Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 23 · Chapter 4

Book of Medicine

Hadith 8395–8434

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

8395

Majma al-Zawaid #8395

«وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ، فَذَكَرْتُ عِنْدَهُ الْعَدْوَى، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Talhah al-Khawlani reports entering upon Umayr ibn Sad among Palestinians, mentioning contagion, and he cited hearing the Messenger of Allah ﷺ say no contagion, no omen, no Ham, with a long story. > **"No contagion, no omen, no Ham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوطلحہ خولانی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ‘ میں نے ان کے سامنے بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر کیا ‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( بیماری کے ) متعدی ہونے ‘ بدشگونی اور ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس میں ایک طویل قصہ نقل ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن حبان حنفی ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8396

Majma al-Zawaid #8396

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَ، وَلَا يُتِمُّ شَهْرَانِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا» "". قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي الدِّيَاتِ فِيمَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَازِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الطِّيَرَةِ وَمَا يَقُولُ عِنْدَهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said no contagion, no Safar, no Ham, and two months are never thirty days together. Fuller in blood-money concerning one killing a dhimmi. > **"No contagion, no Safar, no Ham, and two months are never thirty days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( بیماری کے ) متعدی ہونے ‘ صفر ( کے مہینے کے منحوس ہونے ) ہام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ اور دو مہینے کبھی ( مسلسل ) تیس دن کے نہیں ہوتے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر ‘ دیتوں سے متعلق باب میں آئے گی ‘ جو اس شخص کے بارے میں ‘ باب میں ہو گی ‘ جو کسی ذمی کو قتل کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن محمد الغاز ہے ‘ اور ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں بدشگونی کے بارے میں کچھ احادیث آگے آئیں گی نیز یہ کہ آدمی اس وقت کیا پڑھے ۔

8397

Majma al-Zawaid #8397

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ النُّشْرَةِ فَقَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْهَا فَقَالَ: "" هِيَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرُوا أَنَّهَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ. وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reports Anas رضي الله عنه was asked about nushrah and said it was mentioned that the Messenger of Allah ﷺ was asked and said it is Satan's work. > **"It is from Satan's work."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے جھاڑ پھونک کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ شیطان کے عمل کا حصہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ شیطان کے عمل کا حصہ ہے ‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8398

Majma al-Zawaid #8398

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ يُعَلِّقْ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say whoever attaches a tamimah, Allah fulfills not for him, and whoever hangs a wadaah, Allah grants him no ease. > **"Whoever attaches a tamimah, Allah fulfills not for him; and whoever hangs a wadaah, Allah grants him no ease."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کا ( مقصد ) اس کے لئے پورا نہ کرے ‘ اور جو شخص ’’ ودعہ ‘‘ ( تعویذ ہی کی ایک قسم ) لٹکاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس ( کے مقصد کو پورا ) نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

8399

Majma al-Zawaid #8399

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكَتْ هَذَا؟ قَالَ: "" إِنْ عَلَيْهِ تَمِيمَةً "" فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا، فَبَايَعَهُ وَقَالَ: "" مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir al-Juhani رضي الله عنه reports that a group came to the Messenger of Allah ﷺ; he pledged nine and withheld one. Asked why, he said upon him is a tamimah. The man inserted his hand and cut it, so he pledged him and said whoever hangs a tamimah commits shirk. > **"Upon him is a tamimah. Whoever hangs a tamimah commits shirk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ افراد حاضر ہوئے آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی اور ایک سے نہیں لی ‘ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ نے نو افراد سے بیعت لے لی ہے ‘ اور اسے چھوڑ دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے پاس تعویذ موجود ہے اس شخص نے اپنا ہاتھ اندر داخل کیا اور اسے کاٹ دیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے بیعت لے لی اور ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے ‘ وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

8400

Majma al-Zawaid #8400

وَعَنْ عِيسَى قَالَ: «دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مَعْبَدٍ نُعُودُهُ، فَقُلْنَا: أَلَا تُعَلِّقُ شَيْئًا؟ فَقَالَ: الْمَوْتُ أَقْرَبُ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ عَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ فِي الْكُنَى قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ ثَبَتَتْ صُحْبَتُهُ بِقَوْلِهِ: سَمِعْتُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Isa reports entering upon Abu Mabad to visit him and asking why he hangs nothing. He said death is nearer, citing hearing the Messenger of Allah ﷺ say whoever hangs something is entrusted to it. > **"Whoever hangs something is entrusted to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ نامی بیان کرتے ہیں : ہم حضرت ابومعبد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ‘ ہم نے کہا : آپ کوئی تعویذ تو نہیں لٹکاتے ؟ انہوں نے فرمایا : موت اس سے زیادہ قریب ہے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے ‘ اسے اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے ‘ کنیت سے متعلق باب میں ‘ حضرت ابومعبد جہنی رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں نقل کی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : ایک قول کے مطابق ان کا نام حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اگر تو یہ وہی ہیں ، تو پھر ان کا صحابی ہونا ‘ ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے : ” میں نے سنا ‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8401

Majma al-Zawaid #8401

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ، وَلَا مَا ارْتَكَبْتُ، إِذَا أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا، أَوْ عَلَّقْتُ تَمِيمَةً، أَوْ نَطَقْتُ شِعْرًا، مِنْ قِبَلِ نَفْسِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said he cares not what he commits if he drinks tiryaq, hangs a tamimah, or utters poetry from himself. > **"I care not what I commit, or what I incur, if I drink tiryaq, hang a tamimah, or utter poetry from myself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے کیا کیا ہے ‘ اور کس کام کا ارتکاب کیا ہے ‘ جبکہ میں نے تریاق پی لیا ہو ‘ یا تعویذ لٹکا لیا ہو ‘ یا اپنی طرف سے شعر موزوں کر دیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ اپنے استاد موسیٰ بن عیسیٰ بن منذر حمصی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8402

