Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 10

Book of Marriage

Hadith 7657–7696

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7657

Majma al-Zawaid #7657

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ فَقَالَ: "" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ "" قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعُوذُ بِاللَّهِ - يَا نَبِيَّ اللَّهِ - مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ. قَالَ: "" بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْبَعْلَ وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنْعِمِينَ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: السَّلَامَ عَلَى النِّسَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid al-Ansariyyah (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) passed women sitting in the mosque, greeted them by hand signal, and warned against ingratitude to benefactors. When one sought refuge from ingratitude to Allah, he described long widowhood followed by husband, child, and comfort, then angry oaths of never seeing good. > **"Beware of ingratitude to benefactors. One of you remains long unmarried, long past youth, then Allah provides a husband, a child, and comfort. Then she angers and swears by Allah she never saw an hour of good from him. That is ingratitude to Allah's blessings, and that is ingratitude to benefactors."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک دن مسجد میں سے ہوا تو اس وقت کچھ خواتین وہاں بیٹھی ہوئی تھیں نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں اشارہ کر کے سلام کیا اور ارشاد فرمایا تم نعمت دینے والوں کی ناشکری کرنے سے بچنا ان خواتین میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اے اللہ کے نبی ! میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری سے ( پناہ مانگتی ہوں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم میں سے کوئی ایک عورت ایک طویل عرصے تک بیوہ ( یا طلاق یافتہ ) رہتی ہے یہاں تک کہ ( شوہر کے بغیر ) اس کا رہنا طویل ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے شوہر عطا کرتا ہے اسے اولاد نصیب کرتا ہے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرتا ہے پھر وہ عورت غصے میں آتی ہے ‘ اور اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہتی ہے کہ اس نے اس شوہر کی طرف سے کبھی بھلائی کا ایک لمحہ بھی نہیں پایا تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری میں شامل ہے ‘ اور یہ نعمت دینے والوں کی ناشکری میں شامل ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے ’’ آپ نے خواتین کو سلام کیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7658

Majma al-Zawaid #7658

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى النِّسَاءِ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَنَا مَعَهُنَّ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُنَّ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِنَّكُنَّ أَكْثَرُ حَطَبِ جَهَنَّمَ "". فَنَادَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ جَرِيئَةً عَلَى كَلَامِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ؟ قَالَ: "" إِنَّكُنَّ إِذَا أُعْطِيتُنَّ لَمْ تَشْكُرْنَ، وَإِذَا ابْتُلِيتُنَّ لَمْ تَصْبِرْنَ، وَإِذَا أُمْسِكَ عَلَيْكُنَّ شَكَوْتُنَّ وَإِيَّاكُنَّ وَكَفْرَ الْمُنَعَّمِينَ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: "" الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، وَقَدْ وَلَدَتْ لَهُ الْوَلَدَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) came to women at the mosque side. Bold in speech to him, she asked why they were most of Hell's fuel. He named ingratitude when given, impatience when tried, complaint when withheld, and explained ingratitude of mothers of two or three who say they never saw good. > **"O assembly of women, you are most of Hell's fuel. When given, you are not grateful; when tried, you are not patient; and when withheld from, you complain. Beware of ingratitude to benefactors. What is ingratitude to benefactors? A woman lives with a man and bears him two or three children, then says: I never saw any good from you at all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مسجد کے ایک کونے میں نبی اکرم ﷺ خواتین کے پاس تشریف لائے میں ان خواتین میں موجود تھی نبی اکرم ﷺ نے ان خواتین کی آواز سنی ‘ تو ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! تم جہنم کے ایندھن میں زیادہ ہو میں نے بلند آواز میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کیا میں آپ کے ساتھ گفتگو کرنے کی جرات کر لیتی تھی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں جب کچھ دیا جائے ‘ تو تم شکر گزار نہیں ہوتی ہو اور جب تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے ‘ تو تم صبر نہیں کرتی ہو اور جب تمہیں کچھ نہ دیا جائے ‘ تو تم شکوہ کرتی ہو ‘ تو تم نعمت دینے والوں کی ناشکری سے بچ کے رہنا میں نے عرض کی : نعمت دینے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک عورت کسی شخص کے پاس ہوتی ہے ( یعنی کسی کی بیوی ہوتی ہے ) وہ اس شخص کے دو یا تین بچوں کو جنم بھی دیدیتی ہے پھر بھی یہ کہتی ہے کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7659

Majma al-Zawaid #7659

«وَعَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَتْ: فَكَانَ مِمَّا أَخَذَ عَلَيْنَا: "" أَنْ لَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ "" قَالَتْ: فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قُلْنَا: وَاللَّهِ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَرَجَعْنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ: "" أَنْ تُحَابِينَ أَوْ تَهَادِينَ بِمَالِهِ غَيْرَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Salma bint Qays (may Allah be pleased with her) said she pledged the Prophet (peace and blessings be upon him) among Ansari women, including not to deceive husbands. Returning, they asked what deception of husbands meant, and he explained gifts from his wealth to others. > **"That you not deceive your husbands. That you favor another with his wealth as gift."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار کی کچھ خواتین سمیت میں نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے جو عہد لیا تھا اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ تم اپنے شوہروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرو گی وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب ہم واپس آ گئیں ، تو ہم نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر ہم اللہ کے رسول سے یہ دریافت کر لیتیں کہ شوہروں کو دھوکہ دینے سے مراد کیا ہے ؟ ( تو یہ مناسب ہونا تھا ) وہ خاتون کہتی ہیں : ہم واپس گئیں اور ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس کے مال میں سے کسی کو کوئی چیز تحفے یا ہدیہ کے طور پر دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ۔

7660

Majma al-Zawaid #7660

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْتُجِبْ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) ordered a wife to answer her husband's call to bed even on a camel's saddle. > **"When a man calls his wife to his bed, let her respond, even if she is on a camel's saddle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے ، تو عورت کو اس کی بات مان لینی چاہیے اگرچہ وہ پالان کی پشت پر ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ثعلبہ بن سواء کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں اور کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مغیرہ بن مسلم کا معاملہ مخلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے یہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔

7661

Majma al-Zawaid #7661

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لِلْمَرْأَةِ سِتْرَانِ "" قِيلَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: "" الزَّوْجُ وَالْقَبْرُ "" قِيلَ: فَأَيُّهُمَا أَسْتَرُ؟ قَالَ: "" الْقَبْرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقَسْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said a woman has two veils, her husband and her grave, and the grave conceals more. > **"A woman has two veils. What are they? Her husband and her grave. Which conceals more? The grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ عورت کے لئے پردے کی دو چیزیں ہوتی ہیں عرض کی گئی : وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شوہر اور قبر عرض کی گئی : ان دونوں میں سے کون سا زیادہ پردے والا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قبر ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید قسری ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔

7662

Majma al-Zawaid #7662

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟ "" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ لَا يَزُورُهُ إِلَّا لِلَّهِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ فِي الْجَنَّةِ؟ "" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" كُلُّ وَدُودٍ وَلُودٍ إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُسِيءَ إِلَيْهَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُهَا قَالَتْ: هَذِهِ يَدِي فِي يَدِكَ لَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ حَتَّى تَرْضَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ، فَإِنْ أَرَادَ تَضْعِيفَهُ فَلَا كَلَامَ، وَإِنْ أَرَادَ حَدِيثًا مَخْصُوصًا فَلَمْ يَذْكُرْهُ، وَأَمَّا بَقِيَّةُ رِجَالِهِ فَهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings be upon him) a list of men of Paradise — prophet, truthful, martyr, newborn, and one who visits his brother across town only for Allah — then of women: loving, fertile, who when angered, wronged, or her husband angered, places her hand in his and refuses sleep until pleased. > **"Shall I not tell you of your men in Paradise? The prophet in Paradise, the truthful in Paradise, the martyr in Paradise, the newborn in Paradise, and a man who visits his brother in another part of town only for Allah in Paradise. Shall I not tell you of your women in Paradise? Every loving, fertile one who, when angered, wronged, or her husband angered, says: Here is my hand in yours, I will not sleep until you are pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کیا میں تم لوگوں کو تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو جنت میں جائیں گے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبی جنت میں جائے گا صدیق جنت میں جائے گا شہید جنت میں جائے گا مولود ( یعنی پیدا ہو کر فوت ہونے والا بچہ ) جنت میں جائے گا ‘ اور وہ شخص جو شہر کے کنارے پر اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جاتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جاتا ہے وہ جنت میں جائے گا ‘ اور کیا میں تمہیں تمہاری خواتین کے بارے میں بتاؤں جو جنت میں جائیں گی ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے یا جب اس کا شوہر غضبناک ہو ‘ تو وہ یہ کہے : یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تم راضی نہیں ہو گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زیاد قرشی ہے ۔ امام بخاری کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث صحیح نہیں ہے اگر تو انہوں نے اس راوی کو ضعیف قرار دینے کا ارادہ کیا ہے ، تو پھر یہ کوئی کلام نہیں ہے ‘ اور اگر انہوں نے کسی مخصوص حدیث کو مراد لیا ہے ‘ تو انہوں نے وہ حدیث ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7663

Majma al-Zawaid #7663

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ وَالْمَوْلُودُ فِي الْجَنَّةِ وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي نَاحِيَةِ الْمِصْرِ فِي الْجَنَّةِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" الْوَدُودُ وَالْوَلُودُ الَّتِي إِنْ ظَلَمَتْ أَوْ ظُلِمَتْ قَالَتْ: هَذِهِ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ لَا أَذُوقُ غُمْضًا حَتَّى تَرْضَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) listed men of Paradise — prophet, martyr, truthful, newborn, and visitor of his brother — then women: loving, fertile, who if she wrongs or is wronged places her forelock in her husband's hand and refuses sleep until pleased. > **"Shall I not tell you of your men among the people of Paradise? The prophet in Paradise, the martyr in Paradise, the truthful in Paradise, the newborn in Paradise, and a man who visits his brother in another part of town in Paradise. Shall I not tell you of your women among the people of Paradise? The loving, fertile one who, if she wrongs or is wronged, says: Here is my forelock in your hand, I will not taste sleep until you are pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تم لوگوں کو تمہارے ان مردوں کے بارے میں بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبی جنت میں جائے گا شہید جنت میں جائے گا صدیق جنت میں جائے گا مولود جنت میں جائے گا وہ شخص جو اپنے بھائی سے ملنے کے لئے شہر کے کونے پر جاتا ہے وہ جنت میں جائے گا ‘ اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ زیادتی کرے یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے ‘ تو وہ یہ کہے : میری پیشانی تمہارے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تم راضی نہیں ہو جاتے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7664

