وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: «مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ بِالْحِجْرِ فَقَالَ: "" يَا أُمَّ الْفَضْلِ "" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ "" قُلْتُ: وَكَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ؟ قَالَ: "" هُوَ مَا أَقُولُ فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ "" قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعْتُهُ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى، وَأَلْبَأَهُ مِنْ رِيقِهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اذْهَبِي بِأَبِي الْخُلَفَاءِ "" قَالَتْ: فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَعْلَمْتُهُ، وَكَانَ رَجُلًا لَبَّاسًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ فَتَلَبَّسَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَامَ إِلَيْهِ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ أَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا عَمِّيَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ "". فَقَالَ الْعَبَّاسُ: بَعْضُ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَلِمَ لَا أَقُولُ هَذَا يَا عَمُّ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي وَوَارِثِي، وَخَيْرُ مَنْ أَخْلُفُ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَهْلِي؟! "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: "" هِيَ يَا عَبَّاسُ بَعْدَ ثِنْتَيْنِ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةٍ، ثُمَّ مِنْكُمُ السَّفَّاحُ وَالْمَنْصُورُ وَالْمَهْدِيُّ، وَهِيَ فِي أَوْلَادِهِمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمِ الَّذِي يُصَلِّي بِالْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رَاشِدٍ الْهِلَالِيُّ وَقَدِ اتُّهِمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
EnglishUnverified translation
Umm al-Fadl, may Allah be pleased with her, reports that she passed the Messenger sitting at al-Hijr and he said, O Umm al-Fadl, she answered. He said, you are pregnant with a boy. She said, how when Quraysh have sworn not to approach women. He said, it is as I say, and when you deliver bring him to me. When she delivered she brought him, he called adhan in his right ear and iqamah in his left, fed him of his saliva and named him Abdullah, then said, take away the father of the caliphs. She told al-Abbas, a handsome tall well-dressed man, who dressed and came to the Prophet. The Prophet rose, kissed between his eyes, seated him at his right and said, this is my uncle, let whoever wills boast of his uncle. Al-Abbas said, some saying O Messenger. He said, why should I not say, O uncle, while you are my uncle, remnant of my fathers, my heir and best of my family I leave behind. He asked about Umm al-Fadl's words. He said, it is after one hundred thirty-two, then among you al-Saffah, al-Mansur and al-Mahdi, and it remains in their children until the last of them prays with the Messiah Isa son of Maryam. > **"Look, do you see a star. You are pregnant with a boy. Take away the father of the caliphs. This is my uncle, let whoever wills boast of his uncle."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیده ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزری آپ اس وقت حطیم میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ایک لڑکے کا حمل ہے میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ‘ جبکہ قریش نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ خواتین کے پاس نہیں جائیں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ویسا ہی ہو گا جیسے میں نے کہا ہے ‘ جب تم اس بچے کو جنم دو تو اسے میرے پاس لے کے آنا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب میں نے اس بچے کو جنم دیا تو میں اس کو لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی نبی اکرم ﷺ نے اس کے دائیں کان میں اذان دی اور بائیں کان میں اقامت کہی اور آپ نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اس کا نام عبداللہ رکھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خلفاء کے باپ کو لے جاؤ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ ایک خوش لباس ‘ وجیہ و شکیل ، لمبی قامت کے شخص تھے ، انہوں نے ( باہر جانے کا ) لباس پہنا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے جب انہیں ملاحظہ فرمایا : تو آپ اٹھ کر ان کی طرف بڑھے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور پھر انہیں دائیں طرف بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا یہ میرے چچا ہیں جو شخص چاہے وہ اپنے چچا کے ساتھ مقابلہ کر لے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یا رسول اللہ ! ایک بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں یہ بات کیوں نہ کہوں کہ یہ چچا ہیں جبکہ آپ میرے چچا ہیں اور میرے آباء و اجداد کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور میرے وارث ہیں اور ان سب میں بہتر ہوں گے جنہیں میں اپنے خاندان کے افراد میں سے پیچھے چھوڑ کے جاؤں گا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ام فضل نے یہ ‘ یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا اے حضرت عباس ! یہ ایک سو بتیس کے بعد ہو گا پھر آپ لوگوں کی اولاد میں سفاح ہو گا منصور ہو گا مہدی ہو گا ‘ اور یہ حکومت ان کی اولاد میں باقی رہے گی یہاں تک کہ ان کا آخری فرد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن راشد ہلالی ہے اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