Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 11

Book of Marriage

Hadith 7697–7736

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7697

Majma al-Zawaid #7697

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ لِلْبِكْرِ سَبْعًا وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"The virgin has seven days, and the previously married woman has three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کنواری کے لئے سات دن ہوں گے ‘ اور ثیبہ کے لئے تین دن ہوں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7698

Majma al-Zawaid #7698

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَصَابَ عَائِشَةَ الْقَرْعَةُ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that whenever the Messenger of Allah ﷺ intended a journey, he would cast lots among his wives—and the lot fell to ʿĀʾishah رضي الله عنها in the campaign of Banū al-Muṣṭaliq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تھے ‘ تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام کا قرعہ نکل آیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7699

Majma al-Zawaid #7699

وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ أَنَّهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي الْبَابِ قَبْلَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Sawdah bint Zamʿah رضي الله عنها gave her allotted day to ʿĀʾishah رضي الله عنها.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اپنا مخصوص دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس سے پہلے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہے ۔

7700

Majma al-Zawaid #7700

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَالَةُ وَالِدَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The maternal aunt is a mother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خالہ ، والدہ ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7701

Majma al-Zawaid #7701

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي؟ قَالَ: "" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that a woman came to the Prophet ﷺ and said, "O Messenger of Allah, this son of mine—my womb was a vessel for him, my lap a shelter for him, and my breast a drink for him—yet his father claims he will take him from me." He said: > **"You have more right to him so long as you do not remarry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا یہ بیٹا میرا پیٹ اس کے لئے حفاظت کی جگہ تھی میری گود اس کے لئے آرام کی جگہ تھی میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا باعث تھی ‘ اور اب اس کا باپ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے مجھ سے جدا کر دے گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کی زیادہ حق دار ہو جب تک تم ( دوسری ) شادی نہیں کرتی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7702

Majma al-Zawaid #7702

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ: ابْنَةُ عَمِّي، وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرُ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدٍ: "" أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا "" وَقَالَ لِعَلِيٍّ: "" أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي "" وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: "" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When the Messenger of Allah ﷺ left Makkah, ʿAlī brought out the daughter of Ḥamzah رضي الله عنهم. ʿAlī, Jaʿfar, and Zayd disputed over her before the Messenger of Allah ﷺ. ʿAlī said, "My uncle's daughter, and I brought her out." Jaʿfar said, "My uncle's daughter, and her maternal aunt is with me." Zayd said, "My brother's daughter"—for Zayd had been made the brother of Ḥamzah by the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said to Zayd: > **"You are my freedman and hers."** And he said to ʿAlī: > **"You are my brother and my companion."** And he said to Jaʿfar: > **"You resemble me in appearance and character—and she goes to her maternal aunt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے کے آئے اس بچی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ‘ اور میں اسے لے کے آیا ہوں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ‘ اور اس کی خالہ میری بیوی ہے حضرت زید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے بنے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے اور اس لڑکی کے ساتھ نسبت والاء رکھتے ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے بھائی اور میرے ساتھی ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق میں میرے ساتھ مشابہت رکھتے ہو یہ بچی اس کی خالہ کو ملے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

7703

Majma al-Zawaid #7703

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَعُونَةَ تَأْتِي مِنَ اللَّهِ عَلَى قَدْرِ الْمَئُونَةِ، وَإِنَّ الصَّبْرَ يَأْتِي مِنَ اللَّهِ عَلَى قَدْرِ الْبَلَاءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ طَارِقُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعْ عَلَى حَدِيثِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Help comes from Allah according to the burden of need, and patience comes from Allah according to the measure of affliction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ پریشانی کے حساب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد آتی ہے ‘ اور آزمائش کی مقدار کے حساب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر آتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طارق بن عمار ہے ۔ امام بخاری کہتے ہیں : اس کی حدیث کی متابعت نہیں کی گئی اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7704

