Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 24 · Chapter 1

Book of Clothing and Adornment

Hadith 8491–8530

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8491

Majma al-Zawaid #8491

عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ «رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي "". فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَانْتَهَيْنَا إِلَى السُّوقِ الْكَبِيرِ فَتَوَسَّمَ شَيْخًا مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا شَيْخُ أَحْسِنْ بَيْعَتِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، وَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Matar reports that he saw Ali رضي الله عنه come to a young boy and buy a shirt from him for three dirhams. He wore it, reaching between the wrists and the ankles, and said while wearing it: Praise be to Allah who has provided me from clothing what I beautify myself with among people and conceal my nakedness with. It was asked of him: Is this something you say on your own, or do you narrate it from the Messenger of Allah ﷺ? He said: This is something I heard the Messenger of Allah ﷺ say at the time of wearing new clothes. > **"Praise be to Allah who has provided me from clothing what I beautify myself with among people and conceal my nakedness with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومطر بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ‘ اور اس سے تین درہم کے عوض میں انہوں نے ایک قمیص خریدی وہ انہوں نے پہن لی ‘ جو ان کی پنڈلی سے ٹخنوں تک تھی اسے پہننے کے وقت انہوں نے یہ پڑھا : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے لباس کے حوالے سے وہ چیز عطا کی ہے ‘ جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کرتا ہوں ‘ اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لیتا ہوں “ ان سے دریافت کیا گیا : کیا یہ چیز آپ اپنی ذات کے حوالے سے پڑھ رہے ہیں ؟ یا یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے ‘ جو میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے ‘ آپ ﷺ لباس پہنتے وقت یہ پڑھتے تھے : ’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے لباس میں سے وہ عطا کیا ہے ‘ جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کروں ‘ اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ہم بڑے بازار میں آئے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک بڑی شخص کی عمر کے پاس آئے ‘ اور بولے : اے بڑی عمر کے شخص ! تم تین درہم کے عوض میں قمیص کے بارے میں میرے ساتھ اچھی طرح سودا کرو ‘ اس نے کہا ٹھیک ہے اے امیر المؤمنین ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ وہ ان کو پہچان چکا ہے ‘ تو انہوں نے اس سے کچھ نہیں خریدا ‘ پھر وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔

8492

Majma al-Zawaid #8492

وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا. وَفِيهِ مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, when the Prophet ﷺ wore a new garment he would supplicate at the time of wearing it. > **"Praise be to Allah who has provided me from clothing what I beautify myself with among people and conceal my nakedness with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ جب نیا کپڑا پہنتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8493

Majma al-Zawaid #8493

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «لَبِسَ حُذَيْفَةُ ثِيَابًا جُدُدًا فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَارَى عَوْرَتِي وَجَمَّلَنِي فِي عِبَادِهِ "". ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَبِسَ ثِيَابًا جُدُدًا قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that Hudhayfah رضي الله عنه wore new clothes and said: Praise be to Allah who concealed my nakedness and beautified me among His servants. He then said that the Messenger of Allah ﷺ would say the like of that when he wore new clothes. > **"Praise be to Allah who concealed my nakedness and beautified me among His servants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نئے کپڑے پہنے ‘ تو یہ دعا پڑھی : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے جس نے میری شرمگاہ کو ڈھانپنے کا سامان عطا کیا اور مجھے اپنے بندوں کے درمیان جمال والی چیز عطا کی ‘‘۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ جب نیا لباس پہنتے تھے ‘ تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد دائمی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

8494

Majma al-Zawaid #8494

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً فَعَلِمَ أَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شُكْرًا قَبْلَ أَنْ يَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، وَمَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَنَدِمَ عَلَيْهِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مَغْفِرَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ، وَمَا اسْتَجَدَّ عَبْدٌ ثَوْبًا بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ فَحَمِدَ اللَّهَ حِينَ يَلْبَسُهُ إِلَّا لَمْ يَبْلُغْ رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said: Allah does not bestow a blessing upon a servant who knows it is from Allah except that Allah records gratitude for him for it before he even praises Him for it; no servant commits a sin then regrets it except that Allah records His forgiveness for him before he seeks forgiveness; and no servant acquires a new garment for a dinar or half a dinar then praises Allah when wearing it except that it does not reach his knees before Allah forgives him. > **"No blessing comes to a servant who knows it is from Allah except gratitude is recorded for him before he praises Him for it, no sin is followed by regret except forgiveness is recorded before he seeks it, and no new garment is praised at wearing except forgiveness comes before it reaches his knees."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر کوئی نعمت کرے اور وہ بندہ یہ بات جانتا ہو کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے ‘ اس شخص کے حق میں شکر کو نوٹ کر لیتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ اس نعمت کے حوالے سے بندہ اس کی حمد بیان کرے اور جب کوئی بندہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ‘ اور پھر اس پر ندامت کا شکار ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے مغفرت طلب کرنے سے پہلے اس کی مغفرت کو نوٹ کر لیتا ہے ‘ اور جب کوئی بندہ ایک دینار یا نصف دینار کے عوض میں کوئی نیا کپڑا خریدے اور اس کو پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے ‘ تو وہ کپڑا بھی اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچا ہو تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد منقری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8495