Majma al-Zawaid #8402

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً - أَرَاهُ قَالَ -: مِنْ صُفْرٍ، قَالَ: "" وَيْحَكَ مَا هَذِهِ؟ "" قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكُ إِلَّا وَهَنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: "" «إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا» "". قَالَ: وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفَةٍ: انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ لَوْ مُتَّ وَأَنْتَ تَرَى أَنَّهَا تَنْفَعُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ. وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ saw a ring, apparently of brass, upon a man's upper arm and asked woe what it was. He said for wahinah. He said it increases only weakness; cast it off, for if he dies with it he never prospers. In another wording, he is entrusted to it. In a stopped wording, cast it, for dying believing it benefits is dying upon other than fitrah. > **"Woe to you, what is this? It increases you only weakness. Cast it from you, for if you die with it upon you, you will never prosper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے بازو پر چھلا دیکھا ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ چھلا پیتل کا بنا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ‘ یہ کس لئے ہے ؟ اس نے کہا : یہ کمزوری دور کرنے والا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا ‘ اسے تم اپنے آپ سے دور کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے ‘ کہ یہ تم پر ہوا ‘ تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ اگر تم اس حالت میں مر گئے کہ یہ تم پر ہوا ‘ تو تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک موقوف روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم اسے اپنے آپ سے پرے کر دو ! کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ تمہیں نفع دے گا ‘ تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام ) کے علاوہ پر مرو گے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8403

Majma al-Zawaid #8403

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا فِي عَضُدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: نُعِتَتْ لِي مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: أَمَا إِنْ مُتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ إِلَيْهَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ وَلَا تُطُيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهِّنَ لَهُ "" أَظُنُّهُ قَالَ: "" أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَطَّارُ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports seeing a brass ring upon a man's arm for wahinah and warning dying with it entrusts him to it. The Messenger of Allah ﷺ said not of us is who takes omens or has them taken, practices soothsaying or has it done, or, as he thinks, practices magic or has it done. > **"He who dies with it upon him is entrusted to it. Not of us is who takes omens or has omens taken for him, practices soothsaying or has it practiced for him, or practices magic or has it practiced for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے بازو میں پیتل کا حلقہ ( یعنی چھلا یا کڑا ) موجود تھا ‘ انہوں نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہے ؟ اس نے بتایا : کمزوری سے بچنے کے لئے مجھے یہ تجویز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ یہ تمہارے جسم پر ہوا ‘ تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ‘ جو شگون لیتا ہے ‘ یا جس کے لئے شگون لیا جاتا ہے ‘ یا جو کہانت کرتا ہے ‘ یا جس کے لئے کہانت کی جاتی ہے ‘ ( راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) یا وہ جادو کرتا ہے ‘ یا اس کے لئے جادو کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ربیع عطار ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور عمرو بن علی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8404

Majma al-Zawaid #8404

عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَأَخْبَرَهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " الطِّيَرَةُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " فَغَضِبَتْ وَطَارَتْ شَقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ، وَشَقَّةٌ فِي الْأَرْضِ، وَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ، إِنَّمَا قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Hassan reports that a man of Banu Amir entered upon Aishah رضي الله عنها telling that Abu Hurayrah narrates from the Prophet ﷺ that omen lies in house, woman, and horse. She angered greatly and swore by Who revealed the Quran upon Muhammad ﷺ he never said it; rather he said Jahiliyyah folk took omens from that. > **"The people of Jahiliyyah used to take omens from that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحسان بیان کرتے ہیں : بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بدشگونی ( یا نحوست ) گھر میں ہوتی ہے ‘ یا عورت میں ہوتی ہے ‘ یا گھوڑے میں ہوتی ہے ‘‘۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غصے میں آ گئیں ، اور شدید غصے میں آ گئیں ‘ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن کو نازل کیا ہے ‘ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے کبھی ارشاد نہیں فرمائی ، آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس حوالے سے شگون لیا کرتے تھے ‘‘۔

8405

Majma al-Zawaid #8405

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: «إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: الطِّيَرَةُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ "". ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةَ: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ} [الحديد: 22] الْآيَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration Aishah رضي الله عنها says the Prophet of Allah ﷺ used to say Jahiliyyah folk said omen lies in house, woman, and horse. Then Aishah recited the verse that no calamity befalls earth or selves but in a Book. > **"The people of Jahiliyyah used to say: omen lies in house, woman, and horse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کہا کرتے تھے : بدشگونی ( یا نحوست ) گھر میں ‘ یا عورت میں ‘ یا گھوڑے میں ہوتی ہے ‘‘۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ زمین میں ‘ یا تمہارے وجودوں میں ‘ جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ‘ تو وہ تحریر ( یعنی تقدیر کے فیصلے ) کے مطابق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8406

Majma al-Zawaid #8406

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ» "". وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ بِلَالٍ الْأَوِدَيُّ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said evil omen lies in house, woman, and horse, with a variant if omen lies in anything. > **"Evil lies in house, woman, and horse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نحوست ‘ یا گھر میں ہوتی ہے ‘ یا عورت میں ‘ یا گھوڑے میں ( ہوتی ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نحوست کسی چیز میں ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی داؤد بن بلال اودی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8407

