Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 24 · Chapter 3

Book of Clothing and Adornment

Hadith 8571–8610

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8571

Majma al-Zawaid #8571

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَيْهِ عِمَامَةٌ حَمْرَاءُ مُرْخِيَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَقَدْ ضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that she saw Gabriel عليه السلام wearing a red turban let down between his shoulders.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا انہوں نے سرخ عمامہ ( باندھا ہوا ) تھا ‘ اور انہوں نے اسے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8572

Majma al-Zawaid #8572

عَنْ رَاشِدٍ الْحِمَّانِيِّ قَالَ: «رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَيْهِ فَرْوٌ أَحْمَرُ فَقَالَ: كَانَتْ لُحُفَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَلْبَسُهَا وَنُصَلِّي فِيهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ الرَّيَّانِ فَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rashid al-Himmani reports that he saw Anas ibn Malik رضي الله عنه wearing red fur, who said: Such were our blankets at the time of the Messenger of Allah ﷺ; we wore them and prayed in them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

راشد حمانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے سرخ فراء ( چمڑے کا کوٹ پہنا ہوا تھا انہوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں یہ ہمارا اوپری لباس ہوتا تھا ‘ ہم اسے پہن کر اس میں نماز ادا کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے احمد بن قاسم سے نقل کیا ہے اگر تو یہ ابن ریان ہے ‘ تو پھر یہ ضعیف ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ‘ تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8573

Majma al-Zawaid #8573

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «حِيكَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُلَّةٌ مِنْ أَنْمَارٍ مِنْ صُوفٍ أَسْوَدَ، وَجَعَلَ لَهَا ذُؤَابَتَيْنِ مِنْ صُوفٍ أَبْيَضَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَجْلِسِ وَهِيَ عَلَيْهِ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِهِ فَقَالَ: "" أَلَا تَرَوْنَ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحُلَّةَ؟ "" فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْسُنِي هَذِهِ الْحُلَّةَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا لَمْ يَقُلْ لِشَيْءٍ يَسْأَلُهُ: لَا. قَالَ: "" نَعَمْ "" فَدَعَا بِمُعَقَّدَتَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ الْحُلَّةَ، وَأَمَرَ بِمِثْلِهَا تُحَاكُ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ فِي الْمُحَاكَةِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْمِشْمَلَةِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad رضي الله عنه reports that a hullah of black wool with two white wool tassels was woven for the Messenger of Allah ﷺ. He came out to the gathering wearing it, struck his thigh and said: Do you not see how fine this hullah is? A Bedouin said: O Messenger of Allah, clothe me with this hullah, and the Messenger of Allah ﷺ never said no to anything asked of him. He said: Yes. Then he called for two cloaks, wore them, gave the hullah to the Bedouin, ordered another like it to be woven, and died while it was still being woven. > **"Do you not see how fine this hullah is? Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے سیاہ اون کی چادر سے بنا ہوا حلہ تیار کیا گیا آپ نے اس کے سفید اون سے بنے ہوئے دو بازو بنوائے ‘ نبی اکرم ﷺ اسے پہن کر محفل میں تشریف لائے وہ آپ نے پہنا ہوا تھا وہ آپ نے اپنے زانوں پر رکھا آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا یہ حلہ کتنا اچھا ہے ایک دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ حلہ مجھے پہننے کے لئے دیدیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ مانگنے والے کو کسی بھی چیز کے بارے میں ’’ نہ ‘‘ نہیں کہتے تھے آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے دو چادریں منگوائیں وہ پہن لیں اور وہ حلہ اس دیہاتی کو دیدیا پھر آپ نے اس کے جیسا ایک اور حلہ تیار کرنے کا حکم دیا وہ ابھی تیار نہیں ہوا تھا کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو ’’ مشملہ ‘‘ کے بارے میں ہے ‘ اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8574

Majma al-Zawaid #8574

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[جَالِسًا] فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that he saw the Prophet ﷺ sitting facing the Kaaba with his arms wrapped around his knees.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو خانہ کعبہ کی طرف رُخ کر کے تشریف فرما دیکھا ‘ آپ دونوں ہاتھ جوڑ کر احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8575

