وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ - يَعْنِي أُمَّهُ قَالَتْ: «أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَنْ لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا، فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، فَتَفَلَ فِي فِيكَ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ، وَدَعَا لَكَ، وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَهُوَ يَقُولُ: "" أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "". فَقَالَتْ: فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِأَتْ يَدُكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ. وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ.
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn Hatib رضي الله عنه reports from Umm Jamil bint al-Mujallal, his mother, that she came with him from Abyssinia until a night or two from Medina. Cooking, firewood finished, she went seeking it, he took the pot overturning it upon his forearm. She brought him to the Prophet ﷺ saying with father and mother, O Messenger of Allah, this is Muhammad ibn Hatib. He spat in his mouth, wiped his head, supplicated, spat upon his hand saying remove suffering Lord of men, heal Thou art Healer, no healing but Thine, healing leaving no sickness. She said she had not risen with him from him before his hand healed. Al-Tabarani adds he is first named after him. > **"Remove suffering, Lord of men; heal, Thou art the Healer, no healing but Thine, healing leaving no sickness."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ ‘ سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا ، یعنی جو اُن کی والدہ ہیں ‘ ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ خاتون کہتی ہیں : میں تمہیں لے کے حبشہ کی سرزمین سے آئی ‘ جب میں مدینہ منورہ سے ایک یا دو راتوں کے فاصلے پر موجود تھی ، تو میں نے تمہارے لئے ہنڈیا پکائی لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی ‘ تم ہنڈیا کے پاس آئے ‘ اور تم نے اسے اپنے بازوؤں پر گرا لیا ‘ میں تمہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ یہ محمد بن حاطب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے تمہارے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے دعا کی اور نبی اکرم ﷺ نے تمہارے ہاتھ پر دم کرنا شروع کیا ‘ آپ یہ پڑھ رہے تھے : ’’ اے لوگوں کے پرودگار ! تکلیف کو رخصت کر دے ‘ تو شفاء عطا کر دے ‘ تو شفاء عطا کرنے والا ہے ، شفاء صرف تیری عطا کردہ شفاء ہے ‘ ایسی شفاء عطا کر دے ‘ جو بیماری کو نہ رہنے دے “۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کے پاس سے تمہیں لے کر ‘ میں ابھی اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ یا رسول اللہ ! یہ محمد بن حاطب ہے ‘ یہ وہ پہلا بچہ ہے ‘ جس کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