Majma al-Zawaid #8407

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي الدَّابَّةِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَدِيلِ بْنِ وَرْقَاءَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّ أَبَا هِشَامٍ الرِّفَاعِيَّ قَالَ: إِنَّهُ خَطَّاءٌ. وَهُوَ شَيْخُ أَبِي يَعْلَى فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Umar رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said evil lies in three: mount, dwelling, and woman. > **"Evil lies in three: mount, dwelling, and woman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ‘ سواری میں ‘ رہائش گاہ میں اور عورت میں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف عبداللہ بن بدیل بن ورقاء کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن ابوہاشم رفاعی کہتے ہیں : یہ بہت زیادہ غلطیاں کرنے والا ہے ‘ اس روایت میں یہ امام ابویعلیٰ کا استاد ہے ۔

8408

Majma al-Zawaid #8408

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «ذَكَرْتُ الطِّيَرَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالُوا: فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ كَانَ مِنْهَا فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَأْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيَّ فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ مَقَالٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports mentioning omen before the Messenger ﷺ, with mention of woman, house, mount. The Prophet ﷺ said if any lies in anything, it lies in good omen. > **"If any of it lies in anything, it lies in good omen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے نحوست ( یا بدشگونی ) کا ذکر کیا ‘ تو لوگوں نے کہا : یا وہ جانور میں ہوتی ہے یا عورت میں ‘ یا گھر میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر یہ چیز کسی میں ہو سکتی ہے ‘ تو وہ فال میں ہو سکتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان ہے ‘ اگر وہ واسطی ہے ‘ تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8409

Majma al-Zawaid #8409

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنْ قَوْمًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا دَخَلْنَا هَذِهِ الدَّارَ وَنَحْنُ ذَوُوا وَفْرٍ فَافْتَقَرْنَا، وَكَثِيرٌ عَدَدُنَا فَقَلَّ عَدَدُنَا، وَحُسْنُ ذَاتِ بَيْنِنَا فَسَاءَ ذَاتُ بَيْنِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهَا وَهِيَ ذَمِيمَةٌ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَدَعُهَا؟ قَالَ: "" بِيعُوهَا أَوْ هَبُوهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: أَخْطَأَ فِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ مُرْسِلَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قُلْتُ: وَصَالِحٌ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَفِيهِ أَيْضًا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَنَقَلَ تَضْعِيفَ ابْنِ الْمَدِينِيِّ لَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that folk came to the Prophet ﷺ saying they entered this house prosperous, numerous, harmonious, then became poor, few, discordant. The Messenger of Allah ﷺ said leave it while blameworthy. Asked how, he said sell it or gift it. > **"Leave it while blameworthy. Sell it or gift it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم جب اس گھر میں منتقل ہوئے تھے ‘ تو ہم خوشحال تھے ‘ پھر ہم غریب ہو گئے ‘ پہلے ہماری تعداد زیادہ تھی ، پھر ہماری تعداد کم ہو گئی ، پہلے ہمارے درمیان حسن سلوک تھا ، پھر ہمارے درمیان اختلافات آ گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُسے چھوڑ دو ! کیونکہ وہ برا ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کیسے اسے چھوڑ دیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے فروخت کرو یا اسے ہبہ کر دو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ کہتے ہیں : اس میں صالح ابواخضر نے غلطی ہے ‘ درست یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن شداد کی نقل کردہ ’’ مرسل ‘‘ روایات میں سے ایک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صالح نامی راوی ضعیف ہے ‘ اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سفیان ہے ‘ جسے علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی نقل کی کہ علی بن مدینی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

8410

Majma al-Zawaid #8410

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «اشْتَكَى قَوْمٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ سَكَنُوا دَارًا وَهُمْ عَدَدٌ فَقَلُّوا، فَقَالَ: "" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهَا وَهِيَ ذَمِيمَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حَمِيدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Harithah al-Ansari رضي الله عنه reports that folk complained to the Prophet ﷺ they dwelt in a house numerous then diminished. He asked why they did not leave it while blameworthy. > **"Why did you not leave it while blameworthy?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتے ہیں کہ جہاں اُن کی تعداد پہلے زیادہ تھی اور پھر وہ لوگ کم ہو گئے ‘ تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم لوگوں نے اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ وہ برا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

8411

Majma al-Zawaid #8411

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مِنْ شَقَاءِ الْمَرْءِ فِي الدُّنْيَا ثَلَاثَةً: سُوءَ الدَّارِ، وَسُوءَ الْمَرْأَةِ، وَسُوءَ الدَّابَّةِ "". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سُوءُ الدَّارِ؟ قَالَ: "" ضِيقُ سَاحَتِهَا وَخُبْثُ جِيرَانِهَا "". قِيلَ: فَمَا سُوءُ الدَّابَّةِ؟ قَالَ: "" مَنْعُهَا ظَهْرَهَا، وَسُوءُ خُلُقِهَا "". قِيلَ: فَمَا سُوءُ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: "" عُقْمُ رَحِمِهَا، وَسُوءُ خُلُقِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Umays رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ said among man's worldly wretchedness are three: bad house, bad woman, bad mount. Asked, he defined bad house as narrow courtyard and evil neighbors; bad mount as refusing its back and evil temper; bad woman as barren womb and evil temper. > **"Among man's worldly wretchedness are three: bad house, bad woman, bad mount. Bad house is narrow courtyard and evil neighbors; bad mount refuses its back and evil temper; bad woman is barren womb and evil temper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں آدمی کی بدنصیبی میں تین چیزیں شامل ہیں ‘ گھر کا برا ہونا ‘ عورت کا برا ہونا ‘ یا سواری کا برا ہونا ‘ انہوں نے عرض کی : گھر کے برے ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ وہ تنگ ہو اور اس کے پڑوسی برے ہوں ‘ عرض کی گئی : جانور کے برے ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ وہ اپنی پشت پر سواری نہ کرنے دے اور اس کا اخلاق برا ہو ‘ عرض کی گئی : عورت کی برائی کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا رحم بانجھ ہو اور اس کا اخلاق برا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