Majma al-Zawaid #7704

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى عَلَيْهِ فِي السُّوقِ، وَهُوَ يَسُومُ بِمِرْطٍ قَالَ: مَا هَذَا يَا عَمْرُو؟ قَالَ: مِرْطٌ اشْتَرَيْتُهُ فَأَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَأَنْتَ إِذًا، ثُمَّ أَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا عَمْرُو مَا صَنَعَ الْمِرْطُ؟ قَالَ: تَصَدَّقْتُ بِهِ، قَالَ: عَلَى مَنْ؟ قَالَ: عَلَى سَخِيلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ قَالَ: أَلَيْسَ زَعَمْتَ أَنَّكَ تَصَدَّقْتَ بِهِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ "". قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو: يَا عُمَرُ لَا تَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَوَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى نَأْتِيَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ: يَا عَمْرُو لَا تَكْذِبْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ عَمْرٌو: أُنْشِدُكَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ لَكُمْ صَدَقَةٌ؟ "" فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيْنَ كُنْتَ عَنْ هَذَا؟ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرَوَى لَهُ أَحْمَدُ: "" مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ». وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Umayyah رضي الله عنه reported that ʿUmar met him in the market while he was bargaining for a cloak, and asked, "What is this, O ʿAmr?" He said, "A cloak I bought to give in charity." Later ʿUmar asked him what he had done with the cloak, and he said he had given it in charity to Sukhaylah bint ʿUbaydah. ʿUmar questioned him, so ʿAmr said he had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whatever you give them of anything, it is charity for you."** ʿUmar refused to part from him until they came to ʿĀʾishah رضي الله عنها, the Mother of the Believers. ʿAmr adjured her by Allah whether she had heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whatever you give them, it is charity for you?"** She said, "O Allah, yes! O Allah, yes!" So ʿUmar said, "Where was I from this? Bargaining in the markets distracted me."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بازار میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک چادر کے بارے میں بھاؤ تاؤ کر رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے عمرو ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ ایک چادر ہے ‘ جسے میں نے خریدا ہے ‘ اور میں اسے صدقہ کروں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم ایسا کر لینا پھر وہ بعد میں ان کے پاس آئے ‘ اور دریافت کیا : اے عمرو ! اس چادر کا کیا بنا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے اسے صدقہ کر دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کس کو ؟ انہوں نے جواب دیا : ( اپنی بیوی ) سخیلہ بنت عبیدہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ‘ تو اسے صدقہ کرو گے ‘ تو حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ان خواتین ( یعنی بیویوں ) کو تم جو بھی چیز دیتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہو گا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمرو ! اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ‘ تو حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہوؤں گا ‘ جب تک ہم اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نہیں جاتے ‘ انہوں نے کہا : اے عمرو ! تم اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ‘ ان لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ ان خواتین ( یعنی اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیتے ہو ‘ وہ تمہارے لئے صدقہ ہوتا ہے ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اے اللہ ! جی ہاں ! اے اللہ ! جی ہاں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے آپ کو مخاطب کر کے ) کہا : میں اس کے بارے میں کہاں نا واقف تھا ؟ بازار کے بھاؤ تاؤ نے مجھے غافل رکھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ آدمی اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہوتی ہے “۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7705

Majma al-Zawaid #7705

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - بِمِرْطٍ فَاسْتَغَلَّاهُ، قَالَ: فَمَرَّ بِهِ عَلَى عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ فَاشْتَرَاهُ فَكَسَاهُ امْرَأَتَهُ سُخَيْلَةَ بِنْتَ عُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: فَمَرَّ بِهِ عُثْمَانُ - أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - فَقَالَ: مَا فَعَلَ الْمِرْطُ الَّذِي ابْتَعْتَ؟ قَالَ عَمْرٌو: تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى سُخَيْلَةَ بِنْتِ عُبَيْدَةَ فَقَالَ: "" إِنَّ كُلَّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ صَدَقَةٌ "" قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ذَاكَ، فَذَكَرَ مَا قَالَ عَمْرٌو لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" صَدَقَ عَمْرٌو كُلُّ مَا صَنَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِمْ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Umayyah رضي الله عنه said: ʿUthmān ibn ʿAffān—or ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf—passed by a cloak and deemed it costly. Then he passed it by ʿAmr ibn Umayyah, who bought it and clothed his wife Sukhaylah bint ʿUbaydah with it. Later he was asked what became of the cloak, and he said he had given it in charity to Sukhaylah bint ʿUbaydah. It was said to him: > **"Everything you do for your family is charity."** ʿAmr said he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that, and when it was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ, he said: > **"ʿAmr has spoken the truth. Everything you do for your family is charity upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( یہ شک بعد والے راوی کو ہے ) کا گزر ایک چادر والے شخص کے پاس سے ہوا انہیں وہ چادر مہنگی لگی پھر حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو انہوں نے وہ چادر خرید لی اور انہوں نے وہ چادر اپنی بیوی سخیلہ بنت عبیدہ بن حارث بن مطلب کو پہننے کے لئے دیدی بعد میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا حضرت عبدالرحمن کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : تم نے جو چادر خریدی تھی اس کا کیا بنا حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے وہ سخیلہ بنت عبیدہ ( یعنی اپنی بیوی ) کو صدقہ کر دی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتے ہو وہ صدقہ ہوتا ہے حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ ان صاحب نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا جو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمرو نے ٹھیک بات کہی تھی تم اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ ( بھی بھلائی ) کرو گے وہ ان پر صدقہ ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