Majma al-Zawaid #7664

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ مَوْلُودُ الْإِسْلَامِ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ فِي جَانِبِ الْمِصْرِ يَزُورُ أَخَاهُ لَا يَزُورُهُ إِلَّا اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" الْوَدُودُ الْوَلُودُ الَّتِي إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُغْضِبَتْ قَالَتْ: يَدِي فِي يَدِكَ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace and blessings be upon him) a list of men of Paradise — prophet, truthful, martyr, Muslim newborn, and one who visits his brother across town only for Allah — then women: loving, fertile, who when angered says her hand is in her husband's and refuses sleep. > **"Shall I not tell you of your men among the people of Paradise? The prophet in Paradise, the truthful in Paradise, the martyr in Paradise, the Muslim newborn in Paradise, and a man on the side of town who visits his brother only for Allah in Paradise. Shall I not tell you of your women among the people of Paradise? The loving, fertile one who, when angered or angered, says: My hand is in yours, I will not sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کیا میں تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نبی جنتی ہے صدیق جنتی ہے شہید جنتی ہے اسلام میں پیدا ہونے والا بچہ ( جو بچپن میں فوت ہو جائے ) جنتی ہے ‘ اور وہ شخص جو شہر کے کونے پر رہتا ہو اور اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے جائے وہ جنتی ہے ‘ اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا : محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اسے غصہ دلایا جائے ‘ تو وہ یہ کہے : میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے ‘ میں نہیں سوؤں گی ( جب تک آپ راضی نہیں ہوتے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

7665

Majma al-Zawaid #7665

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تُخَشِّنَ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ، وَلَا تَضْرِبْهُ، وَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ رَضِيَ وَقَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ قَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا وَأَفْلَحَ وَجْهُهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا، فَقَدْ أَبْلَغَتْ عُذْرَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings be upon him) that a wife may not admit one her husband dislikes, leave when he dislikes, obey another against him, roughen his heart, abandon his bed, nor strike him even if he wronged her, until she pleases him. If he accepts, Allah accepts her excuse; if not, she delivered her excuse. > **"It is not lawful for a wife to admit to her husband's house one he dislikes, nor leave when he dislikes, nor obey another in him, nor roughen his heart, nor abandon his bed, nor strike him, even if he is more unjust than her, until she pleases him. If he is pleased and accepts from her, well and good, Allah accepts her excuse and her face succeeds, with no sin upon her. If he refuses to be pleased with her, she has delivered her excuse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عورت کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی ایسے شخص کو اجازت دے جسے شوہر ناپسند کرتا ہو اور اگر شوہر ناپسند کرتا ہو تو وہ گھر سے بھی نہ نکلے اور شوہر کے بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے اور اس کو ناراض نہ کرے اور اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کو نہ مارے ‘ اگرچہ شوہر نے اس پر ظلم کیا ہو یہاں تک کہ وہ شوہر کو راضی کر لے اگر وہ شوہر راضی ہو جاتا ہے ‘ اور اس کے عذر کو قبول کر لیتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے ‘ اور اچھی بات ہے ‘ اللہ تعالیٰ بھی اس کے عذر کو قبول کر لے گا ‘ اور وہ عورت کامیاب ہو جائے گی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘ اور اگر شوہر بات نہیں مانتا اور اس سے راضی نہیں ہوتا تو عورت نے اپنا عذر پیش کر دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

7666

Majma al-Zawaid #7666

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَأَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا، وَكَانَ أَبُوهَا فِي أَسْفَلِ الدَّارِ، وَكَانَتْ فِي أَعْلَاهَا فَمَرِضَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "" أَطِيعِي زَوْجَكِ "" فَمَاتَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَطِيعِي زَوْجَكِ "" فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِأَبِيهَا بِطَاعَتِهَا لِزَوْجِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings be upon him) that a man left and ordered his wife not to leave home. Her father lived below, she above. When he sickened she asked permission to visit and was told to obey her husband. When he died she again was told to obey her husband. Then the Prophet (peace and blessings be upon him) sent word of her father's forgiveness through her obedience. > **"Obey your husband. Obey your husband. Allah has forgiven her father through her obedience to her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نکلا اس نے اپنی بیوی کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے گھر سے نہ نکلے اس عورت کا با پگھر کے نیچے والے حصے میں رہتا تھا وہ عورت اوپر والے حصے میں رہتی تھی اس کا باپ بیمار ہو گیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ( اس عورت سے فرمایا ) تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو اس عورت کا باپ فوت ہو گیا اس عورت نے پھر نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو نبی اکرم ﷺ نے بعد میں اس عورت کو پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کی وجہ سے اس کے باپ کی مغفرت کر دی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7667

Majma al-Zawaid #7667

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ثَلَاثٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ إِلَى اللَّهِ حَسَنَةٌ: السَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُو وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا وَالْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ مَوَالِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) named three whose prayer is not accepted nor good deed raised: the intoxicated until sober, the wife with whom her husband is angry, and the runaway slave until he returns and places his hand in his masters' hands. > **"Three whose prayer is not accepted, nor good deed raised to Allah for them: the intoxicated until he sobers, the wife with whom her husband is angry, and the runaway slave until he returns and places his hand in his masters' hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین لوگ ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک نہیں پہنچتی ہے ‘ نشے کا شکار شخص جب تک وہ ہوش میں نہیں آ جاتا ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور مفرور غلام جب تک وہ واپس آ کر اپنا ہاتھ اپنے آقاؤں کے ہاتھ میں نہیں دیدیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7668

Majma al-Zawaid #7668

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اثْنَانِ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ مَوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) named two whose prayer does not pass their heads: the slave fleeing his masters until he returns, and the wife disobeying her husband until she returns. > **"Two whose prayer does not pass their heads: a slave fleeing his masters until he returns to them, and a wife disobeying her husband until she returns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی اپنے آقا سے مفرور ہونے والا غلام جب تک وہ ان کے پاس واپس نہیں آ جاتا اور وہ عورت جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے ‘ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7669

Majma al-Zawaid #7669

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا وَزَوْجُهَا كَارِهٌ لِذَلِكَ لَعَنَهَا كُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَكُلُّ شَيْءٍ مَرَّتْ عَلَيْهِ غَيْرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ حَتَّى تَرْجِعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) said he heard the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) warn that a woman leaving home against her husband's wish is cursed by every angel and everything she passes except jinn and men until she returns. > **"When a woman leaves her house while her husband dislikes it, every angel in heaven curses her, and everything she passes except jinn and men, until she returns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے ‘ اور اس کا شوہر اس بات کو ناپسند کرتا ہو ‘ تو آسمان میں موجود ہر فرشتہ اور ہر وہ چیز جس کے پاس سے وہ عورت گزرتی ہے وہ اس پر لعنت کرتے ہیں ‘ البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور ایسا اس وقت تک ہوتا ہے ‘ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ اور وہ متروک ہے دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7670

Majma al-Zawaid #7670

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي لَأُبْغِضُ الْمَرْأَةَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا تَجُرُّ ذَيْلَهَا تَشْكُو زَوْجَهَا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) expressed hatred for a woman who leaves home trailing her skirt while complaining of her husband. > **"I indeed detest a woman who leaves her house trailing her skirt, complaining of her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ایسی عورت کو ناپسند کرتا ہوں جو اپنے دامن کو کھینچتی ہوئی اپنے گھر سے نکلتی ہے ‘ اور اپنے شوہر کی شکایت کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7671

Majma al-Zawaid #7671

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَإِنَّهَا لَا تَكُونُ أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported from the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) that woman is private, Satan gazes at her when she leaves, and she is nearest to Allah in her innermost home. > **"Woman is private, and when she leaves her house Satan gazes at her. She is never closer to Allah than in the depth of her house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عورت پردے کی چیز ہے ‘ جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے ‘ تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے ‘ اور عورت اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے ‘ جب وہ اپنے گھر کے سب سے زیادہ اندرونی حصے میں ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7672

Majma al-Zawaid #7672

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَلَا تَسْتَكْبِرُوا بِهِ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ "". وَقَالَ: "" إِنَّ النِّسَاءَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ "" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَبَنَاتِنَا؟ فَذَكَرَ كُفْرَهُنَّ لِحَقِّ الزَّوْجِ وَتَضْيِيعَهُنَّ لِحَقِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Shibl رضي الله عنه said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Recite the Qur'an, and when you recite it, do not show arrogance through it, do not go to extremes in it, do not turn away from it, and do not earn a living through it."** He ﷺ also said: > **"Women are the companions of the Fire."** A man said, "O Messenger of Allah, are they not our mothers, our sisters, and our daughters?" The Prophet ﷺ then explained their ingratitude toward the rights of their husbands and their neglect of those rights.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم قرآن پڑھو اور جب تم اسے پڑھو تو اس کے حوالے سے تکبر نہ کرو اور اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اس سے جفا نہ کرو اور اس کے عوض میں قیمت نہ کھاؤ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : عورتیں ہی اہل جہنم ہوں گی ایک صاحب نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں اور ہماری بہنیں اور ہماری بیٹیاں نہیں ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ شوہروں کے حق کی ناشکری کریں گی اور ان کے حق کو ضائع کریں گی اور اس وجہ سے وہ جہنم کی مستحق بن جائیں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے مختلف طرق ہیں یہ روایت امام احمد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7673

Majma al-Zawaid #7673

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ النَّارَ خُلِقَتْ لِلسُّفَهَاءِ وَهُنَّ النِّسَاءُ إِلَّا الَّتِي أَطَاعَتْ بَعْلَهَا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ إِنَّهُ صَالِحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The Fire was created for the foolish, and they are women—except the one who obeys her husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جہنم بے وقوفوں کے لئے بنائی گئی ہے ‘ اور وہ خواتین ہیں ‘ البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ متروک ہے اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ صالح ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7674

