Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 25 · Chapter 1

Book of the Caliphate

Hadith 8907–8946

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8907

Majma al-Zawaid #8907

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, said on the Day of Jamal that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, did not covenant to them any covenant to take regarding rule, but it was a matter of their own opinion. Then Abu Bakr, may Allah have mercy on him, was made successor and he established and remained upright, then Umar, may Allah have mercy on him, was made successor and he established and remained upright until religion became firmly settled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر انہوں نے یہ ارشاد فرمایا نبی اکرم ﷺ نے ہم سے حکومت کے بارے میں کوئی ایسا عہد نہیں لیا تھا جسے ہم اختیار کریں بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری اپنی رائے تھی ( نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ‘ تو انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور وہ سیدھے رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا ‘ انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور سیدھے رہے یہاں تک کہ دین مضبوط ہو گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8908

Majma al-Zawaid #8908

وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: قَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd Khayr reports that Ali ibn Abi Talib stood on the minbar and mentioned the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. He said that the Messenger of Allah was taken, then Abu Bakr was made successor and acted by his action and followed his way until Allah took him in that state, then Umar was made successor and acted by the action of both and followed their way until Allah took him in that state.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدخیر بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : کہ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے عمل کے مطابق عمل کیا اور آپ کے طریقے کے مطابق طریقہ اختیار کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حالت میں انہیں وفات دی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو انہوں نے ان دونوں صاحبان کے طریقے کے مطابق عمل کیا اور ان دونوں کے طریقوں کے مطابق چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی وفات دیدی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8909

Majma al-Zawaid #8909

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ: "" إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that it was said, O Messenger of Allah, whom shall we appoint after you. > **"If you appoint Abu Bakr you will find him trustworthy, detached from this world and desirous of the Hereafter. If you appoint Umar you will find him strong and trustworthy, whom no blame of a blamer overtakes regarding Allah. If you appoint Ali, and I do not see you doing so, you will find him guiding and guided, taking you upon the straight path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی ہے : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد ہم کسے امیر بنائیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ابوبکر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے امین پاؤ گے ‘ جو دنیا سے بے رغبت ہو گا ‘ اور آخرت میں رغبت رکھنے والا ہو گا ‘ اور اگر تم عمر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے قوی اور امین پاؤ گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اس کو اپنی گرفت میں نہیں لے گی اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے اور میرا نہیں خیال کہ تم ایسا کرو گے ‘ تو تم اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز پاؤ گے وہ تمہیں سیدھے راستے پر لے کے چلے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

8910

Majma al-Zawaid #8910

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالُوا: «يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: "" إِنِّي إِنْ أَسْتَخْلِفْ عَلَيْكُمْ فَتَعْصَوْنَ خَلِيفَتِي يَنْزِلْ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ "". قَالُوا: أَلَا نَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: "" إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ تَجِدُوهُ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ "" قَالُوا: أَلَا نَسْتَخْلِفُ عُمَرَ؟ قَالَ: "" إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ "". قَالُوا: أَلَا نَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا؟ قَالَ: "" إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ، وَلَنْ تَفْعَلُوا يَسْلُكْ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ، وَتَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو الْيَقْظَانِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn al-Yaman, may Allah be pleased with him, reports that they said, O Messenger of Allah, will you not appoint a successor over us. > **"If I appoint a successor over you and you disobey my successor, punishment will descend upon you. If you appoint Abu Bakr you will find him weak in body but strong in the affair of Allah. If you appoint Umar you will find him strong in body and strong in the affair of Allah. If you appoint Ali, and you will not do so, he will take you upon the straight path, and you will find him guiding and guided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر میں نے تم پر کسی کو خلیفہ مقرر کیا اور تم نے میرے خلیفہ کی نافرمانی کی ‘ تو تم پر عذاب نازل ہو گا لوگوں نے عرض کی : ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو تو تم اسے جسمانی طور پر کمزور لیکن اللہ کے معاملے میں قوی پاؤ گے لوگوں نے عرض کی : کیا ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو ‘ تو تم اسے جسمانی طور پر قوی اور اللہ کے معاملے میں بھی قوی پاؤ گے لوگوں نے عرض کی : کیا ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو ‘ ویسے تم ایسا کرو گے ‘ تو نہیں ، تو وہ تمہیں سیدھے راستے پر لے کے چلے گا ‘ اور تم اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز پاؤ گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویقظان عثمان بن عمیر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8911

Majma al-Zawaid #8911

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا أَسَّسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ جَاءَ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، وَجَاءَ عُمَرُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، وَجَاءَ عُثْمَانُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، قَالَتْ: فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "" هَذَا أَمْرُ الْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ التَّابِعِيِّ فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ. وَيَأْتِي حَدِيثُ جَرِيرٍ بَعْدَ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that when the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, founded the mosque of Madinah he brought a stone and placed it, then Abu Bakr brought a stone and placed it, then Umar brought a stone and placed it, then Uthman brought a stone and placed it. When asked about that he said. > **"This is the affair of the caliphate after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی ، تو آپ ایک پتھر لے کے آئے ‘ اور آپ نے اسے رکھ دیا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کے آئے ‘ اور انہوں نے اسے رکھ دیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پتھر لے کے آئے انہوں نے اسے رکھ دیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کے آئے انہوں نے اسے رکھ دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا میرے بعد خلافت کا معاملہ یہ ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عوام بن حوشب کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف تابعی کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بعد حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔

8912

Majma al-Zawaid #8912

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ إِلَى بُسْتَانٍ فَجَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ: "" يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ؟ قَالَ: "" أَعْلِمْهُ "" فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ: "" يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ؟ قَالَ: "" أَعْلِمْهُ "" فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ. قَالَ: ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ: "" يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَأَنَّهُ مَقْتُولٌ "". قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ. قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَهْ؟ وَاللَّهِ مَا تَعَنَّيْتُ وَلَا تَمَنَّيْتُ وَلَا مَسَسْتُ فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ. قَالَ: "" هُوَ ذَاكَ يَا عُثْمَانُ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" سَيَلِي أَمْرَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَّهُ سَيَلْقَى مِنَ الرَّعِيَّةِ شِدَّةً "" فَأَمَرَهُ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ يَكُفَّ». وَفِيهِ صَقْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ كَذَّابٌ. وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الْبَزَّارِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ: فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ دَخَلَ. وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, entered a garden and one came knocking. He said, O Anas, rise and open for him and give him glad tidings of Paradise and of the caliphate after me, and it was Abu Bakr. Then another came and he said, O Anas, open and give him glad tidings of Paradise and of the caliphate after Abu Bakr, and it was Umar. Then another came and he said, O Anas, open and give him glad tidings of Paradise and of the caliphate after Umar and that he will be killed, and it was Uthman. Uthman entered and said, O Messenger of Allah, why, by Allah I have never been insolent nor wished nor touched my private part since I pledged to you. > **"O Anas, rise and open for him and give him glad tidings of Paradise and of the caliphate after me. It is so, O Uthman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ایک باغ میں تشریف لے آئے ایک صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس اٹھ کر دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری دو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے بتا دو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا : آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور نبی اکرم ﷺ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور اسے ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے بتا دو میں نکلا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں کہا : آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور عمر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو اور یہ بتا دو کہ وہ مقتول ہو گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں باہر نکلا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا : آپ کو جنت کی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو اور یہ بات جان لیں کہ آپ شہید ہوں گے حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ اللہ کی قسم ! نہ ‘ تو میں نے کبھی کوئی سرکشی کی ہے ‘ اور نہ ہی میں نے کبھی اس کی آرزو کی ہے ‘ جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے میں نے ‘ تو اپنی شرمگاہ کو بھی نہیں چھوا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عثمان ایسا ہی ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ عنقریب ابوبکر اور عمر کے بعد میری امت کے معاملے کا نگران وہ بنے گا ‘ اور عنقریب وہ رعایا کی طرف سے شدت کا سامنا کرے گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ خود کو روک کے رکھیں ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی صقر بن عبدالرحمن ہے ‘ اور وہ کذاب ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی عتبہ ابوعمرو ہے ‘ جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال بزار کے رجال ہیں ، البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھا اور اندر آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی کی روایت حسب سابق ہے ۔

