عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ: "" أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَابَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، [فَرَجِعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا انْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ.] قَالَ: فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ عَادَ إِلَى صَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". ثُمَّ قَالَ: "" لَا تَكُونَنَّ مُخْتَالًا، وَلَا فَتَّانًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجَرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمُسَوِّفُونَ بِالْعَمَلِ» "".
EnglishUnverified translation
Ali رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was at a funeral and asked which of them would go to Madinah leaving no idol but breaking it, no grave but levelling it, and no image but defacing it. A man said he would, but feared the people of Madinah and returned. Ali said he would go, was sent, went, returned and reported he left no idol but broke it, no grave but levelled it, and no image but defaced it. Then the Messenger of Allah ﷺ said whoever returns to making anything of this has disbelieved in what was revealed to Muhammad ﷺ. Then he said do not be arrogant, nor a troublemaker, nor a trader except a trader of good, for those are the delayers of deeds. > **"Which of you will go to Madinah leaving no idol but breaking it, no grave but levelling it, and no image but defacing it? Whoever returns to making anything of this has disbelieved in what was revealed to Muhammad ﷺ. Do not be arrogant, nor a troublemaker, nor a trader except a trader of good."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کون مدینہ جائے گا ‘ اور وہاں موجود ہر بت کو توڑ دے گا ‘ اور ہر قبر کو برابر کر دے گا ‘ اور ہر تصویر کو خراب کر دے گا ‘ تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راوی کہتے ہیں لیکن وہ اہل مدینہ سے ڈر گیا اور واپس آ گیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جاتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم چلے جاؤ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے وہ واپس آئے ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہاں موجود ہر بت کو توڑ دیا ہے ہر قبر کو برابر کر دیا ہے ‘ اور ہر تصویر کو خراب کر دیا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ان میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا وہ اس چیز کا کفر کرے گا ‘ جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم تکبر کرنے والے آزمائش کا شکار کرنے والے اور تجارت کرنے والے نہ ہونا البتہ بھلائی کی تجارت کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو عمل کو ٹالتے رہتے ہیں ( کہ میں عنقریب ایسا کر لوں گا ) ‘‘۔