Majma al-Zawaid #8495

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي السُّوقَ فَيَبْتَاعُ الْقَمِيصَ بِنِصْفِ دِينَارٍ أَوْ ثُلْثِ دِينَارٍ فَيَحْمَدُ اللَّهَ إِذَا لَبِسَهُ فَلَا يَبْلُغُ رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that among his Ummah are those who come to the market and buy a shirt for half a dinar or a third of a dinar, then praise Allah when wearing it, and it does not reach his knees before he is forgiven. > **"Whoever buys a shirt for half a dinar or a third of a dinar and praises Allah when wearing it is not reached by it at his knees before he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کا کوئی شخص بازار میں آئے گا وہ نصف دینار یا ایک تہائی دینار کے عوض میں قمیص خریدے گا پھر اس کو پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے گا ‘ تو وہ قمیص ابھی اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچی ہو گی کہ اس کی مغفرت ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

8496

Majma al-Zawaid #8496

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عِمْرَانُ بْنُ تَمَّامٍ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ بِحَدِيثٍ غَيْرِ هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Wear turbans; you will increase in forbearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم لوگ عمامہ باندھو ! تمہاری بردباری ( یا عزت ) میں اضافہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمران بن ابوتمام ہے ۔ ابوحاتم نے ایک حدیث کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8497

Majma al-Zawaid #8497

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Malih ibn Usamah reports from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Wear turbans; you will increase in forbearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ عمامہ باندھو ! تمہارے حلم ( بردباری یا عزت ) میں اضافہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

8498

Majma al-Zawaid #8498

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «عَمَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَرْخَى لَهُ أَرْبَعَ أَصَابِعَ وَقَالَ: "" إِنِّي لَمَّا صَعِدْتُ إِلَى السَّمَاءِ رَأَيْتُ أَكْثَرَ الْمَلَائِكَةِ مُعْتَمِّينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ turbaned Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه and let down for him four fingers' length, and said: When I ascended to heaven I saw most of the angels wearing turbans. > **"When I ascended to heaven I saw most of the angels wearing turbans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو عمامہ باندھا ‘ تو ان کا چار انگل کا شملہ لٹکایا اور یہ بات بیان کی کہ جب میں آسمان پر گیا ، تو میں نے اکثر فرشتوں کو عمامہ باندھے ہوئے دیکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔

8499

Majma al-Zawaid #8499

وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اعْتَمَّ أَرْخَى عِمَامَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, reports that when the Prophet ﷺ wore a turban he would let its end hang in front and behind.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب عمامہ باندھتے تھے ‘ تو اپنے آگے یا اپنے پیچھے عمامہ کو لٹکاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8500

Majma al-Zawaid #8500

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ جَبَلٍ وَحُذَيْفَةُ وَابْنُ عَوْفٍ وَأَنَا وَأَبُو سَعِيدٍ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ ابْنَ عَوْفٍ فَتَجَهَّزَ لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُ عَلَيْهَا فَأَصْبَحَ وَقَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَقَضَهَا فَعَمَّمَهُ، فَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ قَالَ: "" هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ "" ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" خُذْ يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاغْزُوَا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مِنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا فَهَذَا عَهْدُ اللَّهِ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ فِيكُمْ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar رضي الله عنهما reports that he was one of ten in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ, including Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Ibn Masud, Ibn Jabal, Hudhayfah, Ibn Awf, himself and Abu Said. A young man of the Ansar came, greeted and sat. Then the Prophet ﷺ ordered Ibn Awf to prepare for an expedition, and he appeared wearing a black woollen turban. The Prophet ﷺ undid it and turbaned him himself, letting down about four fingers behind, and said: O Ibn Awf, wear the turban in this way, for it is more Arab and more handsome. Then he ordered Bilal to hand him the banner, praised Allah, invoked blessings on the Prophet ﷺ, and said: Take it, O Ibn Awf, and fight all together in the path of Allah; fight those who disbelieve in Allah, do not betray and do not mutilate, for this is the covenant of Allah and the Sunnah of His Prophet among you. > **"O Ibn Awf, wear the turban in this way, for it is more Arab and more handsome. Take it and fight all together in the path of Allah; fight those who disbelieve in Allah, do not betray and do not mutilate, for this is the covenant of Allah and the Sunnah of His Prophet among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں موجود دس افراد میں سے ایک تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے ‘ میں تھا ‘ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے اسی دوران انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے سامان تیار کریں ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس مہم کا امیر مقرر کیا تھا ، اگلے دن انہوں نے سیاہ رنگ کا اونی عمامہ باندھا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم نے ان کا عمامہ کھول کر خود اُن کا عمامہ باندھا اور پیچھے چار انگل ‘ یا اس کے آس پاس شملہ رکھا ‘ پھر یہ ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اس طرح تم عمامہ باندھو ! یہ عربوں کے معمول کے مطابق اور زیادہ عمدہ ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے جھنڈا اُن کے سپرد کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ‘ نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اسے لے لو ! اور سب لوگوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جنگ کرو ‘ اس شخص کے ساتھ قتال کرو ‘ جو اللہ کا انکار کرتا ہے ‘ تم عہد شکنی نہ کرنا ‘ تم مثلہ نہ کرنا ‘ یہ اللہ کا حکم اور تم لوگوں کے بارے میں اس کے نبی ﷺ کی سنت ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