8913

Majma al-Zawaid #8913

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ. يَعْنِي فِي الْخِلَافَةِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فِي الْخِلَافَةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that in the lifetime of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, they used to say Abu Bakr, Umar and Uthman, meaning regarding the caliphate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہا کرتے تھے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان ( راوی کہتے ہیں : ( یعنی خلافت کے بارے میں ہم یہ کہا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ خلافت کے بارے میں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8914

Majma al-Zawaid #8914

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ نَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ؟ فَنَقُولُ: عُثْمَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that in the lifetime of the Messenger of Allah they used to say, who is most worthy of this affair, and they would say Abu Bakr. Then they would say, if Abu Bakr is taken, who is most worthy, and they would say Umar ibn al-Khattab. Then they would say, if Umar is taken, who is most worthy, and they would say Uthman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہا کرتے تھے کہ اس معاملہ ( یعنی خلافت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ ہم کہا کرتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے کہ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ‘ تو اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ‘ تو ہم یہ کہتے تھے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جاتا ہے ، تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ تو ہم یہ کہتے تھے : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

8915

Majma al-Zawaid #8915

وَعَنْ [أَبِي] خِداشِ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «كُنْتُ أَطْلُبُ حَاجَةً إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ: "" فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ "" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: "" فَأْتِ عُمَرَ "" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ عُمَرَ؟ قَالَ: "" فَعُثْمَانَ "" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ عُثْمَانَ؟ فَسَكَتَ فَأَعَدْتُ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Khidash ibn Umayyah, may Allah be pleased with him, reports that he sought a need from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and said, if I do not find you. > **"Then come to Abu Bakr. Then come to Umar. Then to Uthman."** He said, if I do not find Uthman, he fell silent, and he repeated it twice or thrice, and he said to himself, that is the bounty of Allah which He gives to whom He wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوخداش بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی : اگر میں آپ کو نہ پاؤں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تم ابوبکر کے پاس آ جانا میں نے عرض کی : اگر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی نہ پاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عمر کے پاس آ جانا میں نے عرض کی : اگر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی نہ پاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر عثمان ؟ میں نے عرض کی : اگر میں حضرت عثمان کو بھی نہ پاؤں ، تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے میں نے دو یا تین مرتبہ اپنی بات دہرائی پھر میں نے بعد میں یہ سوچا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ‘ جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ اور ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8916

Majma al-Zawaid #8916

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ نُسَلِّمْ عَلَيْهِمْ "". فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَرَحَّبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَهْلَ قُبَاءَ ائْتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هَذِهِ الْحَرَّةِ "" فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ، وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ، فَأَخَذَ حَجَرًا فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى حَجَرِي "" ثُمَّ قَالَ: "" يَا عُمَرُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ "" ثُمَّ قَالَ: "" يَا عُثْمَانُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ "" ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ بِأَخَرَةٍ فَقَالَ: "" وَضَعَ رَجُلٌ حَجَرَهُ حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذَلِكَ الْخَطِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jarir, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah came to Madinah he said to his Companions, come with us to the people of Quba to greet them. He said, O people of Quba, bring me stones from this lava ground, and many stones were gathered, and with his spear he marked their qiblah. He took a stone and placed it, then said. > **"O Abu Bakr, take a stone and place it by my stone. O Umar, take a stone and place it by the stone of Abu Bakr. O Uthman, take a stone and place it by the stone of Umar. Let each man place his stone where he loves upon that line."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم ہمارے ساتھ اہل قباء کی طرف چلو تاکہ ہم انہیں سلام کر لیں نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور آپ کو خوش آمدید کہا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اہل قباء میرے پاس پتھریلی زمین سے پتھر لے کے آؤ جب وہاں بہت سے پتھر اکٹھے ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک نیزہ تھا آپ نے ان لوگوں کے قبلہ کی طرف لکیر لگائی پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک پتھر لیا اور آپ نے اسے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوبکر تم ایک پتھر لو اور میرے پتھر کے ساتھ رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عمر تم ایک پتھر لو اور ابوبکر کے پتھر کے پہلو میں اسے رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان تم ایک پتھر لو اور اسے عمر کے پتھر کے پہلو میں رکھ دو پھر آپ پیچھے موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور ارشاد فرمایا : ہر شخص جہاں چاہے اس لکیر کے مطابق پتھر رکھ دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8917

Majma al-Zawaid #8917

وَعَنْ سَفِينَةَ «أَنْ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ. فَاسْتَهَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خِلَافَةَ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Safinah, may Allah be pleased with him, reports that a man said, O Messenger of Allah, I saw as if a scale was let down from heaven and you were weighed against Abu Bakr and you outweighed, then Abu Bakr against Umar and Abu Bakr outweighed, then Umar against Uthman and Umar outweighed, then the scale was lifted. The Messenger of Allah interpreted it as the caliphate of prophethood, then Allah gives kingship to whom He wills. > **"It is the caliphate of prophethood, then Allah shall give kingship to whom He wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آسمان سے ایک ترازو اترا ہے آپ کا وزن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو آپ کا پلڑا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھاری تھا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا پھر اس ترازو کو اوپر لے جایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد خلافت نبوت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہیے گا حکومت عطا کر دے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8918

Majma al-Zawaid #8918

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا يَلْبَثُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا، وَصَاحِبُ رَحَا دَارَةِ الْعَرَبِ يَعِيشُ حَمِيدًا وَيَمُوتُ شَهِيدًا "". فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: "" عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ "" ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ: "" يَا عُثْمَانُ إِنْ أَلْبَسَكَ اللَّهُ قَمِيصًا فَأَرَادَكَ النَّاسُ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ خَلَعْتَهُ لَا تَرَى الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ غَيْرَ هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reports that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say. > **"There shall be after me twelve caliphs, among them Abu Bakr al-Siddiq who shall not remain after me but little, and the master of the millstone of the Arabs who shall live praiseworthily and die as a martyr. He is Umar ibn al-Khattab. O Uthman, if Allah clothes you with a shirt and the people want you to remove it, do not remove it, for by Allah if you remove it you shall not see Paradise until the camel passes through the eye of the needle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے جن میں سے ایک ابوبکر صدیق ہیں وہ میرے بعد تھوڑا عرصہ رہے گا ‘ اور ایک ( خلیفہ ) عربوں کی چکی کو گھمانے والا شخص ہے جو قابل تعریف زندگی گزارے گا ‘ اور شہید ہونے کے عالم میں مرے گا ‘ ایک صاحب نے عرض کی : وہ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ عمر ہے پھر آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ‘ اور فرمایا : اے عثمان ! اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے ‘ اور لوگ اسے اتارنے کا ارادہ کریں ، تو تم اسے نہ اتارنا اللہ کی قسم ! اگر تم نے اسے اتار دیا تو تم جنت کو اس وقت تک نہیں دیکھو گے ‘ جب تک اونٹ سوئی کے نا کہ میں داخل نہیں ہو جاتا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن شعیب ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی صرف ایک حدیث کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ اس کے علاوہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی ‘ توثیق کی گئی ہے ۔

