Majma al-Zawaid #7788
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: «كَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ وَبُويِعَ لِلْحَسَنِ بِالْخِلَافَةِ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لِيَهْنِكَ الْخِلَافَةُ، فَقَالَ لَهَا: أَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ بِقَتْلِ عَلِيٍّ، انْطَلِقِي فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَتَقَنَّعَتْ بِسَلَعٍ لَهَا، وَجَلَسَتْ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ وَقَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ مَا ذَهَبْتَ إِلَيْهِ، فَأَقَامَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ عَنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا عَلَيْهِ وَبِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلَافٍ فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ بِذَلِكَ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ. فَلَمَّا رَجَعَ الرَّسُولُ إِلَى الْحَسَنِ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ بَكَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ: "" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا مُبْهَمَةً، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "" لَرَاجَعْتُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقُوا.
EnglishUnverified translation
Suwayd ibn Ghafalah said: ʿĀʾishah bint Khalīfah al-Khathʿamīyah was with al-Ḥasan ibn ʿAlī. When ʿAlī was struck and allegiance was given to al-Ḥasan for the caliphate, he entered upon her. She said, "May the caliphate bring you joy." He said to her, "Do you show delight at the killing of ʿAlī? Go away, for you are divorced three times." She wrapped herself in her covering and sat in a corner of the house, saying, "By Allah, I did not mean what you took it to be." She remained until her waiting period ended, then she moved away from him. He sent to her the remainder of her dowry due from him, along with a provision of ten thousand. When the messenger brought that to her, she said, "A small provision from a beloved one who parts." When the messenger returned to al-Ḥasan and told him what she said, al-Ḥasan ibn ʿAlī wept and said, "Had I not heard my grandfather, the Messenger of Allah ﷺ—or heard my father narrating from my grandfather that he said: > **"When a man divorces his wife three times at the periods of purity, or divorces her with three unspecified pronouncements, she is not lawful for him until she marries another husband."** I would have taken her back."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ‘ اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لئے بیعت کر لی گئی اس کے بعد وہ اس خاتون کے پاس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے کہا : آپ کو خلافت کی مبارک ہو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا : کیا تم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالے سے شماتت ظاہر کر رہی ہو تم چلی جاؤ تمہیں تین طلاقیں ہیں ، تو اس خاتون نے چادر اوڑھی اور گھر کے کونے میں بیٹھ گئیں ‘ اس خاتون نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے وہ مراد نہیں لی تھی جس کی طرف آپ گئے ہیں پھر وہ عورت ٹھہری رہی یہاں تک کہ جب اس کی عدت ختم ہو گئی ‘ تو وہ ان کے گھر سے چلی گئیں اس خاتون کا جتنا مہر باقی تھا وہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف بھیجوایا اور ساز و سامان کے طور پر دس ہزار ( درہم یا دینار ) بھی بھجوائے ‘ جب قاصد اس خاتون کے پاس وہ چیزیں لے کے آیا تو اس خاتون نے کہا : ’’ جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں یہ تھوڑا سا ساز و سامان ہے ‘‘۔ جب قاصد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گیا اور خاتون کی بات کے بارے میں بتایا تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا اگر میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اگر میں نے اپنے والد کو میرے نانا کے حوالے سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص قروء کے وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدے یا تین مبہم طلاقیں دیدے ‘ تو وہ عورت اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کسی دوسرے کے ساتھ شادی ( کرنے کے بعد بیوہ یا طلاق یافتہ نہیں ہو جاتی ‘‘۔ ( امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ایسا نہ ہوتا ) تو میں نے اس عورت سے رجوع کر لینا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