Majma al-Zawaid #8575

عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ "" إِيَّاكُمْ وَلِبَاسَ الرُّهْبَانِ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَهَّبَ أَوْ تَشَبَّهَ فَلَيْسَ مِنِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Karimah reports that he heard Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه preaching on the pulpit of Kufah saying: O people, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Beware of the dress of monks, for whoever adopts monasticism or resembles them is not of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکریمہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ابن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ راہبوں کا سا لباس پہننے سے بچو ! کیونکہ جو شخص رہبانیت اختیار کرے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے مشابہت اختیار کرے ‘ اُس کا مجھ سے واسطہ نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔

8576

Majma al-Zawaid #8576

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيضٌ لِحَاهُمْ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ "" قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ "" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ "" فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came out to a group of elderly Ansar with white beards and said: O assembly of Ansar, dye red and yellow and oppose the People of the Book. They said: O Messenger of Allah, the People of the Book wear trousers and do not wear izars. He said: Wear trousers and wear izars and oppose the People of the Book. They said: O Messenger of Allah, the People of the Book wear socks and do not wear sandals. He said: Wear socks and wear sandals and oppose the People of the Book. They said: O Messenger of Allah, the People of the Book trim their beards and enlarge their mustaches. The Prophet ﷺ said: Trim your mustaches, enlarge your beards, and oppose the People of the Book. > **"O assembly of Ansar, dye red and yellow and oppose the People of the Book. Wear trousers and wear izars. Wear socks and wear sandals. Trim your mustaches, enlarge your beards, and oppose the People of the Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ انصاری بزرگوں کے پاس تشریف لائے جن کی داڑھیاں سفید تھیں آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! ( اپنی ڈارھی کے بالوں کو ) سرخ یا زرد رنگ لگاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب ‘ تو شلوار پہنتے ہیں ‘ وہ تہبند نہیں پہنتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ شلوار بھی پہن لو اور تہبند بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں ‘ وہ جوتے نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ موزے بھی پہن لو ‘ اور جوتے بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ اہل کتاب داڑھی چھوٹی کروا لیتے ہیں اور مونچھیں بڑی کروا لیتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ مونچھیں چھوٹی کرواؤ اور داڑھی بڑھاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، قاسم کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

8577

Majma al-Zawaid #8577

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالُوا: «يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَتَّزِرُونَ؟ قَالَ: "" فَتَسَرْوَلُوا أَنْتُمْ وَائْتَزِرُوا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ يَحْتَفُّونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ؟ قَالَ: "" فَاحْتَفُّوا أَنْتُمْ وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ بِكُلِّ مَا اسْتَطَعْتُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِنَحْوِ هَذَا فِي الْأَدَبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports that they asked: O Messenger of Allah, the polytheists wear trousers and do not wear izars. He said: You wear trousers and wear izars. They asked: The polytheists wear socks and do not wear sandals. He said: You wear socks and wear sandals, and oppose the allies of Satan in all you can. > **"Wear trousers and wear izars. Wear socks and wear sandals, and oppose the allies of Satan in all you can."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مشرکین شلوار ( یا پاجامہ ) پہنتے ہیں وہ تہبند نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ شلوار بھی پہنو اور تہبند بھی باندھو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مشرکین موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو ! لیکن جہاں تک تم سے ہو سکے شیطان کے دوستوں کے برخلاف کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ” ادب “ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

8578

Majma al-Zawaid #8578

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مِنْ كَرَامَةِ الْمُؤْمِنِ عَلَى اللَّهِ نَقَاءُ ثَوْبِهِ وَرِضَاهُ بِالْيَسِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَجَرْوَلُ بْنُ حَنْفَلٍ ثِقَةٌ وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: لَهُ مَنَاكِيرُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Among the honour of the believer with Allah is the cleanliness of his garment and his contentment with little."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مؤمن کی کرامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کا لباس صاف ہو اور وہ تھوڑی چیز سے راضی ہو جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ایک راوی جرول بن حنفل ہے جو ثقہ ہے علی بن مدینی کہتے ہیں : اس سے منکر روایات منقول ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8579

Majma al-Zawaid #8579

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْإِسْلَامُ نَظِيفٌ فَتَنَظَّفُوا فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَظِيفٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Islam is clean, so keep clean, for none enters Paradise except the clean."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام صفائی کا نام ہے ‘ تو تم لوگ صفائی اختیار کرو کیونکہ صرف صاف ستھرا شخص ہی جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8580

