Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 12

Book of Marriage

Hadith 7737–7747

11 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7737

Majma al-Zawaid #7737

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqās رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade a man to come to his family by night after the ʿIshāʾ prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت عشاء کے بعد اپنی بیوی کے پاس جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ زہری نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7738

Majma al-Zawaid #7738

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنَ السَّفَرِ فَتَعَجَّلَ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ رَوَاحَةَ ..

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Rawāḥah رضي الله عنه returned from a journey in haste and found a lamp in his house, with something beside his wife. He seized his sword, but she said, "Keep away from me—so-and-so's wife is combing my hair." He went to the Prophet ﷺ and informed him, and the Prophet forbade a man to come to his family by night unannounced.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر سے واپس آئے ‘ اور اپنی بیوی کے پاس چلے گئے گھر میں چراغ موجود تھا ‘ اور ان کی بیوی کے ساتھ کوئی موجود تھا انہوں نے تلوار پکڑ لی ‘ تو ان کی بیوی نے کہا : آپ پیچھے رہیں یہ فلاں عورت ہے جو میری کنگھی کیا کرتی ہے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کر دیا کہ کوئی شخص ( طویل سفر سے واپسی پر ) اپنی بیوی کے پاس جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلمہ نامی راوی نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں کی ہے ۔

7739

Majma al-Zawaid #7739

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا "" يَعْنِي إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرٍ لَا يَأْتِي أَهْلَهُ إِلَّا نَهَارًا، قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَافِلًا مِنْ سَفَرٍ وَذَهَبَ رَجُلَانِ فَسَبَقَا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not come to women by night"** —meaning that when one of you returns from a journey, he should not come to his family except by day. The Messenger of Allah ﷺ then returned from a journey, but two men hastened ahead despite the statement of the Messenger of Allah ﷺ and came to their families—and each of them found a man with his wife.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رات کے وقت خواتین کے پاس نہ جاؤ ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی جب کوئی سفر سے آئے ‘ تو وہ صرف دن کے وقت اپنی بیوی کے پاس جائے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تھے دو آدمی نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بعد بھی اپنی بیویوں کے پاس چلے گئے ‘ تو ان میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ایسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7740

