرمائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو مزنی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