8919

Majma al-Zawaid #8919

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: «{وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 3] قَالَ: دَخَلَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهَا وَهُوَ يَطَأُ مَارِيَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُخْبِرِي عَائِشَةَ حَتَّى أُبَشِّرَكِ بِبِشَارَةٍ، إِنَّ أَبَاكِ يَلِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ إِذَا أَنَا مِتُّ "". فَذَهَبَتْ حَفْصَةُ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَطَأُ مَارِيَةَ وَأَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَلِي بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَلِي عُمَرُ بَعْدَهُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا؟ قَالَ: {نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ} [التحريم: 3]. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ حَتَّى تُحَرِّمَ مَارِيَةَ. فَحَرَّمَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports concerning the saying of Allah, when the Prophet confided to one of his wives a statement, that Hafsah entered upon the Prophet in her house while he was with Mariyah. The Messenger of Allah said to her, do not inform Aishah until I give you glad tidings that your father will rule after Abu Bakr when I die. Hafsah told Aishah what she saw and what he told her that Abu Bakr will follow the Messenger of Allah and Umar after him. Aishah said to the Prophet, who informed you this, he said the All-Knowing, the All-Aware informed me. Aishah said, I shall not look at you until you forbid Mariyah, so he forbade her, and Allah revealed, O Prophet, why do you forbid what Allah has made lawful for you. > **"Do not inform Aishah until I give you glad tidings. Your father shall rule after Abu Bakr when I die. The All-Knowing, the All-Aware has informed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب نبی نے اپنی ایک زوجہ کے ساتھ سرگوشی میں ایک بات کی ۔۔۔۔۔۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنے گھر میں آئیں اس وقت نبی اکرم ﷺ نے ( سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ) سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تم یہ بات عائشہ کو نہ بتانا ‘ میں تمہیں خوشخبری دوں گا وہ یہ کہ ابوبکر کے بعد تمہارا والد حکمران بنے گا ‘ جب میں مر جاؤں گا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتا دیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا ہے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بھی بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بعد حکمران بنیں گے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بعد حکمران بنیں گے ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے کہا آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے یہ بات بتائی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں آپ کی طرف اس وقت تک نہیں دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو ( اپنے اوپر ) حرام قرار نہیں دیتے نبی اکرم ﷺ نے انہیں حرام قرار دیدیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے نبی تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بجلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک راوی ضحاک بن مزاحم ہے اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

8920

Majma al-Zawaid #8920

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِلَى مَنْ نَدْفَعُ صَدَقَةَ أَمْوَالِنَا إِذَا قَبَضَكَ اللَّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَى أَبِي بَكْرٍ "" قَالَ: فَإِذَا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَإِلَى مَنْ؟ قَالَ: "" إِلَى عُمَرَ "". قَالَ: فَإِذَا قُبِضَ عُمَرُ فَإِلَى مَنْ؟ قَالَ: إِلَى عُثْمَانَ "". قَالَ: فَإِذَا قُبِضَ عُثْمَانُ فَإِلَى مَنْ؟ قَالَ: "" انْظُرُوا لِأَنْفُسِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ismah, may Allah be pleased with him, reports that a man of Khuzaah came and Ali met him and asked what brought him. He said, I came to ask the Messenger of Allah to whom we should pay the charity of our wealth when Allah takes you. The Prophet said, to Abu Bakr. He said, if Abu Bakr is taken, to whom. He said, to Umar. He said, if Umar is taken, to whom. He said, to Uthman. He said, if Uthman is taken, to whom. > **"To Abu Bakr. To Umar. To Uthman. Look to yourselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خزاعہ قبیلے کا ایک شخص آیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں نبی اکرم ﷺ سے یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دیدے گا ‘ تو ہم اپنے اموال کی زکوۃ کسے ادا کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر کو اس نے دریافت کیا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ‘ تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر کو اس نے دریافت کیا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ‘ تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عثمان کو ‘ اس نے دریافت کیا : اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ‘ تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم خود دیکھ لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8921

Majma al-Zawaid #8921

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِإِبِلٍ لَهُ، فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ بِإِبِلٍ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَنَقَدَكَ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ بِعْتُهَا مِنْهُ بِتَأْخِيرٍ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِي [مَالِي؟ وَاْنظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ حَتَّى تُعْلِمَنِي، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي؟]، قَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ "". فَأَعْلَمَ عَلِيًّا. فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَسَلْهُ إِنْ حَدَثَ بِأَبِي بَكْرٍ [حَدَثٌ] فَمَنْ يَقْضِي؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: "" عُمَرُ "" فَجَاءَ فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ فَسَلْهُ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَمَنْ يَقْضِي؟ فَجَاءَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَيْحَكَ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah, may Allah be pleased with him, reports that a bedouin came with camels and the Messenger of Allah bought them on credit. Ali told him to return and ask, O Messenger of Allah, if something happens to you who will settle my due, and inform Ali of the answer. He said Abu Bakr. Ali sent him again, if something happens to Abu Bakr who settles, he said Umar. He sent him again, when Umar dies who settles, and the Messenger of Allah said. > **"Abu Bakr. Umar. Woe to you, when Umar dies, if you are able to die then die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دیہاتی علاقے کا ایک فرد اپنا اونٹ لے کے آیا نبی اکرم ﷺ کی اس سے ملاقات ہوئی نبی اکرم ﷺ نے اس سے اس کا اونٹ خرید لیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس شخص سے ملاقات ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اس نے کہا میں ایک اونٹ لے کے آیا تھا جسے نبی اکرم ﷺ نے خرید لیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا نبی اکرم ﷺ نے تمہیں نقد ادائیگی کر دی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں میں نے انہیں اس شرط پر فروخت کیا ہے کہ ادائیگی بعد میں ہو گی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاؤ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کرو : یا رسول اللہ ! اگر آپ کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آ جاتا ہے ‘ تو مجھے میرے مال کی ادائیگی کون کرے گا ؟ پھر تم اس بات کا جائزہ لینا کہ نبی اکرم ﷺ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں اور مجھے اس کے بارے میں بتانا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ، تو مجھے کون ادائیگی کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اس شخص نے اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور ۔ نبی اکرم ﷺ سے دریافت کرو کہ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ‘ تو پھر کون ادائیگی کرے گا : اس شخص نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عمرو ‘ وہ شخص آیا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال کرو کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے گا ‘ تو پھر کون ادائیگی کرے گا ؟ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو جب عمر مر جائے گا ‘ تو اگر تم سے ہو سکے ‘ تو اس وقت تم بھی مر جانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8922

