Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 20 · Chapter 3

Book of Divorce

Hadith 7828–7863

36 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7828

Majma al-Zawaid #7828

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: أَنْتَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ رَجُلٌ كَانَ تَحْتَهُ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهَا: خُوَيْلَةُ، فَظَاهَرَ مِنْهَا، فَأُسْقِطَ فِي يَدِهِ، وَقَالَ: أَلَا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ، وَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَانْطَلِقِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَتْ تَشْتَكِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ} [المجادلة: 1] إِلَى قَوْلِهِ: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] فَقَالَتْ: أَنَا رَقَبَةٌ، مَا لَهُ غَيْرِي، قَالَ: فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَيَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: {فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا} [المجادلة: 4] قَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا هِيَ إِلَّا أَكْلَةٌ إِلَى مِثْلِهَا، لَا نَقْدِرُ عَلَى غَيْرِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا، وَالْوَسْقُ: سِتُّونَ صَاعًا، فَقَالَ: "" لِيُطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: In the Jāhilīyah, when a man said to his wife, "You are to me as my mother's back," she became unlawful for him. The first to practice ẓihār in Islam was a man whose wife was his cousin, called Khuwaylah. He made ẓihār from her, then regretted it, saying, "You have become unlawful for me." She said the like to him. He said, "Go to the Prophet ﷺ and ask him." She came to the Prophet ﷺ complaining to him, so Allah, Blessed and Exalted, revealed: "Allah has heard the statement of she who disputes with you concerning her husband and complains to Allah" [Al-Mujādalah: 1] up to His saying: "the freeing of a slave before they touch one another" [Al-Mujādalah: 3]. She said, "I am but one person—he has none besides me." He said, "Then fasting two consecutive months." She said, "By Allah, he drinks three times a day." He said, "Then feeding sixty poor persons." She said, "By my father and mother, it is but one meal to the next—we can afford nothing else." So the Prophet ﷺ called for half a wasq—thirty ṣāʿs, a wasq being sixty ṣāʿs—and said: > **"Let him feed sixty poor persons with it, and take you back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا تھا : تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی مانند ہو ‘ تو وہ عورت اس شخص پر حرام ہو جاتی تھی اسلام میں سب سے پہلا ظہار ایک شخص نے کیا جس کی بیوی اس کی چچازاد تھی اس کی بیوی کا نام خویلہ تھا ‘ اس شخص نے اس خاتون کے ساتھ ظہار کر لیا ‘ پھر اس سے خلاف ورزی ہو گئی ‘ اس نے کہا یہ عورت مجھ پر حرام ہو چکی ہے اس عورت نے بھی اس سے اس کی مانند کہا تو اس شخص نے کہا تم نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کرو وه خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں شکایت کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تمہارے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں بات کر رہی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ تم دونوں کے ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا ‘‘۔ اس خاتون نے کہا : صرف میں ہی ہوں ۔ اس کے علاوہ ان صاحب کے پاس کوئی ( غلام یا کنیز ) نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ پھر دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے جائیں گے اس خاتون نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ دن میں تین مرتبہ پانی پیتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ‘ تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اس خاتون نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ان کے پاس صرف ضرورت کا کھانا ہوتا ہے ہمیں اس سے زیادہ اور کچھ نصیب نہیں ہوتا تو نبی اکرم ﷺ نے نصف وسق یعنی تیسں صاع منگوائے کیونکہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ یہ کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے اور پھر وہ تم سے رجوع کر لے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمز ثمالی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7829

Majma al-Zawaid #7829

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، «أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمِنَتْ وَتَرَبَّعَتْ حَتَّى أَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: "" أَعْتِقْ رَقَبَةً "" قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: "" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "" قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: "" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "" قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ: "" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ غَيْرَ قَوْلِهِ: إِنْ غَشِيَهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Salamah and Muḥammad ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Thawbān reported: Salmān ibn Ṣakhr al-Bayāḍī made his wife as his mother's back upon him if he approached her until Ramaḍān passed. When half of Ramaḍān passed, she grew healthy and full, pleasing him, so he approached her by night. He came to the Prophet ﷺ and asked him about that. He said: > **"Free a slave."** He said, "I cannot find one." He said: > **"Fast two consecutive months."** He said, "I cannot." He said: > **"Feed sixty poor persons."** He said, "I cannot find the means." Then the Messenger of Allah ﷺ was brought a basket containing fifteen or sixteen ṣāʿs of dates. He said: > **"Take this and give it in charity to sixty poor persons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان بیان کرتے ہیں : سلمان بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی کو اپنے لئے اپنی ماں کی پشت کی مانند قرار دیدیا اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کریں ( تو ان کی بیوی ان کے لئے ماں کی پشت کی مانند ہو ) اور ایسا اس وقت تک رہے ‘ جب تک رمضان گزر نہیں جاتا جب نصف رمضان گزر گیا تو اسی دوران وہ خاتون صحت مند ہو گئی ایک دن وہ انہیں اچھی لگی ‘ تو انہوں نے رات کے وقت اس خاتون کے ساتھ صحبت کر لی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غلام آزاد کرو اس نے کہا میرے پاس نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو انہوں نے کہا میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی : مجھے اس کی گنجائش نہیں ملتی پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک برتن آیا جس میں پندرہ صاع یا شاید سولہ صاع کھجوریں تھیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لو ! اور یہ ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کر لیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7830