Majma al-Zawaid #8580

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَنْعَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whenever Allah عزوجل bestows a blessing upon a servant, He loves to see its trace upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے ‘ تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8581

Majma al-Zawaid #8581

وَعَنْ أَبِي رَجَاءَ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَعَلَيْهِ مِطْرَفُ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبِلُ وَلَا بَعْدُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ نِعْمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعَمِهِ عَلَى عَبْدِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Raja al-Utaridi reports that Imran ibn Husayn رضي الله عنه came out to them wearing a khazz cloak never seen on him before or after, and said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"When Allah عزوجل bestows a blessing upon one, Allah عزوجل loves to see the trace of His blessing upon His servant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ان کے جسم پر ’’ خر ‘‘ ( ریشم ‘ یا ریشم اور اون سے بنا ہوا کپڑا ‘ اس ) کی چادر تھی ‘ ہم نے وہ لباس اس سے پہلے کبھی ان کے جسم پر نہیں دیکھا انہوں نے بتایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر ‘ بندے پر نظر آنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

8582

Majma al-Zawaid #8582

وَعَنْ أبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَّالَ وَيُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعَمِهِ عَلَى عَبْدِهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah is Beautiful; He loves beauty, and He loves to see the trace of His blessing upon His servant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ وہ جمال کو پسند کرتا ہے ‘ اور یہ بات پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر ‘ اس کے بندے پر نظر آئے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

8583

Majma al-Zawaid #8583

وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الضَّبْعِيِّ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: "" أَلَكَ مَالٌ؟ "" قَالَ: نَعَمْ مِنْ كُلِّ أَنْوَاعِ الْمَالِ. قَالَ: "" فَلْيُرَ عَلَيْكَ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهُ عَلَى عَبْدِهِ حَسَنًا، وَلَا يُحِبُّ الْبُؤْسَ وَلَا التَّبَؤُّسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَتَرْجَمَ لِزُهَيْرٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zuhayr ibn Abi Alqamah al-Dabbi رضي الله عنه reports that a man of bad appearance came to the Prophet ﷺ, who asked: Do you have wealth? He said: Yes, of every kind of wealth. He said: > **"Then let it be seen upon you, for Allah loves to see His trace upon His servant in a fine state, and He does not love misery nor feigned misery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زہیر بن ابوعلقمہ ضعبی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص برے حال میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! ہر قسم کا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر وہ تم پر نظر آنا چاہیے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کا اثر اپنے بندے پر اچھی حالت میں دیکھے ‘ وہ برے حال اور برا حال اختیار کرنے کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے حضرت زہیر کے ( نام کا عنوان قائم کیا ہے ) ‘ اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

8584

Majma al-Zawaid #8584

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الدُّهْنُ يُذْهِبُ الْبُؤْسَ، وَالْكُسْوَةَ تُظْهِرُ الْغِنَى، وَالْإِحْسَانُ إِلَى الْخَادِمِ يَكْبِتُ الْعَدُوَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الرُّقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn al-Ashath reports from his father from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Oil removes misery, clothing displays wealth, and kindness to servants humbles the enemy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اشعث اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تیل ’ میل ( یا خشکی ) کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور لباس خوشحالی کو ظاہر کرتا ہے ‘ اور خادم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ‘ دشمن کو کمزور کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوعبیداللہ ابوایوب رقی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8585

Majma al-Zawaid #8585

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللِّبَاسُ تُظْهِرُ الْغِنَى، وَالدُّهْنُ يُذْهِبُ الْبُؤْسَ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى الْمَمْلُوكِ يَكْبِتُ اللَّهُ بِهِ الْعَدُوَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ الْكُلَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Clothing displays wealth, oil removes misery, and kindness to slaves is that by which Allah humbles the enemy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ لباس خوشحالی ظاہر کرتا ہے ‘ تیل برے حال ( یا خشکی ) کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ‘ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دشمن کو کمزور کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عبدالقدوس کلاعی ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8586

Majma al-Zawaid #8586

وَعَنْ «أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ: "" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ "" قَالَ: بَلْ كُلُّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ. قَالَ: "" مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hazim رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ in shabby appearance, and he asked: Do you have wealth? He said: Indeed, Allah has given me all wealth, of camels, cattle and sheep. He said: > **"Whoever has wealth, let it be seen upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحازم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا ظاہری حلیہ خراب تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے پاس مال ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : ہر قسم کا مال ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ گائے بکریاں عطا کی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے پاس مال موجود ہو ‘ تو اس ( مال ) کا اثر اس پر نظر آنا چاہیے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن ابوبردہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8587