7706

Majma al-Zawaid #7706

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْعَبْدِ نَفَقَتُهُ عَلَى أَهْلِهِ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The first thing placed in the servant's scale is his spending upon his family."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندے کے میزان میں جو چیز سب سے پہلے رکھی جائے گی وہ اس کا اپنے اہل خانہ پر کیا ہوا خرچ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7707

Majma al-Zawaid #7707

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ "" قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ، وَهَذَا مِنْهُ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَاخِرِ الزَّكَاةِ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْأَهْلِ وَالْوَلَدِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿIrbāḍ ibn Sāriyah رضي الله عنه said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"When a man gives his wife water to drink, he is rewarded."** So he went to her, gave her water to drink, and told her what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے ‘ تو اسے اس کا بھی اجر ملے گا ‘‘ راوی کہتے ہیں : میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور میں نے اسے پانی پلایا اور اسے وہ بات بیان کی جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی ۔ یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور یہ روایت ان میں سے ایک ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الزکوۃ کے آخر میں اہل خانہ اور اولاد اور دیگر پر خرچ کرنے سے متعلق روایات گزر چکی ہیں ۔

7708

Majma al-Zawaid #7708

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُتْبَةَ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It suffices a man as sin that he neglects those he sustains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی کے گناہگار ہونے کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کا خرچ اس ( آدمی ) کے ذمہ ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی موسیٰ بن عتبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اسماعیل نے اہل حجاز سے ضعیف روایات نقل کی ہیں ۔

7709

Majma al-Zawaid #7709

«وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيَّ جَلْدَةَ وَنَشَاطَةَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى وَلَدِهِ صِغَارًا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْنِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ يَعُفُّهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى رِيَاءً وَمُفَاخَرَةً فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjrah رضي الله عنه said: The Prophet ﷺ passed by me, and the Companions of the Prophet ﷺ noticed vigor and energy in me, so they said, "O Messenger of Allah, if only this were in the path of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"If he went out striving for his small children, then he is in the path of Allah. If he went out striving for his two aged parents, then he is in the path of Allah. If he went out striving for himself to keep himself chaste, then he is in the path of Allah. But if he went out striving for show and boasting, then he is in the path of Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر میرے پاس سے ہوا نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے میرے جسم کی مضبوطی اور چاک و چوبند ہونا دیکھا تو یہ کہا : یا رسول اللہ ! کاش یہ اللہ کی راہ میں ہوتا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ اپنے کمسن بچوں کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے ‘ تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اگر یہ اپنے بوڑھے عمر رسیدہ ماں باپ کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے ، تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اگر یہ اپنی ذات کے لئے کمانے کے لئے نکلا ہے تاکہ یہ اپنے آپ کو مانگنے سے بچا کے رکھے ‘ تو یہ اللہ کی راہ میں ہے ‘ اور اگر یہ ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لئے نکلا ہے ‘ تو پھر یہ شیطان کی راہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7710

Majma al-Zawaid #7710

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «السَّاعِي عَلَى وَالِدَيْهِ لِيَكُفَّهُمَا أَوْ يُغْنِيَهُمَا عَنِ النَّاسِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالسَّاعِي عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا أَوْ يَكُفَّهَا عَنِ النَّاسِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالسَّاعِي مُكَاثَرَةً فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ سَيِّدٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ [وَكَذَلِكَ السَّعْيُ عَنِ الْأَوْلَادِ وَالْإِخْوَةِ].