Majma al-Zawaid #7830

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ الظِّهَارُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُ النِّسَاءَ، فَكَانَ أَوَّلَ ظِهَارٍ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خُوَيْلَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ، وَكَانَ الرَّجُلُ ضَعِيفًا، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ جَلْدَةً، فَلَمَّا أَنْ تَكَلَّمَ بِالظِّهَارِ، قَالَ: لَا أُرَاكِ إِلَّا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ، فَانْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّكِ تَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّكِ عَلَيَّ، فَانْطَلَقَتْ، وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهَا عِنْدَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَاشِطَةٌ تُمَشِّطُ رَأْسَهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فِي ضَعْفِ رَأْيِهِ، وَعَجْزِ مَقْدِرَتِهِ، وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَحَقُّ مَنْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ أَنَا أَوْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَهُوَ بَعْدُ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّنِي إِلَيْهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: "" يَا خُوَيْلَةُ، مَا أُمِرْنَا بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِكِ، وَإِنْ نُؤْمَرْ فَسَأُخْبِرُكِ "" فَبَيْنَا مَاشِطَتُهُ قَدْ فَرَغَتْ مِنْ شِقِّ رَأْسِهِ، وَأَخَذَتْ فِي الشِّقِّ الْآخَرِ، أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَرْبَدُّ لِذَلِكَ وَجْهُهُ، حَتَّى يَجِدَ بَرَدَهُ، فَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ عَادَ وَجْهُهُ أَبْيَضَ كَالْقَلْبِ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِمَا أُمِرَ بِهِ مِنَ الْوَحْيِ، فَقَالَتْ مَاشِطَتُهُ: يَا خُوَيْلَةُ إِنِّي لَأَظُنُّهُ الْآنَ فِي شَأْنِكِ، فَأَخَذَهَا أَفْكَلُ اسْتَقْبَلَتْهَا رِعْدَةٌ، ثُمَّ قَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُعُوذُ بِكَ أَنْ تُنْزِلَ بِي إِلَّا خَيْرًا، فَإِنِّي لَمْ أَبْغِ مِنْ رَسُولِكَ إِلَّا خَيْرًا، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: "" يَا خُوَيْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ "" فَقَرَأَ: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا} [المجادلة: 1] إِلَى قَوْلِهِ: {ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا لَهُ خَادِمٌ غَيْرِي، وَلَا لِي خَادِمٌ غَيْرُهُ، قَالَ: {فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ} [المجادلة: 4] فَقَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يَأْكُلْ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَسْدَرُ بَصَرُهُ، قَالَ: {فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا} [المجادلة: 4] فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لَنَا الْيَوْمَ وُقِيَّةٌ، قَالَ: "" فَمُرِيهِ فَلْيَنْطَلِقْ إِلَى فُلَانٍ فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ "" قَالَتْ: فَجِئْتُ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: مَا وَرَاءَكِ؟ قُلْتُ: خَيْرًا وَأَنْتَ دَمِيمٌ، أُمِرْتَ أَنْ تَأْتِيَ فُلَانًا فَتَأْخُذَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ فَتَصَّدَّقَ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَتُرَاجِعَنِي، فَانْطَلَقَ يَسْعَى حَتَّى جَاءَ بِهِ، قَالَتْ: وَعَهْدِي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ خَمْسَةَ آصُعٍ مِنَ التَّمْرِ لِلضَّعْفِ». قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الظِّهَارِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: Ẓihār in the Jāhilīyah made women unlawful. The first ẓihār in Islam was by Aws ibn al-Ṣāmit, whose wife was Khuwaylah bint Khuwaylid. The man was weak, and the woman was strong-bodied. When he uttered ẓihār, he said, "I see you have become unlawful for me. Go to the Messenger of Allah ﷺ—perhaps you will find something that returns you to me." She went, while he sat waiting for her by the sides of the well. She came to the Prophet ﷺ while a woman combing his hair was dressing it, and said, "O Messenger of Allah, Aws ibn al-Ṣāmit—whose weakness of judgment and incapacity you know—has made ẓihār from me. None deserves kindness toward him more than I, if kindness is to be shown, and he has made ẓihār from me, O Messenger of Allah. I seek something that returns me to him, may my father and mother be ransomed for you." He said: > **"O Khuwaylah, we have not been commanded anything concerning your affair; if we are commanded, I shall inform you."** While the hairdresser had finished one side of his head and begun the other, Allah, Mighty and Majestic, sent down revelation. When revelation descended upon him, his face would flush, until he felt its coolness; when it lifted, his face returned white as silver. Then he spoke what he had been commanded by revelation. His hairdresser said, "O Khuwaylah, I think it is now concerning your affair." She trembled and said, "O Allah, I seek refuge with You from anything but good descending upon me, for I sought nothing from Your Messenger but good." When it lifted from him, he said: > **"O Khuwaylah, Allah has sent down concerning you and your companion."** Then he recited: "Allah has heard the statement of she who disputes with you concerning her husband and complains to Allah, and Allah hears your dialogue" [Al-Mujādalah: 1] up to His saying: "then freeing a slave before they touch one another." She said, "O Messenger of Allah, he has no servant besides me, and I have none besides him." He recited: "Whoever cannot find this, then fasting two consecutive months." She said, "By Allah, O Messenger of Allah, if he does not eat twice a day, his sight weakens." He recited: "Whoever cannot do that, then feeding sixty poor persons." She said, "By Allah, today we have no such means." He said: > **"Tell him to go to so-and-so, take half a wasq of dates from him, give it in charity to sixty poor persons, and take you back."** She returned, and when he saw her he asked, "What happened?" She said, "Good—you are poor, and you have been commanded to go to so-and-so, take half a wasq from him, give it in charity to sixty poor persons, and take me back." So he hastened, brought the dates—though before that, in his weakness, he could not carry five ṣāʿs upon his back.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ظہار یہ ہوتا تھا کہ عورت کو آدمی حرام قرار دیدیتا تھا اسلام میں سب سے پہلا ظہار حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے کیا ان کی اہلیہ خویلہ بنت خویلد تھی وہ ایک کمزور شخص تھے اور وہ خاتون مضبوط جسم کی مالک تھیں جب ان صاحب نے ظہار کے بارے میں کلام کیا ، تو انہوں نے یہ کہا : میں یہ سجھتا ہوں کہ اب تم مجھ پر حرام ہو چکی ہو تم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاؤ ہو سکتا کہ تم کوئی ایسی صورت پا لو کہ نبی اکرم ﷺ تمہیں میری طرف واپس کر دیں وہ خاتون چلی گئی اور وہ صاحب کنویں کے دونوں کناروں کے پاس بیٹھ کر اس خاتون کی واپسی کا انتظار کرنے لگے وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت کوئی خاتون نبی اکرم ﷺ کے سر میں کنگھی پھیر رہی تھیں اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی رائے کی کمزوری اور ان کی عاجزی جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں یا رسول اللہ ! اس کی وجہ سے انہوں نے میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ بھلائی کی جائے ‘ لیکن یا رسول اللہ ! وہ میرے ساتھ ظہار کر چکے ہیں ، تو اب میں کوئی ایسی صورت چاہتی ہوں جس کے ذریعے میں واپس ان کے پاس چلی جاؤں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خویلہ ! تمہارے معاملے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا اگر ہمیں حکم دیا جائے گا ‘ تو میں تمہیں بتا دوں گا ابھی وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے سر کے ایک حصے کی کنگھی کر کے فارغ ہوئی تھیں اور دوسرے حصے کی کنگھی کرنی شروع کی تھی کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل کرنا شروع کی جب نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ اس کی وجہ سے تبدیل ہو جاتا تھا یہاں تک کہ آپ اس کی ٹھنڈک محسوس کرتے تھے جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوتی ، تو آپ کا چہرہ مبارک ‘ چاندی کے کنگن کی طرح سفید ہو جاتا اور پھر نبی اکرم ﷺ وہ کلام کرتے جو آپ کو وحی میں حکم دیا گیا ہوتا تھا کنگھی کرنے والی خاتون نے کہا : اے خویلہ ! میرا خیال ہے اس وقت نبی اکرم ﷺ پر تمہارے بارے میں وحی نازل ہو رہی ہے ‘ تو خویلہ پریشان ہو گئیں اور وہ گھبرا گئیں پھر انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتی ہوں کہ ‘ تو بھلائی کے علاوہ کچھ نازل کرے ‘ کیونکہ میں تیرے رسول سے صرف بھلائی حاصل کرنا چاہتی ہوں جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خویلہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بات چیت کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو کو سن رہا تھا ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ پھر وہ پلٹنا چاہیں اس چیز سے ‘ جو انہوں نے کہا ہے ‘ تو ان دونوں کے ایک دوسرے کے مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا ‘‘۔ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان صاحب کے پاس میرے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ‘ اور میرے پاس بھی ان کے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’ تو جو شخص یہ گنجائش نہ پائے وہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے ‘‘۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! اگر وہ ایک دن میں دو مرتبہ کھانا نہ کھائیں ، تو ان کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ حصہ تلاوت کیا ” جو اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ‘‘۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آج ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس شخص سے کہو کہ وہ فلاں شخص کے پاس جائے ‘ اور اس سے کھجوروں کا نصف وسق وصول کر کے اسے ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دے اور پھر تم سے رجوع کر لے وہ خاتون کہتی ہیں : میں واپس آئی جب ان صاحب نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا : کیا بنا ؟ میں نے کہا : بہتر ہے ‘ آپ غریب ہیں ، تو آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے آپ فلاں شخص کے پاس جائیں اور اس سے نصف وسق لے کر ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دیں اور پھر مجھ سے رجوع کر لیں ، تو وہ صاحب تیزی سے چلتے ہوئے گئے ‘ اور وہ کھجوریں اٹھا کے لے آئے وہ خاتون بیان کرتی ہیں حالانکہ اس سے پہلے ان کی یہ صورت حال تھی کہ وہ کمزوری کی وجہ سے اپنی پشت پر کھجوروں کے پانچ صاع بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ظہار کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔

7831

Majma al-Zawaid #7831

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهُ قَالَ: شَهْرًا، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي ظَهْرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كِسْرَى يَشْرَبُونَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَأَنْتَ هَكَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ""، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الشَّهْرُ [تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ] هَكَذَا وَهَكَذَا ""، وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ kept away from his wives—Shuʿbah said, "I think he said: a month." ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه came to him while he was in an upper room upon a mat that had marked his back. He said, "O Messenger of Allah, Khosrow drinks from silver and gold, while you are like this?" The Prophet ﷺ said: > **"Their good things have been hastened for them in the life of this world."** Then the Prophet ﷺ said: > **"The month is thus and thus."** And he folded the thumb on the third time—twenty-nine days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کے ساتھ لاتعلقی اختیار کر لی شعبہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک ماہ کے لئے لاتعلقی اختیار کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ اس وقت بالا خانے میں چٹائی پر موجود تھے اور چٹائی کا نشان آپ کی پشت پر لگا ہوا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسری سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ کی یہ حالت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انہیں ان کی بہترین چیزیں دنیاوی زندگی میں دیدی گئی ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے تیسری مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھا نیچے کر لیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیج ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7832