Majma al-Zawaid #8587

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ، فَقَالَ لَهُ: "" مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟ "" فَقَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ: "" إِذَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ahwas reports from his father that he came to the Prophet ﷺ dishevelled and dusty in the appearance of a Bedouin. He asked: What wealth do you have? He said: Allah عزوجل has given me of all wealth. He said: > **"When Allah bestows a blessing upon a servant, He loves that it be seen upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی کے حلیے میں بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ بندے کو نعمت عطا کرتا ہے ‘ تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ نعمت اس پر نظر بھی آئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8588

Majma al-Zawaid #8588

وَعَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ مِنَ الْكِبْرِ شَيْءٌ الْجَنَّةَ "". قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِسَيْرِ سَوْطِي وَشِسْعِ نَعْلِي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ، إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Kurayb ibn Abraha reports that he heard Abu Rayhanah رضي الله عنه say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Nothing of pride shall enter Paradise. A speaker said: O Messenger of Allah, I love to beautify even my whip cord and my sandal strap. The Prophet ﷺ said: That is not pride. Allah is Beautiful and loves beauty; pride is only whoever rejects the truth and despises people with his eyes. > **"Nothing of pride shall enter Paradise. That is not pride. Allah is Beautiful and loves beauty; pride is only whoever rejects the truth and despises people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کریب بن ابرہہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی ( یعنی تکبر کرنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ) ۔ راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میری سوٹی عمدہ ہونی چاہیے اور میرے جوتے کا تسمہ عمدہ ہونا چاہیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تکبر نہیں ہے بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ اور جمال کو پسند کرتا ہے تکبر اس شخص کا ہوتا ہے جو حق کا انکار کرے اور لوگوں کو اپنی نظر میں کمتر سمجھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

8589

Majma al-Zawaid #8589

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَحَبَ ثِيَابَهُ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ "". فَقَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَمْرَضَنِي مَا حَدَّثْتَنَا بِهِ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى إِنِّي أَجْعَلُهُ فِي شِرَاكِ نَعْلِي وَعَلَاقِ سَوْطِي، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَّالَ، وَيُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِيسَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever drags his garments, Allah shall not look at him. Abu Rayhanah said: By Allah, what you narrated has distressed me, for by Allah I love beauty such that I make it in my sandal strap and my whip cord; is that pride? The Messenger of Allah ﷺ said: Allah is Beautiful, He loves beauty, He loves to see the trace of His blessing upon His servant; but pride is whoever rejects the truth and despises people. > **"Whoever drags his garments, Allah shall not look at him. Allah is Beautiful, He loves beauty, and He loves to see the trace of His blessing upon His servant; but pride is whoever rejects the truth and despises people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اپنے کپڑے کو ‘ ( تکبر کے طور پر لٹکا کر ) زمین پر گھسیٹے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ‘‘۔ تو حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ نے جو ہمیں حکم ارشاد فرمایا ہے : اللہ کی قسم ! اس نے ہمیں بیمار کر دیا اللہ کی قسم ! میں ‘ تو جمال کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے جوتے کے تسمے اور اپنی لاٹھی کے دستے میں بھی عمدگی چاہتا ہوں ، تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے وہ جمال کو پسند کرتا ہے ‘ اور یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر وہ اپنے بندے پر دیکھے لیکن تکبر یہ ہے کہ جو شخص حق سے منہ موڑے اور لوگوں کو کمتر سمجھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عیسیٰ دمشقی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8590

Majma al-Zawaid #8590

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِي الْحُلَّةُ فَأَلْبَسُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". قُلْتُ: أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ تَكُونَ لِي رَاحِلَةٌ فَأَرْكَبُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". قُلْتُ: أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَصْنَعَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ أَصْحَابِي؟ قَالَ: "" لَا. الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْوَصَايَا وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that he asked: O Messenger of Allah, is it pride that I have a hullah and wear it? He said: No. He asked: Is it pride that I have a mount and ride it? He said: No. He asked: Is it pride that I prepare food and invite my companions? He said: No. Pride is that you reject the truth and despise people. > **"No. Pride is that you reject the truth and despise people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس حلہ ہو ‘ جسے میں پہن لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس سواری ہو کہ جس پر میں سوار ہو جاؤں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ‘ اور اپنے دوستوں کی دعوت کر دوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تکبر یہ ہے کہ تم حق کا انکار کرو اور لوگوں کو کمتر سمجھو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے جو اس سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی وصیت والے باب میں کتاب الوصایا میں گزر چکی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہے ۔