Majma al-Zawaid #7674

وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَهْجُرَ فِرَاشَهُ، وَأَنْ تَبَرَّ قَسَمَهُ، وَأَنْ تُطِيعَ أَمْرَهُ، وَأَنْ لَا تَخْرُجَ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَأَنْ لَا تُدْخِلَ عَلَيْهِ مَنْ يَكْرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Tamīm al-Dārī رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"The right of the husband over his wife is that she does not abandon his bed, that she fulfills his oath, that she obeys his command, that she does not leave except with his permission, and that she does not admit into his presence anyone he dislikes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ عورت اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کی قسم کو پورا کروائے ‘ اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کرے اور اس کی اجازت کے بغیر ( گھر سے ) نہ نکلے اور عورت کسی ایسے شخص کو اندر نہ آنے دے جسے وہ ( یعنی شوہر ) ناپسند کرتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن عمرو ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7675

Majma al-Zawaid #7675

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، وَأَنْ يَتَصَدَّقْنَ وَقَالَ: "" وَإِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ - وَجُلُّكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ - وَفَرَّقَ أَصَابِعَهُ - "" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥakīm ibn Ḥizām رضي الله عنه said: One day the Prophet ﷺ addressed the women, admonishing them and reminding them. He commanded them to fear Allah, to obey their husbands, and to give charity. He said: > **"Some of you will enter Paradise"** — and he joined his fingers together — **"but most of you are the fuel of Hell"** — and he separated his fingers. A woman said, "Why, O Messenger of Allah?" He said: > **"Because you curse frequently, you are ungrateful to your husbands, and you delay doing good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی انہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور انہیں شوہروں کی اطاعت کرنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کچھ خواتین ایسی ہیں جو جنت میں داخل ہوں گی نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کو جمع کیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) اور تم میں سے زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کو علیحدہ کیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو اور بھلائی کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7676

Majma al-Zawaid #7676

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا زَارَتْ أُخْتَهَا عَائِشَةَ وَالزُّبَيْرُ غَائِبٌ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رِيحَ طِيبٍ فَقَالَ: "" مَا عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَزَوْجُهَا غَائِبٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Abī Bakr رضي الله عنها reported that she visited her sister ʿĀʾishah رضي الله عنها while al-Zubayr was away. The Prophet ﷺ entered and noticed the scent of perfume, so he said: > **"There is no harm upon a woman if she does not wear perfume while her husband is absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : وہ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے گئیں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے خوشبو محسوس کی ‘ تو ارشاد فرمایا : عورت پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اس وقت خوشبو نہ لگائے ‘ جب اس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو ( یعنی شہر سے باہر گیا ہوا ہو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7677

Majma al-Zawaid #7677

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ إِذَا حَنَّتْ عَلَى وَلَدِهَا وَأَطَاعَتْ رَبَّهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا إِلَّا كَهَاتَيْنِ "" وَقَرَنَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said, joining his fingers together: > **"What separates me from a woman with dust-stained cheeks—who is tender toward her child, obeys her Lord, and guards her chastity—is only like these two fingers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں اور ایسی عورت ‘ جس کے رخسار زرد ہو چکے ہوں جبکہ وہ اپنی اولاد کے لئے نرم ہو اور اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرتی ہو اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو ( میں اور وہ عورت ) ان دو ( انگلیوں کی طرف جنت میں ) ہوں گے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ملا کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7678

Majma al-Zawaid #7678

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا جَزَاءُ عِزْوَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: "" طَاعَةُ الزَّوْجِ وَاعْتِرَافٌ بِحَقِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: A woman said, "O Messenger of Allah, what is the reward for a woman's devotion to her husband?" He said: > **"Obedience to her husband and acknowledgment of his right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورت کے ( شوہر کے ساتھ ) انتساب ( یا رشتے کی ) کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شوہر کی اطاعت کرنا اور اس کے حق کا اعتراف کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7679

Majma al-Zawaid #7679

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ decreed: > **"A woman may not give anything from her house except with her husband's permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے گھر میں سے کوئی چیز ( کسی کو ) نہیں دے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7680

Majma al-Zawaid #7680

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَنْتَهِكَ مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا إِذَا مَلَكَ عِصْمَتَهَا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is not permitted for a woman to dispose of anything from her wealth except with her husband's permission, once he possesses her in marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ عورت کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ کرے جبکہ وہ شوہر اس کی عصمت کا مالک ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7681

Majma al-Zawaid #7681

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ عُذْرَةَ أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِمْ دَهْرًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ فَقَالَ النَّاسُ: حَدِيثُ خُرَافَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: One night the Messenger of Allah ﷺ told his wives a story, and one of the women said, "O Messenger of Allah, it is as though this story is the story of Khurāfah." He said: > **"Do you know who Khurāfah was? Khurāfah was a man of ʿUdhrah whom the jinn captured in the days of ignorance. He remained among them for a long time, then they returned him to mankind. He used to tell people of the wonders he had seen among them, so the people would say: the story of Khurāfah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو ایک بات بیان کی ‘ تو ان ازواج میں سے ایک خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بات ‘ تو خرافہ کی بات کی طرح کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ خرافہ کون ہے ؟ خرافہ عذرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے زمانہ جاہلیت میں جنات نے قید کر دیا تھا وہ ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا پھر جنات نے اسے واپس انسانوں کی طرف بھیج دیا تو وہ لوگوں کو وہ باتیں بیان کیا کرتا تھا جو اس نے جنات میں عجیب و غریب چیزیں دیکھی تھیں ، تو لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔

7682

Majma al-Zawaid #7682

وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ «عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَهَا بِحَدِيثٍ، وَهُوَ مَعَهَا فِي لِحَافٍ فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا حَدَّثْتَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ لَظَنَنْتُ أَنَّهُ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَمَا حَدِيثُ خُرَافَةَ يَا عَائِشَةُ؟ "" قَالَتِ: الشَّيْءُ إِذَا لَمْ يَكُنْ قِيلَ حَدِيثُ خُرَافَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ حَدِيثُ خُرَافَةَ، كَانَ خُرَافَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ سَبَتْهُ الْجِنُّ، وَكَانَ مَعَهُمْ فَإِذَا اسْتَرَقُوا السَّمْعَ أَخْبَرُوهُ فَخَبَّرَ بِهِ النَّاسَ فَيَجِدُونَهُ كَمَا قَالَ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ told her a story while sharing her quilt, and she said, "May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah—had you not told me this story, I would have thought it was the story of Khurāfah." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"And what is the story of Khurāfah, O ʿĀʾishah?"** She said, "When something is untrue, it is called the story of Khurāfah." The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The truest of stories is the story of Khurāfah. Khurāfah was a man of Banū ʿUdhrah whom the jinn captured. He lived among them, and whenever they eavesdropped upon the heavens they would inform him, so he would tell the people, and they would find it exactly as he had said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک بات بیان کی آپ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ لحاف میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ نے مجھے یہ بات بیان نہ کی ہوتی ‘ تو میں یہی گمان کرتی کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خرافہ کی بات کیا ہوتی ہے ؟ اے عائشہ ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کوئی ایسی چیز کہ جو نہ ہو اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ خرافہ کی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے سچی بات خرافہ کی بات ہوتی ہے خرافہ بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جسے جنوں نے قید کر دیا تھا وہ ان کے ساتھ رہا جب وہ کوئی اطلاع چوری چھپے سنتے تھے ‘ تو وہ اسے بتا دیتے تھے خرافہ لوگوں کو بتا دیتا تھا تو لوگ اس صورت حال کو اسی طرح پاتے تھے جس طرح اس نے بیان کیا ہوتا تھا ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو قدح کا باعث نہیں ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7683

Majma al-Zawaid #7683

«وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَرِيرَةٍ قَدْ طَبَخْتُهَا لَهُ فَقُلْتُ لِسَوْدَةَ - وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهَا -: كُلِي، فَأَبَتْ فَقُلْتُ: لَتَأْكُلِينَ أَوْ لَأُلَطِّخَنَّ وَجْهَكِ فَأَبَتْ فَوَضَعْتُ يَدِي فِي الْحَرِيرَةِ فَطَلَبْتُ وَجْهَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ بِيَدِهِ لَهَا وَقَالَ لَهَا: "" الْطَخِي وَجْهَهَا "" فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهَا فَمَرَّ عُمَرُ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَظَنَّ أَنَّهُ سَيَدْخُلُ فَقَالَ: "" قُومَا فَاغْسِلَا وُجُوهَكُمَا "" قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا زِلْتُ أَهَابُ عُمَرَ لِهَيْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I brought the Prophet ﷺ some ḥarīrah I had cooked for him, and I said to Sawdah—while the Prophet ﷺ was between me and her—"Eat." She refused, so I said, "Either you eat, or I will smear your face." She refused, so I put my hand in the ḥarīrah and smeared her face. The Prophet ﷺ laughed and put his hand out for her, saying to her: > **"Smear her face."** The Prophet ﷺ laughed for her. Then ʿUmar passed by, calling out, "O ʿAbdullāh! O ʿAbdullāh!" The Prophet ﷺ thought he would enter, so he said: > **"Get up and wash your faces."** ʿĀʾishah said: I never ceased to hold ʿUmar in awe because of the awe the Messenger of Allah ﷺ showed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حریرہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جسے میں نے آپ کے لئے پکایا تھا میں نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا نبی اکرم ﷺ اس وقت ان کے پاس موجود تھے آپ بھی کھا لیں انہوں نے انکار کر دیا میں نے کہا : یا تو آپ اسے کھا لیں گی یا میں اسے آپ کے چہرے پر مل دوں گی انہوں نے انکار کر دیا میں نے اپنا ہاتھ حریرہ میں ڈالا اور پھر ان کے چہرے کی طرف بڑھی ‘ تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے اور نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور ان سے فرمایا : تم اسے اس کے چہرے پر لگا دو پھر نبی اکرم ﷺ اس بات پر ہنسنے لگے اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے انہوں نے کہا : اے عبداللہ ! اے عبداللہ ! نبی اکرم ﷺ نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ وہ اندر آنا چاہ رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنا چہرہ دھو لو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب سے میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتے ہیں اس کے بعد میں ہمیشہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا لحاظ کرتی ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