Majma al-Zawaid #8922

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ عُمَرَ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ عُثْمَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah was taken, then Allah made Abu Bakr successor, then Abu Bakr was taken and Allah made Umar successor, then Umar was taken and Allah made Uthman successor.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8923

Majma al-Zawaid #8923

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ، وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَخْلَفُهُ عَلَيْهِمْ وَهُوَ عُمَرُ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ - أَوْ قُتِلَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ وَهُوَ عُثْمَانُ، إِنْ تَقْتُلُوهُ فَائْتَوِنِي بِخَيْرٍ مِنْهُ وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَفْعَلُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that when the Messenger of Allah died the Muslims looked to their best and made him successor, and he was Abu Bakr. When he died they looked to the best of the Muslims and made him successor, and he was Umar. When Umar died or was killed they looked to their best and made him successor, and he was Uthman. He said, if you kill him then bring me one better than him, by Allah I do not see you doing so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے پھر جب ان کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور اسے اپنا خلیفہ بنا دیا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے اگر تم انہیں قتل کر دو گے ‘ تو تم میرے پاس ایسے فرد کو لے آؤ جو ان سے زیادہ بہتر ہو اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کر پاؤ گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حسان عطار ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8924

Majma al-Zawaid #8924

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ حَصَيَاتٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ أَبَا بَكْرٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عُمَرَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عُثْمَانَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عَلِيًّا فَوَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: هِيَ الْخِلَافَةُ الَّتِي أَعْطَاهَا اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، وَلَيْسَ فِيهَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ فِي الْخِلَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that they were with the Prophet and he took pebbles which glorified in his hand, then fell silent when laid down. He gave them to Abu Bakr and they glorified in his hand, then to Umar and they glorified, then to Uthman and they glorified, then to Ali and they fell silent when laid down. Al-Zuhri said, it is the caliphate which Allah gave to Abu Bakr, Umar and Uthman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ نے کچھ کنکریاں پکڑیں ان کنکریوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں پکڑ لیا تو انہوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیدیں انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر انہوں نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں لیا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیدیں ، تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں لیا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیں ، تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم ﷺ نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیں انہوں نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ۔ زہری کہتے ہیں : یہ وہ خلافت تھی ‘ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کا ایک اس سے زیادہ عمدہ حوالہ ہے جو ’’ علامات نبوت ‘‘ سے متعلق باب میں آئے گا اس کی سند صحیح ہے ‘ اور اس میں خلافت کے بارے میں زہری کا قول نہیں ہے ۔

8925

Majma al-Zawaid #8925

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «بَيْنَمَا زِيدُ بْنُ خَارِجَةَ يَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ خَرَّ مَيِّتًا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَنُقِلَ إِلَى أَهْلِهِ وَسُجِّيَ بَيْنَ ثَوْبَيْنِ وَكِسَاءٍ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ اجْتَمَعْنَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَرَخُوا حَوْلَهُ، إِذْ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ تَحْتِ الْكِسَاءِ يَقُولُ: أَنْصِتُوا أَيُّهَا النَّاسُ مَرَّتَيْنِ، فَحُسِرَ عَنْ وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ، فَقَالَ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ صَدَقَ صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوِيُّ الْأَمِينُ كَانَ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ: صَدَقَ صَدَقَ ثَلَاثًا. وَالْأَوْسَطُ: عَبْدُ اللَّهِ [عُمَرُ] أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الَّذِي كَانَ لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَكَانَ يَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَأْكُلَ قَوِيُّهُمْ ضَعِيفَهُمْ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ: صَدَقَ صَدَقَ. ثُمَّ قَالَ: عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ، خَلَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ وَلَا نِظَامَ لَهُمْ، وَانْتُحِبَتِ الْأَحْمَاءُ - يَعْنِي تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ - وَدَنَتِ السَّاعَةُ وَأَكَلَ النَّاسُ بَعْضَهُمْ بَعْضًا».

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports that Zayd ibn Kharijah fell dead between noon and afternoon and was shrouded, and between Maghrib and Isha women gathered wailing when a voice from beneath the cover said twice, be silent O people. His face and chest were uncovered and he said, Muhammad is the Messenger of Allah, the unlettered Prophet, the seal of the prophets, it was in the Book. Then it was said upon his tongue, he spoke truth, Abu Bakr al-Siddiq is the caliph of the Messenger of Allah, strong and trustworthy, weak in body strong in the affair of Allah, it was in the first Book. Then he said, Abdullah Umar is Commander of the Believers who fears no blame, who prevents the strong from devouring the weak. Then he said, Uthman is Commander of the Believers, merciful to the believers. Two have passed and four remain, people differ with no order, sanctities are violated, the Hour draws near and people devour one another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن خارجہ مدینہ کے کسی راستے سے چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ ظہری اور عصر کے درمیان وہ گر کر مر گئے ان کی میت ان کے گھر منتقل کی گئی انہیں دو کپڑوں اور ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا جب مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہوا اور انصار کی خواتین اکٹھے ہو کر ان کے اردگرد رونے لگیں ، تو لوگوں نے چادر کے نیچے سے ایک آواز سنی کوئی شخص یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم خاموش ہو جاؤ یہ بات دو مرتبہ کہی گئی ان کے چہرے اور سینے سے چادر ہٹا دی گئی ‘ تو انہوں نے کہا حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں جو امی نبی ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں اور یہ بات کتاب میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی کہ انہوں نے سچ کہا : ابوبکر صدیق اللہ کے رسول کے خلیفہ ہیں جو قوی اور امین ہیں جسمانی طور پر کمزور ہیں اور اللہ کے معاملے میں قوی ہیں اور یہ بات پہلے کی کتاب ( یا تحریر ) میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا یہ بات تین مرتبہ کہی گئی درمیان والے عبداللہ ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) امیرالمومنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور وہ لوگوں کو اس بات سے روکیں گے کہ ان کا طاقتور شخص ان کے کمزور شخص کا حق ( کھائے ) یہ بات پہلی کتاب میں مذکور ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا ہے ۔ انہوں نے سچ کہا ہے پھر انہوں نے کہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ امیرالمومنین ہیں جو اہل ایمان کے لئے رحم والے ہیں دو گزر چکے ہیں اور چار باقی رہ گئے ہیں لوگوں نے اختلاف شروع کیا اور ان کا کوئی نظام نہیں ہے ‘ اور حرمتیں پامال کی جانے لگی ہیں قیامت قریب آ گئی ہے ‘ اور لوگوں نے ایک دوسرے ( کے حقوق ) کو کھانا شروع کر دیا ہے ۔