Majma al-Zawaid #7832

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: 4] فَكُنْتُ أَهَابُهُ، حَتَّى حَجَجْنَا مَعَهُ حَجَّةً فَقُلْتُ: لَئِنْ لَمْ أَسْأَلْهُ فِي الْحَجَّةِ لَا أَسْأَلُهُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا حَجَّنَا أَدْرَكْنَاهُ وَهُوَ بِبَطْنِ مُرٍّ وَقَدْ تَخَلَّفَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ: شَيْءٌ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَكُنْتُ أَهَابُكَ، فَقَالَ: سَلْنِي عَمَّا شِئْتَ، فَإِنَّا لَمْ نَكُنْ نَعْلَمُ شَيْئًا حَتَّى تَعَلَّمْنَاهُ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ} [التحريم: 4] مَنْ هُمَا؟ قَالَ: لَا تَسْأَلُ أَحَدًا أَعْلَمَ بِذَلِكَ مِنِّي، كُنَّا بِمَكَّةَ لَا يُكَلِّمُ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ إِنَّمَا هِيَ خَادِمُ الْبَيْتِ، فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ، سَفَعَ بِرِجْلِهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ تَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْنَ يُكَلِّمْنَنَا وَيُرَاجِعْنَنَا، وَإِنِّي أَمَرْتُ غِلْمَانًا لِي بِبَعْضِ الْحَاجَةِ، فَقَالَتْ امْرَأَتِي: بَلِ اصْنَعْ كَذَا وَكَذَا، فَقُمْتُ إِلَيْهَا بِقَضِيبٍ فَضَرَبْتُهَا بِهِ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، تُرِيدُ أَنْ لَا تُكَلَّمَ؟! فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُكَلِّمُهُ نِسَاؤُهُ، فَخَرَجْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا بُنَيَّةُ انْظُرِي لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تَسْأَلِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ يُعْطِيكَهُنَّ، فَمَا كَانَتْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ حَتَّى دَهْنِ رَأْسِكِ فَسَلِينِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ، وَجَلَسَ النَّاسُ حَوْلَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى نِسَائِهِ امْرَأَةً امْرَأَةً يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُو لَهُنَّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ إِحْدَاهُنَّ جَلَسَ عِنْدَهَا، وَإِنَّهَا أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ عَكَّةُ عَسَلٍ مِنَ الطَّائِفِ - أَوْ مِنْ مَكَّةَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ يُسَلِّمُ عَلَيْهَا حَبَسَتْهُ حَتَّى تُلْعِقَهُ مِنْهُ أَوْ تَسْقِيَهُ مِنْهَا، وَأَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتِ احْتِبَاسَهُ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ لِجُوَيْرِيَةٍ عِنْدَهَا حَبَشِيَّةٍ، يُقَالُ لَهَا: خَضْرَاءُ: إِذَا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَادْخُلِي عَلَيْهَا فَانْظُرِي مَا يَصْنَعُ، فَأَخْبَرَتْهَا الْجَارِيَةُ بِشَأْنِ الْعَسَلِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى صَوَاحِبَاتِهَا فَأَخْبَرَتْهُنَّ، وَقَالَتْ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكُنَّ فَقُلْنَ: إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، ثُمَّ إِنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَعِمْتَ شَيْئًا مُنْذُ الْيَوْمُ؟ فَإِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدُّ شَيْءٍ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحُ شَيْءٍ، فَقَالَ: "" هُوَ عَسَلٌ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا "" حَتَّى [إِذَا] كَانَ يَوْمُ حَفْصَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي حَاجَةً إِلَى أَبِي، إِنَّ نَفَقَةً لِي عِنْدَهُ، فَأْذَنْ لِي أَنْ آتِيَهُ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ، فَأَدْخَلَهَا بَيْتَ حَفْصَةَ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَتْ حَفْصَةُ فَوَجَدَتِ الْبَابَ مُغْلَقًا، فَجَلَسَتْ عِنْدَ الْبَابِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فَرْعٌ وَوَجْهُهُ يَقْطُرُ عَرَقًا وَحَفْصَةُ تَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "" فَقَالَتْ: إِنَّمَا أَذِنْتَ لِي مِنْ أَجْلِ هَذَا، أَدْخَلْتَ أَمَتَكَ بَيْتِي، ثُمَّ وَقَعْتَ عَلَيْهَا عَلَى فِرَاشِي، مَا كُنْتَ تَصْنَعُ هَذَا بِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ!! أَمَا وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لَكَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! فَقَالَ: "" وَاللَّهِ مَا صَدَقْتِ أَلَيْسَ هِيَ جَارِيَتِي قَدْ أَحَلَّهَا اللَّهُ لِي؟ أُشْهِدُكِ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ، أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ رِضَاكِ، انْظُرِي لَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ امْرَأَةً مِنْهُنَّ فَهِيَ عِنْدَكِ أَمَانَةٌ "" فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَعَتْ حَفْصَةُ الْجِدَارَ الَّذِي بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: أَلَا أَبْشِرِي فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَرَّمَ أَمَتَهُ، فَقَدْ أَرَاحَنَا اللَّهُ مِنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يَرِيبُنِي أَنَّهُ كَانَ يُقْتَلُ مِنْ أَجْلِهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} [التحريم: 1] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَهِيَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ، وَزَعَمُوا أَنَّهُمَا كَانَتَا لَا تَكْتُمُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى شَيْئًا. وَكَانَ لِي أَخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا حَضَرْتُ وَغَابَ فِي بَعْضِ ضَيْعَتِهِ حَدَّثْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا غِبْتُ فِي بَعْضِ ضَيْعَتِي حَدَّثَنِي، فَأَتَانِي يَوْمًا وَقَدْ كُنَّا نَتَخَوَّفُ جَبَلَةَ بْنَ الْأَيْهَمِ الْغَسَّانِيَّ فَقَالَ: مَا دَرَيْتَ مَا كَانَ؟ فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ لَعَلَّهُ جَبَلَةُ بْنُ الْأَيْهَمِ الْغَسَّانِيُّ تَذْكُرُ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّهُ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الصُّبْحَ فَلَمْ يَجْلِسْ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ، وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَزْوَاجِهِ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ، وَقَدِ اعْتَزَلَ فِي مَشْرَبَتِهِ، وَقَدْ تَرَكَ النَّاسَ يَمُوجُونَ، وَلَا يَدْرُونَ مَا شَأْنُهُ، فَأَتَيْتُ وَالنَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ يَمُوجُونَ وَلَا يَدْرُونَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كَمَا أَنْتُمْ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَشْرَبَتِهِ قَدْ جُعِلَتْ لَهُ عَجَلَةٌ فَرَقَى عَلَيْهَا، فَقَالَ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ وَكَانَ يَحْجُبُهُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَاسْتَأْذَنَ لِي، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَشْرَبَتِهِ فِيهَا حَصِيرٌ وَأَهَبٌ مُعَلَّقَةٌ، وَقَدْ أَفْضَى لِجَنْبِهِ إِلَى الْحَصِيرِ فَأَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي جَنْبِهِ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوَّةٌ لِيفًا، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكَ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُ وَالرُّومُ يَضْطَجِعُ أَحَدُهُمْ فِي الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ فَقَالَ: "" إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ، وَالْآخِرَةُ لَنَا "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُكَ؟ فَإِنِّي تَرَكْتُ النَّاسَ يَمُوجُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، فَعَنْ خَبَرٍ أَتَاكَ، فَقَالَ: أَعْتَزِلْهُنَّ فَقَالَ: "" لَا وَلَكِنْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي شَيْءٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا "" ثُمَّ خَرَجْتُ عَلَى النَّاسِ فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْجِعُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِ شَيْءٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَعْتَزِلَ. ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا بُنَيَّةُ أَتُكَلِّمِينَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَغِيظِينَهُ وَتَغَارِينَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَتْ: لَا أُكَلِّمُهُ بَعْدُ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَكَانَتْ خَالَتِي، فَقُلْتُ لَهَا كَمَا قُلْتُ لِحَفْصَةَ فَقَالَتْ: عَجَبًا لَكَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ كُلُّ شَيْءٍ تَكَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى تُرِيدَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِ، وَمَا يَمْنَعُنَا أَنْ نَغَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَزْوَاجُكُمْ يَغَرْنَ عَلَيْكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} [الأحزاب: 28] حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا». قُلْتُ: لِعُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: I wished to ask ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb about the saying of Allah, Mighty and Majestic, "If you two support one another against him" [Al-Taḥrīm: 4], but I held him in awe. When we performed Ḥajj with him, I said, "If I do not ask him during this Ḥajj, I shall never ask him." When we completed our Ḥajj, I caught up with him at Baṭn Marr, where he had stayed behind for some need. He said, "Welcome, O cousin of the Messenger of Allah ﷺ—what is your need?" I said, "Something I wished to ask you about, O Commander of the Faithful, but I held you in awe." He said, "Ask me whatever you wish, for we knew nothing until we learned it." I said, "Tell me about the saying of Allah, Mighty and Majestic, 'If you two support one another against him'—who are they?" He said, "You ask none more knowledgeable of that than me. When we were in Makkah, none of us spoke with his wife—she was but a servant of the house; when he had a need, he took her by the foot and fulfilled his need. When we came to Madinah, our wives learned from the women of the Anṣār, and began speaking to us and answering us back. I once ordered some servants of mine concerning a need, and my wife said, 'Rather do such-and-such.' I rose toward her with a stick and struck her with it. She said, 'How strange you are, O son of al-Khaṭṭāb! You wish not to be spoken to, yet the wives of the Messenger of Allah ﷺ speak to him!' So I went out and entered upon Ḥafṣah, saying, 'O my daughter, beware speaking to the Messenger of Allah ﷺ or asking him, for the Messenger of Allah ﷺ has neither dinar nor dirham to give you. Whatever need you have—even oil for your head—ask me for it.' When the Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr, he would sit in his prayer place with the people around him until the sun rose, then enter upon his wives one by one, greeting them and supplicating for them, staying with whichever one's day it was. Once Ḥafṣah bint ʿUmar was gifted a vial of honey from Ṭāʾif. When the Prophet ﷺ entered and greeted her, she detained him and gave him honey to eat or drink. ʿĀʾishah was troubled that he stayed with her, so she told her Abyssinian slave girl Khaḍrāʾ, 'When the Prophet ﷺ visits Ḥafṣah, go and see what he does.' The girl told ʿĀʾishah that he drinks honey there. ʿĀʾishah sent word to her companions, saying, 'When the Prophet ﷺ comes to you, say: we smell maghāfīr upon you.' When the Prophet ﷺ came to ʿĀʾishah, she said, 'O Messenger of Allah, have you eaten anything today? I smell maghāfīr upon you.' He disliked any odor being perceived from him, and said: > **"It was only honey. By Allah, I shall never eat it again."** When Ḥafṣah's day came, she said, 'O Messenger of Allah, I have business with my father—my allowance is with him; if you permit me, I shall go to him.' He permitted her. Then the Prophet ﷺ sent for his slave girl Māriyah, who came to Ḥafṣah's house, and he was intimate with her there. Ḥafṣah returned meanwhile to find the door closed, and sat at the door. When the Prophet ﷺ came out, she said, 'O Messenger of Allah, in my house and upon my bed?' He said: > **"She is unlawful for me. Do not mention this to anyone."** She mentioned it to ʿĀʾishah. So Allah, Mighty and Majestic, revealed: 'O Prophet, why do you forbid what Allah has made lawful for you' [Al-Taḥrīm: 1]. By the two, He meant ʿĀʾishah and Ḥafṣah—people said the two concealed nothing from one another. Then ʿUmar said: I had a brother among the Anṣār—when I attended and he was absent at his estate, I told him what the Messenger of Allah ﷺ said, and when I was absent at my estate, he told me. One day he came to me—while we feared Jabalah ibn al-Ayham al-Ghassānī—and said, 'Do you know what has happened?' I said, 'What? Perhaps Jabalah ibn al-Ayham al-Ghassānī approaches?' He said, 'No, but worse than that. The Messenger of Allah ﷺ prayed Fajr but did not sit as he used to sit, nor visit his wives as he used to do. He has secluded himself in his upper room, leaving the people in turmoil, not knowing his affair.' So I came while the people in the mosque were in turmoil, unknowing. I said, 'O people, stay as you are.' Then I came to the Messenger of Allah ﷺ in his upper room, for which a ladder had been set, and climbed it. I said to his black servant who guarded him, 'Seek permission for ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb.' He sought permission for me, and I entered. The Messenger of Allah ﷺ was in his upper room with a mat, hanging skins, his side bare against the mat so that it marked his side, and beneath his head a pillow of leather stuffed with fiber. When I saw him, I wept. He said: > **"What makes you weep?"