7684

Majma al-Zawaid #7684

وَعَنْ رُزَيْنَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ سَوْدَةَ الْيَمَانِيَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَزُورُهَا، وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَجَاءَتْ سَوْدَةُ فِي هَيْئَةٍ وَفِي حَالَةٍ حَسَنَةٍ عَلَيْهَا بُرْدٌ مِنْ دُرُوعِ الْيَمَنِ وَخِمَارٌ كَذَلِكَ وَعَلَيْهَا نُقْطَتَانِ مِثْلَ الْعَدَسَتَيْنِ مِنْ صَبْرٍ وَزَعْفَرَانٍ إِلَى مُوقِهَا قَالَتْ عُلَيْلَةُ: وَأَدْرَكْتُ النِّسَاءَ يَتَزَيَّنَّ بِهِ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ يَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَشِقًا] وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ فَقَالَتْ: لَأُفْسِدَنَّ عَلَيْهَا زِينَتَهَا قَالَتْ: مَا تَقُلْنَ؟ وَكَانَ فِي أُذُنِهَا ثِقَلٌ قَالَتْ لَهَا حَفْصَةُ: يَا سَوْدَةُ خَرَجَ الْأَعْوَرُ، قَالَتْ: نَعَمْ؟! فَفَزِعَتْ فَزَعًا شَدِيدًا فَجَعَلَتْ تَنْتَفِضُ قَالَتْ: أَيْنَ أَخْتَبِئُ؟ قَالَتْ: عَلَيْكِ بِالْخَيْمَةِ - خَيْمَةٍ لَهُمْ مِنْ سَعَفٍ يَخْتَبِئُونَ فِيهَا - فَذَهَبَتْ فَاخْتَبَأَتْ فِيهَا، وَفِيهَا الْقَذَرُ وَنَسِيجُ الْعَنْكَبُوتِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا تَضْحَكَانِ لَا تَسْتَطِيعَانِ أَنْ تَتَكَلَّمَا مِنَ الضَّحِكِ فَقَالَ: "" لِمَاذَا الضَّحِكُ؟ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَوْمَأَتَا بِأَيْدِيهِمَا إِلَى الْخَيْمَةِ فَذَهَبَ فَإِذَا سَوْدَةُ تُرْعَدُ فَقَالَ لَهَا: "" يَا سَوْدَةُ مَا لَكِ؟ "" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ الْأَعْوَرُ، قَالَ: "" مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ مَا خَرَجَ وَلَيَخْرُجَنَّ "" [ثُمَّ دَخَلَ] فَأَخْرَجَهَا فَجَعَلَ يَنْفُضُ عَنْهَا الْغُبَارَ وَنَسِيجَ الْعَنْكَبُوتِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: يَدْخُلُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ قَشْفَتَيْنِ وَهَذِهِ بَيْنَنَا تَبْرُقُ،» وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُنَّ.

EnglishUnverified translation

Ruzaynah, the freedwoman of the Messenger of Allah ﷺ, reported that Sawdah al-Yamāniyyah came to visit ʿĀʾishah رضي الله عنها, while Ḥafṣah bint ʿUmar رضي الله عنها was with her. Sawdah arrived adorned in fine condition, wearing a Yemeni cloak and head-cover, beautified with aloes and saffron. Ḥafṣah said to ʿĀʾishah, "O Mother of the Believers, the Messenger of Allah ﷺ is coming, and this woman will be glittering among us." ʿĀʾishah said, "Fear Allah, O Ḥafṣah." Ḥafṣah said, "I will spoil her adornment." Sawdah was hard of hearing, so Ḥafṣah said to her, "O Sawdah, the one-eyed one has come out!" Sawdah was seized with terror and trembling, asking, "Where shall I hide?" They directed her to a palm-leaf shelter used for storage, full of dust and cobwebs, and she hid inside it. When the Messenger of Allah ﷺ arrived, ʿĀʾishah and Ḥafṣah were laughing so hard they could barely speak. He asked three times: > **"Why are you laughing?"** They pointed toward the shelter. He went and found Sawdah trembling, and said: > **"What is wrong with you, O Sawdah?"** She said, "O Messenger of Allah, has the one-eyed one come out?" He said: > **"He has not come out, but he will surely come out."** Then he brought her out, brushing the dust and cobwebs from her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی کنیز ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : سیدہ سودہ یمانیہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے ان کے ہاں آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تیار ہو کر آئی تھیں ان کی حالت بڑی عمدہ تھی انہوں نے یمن کی عمدہ چادر پہنی ہوئی تھی اور عمدہ چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان چادروں پر دو نقطے تھے جو صبر اور زعفران کے تھے ‘ علیلہ نامی راوی خاتون نے کہا : میں نے خواتین کو پایا ہے کہ وہ اس کے ذریعے آراستہ ہوتی ہیں ‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! نبی اکرم ﷺ تشریف لائیں گے ‘ اور یہ ہمارے درمیان بنی سنوری بیٹھی ہوئی ہو گی ، تو اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے حفصہ ! اللہ سے ڈرو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں اس کی تیاری کو ختم کرواتی ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم کیا کہو گی اس خاتون کے کانوں میں ثقل تھا ( یعنی شاید اس کی سماعت کمزور تھی ) ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا : اے سودہ ! کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ۔ انہوں نے کہا : اچھا وہ بہت زیادہ گھبرا گئیں اور پھر وہ اپنے زیور کو اتارنے لگیں انہوں نے دریافت کیا : میں اسے کہاں چھپاؤں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم خیمے میں چلی جاؤ ان لوگوں کا ایک کھجور کے خشک پتوں کا خیمہ تھا ‘ جس میں وہ چیزیں سنبھال کے رکھا کرتے تھے وہ خاتون گئیں اور اس میں چھپ گئیں اس میں کچرا پڑا ہوا تھا ‘ مکڑی کے جالے تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ‘ تو اس دوران یہ دونوں خواتین ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ) ہنس رہی تھیں اور ہنسنے کی زیادتی کی وجہ سے اُن سے بات نہیں ہو پا رہی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ ہنسی کس وجہ سے ہے ؟ آپ نے تین مرتبہ یہ بات دریافت کی ‘ تو ان دونوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے خیمے کی طرف اشارہ کیا ‘ نبی اکرم ﷺ وہاں تشریف لے گئے ‘ تو وہاں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کانپ رہی تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے سودہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کانا ( یعنی دجال ) نکل آیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ نہیں نکلا ‘ لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ‘ وہ نہیں نکلا ‘ لیکن وہ عنقریب نکل آئے گا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لے گئے ‘ آپ نے انہیں باہر نکالا اور ان سے غبار اور مکڑیوں کے جالے کو صاف کرنا شروع کیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائیں گے ‘ تو ہم برے حال میں ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ہمارے درمیان چمک رہی ہو گی ‘ اور اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7685

Majma al-Zawaid #7685

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ كُلَّ غَدَاةٍ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ فَكَانَتْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ فَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَحْضَرَتْ لَهُ مِنْهُ شَيْئًا فَيَمْكُثُ عِنْدَهَا، وَأَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا قَالَتَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ فَتَرَكَ ذَلِكَ الْعَسَلَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ used to visit each of his wives every morning and greet them. One of them had honey, and whenever he entered upon her she would offer him some, so he would linger with her. ʿĀʾishah and Ḥafṣah رضي الله عنهما were troubled by this, and when he entered upon them they said, "O Messenger of Allah, we detect upon you the scent of maghāfīr." So he gave up that honey.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج کے پاس روزانہ صبح کے وقت تشریف لایا کرتے تھے اور انہیں سلام کیا کرتے تھے آپ کی ازواج میں سے ایک خاتون کے پاس شہد موجود تھا جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ تو وہ کچھ شہد آپ کی خدمت میں پیش کر دیتی تھیں نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ٹھہر جاتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حوالے سے الجھن ہوئی جب نبی اکرم ﷺ ان دونوں خواتین کے پاس تشریف لائے ‘ تو ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ شہد ترک کر دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7686

Majma al-Zawaid #7686

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: «كَانَ زِنْجٌ يَلْعَبُونَ بِالْمَدِينَةِ فَوَضَعَتْ عَائِشَةُ مَنْكِبَهَا عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Ḥurayth رضي الله عنه said: Some Abyssinians were performing in Madinah, and ʿĀʾishah رضي الله عنها placed her shoulder upon the shoulder of the Messenger of Allah ﷺ and watched them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : زنگی ( یعنی سیاہ فام لوگ ) مدینہ منورہ میں کرتب دکھا رہے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا کندھا نبی اکرم ﷺ کے کندھے پر رکھا ہوا تھا ‘ اور انہیں دیکھ رہی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔

7687

Majma al-Zawaid #7687

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَخَرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْكُتِي يَا عَائِشَةُ، فَإِنِّي لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ "" ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ: "" إِنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً اجْتَمَعْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ لَتُخْبِرَنَّ كُلُّ امْرَأَةٍ بِمَا فِي زَوْجِهَا، وَلَا تَكْذِبُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتِ: اللَّيْلُ لَيْلُ تِهَامَةَ لَا حَرَّ، وَلَا بَرْدَ، وَلَا مَخَافَةَ، وَلَا سَآمَةَ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتِ: الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَأَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ لَرَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِّ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ مَالِكًا، وَمَا مَالِكٌ؟ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَسَارِحِ قَلِيلَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: زَوْجِي لَا أَذْكُرُهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ أَخْشَى أَنْ لَا أَذَرَهُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِذَا دَخَلَ فَهِدَ، وَإِذَا خَرَجَ أَسِدَ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ [قَالَتْ: لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى جَبَلٍ لَا بِالسَّمِينِ فَيُنْتَقَلُ، وَلَا بِالسَّهْلِ فَيُرْتَقَى إِلَيْهِ. قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ] قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ إِذَا أَكَلَ لَفَّ، وَإِذَا شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِذَا ذَبَحَ اغْتَثَّ، وَإِذَا نَامَ الْتَفَّ، وَلَا يُدْخِلُ الْكَفَّ فَيَعْلَمُ الْبَثَّ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ الْعَشَنَّقَ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ أَبَا زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنَيَّ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ، وَبِجَّحَ نَفْسِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي حَاصِلٍ وَصَاهِلٍ وَأَطِيطٍ، وَدَائِسٍ، وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَأَنَا أَنَامُ عِنْدَهُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، وَأَنْطِقُ فَلَا أُقَبَّحُ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعَ الْجَفْرَةِ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ مِلْءُ إِزَارِهَا وَزَيْنُ أَبِيهَا وَزَيْنُ أُمِّهَا وَخَيْرُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تُخْرِجُ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلَا تُهْلِكُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِي أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَإِذَا هُوَ بِأُمِّ غُلَامَيْنِ كَالسَّقْرَيْنِ فَتَزَوَّجَهَا أَبُو زَرْعٍ وَطَلَّقَنِي، [فَاسْتَبْدَلْتُ] وَكُلُّ بَدَلٍ أَعْوَرُ فَنَكَحْتُ شَابًّا سَرِيًّا وَرَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَعْطَانِي نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ زَوْجًا، فَقَالَ: امْتَارِي يَا أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَجَمَعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَمْلَأْ أَصْغَرَ وِعَاءٍ مِنْ أَوْعِيَةِ أَبِي زَرْعٍ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ خَيْرٌ لِي مِنْ أَبِي زَرْعٍ.». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ أَبِي زَرْعٍ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمَرْفُوعِ غَيْرَ قَوْلِهِ: «كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ بَعْضِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَبَقِيَّتُهُمْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I boasted of my father's wealth in the days of ignorance—it amounted to a thousand thousand ounces—so the Prophet ﷺ said to me: > **"Be quiet, O ʿĀʾishah, for I am to you like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ."** Then the Messenger of Allah ﷺ began to narrate: eleven women gathered in the days of ignorance and pledged that each would truthfully describe her husband without lying. The first said her husband was like the night of Tihāmah—neither hot nor cold, neither frightening nor tiresome. The second praised her husband's sweet scent of zarnab, his soft touch like a rabbit, and that she prevailed over him while he prevailed over others. The third described her husband's lofty pillars, long sword-belt, abundant ashes of hospitality, and house near the gathering place. The fourth married Mālik, whose many camels seldom left their resting places, knowing slaughter awaited whenever they heard the lute. The fifth refused to describe her husband, fearing she would expose all his faults, hidden and open. The sixth said her husband was a leopard at home and a lion abroad, never questioned about his trusts. The seventh said her husband was like lean camel meat atop a rugged mountain—neither fat enough to carry away nor accessible to climb. The eighth said her husband devoured his food, gulped his drink, wrapped himself in sleep, and never lifted a hand to learn her sorrows. The ninth married a crooked stalk—divorce if she spoke, suspense if she stayed silent. The tenth said her husband was every disease combined—wounding, breaking, or both. Then Umm Zarʿ spoke: Abū Zarʿ filled her ears with jewelry and her arms with fat, honored her until she honored herself, moved her from a household of meager flocks to one of horses, camels, threshing, and winnowing. With him she spoke without reproach, slept into the morning, and drank her fill. His mother was generous with full vessels and a spacious house; his son slept in luxury and ate his fill; his daughter was obedient to both parents and envied by rivals; his maid kept the house clean without gossip. Then Abū Zarʿ divorced her and married another woman who gave him two lion-like sons, yet Umm Zarʿ said all of that woman's gifts could not fill one of Abū Zarʿ's vessels. The Prophet ﷺ concluded: > **"I am to you, O ʿĀʾishah, like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ—except that Abū Zarʿ divorced, while I will never divorce."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ‘ جو ایک ہزار ‘ ہزار اوقیہ تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ہو جاؤ کیونکہ میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ‘ جیسے ابوزرع ‘ اُمِ زرع کے لئے تھا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بیان کرنا شروع کیا : ’’ زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکھٹی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر خاتون اپنے شوہر کے بارے میں بتائے گی اور غلط بیانی نہیں کرے گی ‘ ایک خاتون سے کہا گیا : اے فلاں عورت ! تم بتاؤ ‘ تو اس نے کہا : وہ تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ زیادہ ٹھنڈا ‘ نہ زیادہ گرم ‘ نہ خوف کا شکار کرنے والا ‘ نہ افسوس کا شکار کرنے والا ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اس کی خوشبو زرنب نام کی بوٹی کی طرح ہے ‘ اور وہ خرگوش کی طرح ملائم ہے ‘ میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور وہ لوگوں پر غلبہ رکھتا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے جواب دیا : میرے علم کے مطابق میرا شوہر بلند ستونوں کا مالک ‘ بڑے دستر خوان والا ‘ بہت زیادہ راکھ والا ‘ اور گھر کے پاس چوپال والا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے بتایا : میں نے مالک کے ساتھ شادی کی جس کے پاس اونٹ ہیں ‘ جو زیادہ تر گھر کے پاس ( قربان ہونے کے لئے ) رہتے ہیں ‘ وہ چراہ گاہ میں کم ہی جاتے ہیں اور جب وہ ( کسی مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ ذبح ہو جائیں گے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میں اپنے شوہر کا ذکر نہیں کروں گی ، کیونکہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی ہر بات بیان کر دوں گی ، خفیہ اور علانیہ بات ظاہر کر دوں گی ۔ کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ گھر میں آتا ہے ‘ تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : وہ کمزور اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑی پر رکھا ہوا ہو ۔ نہ وہ اتنا صحت مند ہے کہ اسے منتقل کیا جائے اور نہ ہی اس تک رسائی اتنی آسان ہے کہ پہاڑ پر چڑھا جائے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ کھاتا ہے تو سب کچھ ہڑپ کر جاتا ہے ۔ اور جب پیتا ہے تو سب کچھ ختم کر دیتا ہے ۔ جب جانور ذبح کرتا ہے تو ( اس کا گوشت ختم کر دیتا ہے ) اور جب سوتا ہے تو مد ہوش ہو کے سوتا ہے ۔ وہ ہتھیلی میری طرف نہیں بڑھاتا کہ اسے میری پراگندہ حالی کا پتہ چلے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میرے شوہر کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اگر میں بولوں سو مجھے طلاق ملتی ہے اور اگر میں خاموش رہوں تو ( جان سولی پر ) لٹکی رہتی ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میرا شوہر نامرد ہے ‘ وہ احمق ہے ‘ وہ گفتگو نہیں کر سکتا ‘ اسے ہر قسم کی بیماری لاحق ہے اور وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میں نے ابوزرع کے ساتھ شادی کی اور ابوزرع بھی کیا آدمی تھا ‘ اس نے زیور سے میرے کان جھکا دیے اور میرے بازؤں کو چربی سے بھر دیا ‘ اس نے مجھے اپنی مہربانیوں سے اتنا خوش کر دیا کہ میں بھر پور خوش ہو گئی ۔ اس نے مجھے تھوڑی سی بکریوں کے مالک کے ایک چھوٹے سے گھرانے میں پایا تھا اور پھر وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا ‘ جہاں گھوڑے ‘ اونٹ ‘ ہل چلانے والے بیل اور کسان موجود تھے ۔ میں اس کے ہاں جب سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی اور جب پیتی تھی تو خوب سیر ہو جاتی تھی ۔ جب میں جاتی تھی تو مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا بھی کیا چیز ہے ۔ وہ اتنی سی جگہ میں پورا آ جاتا ہے جتنی جگہ پر کوئی نرم و نازک شاخ رکھی جاتی ہے اور بکری کے بچے کا شانہ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کفایت کر جاتا ہے ۔ ابوزرع کی بیٹی ‘ ابوزرع کی بیٹی بھی کیا چیز ہے ‘ جو بھرے ہوئے جسم کی مالک ہے ‘ ماں اور باپ کے لئے زینت کا باعث ہے اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔ ابوزرع کی کنیز ‘ ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ‘ وہ ہماری باتوں کی تفتیش نہیں کرتی اور گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی ۔ ایک مرتبہ ابوزرع میرے پاس سے نکلا ‘ اس وقت دودھ میں سے مکھن نکالا جا رہا تھا ‘ وہاں اس نے دو بچوں کی ماں کو دیکھا وہ بچے چیتے کے بچوں کی طرح تھے ۔ ابوزرع نے اس کے ساتھ شادی کر لی اور اس نے مجھے طلاق دیدی ۔ پھر میں نے ایک اور شادی کر لی ۔ میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ‘ جو بہادر بھی تھا اور شہسوار بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں اور مختلف قسم کے جانور دیئے ‘ اور یہ کہا : اے اُم زرع ! انہیں تم استعمال کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو ۔ میں نے ان سب چیزوں کو جمع کیا تو وہ سب مل کے ابوزرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ابوزرع سے بہتر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ‘ جو ابوزرع کے بارے میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ہے ۔ اس روایت میں صرف یہ الفاظ مرفوع ہیں :’’ میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ‘ اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ رجال کی ابن حبان اور دیگر حضرات نے توثیق کی ہے ‘ اور بعض کے بارے میں ایسے کلام کیا گیا ہے ‘ جو قدح کا باعث نہیں ہو گا ۔