8591

Majma al-Zawaid #8591

وَعَنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا النَّجِيبَةُ الْفَارِهَةُ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا الْحُلَّتَانِ الْحَسَنَتَانِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَتَّخِذَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ قَوْمِي فَيَمْشُونَ خَلْفِي وَيَأْكُلُونَ عِنْدِي؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Husayn reports that Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما asked: O Messenger of Allah, is it pride that one of us has a noble thoroughbred camel? He said: No. He asked: Is it pride that one of us has two fine hullahs? He said: No. He asked: Is it pride that I prepare food, invite my people so they walk behind me and eat with me? He said: No. He asked: What is pride, O Messenger of Allah? He said: > **"That you reject the truth and despise people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کے پاس عمدہ قسم کی اونٹنی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس دو عمدہ قسم کے حلے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ‘ اور اپنی قوم کی دعوت دوں وہ میرے پیچھے چلتے ہوئے آئیں اور میرے ہاں کھانا کھائیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ کہ تم حق سے روگردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8592

Majma al-Zawaid #8592

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ، فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ فِي السُّفْرَةِ جَرْوَ قِثَّاءٍ، فَقَالَ: "" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ "" فَذَكَرَ كَلِمَةً، ثُمَّ أَدْبَرَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ قَدْ خَلَقَا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتَهُ إِيَّاهُمَا. قَالَ: "" فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا "" فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ، فَقَالَ: "" مَا لَهُ؟ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرٌ "". فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَالَ فِيهِ: "" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ "". فَقُلْتُ: مِنَ الْمَدِينَةِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports that they set out with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition. While lodging with him under a tree, he invited the Prophet ﷺ to the shade, found a young cucumber in the provision bag, and was asked whence it came. Then a man turned away wearing two worn-out garments. The Messenger of Allah ﷺ looked at him and asked: Does he have no two garments besides these? Jabir said: O Messenger of Allah, he has two garments in the bag which you clothed him with. He said: Call him and order him to wear them. So he called him, he wore them and turned to go, and the Prophet said: What is with him? May Allah strike his neck; is not this better? The man heard it, returned and asked: O Messenger of Allah, in the path of Allah? He said: In the path of Allah. So the man was killed in the path of Allah. > **"Does he have no two garments besides these? Call him and order him to wear them. What is with him? May Allah strike his neck; is not this better? In the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سائے کی طرف آ جائیں نبی اکرم ﷺ نیچے اترے میں نے تھیلے میں ایک چھوٹی ککڑی پائی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہے پھر راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا پھر ایک شخص مڑ کے چلا گیا اس کے جسم پر دو کپڑے تھے جو پرانے ہو چکے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا اس کے پاس اس کے علاوہ کپڑے نہیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے پاس تھیلے میں دو کپڑے ہیں جو آپ نے اسے پہننے کے لئے دیے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے بلاؤ اور اسے کہو کہ وہ ان کو پہنے میں نے اس شخص کو بلایا اس نے ان دونوں کو پہن لیا اور پھر وہ مڑ کر چلا گیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کی گردن مار دے کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے اس شخص نے یہ بات سنی ‘ تو وہ واپس آیا اور عرض کی : کیا اللہ کی راہ میں ( میری گردن اتاری جائے گی ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوا ۔ یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام مالک نے ’’ موطا ‘‘ میں نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ یہ تم لوگوں کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ میں نے عرض کی : مدینہ سے ‘‘۔

8593

Majma al-Zawaid #8593

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: رَآنِي أَبِي فِي يَدِي سَوْطٌ لَا عَلَاقَةَ لَهُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" «أَحْسِنْ عَلَاقَةَ سَوْطِكَ فَإِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Muhammad ibn Qays reports that his father saw in his hand a whip without a strap and said: The Messenger of Allah ﷺ said to a man: > **"Beautify the strap of your whip, for Allah is Beautiful and loves beauty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عثمان بن محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : میرے والد نے میرے ہاتھ میں ایسی چھڑی دیکھی جس کا علاقہ ( لٹکانے والا حصہ ) نہیں تھا انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ اپنی چھڑی کے علاقہ کو اچھا رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ اور جمال کو پسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8594