8926

Majma al-Zawaid #8926

وَفِي رِوَايَةٍ «عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ انْتَظَرْتُ خُرُوجَ عُثْمَانَ فَقُلْتُ: يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَكُشِفَ الثَّوْبُ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَتَكَلَّمُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ. فَقَالَ: انْصِتُوا انْصِتُوا. وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports in a variant that when Zayd ibn Kharijah died he waited for Uthman to come out thinking he prays two rakahs, the cloth was lifted from his face and he said, peace be upon you, peace be upon you, while the household spoke. He said glory to Allah in prayer, and he said, be silent, be silent, and the rest is similar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا میں نے سوچا وہ دو رکعت ادا کر رہے ہوں گے زید بن خارجہ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو انہوں نے کہا السلام علیکم السلام علیکم گھر والے لوگ بات چیت کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا میں نے کہا : سبحان اللہ سبحان اللہ ‘ تو انہوں نے کہا تم خاموش رہو تم خاموش رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی روایت حسب سابق ہے یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور معجم اوسط میں زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں جو دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ۔ معجم کبیر میں ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

8927

Majma al-Zawaid #8927

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ. ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلَتُ [أَنَّ] السُّودَ الْعَرَبَ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said. > **"I saw in sleep as if I draw water from a land and black sheep and dusty sheep came to me. Abu Bakr came and drew one or two buckets with weakness in them, may Allah forgive him. Then Umar came and drew and it became a large bucket, filling the basin and watering the arrivals. I never saw a strong man drawing better than Umar. I interpreted the black as the Arabs and the dusty as the non-Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں زمین سے پانی نکال رہا ہوں ‘ میرے پاس سیاہ رنگ کی بکریاں آئی ہیں اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئی ہیں پھر ابوبکر آیا اس نے ایک یا دو ڈول نکالے اس کے نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے پھر عمر آیا اس نے پانی نکالنا شروع کیا ، تو وہ ڈول بڑا ڈول بن گیا اس نے حوض کو بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کر دیا میں نے اس جیسا طاقتور شخص نہیں دیکھا جس نے عمر سے زیادہ اچھے طریقے سے پانی نکالا ہو تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور خاکستری بکریوں سے مراد عجمی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8928

Majma al-Zawaid #8928

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَمَلَأَهَا قِسْطًا وَعَدْلًا، ثُمَّ ظَعَنَ بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَظَعَنَ بِهِمْ ظَعْنَةً رَغِيبَةً، ثُمَّ ظَعَنَ بِهِمْ عَمَرُ فَظَعَنَ بِهِمْ ظَعْنَةً رَغِيبَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ حُذَيْفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah was sent to the Arabian Peninsula and filled it with equity and justice, then Abu Bakr carried them in a pleasing journey, then Umar carried them in a pleasing journey.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جزیرہ عرب کی طرف بھیجا گیا تھا ، آپ نے اسے عدل و انصاف سے بھر دیا ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو لے کر چلے ‘ اور اچھے طریقے سے لے کر چلے ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کو لے کر چلے ‘ اور اچھے طریقے سے لے کر چلے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن حذیفہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

8929

Majma al-Zawaid #8929

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ قَيْسِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِذَا اعْتَلَلْتَ قَدَّمْتَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ: "" لَسْتُ أَنَا الَّذِي قَدَّمْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ الَّذِي قَدَّمَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Yahya from his father reports that Hafsah said, O Messenger of Allah, when you were ill you advanced Abu Bakr. > **"It is not I who advanced him, but Allah who advanced him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن یحیی بن قیس بن عیسیٰ ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ بیمار ہوئے ‘ تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اسے آگے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آگے کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8930

Majma al-Zawaid #8930

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ائْتُونِي بِدَوَاةٍ وَكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ أَبَدًا "". ثُمَّ وَلَّانَا قَفَاهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: "" يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah said. > **"Bring me an inkpot and a shoulder blade that I may write for you a book after which you shall never go astray."** Then he turned his back and faced them and said. > **"Allah and the believers refuse but Abu Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس دوات اور ( جانور کے ) کندھے کی ( ہڈی ) لے کے آؤ تاکہ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے راوی کہتے ہیں : پھر ہم نے آپ کو کروٹ دلائی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان صرف ابوبکر کو ہی مانیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8931

Majma al-Zawaid #8931

وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ نِسَاؤُهُ فَاسْتَتَرْنَ مِنِّي إِلَّا مَيْمُونَةَ، فَقَالَ: "" لَا يَبْقَى أَحَدٌ [فِي الْبَيْتِ] شَهِدَ اللَّدَّ إِلَّا لُدَّ إِلَّا أَنَّ يَمِينِي لَمْ تُصِبِ الْعَبَّاسَ "". ثُمَّ قَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ "" فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ إِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى، قَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ "" فَقَامَ فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ اقْتَرَأَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُمْ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas, may Allah be pleased with him, reports that he entered upon the Messenger of Allah while his wives were with him and they veiled except Maymunah. He said, none who witnessed the ladud in the house shall remain but be given it, except my oath did not reach al-Abbas. Then he said, order Abu Bakr to lead the people in prayer. Aishah said to Hafsah, tell him Abu Bakr is a man who weeps when he stands in that station. He repeated, order Abu Bakr to lead the people. Abu Bakr led, then the Prophet felt lightness and came, Abu Bakr stepped back, but he sat beside him and recited. > **"Order Abu Bakr to lead the people in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے پاس آپ کی ازواج موجود تھیں ان سب نے مجھ سے پردہ لیا صرف میمونہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کیا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا گھر میں موجود ہر وہ شخص جو ( مجھے ) دوائی پلانے کے وقت موجود تھا اسے بھی دوائی پلائی جائے البتہ اس حکم میں حضرت عباس شامل نہیں ہوں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یہ گزارش کرو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں کہ جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے ‘ تو رونے لگیں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی نبی اکرم ﷺ کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی آپ ﷺ تشریف لے آئے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ‘ نبی اکرم ﷺ ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوئے ‘ اور پھر آپ نے تلاوت کی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8932

Majma al-Zawaid #8932

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ كَوْنٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: «فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ». وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad, may Allah be pleased with him, reports that there was discord among the Ansar and the Messenger of Allah went to reconcile them, then returned after prayer was established with Abu Bakr leading, and the Messenger of Allah prayed behind Abu Bakr, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے درمیان جھگڑا ہو گیا نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے ‘ جب آپ واپس آئے ‘ تو نماز کھڑی ہو چکی تھی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ‘‘۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8933

Majma al-Zawaid #8933

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَضَهُ الَّذِي تُوفِّيَ فِيهِ، أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ: "" يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ "" فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ: [يَا رَسُولَ اللَّهِ] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي؟ قَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ. [فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّتُورُ، قَالَ: فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ، عَلَى خَمِيصَةٍ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ، وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُروُجَ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ، فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الزُّهْرِيِّ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah fell ill with his fatal illness Bilal came to announce prayer. After twice he said, O Bilal, you have conveyed, so whoever wishes let him pray and whoever wishes let him leave. Bilal returned and said, may my father and mother be for you, who shall lead. He said, order Abu Bakr to lead the people. When Abu Bakr advanced the curtains were lifted and they saw him as a white leaf upon a garment. Abu Bakr stepped back thinking he would come out, but the Messenger signaled him to stand and pray, so Abu Bakr led, and they never saw him after. > **"O Bilal, you have conveyed, so whoever wishes let him pray. Order Abu Bakr to lead the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ اس بیماری میں مبتلاء ہوئے جس میں آپ کا وصال ہو گیا تھا تو اسی دوران حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو بلانے کے لئے آئے دو مرتبہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! تم نے دو مرتبہ تبلیغ کر دی ہے جو شخص چاہے وہ نماز ادا کر لے اور جو شخص چاہے وہ ترک کر دے حضرت بلال رضی اللہ عنہ پھر آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نماز کون پڑھائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے پردہ ہٹایا گیا راوی کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک ) سفید چاندی کی طرح محسوس ہو رہا تھا آپ کے جسم پر چادر موجود تھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف لانے لگے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑے رہیں اور نماز پڑھائیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اس کے بعد ہم نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ‘ اور وہ زہری کے بارے میں ضعیف ہے ‘ اور یہ حدیث ان روایات میں سے جو اس نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔

8934

Majma al-Zawaid #8934

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ. فَقَالَ: "" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُاتُ يُوسُفَ "". فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah fell ill and said, order Abu Bakr to lead the people. Aishah said, O Messenger of Allah, my father is a tender man. He said, order Abu Bakr to lead the people, for you are like the companions of Yusuf. So Abu Bakr led while the Prophet was alive. > **"Order Abu Bakr to lead the people in prayer, for you are like the companions of Yusuf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بیمار ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تم حضرت یوسف علیہ السلام والی خواتین کی طرح ہو پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی اکرم ﷺ زندہ تھے ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی حیات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8935

Majma al-Zawaid #8935

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ - «وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ: "" حَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ "" قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "" مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: إِنْ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ. ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ: "" هَلْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ. ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ: "" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ؟ "" قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "" ائْتُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ "". فَجَاءَهُ بُرَيْدَةُ وَإِنْسَانٌ آخَرُ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَدَخْلَهُ وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ. فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِذِرَاعِي فَاعْتَمَدَ عَلَيَّ، وَقَامَ يَمْشِي حَتَّى جِئْنَا فَقَالَ: أَوْسِعُوا فَأَوْسَعُوا لَهُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ وَمَسَّهُ قَالَ: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ. قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. [قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ] يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِئُ آخَرُونَ حَتَّى يَفْرُغُوا. قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالُوا: وَأَيْنَ يُدْفَنُ؟ قَالَ: حَيْثُ قُبِضَ فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمْ يَقْبِضْهُ إِلَّا فِي بُقْعَةٍ طَيِّبَةٍ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: عِنْدَكُمْ صَاحِبُكُمْ، فَأَمَرَهُمْ يُغَسِّلُونَهُ ثُمَّ خَرَجَ، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ، فَقَالُوا: انْطَلِقُوا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّ لَهُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَانْطَلَقُوا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مِنَّا أَمِيرٌ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَخَذَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَخْبِرُونِي مِنْ لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثُ؟ ثَانِي اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ) [مَنْ هُمَا؟] (إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ) مَنْ صَاحِبُهُ؟ (إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا)، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَضَرَبَ عَلَيْهَا، وَقَالَ لِلنَّاسِ: بَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salim ibn Ubayd of the people of Suffah reports that the Messenger of Allah fainted in his illness then awoke and asked, has prayer come, they said yes. He said, order Bilal to call and Abu Bakr to lead. Aishah said, my father is tender-hearted, order another. He fainted again and repeated the same. Then he asked, has prayer been established, they said yes. He said, bring a man I may lean upon, so Buraydah and another came and he entered the mosque while Abu Bakr led. Abu Bakr stepped aside but the Messenger prevented him and sat beside him till he finished. When the Messenger died Umar said, I shall strike with the sword whoever says he died. Abu Bakr took his arm and said, you are dead and they are dead, and they asked, has he died, prayer over him, where to bury, and he said, where he was taken, for Allah took him only in a good spot. Then the Muhajirun gathered saying, go to our brothers of the Ansar, and an Ansari said, from us an amir and from you an amir. Umar took Abu Bakr's hand and asked, who has these three, the second of two in the cave, when he says to his companion grieve not, Allah is with us, who is his companion. He struck his hand and said, pledge him, and they pledged a fine beautiful pledge. > **"Order Bilal to call and Abu Bakr to lead the people. Bring a man I may lean upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے دوران آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت کیا : نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کی ہدایت کریں ، تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوئی ‘ جب آپ کو ہوش آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے میں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کا حکم دیدیں ‘ تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر جب نبی اکرم ﷺ کو ہوش آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا نماز قائم ہو چکی ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس کسی شخص کو لے کے آؤ جس سے میں ٹیک لگاؤں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص آپ کے پاس آئے ‘ تو آپ نے ان دونوں پر ٹیک لگائی اور آپ مسجد میں تشریف لے آئے ‘ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں منع کر دیا آپ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے پھر جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہ سنوں کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں نے کسی کو سنا تو اسے تلوار مار دوں گا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری کلائی پکڑ کر آئے انہوں نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی وہ چلتے ہوئے آئے انہوں نے کہا تم لوگ گنجائش کرو تم لوگ ان کے لئے گنجائش کرو پھر وہ نبی اکرم ﷺ پر جھک گئے آپ کو چھوا اور بولے آپ کا وصال ہو گیا ہے ‘ اور لوگ بھی مر جائیں گے لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ، تو لوگوں کو پتہ چل گیا کہ جیسے یہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی ہے لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا ہم اللہ کے رسول کی نماز جنازہ ادا کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے کہا ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں ؟ انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ اندر آئیں وہ تکبیر کہیں دعا کریں اور درود پڑھیں وہ باہر چلے جائیں یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو جائیں لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کو دفن کیا جائے گا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لوگوں نے دریافت کیا : انہیں کہاں دفن کیا جائے گا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا اسی جگہ جہاں ان کا انتقال ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکیزہ جگہ پر ہی وفات دی ہے ‘ تو لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ ویسا ہی ہو گا جیسے انہوں نے بیان کیا ہے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ اور انہوں نے کہا تمہارے آقا تمہارے پاس ہیں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو غسل دیں وہ چلے گئے مہاجرین مشورہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ان لوگوں نے کہا تم لوگ ہمارے ساتھ انصاری بھائیوں کی طرف چلو کیونکہ اس معاملہ میں ان کا بھی حصہ ہو گا وہ لوگ گئے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا ایک امیر ہم میں سے ہو گا ‘ اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور بولے تم لوگ مجھے بتاؤ کہ کس شخص میں یہ تین خصوصیات ہیں وہ دو افراد میں سے ایک ہو کہ جب وہ دونوں غار میں تھے ‘ تو وہ دونوں کون تھے جس نے اپنے ساتھی سے کہا : تم غمگین نہ ہو تو وہ ساتھی کون تھا ( اور یہ بھی فرمایا : ) بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ انہوں نے پکڑا اور لوگوں سے فرمایا ان کی بیعت کرو تو لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمدہ طریقے سے بیعت کر لی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8936