8501

Majma al-Zawaid #8501

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: «كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْتَمُّ؟ قَالَ: كَانَ يُدَوِّرُ كُورَ عِمَامَتِهِ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَغْرِزُهَا مِنْ وَرَائِهِ وَيُرْسِلُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا عَبْدِ السَّلَامِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Abd al-Salam reports that he asked Ibn Umar رضي الله عنهما how the Messenger of Allah ﷺ wore his turban. He said: He would wind the coil of his turban around his head, tuck it behind, and let it hang between his shoulders.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالسلام بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کیسے عمامہ باندھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ عمامے کے پیچ کو اپنے سر پر لپیٹتے تھے اور پھر پیچھے کی طرف اس کو اندر کر کے دونوں کندھوں کے درمیان اسے چھوڑ دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف ابوعبدالسلام کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے

8502

Majma al-Zawaid #8502

وَعَنْ أَبِي مُوسَى «أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى ذَوَائِبَهُ مِنْ وَرَائِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reports that Gabriel عليه السلام descended upon the Prophet ﷺ wearing a black turban with its ends let down behind him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئے انہوں نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا ‘ اور اس کا شملہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ‘ اور وہ اس حدیث اور دیگر احادیث کے حوالے سے ضعیف ہے ۔

8503

Majma al-Zawaid #8503

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَا الْمَلَائِكَةِ وَأَرْخُوهَا خَلَفَ ظُهُورِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَجْهُولٌ. وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيِّ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ، وَمَعَ ذَلِكَ فَقَدْ وَثَّقَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Hold to turbans, for they are the mark of the angels, and let them hang behind your backs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر عمامہ باندھنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ فرشتوں کا علامتی نشان ہے ‘ اور تم انہیں اپنی پشت پر لٹکا کے رکھو ( یعنی شملہ رکھو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن یونس ہے ۔ امام دارقطنی کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔ امام ذہبی نے یحیی بن عثمان بن صالح مصری جو امام طبرانی کے استاد ہیں ان کے حالات میں یہ حدیث ذکر کی ہے ‘ اور اس کے ہمراہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔

8504

Majma al-Zawaid #8504

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُوَلِّي وَالِيًا حَتَّى يُعَمِّمَهُ وَيُرْخِيَ لَهَا [عَذَبَةً] مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ نَحْوَ الْأُذُنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمِيعُ بْنُ ثَقت (*) وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ: "" «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى أَصْحَابِ الْعَمَائِمِ يَوْمَ الْجُمْعَةَ» "" فِي الْجُمْعَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would not appoint a governor until he had turbaned him and let down a tail for it on the right side toward the ear.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کسی بھی شخص کو کسی کام کا نگران اس وقت تک مقرر نہیں کرتے تھے جب تک اسے عمامہ نہیں باندھ دیتے تھے اور دائیں جانب کان کی طرف شملہ نہیں لٹکا دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثقت ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے منقول یہ حدیث گزر چکی ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے جمعہ والے دن عمامہ والے افراد پر رحمت نازل کرتے ہیں یہ کتاب الجمعہ میں گزری ہے ۔

8505

Majma al-Zawaid #8505

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُ قَلَنْسُوَةً بَيْضَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ used to wear a white cap.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفید ٹوپی پہنتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے جمہور ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8506

Majma al-Zawaid #8506

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْبَسُ كُمَّةً بَيْضَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ used to wear a white kummah cap.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفید ٹوپی پہنا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن حنیفہ واسطی کے حوالے سے نقل کی ہے وہ ضعیف ہے ‘ قوی نہیں ہے ۔