** I said, 'O Messenger of Allah, Persia and Rome—one of them reclines upon brocade and silk!' He said: > **"Their good things have been hastened for them, and the Hereafter is for us."** I said, 'O Messenger of Allah, what is your affair? I left the people in turmoil awaiting word from you.' He said: > **"I have secluded myself from them."** I said, 'Have you divorced them?' He said: > **"No, but something arose between me and my wives, so I wished not to enter upon them for a month."** Then I went out to the people, saying, 'O people, return, for there is a matter between the Messenger of Allah ﷺ and his wives, and he wished seclusion.' Then I entered upon Ḥafṣah, saying, 'O my daughter, do you speak to the Messenger of Allah ﷺ, anger him, and show jealousy toward him?' She said, 'I shall never again speak to him of anything he dislikes.' Then I entered upon Umm Salamah—she was my maternal aunt—saying to her as I said to Ḥafṣah. She said, 'How strange you are, O ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb! You speak on every matter, until you wish to come between the Messenger of Allah ﷺ and his wives! What prevents us from being jealous over the Messenger of Allah ﷺ, when your own wives are jealous over you?' So Allah, Mighty and Majestic, revealed: 'O Prophet, say to your wives: if you desire the life of this world and its adornment, come, I shall provide for you and release you with a gracious release' [Al-Aḥzāb: 28] to its end.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں چاہتا تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کروں : ’’ اگر ان دونوں نے اس بارے میں ایک دوسرے کی اعانت کی ‘‘۔ لیکن میں ان سے ہیبت زدہ تھا یہاں تک کہ میں ان کے ساتھ حج کرنے کے لئے گیا میں نے سوچا کہ اگر میں نے اس حج کے دوران ان سے دریافت نہ کیا ‘ تو پھر ان سے کبھی نہیں پوچھ سکوں گا ‘ جب ہم نے حج مکمل کر لیا تو میں ایک مرتبہ ان کے پاس پہنچا وہ اس وقت ’’ مر “ کے نشیبی حصے میں موجود تھے اور قضائے حاجت کے لئے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے فرمایا : اے اللہ کے رسول کے چچازاد ! تمہیں خوش آمدید ہے تمہیں کیا کام ہے میں نے کہا : ایک چیز ہے جس کے بارے میں ‘ میں آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا اے امیر المؤمنین ! لیکن میں آپ سے ہیبت زدہ بھی تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جو چاہو اس کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ ہمیں بھی کسی چیز کا اس وقت تک علم نہیں ہوا جب تک ہم نے اسے سیکھا نہیں میں نے کہا : آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے ’’ اگر ان دونوں نے ‘‘ ان دونوں خواتین سے مراد کون ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کسی ایسے شخص سے دریافت نہیں کرو گے ‘ جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہو جب ہم لوگ مکہ میں رہا کرتے تھے ‘ تو ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ کلام نہیں کیا کرتا تھا وہ عورت گھر کی نوکرانی ہوتی تھی جب آدمی کو اس سے حاجت ہوتی تھی ، تو اس کے پاس آ کر اپنی حاجت پوری کر لیتا تھا جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے ‘ تو ہماری بیویوں نے انصار کی خواتین سے سیکھنا شروع کیا انہوں نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنا اور ہمیں جواب دینا شروع کر دیا میں نے ایک مرتبہ لڑکوں کو کوئی کام کہا تو میری بیوی نے کہا بلکہ آپ اس کو اس اس طرح کر لیں میں چھڑی لے کر اس کی طرف بڑھا میں نے وہ چھڑی اسے ماری ‘ تو اس نے کہا : اے خطاب کے صاحبزادے ! آپ پر حیرت ہوتی ہے آپ یہ چاہتے ہیں آپ کے ساتھ کلام نہ کیا جائے حالانکہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج آپ ﷺ کے ساتھ کلام کر لیتی ہیں میں نکلا اور میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے میری بیٹی ! تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ کلام نہ کرنا اور نبی اکرم ﷺ سے کوئی چیز نہ مانگنا کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے پاس نہ دینار ہوتے ہیں اور نہ درہم ہوتے ہیں جو وہ تمہیں دیں اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو یہاں تک کہ اگر سر میں لگانے کے لئے تیل کی بھی ضرورت ہو ‘ تو تم مجھے کہہ دینا ۔ نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے تھے ‘ تو آپ جائے نماز پر تشریف فرما رہتے تھے اور لوگ آپ کے ارد گرد بیٹھ جاتے تھے اور سورج طلوع ہونے تک تشریف فرما رہتے تھے پھر اپنی ازواج میں سے ایک ایک خاتون کے پاس تشریف لے جاتے تھے انہیں سلام کرتے تھے انہیں دعا دیتے تھے اور جس خاتون کی مخصوص باری کا دن ہوتا تھا ان کے ہاں ٹھہر جایا کرتے تھے ایک مرتبہ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طائف سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مکہ سے شہد کی شیشی تحفے کے طور پر دی گئی نبی اکرم ﷺ جب اندر تشریف لائے ‘ اور انہیں سلام کیا ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو روک لیا اور آپ کو شہد کھانے کے لئے یا پینے کے لئے دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات پر حیرانگی ہوئی کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں کیوں ٹھہرے ہیں انہوں نے اپنی حبشی کنیز جس کا نام خضراء تھا اس سے یہ کہا : جب نبی اکرم ﷺ حفصہ کے پاس جائیں ، تو تم اس کے گھر جانا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ نبی اکرم ﷺ کیا کرتے ہیں اس کنیز نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا کہ وہاں شہد پیتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساتھی خواتین ( یعنی دیگر ازواج مطہرات ) کو پیغام بھیجا اور انہیں اس بارے میں بتایا اور یہ کہا : جب نبی اکرم ﷺ تمہارے پاس تشریف لائیں ، تو تم نے یہ کہنا ہے ہمیں آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے پھر جب نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے آج کوئی چیز کھائی ہے مجھے آپ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات کو شدید ناپسند کرتے تھے کہ آپ سے کسی چیز کی بو محسوس ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ‘ تو صرف شہد تھا اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں کھاؤں گا راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ جب سیدہ حفصہ کی مخصوص باری کا دن آیا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اپنے والد سے ایک کام ہے میرا خرچ ان کے پاس موجود ہے اگر آپ مجھے اجازت دیں ‘ تو میں ان کے پاس چلی جاتی ہوں نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو اجازت دیدی پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی کنیز ماریہ کو پیغام بھیجا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آ گئیں نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا اسی دوران سیدہ حفصہ واپس آ گئیں ، تو انہوں نے دروازے کو بند پایا وہ دروازے کے پاس بیٹھ گئیں جب نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ‘ تو آپ ’’ فرع ‘‘ تھے اور آپ کا پسینہ ٹپک رہا تھا ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : آپ نے مجھے اسی مقصد کے لئے اجازت دی تھی کہ آپ اپنی کنیز کو میرے گھر لے آئیں اور پھر میرے بستر پر اس کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں آپ نے دیگر ازواج میں سے کسی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا تھا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! آپ کے لئے ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! تم ٹھیک نہیں کہہ رہی ہو کیا وہ میری کنیز نہیں ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے حلال قرار دیا ہے میں تمہیں گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ وہ مجھ پر حرام ہے ‘ اور میں اس کے ذریعے تمہاری رضامندی حاصل کرنا چاہتا ہوں لیکن تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ دیگر ازواج میں سے کسی خاتون کو اس بارے میں نہ بتانا یہ بات تمہارے پاس امانت ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ‘ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے درمیان والی دیوار کو کھٹکھٹایا اور کہا تم خوشخبری سنو اللہ کے رسول نے اپنی کنیز کو حرام قرار دیدیا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے حوالے سے راحت نصیب کر دی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ ‘ تو شک ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ اس کنیز کی وجہ سے پریشان ہو جائیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’ اے نبی ! تم اپنی ازواج سے فرما دو کہ اگر تم دنیا اور اس کی آرائش و زیبائش کی طلبگار ہو تو آؤ میں تمہیں مال و متاع دیدیتا ہوں اور تمہیں اچھے طریقے سے الگ کر دوں گا ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ دونوں خواتین ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں چھپاتی تھیں ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) انصار سے تعلق رکھنے والا میرا ایک بھائی تھا جب میں ( نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ) موجود ہوتا اور وہ زمینوں وغیرہ پر گیا ہوتا تو میں اُسے وہ چیزیں بیان کر دیتا تھا جو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہوتی تھیں اور جب میں کام کے سلسلے میں غیر موجود ہوتا تھا تو وہ مجھے بیان کر دیتا تھا ایک دن وہ میرے پاس آیا ہم ان دنوں جبلہ بن ایہم غسانی کے حوالے سے اندیشے کا شکار تھے اس نے کہا : آپ کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا : کیا ہوا ہے شاید جبلہ بن ایہم عنسانی آنے والا ہے اس نے کہا جی نہیں اس سے بھی زیادہ پریشانی والی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی اور پہلے کی طرح تشریف فرما نہیں ہوئے ‘ اور اپنے عام معمول کے مطابق اپنی ازواج کے پاس بھی تشریف نہیں لے گئے آپ نے بالا خانے میں علیحدگی اختیار کر لی ہے ‘ اور لوگوں کو پریشان چھوڑ دیا ہے انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا معاملہ ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آیا لوگ مسجد میں پریشان تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو ! جیسے تم ہو ویسے ہی رہو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ اس وقت بالا خانے میں موجود تھے آپ کے لئے ایک سیڑھی بنائی گئی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر چڑھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سیاہ فام غلام سے جو دربان کے فرائض سر انجام دے رہا تھا اس سے یہ کہا : عمر بن خطاب کے لئے اجازت مانگو اس نے میرے لیے اجازت مانگی میں اندر آیا نبی اکرم ﷺ اس وقت بالا خانے میں موجود تھے جس میں ایک چٹائی تھی اور کچھ کھالیں لٹکی ہوئی تھیں چٹائی کا نشان نبی اکرم ﷺ کے پہلو پر لگ گیا تھا آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے جب میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا تو میں رو پڑا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : اہل فارس اور اہل روم دیباج اور حریر پر لیٹتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی پاکیزہ چیزیں انہیں جلدی ( یعنی دنیا میں ) دیدی گئیں اور ہمیں آخرت میں ملیں گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ کا کیا معاملہ ہے میں نے لوگوں کو پریشان چھوڑا ہے کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ کی طرف سے کوئی اطلاع ملے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے ان خواتین کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی ہے ( شاید یہاں یہ الفاظ ہونے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ نے انہیں طلاق دیدی ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ میرے اور میری ازواج کے درمیان کچھ ناراضگی ہے ‘ تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نکل کر لوگوں کے پاس آیا میں نے کہا : اے لوگو ! تم لوگ واپس چلے جاؤ کیونکہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی ازواج کے درمیان کوئی معاملہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے علیحدہ رہنے کو پسند کیا ہے پھر میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے کہا : اے میری بیٹی ! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ کلام کرتی ہو ( یعنی انہیں جواب دیتی ہو ) اور ان کے سامنے غصے کا اظہار کرتی ہو اور مزاج کی شدت کا اظہار کرتی ہو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اب میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو آپ کو ناپسند ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ‘ پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا جو میری خالہ لگتی تھیں میں نے ان سے بھی وہی بات کہی جو میں نے حفصہ سے کہی تھی ، تو انہوں نے کہا : اے عمر بن خطاب ! تم پر حیرانگی ہوتی ہے تم ہر چیز کے بارے میں بات شروع کر دیتے ہو ‘ یہاں تک کہ اب تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے رسول اور ان کی ازواج کے درمیان بھی دخل دو ہم کیوں اللہ کے رسول کو غصہ کر کے نہ دکھائیں جبکہ تم لوگوں کی بیویاں بھی تم لوگوں کو غصہ کر کے دکھاتی ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اے نبی تم اپنی ازواج سے فرما دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو ‘ تو آگے آؤ میں تمہیں ساز و سامان دیتا ہوں ‘ اور تمہیں مناسب طریقے سے الگ کر دیتا ہوں ‘‘۔ یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوئے ( یعنی آپ نے یہ پوری آیت تلاوت کی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں یہ ثقہ اور مامون ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

