Majma al-Zawaid #8491
عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ «رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي "". فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَانْتَهَيْنَا إِلَى السُّوقِ الْكَبِيرِ فَتَوَسَّمَ شَيْخًا مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا شَيْخُ أَحْسِنْ بَيْعَتِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، وَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ.
EnglishUnverified translation
Abu Matar reports that he saw Ali رضي الله عنه come to a young boy and buy a shirt from him for three dirhams. He wore it, reaching between the wrists and the ankles, and said while wearing it: Praise be to Allah who has provided me from clothing what I beautify myself with among people and conceal my nakedness with. It was asked of him: Is this something you say on your own, or do you narrate it from the Messenger of Allah ﷺ? He said: This is something I heard the Messenger of Allah ﷺ say at the time of wearing new clothes. > **"Praise be to Allah who has provided me from clothing what I beautify myself with among people and conceal my nakedness with."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابومطر بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ‘ اور اس سے تین درہم کے عوض میں انہوں نے ایک قمیص خریدی وہ انہوں نے پہن لی ‘ جو ان کی پنڈلی سے ٹخنوں تک تھی اسے پہننے کے وقت انہوں نے یہ پڑھا : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے لباس کے حوالے سے وہ چیز عطا کی ہے ‘ جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کرتا ہوں ‘ اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لیتا ہوں “ ان سے دریافت کیا گیا : کیا یہ چیز آپ اپنی ذات کے حوالے سے پڑھ رہے ہیں ؟ یا یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے ‘ جو میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے ‘ آپ ﷺ لباس پہنتے وقت یہ پڑھتے تھے : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے لباس میں سے وہ عطا کیا ہے ‘ جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کروں ‘ اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ہم بڑے بازار میں آئے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک بڑی شخص کی عمر کے پاس آئے ‘ اور بولے : اے بڑی عمر کے شخص ! تم تین درہم کے عوض میں قمیص کے بارے میں میرے ساتھ اچھی طرح سودا کرو ‘ اس نے کہا ٹھیک ہے اے امیر المؤمنین ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ وہ ان کو پہچان چکا ہے ‘ تو انہوں نے اس سے کچھ نہیں خریدا ‘ پھر وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