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The one who strives for his parents to suffice them or free them of need from people is in the path of Allah. The one who strives for himself to enrich himself or free himself of need from people is in the path of Allah. And the one who strives for rivalry is in the path of Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے ماں باپ کے لئے کمانے والا ‘ تاکہ انہیں بچا کے رکھے یا انہیں لوگوں سے بے نیاز رکھے وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے اپنی ذات کے لئے کمانے والا تاکہ اپنے آپ کو ( لوگوں سے ) بے نیاز رکھے یا لوگوں سے ( مانگنے سے ) بچا کے رکھے وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے ‘ اور کثرت کے لئے کمانے والا شیطان کی راہ میں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن سید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ‘ جس میں یہ مذکور ہے کہ اولاد بہن بھائیوں کے لئے کمانے والا بھی اسی طرح ہے ۔

7711

Majma al-Zawaid #7711

«وَعَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبِي عَمْرٍو، وَكَانَتْ تَحْتَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ فَطَلَّقَهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَا نَفَقَةَ لَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Ḥamīd Abū ʿAmr, under whom was Fāṭimah bint Qays, divorced her. She came to the Prophet ﷺ, and he said: > **"She has no maintenance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالحمید ابوعمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں ان صاحب نے اس خاتون کو طلاق دیدی وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے خرچ نہیں ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد بن عبداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ( اور دوسرے راویوں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے ۔

7712

Majma al-Zawaid #7712

وَعَنْ عَمْرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا: لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr and Ibn Masʿūd رضي الله عنهما said that the woman divorced three times is entitled to lodging and maintenance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں ‘ اسے ( سابقہ شوہر کی طرف سے ) رہائش اور خرچ ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند منقطع ہے ۔

7713

Majma al-Zawaid #7713

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْحَامِلِ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا؟ فَقَالَ: كُنَّا نُنْفِقُ عَلَيْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما was asked about the pregnant woman whose husband has died, and he said: we used to spend upon her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے حاملہ اور بیوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہم اسے خرچ دیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7714

Majma al-Zawaid #7714

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَا نَفَقَةَ لَكِ، وَلَا سُكْنَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that a man divorced his wife, and she came to the Prophet ﷺ, who said: > **"You have neither maintenance nor lodging."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی وہ عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں خرچ اور رہائش نہیں ملے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7715

Majma al-Zawaid #7715

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نَزَلْتَ عَلَى فُلَانَةَ وَأَغْلَقْتَ عَلَيْكَ بَابَهَا؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَكَرِهَ ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا: "" أَيْنَ نَزَلْتَ؟ "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that a man arrived from a journey, and the Prophet ﷺ said to him: > **"Did you stay with so-and-so woman and lock her door upon yourself?"** He said, "Yes." The Prophet ﷺ disapproved of that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سفر سے آیا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم فلاں خاتون کے ہاں ٹھہرے تھے اور تم نے دروازہ بند کر دیا تھا اس نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات کو ناپسند کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے دریافت کیا : تم نے کہاں پڑاؤ کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7716

Majma al-Zawaid #7716

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ إِلَّا وَعِنْدَهَا ذُو مَحْرَمٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No man may enter upon a woman except with a maḥram of hers present."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص کسی ( اجنبی اکیلی ) عورت کے پاس نہ جائے البتہ اگر اس عورت کے پاس اس کا محرم ہو ‘ تو حکم مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7717

Majma al-Zawaid #7717

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِيَّاكَ وَالْخَلْوَةَ بِالنِّسَاءِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَلَا رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا دَخَلَ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُمَا وَلَأَنْ يَزْحَمَ رَجُلٌ خِنْزِيرًا مُتَلَطِّخًا بِطِينٍ أَوْ حَمْأَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَزْحَمَ مَنْكِبُهُ مَنْكِبَ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Beware of being alone with women. By the One in whose Hand is my soul, no man is alone with a woman but that Satan enters between them—and for a man to crowd against a pig smeared with mud and filth is better for him than for his shoulder to press against the shoulder of a woman who is not lawful to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( نامحرم ) خواتین کے پاس خلوت میں جانے سے بچو اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ جب کوئی شخص ( کسی نامحرم ) عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے ‘ تو شیطان ان دونوں کے درمیان داخل ہوتا ہے ‘ اور آدمی ایسے خنزیر کے ساتھ لگ جائے کہ جو مٹی یا کیچڑ میں لت پت ہو ‘ یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کا کندھا کسی ایسی عورت کے کندھے سے چھو جائے جو اس کے لئے حلال نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7718

Majma al-Zawaid #7718

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"For an iron needle to be thrust into the head of one of you is better for him than to touch a woman who is not lawful to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کے سر میں لوہے کی سوئی چھبو دی جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھو لے جو اس کے لئے حلال نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7719