8507

Majma al-Zawaid #8507

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ had only one shirt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صرف ایک قمیص ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن میسرہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8508

Majma al-Zawaid #8508

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَلْبَسُ قَمِيصًا مِنْ كَرَابِيسَ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَرِدَاؤُهُ يَضْرِبُ أَلْيَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ata reports that he saw Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه wearing a woollen shirt reaching to mid-calf, with his cloak striking his back.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اونی قمیص پہنتے تھے جو نصف پنڈلی تک آتی تھی اور ان کی چادر ان کی پشت تک آتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8509

Majma al-Zawaid #8509

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ يَدُ كُمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الرُّصْغِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the sleeve of the Messenger of Allah ﷺ reached to the wrist.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی آستین کلائی تک ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8510

Majma al-Zawaid #8510

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ يَوْمًا السُّوقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ إِلَى الْبَزَّازِينَ، فَاشْتَرَى سَرَاوِيلَ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، وَكَانَ لِأَهْلِ السُّوقِ وَزَّانٌ يَزِنُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اتَّزِنْ وَأَرْجِحْ "" فَقَالَ الْوَزَّانُ: إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: كَفَى بِكَ مِنَ الرَّهَقِ وَالْجَفَاءِ فِي دِينِكَ أَلَّا تَعْرِفَ نَبِيَّكَ؟ فَطَرَحَ الْمِيزَانَ وَوَثَبَ إِلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ أَنْ يُقَبِّلَهَا، فَحَذَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْهُ فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ إِنَّمَا يَفْعَلُ هَذَا الْأَعَاجِمُ بِمُلُوكِهَا وَلَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ "". فَوَزَنَ وَأَرْجَحَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّرَاوِيلُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَهُ عَنْهُ فَقَالَ: "" صَاحِبُ الشَّيْءِ أَحَقُّ بِشَيْئِهِ أَنْ يَحْمِلَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ضَعِيفًا فَيَعْجِزَ عَنْهُ فَيُعِينُهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّكَ لِتَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ؟ قَالَ: "" أَجَلْ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَفِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، فَإِنِّي أُمِرْتُ بِالسِّتْرِ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا أَسْتَرَ مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that he entered the market with the Messenger of Allah ﷺ, who sat with the cloth merchants and bought trousers for four dirhams. The weigher of the market weighed, and the Messenger of Allah ﷺ said: Weigh and give in excess. The weigher said: These are words I have never heard from anyone. Abu Hurayrah said to him: It suffices you in hardness toward your religion that you do not know your Prophet. So the man threw down the scale and rushed to kiss the hand of the Messenger of Allah ﷺ, but the Messenger withdrew his hand and said: What is this? Only the non-Arabs do this with their kings; I am not a king, I am but a man among you. Then he weighed generously, the Messenger took the trousers, and when Abu Hurayrah went to carry them for him he said: The owner of a thing is most entitled to carry it, unless he is weak and his Muslim brother helps him. Abu Hurayrah asked: O Messenger of Allah, do you wear trousers? He said: Yes, in travel and residence, by night and day, for I have been commanded with covering and I have found nothing more covering than them. > **"Weigh and give in excess. I am not a king, I am but a man among you. The owner of a thing is most entitled to carry it unless he is weak and his Muslim brother helps him. I have been commanded with covering and I have found nothing more covering than trousers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بازار میں داخل ہوا نبی اکرم ﷺ کپڑا فروخت کرنے والوں کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ نے چار درہم کے عوض میں ایک شلوار خریدی ( یا پاجامہ خریدا ) بازار والوں میں ایک وزان تھا جو وزن کیا کرتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم وزن کرتے ہوئے ( دوسرے فریق کے پلڑے کو ) بھاری رکھنا وزان نے کہا : یہ کلمہ میں نے اس سے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس سے کہا : تمہاری کم عقلی کے لئے ‘ اور تمہارے دین میں جفا کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم نے اپنے نبی کو نہیں پہچانا ‘ اس نے پلڑے کو ایک طرف رکھا اور نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ کی طرف جھک گیا وہ اسے بوسہ دینا چاہتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا اور فرمایا : یہ کیا ہے عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ‘ میں بادشاہ نہیں ہوں ‘ میں تم میں سے ایک فرد ہوں ‘ پھر اس شخص نے وزن کرتے ہوئے دوسرے کے پلڑے کو بھاری رکھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے وہ شلوار ( یا پاجامہ ) لے لیا ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آگے بڑھاتا کہ میں اسے اُٹھا لوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چیز والا شخص ‘ اپنی چیز کو اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے ‘ البتہ اگر وہ ضعیف ہو ‘ اور اسے اٹھانے سے عاجز ہو ‘ تو پھر اس کا مسلمان بھائی اس کی مدد کر دے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ شلوار پہنیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! سفر اور حضر کے دوران ‘ اور رات میں اور دن میں ( اسے استعمال کروں گا ) کیونکہ مجھے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اور میں نے ایسی کوئی چیز نہیں پائی جو اس سے زیادہ پردہ والی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن زیاد بصری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8511