Majma al-Zawaid #8594

وَعَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ فِي شِسْعِ [نَعْلِي]- أَوْ قَالَ: شِرَاكُ نَعْلِي - أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ؟ قَالَ: "" لَا "". قُلْتُ: فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَنْ سَفَّهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sawad ibn Amr al-Ansari رضي الله عنه reports that he asked: O Messenger of Allah, I am a man to whom beauty is beloved, given of it as you see, and I dislike anyone surpassing me even in my sandal strap. Is that pride? He said: No. He asked: What is pride, O Messenger of Allah? He said: > **"Whoever rejects the truth and despises people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرے نزدیک جمال کو پسندیدہ کر دیا گیا ہے ‘ اور مجھے اس میں سے جو کچھ دیا گیا ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ کسی کے جوتے کا تسمہ میرے جوتے کے تسمے سے زیادہ اچھا ہو یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو حق سے روگردانی کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8595

Majma al-Zawaid #8595

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah is Beautiful and loves beauty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

8596

Majma al-Zawaid #8596

وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «ذُكِرَ الْكِبْرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَدَّدَ فِيهِ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لِأَغْسِلُ ثِيَابِي فَيُعْجِبُنِي بَيَاضُهَا، وَيُعْجِبُنِي شِرَاكُ نَعْلِي، وَعَلَاقُ سَوْطِي؟ فَقَالَ: "" لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ، إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ بِالشَّوَاهِدِ الْتِي تَقَدَّمَتْ فِي هَذَا الْبَابِ وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ثَابَتٍ. قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْكِبَارِ فِي الْإِيمَانِ وَطُرُقٌ فِي الزُّهْدِ.

EnglishUnverified translation

Thabit ibn Qays رضي الله عنه reports that pride was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ and he was severe concerning it, saying: Allah does not love every arrogant boaster. A man said: By Allah, O Messenger of Allah, I wash my clothes and their whiteness pleases me, my sandal strap pleases me, and my whip cord pleases me. He said: > **"That is not pride; pride is only that you reject the truth and despise people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس بارے میں سختی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ ہر متکبر فخر کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں ، تو مجھے ان کی سفیدی اچھی لگتی ہے ‘ اور مجھے اپنے جوتے کا تسمہ اچھا لگتا ہے ‘ اور مجھے اپنی لاٹھی کا علاقہ ( لٹکانے کی جگہ ) اچھا لگتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ چیز تکبر نہیں ہے ، تکبر یہ ہے کہ تم حق سے رو گردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس ک سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث ان شواہد کی بنیاد پر حسن ہے جو اس سے پہلے اس باب میں گزر چکے ہیں ‘ البتہ عبدالرحمن نامی راوی نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سورت نساء سے متعلق باب میں بھی ہے اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو کتاب الایمان میں گزر چکے ہیں اور اس کے کچھ طرق کتاب الزہد میں ہیں ۔

8597

Majma al-Zawaid #8597

وَعَنْ نُفَيْعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ ثَوْبًا أَبْيَضَ وَمِنْ أَطْيَبِ النَّاسِ رِيحًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَنُفَيْعٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ، وَكَذَلِكَ سُلَيْمَانُ بْنُ مِينَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: لَمْ يَسْمَعِ الْمَسْعُودِيُّ مِنْ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ مُرْسَلٌ. وَأَبُو نُعَيْمٍ سَمِعَ الْمَسْعُودِيَّ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ.

EnglishUnverified translation

Nufay, the freedman of Abdullah ibn Masud, reports that Abdullah رضي الله عنه was among the people with the finest white garments and the sweetest scent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے غلام نفیح بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ عمدہ سفید کپڑا پہنتے تھے اور سب سے زیادہ پاکیزہ خوشبو لگاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ نفیع نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے اسی طرح سلیمان بن میناء ایک راوی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوحاتم نے یہ کہا ہے کہ مسعودی نے سلیمان سے سماع نہیں کیا ‘ تو یہ روایت مرسل ہے ۔ ابونعیم نے مسعودی سے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے سماع کیا تھا ۔