7688

Majma al-Zawaid #7688

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ كَنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْيَمَنِ كَانَ بِهَا بُطُونٌ مِنْ بُطُونِ الْيَمَنِ، وَفِيهَا إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، وَإِنَّهُنَّ خَرَجْنَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُنَّ فَقَالَ بَعْضُهُنَّ لِبَعْضٍ: تَعَالَوْا فَلْنَذْكُرْ بُعُولَتَنَا بِبَعْضِ مَا فِيهِمْ، وَلَا نَكْذِبُ فَقِيلَ لِلْأُولَى تَكَلُّمِي قَالَتْ ""، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ: وَهِيَ عَمْرَةُ بِنْتُ عَمْرٍو، وَقِيلَ لِلثَّالِثَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ كَعْبٍ، قِيلَ لِلرَّابِعَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ هُدَدُ ابْنَةُ أَبِي هَرَوَيْةِ، قِيلَ لِلْخَامِسَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ كَبْشَةُ، قِيلَ لِلسَّادِسَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ هِنْدٌ، قِيلَ لِلسَّابِعَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ حُبَّا بِنْتُ عَلْقَمَةَ، قِيلَ لِلثَّامِنَةِ: تَكَلَّمِي وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ عَبْدٍ، قِيلَ لِلتَّاسِعَةِ: تَكَلَّمِي، وَلَمْ يَسَمِّهَا، قِيلَ لِلْعَاشِرَةِ: تَكَلَّمِي، وَهِيَ كَبْشَةُ بَنْتُ الْأَرْقَمِ، قِيلَ لِأُمِّ زَرْعٍ: تَكَلَّمِي وَهِيَ بِنْتُ الْأُكَيْحِلِ بْنِ سَاعِدَةَ، فَقَالَتْ: أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ؟ قَالَ»: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ. رَمَاهُ النَّسَائِيُّ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ came to me and said: > **"O ʿĀʾishah, I am to you like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ."** The Messenger of Allah ﷺ said that in a Yemeni town there were eleven women who gathered in a sitting and agreed to describe their husbands truthfully without lying: the first, then the second—ʿAmrah bint ʿAmr; the third—Ḥubbā bint Kaʿb; the fourth—Hudad, daughter of Abū Hirawah; the fifth—Kabshah; the sixth—Hind; the seventh—Ḥubbā bint ʿAlqamah; the eighth—Asmāʾ bint ʿAbd; the ninth—whose name was not given; the tenth—Kabshah bint al-Arqam; and Umm Zarʿ, daughter of Ukayḥil ibn Sāʿidah, who said, "Abū Zarʿ—oh, what of Abū Zarʿ!"—and he narrated the full account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یمن کی ایک بستی میں یمن کا ایک قبیلہ رہتا تھا ۔ وہاں گیارہ خواتین تھیں ‘ وہ ایک محفل میں اکٹھی ہوئیں ‘ تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : آؤ ہم اپنے شوہروں کا ذکر کرتی ہیں اور کوئی غلط بیانی نہیں کریں گی ۔ تو پہلی سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ دوسری نے کہا : وہ عمرہ بنت عمرو تھی ‘ پھر تیسری سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت کعب تھی ۔ پھر چوتھی سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہدد بنت ابوہرویہ تھی ۔ پھر پانچویں سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ تھی ۔ پھر چھٹی سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ ہند تھی ۔ پھر ساتویں سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ حبا بنت علقمہ تھی ۔ پھر آٹھویں سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اسماء بنت عبد تھی ۔ پھر نویں سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ اس کا نام راوی نے ذکر نہیں کیا ۔ پھر دسویں سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ کبشہ بنت ارقم تھی ۔ پھر ام زرع سے کہا گیا : تم کلام کرو ۔ وہ اکحیل بن ساعدہ کی صاحبزادی تھی تو اس نے یہ کہا : ابوزرع ‘ ابوزرع کے کیا کہنے ؟ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبیدہ بن محمد عمری کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جس پر امام نسائی نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔

7689

Majma al-Zawaid #7689

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اجْتَمَعَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ أَنْ يَصْدُقْنَ بَيْنَهُنَّ، وَلَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا، فَقَالَتِ الْأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى، وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنَّ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ، قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ، وَلَا قَرَّ، وَلَا مَخَافَةَ، قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبِ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، وَأَنَا أَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكُ وَمَا مَالِكٌ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ لَهُ إِبِلٌ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبِجَّحَنِي فَبَجِحْتُ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، أُمُّ أَبِي زَرْعٍ وَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ تُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي الزَّرْعِ طَوْعُ أُمِّهَا وَطَوْعُ أَبِيهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلَا تَنْقُلُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ وَمَعَهَا ابْنَانِ لَهَا [كَالْفَهْدَيْنِ] يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا فَقَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكَ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا مَلَأَ أَصْغَرَ إِنَاءٍ مِنْ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ». [قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ ""]. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ حُجَّةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said that eleven women gathered in the days of ignorance and pledged to speak truthfully about their husbands, concealing nothing. The first said her husband was like lean camel meat atop a mountain peak—neither easy to climb nor fat enough to carry away. The second refused to expose her husband's faults, hidden and open. The third said her husband was a crooked stalk—divorce if she spoke, suspense if she stayed silent. The fourth said her husband devoured his food, gulped his drink, wrapped himself in sleep, and never reached out a hand to learn her sorrows. The fifth said her husband was impotent and dull—every disease in one—wounding her, breaking her, or both. The sixth said her husband was like the night of Tihāmah—neither hot nor cold, and without fear. The seventh said her husband was a leopard indoors and a lion outdoors, never questioned about his trusts. The eighth said her husband's touch was like a rabbit and his scent like zarnab, and that she prevailed over him while he prevailed over others. The ninth said her husband had lofty pillars, a long sword-belt, abundant ashes, and a house near the gathering place. The tenth said her husband Mālik—oh, what of Mālik—owned camels that seldom went to pasture and mostly stayed resting, knowing slaughter awaited at the sound of the lute. The eleventh, Umm Zarʿ, said: Abū Zarʿ—oh, what of Abū Zarʿ—he filled her ears with jewelry and her arms with fat, honored her until she honored herself, moved her from a household of meager flocks to one of horses, camels, threshing, and winnowing. With him she spoke without reproach, slept into the morning, and drank her fill. His mother was generous with full vessels and a spacious house; his son was pampered in sleep and food; his daughter was obedient and envied; his maid was tidy and discreet. Then the Prophet ﷺ said to ʿĀʾishah: > **"I am to you like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ آپس میں سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کے بارے میں کوئی چیز نہیں چھپائیں گی ۔ پہلی نے کہا : میرا شوہر کمزور اونٹ کا وہ گوشت ہے جو پہاڑ کی چوٹی پہ رکھا ہوا ہے ۔ پہاڑ اتنا آسان نہیں کہ اس پر چڑھا جائے اور گوشت اتنا صحت مند نہیں کہ اسے منتقل کیا جائے ‘ دوسری نے کہا : میں اپنے شوہر کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں اس کی کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ‘ اور ہر ظاہر اور خفیہ بات بیان کر دوں گی ۔ تیسری نے کہا : میرے شوہر کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے ‘ اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق مل جائے اور اگر خاموش رہوں تو ( میری جان سولی پر ) لٹکی رہے ۔ چوتھی نے کہا : میرا شوہر جب کھاتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ‘ جب پیتا ہے تو ختم کر دیتا ہے ‘ جب لیٹتا ہے تو دھت ہو کر سو جاتا ہے ‘ وہ اپنا ہاتھ بڑھا کر میری بے چینی کا انداز نہیں لگاتا ۔ پانچویں نے کہا : میرا شوہر نامرد ہے ‘ احمق ہے ‘ اسے ہر بیماری لاحق ہے اور پھر بھی وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ چھٹی نے کہا : میرا شوہر تہامہ کی رات کی مانند ہے ۔ نہ گرم نہ ٹھنڈا ‘ نہ خوف کا شکار کرنے والا ۔ ساتویں نے کہا : میرا شوہر جب گھر میں آئے تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جائے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ آٹھویں نے کہا : میرا شوہر چھونے میں خرگوش کی طرح ہے اور خوشبو میں زرنب نامی بوٹی کی طرح ہے ۔ میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور لوگ اس سے مغلوب ہوتے ہیں ۔ نویں نے کہا : میرا شوہر بلند عمارت اور طویل دستر خوان والا ہے ‘ اس کی راکھ زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گھر چوپال کے قریب ہے ۔ دسویں نے کہا : میرا شوہر مالک ہے اور مالک کے کیا کہنے ۔ مالک اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کہا جائے ‘ اس کے پاس اونٹ ہیں جو چراگاہ میں کم جاتے ہیں ‘ اور باڑے میں زیادہ رہتے ہیں ۔ جب وہ ( مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب انہیں ذبح کر دیا جائے گا ۔ گیارہویں نے کہا : میرا شوہر ابوزرع ہے ۔ اور ابوزرع کے کیا کہنے ۔ اس نے میرے کان زیور سے بھر دیے اور میرے بازو چربی سے بھر دیے ۔ اس نے مجھے اتنا خوش کیا کہ میں یہ بات بھول ہی گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والے گھرانے میں پایا تھا اور پھر لا کر مجھے ایک ایسے گھر میں رکھ دیا جہاں گھوڑے تھے ‘ اونٹ تھے ‘ بیل تھے کسان تھے ۔ اس کے ہاں میں کوئی بات کرتی تھی تو مجھ پر تقید نہیں ہوتی تھی ۔ میں سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی ۔ کچھ پیتی تھی تو سیر ہو جاتی تھی ۔ ابوزرع کی ماں ‘ ابوزرع کی ماں کے کیا کہنے ۔ اس کے برتن ہمیشہ بھرے رہتے تھے اور اس کا گھر کشادہ تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا ‘ ابوزرع کے بیٹے کے کیا کہنے ۔ ایک شاخ جتنی جگہ پر وہ پورا آ جاتا تھا اور بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی تھی ۔ ابوزرع کی بیٹی ‘ ابوزرع کی بیٹی کے کیا کہنے ۔ وہ ماں کی فرمانبردار تھی اور باپ کی فرمانبردار تھی اور بھرے ہوئے جسم کی مالک تھی اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) یا غصے میں اضافہ کرنے کا باعث تھی ۔ ابوزرع کی کنیز ‘ ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ۔ وہ ہمارے گھر کی بات باہر نہیں پھیلاتی تھی اور ہمارے گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی اور ہمارے گھر میں کوڑا کرکٹ اکٹھا نہیں ہونے دیتی تھی ۔ ایک دن ابوزرع نکلا ‘ اس وقت دودھ سے مکھن نکالا جا رہا تھا ‘ اس کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا ‘ جس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ۔ وہ دونوں چیتے کے بچوں کی طرح تھے ‘ اور اس کے پہلو کے پاس دو اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ تو ابوزرع نے مجھے طلاق دیدی اور اس کے ساتھ شادی کر لی ۔ اس کے بعد میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ۔ جو شہسوار بھی تھا اور بہادر بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں دیں اور مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا عطا کیا اور کہا : اے اُم زرع ! تم بھی کھاؤ اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو اس نے مجھے جو کچھ دیا ‘ اگر میں اس سب کو جمع کروں تو وہ ابوزرع کے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ‘ جیسے ابوزرع ‘ ام زرع کے لئے تھا ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ‘ لیکن وہ ثقہ ‘ امام اور حجت ہیں ۔