Majma al-Zawaid #8511

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَقِيعِ - يَعْنِي بَقِيعَ الْغَرْقَدِ - فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ عَلَى حِمَارٍ وَمَعَهَا مَكَارٌ فَمَرَّتْ فِي وَهْدَةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَقَطَتْ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا بِوَجْهِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مُتَسَرْوِلَةٌ؟ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُتَسَرْوِلَاتِ مِنْ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُعَلِّمُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reports that he was sitting with the Prophet ﷺ at al-Baqi on a rainy day when a woman passed on a donkey with a driver beside her. She passed through a hollow and fell, so the Prophet ﷺ turned his face away. They said: O Messenger of Allah, she is wearing trousers. He said: > **"O Allah, forgive the trouser-wearing women of my Ummah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ’’ بقیع ‘‘ یعنی بقیع غرقد میں بیٹھا ہوا تھا ‘ یہ ایک بارش والے دن کی بات ہے ‘ ایک خاتون گدھے پر سوار ہو کر گزری ‘ اس کے ساتھ ایک مکار بھی تھا ‘ جب وہ نیچے والی زمین کے پاس پہنچی ‘ تو وہ گر گئی نبی اکرم ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے شلوار ( یا پاجامہ ) پہنی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ میری امت کی شلوار ( یا پاجامہ ) پہنے والی خواتین کی مغفرت کرے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا معلم ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

8512

Majma al-Zawaid #8512

عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ: > **"The izar is to mid-calf or to the ankles; there is no good in what is lower than that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تہبند نصف پنڈلی تک ‘ یا ٹخنوں تک ہو گا ‘ اس سے نیچے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8513

Majma al-Zawaid #8513

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُرَى عَضَلَةَ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا ائْتَزَرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the muscle of the calf of the Messenger of Allah ﷺ could be seen from beneath his izar when he wore it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی پنڈلی کا پٹھہ تہبند کے نیچے سے نظر آتا تھا جب آپ نے تہبند باندھا ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبھان ہے جو توامہ کا آزاد کردہ غلام ہے وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8514

Majma al-Zawaid #8514

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ «أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ يَتَّزِرُ عَلَى نِصْفِ السَّاقِ وَقَالَ: هَكَذَا إِزْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa رضي الله عنه reports that Uthman رضي الله عنه wore his izar to mid-calf and said: Such was the izar of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نصف پنڈلی تک تہبند باندھتے تھے اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے : نبی اکرم ﷺ کا تہبند بھی اس طرح ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8515

Majma al-Zawaid #8515

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتَكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «نِعْمَ الْفَتَى سَمُرَةُ لَوْ أَخَذَ مَنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ» "". فَفَعَلَ ذَلِكَ سَمُرَةُ أَخَذَ مَنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ يَعْمُرَ بْنِ بِشْرٍ، وَيُقَالُ: مَشَايِخُ أَحْمَدَ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Fatik رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said: What an excellent youth Samurah is, if only he took from his locks and raised his izar. So Samurah did so, taking from his locks and raising his izar. > **"What an excellent youth Samurah is, if only he took from his locks and raised his izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سمرہ اچھا نوجوان ہے اگر وہ اپنے بال چھوٹے کروا لے اور تہبند اونچا رکھے ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے بال کٹوا لیے اور وہ تہبند اونچا رکھا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد یعمر بن بشر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ یہ بات کہی گئی ہے کہ امام احمد کے تمام مشائخ ثقہ ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8516

Majma al-Zawaid #8516

وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتَكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نِعْمَ الْفَتَى خُرَيْمٌ لَوْ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ وَرَفَعَ مِنْ إِزَارِهِ» "". قَالَ: فَقَالَ خُرَيْمٌ: لَا يُجَاوِزُ شَعْرِي أُذُنِي وَلَا إِزَارِي عَقِبِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَمَدَارُهُ عَلَى الْمَسْعُودِيِّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَالرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Khuraym ibn Fatik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: What an excellent youth Khuraym is, if only he shortened his hair and raised his izar. Khuraym said: My hair shall not pass my ears nor my izar my ankles. > **"What an excellent youth Khuraym is, if only he shortened his hair and raised his izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ خریم اچھا نوجوان ہے اگر وہ بال کٹوا لے اور تہبند اوپر رکھے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، تو حضرت خریم رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی کہ اب میرے بال کان سے آگے نہیں جائیں گے ‘ اور تہبند ٹخنے سے نیچے نہیں جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کا مدار مسعودی نامی راوی پر ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ اور جس راوی نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ میں اس سے بھی واقف نہیں ہوں ۔