Majma al-Zawaid #7719

«عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ احْتَلَمْتُ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" لَا تَدْخُلْ عَلَى النِّسَاءِ "" فَمَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زُفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said: On the morning after I first experienced a wet dream, I entered upon the Prophet ﷺ and informed him, and he said: > **"Do not enter upon women."** No day weighed upon me more heavily than that one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ صبح آئی جب مجھے احتلام ہوا تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : اب تم خواتین پر داخل نہیں ہو گے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) مجھ پر اس دن سے زیادہ شدید دن کوئی نہیں آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زفر بن سلیمان ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اس میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7720

Majma al-Zawaid #7720

وَعَنْ سَعِيدِ ابْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ فَاطِمَةُ تَكْشِفُ رَأْسَهَا إِذَا دَخَلَ الْغُلَامُ فَإِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ غَطَّتْهُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِثٍ الْبَكْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنه said that after the Messenger of Allah ﷺ passed away, Fāṭimah would uncover her head when a young boy entered, but cover it when a grown man entered.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو اگر کوئی بچہ گھر میں آتا تھا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سر پر کپڑا نہ بھی ہو ( تو خیال نہیں کرتی تھیں ) لیکن اگر کوئی مرد آتا تھا تو وہ سر کو ڈھانپ لیتی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7721

Majma al-Zawaid #7721

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْعَاقُّ، وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخُبْثَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three have been forbidden Paradise by Allah: the habitual wine-drinker, the disobedient to parents, and the cuckold who approves filth in his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے باقاعدگی سے شراب پینے والا ( والدین کا ) نافرمان اور دیوث جو اپنی بیوی میں خباثت کو برقرار رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7722

Majma al-Zawaid #7722

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ أَبَدًا: الدَّيُّوثُ وَالرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا الْمُدْمِنُ الْخَمْرَ، فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الدَّيُّوثُ؟ قَالَ: "" الَّذِي لَا يُبَالِي مَنْ دَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ "" قُلْنَا: فَمَا الرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ؟ قَالَ: "" الَّتِي تَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسَاتِيرُ وَلَيْسَ فِيهِمْ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Three will never enter Paradise: the cuckold, the masculine woman, and the habitual wine-drinker."** They said, "O Messenger of Allah, as for the habitual wine-drinker, we know him—but what is the cuckold?" He said: > **"The one who does not care who enters upon his household."** They said, "And what is the masculine woman?" He said: > **"The one who imitates men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تین قسم کے لوگ جنت میں کبھی داخل نہیں ہوں گے ‘ دیوث مرد نما عورتیں اور با قاعدگی سے شراب پینے والا شخص ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جہاں تک باقاعدگی سے شراب پینے والے شخص کا تعلق ہے ۔ اس سے ‘ تو ہم واقف ہیں یہ دیوث کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کے پاس کون آتا ہے ہم نے عرض کی : مرد نما عورتوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں مستور راوی ہیں لیکن ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہو کہ یہ ضعیف ہے ۔

7723

Majma al-Zawaid #7723

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أُحَيْمِرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ الصُّقُورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "" قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الصُّقُورُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يُدْخِلُ عَلَى أَهْلِهِ الرِّجَالَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو رُزَيْنٍ الْبَاهِلِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mālik ibn Uḥaymir رضي الله عنه said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Allah will accept neither compensation nor recompense on the Day of Resurrection from the procurers."** They said, "O Messenger of Allah, and who are the procurers?" He said: > **"The one who brings men into his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن احیمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن صقور سے کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صقور سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنی بیوی کے پاس مردوں کو لے جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابورزین باہلی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7724

Majma al-Zawaid #7724

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَغَارُ لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ فَلْيَغَرْ لِنَفْسِهِ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah is jealous for His believing servant—so let a man be jealous for himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے حوالے سے غیرت کرتا ہے ‘ تو اسے ( یعنی مومن بندے کو ) اپنی ذات کے حوالے سے غیرت کرنی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7725

Majma al-Zawaid #7725

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْمِذَاءُ مِنَ النِّفَاقِ "" قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمِذَاءُ؟ قَالَ: "" الَّذِي لَا يَغَارُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو مَرْجُومٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Jealousy is from faith, and indifference is from hypocrisy."** He said, "I asked: what is indifference?" He said: > **"The one who is not jealous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غیرت ایمان کا حصہ ہے ‘ اور مذاء نفاق کا حصہ ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : مذاء سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ شخص جو غیرت نہیں کرتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومرجوم ہے ‘ جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7726

Majma al-Zawaid #7726

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «إِنِّي لَغَيُورٌ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مِنْ عِبَادِهِ الْغَيُورَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"I am jealous, and Allah is more jealous than I—and Allah loves the jealous among His servants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں غیور ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے ‘ اور بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں غیور بندوں کو پسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7727

