Majma al-Zawaid #8531
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، [إِذَا] قَالَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ فَتَوَضَّأَ "" قَالَ: فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ "" ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَ عَنْهُ؟ فَقَالَ: "" إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ» "". قُلْتُ: عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ، وَلَمْ أَجِدْ فِي نُسْخَتِي فَلَعَلَّهُ فِي الْكُبْرَى. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Ata ibn Yasar reports from one of the Companions of the Prophet ﷺ that while a man was praying with his izar trailing, the Messenger of Allah ﷺ said to him: Go and perform ablution. He went, performed ablution and returned, and the Prophet ﷺ again said: Go and perform ablution. When asked why he ordered him to renew ablution then fell silent, he said: He was praying while trailing his izar, and Allah تبارك وتعالى does not accept the prayer of a servant who trails his izar. > **"Go and perform ablution. Allah تبارك وتعالى does not accept the prayer of a servant who trails his izar."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عطاء بن یسار ‘ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا اس نے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم جاؤ اور وضو کرو ! راوی کہتے ہیں : وہ شخص گیا وہ آیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور وضو کرو ! پھر وہ شخص آیا تو انہوں ( یعنی راوی صحابی ) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ نے اس شخص کو وضو کرنے کا حکم دیا اور پھر وہ اس بارے میں خاموش رہا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ شخص تہبند کو لٹکا کر نماز ادا کر رہا تھا ‘ اور اللہ تعلی تہبند کو لٹکانے والے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا ‘‘۔ ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام نسائی کی طرف کی ہے ‘ میں نے اپنے پاس موجود نسخے میں یہ روایت نہیں پائی ‘ شاید یہ ” سنن نسائی کبری ‘‘ میں ہو گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