8517

Majma al-Zawaid #8517

وَعَنْ خُرَيْمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "" «يَا خُرَيْمُ بْنَ فَاتَكٍ لَوْلَا خَصْلَتَانِ فِيكَ لَكُنْتَ أَنْتَ الرَّجُلَ "" فَقَالَ: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ حَسْبِي وَاحِدَةٌ قَالَ: "" تَوْفِيرُ شَعْرِكَ وَتَسْبِيلُ إِزَارِكَ "" فَانْطَلَقَ خُرَيْمٌ فَجَزَّ شَعْرَهُ وَقَصَّرَ إِزَارَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَاللَّفْظُ لِلطَّبَرَانِيِّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khuraym رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ who said: O Khuraym ibn Fatik, were it not for two traits in you, you would be the man. He asked: What are they, O Messenger of Allah? One suffices me. He said: Lengthening your hair and trailing your izar. So Khuraym went, cut his hair and shortened his izar. > **"Were it not for two traits in you, you would be the man: lengthening your hair and trailing your izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خریم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے خریم بن فاتک ! اگر تمہارے اندر دو خصلتیں نہ ہوں ‘ تو تم عمدہ آدمی ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دو چیزیں کیا ہیں ؟ میرے ( ٹھیک نہ ہونے کے لئے ) تو ایک ہی کافی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بالوں کا بڑا ہونا اور تمہارے تہبند کا لٹکنا ‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت خریم رضی اللہ عنہ گئے ‘ اور انہوں نے اپنے بال چھوٹے کروائے ‘ اور اپنا تہبند اونچا کر لیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے الفاظ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہیں ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8518

Majma al-Zawaid #8518

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ائْتَزِرُوا كَمَا رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَأْتَزِرُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ رَأَيْتَ؟ قَالَ: "" إِلَى أَنْصَافِ سُوقِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، حَتَّى قِيلَ: إِنَّهُ مَتْرُوكٌ. وَيَحْيَى بْنُ السَّكَنِ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: Wear the izar as you have seen the angels wear it. They asked: O Messenger of Allah, how did you see? He said: > **"To the middle of their calves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ اس طرح تہبند باندھو جس طرح میں نے فرشتوں کو تہبند باندھے ہوئے دیکھا ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے کیسے دیکھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی نصف پنڈلی تک ( ان کا تہبند ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام احمد اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ یہاں تک کہ یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ متروک ہے ‘ اور یحیی بن سکن نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ۔

8519

Majma al-Zawaid #8519

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: " إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ " فَرَفَعْتُ إِزَارِي إِلَى نِصْفِ السَّاقَيْنِ، فَلَمْ تَزَلْ إِزْرَتُهُ حَتَّى مَاتَ».

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that he entered upon the Prophet ﷺ wearing an izar that rattled on the ground. He asked: Who is this? He said: Abdullah. He said: If you are Abdullah, raise your izar. So he raised it to mid-calf, and his izar remained so until he died. > **"If you are Abdullah, raise your izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میرے جسم پر تہبند تھا ‘ جو زمین پر گھسٹ کر آواز پیدا کر رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عبداللہ ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اللہ کے بندے ہو ‘ تو اپنا تہبند اٹھا کے رکھو ! تو میں نے اپنا تہبند نصف پنڈلیوں تک اٹھا لیا ۔ راوی کہتے ہیں ان کا تہبند ان کے مرنے تک اتنا ہی رہا ۔

8520

Majma al-Zawaid #8520

وَفِي رِوَايَةٍ: «فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَسْتَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration Abu Bakr رضي الله عنه said: My izar sometimes hangs loose. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"You are not among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرا تہبند بعض اوقات نیچے ہو جاتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان افراد میں سے نہیں ہو ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8521