8598

Majma al-Zawaid #8598

وَعَنِ جَابِرٍ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اشْتَرَى رِدَاءً بِأَلْفٍ، وَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that Tamim al-Dari رضي الله عنه bought a cloak for a thousand and used to pray in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کے عوض میں خریدی تھی وہ اس میں نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8599

Majma al-Zawaid #8599

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اطْوُوا ثِيَابَكُمْ تَرْجِعْ إِلَيْهَا أَرْوَاحُهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا وَجَدَ ثَوْبًا مَطْوِيًا لَمْ يَلْبَسْهُ، وَإِذَا وَجَدَ مَنْشُورًا لَبِسَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Fold your clothes and their spirits return to them, for when Satan finds a folded garment he does not wear it, and when he finds it spread out he wears it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے کپڑوں کو لپیٹ دو ! ان کی ارواح ان کی طرف واپس آ جائیں گی کیونکہ شیطان جب کسی کپڑے کو لپٹا ہوا پاتا ہے ‘ تو اسے نہیں پہنتا ہے ‘ اور جب کسی کپڑے کو کھلا پاتا ہے ‘ تو اسے پہن لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے ‘ اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

8600

Majma al-Zawaid #8600

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَاضِنِ عَائِشَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَائِشَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، نِصْفُهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنِصْفُهُ عَلَى عَائِشَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Rahman, the foster-servant of Aishah, reports that he saw the Messenger of Allah ﷺ and Aishah رضي الله عنها in a single garment, half of it upon the Prophet ﷺ and half upon Aishah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے زیر پرورش ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک ہی کپڑے میں دیکھا جس کا نصف حصہ نبی اکرم ﷺ پر تھا ‘ اور نصف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8601

Majma al-Zawaid #8601

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ: الْمَشْهُورَةِ فِي حُسْنِهَا وَالْمَشْهُورَةِ فِي قُبْحِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَزِيعٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade two kinds of dress: that notorious for its beauty and that notorious for its ugliness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو قسم کے کپڑوں سے منع کیا ہے ‘ وہ جس کی خوبصورتی مشہور ہو اور وہ جس کا برا ہونا مشہور ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بزیج ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8602

Majma al-Zawaid #8602

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا مَشْهُورًا مِنَ الثِّيَابِ أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Tamimi reports that he heard al-Hasan and al-Husayn رضي الله عنهما say: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever wears a notorious garment among clothes, Allah shall turn away from him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسعید تمیمی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے ’’ جو شخص مشہور لباس پہنے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8603

Majma al-Zawaid #8603

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ أَحَدٍ يَلْبَسُ ثَوْبًا لِيُبَاهِيَ بِهِ، فَيَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ، حَتَّى يَنْزِعَهُ مَتَى مَا نَزَعَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ: > **"There is none who wears a garment to boast in it so people look at him except that Allah shall not look at him until he removes it, whenever he removes it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو شخص کوئی ایسا کپڑا پہنے جس کے ذریعے وہ فخر کا اظہار کرے اور لوگ اس کی طرف دیکھیں ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ‘ جب تک وہ اس کو اتار نہیں دیتا خواہ اس کو جب بھی اتارے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8604

Majma al-Zawaid #8604

وَعَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ رَجُلٌ: مَا أَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ: مَا لَا يَزْدَرِيكَ فِيهِ السُّفَهَاءُ وَلَا يَعِيبُكَ بِهِ الْحُلَمَاءُ. قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ دَرَاهِمَ إِلَى الْعِشْرِينَ دِرْهَمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Yafur reports that he heard a man ask Ibn Umar رضي الله عنهما: What garments shall I wear? He said: What neither the foolish despise you in nor the wise blame you for. He asked: What is that? He said: Between five dirhams and twenty dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابویعفور بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ایک شخص نے ان سے دریافت کیا : میں کون سا کپڑا پہنوں ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جس کی وجہ سے بے وقوف لوگ تمہیں پرے نہ کریں ‘ اور بردبار لوگ اس کی وجہ سے تم پر اعتراض نہ کریں ‘ اس نے دریافت کیا : وہ کون سا کپڑا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جو پانچ دراہم سے لے کر بیس درہم میں آ جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8605