8412

Majma al-Zawaid #8412

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" يَقُولُ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever is turned by omen from a need commits shirk. Asked its expiation, he said to say O Allah no good but Your good, no omen but Your omen, no god but You. > **"Whoever is turned by omen from a need commits shirk. Let one say: O Allah, no good but Your good, no omen but Your omen, no god but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو فال ( یا بد شگونی ) کسی کام سے روک دے ‘ تو اس نے شرک کا ارتکاب کیا ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی یہ پڑھے : ’’ اے اللہ ! بھلائی صرف وہ ہے ‘ جو تیری عطا کردہ بھلائی ہے ‘ اور شگون صرف وہ ہے ‘ جو تیرا عطا کردہ ہے ‘ اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8413

Majma al-Zawaid #8413

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «ذُكِرَتِ الطِّيَرَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ وَلَا بُدَّ "" - وَكَانَ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" وَلَا بُدَّ "" أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ كَذَا - "" فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reports omen mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, who said whoever is struck yet must proceed, dearer to us than such, let him say O Allah no omen but Yours, no good but Yours, no god but You. > **"Whoever is struck by that yet must proceed, let him say: O Allah, no omen but Your omen, no good but Your good, no god but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں شنگون لینے کا ذکر کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اس میں سے کوئی چیز لاحق ہو جائے ‘ اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ’’ اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو ‘‘ یہ ہمارے نزدیک ان چیزوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : ) ’’ اے اللہ ! شگون صرف وہ ہے ‘ جو تیرا عطا کردہ ہو ‘ اور بھلائی صرف وہ ہے ‘ جو تیری ( عطا کردہ ) بھلائی ہے ‘ اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے : وہ صدوق ہے ‘ اور منکر الحدیث ہے ۔

8414

Majma al-Zawaid #8414

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا طَائِرَ إِلَّا طَائِرُكَ» "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said thrice no bird but Your bird. > **"No bird but Your bird."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شگون ‘ صرف تیرا ہے ‘‘ ۔ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ابوسلمہ ہے ‘ جسے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8415

Majma al-Zawaid #8415

عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ عَنْ شَيْءٍ فَقَدْ قَارَفَ الشِّرْكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى رَوَى عَنْهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِّيُّ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ غَيْرُ مَنْسُوبٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ruwayfi ibn Thabit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever is turned by omen from something approaches shirk. > **"Whoever is turned by omen from something approaches shirk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شگون ( یا بد شگونی ) جسے کسی کام سے روک دے ‘ تو ایسا شخص شرک کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن اسد بن موسیٰ ہے ‘ ابوزرعہ رازی نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ‘ امام بزار کے استاد کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8416

Majma al-Zawaid #8416

عَنْ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ، وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ: "" «وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَبَّةُ بْنُ حَابِسٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Habis al-Tamimi رضي الله عنه reports hearing the Prophet ﷺ say nothing in Ham, the evil eye is real, and truest divination is good omen. > **"Nothing in Ham, the evil eye is real, and truest divination is good omen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حابس تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہام ‘ کوئی چیز نہیں ہے ‘ اور نظر لگنا ، حق ہے ‘ سب سے سچا شگون ‘ فال ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے :’’ سب سے سچا شگون فال ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبہ بن حابس ہے ‘ یحیی کے علاوہ اور کسی نے ‘ اس کے علاوہ روایت نقل نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8417

Majma al-Zawaid #8417

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ، وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said nothing in Ham, the evil eye is real, and truest divination is good omen. > **"Nothing in Ham, the evil eye is real, and truest divination is good omen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہام ‘ کوئی چیز نہیں ہے ‘ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘ اور سب سے سچا شگون ‘ فال ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

8418

Majma al-Zawaid #8418

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ يُبَلِّغُنَا مِنْ لِقَاحِنَا؟ "" فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا اسْمُكَ؟ "" قَالَ: صَخْرٌ أَوْ جَنْدَلٌ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اجْلِسْ "" ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ يُبَلِّغُنَا لَبَنَ لِقَاحِنَا؟ "" فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا اسْمُكَ؟ "" قَالَ: يَعِيشُ، قَالَ: "" بَلِّغْنَا مِنْ لِقَاحِنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى رَوَى عَنْهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِّيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ asked who conveys their milch camels. A man stood saying I. Asked his name, he said Sakhr or Jandal. He bade him sit. Asked again, another stood named Yaish, and he bade him convey. > **"Who conveys our milch camels? What is your name? Sit. Who conveys our milch camel milk? What is your name? Convey our milch camels."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کون ہماری اونٹنیوں میں سے ( دودھ ) ہم تک پہنچائے گا ؟ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : صخر ‘ یا شاید جندل کہا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون ہماری اونٹنیوں کا دودھ ہم تک پہنچائے گا ؟ ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یعیش ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہماری اونٹنیوں میں سے ( دودھ ) ہم تک پہنچا دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن اسد بن موسیٰ ہے ‘ ابوزرعہ رازی نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8419