7690

Majma al-Zawaid #7690

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ فَقَامَ إِلَيْهَا رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا وَضَمَّهَا إِلَيْهِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أَحْسَبُهَا امْرَأَتَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَحْسَبُهَا غَيْرَى، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَتَبَ الْغَيْرَةَ عَلَى النِّسَاءِ وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ الْبَزَّارُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: I was sitting with the Messenger of Allah ﷺ along with his Companions when a scantily clad woman approached. A man from the company stood, threw a garment over her, and drew her to himself. The face of the Messenger of Allah ﷺ changed color. One of his Companions said, "I suppose she is his wife." The Prophet ﷺ said: > **"I do not think she is other than jealous. Allah has decreed jealousy upon women and striving upon men—so whoever among them is patient will have the reward of a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا لباس مناسب نہیں تھا حاضرین میں سے ایک صاحب اٹھے اور انہوں نے ایک چادر اس پر ڈال دی اور اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔ نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا آپ کے اصحاب میں سے کسی نے عرض کی : یہ اس شخص کی بیوی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے خواتین پر مزاج کی تیزی لکھ دی ہے ‘ اور مردوں پر جہاد کو لازم قرار دیا ہے ‘ جو شخص ان خواتین کے حوالے سے ‘ صبر سے کام لے گا ‘ اسے شہید کا اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن صباح ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور امام بزار نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7691

Majma al-Zawaid #7691

وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّ بِنِسَائِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِهِنَّ فَأَسْرَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ "" يَعْنِي: النِّسَاءَ فَبَيْنَا هُمْ يَسِيرُونَ بَرَكَ بِصَفِيَّةَ ابْنَةِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا، وَكَانَتْ مِنْ أَحَسَنِهِنَّ ظَهْرًا فَبَكَتْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً، وَهُوَ يَنْهَاهَا فَلَمَّا أَكْثَرَتْ زَبَرَهَا، وَانْتَهَرَهَا وَأَمَرَ النَّاسَ [بِالنِّزُولِ] فَنَزَلُوا، وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِلَ قَالَتْ: فَنَزَلُوا، وَكَانَ يَوْمِي فَلَمَّا نَزَلُوا ضُرِبَ خِبَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ فِيهِ قَالَتْ: فَلَمْ أَدْرِ عَلَى مَا أُهْجَمُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ [مِنِّي] فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَبِيعَ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ أَبَدًا، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِّي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ خِمَارًا لَهَا قَدْ ثَرَدَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَذْكَى رِيحُهُ، ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا، ثُمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَتْ طَرَفَ الْخِبَاءِ، فَقَالَ [لَهَا]: "" مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ؟ "" قَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، قَالَ مَعَ أَهْلِهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ: "" [يَا زَيْنَبُ] أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا "" وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا "" فَقَالَتْ: أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتَكَ؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا فَهَجَرَهَا فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنًى فِي سَفَرِهِ - حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ - وَالْمُحَرَّمَ وَصَفَرَ فَلَمْ يَأْتِهَا، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا حَتَّى يَئِسَتْ مِنْهُ فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ دَخَلَ عَلَيْهَا فَرَأَتْ ظِلَّهُ فَقَالَتْ: إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَجُلٍ وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَنْ هَذَا؟ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ؟ قَالَتْ: وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ، وَكَانَتْ تَخْبَئُوهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: فُلَانَةُ لَكَ فَمَشَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ، وَكَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ وَرَضِيَ عَنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يُضَعِّفْهَا أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣafiyyah bint Ḥuyayy رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ performed pilgrimage with his wives. Along the way a driver urged the camels on swiftly, so the Prophet ﷺ said: > **"Gently—your driving of the glass vessels."** —meaning the women. As they traveled, the camel of Ṣafiyyah رضي الله عنها knelt, though hers was among the finest mounts, and she wept. The Messenger of Allah ﷺ came and wiped her tears with his hand while forbidding her to weep, but she wept more, so he rebuked her and ordered the people to halt—though he had not intended to halt. That day belonged to her. When the tents were pitched and he entered his tent, she feared resentment lingered in him, so she went to ʿĀʾishah رضي الله عنها and said, "You know I would never sell my day with the Messenger of Allah ﷺ for anything—but I give my day to you, if you will reconcile the Messenger of Allah ﷺ with me." ʿĀʾishah agreed. She perfumed her veil with saffron, sprinkled it with water to release its fragrance, dressed herself, and went to the Prophet ﷺ, lifting the edge of the tent. He said: > **"What is wrong with you, O ʿĀʾishah? This is not your day."** She said, "That is the bounty of Allah—He gives it to whom He wills." He stayed with her household. When it was time to depart, he said to Zaynab bint Jaḥsh رضي الله عنها: > **"Lend your sister Ṣafiyyah a camel."** She was the one with the most mounts. She said, "Should I lend to your Jewess?" The Prophet ﷺ grew angry and boycotted her for the rest of Dhū al-Ḥijjah, Muḥarram, Ṣafar, and part of Rabīʿ al-Awwal, until she packed away her bedding, thinking he had no need of her—then he returned to her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج کو ساتھ لے کر حج کے لئے تشریف لے گئے راستے میں ایک جگہ پر ایک شخص اترا اور اس نے ان خواتین کے اونٹوں کو لے کے چلنا شروع کیا وہ تیزی سے چلنے لگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آرام سے تم آبگینوں کو لے کے جا رہے ہو یعنی خواتین کو لے کے جا رہے ہو وہ لوگ چلتے ہوئے جا رہے تھے اسی دوران سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیٹھ گیا حالانکہ ان کا اونٹ سب سے اچھا تھا وہ رونے لگی نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کو اس بارے میں بتایا گیا تو نبی اکرم ﷺ اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے آنسو پونچھنے لگے لیکن ان کے رونے میں اضافہ ہو گیا نبی اکرم ﷺ انہیں منع کر رہے تھے جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ڈانٹا اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کر لیں لوگوں نے پڑاؤ کر لیا حالانکہ نبی اکرم ﷺ کا پڑاؤ کرنے کا ارادہ نہیں تھا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے پڑاؤ کر لیا وہ میری باری کا مخصوص دن تھا جب لوگوں نے پڑاؤ کر لیا تو نبی اکرم ﷺ کے لئے خیمہ لگایا گیا نبی اکرم ﷺ اس میں تشریف لے گئے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے نبی اکرم ﷺ کا سامنا کروں مجھے یہ اندیشہ تھا کہ شاید آپ کو مجھ پر غصہ ہو گا میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور میں نے ان سے کہا : تم یہ بات جانتی ہو کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے مخصوص دن کو کبھی بھی کسی بھی چیز کے عوض میں نہیں دے سکتی لیکن میں اپنا مخصوص دن تمہیں دیتی ہوں ۔ اس شرط پر کہ تم اللہ کے رسول کو مجھ سے راضی کروا دو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ٹھیک ہے پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر اوڑھی اس پر زعفران لگایا ہوا تھا انہوں نے اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو آنا شروع ہو جائے پھر انہوں نے عمدہ لباس پہنا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئیں انہوں نے خیمے کا کنارہ اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے آج تمہارا مخصوص دن نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ‘ جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دوپہر اپنی اہلیہ کے ساتھ گزاری جب روانگی کا وقت ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہا : اے زینب ! تم ایک اونٹ اپنی بہن صفیہ کو دیدو اس خاتون کے پاس سب سے زیادہ سواریاں تھیں انہوں نے کہا : کیا میں آپ کی یہودی عورت کو دیدوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے جب ان کی یہ بات زبانی سنی ‘ تو آپ غصے میں آ گئے ‘ اور آپ نے ان کے ساتھ لاتعلقی اختیار کر لی اور آپ نے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ آپ مکہ آ گئے سفر کے ایام کے دوران منی کے ایام میں آپ نے ان سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ آ گئے پھر محرم بھی گزر گیا صفر بھی گزر گیا لیکن آپ ان کے پاس تشریف نہیں لائے ‘ اور آپ نے انہیں باری میں سے حصہ بھی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ آپ کی طرف سے مایوس ہو گئیں جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا تو بولیں یہ ‘ تو کسی مرد کا سایہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ تو میرے ہاں تشریف لاتے نہیں ہیں ، تو پھر یہ کون ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لائے ‘ تو جب انہوں نے دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ میرے ہاں تشریف لائے ہیں ، تو میں کیا کروں ان کی ایک کنیز تھیں جسے انہوں نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا انہوں نے عرض کی : وہ کنیز آپ کی ہوئی پھر آپ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پلنگ کی طرف تشریف لے گئے جسے اٹھا لیا گیا تھا آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے بچھایا اور پھر اپنی اہلیہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا اور آپ ان سے راضی ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سمیہ نامی خاتون ہیں امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں کسی نے بھی اس خاتون کو ضعیف قرار نہیں دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7692

Majma al-Zawaid #7692

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ، وَهُوَ عِنْدِي فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ أَخَذَتْنِي رَعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقْبَلَتْنِي أَفْكَلٌ فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ فَرَمَيْتُ بِهَا، قَالَتْ: فَنَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: Ṣafiyyah sent the Messenger of Allah ﷺ some food she had prepared for him while he was with me. When I saw the servant girl, trembling seized me until my joints shook, and I struck the bowl and threw it. I looked at the Messenger of Allah ﷺ and recognized anger in his face, so I said, "I seek refuge with the Messenger of Allah ﷺ lest he curse me today."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا بھیجا جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے تیار کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت میرے ہاں موجود تھے جب میں نے کنیز کو دیکھا تو مجھے غصہ آ گیا جب وہ کنیز میرے سامنے آئی ‘ تو میں نے پیالے پر ہاتھ مار کر اسے پھینک دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو مجھے آپ کے چہرے پر غصے کا اندازہ ہو گیا میں نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی پناہ مانگتی ہوں ۔ اس بات سے کہ آپ مجھ پر لعنت کریں ۔ میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7693