Majma al-Zawaid #8936

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ بِالنَّاسِ، فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النُّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah was taken the Ansar said, from us an amir and from you an amir. Umar came and said, O Ansar, do you not know that the Messenger ordered Abu Bakr to lead the people, which of you would willingly advance before Abu Bakr. They said, we seek refuge in Allah from advancing before Abu Bakr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا تو انصار نے کہا ایک امیر ہم میں سے ہو گا ‘ اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ‘ اور بولے کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کی امامت کریں ، تو تم میں سے کون اس بات سے خوش ہو گا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ جائے ؟ ان لوگوں نے کہا ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8937

Majma al-Zawaid #8937

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: «قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ: ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ "". فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Bakhtari reports that Umar said to Abu Ubaydah, stretch your hand that I may pledge you, for I heard the Messenger of Allah say. > **"You are the trustworthy one of this nation."** Abu Ubaydah said, I would not advance before a man whom the Messenger ordered to lead us and who led us till he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبختری بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ یہ اس امت کا امین ہے ‘‘۔ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جسے اللہ کے رسول نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ ہماری امامت کرے اور وہ اللہ کے رسول کے وصال تک ہماری امامت کرتا رہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوبختری نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

8938

Majma al-Zawaid #8938

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا: يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَهُ بِرَجُلٍ مِنَّا، فَنَحْنُ نَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْكُمْ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَكُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَحْنُ أَنْصَارُ مَنْ يَقُومُ مَقَامَهُ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ حَيٍّ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ، وَاللَّهِ لَوْ قُلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ مَا صَالَحْنَاكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger died the orators of the Ansar stood saying, O Muhajirun, when the Messenger sent a man of you he joined a man of us, so we see this affair should have two men, one of us and one of you. Zayd ibn Thabit stood and said, the Messenger was of the Muhajirun and we were his Ansar, so we are Ansar of whoever stands in his place. Abu Bakr said, may Allah reward you O Ansar and make your speaker firm, by Allah had you said otherwise we would not have reconciled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو انصار کے خطیب کھڑے ہوئے اور بولے : اے مہاجرین کے گروہ ! اللہ کے رسول جب بھی تم میں سے کسی شخص کو کہیں بھیجتے تھے ‘ تو اس کے ساتھ ہم میں سے کسی شخص کو بھی بھیجتے تھے ، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کے نگران دو آدمی بنیں گے ایک فرد ہم میں سے ہو گا ‘ اور ایک فرد تم میں سے ہو گا ‘ تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ‘ اور بولے : بے شک اللہ کے رسول کا تعلق مہاجرین سے تھا ‘ اور ہم اللہ کے رسول کے مددگار ہیں ، تو جو شخص آپ کا قائم مقام ہو گا ، تو ہم اس کے بھی مددگار ہوں گے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے اللہ کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتے تو ہم نے تمہارے ساتھ مصالحت نہیں کرنی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8939

Majma al-Zawaid #8939

وَعَنْ عِيسَى بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْغَدَ - حِينَ بُويِعَ - فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أَقَلْتُكُمْ رَأْيَكُمْ، إِنِّي لَسْتُ بِخَيْرِكُمْ فَبَايِعُوا خَيْرَكُمْ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ وَاللَّهِ خَيْرُنَا. فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ طَوْعًا وَكَرْهًا، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ وَجِيرَانُ اللَّهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ فَافْعَلُوا، إِنَّ لِي شَيْطَانًا يَحْضُرُنِي فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي فَأَجِيبُونِي، لَا أُمَثِّلُ بِأَشْعَارِكُمْ وَأَبْشَارِكُمْ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَفَقَّدُوا ضَرَائِبَ عُلَمَائِكُمْ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلَحْمٍ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، أَلَا وَرَاعُونِي بِأَنْصَارِكُمْ، فَإِنِ اسْتَقَمْتُ فَاتَّبِعُونِي وَإِنْ زُغْتُ فَقَوِّمُونِي، وَإِنْ أَطَعْتُ اللَّهَ فَأَطِيعُونِي، وَإِنْ عَصَيْتُ اللَّهَ فَاعْصُونِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَعِيسَى بْنُ عَطِيَّةَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Isa ibn Atiyyah reports that Abu Bakr al-Siddiq stood the morrow after his pledge and addressed the people saying, O people I return your opinion to you, I am not the best of you, so pledge the best of you. They said, O Caliph of the Messenger of Allah, by Allah you are the best of us. He said, people entered Islam willingly and unwillingly, they are guests and neighbours of Allah, so if you can let Allah not seek you for His covenant then do. I have a devil that visits me, so if you see me answer me. Do not harm your hair and skins. Inspect the exactions of your learned. No flesh grown of unlawful shall enter Paradise. Watch me with your helpers, if I am upright follow me, if I deviate straighten me, if I obey Allah obey me, if I disobey Allah disobey me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن عطیہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی ‘ تو اس کے اگلے دن وہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہاری رائے تمہیں واپس کر دیتا ہوں میں تم میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں تم اپنے میں سے سب سے بہتر شخص کی بیعت کر لو تو لوگ ان کے سامنے ہو گئے ‘ اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! اللہ کی قسم ! آپ ہم میں سب سے بہتر ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! دوسرے لوگ اسلام میں رضامندی کے ساتھ یا زبردستی داخل ہو گئے ہیں ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اس کے پڑوسی ہیں اگر تم سے ہو سکے ‘ تو تم اس چیز کا دھیان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ کے حوالے سے تم سے کوئی حساب نہ لے ‘ میرے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جو میرے پاس آ جاتا ہے ‘ جب تم مجھے دیکھو تو مجھے جواب دو میں تمہارے ساتھ صرف باتیں نہیں بناؤں گا ‘ اے لوگو ! اپنے علماء ( یا شاید عمال ‘ یعنی ریاستی اہل کاروں ) کی کوتاہیوں کا خیال رکھو ‘ کیونکہ جس گوشت کی نشو و نما حرام پر ہوئی ہو ‘ اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے ‘ خبردار ! تم اپنے مددگاروں کے ذریعے میری دیکھ بھال کرنا اگر میں ٹھیک رہوں ، تو تم میری پیروی کرنا اور اگر میں بھٹک جاؤں ، تو مجھے سیدھا کر دینا اگر میں اللہ کی اطاعت کروں ‘ تو تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں ‘ تو تم میری نافرمانی کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور ایک راوی عیسیٰ بن عطیہ ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8940

Majma al-Zawaid #8940

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ - قَالَ: فَذَكَرَ قِصَّةً - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ: إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ - شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ، وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ فِي الْإِسْلَامِ - قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ مَا أُطِيقُهَا إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ .. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reports that he sat with Abu Bakr al-Siddiq a month after the death of the Prophet, and it was announced prayer is gathering, the first such prayer among Muslims. People gathered and he ascended a minbar made for him, the first sermon in Islam. He praised Allah then said, O people I wish another sufficed me this, and if you take me by the practice of your Prophet I cannot bear it, for he was protected from Satan and revelation descended upon him from heaven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو اللہ کے رسول کے خلیفہ تھے ‘ یہ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے ایک ماہ بعد کی بات ہے اس کے بعد راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان اعلان کیا گیا نماز اکٹھا کرنے والی ہے یہ مسلمانوں میں پہلی نماز تھی جس کے لئے لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز اکٹھا کرنے والی ہے لوگ اکٹھے ہو گئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے وہ ایک ایسی چیز تھی ‘ جو ان کے لئے تیار کی گئی تھی جس پر وہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے یہ اسلام میں پہلا خطبہ تھا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میری یہ خواہش ہے کہ یہ کام میری بجائے کوئی اور کر لے اگر تم اپنے نبی کی سنت کے حوالے سے میری گرفت کرتے ہو تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ نبی اکرم ﷺ شیطان سے محفوظ تھے پھر یہ ہے کہ آپ ﷺ پر آسمان سے وحی بھی نازل ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8941

