وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُرَفَّعِ قَالَ: «غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمَائَةٍ، فَافْتَتَحَهَا وَهِيَ مُخْضَرَّةٌ مِنَ الْفَوَاكِهِ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا، فَغَشِيَتْهُمُ الْحُمَّى، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ الْحُمَّى رَائِدُ الْمَوْتِ، وَهِيَ سِجْنُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، فَبَرِّدُوا لَهَا الْمَاءَ فِي الشِّنَانِ، وَصَبُّوهُ عَلَيْكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ: أَذَانِ الْمَغْرِبِ وَأَذَانِ الْعِشَاءِ "". فَفَعَلُوا، فَذَهَبْتُ عَنْهُمْ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ فَقَالَ: "" إِنَّهُ لَا وِعَاءَ إِذَا مُلِئَ شَرٌّ مِنْ بَطْنِ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاجْعَلُوهَا ثُلُثًا لِلطَّعَامِ، وَثُلُثًا لِلشَّرَابِ، وَثُلُثًا لِلرِّيحِ أَوِ النَّفْسِ "". قَالَ: وَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُحَبَّرُ بْنُ هَارُونَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abd al-Rahman ibn al-Muraffa reports that the Messenger of Allah ﷺ raided Khaybar with eighteen hundred, conquered it green with fruits, and the people fell to them and were seized by fever. They complained, and he said fever is the harbinger of death and Allah's prison on earth, so cool water in skins and pour it between the two calls of Maghrib and Isha. They did so and it left. They reported back, and he said no vessel filled is worse than a belly; if they must, make a third for food, a third for drink, and a third for breath. He divided it into eighteen shares. > **"Fever is the harbinger of death, and it is Allah's prison on earth, so cool water for it in skins and pour it upon you between the two calls: the call of Maghrib and the call of Isha."** > **"No vessel when filled is worse than a belly; if you must do, make it a third for food, a third for drink, and a third for wind or breath."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبدالرحمن بن مرفع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اٹھارہ سو افراد سمیت غزوہ خبیر میں تشریف لے گئے آپ نے خبیر فتح کر لیا وہاں پر بہت سے پھل موجود تھے لوگ انہیں استعمال کرنے لگے پھر ان لوگوں کو بخار ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بخار موت کا پیش خیمہ ( یا ہر اول دستہ ) ہے ‘ اور زمین میں اللہ کا قید خانہ ہے ‘ تو تم مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو ‘ اور دو اذانوں ‘ یعنی مغرب کی اذان اور عشاء کی اذان کے درمیان وہ پانی اپنے اوپر بہاؤ ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ‘ تو وہ بخار ان سے ختم ہو گیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بھی بھرا ہوا برتن ، پیٹ سے زیادہ برا نہیں ہے اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ‘ تو اس ( یعنی پیٹ ) کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے ایک تہائی حصہ پینے کے لئے ‘ اور ایک تہائی حصہ ہوا کے لئے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) سانس کے لئے رکھو ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محبر بن ہارون ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