7833

Majma al-Zawaid #7833

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ إِيلَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، ثُمَّ وَقَّتَ اللَّهُ الْإِيلَاءَ، فَمَنْ كَانَ إِيلَاؤُهُ دُونَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَلَيْسَ بِإِيلَاءٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: The īlāʾ of the Jāhilīyah was a year or two years. Then Allah set a term for īlāʾ: whoever's īlāʾ is less than four months is not īlāʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت کا ایلاء ایک یا دو سال کے لئے ہوتا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مدت متعین کر دی ‘ تو جس شخص کا ایلاء چار ماہ سے کم ہو گا وہ ایلا نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7834

Majma al-Zawaid #7834

وَعَنْ أَبِي مُوسَى «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الَّذِي يُولِي مِنِ امْرَأَتِهِ: "" إِنْ شَاءَ رَاجَعَهَا فِي الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِنْ هُوَ عَزَمَ الطَّلَاقَ فَعَلَيْهَا مَا عَلَى الْمُطَلَّقَةِ مِنَ الْعِدَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said concerning one who makes īlāʾ from his wife: > **"If he wishes, he may take her back within the four months; if he resolves upon divorce, then upon her is what is upon a divorced woman of waiting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں یہ فرمایا ہے جو اپنی بیوی سے ایلاء کرتا ہے کہ اگر وہ شخص چاہے ‘ تو چار ماہ میں اس عورت سے رجوع کر سکتا ہے ‘ اور اگر وہ طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے ‘ تو عورت پر عدت کے حوالے سے وہ چیز لازم ہو گی جو طلاق یافتہ عورت پر لازم ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7835

Majma al-Zawaid #7835

وَعَنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلًا - يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ - آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ، فَمَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، ثُمَّ جَامَعَهَا بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَلَا يَذْكُرُ يَمِينَهُ، فَأَتَى عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَتَيَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، فَاخْطِبْهَا إِلَى نَفْسِهَا، فَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا وَأَصْدَقَهَا رِطْلًا مِنْ فِضَّةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ؛ إِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm reported: A man called ʿAbdullāh ibn Unays made īlāʾ from his wife. Four months passed before he had intercourse with her; then he had intercourse with her after the four months, forgetting his oath. He came to ʿAlqamah ibn Qays and mentioned that to him. They both came to Ibn Masʿūd and asked him. He said, "She is separated from you—propose to her anew." So he proposed to her anew and gave her a ritl of silver as dowry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا نام عبداللہ بن انیس تھا اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایلاء کر لیا اس شخص کے اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے چار ماہ گزر گئے پھر چار ماہ گزرنے کے بعد اس شخص نے اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی اسے اپنی قسم یاد نہیں تھی پھر وہ علقمہ بن قیس کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی وہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ عورت تم سے بائنہ ہو چکی ہے اب تم اس عورت کو نئے سرے سے شادی کا پیغام دو اس شخص نے اس عورت کو نئے سرے سے شادی کا پیغام دیا اور اسے چاندی کا ایک رطل کے طور پر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ سند منقطع ہے ‘ کیونکہ ابراہیم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7836

Majma al-Zawaid #7836

وَعَنْ وَبْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ: آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَسَأَلَ عَنْهَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: إِنْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهُوَ إِيلَاءٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Wabarah reported from a man of his people: He made īlāʾ from his wife for ten days, then asked Ibn Masʿūd about it. He said, "When four months pass, it is īlāʾ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وبرہ ‘ اپنے خاندان کے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دس دن کے لئے ایلاء کیا انہوں نے اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : جب چار ماہ گزر جائیں ، تو وہ ایلاء ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

7837

Majma al-Zawaid #7837

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَدِمَ وَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَوَقَعَ بِأَهْلِهِ، فَلَقِيَ رُجَلًا فَذَكَّرَهُ يَمِينَهُ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ، فَأَحْلَفَهُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا عَلِمْتُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَحْلَفَهَا بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا عَلِمَتْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَخَطَبَهَا إِلَى نَفْسِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَ [وَبَرَةُ بْنُ] عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn al-Aswad reported: A cousin of his made īlāʾ from his wife for ten days, then went out. He returned after four months had passed and was intimate with his wife. He met a man who reminded him of his oath. He came to Ibn Masʿūd and asked him. He made him swear by Allah, Mighty and Majestic, that he had not known, then sent to his wife and made her swear by Allah, Mighty and Majestic, that she had not known. Then he commanded him to propose to her anew.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں : ان کے ایک چازاد نے اپنی بیوی سے دس دن کے لئے ایلاء کر لیا پھر وہ کہیں ۔ چلا گیا جب وہ واپس آیا تو اس دوران چار ماہ دس دن گزر چکے تھے اس نے اس دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی پھر اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی اس شخص نے اسے اس کی قسم یاد دلوائی ‘ تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے حلف لیا کہ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا پھر انہوں نے اس کی بیوی کو پیغام بھیجا اور اس سے بھی اللہ کے نام کا حلف لیا کہ اسے بھی اس بارے میں علم نہیں تھا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت کو نئے سرے سے شادی کا پیغام دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور وبرہ بن عبدالرحمن نامی شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اور لیث بن ابوسلیم نامی راوی مدلس ہے ۔