Majma al-Zawaid #7727

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «عُمَرُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنَّا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"ʿUmar is jealous, and I am more jealous than he, and Allah is more jealous than us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عمر غیور ہے اور میں ‘ اس سے زیادہ غیور ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ غیور ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7728

Majma al-Zawaid #7728

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَغَارُ؟ قَالَ: "" وَاللَّهِ إِنِّي لَأَغَارُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: It was said, "O Messenger of Allah, do you not feel jealousy?" He said: > **"By Allah, I am jealous, and Allah is more jealous than I—and from His jealousy He forbade immoralities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ غیور نہیں ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں غیور ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیور ہے ‘ اور اس کے غیور ہونے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اس نے فواحش سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کامل ابوالعلاء ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ویسے وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7729

Majma al-Zawaid #7729

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: 4] قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا أَنْتَظِرُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةٍ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نَعَمْ "" قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ رَأَيْتُهُ لَعَاجَلْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: "" انْظُرُوا يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّ سَعْدًا لَغَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: When the verse "Those who accuse chaste women and do not bring four witnesses" was revealed, Saʿd ibn ʿUbādah said, "If I were to see a man with my wife, should I wait until I bring four witnesses?" The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"Yes."** He said, "No—by the One who sent you with the truth, if I saw him I would strike him down with the sword." The Prophet ﷺ said: > **"Look, O company of the Anṣār, at what your chief says. Saʿd is jealous, and I am more jealous than he, and Allah is more jealous than I."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں اور پھر وہ چار گواہ نہیں لے کر آتے ہیں ‘‘۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں کسی شخص کو دیکھوں ‘ تو کیا میں اس بات کا انتظار کروں گا کہ پہلے چار گواہ لے کے آؤں نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جی ہاں ، تو انہوں نے کہا جی نہیں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر میں ایسے شخص کو دیکھوں گا ‘ تو میں اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! دیکھو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ سعد غیور ہے ‘ اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7730

Majma al-Zawaid #7730

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا} [النور: 4] قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ: أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ، وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى أَطْوَلُ مِنْهُ، وَقَدْ أَذْكُرُهُ فِي اللِّعَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: When "Those who accuse chaste women and do not bring four witnesses—flog them eighty lashes and never accept their testimony" was revealed, Saʿd ibn ʿUbādah, the chief of the Anṣār, said, "Was it revealed like this, O Messenger of Allah?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O company of the Anṣār, do you not hear what your chief says?"** They said, "O Messenger of Allah, do not blame him, for he is a jealous man. By Allah, he never married any woman except a virgin, nor ever divorced a wife of his but that none of us dared to marry her after him, from the severity of his jealousy." Saʿd said, "O Messenger of Allah, I know it is true and from Allah, but I am amazed—if I found a vile woman with a man upon her, I would have no right to disturb or move him until I bring four witnesses. By Allah, I would not bring them until he had fulfilled his need."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام عائد کرتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لے کے آتے ہیں ‘ تو تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور تم ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا ‘‘۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم سن نہیں رہے کہ تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ انہیں ملامت نہ کریں وہ ایک غیور شخص ہیں اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمیشہ کنواری لڑکی کے ساتھ ہی شادی کی ہے ‘ اور جب بھی انہوں نے کسی بیوی کو طلاق دی ‘ تو ہم میں سے کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرے اس کی وجہ ان کے مزاج کی شدت ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ بات حق ہے ‘ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘ لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر میں کسی شخص کو پاتا ہوں کہ وہ عورت کے زانوں کے قریب پہنچ چکا ہے ‘ تو مجھے یہ حق نہیں ہو گا کہ اس پر حملہ کروں یا اسے حرکت دوں جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا اللہ کی قسم ! میرے چار گواہ لانے تک وہ اپنی حاجت پوری کر چکا ہو گا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے میں اسے لعان سے متعلق باب میں ذکر کروں گا ‘ اگر اللہ نے چاہا اس روایت کا مدار عباد بن منصور پر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7731