Majma al-Zawaid #8419

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: هَاكَهَا خَضْرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا لَبَّيْكَ، نَحْنُ أَخَذْنَا فَأْلَكَ مِنْ فِيكَ، أُخْرُجُوا بِنَا إِلَى خُضْرَةٍ "". فَخَرَجُوا إِلَيْهَا فَمَا سُلَّ فِيهَا سَيْفٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ. وَكَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf al-Muzani رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ heard a man say take it green, and replied at your service, we take your omen from your mouth; go out with us to greenery. They went and no sword was drawn. > **"At your service, we take your omen from your mouth; go out with us to greenery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : یہ سبزہ لو ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں موجود ہوں ، ہم تمہاری زبان سے تمہاری فال لیتے ہیں ، تم ہمیں لے کر سبزے کی طرف جاؤ ‘ تو وہ لوگ اس کی طرف نکلے اور اس بارے میں کوئی تلوار نہیں سونتنی پڑی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ کثیر بن عبداللہ نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ‘ امام ترندی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8420

Majma al-Zawaid #8420

عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Kurz al-Kabiyyah رضي الله عنها reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say to leave birds upon their roosts. > **"Leave birds upon their roosts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

8421

Majma al-Zawaid #8421

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ الرَّجُلَ بِإِذْنِ اللَّهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the evil eye, by Allah's permission, obsesses a man until he climbs a height then falls from it. > **"The evil eye, by Allah's permission, obsesses a man until he climbs a height then falls from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ نظر ‘‘ اللہ کے حکم کے تحت آدمی کو یوں خراب کر دیتی ہے ‘ یہاں تک کہ وہ حالق کے طور پر اوپر جاتا ہے ‘ اور اوپر سے نیچے گر جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

8422

Majma al-Zawaid #8422

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «نِصْفُ مَا يُحْفَرُ لِأُمَّتِي مِنَ الْقُبُورِ، مِنَ الْعَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Umays رضي الله عنها reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say half of what is dug for his nation of graves is from the eye. > **"Half of what is dug for my nation of graves is from the eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کی جو قبریں کھودی جائیں گی ‘ اُن میں سے نصف ‘ نظر لگنے کی وجہ سے ہوں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ دمشقی ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

8423

Majma al-Zawaid #8423

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَكْثَرُ مَنْ يَمُوتُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ كِتَابِ اللَّهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ بِالْأَنْفُسِ» "". قَالَ الْبَزَّارُ: يَعْنِي بِالْعَيْنِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا الطَّالِبِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said most who die of his nation after Allah's Book, decree, and predestination die from souls, meaning the eye, as al-Bazzar says. > **"Most who die of my nation after Allah's Book, decree, and predestination die from souls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قضاء وقدر کے بعد ‘ میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر لگنے کی وجہ سے ہوں گی ‘‘۔ امام بزار کہتے ہیں : اس سے مراد نظر لگنا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالب بن حبیب بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

8424

Majma al-Zawaid #8424

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْعَيْنُ حَقٌّ تُسْتَنْزَلَ الْحَالِقُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" الْعَيْنُ حَقٌّ "". فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دُوَيْدٌ الْبَصَرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said the evil eye is real, bringing down the height. > **"The evil eye is real, bringing down the height."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘ یہاں تک کہ حالق نیچے آ جاتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صیح ‘‘ میں اس حدیث کا صرف یہ حصہ منقول ہے :’’ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید بصری ہے ‘ امام حاکم کہتے ہیں : یہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

8425

Majma al-Zawaid #8425

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْعَيْنُ حَقٌّ، وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" الْعَيْنُ حَقٌّ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the evil eye is real, attended by Satan and the envy of Adam's son. In the Sahih only the portion the eye is real is established. > **"The evil eye is real, and Satan and the envy of Adam's son attend it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نظر لگنا حق ہے ‘ اور اس کے ساتھ شیطان موجود ہوتا ہے ‘ اور انسان کا حسد ہوتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے یہ حصہ منقول ہے :’’ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8426