7838

Majma al-Zawaid #7838

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: آلَى النُّعْمَانُ مِنِ امْرَأَتِهِ، وَكَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَضَرَبَ فَخِذَهُ، وَقَالَ: إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَاعْتَرِفْ بِتَطْلِيقَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Qilābah said: Al-Nuʿmān made īlāʾ from his wife while sitting with Ibn Masʿūd. He struck his thigh and said, "When four months pass, acknowledge one divorce."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : نعمان نامی صاحب نے اپنی بیوی کے ساتھ ایلاء کر لیا وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ان کے زانوں پر ہاتھ مارا اور بولے : جب چار ماہ گزر جائیں گے ‘ تو تم ایک طلاق کا اعتراف کر لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ ابوقلابہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7839

Majma al-Zawaid #7839

وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالُوا: إِذَا مَضَتِ الْأَشْهُرُ الْأَرْبَعَةُ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ، وَهِيَ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا. وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ: تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْمُطَلَّقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَلَا ابْنَ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reported that ʿAlī, Ibn ʿAbbās, and Ibn Masʿūd رضي الله عنهم said: When the four months pass, it is one divorce, and she has the greater right to herself. ʿAlī and Ibn Masʿūd said: she observes the waiting period of a divorced woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں : جب چار ماہ گزر جائیں گے ‘ تو یہ طلاق دینا شمار ہو گا ‘ اور عورت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھے گی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ طلاق یافتہ عورت کی طرح عدت گزارے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ قتادہ نامی شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع بھی نہیں کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7840

Majma al-Zawaid #7840

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [النور: 4] قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ: أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لِأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ، وَأَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، وَلَكِنْ قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعِ قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ، لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُهَيِّجَهُ، وَلَا أَنْ أُحَرِّكَهُ، حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ؟! قَالَ: فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا، فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ، فَلَمْ يُهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ، فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً، فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا فَرَأَيْتُ بِعَيْنِي وَسَمِعْتُ بِأُذُنِي، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا جَاءَ بِهِ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ وَقَالُوا: قَدِ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا، فَقَالَ هِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ بِمَا جِئْتُ بِهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لِصَادِقٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ، إِذْ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْوَحْيُ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ، فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ الْوَحْيُ، فَنَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: 6] الْآيَةَ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالسِّيَاقُ لَهُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When "Those who accuse chaste women and then do not bring four witnesses—flog them eighty lashes, never accept their testimony, and they are the defiantly disobedient" [Al-Nūr: 4] was revealed, Saʿd ibn ʿUbādah, the chief of the Anṣār, said, "Was it revealed thus, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O company of Anṣār, do you not hear what your chief says?"** They said, "O Messenger of Allah, do not blame him, for he is a jealous man. By Allah, he never married any woman but a virgin, nor ever divorced any woman but that none of us dared marry her, from the intensity of his jealousy." Saʿd said, "By Allah, O Messenger of Allah, I know it is true and from Allah, but I marvel: if I found a vile man with my wife, I would have no right to rouse him or move him until I bring four witnesses—by Allah, I would not bring them until he had fulfilled his need?!" Only a short while passed before Hilāl ibn Umayyah came—one of the three whose repentance was accepted. He came from his land by night, found a man with his wife, saw with his eyes and heard with his ears, yet did not rouse him until morning. In the morning he came to the Messenger of Allah ﷺ, saying, "O Messenger of Allah, I came to my wife by night and found a man with her. I saw with my eyes and heard with my ears." The Messenger of Allah ﷺ disliked what he brought and it weighed heavily upon him. The Anṣār gathered, saying, "We are now tried by what Saʿd ibn ʿUbādah said—the Messenger of Allah ﷺ will now flog Hilāl ibn Umayyah and nullify his testimony among the Muslims." He said, "By Allah, I hope Allah will make a way out for me." Hilāl said, "O Messenger of Allah, I see what I brought weighs heavily upon you, but by Allah, I am truthful." While the Messenger of Allah ﷺ intended to order his flogging, revelation descended upon him—when it descended, they recognized it by the flushing of his skin—so they held back until the revelation ended. Then "Those who accuse their wives and have no witnesses but themselves" [Al-Nūr: 6] was revealed, and he mentioned the rest of the narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اور وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام عائد کرتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لے کے آتے ہیں ، تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا یہی لوگ فاسق ہیں “۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم سن رہے ہو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں ملامت نہ کریں یہ ایک غیور شخص ہیں اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمیشہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ ہی شادی کی اور جب بھی انہوں نے کسی خاتون کو طلاق دی ‘ تو ہم میں سے کوئی شخص یہ جرات نہیں کر سکا کہ اس خاتون کے ساتھ شادی کر لے ایسا ان کے مزاج کی شدت کی وجہ سے ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں یہ بات حق ہے ‘ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘ لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہو رہی ہے کہ اگر میں یہ صورت حال پاتا ہوں کوئی شخص میری بیوی کے قریب جا چکا ہو ‘ اور میں اسے ڈراؤں گا نہیں اور میں اسے حرکت نہیں دوں گا پہلے چار گواہ لے کے آؤں گا اللہ کی قسم ! جب تک میں چار گواہ لے کے آؤں گا اتنی دیر میں وہ اپنی ضرورت پوری کر چکا ہو گا راوی کہتے ہیں ‘ پھر تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد ہلال بن امیہ آئے جو ان تین افراد میں سے ایک تھے جن کی ‘ توبہ قبول ہوئی تھی وہ رات کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے ‘ تو انہوں نے اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پایا انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے یہ بات دیکھی اور دونوں کانوں کے ذریعے یہ بات سنی ‘ لیکن انہوں نے صبح ہونے تک اس شخص کو نہیں للکارا اگلے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! رات کے وقت میں اپنی بیوی کے پاس آیا تو میں نے اس کے پاس ایک شخص کو پایا میں نے یہ چیز اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھی اور اپنے کانوں کے ذریعے سنی نبی اکرم ﷺ کو اس کی دی ہوئی اطلاع ناگوار گزری اور آپ کے لئے یہ بات گرانی کا باعث ہوئی انصار اکٹھے ہوئے ‘ اور انہوں نے کہا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جو کہا تھا اس کے حوالے سے اب ہم آزمائش کا شکار ہو گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ ہلال بن امیہ کی پٹائی کروائیں گے ‘ اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو کالعدم قرار دیں گے حلال نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے اس سے نکلنے کی گنجائش بنا دے گا حلال نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا ہوں جو میں اطلاع لے کے آیا ہوں وہ آپ پر گراں گزری ہے ‘ لیکن اللہ کی قسم ! میں سچا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے یہ ارادہ کر لیا تھا ان کی پٹائی کرنے کا حکم دیں اسی دوران نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تھی ، تو آپ کی جلد کی رنگت کی تبدیلی کی وجہ سے لوگ اس کو پہچان لیتے تھے ‘ تو لوگ رک گئے ‘ یہاں تک کہ جب وحی ختم ہوئی ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی : ’’ وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں اور ان کے پاس گواہ کے طور پر صرف ان کا اپنا وجود ہوتا ہے ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ یہ سیاق ان کا نقل کردہ ہے ۔ امام احمد نے اختصار کے ساتھ ان ( صحابی ) کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ان کا مدار عباد بن منصور نامی راوی پر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7841

Majma al-Zawaid #7841

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا أَبَا بَكْرٍ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ مَعَ أُمِّ رُومَانَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا بِهِ؟ "" قَالَ: كُنْتُ فَاعِلًا بِهِ شَرًّا، ثُمَّ قَالَ: "" يَا عُمَرُ أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتَ رَجُلًا مَا كُنْتَ صَانِعًا؟ "" قَالَ: كُنْتُ وَاللَّهِ قَاتِلَهُ، قَالَ: "" فَأَنْتَ يَا سُهَيْلُ بْنَ بَيْضَاءَ؟ "" قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْأَبْعَدَ فَهُوَ خَبِيثٌ وَلَعَنَ اللَّهُ الْبُعْدَى فَهِيَ خَبِيثَةٌ، وَلَعَنَ اللَّهُ أَوَّلَ الثَّلَاثَةِ ذَكَرَهُ، فَقَالَ: "" يَا ابْنَ بَيْضَاءَ تَأَوَّلْتَ الْقُرْآنَ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: 6] إِلَى آخَرِ الْآيَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Abū Bakr, what would you do if you found a man with Umm Rūmān?"** He said, "I would do evil to him." Then he said: > **"O ʿUmar, what would you do if you found a man—what would you do?"** He said, "By Allah, I would kill him." He said: > **"And you, O Suhayl ibn Bayḍāʾ?"** He said, "May Allah curse the wretch—he is vile; may Allah curse the wretched woman—she is vile; and may Allah curse the first of the three who mentioned it." He said: > **"O son of Bayḍāʾ, you have interpreted the Qurʾān: 'Those who accuse their wives' to the end of the verse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ام رومان کے ساتھ کسی شخص کو پاتے ہو ‘ تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا میں اس کے ساتھ برا سلوک کروں گا پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ اگر تم کسی شخص کو پاتے ہو ‘ تو تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں اس شخص کو قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے سہیل بن بیضاء ! تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے عرض کہا اللہ تعالیٰ اس نالائق پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس نالائق عورت پر لعنت کرے کیونکہ وہ خبیث عورت ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ تینوں میں سے پہلے پر لعنت کرے جس نے اس کا ذکر کیا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن بیضاء ! تم نے قرآن کے اس حکم پر عمل کیا ہے : ’’ وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7842