Majma al-Zawaid #7693

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ: فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ وَجَعَلَ لَا يَفْطَنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: وَجَعَلَتْ تُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطِنَ قَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكِ إِلَّا فِي خَلَائِهِ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سُبِّيهَا "" فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ [لِفَاطِمَةَ]: اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ: إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا، فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ: أَمَا كَفَاكِ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكِ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا: إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ: أَمَا كَفَاكَ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقَالَتْ لَهَا: إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.» قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أُمِّ سَلَمَةَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَهُوَ أَيْضًا أَخْصَرُ مِنْ هَذَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: Umm Salamah was with us when the Prophet ﷺ came in the early night. I mentioned something he had made with his hand, and Umm Salamah did not notice it, so I gestured to him until he understood. Umm Salamah said, "Is this how it is now—can none of us be with you except in private?" and she reviled ʿĀʾishah. The Prophet ﷺ kept forbidding her, but she refused, so the Prophet ﷺ said: > **"Answer her back."** So ʿĀʾishah reviled her until she overcame her. Then Umm Salamah went to ʿAlī and Fāṭimah رضي الله عنهما and complained that ʿĀʾishah had reviled her and spoken against them. ʿAlī sent Fāṭimah to the Prophet ﷺ to complain, but he said to her: > **"She is the beloved of your father, by the Lord of the Kaʿbah."** So she returned to ʿAlī and told him what the Prophet ﷺ had said.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہمارے پاس موجود تھیں نبی اکرم ﷺ رات کے آغاز کے وقت تشریف لائے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے ایک چیز یاد آئی جو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے بنائی تھی سیدہ ام سلمہ ’’ کو اس کا پتہ نہیں چلنا چاہیے تھا ، میں نے اشارے کنائے میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہی ‘ تو آپ کو ( میرے مدعا کی ) سمجھ آ گئی ‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا اس وقت اس طرح ہو رہا ہے ؟ کیا ہم میں سے کوئی ایک آپ کے پاس صرف اس وقت ہو سکتی ہے ‘ جب آپ تنہا ہوں ‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا کہنا شروع کیا نبی اکرم ﷺ انہیں منع کرنے لگے لیکن وہ نہیں مانی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی اسے جواب دو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں برا کہنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ان پر غالب آ گئیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلی گئیں اور یہ کہا : عائشہ نے انہیں برا کہا ہے ‘ اور تم لوگوں کے بارے میں یہ کہا ہے ‘ اور وہ کہا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاؤ اور آپ کی خدمت میں عرض کرو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا ہے ‘ اور یہ کہا ہے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کے سامنے وہ بات ذکر کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! اوہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ارشاد فرمائی تھی ‘ تو انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے بارے میں یہ کہا اور وہ کہا ، لیکن جب فاطمہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں تو آپ نے یہ فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تمہارے باپ کی محبوب شخصیت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے ‘ اور ان کی روایت کی اس روایت سے زیادہ مختصر ہے ‘ اور باقی اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

7694

Majma al-Zawaid #7694

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَكَانَ مَتَاعِي فِيهِ خِفٌّ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ نَاجٍ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ، وَكَانَ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ بَطِيءٍ يُبْطِئُ بِالرَّكْبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" حَوِّلُوا مَتَاعَ عَائِشَةَ عَلَى جَمَلِ صَفِيَّةَ وَحَوِّلُوا مَتَاعَ صَفِيَّةَ عَلَى جَمَلِ عَائِشَةَ حَتَّى يَمْضِيَ الرَّكْبُ "" قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ: يَا لِعِبَادِ اللَّهِ، غَلَبَتْنَا هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ مَتَاعَكِ كَانَ فِيهِ خِفٌّ، وَكَانَ مَتَاعُ صَفِيَّةَ فِيهِ ثِقَلٌ فَأَبْطَأَ بِالرَّكْبِ فَحَوَّلْنَا مَتَاعَهَا عَلَى بَعِيرِكِ وَحَوَّلْنَا مَتَاعَكِ عَلَى بَعِيرِهَا "" قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَتَبَسَّمَ فَقَالَ: "" أَوَ فِي شَكٍّ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ؟ "" قَالَتْ: قُلْتُ: أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَهَلَّا عَدَلْتَ؟ وَسَمِعَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ فِيهِ غَرْبٌ - أَيْ حِدَّةٌ - فَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَلَطَمَ وَجْهِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَهْلًا يَا أَبَا بَكْرٍ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الْغَيْرَى لَا تُبْصِرُ أَسْفَلَ الْوَادِي مِنْ أَعْلَاهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةُ ابْنِ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ بْنُ حِبَّانَ فِي كِتَابِ الْأَمْثَالِ وَلَيْسَ فِيهِ غَيْرُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: My provisions were light, carried on a swift camel, while Ṣafiyyah's provisions were heavy, carried on a slow, weak camel that delayed the caravan. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Transfer ʿĀʾishah's provisions onto Ṣafiyyah's camel, and transfer Ṣafiyyah's provisions onto ʿĀʾishah's camel, so the caravan may proceed."** When I saw that, I said, "O servants of Allah, this Jewess has overcome us with the Messenger of Allah ﷺ!" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"O Umm ʿAbdillāh, your provisions were light and Ṣafiyyah's provisions were heavy, delaying the caravan, so we transferred her provisions onto your camel and your provisions onto hers."** I said, "Do you not claim that you are the Messenger of Allah? Then why do you not act justly?" Abū Bakr رضي الله عنه heard me—he was sharp-tempered—and came toward me and struck my face. The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Gently, O Abā Bakr."** Abū Bakr said, "O Messenger of Allah, did you not hear what she said?" The Messenger of Allah ﷺ said: > **"The jealous one cannot distinguish the bottom of the valley from its top."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرا سامان کم تھا ‘ اور وہ ایک تگڑے اونٹ پر تھا ‘ اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا سامان زیادہ تھا ‘ اور وہ ایک سست اور کمزور اونٹ پر تھا جس کی وجہ سے دیگر سواروں کو چلنے میں مشکل ہو رہی تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عائشہ کا سامان منتقل کر کے صفیہ کے اونٹ پر رکھ دو اور صفیہ کا سامان منتقل کر کے عائشہ کے اونٹ پر رکھ دو تاکہ سوار چلتے رہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں نے یہ بات دیکھی ‘ تو میں نے کہا : اے اللہ کے بندو ! یہ یہودی عورت ہمارے مقابلے میں اللہ کے رسول پر غالب آ گئی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام عبداللہ ! تمہارا سامان ہلکا ہے ‘ اور صفیہ کا سامان وزنی ہے جس کی وجہ سے سواروں کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے ‘ تو ہم نے اس کا سامان تمہارے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے ‘ اور تمہارا سامان اس کے اونٹ پر منتقل کر دیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا : کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام عبداللہ ! کیا تمہیں اس بارے میں شک ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ یہ نہیں کہتے ہیں : کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ تو آپ عدل سے کام کیوں نہیں لیتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے سنا ان کے مزاج میں تیزی تھی وہ میری طرف آئے ‘ اور انہوں نے میرے چہرے پر طمنچہ مارا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! ٹھہر جاؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے جو کہا ‘ کیا آپ نے وہ سنا نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مزاج کی تیزی کے وقت وادی کے اوپری اور نشیبی حصے کا فرق دکھائی نہیں دیتا ( یعنی غصے کے عالم میں کچھ سمجھ نہیں آتا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے ‘ اور ایک راوی سلمہ بن فضل ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جن میں یحیی بن معین ابن حبان اور ابوحاتم شامل ہیں جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت ابوشیخ بن حبان نے کتاب الامثال میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں اسامہ بن زید لیثی کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے ‘ اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہیں اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7695

Majma al-Zawaid #7695

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ وَنَحْنُ مَعَهُ فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ، وَكَانَ مَعَ زَيْنَبَ فَضْلٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدِ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا لَكِ "" قَالَتْ: أَنَا أُعْطِي هَذِهِ الْيَهُودِيَّةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَجَرَهَا بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ وَمُحَرَّمٍ وَصَفَرٍ، وَأَيَّامًا مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، حَتَّى رَفَعَتْ مَتَاعَهَا وَسَرِيرَهَا فَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا فَبَيْنَا هِيَ ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَةٌ بِنِصْفِ النَّهَارِ إِذْ رَأَتْ ظِلَّهُ قَدْ أَقْبَلَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا وَمَتَاعَهَا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُمَيَّةُ رَوَى لَهَا أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ، وَلَمْ يَجْرَحْهَا أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها said: The Messenger of Allah ﷺ was on a journey with us when Ṣafiyyah's camel fell ill, while Zaynab had a spare mount. The Messenger of Allah ﷺ said to her: > **"Ṣafiyyah's camel has fallen ill—if only you would give her one of your camels."** She said, "Should I give to this Jewess?" The Messenger of Allah ﷺ grew angry and boycotted her for the rest of Dhū al-Ḥijjah, Muḥarram, Ṣafar, and some days of Rabīʿ al-Awwal, until she packed away her bedding and her furnishings, thinking he had no need of her. Then one midday, as she sat, she saw his shadow approaching, so she set her bedding and furnishings back in place.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ہم آپ کے ساتھ تھے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک اضافی سواری بھی تھی نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے اگر تم اپنا اونٹ اسے دیدو ( تو یہ مناسب ہو گا ) انہوں نے عرض کی : کیا میں اس یہودی عورت کو دیدوں ‘ تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ‘ اور آپ نے ذوالج کے مہینے کے بقیہ دن محرم کا مہینہ اور صفر کا مہینہ اور ربیع الاول کے مہینے کے کچھ دن ان سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ اس خاتون نے اپنا سامان اور بستر اٹھا دیا انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اب نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف نہیں لائیں گے ایک دن وہ دوپہر کے وقت بیٹھی ہوئی تھیں اسی دوران انہوں نے آپ کا سایہ دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیں ، تو انہوں نے دوبارہ پلنگ بچھایا اور سامان رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاتون سمیہ ہیں امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ان سے روایت نقل کی ہے ۔ کسی نے ان پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7696

Majma al-Zawaid #7696

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"When a man marries a virgin, he stays with her for three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کرے ‘ تو اس کے ہاں تین دن ٹھہرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