Majma al-Zawaid #8521

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُلَّةً مِنَ السِّيَرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا، وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَاتِقِي فَقَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضُ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ» "". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. قُلْتُ: لَهُ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِبَعْضِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «لَبِسْتُ ثَوْبًا جَدِيدًا فَأَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ حُجْرَةِ حَفْصَةَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَسَمِعَ قَعْقَعَةَ الثَّوْبِ». وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ clothed him with a striped hullah gifted by Fayruz. He wore the izar and it overwhelmed him in length and width, and wore the cloak wrapped around him, so the Messenger of Allah ﷺ took him by the shoulder and said: O Abdullah, raise the izar, for whatever of the izar below the ankles touches the ground is in the Fire. Abdullah ibn Muhammad said: I never saw anyone more careful in raising his garment than Abdullah ibn Umar. > **"O Abdullah, raise the izar, for whatever of the izar below the ankles touches the ground is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ’’ سیرائی حلہ ‘‘ پہننے کے لئے دیا ‘ جو فیروز نے آپ کو تحفے کے طور پر دیا تھا ، میں نے تہبند پہنا ‘ تو وہ طوالت اور چوڑائی میں بہت بڑا تھا ، میں نے چادر لی اسے لپیٹا ‘ نبی اکرم ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا : اے عبداللہ ! تم تہبند کو اونچا رکھو ! کیونکہ ٹخنوں سے نیچے تہبند کا جو حصہ زمین کے ساتھ مس ہو ‘ وہ جہنم میں ہو گا ۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ‘ جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اہتمام کے ساتھ تہبند اونچا رکھتا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو اس سیاق کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میں نے نیا لباس پہنا ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ اس وقت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ‘ یہ ایک تاریک رات کی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک کپڑے کی آواز سنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ امام احمد کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث ‘ حسن ہے ‘ اس ( راوی ) میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8522

Majma al-Zawaid #8522

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whatever of the izar is below the ankles is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو ‘ وہ جہنم میں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس میں ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

8523

Majma al-Zawaid #8523

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «بَيْنَا هُوَ يَمْشِي وَقَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ "" قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ، يَا عَمْرُو "" وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ "". ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ تَحْتَ الْمَوْضِعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ "". ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Fulan al-Ansari رضي الله عنه reports that while he was walking with his izar trailing, the Messenger of Allah ﷺ caught up with him, holding his own forelock and saying: O Allah, Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant. Amr said: I said, O Messenger of Allah, I am a man with thin calves. He said: O Amr, Allah عزوجل has made beautiful everything He created. Then the Messenger of Allah ﷺ struck with four fingers of his right palm below the knee of Amr and said: O Amr, this is the place of the izar. Then he raised it, struck four fingers below the first place and said: O Amr, this is the place of the izar. Then he raised it and placed it below the second and said: O Amr, this is the place of the izar. > **"O Allah, Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant. O Amr, Allah has made beautiful everything He created. O Amr, this is the place of the izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ چلتے ہوئے جا رہے تھے ان کا تہبند نیچے لٹک رہا تھا اسی دوران نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرما رہے تھے : اے اللہ ! تیرا بندہ تیرے بندے کا اور تیری کنیز کا بیٹا ‘ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جس کی پنڈلیاں کمزور ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمرو ! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی دائیں ہتھیلی کی چار انگلیاں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر ماریں اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے پھر آپ نے اسے بلند کیا پھر چار انگلیاں اس پہلے والے سے حصے ذرا نیچے ماریں ‘ اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ، پھر آپ نے ہاتھ اٹھایا اور اسے اس سے بھی نیچے رکھا اور پھر فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کی جگہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8524

Majma al-Zawaid #8524

وَعَنِ الشَّرِيدِ قَالَ: «أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ قَالَ: "" ارْفَعْ إِزَارَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ "" قَالَ: إِنِّي أَحَنَفُ تَصْتَكُّ رُكْبَتَايَ، قَالَ: "" ارْفَعْ إِزَارَكَ فَكُلُّ خَلْقِ اللَّهِ حَسَنٌ "". قَالَ: فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ [بَعْدُ] إِلَّا إِزَارَهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sharid رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ saw a man dragging his izar and said: Raise your izar and fear Allah. He said: I am knock-kneed with colliding knees. He said: Raise your izar, for all of Allah's creation is beautiful. Thereafter the man was never seen except with his izar at mid-calf. > **"Raise your izar and fear Allah. Raise your izar, for all of Allah's creation is beautiful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو تہبند لٹکا کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اپنا تہبند اٹھا لو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اس نے عرض کی : میں ایک ایسا شخص ہوں ، جس کی ٹانگوں میں ٹیڑھا پن ہے اور میرے گھٹنے ٹکراتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا تہبند اٹھا لو ! اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق خوبصورت ہے ‘ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اُن صاحب کو جب بھی دیکھا گیا ، تو ان کا تہبند نصف پنڈلی تک پہنچتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ان صاحب کو جب بھی دیکھا گیا ، اُن کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8525