Majma al-Zawaid #8426

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ وَسَارَ مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِشِعْبِ الْخَرَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَلَا يُفِيقُ، قَالَ: "" هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مَنْ أَحَدٍ؟ "" قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟! "" ثُمَّ قَالَ: اغْتَسِلْ. فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَرْفِقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صَبَّ ذَلِكَ الْمَاءَ عَلَيْهِ، يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ، ثُمَّ يُلْقِي الْقَدَحَ وَرَاءَهُ، فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: وَشَرِبَ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ went out with him toward Makkah until at the ravine of Kharrar in Juhfah. Sahl, a fair handsome man of body and skin, bathed, and Amir ibn Rabiah of Banu Adi ibn Kab looked at him saying he never saw like today, not even a veiled maiden's skin. Sahl was smitten. Brought to the Messenger of Allah ﷺ unable to lift his head or recover, he asked whom they suspect. They named Amir. He summoned Amir, rebuked him asking on what grounds one kills his brother, why he did not bless when admiring, then ordered him to wash. He washed face, hands, elbows, knees, feet edges, and inside his waist-wrapper in a bowl. A man poured it over Sahl's head and back from behind, then cast the bowl behind, and Sahl went with the people unharmed. Al-Tabarani adds he drank from it. > **"Do you suspect anyone concerning him? On what grounds does one of you kill his brother? When you see what pleases you, why did you not bless? Wash."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے ‘ وہ بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ‘ یہ لوگ مکہ کی طرف جا رہے تھے ‘ یہاں تک کہ ’’ جمعہ ‘‘ کے مقام پر موجود ’’ خراز ‘‘ کی گھاٹی میں ‘ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنا شروع کیا ‘ وہ ایسے شخص تھے ‘ جو گورے چٹے تھے ان کا جسم اور جلد خوبصورت تھے ‘ عامر بن ربیعہ جس کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا ۔ اس نے انہیں غسل کرتے ہوئے دیکھ لیا ‘ تو کہا : میں نے آج کی طرح کی خوبصورت جلد ‘ تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی نہیں دیکھی ، تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ‘ انہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ سہل کے حوالے سے کچھ کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! یہ نہ ‘ تو سر اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں ہوش آ رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس کے حوالے سے کسی پر الزام عائد کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : عامر بن ربیعہ پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جب تم نے وہ چیز دیکھی ‘ جو تمہیں اچھی لگی ‘ تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں دی ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غسل کرو ! انہوں نے اپنے چہرے دونوں بازؤں ‘ دونوں کہنیوں ، دونوں گھٹنوں ‘ پاؤں کے کناروں اور تہبند کے اندرونی حصے کو ایک پیالے میں دھویا ‘ پھر وہ پانی ان صاحب پر ڈال دیا گیا ‘ وہ اُن صاحب کے سر اور ان کی پشت پر ڈالا گیا ‘ پھر پیالہ ان کے پیچھے رکھا گیا اور وہاں بھی ایسا کیا گیا ، تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ‘ یوں جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف لاحق نہیں ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے اس پانی کو پیا ‘‘۔

8427

Majma al-Zawaid #8427

وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا: فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَ فِيهِ: "" «مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا رَأَى مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَنْ يُبَرِّكَ عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration of al-Tabarani an Ansari man passed, with wording asking what prevents one when seeing in his brother what pleases him in self or wealth from blessing him, for the eye is real. > **"What prevents one of you, when he sees in his brother what pleases him in himself or his wealth, from blessing him? For the eye is real."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان صاحب کے پاس سے گزرا اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے ‘ جو اسے اچھی لگتی ہے خواہ اس کا تعلق اس کے وجود سے ہو ‘ یا اُس کے مال سے ہو ‘ تو کیا چیز اس کے لئے رکاوٹ بنتی ہے کہ وہ اُس کے لئے برکت کی دعا کرے ‘ بے شک نظر لگنا ‘ ۔ حق ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور امام طبرانی کی اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

8428

Majma al-Zawaid #8428

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخَرَّارِ دَخَلَ مَاءً يَغْتَسِلُ، وَكَانَ رَجُلًا وَضَّاءً، فَمَرَّ بِهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ حُسْنَ شَيْءٍ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَمَا لَبِثَ سَهْلٌ أَنْ لُبِطَ بِهِ، فَدَعَا لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ مَنْ تَتَّهِمُونَهُ بِهِ؟ " قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ. فَدَعَا عَامِرًا، وَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَمَرَ عَامِرًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ فِي الْمَاءِ، وَأَطْرَافَ يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَبْعَيْ إِزَارِ عَامِرٍ وَدَاخِلَتَهُ، فَغَمَرَهَا فِي الْمَاءِ، ثُمَّ أَفْرَغَ الْإِنَاءَ عَلَى رَأْسِ سَهْلٍ، وَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ دُبُرِهِ، فَأُطْلِقَ سَهْلٌ لَا بَأْسَ بِهِ».

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reports he went out with the Messenger of Allah ﷺ until at Kharrar he entered water to bathe, being a handsome man. Amir ibn Rabiah passed and said he never saw beauty like today, not even a veiled maiden's skin. Sahl was felled at once. The Prophet of Allah ﷺ supplicated for him asking on what grounds one kills his brother and whom they suspect. They named Amir. He summoned Amir, called for a vessel of water, ordered Amir to wash his face, limb edges, knees, feet edges in the water, then the Prophet ﷺ took Amir's waist-wrapper sides and inside, immersed them, poured the vessel over Sahl's head, overturned it behind his back, and Sahl was released unharmed. > **"On what grounds does one of you kill his brother? Whom do you suspect concerning him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے ‘ یہاں تک کہ جب وہ ’’ خراز ‘‘ کے مقام پر پہنچنے ‘ تو وہ پانی میں غسل کرنے کے لئے داخل ہوئے ‘ وہ ایک وجیہ و شکیل شخص تھے ‘ عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے ‘ تو بولے : میں نے آج کی طرح کی خوبصورتی اور اتنی ( خوبصورت ) جلد تو کبھی کسی پردہ نشین عورت کی بھی نہیں دیکھی ‘ تو اسی وقت حضرت سہل رضی اللہ عنہ اس وقت بے ہوش ہو کر پڑے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے دعا کی اور فرمایا : کوئی شخص اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرنا چاہتا ہے ؟ تم کس پر اس کے حوالے سے الزام عائد کرتے ہو ‘ لوگوں نے کہا : عامر بن ربیعہ پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے عامر کو بلوایا ‘ آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں برتن موجود تھا ‘ آپ نے عامر کو حکم دیا ‘ عامر نے اس پانی میں منہ دھویا ‘ دونوں بازو دھوئے ‘ دونوں گھٹنے دھوئے پاؤں کے کنارے دھوئے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے عامر کے تہبند کے ڈب کو پکڑا اور انہیں پانی میں ڈبو دیا ‘ پھر وہ پانی آپ نے سہل کے سر پر بہایا اور ان کی پشت پر برتن کو اوندھا کر دیا ‘ تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ یوں کھڑے ہو گئے ، جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی ۔