Majma al-Zawaid #7842

«وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: 4] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، قَدْ قَضَى الْخَبِيثُ حَاجَتَهُ؟! قَالَ: فَمَا قَامَ حَتَّى جَاءَ ابْنُ عَمِّهِ أَخِي أَبِيهِ، وَامْرَأَتُهُ مَعَهُ، تَحْمِلُ صَبِيًّا وَهِيَ تَقُولُ: هُوَ مِنْكَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَيْسَ مِنِّي، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللَّعَّانِ، قَالَ: فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَأَوَّلُ مَنِ ابْتُلِيَ بِهِ». قُلْتُ: لِعَاصِمٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي اللِّعَانِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀṣim ibn ʿAdī رضي الله عنه reported: He was with the Messenger of Allah ﷺ when this verse was revealed: "then do not bring four witnesses" [Al-Nūr: 4]. I said, "O Messenger of Allah—until they bring four witnesses, the vile one will already have fulfilled his need?!" He had hardly risen before his cousin, his paternal uncle's son, came with his wife carrying an infant, she saying, "He is from you," and he saying, "He is not from me." Then the verse of liʿān was revealed. He said, "I am the first to speak of it and the first to be tried by it."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ پھر وہ چار گواہ نہیں لے کے آتے “۔ میں نے عرض کی : پہلے وہ چار گواہ لے کے آئے گا اس دوران ‘ خبیث شخص ، تو اپنی حاجت پوری کر لے گا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ صاحب اٹھے نہیں تھے ان کے چچازاد جو ان کے والد کے بھائی کے بیٹے تھے وہ آ گئے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھی جس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا وہ عورت یہ کہہ رہی تھی کہ یہ بچہ تمہارا ہے ‘ اور وہ صاحب یہ کہہ رہے تھے یہ بچہ میرا نہیں ہے ‘ تو لعان سے متعلق آیات نازل ہو گئیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس کے بارے میں کلام کرنے والا پہلا فرد تھا ‘ اور میں ہی اس حوالے سے سب سے پہلے آزمائش کا شکار ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی نے لعان کے بارے میں نقل کیا ہے ‘ لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7843

Majma al-Zawaid #7843

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعَجْلَانَ فَبَاتَ عِنْدَهَا لَيْلَةً، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَمْ يَجِدْهَا عَذْرَاءَ، فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا الْجَارِيَةَ، فَقَالَتْ: بَلَى كُنْتُ عَذْرَاءَ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: A man of the Anṣār married a woman of Balʿajlān. He spent the night with her; in the morning he found she was not a virgin. Their case was raised to the Prophet ﷺ, who summoned the girl. She said, "Indeed I was a virgin." So he commanded them both, and they performed liʿān, and he gave her the dowry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ’’ بالعجلان ‘‘ سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی اس نے رات اس عورت کے ساتھ گزاری اگلے دن صبح اس نے اس عورت کو پایا کہ وہ کنواری نہیں تھی ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کو بلوایا تو اس نے عرض کی : جی ہاں میں کنواری تھی پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا ان دونوں نے لعان کیا نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7844

Majma al-Zawaid #7844

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: خَوْلَةُ بِنْتُ عَاصِمٍ [وَهِيَ الْمُلَاعَنَةُ] الَّتِي فَرَّقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarānī said: Khawlah bint ʿĀṣim, the woman of liʿān, is the one between whom and her husband the Prophet ﷺ effected separation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ خولہ بنت عاصم لعان کرنے والی وہ خاتون تھیں نبی اکرم ﷺ نے جس کی اس کے شوہر سے علیحدگی کروا دی تھی ۔

7845

Majma al-Zawaid #7845

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ: إِنْ قَذَفَهَا زَوْجُهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ تَلَاعَنَا، وَإِنْ قَذَفَهَا وَقَدْ طَلَّقَهَا وَبَتَّهَا لَمْ يُلَاعِنْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj said: ʿAlī and Ibn Masʿūd رضي الله عنهما said, "If her husband accuses her and has divorced her with a divorce in which he retains the right of return, they perform liʿān. If he accused her after divorcing her irrevocably, he does not perform liʿān with her."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر عورت کا شوہر اس پر زنا کا الزام لگائے ‘ اور اس کو طلاق دیدے اور وہ ایسی طلاق ہو جس میں شوہر کو عورت کے ساتھ رجوع کا حق ہو ‘ تو پھر وہ دونوں میاں بیوی لعان کریں گے لیکن مرد نے عورت پر الزام عائد کیا ہو اور پھر اسے طلاق بتہ دیدی ہو ‘ تو پھر مرد عورت کے ساتھ لعان نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7846

Majma al-Zawaid #7846

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ الْمُتَلَاعِنَانِ أَبَدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَصَبَةَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ عَصَبَةُ أُمِّهِ وَأَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: The two who perform liʿān never reunite, ever.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لعان کرنے والے کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات گزر چکی ہے کہ لعان کرنے والی عورت کے بیٹے کا عصبہ وہی ہو گا ‘ جو اس کی ماں کا عصبہ ہو گا ‘ اور وہ عورت ہی اس بچے کی وارث ہو گی اور وہ بچہ اس عورت کا وارث ہو گا ۔

7847

Majma al-Zawaid #7847

عَنْ سَعْدِ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ يُحَنَّسَ وَصَفِيَّةَ كَانَا مِنَ الْخُمُسِ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَادَّعَاهُ الزَّانِي وَيُحَنَّسُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَدَفَعَهُمَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ "". وَجَلَدَهَا خَمْسِينَ خَمْسِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Maʿbad reported: Yuḥannas and Ṣafīyah were of the fifth. She bore a boy, claimed by both the adulterer and Yuḥannas. They disputed before ʿUthmān ibn ʿAffān, who referred them to ʿAlī ibn Abī Ṭālib. ʿAlī عليه السلام said, "I judge herein by the judgment of the Messenger of Allah ﷺ: > **"The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone."** And he flogged her fifty and fifty."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن معبد بیان کرتے ہیں : یحنس اور صفیہ یہ خمس میں سے تھے اس عورت نے بچے کو جنم دیا زنا کرنے والے ایک شخص نے اور یحنس نے اس بچے کے بارے میں دعوی کر دیا ان دونوں نے اپنا مقدمہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کے مطابق فیصلہ دوں گا ( اور وہ یہ ہے : ) ’’ بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ‘‘ پھر انہوں نے اسے پچاس کوڑے لگائے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔ امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7848

Majma al-Zawaid #7848

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ ruled the child for the bed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے : بچہ فراش والے کو ملے گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7849

Majma al-Zawaid #7849

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ الْحَارِثِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنان بن حارث ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7850

Majma al-Zawaid #7850

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِي «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَبِفِي الْعَاهِرِ الْحَجَرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan said: It reached me that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7851

Majma al-Zawaid #7851

«وَعَنِ ابْنَةِ زَمْعَةَ قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: "" أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ فَلَيْسَ بِأَخِيكِ وَلَهُ الْمِيرَاثُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَابِعِيهِ لَمْ يُسَمِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Zamʿah said: I came to the Prophet ﷺ and said, "My father died leaving his umm walad. We suspected her of a man, and she bore a child resembling the man we suspected her of." He said to her: > **"As for you, veil yourself from him, for he is not your brother—but he has inheritance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زمعہ کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے اپنی اُم ولد چھوڑی ہے ہم اس عورت کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں اس عورت کے کسی شخص کے ساتھ تعلقات ہیں اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس کا بچہ اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جس کے بارے میں ہمارا گمان تھا اس کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے کہا : تم اس لڑکے سے پردہ کرو وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ‘ البتہ اسے وارثت ملے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں تابعی کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7852

Majma al-Zawaid #7852

«وَعَنْ زَيْنَبَ الْأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ جَارِيَةً فَوَلَدَتْ غُلَامًا، وَإِنَّا كُنَّا نَتَّهِمُهَا؟ فَقَالَ: "" ائْتُونِي بِهِ "" فَلَمَّا أَتَوْهُ بِهِ نَظَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: "" إِنَّ الْمِيرَاثَ لَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zaynab al-Asadīyah said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, my father died leaving a slave girl who bore a boy, and we suspected her." He said: > **"Bring him to me."** When they brought him, he looked at him, then said to her: > **"Inheritance is his, but as for you, veil yourself from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ایک کنیز چھوڑی تھی جس نے ایک بچے کو جنم دیا ہم اس کنیز پر تہمت عائد کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ جب وہ لوگ اس بچے کو لے کے آئے ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس عورت سے فرمایا : اس بچے کو وراثت ملے گی لیکن تم اس سے پردہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد بن ابوشیبہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7853