Majma al-Zawaid #7740

«عَنْ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: الْأَعْشَى وَاسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا: مُعَاذَةُ خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ، فَهَرَبَتِ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ، نَاشِزًا عَلَيْهِ فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قُمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْصَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحِرْمَازِ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ فَلَمَّا قَدِمَ لَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ، وَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ، وَإِنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَمِّ عِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا لِي، قَالَ: لَيْسَتْ عِنْدِي وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، قَالَ: وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاذَ بِهِ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ: يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ ... إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ. كَالذِّئْبَةِ الْعَلْسَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ ... خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ. فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ ... أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ. وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ وَمُؤْتَشَبْ ... وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [عِنْدَ ذَلِكَ]: "" وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ "". فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ [بِهِ]، وَإِنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ فَكَتَبَ لَهُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِلَى مُطَرِّفٍ امْرَأَةُ هَذَا مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ "" فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا: يَا مُعَاذَةُ هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكِ فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يُعَاقِبَنِي بِمَا صَنَعْتُ فَأَخَذَ لَهَا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ: لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي ... يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ. وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا ... غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ تَنَاجَوْا بِهَا بَعْدِي». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Naḍlah ibn Ṭarīf reported that a man of theirs called al-Aʿshā—whose name was ʿAbdullāh ibn al-Aʿwar—had a wife called Muʿādhah. He went out in Rajab to fetch provisions for his family from Hajar, and after him his wife fled in rebellion against him, seeking refuge with a man of theirs called Muṭarrif ibn Buhṣul. When the husband returned and did not find her in his house, he was told she had rebelled against him and sought refuge with Muṭarrif. He came to him and said, "O cousin, my wife Muʿādhah is with you—hand her over to me." He said, "She is not with me—and even if she were with me, I would not hand her over to you." Muṭarrif was mightier than he, so the husband went to the Prophet ﷺ, sought refuge with him, and recited verses complaining of her sharp tongue and flight: "O master of men and judge of the Arabs—to you I complain of a considerable sharpness, like the dusky wolf in the shade of the thicket. I went out seeking food for her in Rajab, but she left me behind in strife and fled. She broke the covenant and turned her back, casting me among tangled thickets—and they are the worst conquerors for the conqueror." The Prophet ﷺ repeated at that: > **"And they are the worst conquerors for the conqueror."** He complained to him of his wife and what she had done, and that she was with Muṭarrif ibn Buhṣul. So the Prophet ﷺ wrote for him to Muṭarrif: > **"To Muṭarrif: the wife of this man, Muʿādhah—hand her over to him."** The letter of the Prophet ﷺ reached Muṭarrif and was read to him, so he said to her, "O Muʿādhah, this is the letter of the Prophet ﷺ concerning you, and I shall hand you over to him." She said, "Take for me his covenant, pledge, and the protection of the Prophet ﷺ that he will not punish me for what I did." So he took that pledge for her from him, and Muṭarrif handed her over to him. Then the husband recited: "By your life, my love for Muʿādhah is not such that slanderers or the length of time can change—nor the evil she brought when the corrupt men lured her away in my absence."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نضلہ بن طریف بیان کرتے ہیں : ان میں سے ایک شخص کا نام اعشی تھا اس کا نام عبداللہ بن اعور تھا اس کی ایک بیوی تھی جس کا نام معاذہ تھا وہ شخص رجب کے مہینے میں حجر سے اپنے اہل خانہ کے لئے سامان لانے کے لئے نکلا اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی بھاگ گئی وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے بھاگ گئی تھی اس نے ان لوگوں میں سے ایک شخص کی پناہ لے لی جس کا نام مطرف بن بہصل بن کعب بن قمیشع بن دلف بن اہصم بن عبدالله بن حرماز تھا تو اس شخص نے اسے اپنی پشت کے پیچھے کر لیا جب اعشی واپس آیا اور اس نے اپنی عورت کو اس گھر میں نہیں پایا اور اسے یہ بات پتہ چلی کہ اس عورت نے اس کی نافرمانی کی ہے ‘ اور مطرف بن بہصل کی پناہ لی ہے ‘ تو وہ شخص مطرف کے پاس آیا اور بولا : میری بیوی معاذہ تمہارے پاس ہے تم اسے میرے حوالے کر دو اس نے کہا میرے پاس نہیں ہے اگر میرے پاس ہوتی بھی ‘ تو میں نے اسے تمہارے حوالے نہیں کرنا تھا راوی کہتے ہیں : مطرف اس کے مقابلے میں زیادہ صاحب حیثیت تھا وہ شخص وہاں سے نکلا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آپ کی پناہ مانگی اور یہ اشعار پڑھے : ’’ اے لوگوں کے سردار ‘ اور عربوں کے آقا ‘ میں آپ کے سامنے ایک زیادتی ( یا اپنی بیوی کی ) شکایت کرنا چاہتا ہوں ‘ جو اپنی کچھار کے سائے میں موجود تاریک رات جیسی ‘ بھیڑیے کی مادہ کی طرح ہے ‘ میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ‘ تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ‘ اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی ‘ اور اس نے مجھے اس صورتحال کا شکار کر دیا جس طرح ’’ عیص ‘‘ نامی درخت ہوتا ہے جس کے پتے اتر جاتے ہیں ‘ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ‘‘۔ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : ( یعنی یہ الفاظ دہرائے : ) ’’ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے ‘ غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ‘‘۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس نے بیوی کے طرز عمل کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ ان میں سے ایک شخص کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے لئے مطرف کے نام ایک خط لکھا کہ اس شخص کی بیوی معاذہ ہے تم اس عورت کو اس کے حوالے کر دو اس شخص کے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا وہ اس شخص کے سامنے پڑھا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا : اے معاذہ ! یہ نبی اکرم ﷺ کا مکتوب تمہارے بارے میں آ گیا ہے اب میں تمہیں اس شخص کے حوالے کر دوں گا اس عورت نے کہا پھر تم اس شخص سے عہد اور میثاق لینا اور نبی اکرم ﷺ کا ذمہ لینا کہ وہ میرے اس عمل پر مجھے کوئی سزا نہیں دے گا اس شخص نے اس عورت کے لئے اس بارے میں عہد لیا اور پھر مطرف نے اس عورت کو اس شخص کے حوالے کر دیا تو اس شخص نے یہ اشعار پڑھے : ’’ آپ کی زندگی کی قسم ہے معاذہ کے ساتھ میری محبت ایسی نہیں ہے ‘ کہ کوئی شخص یا زمانے کا گزرنا ‘ یا جو برائی اس نے کی ہے وہ اس ( محبت ) کو ختم کر دے ‘ جبکہ بھٹکے ہوئے لوگوں نے ‘ میرے بعد اس کو سرگوشی میں بات کر کے بہکا دیا تھا ‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7741

Majma al-Zawaid #7741

«وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ: يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ ... إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبِ. غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ... فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ. أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ... وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ. قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [عِنْدَ ذَلِكَ]: "" وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aʿshā al-Māzinī said: I came to the Prophet ﷺ and recited to him: "O king of men and judge of the Arabs—I have met a considerable sharpness. I went out early seeking food for her in Rajab, but she left me behind in strife and fled. She broke the covenant and turned her back—and they are the worst conquerors for the conqueror." The Prophet ﷺ kept repeating at that: > **"And they are the worst conquerors for the conqueror."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ’’ اے لوگوں کے سردار ‘ اور عربوں کے آقا ‘ میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ‘ میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ‘ تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ‘ اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی ‘‘ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے یہ کہنا شروع کیا ‘ ( یعنی یہ الفاظ ‘ دہرائے : ) ’’ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے ‘ غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ‘‘۔ یہ روایت احمد بن عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7742