8429

Majma al-Zawaid #8429

وَفِي رِوَايَةٍ: "" إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَى حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَمَرَهُ فَحَسَا مِنْهُ حُسْوَاتٍ. وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration the wording is the eye is real. Al-Tabarani transmits with two chains, one of Sahih men save Muhammad ibn Abi Umamah, trustworthy, narrating Abu Umamah's hadith as Ibn Majah narrates, save addition, as reckoned, that he ordered him to sip sips from it. > **"The eye is real."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ بے شک نظر لگنا ‘ حق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف محمد بن ابوامامہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح امام ابن ماجہ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ انہوں نے اس میں سے چند گھونٹ بھی بھرے تھے ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8430

Majma al-Zawaid #8430

«وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ نَلْتَمِسُ حُمُرًا، فَوَجَدْنَا حُمُرًا وَغَدِيرًا، قَالَ: وَكَانَ أَحَدُنَا يَسْتَحِي أَنْ يَغْتَسِلَ وَأَحَدٌ يَرَاهُ، فَاسْتَتَرَ مِنِّي حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ فَعَلَ، نَزَعَ جُبَّةً عَلَيْهِ مِنْ كِسَاءٍ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَاءَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ نَظْرَةً فَأَعْجَبَنِي خَلْقُهُ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي، فَأَخَذَتْهُ قَعْقَعَةٌ وَهُوَ فِي الْمَاءِ، فَدَعَوْتُهُ فَلَمْ يُجِبْنِي، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: "" أَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصْبَهَا ""، ثُمَّ قَالَ: "" قُمْ "" فَقَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَوْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" الْعَيْنُ حَقٌّ "" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ هِنْدٍ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabiah رضي الله عنه reports he and Sahl ibn Hunayf went seeking asses, found asses and a pool. Each shy to bathe observed, Sahl screened from him, removed his woolen outer cloak, entered water. He looked a glance admiring his build and struck him with his eye. Sahl seized with shivering in the water, unanswering his call. He went to the Prophet ﷺ informing, who said its heat, cold, and ailment departed, ordered him rise, then taught when one sees in self, wealth, or brother what pleases, let him bless, for the eye is real. Ibn Majah narrates only the eye is real. > **"Its heat, cold, and ailment have departed. Rise. When one of you sees in himself, his wealth, or his brother what pleases him, let him bless, for the eye is real."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ گدھے تلاش کرنے کے لئے نکلے ہمیں ایک جگہ پر گدھے بھی ملے اور کنواں بھی مل گیا ‘ راوی کہتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے شرم محسوس کرتا تھا کہ جب وہ غسل کر رہا ہو ‘ تو کوئی اُسے دیکھے ‘ تو سہل نے مجھ سے پردہ کر لیا ‘ یہاں تک کہ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ پردے میں چلے گئے ‘ تو انہوں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو ‘ جو جبہ کے طور پر لی ہوئی تھی ‘ اسے اتارا اور پانی میں داخل ہو گئے ‘ جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی جسامت مجھے اچھی لگی میری نظر انہیں لگ گئی ‘ انہیں کپکپاہٹ نے اپنی گرفت میں لے لیا ‘ حالانکہ اس وقت وہ پانی میں تھے ‘ میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی گرمی ٹھنڈک اور تکلیف رخصت ہو گئی ، پھر آپ نے فرمایا : تم کھڑے ہو جاؤ ! جب وہ کھڑے ہو گئے ‘ تو آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی جان یا مال کے حوالے سے ‘ یا اپنے بھائی کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے ‘ تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے ‘ کیونکہ نظر لگنا حق ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن ہند ہے ‘ اور وہ مستور ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار دیا یا نہیں دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8431