Majma al-Zawaid #8941

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ. قَالَ: أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَاضٍ بِهِ [وَأَنا رَاضٍ بِهِ، وَأَنَا رَاضٍ بِهِ] .. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكِ الصِّدِّيقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abi Mulaykah reports that it was said to Abu Bakr, O Caliph of Allah. He said, I am the caliph of the Messenger of Allah, and I am content with it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اے اللہ کے خلیفہ ! تو انہوں نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا خلیفہ ہوں ‘ اور میں اس بات سے راضی ہوں میں اس بات سے راضی ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن ابوملیکہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

8942

Majma al-Zawaid #8942

وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ وَهُوَ [يُجْلِسُ النَّاسَ] يَقُولُ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ - يُقَالُ لَهُ: سَدِيدٌ - بِصَحِيفَةٍ فَقَرَأَهَا عَلَى النَّاسِ قَالَ: يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَنْ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَوَاللَّهِ مَا أَلَوْتُكُمْ، قَالَ قَيْسٌ: فَرَأَيْتُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ .. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reports that he saw Umar with a palm stalk seating the people saying, hear and obey the caliph of the Messenger of Allah. Then a freedman of Abu Bakr called Sadid came with a document and read it, Abu Bakr says, hear and obey whoever is in this document, by Allah I have not spared you. Qays said, then I saw Umar after that upon the minbar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول کے خلیفہ کی بات سنو اور فرمانبرداری کرو ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام آیا جس کا نام سدید تھا وہ ایک صحیفہ لے کے آیا وہ اس نے لوگوں کے سامنے پڑھا اور کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں : اس صحیفے میں جس کا نام مذکور ہے تم نے اس کی بات سننی ہے ‘ اور اطاعت کرنی ہے اللہ کی قسم ! میں نے تم لوگوں کے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ‘ قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8943

Majma al-Zawaid #8943

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا "". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ: "" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا "". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ "" "" يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ وَلَا كَرَامَةَ "" يَقُولُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that she was with the Prophet and he said, O Aishah, if only we had one to converse with us. She said, shall I send for Abu Bakr, and he fell silent. He repeated, shall I send for Umar, and he fell silent. Then he called a servant and whispered, and Uthman sought permission and entered, and the Prophet conversed privately long, then said. > **"O Uthman, Allah shall clothe you with a shirt, and if the hypocrites want you to remove it do not remove it, no honour in that."** He said it twice or thrice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجوا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کاش ہمارے پاس کوئی فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیجوا دوں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ملازم کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی وہ چلا گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دیدی وہ اندر آ گئے نبی اکرم ﷺ نے خاصی دیر تک پست آواز میں ان کے ساتھ بات چیت کی پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں گے ‘ تو تم اسے نہ اتارنا اس میں کوئی کرامت نہیں ہے یہ بات آپ نے دو مرتبہ یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے جس کی ‘ توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8944

Majma al-Zawaid #8944

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ لِلسِّتَّةِ الَّذِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ قَالَ: بَايِعُوا لِمَنْ بَايَعَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَإِنْ أَبَى فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ .. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَزَيْدٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ، وَوَلَدُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَثَّقَهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Aslam reports that Umar, may Allah be pleased with him, said to the six with whom the Messenger died pleased, pledge him whom Abdur Rahman ibn Awf pledges, and if any refuses strike his neck.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان چھ افراد کے بارے میں یہ فرمایا : جب نبی اکرم ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تھے ‘ تو آپ ان سے راضی تھے آپ ﷺ نے فرمایا : عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جس کی بیعت کر لے تم اس کی بیعت کر لینا اگر کوئی انکار کرے ‘ تو اس کی گردن اڑا دینا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ زید نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس کے بیٹے عبداللہ کو معن بن عیسیٰ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

8945

Majma al-Zawaid #8945

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا؟ قَالَ: مَا ذَنْبِي؟ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ؟ قَالَ: فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُ؟ قَالَ: ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَقَبِلَهَا. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Wail reports that he said to Abdur Rahman ibn Awf, how did you pledge Uthman and leave Ali. He said, what is my fault, I began with Ali and said, I pledge you upon the Book of Allah, the practice of His Messenger, and the conduct of Abu Bakr and Umar. He said, as much as I am able. Then I offered it to Uthman and he accepted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا آپ لوگوں نے کیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ؟ انہوں نے فرمایا : میرا کیا قصور ہے ؟ میں نے علی سے آغاز کیا اور میں نے کہا : میں آپ کی اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ اللہ کی کتاب اس کے رسول کی سنت اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر عمل پیرا رہیں گے ‘ تو انہوں نے کہا جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا ( میں عمل کروں گا ) حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں نے اسی بات کی پیشکش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کی ‘ تو انہوں نے اسے قبول کر لیا ( یعنی یہ کہا : میں ایسا ہی کروں گا ) ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8946

Majma al-Zawaid #8946

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ - «وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: مَا يُقِيمُكَ بِمَنْزِلِكَ هَذَا؟ لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ تَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ، تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ، قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَنِّي: "" لَا أَمُوتُ حَتَّى أُؤَمَّرَ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي هَامَتَهُ - "" فَقُتِلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ [يَوْمَ صِفِّينَ]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Abi Fadalah, whose father was of Badr, reports that he went with his father visiting Ali in a heavy illness, and his father said, what keeps you in this dwelling, if your term comes none but Bedouin of Juhaynah will carry you to Madinah, but if it comes in Madinah your companions will care and pray over you. Ali said, the Messenger of Allah covenanted to me that I shall not die until I am appointed ruler, then this, meaning his beard, shall be dyed from this, meaning his head. He was killed and Abu Fadalah was killed with Ali at Siffin. > **"You shall not die until you are appointed ruler, then this beard shall be dyed from this head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فضالہ بن ابوفضالہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوفضالہ رضی اللہ عنہ کا شمار اہل بدر میں ہوتا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد ( حضرت ابوفضالہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا یہ ان کی اس بیماری کے دوران کی بات ہے جو شدید ہو چکی تھی میرے والد نے ان سے کہا : اس جگہ پر آپ کی دیکھ بھال کون کرے گا ‘ اگر آپ کا انتقال ہو گیا تو جہینہ قبیلے کے بدوہی آپ کی دیکھ بھال کریں گے وہ آپ کو اٹھا کر مدینہ منورہ لے جائیں گے لیکن اگر آپ کا وصال مدینہ میں ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ‘ جب تک میں امیر نہیں بن جاتا اور پھر اس کو ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ) اس سے ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی یعنی میری داڑھی کو میرے سر کے خون سے ) رنگین کر دیا جائے گا ( راوی کہتے ہیں : ) ( بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ‘ اور حضرت ابوفضالہ رضی اللہ عنہ بھی جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ۔ یہ راوی حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