Majma al-Zawaid #8525

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ لَحِقَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ فِي حُلَّةٍ - إِزَارٌ وَرِدَاءٌ - قَدْ أَسْبَلَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ وَيَتَوَاضَعُ لِلَّهِ وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ "" حَتَّى سَمِعَهَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، فَالْتَفَتَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَمْشُ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ، يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلَ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَفِّهِ تَحْتَ رُكْبَةِ نَفْسِهِ فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو بْنَ زُرَارَةَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ "" ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ ذَلِكَ فَقَالَ: "" يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that while they were with the Messenger of Allah ﷺ, Amr ibn Zurarah al-Ansari caught up with them in a hullah of izar and cloak, trailing it. The Messenger of Allah ﷺ took hold of the edge of his garment, humbled himself to Allah and said: O Allah, Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant, until Amr heard it and turned to the Prophet ﷺ saying: O Messenger of Allah, I have thin calves. The Messenger of Allah ﷺ said: O Amr ibn Zurarah, Allah has made beautiful everything He created; Allah does not love the one who trails his garment. Then the Messenger of Allah ﷺ placed his palm below his own knee and said: O Amr ibn Zurarah, this is the place of the izar. Then he raised it and placed it below that and said: O Amr, this is the place of the izar. > **"O Allah, Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant. O Amr ibn Zurarah, Allah has made beautiful everything He created; Allah does not love the one who trails his garment. This is the place of the izar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے اسی دوران حضرت عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ ہم سے آ کے ملے انہوں نے حلہ پہنا ہوا تھا یعنی ایک تہبند تھا ‘ اور ایک چادر تھی وہ تہبند لٹکا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے کپڑے کے کنارے کو پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے لئے ‘ تواضع اختیار کرنے کا کہا اور یہ کہا : اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ‘ اور تیرے بندے کا بیٹا ہے ‘ اور تیری کنیز کا بیٹا ہے ‘ حضرت عمرو بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ‘ تو وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کمزور پنڈلیوں کا مالک شخص ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے اے عمرو بن زرارہ ! بے شک اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو اپنے گٹھنے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو بن زرارہ ! یہ تہبند کا مقام ہے ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنے پہلے والے حصے سے نیچے رکھا اور فرمایا : اے عمرو ! یہ تہبند کا مقام ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

8526

Majma al-Zawaid #8526

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whatever of the izar is below the ankles is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ٹخنوں سے نیچے جو تہبند ہو گا ‘ وہ جہنم میں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8527

Majma al-Zawaid #8527

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّ شَيْءٍ جَاوَزَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Everything of the izar that passes beyond the ankles is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تہبند میں سے ہر وہ چیز ‘ جو ٹخنوں سے نیچے چلی جائے ‘ وہ جہنم میں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یمان بن مغیرہ ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ‘ ابن عدی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

8528

Majma al-Zawaid #8528

وَعَنِ الْخَيَّاطِ الَّذِي قَطَعَ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَمِيصًا قَالَ: قُلْتُ: أَجْعَلُهُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَأَجْعَلُهُ مِنْ أَسْفَلِ الْكَعْبَيْنِ؟ قَالَ: مَا أَسْفَلَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالْخَيَّاطُ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The tailor who cut a shirt for al-Husayn ibn Ali رضي الله عنهما reports that he asked: Shall I make it to the top of the foot? He said: No. He asked: Shall I make it below the ankles? He said: Whatever is below the ankles is in the Fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک درزی جس نے امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لئے قمیص کاٹی تھی ‘ اس کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ‘ وہ بیان کرتا ہے : میں نے کہا : کیا میں اسے پاؤں کی پشت جتنا رکھ دوں ؟ تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! میں نے کہا : کیا میں ٹخنوں سے نیچے تک کر دوں ؟ امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخنوں سے نیچے جو ہو ‘ وہ جہنم میں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس درزی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8529

Majma al-Zawaid #8529

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ رَأَى أَعْرَابِيًّا يُصَلِّي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فَقَالَ: الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ فِي الصَّلَاةِ لَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه saw a Bedouin praying with his izar trailing and said: One who trails his izar in prayer is not with Allah in anything lawful or unlawful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک دیہاتی کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جس نے اپنے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا ، تو یہ بات کہی : نماز کے دوران تہبند کو لٹکانے والا شخص ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حلال یا حرام میں نہیں ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

8530

Majma al-Zawaid #8530

وَعَنْ هُبَيْبِ بْنِ مُغْفِلٍ أَنَّهُ رَأَى مُحَمَّدًا الْقُرَشِيَّ قَامَ فَجَرَّ إِزَارَهُ فَقَالَ هُبَيْبٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ وَطِئَهُ خُيَلَاءَ وَطِئَهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا أَسْلَمَ أَبَا عِمْرَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Hubayb ibn Mughfil رضي الله عنه saw Muhammad al-Qurashi stand dragging his izar, so Hubayb said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever treads it in arrogance treads it into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبیب بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے محمد قرشی کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ‘ تو اس کا تہبند گھسٹ رہا تھا ‘ تو حضرت ہبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص تکبر کے طور پر اسے پاؤں کے نیچے دے گا ‘ وہ جہنم میں اسے پاؤں کے نیچے دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسلم ابوعمران کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