Majma al-Zawaid #7731

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا أَضْرِبْهُ بِسَيْفِي؟ وَقَالَ: "" أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ؟ "" قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ: "" كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ "" [قَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ؟ قَالَ: "" كِتَابُ اللَّهِ وَالشُّهَدَاءُ]، أَيَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَذَا سَيِّدُكُمُ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ ""، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً قَطُّ قَدِرَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا لِغَيْرَتِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَعْدٌ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي "" قَالَ رَجُلٌ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يَغَارُ اللَّهُ؟ قَالَ: عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Shuraḥbīl, narrating from his father from his grandfather, said: Saʿd ibn ʿUbādah came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, if I find a man upon my wife's belly, shall I strike him with my sword? What proof is clearer than the sword?" Then he retracted his statement and said, "The Book of Allah and the witnesses." The Prophet ﷺ said: > **"O company of the Anṣār, this chief of yours—jealousy has provoked him until he opposed the Book of Allah."** A man said, "O Messenger of Allah, Saʿd is jealous—he never divorced a woman but that none of us could marry her after him, because of his jealousy." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Saʿd is jealous, and I am more jealous than he, and Allah is more jealous than I."** A man said, "Over what is Allah jealous?" He said: > **"Over a fighter in the path of Allah who is betrayed with respect to his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شرحبيل بن عمرو بن سعید بن سعد بن عبادہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں کسی شخص کو اپنی بیوی کے پیٹ پر پاؤں گا ‘ تو اپنی تلوار کے ذریعے اسے مار دوں گا ‘ انہوں نے یہ بھی کہا : تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں ‘ پھر بعد میں انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی کتاب کے مطابق ) عمل کیا جائے گا ) اور گواہ پیش کیے جائیں گے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تلوار سے زیادہ واضح گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ( کے مطابق عمل کیا جائے گا ) اور گواہ ( پیش کیے جائیں گے ) اے انصار کے گروہ یہ تمہارا سردار اسے غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یہاں تک کہ یہ اللہ کی کتاب ( کے حکم ) کے برخلاف کرنا چاہتا ہے راوی کہتے ہیں : تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت سعد رضی اللہ عنہ مزاج کے تیز ہیں انہوں نے جب بھی کسی خاتون کو طلاق دی ‘ تو ان کے مزاج کی تیزی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اس خاتون کے ساتھ شادی نہیں کر سکا راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سعد غیور ہے ‘ اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کس چیز کے حوالے سے غصے میں آتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے جانے والے شخص کے حوالے سے ‘ جب اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے پاس جایا جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

7732

Majma al-Zawaid #7732

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَثُرَ عَلَى مَارِيَةَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ فِي قِبْطِيٍّ ابْنِ عَمٍّ لَهَا كَانَ يَزُورُهَا وَيَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" خُذْ هَذَا السَّيْفَ فَانْطَلِقْ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ عِنْدَهَا فَاقْتُلْهُ "" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُونُ فِي أَمْرِكَ إِذَا أَرْسَلْتَنِي كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ لَا يَثْنِينِي شَيْءٌ حَتَّى أَمْضِيَ لِمَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَمِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ؟ قَالَ: "" بَلِ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ "" فَأَقْبَلْتُ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَهَا فَاخْتَرَطْتُ السَّيْفَ فَلَمَّا رَآنِي أَقْبَلْتُ نَحْوَهُ عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُهُ فَأَتَى نَخْلَةً فَرَقِيَ، ثُمَّ رَمَى بِنَفْسِهِ عَلَى قَفَاهُ، ثُمَّ شَغَرَ بِرِجْلِهِ فَإِذَا هُوَ أَجَبُّ أَمْسَحُ مَا لَهُ قَلِيلٌ، وَلَا كَثِيرٌ فَغَمَدْتُ السَّيْفَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَصْرِفُ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الضِّيَاءُ فِي أَحَادِيثِهِ الْمُخْتَارَةِ عَلَى الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه said: There was much talk about Māriyah, the mother of Ibrāhīm, concerning a Coptic cousin of hers who visited her and frequented her. The Messenger of Allah ﷺ said to me: > **"Take this sword and go—if you find him with her, kill him."** I said, "O Messenger of Allah, when you send me on your command, shall I be like the heated rail—nothing turning me aside until I carry out what you commanded—or shall the witness see what the absent one does not see?" He said: > **"Rather, the witness sees what the absent one does not see."** So I set out girded with the sword and found him with her. I drew the sword, and when he saw me advancing toward him, he knew I meant him—so he went to a palm tree, climbed it, then threw himself down upon his back and spread his legs, revealing that he was a castrated eunuch with neither little nor much. I sheathed the sword and came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him, and he said: > **"Praise be to Allah, who averts evil from us, the Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک قبطی شخص اُم ابراہیم سیدہ ماریہ کے پاس بکثرت آیا جایا کرتا تھا وہ ان کا چچا زاد تھا ‘ اور وہ ان سے ملنے آیا کرتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ تلوار لو اور جاؤ اور اگر تم اس شخص کو اس عورت کے پاس پاؤ تو اسے قتل کر دینا حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اس حکم کے حوالے سے میں ایک گرم کیے ہوئے سکے کی مانند ہو گیا ہوں کوئی بھی چیز مجھے واپس نہیں کرے گی جب تک میں اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا جو آپ نے مجھے دیا ہے یا پھر یہ ہے کہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی میں اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ حاضر شخص وہ چیز دیکھ لیتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( یعنی تم اپنی صواب دید پر بھی فیصلہ کر سکتے ہو ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں تلوار لے کے نکل کھڑا ہوا میں نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا میں نے تلوار سونت لی جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اس کی طرف آ رہا ہوں ، تو اسے میرے ارادے کا اندازہ ہو گیا وہ ایک درخت کے پاس آیا اور اس پر چڑھ گیا پھر اس نے اس سے چھلانگ لگائی ‘ تو وہ گدی کے بل گرا اس کی ٹانگیں پھیل گئی ‘ تو وہ ایک ایسا شخص تھا جس کی شرمگاہ نہیں تھی نہ تھوڑی نہ زیادہ میں نے تلوار میان میں رکھ لی پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہم اہل بیت سے اس چیز کو پھیر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ضیاء مقدسی نے یہ کتاب الاحادیث المختارہ میں نقل کی ہے ۔

