عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ، فَقَالَ: امْرَأَتِي طَلَّقْتُهَا، ثُمَّ رَاجَعْتُهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَمَّا إِنْ لَمْ يَحْمِلْنِي الَّذِي كَانَ مِنْكَ أَنْ أُحَدِّثَ الْأَمْرَ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ عُمَرُ: حَدِّثِي، فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي، ثُمَّ تَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ ثَلَاثِ حِيَضٍ، وَانْقَطَعَ عَنِّي الدَّمُ وَضَعْتُ غُسْلِي وَرَدَدْتُ بَابِي فَنَزَعْتُ ثِيَابِي فَقَرَعَ الْبَابَ، وَقَالَ: قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ فَتَرَكْتُ غُسْلِي وَلَبِسْتُ ثِيَابِي فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ فِيهَا يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَقُلْتُ: أَرَاهُ أَحَقَّ بِهَا مَا دُونَ أَنْ تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ، فَقَالَ عُمَرُ: نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh رضي الله عنه reported: He was with ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه when a man and his wife came to him. The man said, "I divorced my wife, then I took her back." The wife said, "Will you not allow me to relate the matter as it truly happened?" ʿUmar said, "Speak." She said, "He divorced me, then left me until the end of three menstrual cycles approached. My bleeding had stopped, I had laid out my washing water, closed my door, and removed my clothes. Then he knocked at the door and said, 'I have taken you back, I have taken you back.' So I abandoned my washing and put on my clothes." ʿUmar said, "What do you say concerning her, O son of the mother of ʿAbd?" I said, "I consider him to have the greater right to her, so long as prayer has not yet become lawful for her." ʿUmar said, "What an excellent view you have taken, and I hold the same."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ایک شخص اور اس کی بیوی ان کے پاس آئے اس شخص نے کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی پھر میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے اس عورت نے کہا : اگر آپ مجھے اجازت دیں ‘ تو میں آپ کو اصل صورت حال کے بارے میں بتاتی ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیان کرو اس عورت نے کہا : اس شخص نے مجھے طلاق دیدی پھر اس نے مجھے ایسے ہی چھوڑ دیا یہاں تک کہ تین حیضوں کا آخری حصہ آ گیا اور میرا ( تیسرے حیض کا ) خون آنا بند ہو گیا میں نے غسل کا پانی رکھ دیا دروازہ بند کر دیا اور اپنے کپڑے اتار لیے ‘ تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور یہ کہا : میں نے تم سے رجوع کر لیا ہے میں نے تم سے رجوع کر لیا ہے ‘ تو میں نے غسل کو ترک کر دیا اور میں نے کپڑے پہن لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن ام عبد ! تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو میں نے کہا : میرا خیال ہے کہ یہ مرد اس عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔ اس سے پہلے کے عورت کے لئے نماز پڑھنا حلال ہو ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری رائے اچھی ہے میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