«وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ نَلْتَمِسُ حُمُرًا، فَوَجَدْنَا حُمُرًا وَغَدِيرًا، قَالَ: وَكَانَ أَحَدُنَا يَسْتَحِي أَنْ يَغْتَسِلَ وَأَحَدٌ يَرَاهُ، فَاسْتَتَرَ مِنِّي حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ فَعَلَ، نَزَعَ جُبَّةً عَلَيْهِ مِنْ كِسَاءٍ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَاءَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ نَظْرَةً فَأَعْجَبَنِي خَلْقُهُ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي، فَأَخَذَتْهُ قَعْقَعَةٌ وَهُوَ فِي الْمَاءِ، فَدَعَوْتُهُ فَلَمْ يُجِبْنِي، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: "" أَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصْبَهَا ""، ثُمَّ قَالَ: "" قُمْ "" فَقَامَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَوْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" الْعَيْنُ حَقٌّ "" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ هِنْدٍ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Amir ibn Rabiah رضي الله عنه reports he and Sahl ibn Hunayf went seeking asses, found asses and a pool. Each shy to bathe observed, Sahl screened from him, removed his woolen outer cloak, entered water. He looked a glance admiring his build and struck him with his eye. Sahl seized with shivering in the water, unanswering his call. He went to the Prophet ﷺ informing, who said its heat, cold, and ailment departed, ordered him rise, then taught when one sees in self, wealth, or brother what pleases, let him bless, for the eye is real. Ibn Majah narrates only the eye is real. > **"Its heat, cold, and ailment have departed. Rise. When one of you sees in himself, his wealth, or his brother what pleases him, let him bless, for the eye is real."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ گدھے تلاش کرنے کے لئے نکلے ہمیں ایک جگہ پر گدھے بھی ملے اور کنواں بھی مل گیا ‘ راوی کہتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے شرم محسوس کرتا تھا کہ جب وہ غسل کر رہا ہو ‘ تو کوئی اُسے دیکھے ‘ تو سہل نے مجھ سے پردہ کر لیا ‘ یہاں تک کہ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ پردے میں چلے گئے ‘ تو انہوں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو ‘ جو جبہ کے طور پر لی ہوئی تھی ‘ اسے اتارا اور پانی میں داخل ہو گئے ‘ جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی جسامت مجھے اچھی لگی میری نظر انہیں لگ گئی ‘ انہیں کپکپاہٹ نے اپنی گرفت میں لے لیا ‘ حالانکہ اس وقت وہ پانی میں تھے ‘ میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی گرمی ٹھنڈک اور تکلیف رخصت ہو گئی ، پھر آپ نے فرمایا : تم کھڑے ہو جاؤ ! جب وہ کھڑے ہو گئے ‘ تو آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی جان یا مال کے حوالے سے ‘ یا اپنے بھائی کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے ‘ تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے ‘ کیونکہ نظر لگنا حق ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ نظر لگنا ‘ حق ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن ہند ہے ‘ اور وہ مستور ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار دیا یا نہیں دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