Majma al-Zawaid #7742

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ وَمَنْ خَبَّبَ عَلَى امْرِئٍ زَوْجَتَهُ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنِ الْحَلِفِ بِالْأَمَانَةِ فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْوَلِيدَ بْنَ ثَعْلَبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"He is not from us who swears by trust, and whoever corrupts a wife against her husband or a slave against his master is not from us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کے نام کا حلف اٹھاتا ہے ‘ اور جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے یا کسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف کر دیتا ہے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہو سکتا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف امانت کے نام پر حلف اٹھانے کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ولید بن ثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

7743

Majma al-Zawaid #7743

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مُطَرِّفٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"He is not from us who corrupts a woman against her husband, and he is not from us who corrupts a slave against his master."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف کر دے اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو کسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطرف ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7744

Majma al-Zawaid #7744

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ وَشَرِبَ فِي الْفِضَّةِ لَيْسَ مِنَّا وَمَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى مَوَالِيهِ فَلَيْسَ مِنَّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever wears silk and drinks from silver is not from us—and whoever corrupts a woman against her husband or a slave against his masters is not from us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ریشم پہنتا ہے ‘ اور چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف کر دے یا غلام کو اس کے آقاؤں کے خلاف کر دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ رزی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

7745

Majma al-Zawaid #7745

عَنْ عَلِيٍّ «أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا - قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: تَشْكُوهُ - قَالَ: "" قَوْلِي لَهُ قَدْ أَجَارَنِي "" قَالَ عَلِيٌّ: فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ، فَقَالَتْ: مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا، فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا، فَقَالَ: "" قَوْلِي لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَجَارَنِي "" فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ: مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ أَثِمَ بِي، مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that the wife of al-Walīd ibn ʿUqbah came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, al-Walīd beats her"—complaining of him. He said: > **"Tell him: he has granted me protection."** ʿAlī said: she stayed away only a short while, then returned and said, "He has only beaten me more." So he took a fringe of his garment and handed it to her, saying: > **"Tell him: the Messenger of Allah has granted me protection."** She stayed away only a short while, then returned and said, "He has only beaten me more." So he raised his hands and said: > **"O Allah, deal with al-Walīd—he has sinned against me."** —twice.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ کی بیوی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ولید نے اس کی پٹائی کی ہے نصر بن علی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس عورت نے نبی اکرم ﷺ سے شکایت کی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس سے جا کے کہو کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے پناہ دیدی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ عورت پھر واپس آ گئی اور بولی اس نے میری مزید پٹائی کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے کپڑے کا ٹکڑا لیا اور فرمایا تم اسے یہ کہہ دو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دیدی ہے تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ عورت واپس آئی اور بولی اس نے مزید میری پٹائی کی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : اے اللہ ! تو ولید کی گرفت کر اس نے میری نافرمانی کی ہے یہ بات آپ نے دو مرتبہ فرمائی ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد ‘ امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7746

Majma al-Zawaid #7746

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رِجَالًا شَكَوُا النِّسَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُمْ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مِنْهُنَّ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، قَالَتْ: مَا لَقِيَ نِسَاءُ الْمُسْلِمِينَ!! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اضْرِبُوهُنَّ وَلَنْ يَضْرِبَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - خِيَارُكُمْ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that some men complained of their wives to the Messenger of Allah ﷺ, so he permitted them to strike them. That night many women gathered, complaining. She said: what Muslim women have met! The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Strike them—but the best of you will not strike."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیویوں کی شکایت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دیدی اس رات بہت سی خواتین ( نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے پاس ) آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے وہ بات بتائی کہ جس کا انہیں سامنا کرنا پڑا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کی پٹائی کرو لیکن ( راوی کو شک ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے بہترین لوگ پٹائی نہیں کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن فضل ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7747

Majma al-Zawaid #7747

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلْتُ دَارَ طَلْحَةَ، وَهُوَ مُغْلِقٌ الْبَابَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهُوَ يَضْرِبُهَا وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَنَادَيْتُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ: مَا تُرِيدُ إِلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ تَضْرِبُهَا؟ فَنَادَتْنِي مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَتْ لِي: تَقُولُ الْعَجُوزُ عَجَّزَ اللَّهُ رُكَبَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَوَّاتِ بْنِ شُعْبَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him), he said: I went into the house of Talhah (may Allah be pleased with him), and he had locked the door upon Umm Sulaym (may Allah be pleased with her) — and she was the mother of Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) — while he was striking her. So I called out from behind the door: > **"What do you want with this old woman that you keep striking her?"** Then she called out to me from behind the door and said to me: > **"You say 'the old woman'? May Allah make your knees feeble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا اس کا دروازہ بند تھا اندر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا موجود تھیں اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ان کی پٹائی کر رہے تھے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دروازے کے پیچھے سے پکار کر کہا آپ اس بوڑھی خاتون کی کیوں پٹائی کر رہے ہیں ، تو دروازے کے دوسری طرف سے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پکار کر مجھے کہا : تم نے بوڑھی کہا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے گھٹنوں کو عاجز کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خوات بن شعبہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