Majma al-Zawaid #8605

«عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مَنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ: "" يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلِيكَ الْجَنَّةَ؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزِعَهُمَا عَنِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ "". فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Damrah ibn Thalabah رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ wearing two Yemeni hullahs, and he said: O Damrah, do you think these two garments of yours will admit you into Paradise? He said: O Messenger of Allah, if you seek forgiveness for me I shall not sit until I remove them. The Prophet ﷺ said: O Allah, forgive Damrah. So he hastened until he removed them. > **"O Damrah, do you think these two garments of yours will admit you into Paradise? O Allah, forgive Damrah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے جسم پر دو یمنی حلے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ضمرہ ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں داخل کروا دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے لئے دعائے مغفرت کر دیں ، تو میں انہیں اتارنے سے پہلے نہیں بیٹھوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ضمرہ کی مغفرت کر دے ‘ تو وہ تیزی سے گئے ‘ اور انہوں نے انہیں اتار دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔

8606

Majma al-Zawaid #8606

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لِيَلْبَسُ وَهُوَ عَارٍ. يَعْنِي: الثِّيَابَ الرِّقَاقَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarir ibn Abdillah رضي الله عنه said: A man may dress while naked, meaning thin garments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص لباس پہنے گا ‘ اور وہ برہنہ ہو گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد یہ تھی کہ اس نے پتلے کپڑے پہنے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8607

Majma al-Zawaid #8607

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ عَقَدَ عُقْدَةً بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" وَيْحَكَ يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّمَا أَلْبَسُهَا لِأَقْمَعَ بِهَا الْكِبْرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ came out having tied a knot between his shoulders, and a Bedouin asked: What is this, O Messenger of Allah? He said: > **"Woe to you, O Bedouin; I wear it only to suppress pride thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے آپ نے دونوں کندھوں کے درمیان گرہ لگائی ہوئی تھی ایک دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے دیہاتی ! تمہارا ستیاناس ہو میں نے اسے اس لئے پہنا ہے تاکہ تکبر کو ختم کر دوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8608

Majma al-Zawaid #8608

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى يَوْمًا، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: "" أَعْطِنِي نَمِرَتَكَ وَخُذْ نَمِرَتِي "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَمِرَتُكَ أَجْوَدُ مِنْ نَمِرَتِي. فَقَالَ: "" أَجَلْ وَلَكِنَّ فِيهَا خَيْطٌ أَحْمَرُ فَخَشِيتُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا فَيَفْتِنَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُوسَى بْنِ طَارِقٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Sarjis رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ prayed one day in a striped namirah cloak and said to a Companion: Give me your namirah and take mine. He said: O Messenger of Allah, yours is better than mine. He said: Yes, but in it is a red thread, and I feared to look at it and be distracted. > **"Give me your namirah and take mine. In it is a red thread, and I feared to look at it and be distracted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی آپ کے جسم پر ایک چادر تھی آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے یہ کہا : تم اپنی چادر مجھے دیدو اور میری چادر تم لو لے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی چادر میری چادر سے عمدہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن اس میں سرخ کڑھائی ہوئی ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میں اس کی طرف دیکھوں گا ‘ اور یہ میری ‘ توجہ منتشر کر دے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن طارق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

8609

Majma al-Zawaid #8609

عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «انْتَضِلُوا، وَاخْشَوْشِنُوا، وَامْشُوا حُفَاةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" تَمَعْدَدُوا "" بَدَلَ "" انْتَضِلُوا "". وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا وَقَالَ فِيهِ: "" تَمَعْدَدُوا "".

EnglishUnverified translation

Abu Hadrad رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Practise archery, wear coarse clothes, and walk barefoot."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحدرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تیر اندازی کرو ‘ اور موٹا کپڑا پہنو اور برہنہ پاؤں چلو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے لفظ ’’ انتضلوا ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ تمعد دوا ‘‘ ( مشقت پسندی اختیار کرو ) نقل کیا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے یہ روایت معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔ اور اس میں انہوں نے لفظ ’’ تمعددوا ‘‘ ( مشقت پسندی اختیار کرو ) نقل کیا ہے ۔

8610

Majma al-Zawaid #8610

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «انْتَضِلُوا، وَاخْشَوْشِنُوا، وَامْشُوا حُفَاةً "". وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: "" تَمَعْدَدُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Hadrad رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Practise archery, wear coarse clothes, walk barefoot."** With the addition in one narration: Live hardily.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابوحدرد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تیراندازی کرو ‘ اور موٹا کپڑا پہنو اور برہنہ پاؤں چلو ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” مشقت پسندی اختیار کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