Majma al-Zawaid #7853

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: ادَّعَى نَصْرُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ السُّلَمِيُّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَب‍َاحٍ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَقَالَ: مَوْلَايَ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَايَ، وَقَالَ نَصْرٌ: أَخِي أَوْصَانِي بِمَنْزِلِهِ قَالَ: فَطَالَتْ خُصُومَتُهُمْ، فَدَخَلُوا مَعَهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ - وَفِهْرٌ تَحْتَ رَأْسِهِ - فَادَّعَيَا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» "". قَالَ نَصْرٌ: فَأَيْنَ قَضَاؤُكَ هَذَا يَا مُعَاوِيَةُ فِي زِيَادٍ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ مُعَاوِيَةَ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ لَا يُجِيبُ نَصْرًا إِلَى مَا يَدَّعِي، فَقَالَ نَصْرٌ: أَبَا خَالِدٍ خُذْ مِثْلَ مَالِي وِرَاثَةً وَخُذْنِي أَخًا عِنْدَ الْهَزَاهِزِ شَاهِدَا أَبَا خَالِدٍ مَالِي ثَرَاءٌ وَمَنْصِبٌ سَبْيٌ وَأَعْرَاقٌ تَهُزُّكَ صَاعِدَا أَبَا خَالِدٍ لَا تَجْعَلَنَّ بَنَاتِنَا إِمَاءً لِمَخْزُومٍ وَكُنَّ مَوَاجِدَا أَبَا خَالِدٍ إِنْ كُنْتَ تَخْشَى ابْنَ خَالِدٍ فَلَمْ يَكُنِ الْحَجَّاجُ يَرْهَبُ خَالِدَا أَبَا خَالِدٍ لَا نَحْنُ نَارٌ وَلَا هُمُ جِنَانٌ تَرَى فِيهَا الْعُيُونَ رَوَاكِدَا رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Isḥāq said: Naṣr ibn al-Ḥajjāj ibn ʿIlāṭ al-Sulamī claimed ʿAbdullāh ibn Rabāḥ, freedman of Khālid ibn al-Walīd. ʿAbd al-Raḥmān ibn Khālid ibn al-Walīd rose, saying, "My freedman, born upon my master's bed." Naṣr said, "My brother enjoined me concerning his station." Their dispute lengthened, so they entered with him before Muʿāwiyah—with Fihr beneath his head—and both made their claims. Muʿāwiyah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone."** Naṣr said, "Then where is this judgment of yours, O Muʿāwiyah, concerning Ziyād?" Muʿāwiyah said, "The judgment of the Messenger of Allah ﷺ is better than the judgment of Muʿāwiyah." ʿAbdullāh ibn Rabāḥ would not concede to Naṣr's claim, so Naṣr spoke verses: "O Abā Khālid, take wealth like mine as inheritance, and take me as a brother, a witness in calamities. O Abā Khālid, my wealth is abundance and rank, captives and lineages that stir you onward. O Abā Khālid, do not make our daughters slaves to Makhzūm, though they be wealthy. O Abā Khālid, if you fear the son of Khālid, al-Ḥajjāj never feared Khālid. O Abā Khālid, neither are we fire nor they gardens in which you see still springs."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نصر بن حجاج بن علاط سلمی نے حضرت خالد بن ولید کے غلام عبداللہ بن رباح کے بارے میں دعوی کر دیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن اٹھے اور بولے : یہ میرا غلام ہے جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے نصر بن حجاج نے کہا : یہ میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی تھی راوی کہتے ہیں : جب ان دونوں کا جھگڑا زیادہ ہو گیا تو یہ اس کو ساتھ لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جن کے سر کے نیچے ایک پتھر موجود تھا ، اُن دونوں نے اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا ‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بچہ فراش والے کو ملتا ہے ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے ‘‘۔ اس پر نصر بن حجاج نے کہا : اے معاویہ ! پھر زیاد کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ کیوں نہیں دیا ؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول کا فیصلہ ‘ معاویہ کے فیصلے سے بہتر ہے عبداللہ بن رباح نے نسر بن حجاج کے دعوے کا کوئی جواب نہیں دیا تو نصر نے یہ اشعار کہے : ’’ اے ابوخالد ! میرے مال جتنا ( مال ) وراثت کے طور پر لے لو ‘ اور مجھے میرا بھائی دیدو ‘ جو آزمائشوں کے وقت گواہ ہے ‘ اے ابوخالد میرا مال عمدہ ہے ‘ اور میرا منصب بہترین ہے اور ایسی رگیں ہیں جو تمہیں آگے چل کر ہلاتی رہیں گی ‘ اے ابوخالد تم ہماری بیٹیوں کو مخزوم کی کنیزیں نہ بنوا دینا ‘ ورنہ وہ پریشان ( یا غصہ ) ہو جائیں گی ‘ اے ابوخالد ! اگر تم ابن خالد سے ڈرتے ہو ‘ تو حجاج نے خالد کو بھگایا نہیں ہے ‘ اے ابوخالد ! نہ تو ہم آگ ہیں اور نہ ہی وہ ( ایسے ) باغات ہیں ، جن میں ٹھہرے ہوئے چشمے نظر آتے ہوں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7854

Majma al-Zawaid #7854

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ: وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد سعدی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے داؤد بن شبیب کہتے ہیں : وہ نیک لوگوں میں سے تھے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7855

Majma al-Zawaid #7855

وَعَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، وَنَحْنُ نَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ: "" إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي، لَعَنَ اللَّهُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، الْوَلَدُ [لِصَاحِبِ] الْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، لَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ and Zayd ibn Arqam رضي الله عنهما said: We were with the Messenger of Allah ﷺ on the day of Ghadīr Khumm, shielding his head from the branches of the tree. He said: > **"Charity is not lawful for me nor for my household. May Allah curse whoever claims descent from other than his father, and may Allah curse whoever allies with other than his masters. The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone. There is no bequest for an heir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غدیر خم کے دن ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ہم آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں ہٹا رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک میرے لئے ‘ اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر بھی لعنت کرے جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی اور وارث کے لئے وصیت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7856

Majma al-Zawaid #7856

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥusayn ibn ʿAlī رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The child belongs to the bed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بچہ فراش والے کو ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7857

Majma al-Zawaid #7857

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ جَعَلَ لِابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ الْمِيرَاثَ لِأَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ زَمْعَةَ». قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ: He granted the son of the slave girl of Zamʿah inheritance, because he was born upon the bed of Zamʿah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو وراثت دی تھی کیونکہ وہ زمعہ کے فراش پر پیدا ہوا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7858

Majma al-Zawaid #7858

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه said: Among the judgments of the Messenger of Allah ﷺ is that the child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے فیصلے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔

7859

Majma al-Zawaid #7859

«وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: إِنِّي لَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، وَإِنَّ زَبَدَ نَاقَتِهِ لَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِي، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" أَدُّوا إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، أَوِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd رضي الله عنه said: I was before the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Greater Ḥajj, the foam of his she-camel falling upon my back. I heard him say: > **"Give every rightful one his right. The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone. Whoever allies with other than his masters, or claims descent from other than his father—upon him is the curse of Allah, the angels, and all people. Neither obligatory nor voluntary deed is accepted from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حج اکبر کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے موجود تھا آپ کی اونٹنی کا جھاگ میرے اوپر گر رہا تھا میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دو بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی جو شخص اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے یا اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعوی کرے اس پر اللہ تعالی فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جو معروف نہیں ہے ۔

7860

Majma al-Zawaid #7860

وَعَنْ وَائِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَلَيْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَهِكَ شَيْئًا مِنْ مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَنَاحٌ مَوْلَى الْوَلِيدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone. A woman may not dispose of anything of her wealth except with her husband's permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بچہ فراش والے کو ملے گا زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی عورت کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ کرے البتہ اپنے شوہر کی اجازت کے ساتھ وہ ایسا کر سکتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے جو ولید کا غلام ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7861

Majma al-Zawaid #7861

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي؟ قَالَ: "" أَبُوكَ حُذَافَةُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ""، قَالَ: لَوْ دَعَوْتَنِي إِلَى حَبَشِيٍّ لَاتَّبَعْتُهُ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: عَرَّضْتَنِي، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْتَرِيحَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāʾil reported that ʿAbdullāh ibn Ḥudhāfah said, "O Messenger of Allah, who is my father?" He said: > **"Your father is Ḥudhāfah. The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone."** He said, "Had you attributed me even to an Abyssinian, I would have followed him." His mother said, "You have exposed me." He said, "I wished to find rest."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا باپ حذافہ ہے بچہ فراش والے کو ملے گا ‘ اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی انہوں نے عرض کی : اگر آپ نے میرے نسب کی نسبت کسی حبشی شخص کی طرف کی ہوتی ‘ تو میں نے اس کے پیچھے چلے جانا تھا بعد میں ان کی والدہ نے کہا : تم نے مجھے نشانہ بنایا تھا انہوں نے کہا میں یہ چاہتا تھا کہ میں اطمینان حاصل کر لوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7862

Majma al-Zawaid #7862

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا، فَضَحَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever disowns his child in order to disgrace him in this world, Allah, Blessed and Exalted, will disgrace him on the Day of Resurrection before all witnesses—requital for requital."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اپنی اولاد کی نفی کر دے تاکہ اسے دنیا میں رسوائی کا شکار کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کی موجودگی میں اسے رسوا کرے گا قصاص کا بدلہ قصاص ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن احمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور امام ہیں ۔

7863

Majma al-Zawaid #7863

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ "" قِيلَ: مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مُتَبَرِّئٌ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا، وَمُتَبَرِّئٌ مِنْ وَلَدِهِ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: "" «وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» "". وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَالِحٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said: > **"Allah Almighty has servants to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, nor purify them, nor look at them."** It was said, "Who are they, O Messenger of Allah?" He said: > **"One who disowns his parents and turns away from them, one who disowns his child, and a man upon whom a people bestowed favor, yet he denied their favor and disowned them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "" بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا ‘ اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا ‘ اور ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے والدین سے لاتعلقی کا اظہار کر کے ان سے منہ موڑنے والا اپنی اولاد سے لاتعلقی کا اظہار کرنے والا اور وہ شخص جس پر کسی قوم نے انعام کیا ہو اور وہ ان کی نعمت کا انکار کرے اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہو گا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ‘ جسے امام احمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ۔