7733

Majma al-Zawaid #7733

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَارِيَةَ - جَارِيَةٍ - وَقَعَ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا إِبْرَاهِيمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: When Ibrāhīm, the son of the Messenger of Allah ﷺ, was born to Māriyah, something entered the heart of the Prophet ﷺ about him—until Jibrīl عليه السلام came to him and said: > **"Peace upon you, father of Ibrāhīm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ سیدہ مازیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیدا ہوئے جو ایک کنیز تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ کو اس حوالے سے کچھ الجھن ہوئی حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور بولے : اے ابوابراہیم ! آپ کو سلام ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7734

Majma al-Zawaid #7734

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ "" وَقَالَ: "" ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمُ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are two kinds of jealousy—one Allah loves and one Allah hates. Jealousy with grounds for suspicion, Allah loves; jealousy without grounds for suspicion, Allah hates. And there are two kinds of pride—one Allah loves and one Allah hates. Pride when a man gives charity, Allah loves; pride in arrogance, Allah hates."** And he said: > **"Three have their supplication answered: the traveler, the parent, and the oppressed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غیرت دو قسم کی ہوتی ہے ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت جو ’’ ریبہ ‘‘ کے بارے میں ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حرام چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ اور وہ غیرت جو ’’ ریبہ ‘‘ کے بارے میں نہ ہو ( مراد یہ ہے کہ آدمی کسی حلال چیز پر غصہ کا اظہار کر کے ) اسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ اور خود پسندی دو قسم کی ہوتی ہے ‘ ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ جب کوئی شخص صدقہ کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ‘ اور جو خود پسندی ، تکبر کے طور پر ہو ‘ اللہ تعالی اسے ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ’’ تین قسم کے لوگوں کی دعا مستجاب ہوتی ہے ‘ مسافر ‘ والد اور مظلوم ( شخص ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7735

Majma al-Zawaid #7735

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عِشَاءً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِعَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ سَمَاعًا مِنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ would not come to his family by night—he would enter in the morning or in the evening.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ( طویل سفر سے واپسی پر ) رات کے وقت اپنے گھر نہیں جایا کرتے تھے آپ دن کے وقت یا شام کے وقت چلے جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے عبدالصمد بن عبدالوارث کے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔

7736

Majma al-Zawaid #7736

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَزَلَ الْعَقِيقَ فَنَهَى عَنْ طُرُوقِ النِّسَاءِ [اللَّيْلَةَ الَّتِي يَأْتِي فِيهَا] فَعَصَاهُ رَجُلَانِ فَكِلَاهُمَا رَأَى مَا يَكْرَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ halted at al-ʿAqīq and forbade coming to women by night unannounced. Two men disobeyed him, and each of them saw what he disliked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عقیق کے مقام پر پڑاؤ کیا اور آپ نے رات کے وقت خواتین کے پاس جانے سے منع کر دیا دو آدمیوں نے آپ کی نافرمانی کی ‘ تو ان دونوں نے ناپسندیدہ صورت حال پائی ۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