Majma al-Zawaid #8431

وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عُلَمَاءَنَا يَصْنَعُونَ، أَنْ يُؤْتَى الرَّجُلُ الَّذِي يُعْيِنُ صَاحِبَهُ بِالْقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ، فَيُمْسِكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ، فَيَدْخُلُ الَّذِي يُعَيِّنُ صَاحِبَهُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ، فَيَصُبُّ عَلَى وَجْهِهِ الْمَاءَ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُسْرَى فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةٍ فِي الْقَدَحِ، وَهُوَ فِي يَدِهِ إِلَى عُنُقِهِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى مِنْ عِنْدِ أُصُولِ الْأَصَابِعِ، وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيُصِبُّ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ، فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab al-Zuhri describes the washing he found the scholars practice, with the one who cast the eye brought a bowl of water held raised from the ground, washing face once into the bowl with right then left hands, arms to elbows, chest once, back of right palm, right elbow to neck then left likewise, tops of right and left feet from toe roots, backs of right then left knees, immersing the right inner waist-wrapper, then the holder pouring the bowl over the afflicted's head from behind and overturning the bowl behind him upon the ground.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے علماء کو جس طرح کرتے ہوئے پایا ہے ‘ اس میں غسل کا طریقہ یہ ہے : اُس شخص کو لایا جائے گا ، جس نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ‘ اس کے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا ، جس میں پانی موجود ہو گا ‘ اور اس کے لئے اسے زمین سے ذرا بلند کر کے پکڑ کے رکھا جائے گا ، جس شخص نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ‘ وہ اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ‘ اور پھر اپنے چہرے پر پانی ڈال کر پیالے میں ڈال دے گا ‘ ایسا ایک مرتبہ کرے گا ‘ پھر بایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا اور اپنے دائیں بازو پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ‘ جو واپس پیالے میں جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کر کے اس کے ذریعے بایاں ہاتھ ایک مرتبہ دھوئے گا ‘ یہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے جائیں گے ‘ پھر وہ دونوں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ‘ اور پھر ایک ہی مرتبہ پانی ڈال کر اپنے سینے کو دھوئے گا ، جس کا بقایا پانی پیالے میں جائے ‘ پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ اس پانی میں داخل کرے گا ‘ چلو میں پانی لے گا ‘ اور اسے اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے گا ‘ وہ ایک مرتبہ ڈالے گا ‘ یوں کہ بقایا پانی پیالے میں چلا جائے گا ‘ پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرے گا ‘ اور اس کے ذریعے دائیں ہاتھ پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ‘ جو بقایا پانی پیالے میں چلا جائے ‘ اور پھر وہ اپنا ہاتھ گردن تک لے کے جائے گا ( شاید یہاں یہ مراد ہے کہ کہنی تک لے کے جائے گا ) پھر وہ بائیں کہنی کے ساتھ بھی اسی طرح کرے گا ‘ پھر وہ اپنے دائیں پاؤں کے اوپری حصے کے ساتھ اس طرح کرے گا ‘ جو اس کی انگلیوں کی جڑوں سے شروع ہو گا پھر بائیں پاؤں کے ساتھ اسی طرح کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ برتن میں داخل کر کے پانی اپنے دائیں گھٹنے کی پشت پر ڈالے گا ‘ پھر بائیں گھٹنے کے ساتھ ایسا ہی کرے گا ، پھر وہ اپنے تہبند کا اندرونی حصہ دائیں طرف سے پانی میں ڈبوئے گا ‘ پھر وہ شخص اُٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالہ موجود تھا ‘ وہ پیالے کو لے کے جائے گا ‘ پھر وہ اپنے دائیں گھٹنے پر پانی بہائے گا ، پھر وہ شخص اٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالا موجود تھا ‘ اور پھر وہ اس شخص پر پانی ڈالے گا جس کو نظر لگی تھی ‘ وہ اس کے پیچھے کی طرف سے ڈالے گا ‘ اور پھر وہ اس کے پیچھے ہی پیالے کو زمین پر اوندھا کر کے رکھ دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

8432

Majma al-Zawaid #8432

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ رَأَى شَيْئًا فَأَعْجَبَهُ، قَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَمْ يَضُرُّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ وَأَبُو بَكْرٍ ضَعِيفٌ جِدًّا. قُلْتُ: وَقَدْ حَكَى ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي "" التَّمْهِيدِ "" فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا بَرَّكْتَ عَلَيَّ» "" عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ. وَحَكَى عَنْ بَعْضِهِمْ: أَنْ يَقُولَ: «تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ». قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْأَذْكَارِ مِنْ نَحْوِ هَذَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever sees something admiring and says what Allah wills, no power but Allah's, it will not harm him. Ibn Abd al-Barr in al-Tamhid cites scholars explaining why did you not bless him as meaning O Allah bless him, and some as blessed is Allah best of creators. More such narrations come in remembrances, Allah willing. > **"Whoever sees something and admires it, and says: What Allah wills, no power but Allah's, it will not harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی چیز دیکھے اور اسے وہ اچھی لگے ‘ تو اسے یہ کہنا چاہیے :’’ ما شاء اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ ہذلی کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور ابوبکر نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن عبدالبر نے کتاب ’’ التمہید ‘‘ میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ تم نے اسے برکت کی دعا کیوں نہیں دی ؟‘‘ اہل علم سے یہ بات منقول ہے : وہ یہ کہے گا : اے اللہ ! تو اس میں برکت رکھ دے !‘‘ بعض حضرات سے یہ بات منقول ہے : وہ یہ کہے گا : اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے ‘ جو سب سے عمدہ خالق ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ’’ اذکار ‘‘ سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

8433

Majma al-Zawaid #8433

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ -: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْجَمَاجِمِ أَنْ تُنْصَبَ فِي الزَّرْعِ، قَالَ: قُلْتُ: مِنْ أَجْلِ مَاذَا؟ قَالَ: مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ضَعِيفٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ali, meaning Ibn Abi Talib رضي الله عنه, reports that the Prophet ﷺ ordered skulls erected in crops. Asked why, he said on account of the eye. > **"On account of the eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھیت میں ’’ جما جم ‘‘ نصب کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : کیونکہ نظر لگ جاتی ہے ۔ یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن محمد بن حفص ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ‘ اور وہ بھی ضعیف ہے ۔

8434

Majma al-Zawaid #8434

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَخَلَتِ الْجَنَّةَ أُمَّةٌ بِقَضِّهَا وَقَضِيضِهَا، كَانُوا لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَفِي هَذَا أَحَادِيثُ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ صِحَاحٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said a nation shall enter Paradise altogether, who neither seek ruqyah nor cauterize, trusting their Lord. Sound narrations on entering Paradise without reckoning are established. > **"A nation shall enter Paradise altogether, who neither seek ruqyah, nor cauterize, trusting their Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ایک امت اپنے سب لوگوں سمیت ‘ جنت میں داخل ہو جائے گی ‘ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو دم نہیں کرواتے ہوں گے ‘ داغ نہیں لگواتے ہوں گے ‘ اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس نوعیت کی احادیث جو ’’ صحیح ‘‘ ہیں ‘ وہ اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہو گا ۔