«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَخَرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْكُتِي يَا عَائِشَةُ، فَإِنِّي لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ "" ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ: "" إِنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً اجْتَمَعْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ لَتُخْبِرَنَّ كُلُّ امْرَأَةٍ بِمَا فِي زَوْجِهَا، وَلَا تَكْذِبُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتِ: اللَّيْلُ لَيْلُ تِهَامَةَ لَا حَرَّ، وَلَا بَرْدَ، وَلَا مَخَافَةَ، وَلَا سَآمَةَ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتِ: الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَأَغْلِبُهُ وَالنَّاسُ يَغْلِبُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ لَرَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِّ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ مَالِكًا، وَمَا مَالِكٌ؟ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَسَارِحِ قَلِيلَاتُ الْمَبَارِكِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: زَوْجِي لَا أَذْكُرُهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ أَخْشَى أَنْ لَا أَذَرَهُ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِذَا دَخَلَ فَهِدَ، وَإِذَا خَرَجَ أَسِدَ، وَلَا يُسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ [قَالَتْ: لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى جَبَلٍ لَا بِالسَّمِينِ فَيُنْتَقَلُ، وَلَا بِالسَّهْلِ فَيُرْتَقَى إِلَيْهِ. قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ] قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ إِذَا أَكَلَ لَفَّ، وَإِذَا شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِذَا ذَبَحَ اغْتَثَّ، وَإِذَا نَامَ الْتَفَّ، وَلَا يُدْخِلُ الْكَفَّ فَيَعْلَمُ الْبَثَّ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ الْعَشَنَّقَ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ، قِيلَ: أَنْتِ يَا فُلَانَةُ، قَالَتْ: نَكَحْتُ أَبَا زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنَيَّ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ، وَبِجَّحَ نَفْسِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي حَاصِلٍ وَصَاهِلٍ وَأَطِيطٍ، وَدَائِسٍ، وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَأَنَا أَنَامُ عِنْدَهُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، وَأَنْطِقُ فَلَا أُقَبَّحُ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ، مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعَ الْجَفْرَةِ، بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ مِلْءُ إِزَارِهَا وَزَيْنُ أَبِيهَا وَزَيْنُ أُمِّهَا وَخَيْرُ جَارَتِهَا، جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تُخْرِجُ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا، وَلَا تُهْلِكُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِي أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَإِذَا هُوَ بِأُمِّ غُلَامَيْنِ كَالسَّقْرَيْنِ فَتَزَوَّجَهَا أَبُو زَرْعٍ وَطَلَّقَنِي، [فَاسْتَبْدَلْتُ] وَكُلُّ بَدَلٍ أَعْوَرُ فَنَكَحْتُ شَابًّا سَرِيًّا وَرَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَعْطَانِي نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ زَوْجًا، فَقَالَ: امْتَارِي يَا أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَجَمَعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَمْلَأْ أَصْغَرَ وِعَاءٍ مِنْ أَوْعِيَةِ أَبِي زَرْعٍ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ خَيْرٌ لِي مِنْ أَبِي زَرْعٍ.». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ أَبِي زَرْعٍ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمَرْفُوعِ غَيْرَ قَوْلِهِ: «كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ بَعْضِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَبَقِيَّتُهُمْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يُقْدَحُ.
EnglishUnverified translation
ʿĀʾishah رضي الله عنها said: I boasted of my father's wealth in the days of ignorance—it amounted to a thousand thousand ounces—so the Prophet ﷺ said to me: > **"Be quiet, O ʿĀʾishah, for I am to you like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ."** Then the Messenger of Allah ﷺ began to narrate: eleven women gathered in the days of ignorance and pledged that each would truthfully describe her husband without lying. The first said her husband was like the night of Tihāmah—neither hot nor cold, neither frightening nor tiresome. The second praised her husband's sweet scent of zarnab, his soft touch like a rabbit, and that she prevailed over him while he prevailed over others. The third described her husband's lofty pillars, long sword-belt, abundant ashes of hospitality, and house near the gathering place. The fourth married Mālik, whose many camels seldom left their resting places, knowing slaughter awaited whenever they heard the lute. The fifth refused to describe her husband, fearing she would expose all his faults, hidden and open. The sixth said her husband was a leopard at home and a lion abroad, never questioned about his trusts. The seventh said her husband was like lean camel meat atop a rugged mountain—neither fat enough to carry away nor accessible to climb. The eighth said her husband devoured his food, gulped his drink, wrapped himself in sleep, and never lifted a hand to learn her sorrows. The ninth married a crooked stalk—divorce if she spoke, suspense if she stayed silent. The tenth said her husband was every disease combined—wounding, breaking, or both. Then Umm Zarʿ spoke: Abū Zarʿ filled her ears with jewelry and her arms with fat, honored her until she honored herself, moved her from a household of meager flocks to one of horses, camels, threshing, and winnowing. With him she spoke without reproach, slept into the morning, and drank her fill. His mother was generous with full vessels and a spacious house; his son slept in luxury and ate his fill; his daughter was obedient to both parents and envied by rivals; his maid kept the house clean without gossip. Then Abū Zarʿ divorced her and married another woman who gave him two lion-like sons, yet Umm Zarʿ said all of that woman's gifts could not fill one of Abū Zarʿ's vessels. The Prophet ﷺ concluded: > **"I am to you, O ʿĀʾishah, like Abū Zarʿ was to Umm Zarʿ—except that Abū Zarʿ divorced, while I will never divorce."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ‘ جو ایک ہزار ‘ ہزار اوقیہ تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ہو جاؤ کیونکہ میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں ‘ جیسے ابوزرع ‘ اُمِ زرع کے لئے تھا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ بیان کرنا شروع کیا : ’’ زمانہ جاہلیت میں گیارہ خواتین اکھٹی ہوئیں اور انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر خاتون اپنے شوہر کے بارے میں بتائے گی اور غلط بیانی نہیں کرے گی ‘ ایک خاتون سے کہا گیا : اے فلاں عورت ! تم بتاؤ ‘ تو اس نے کہا : وہ تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ زیادہ ٹھنڈا ‘ نہ زیادہ گرم ‘ نہ خوف کا شکار کرنے والا ‘ نہ افسوس کا شکار کرنے والا ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اس کی خوشبو زرنب نام کی بوٹی کی طرح ہے ‘ اور وہ خرگوش کی طرح ملائم ہے ‘ میں اس پر غلبہ رکھتی ہوں اور وہ لوگوں پر غلبہ رکھتا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے جواب دیا : میرے علم کے مطابق میرا شوہر بلند ستونوں کا مالک ‘ بڑے دستر خوان والا ‘ بہت زیادہ راکھ والا ‘ اور گھر کے پاس چوپال والا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی ! تم بتاؤ ۔ تو اس نے بتایا : میں نے مالک کے ساتھ شادی کی جس کے پاس اونٹ ہیں ‘ جو زیادہ تر گھر کے پاس ( قربان ہونے کے لئے ) رہتے ہیں ‘ وہ چراہ گاہ میں کم ہی جاتے ہیں اور جب وہ ( کسی مہمان کی آمد پر ) باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب وہ ذبح ہو جائیں گے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میں اپنے شوہر کا ذکر نہیں کروں گی ، کیونکہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی تو اس کی ہر بات بیان کر دوں گی ، خفیہ اور علانیہ بات ظاہر کر دوں گی ۔ کوئی بات نہیں چھوڑوں گی ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ گھر میں آتا ہے ‘ تو چیتا ہوتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر ہوتا ہے ۔ اس نے جو عہد کیا ہو اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاتا ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : وہ کمزور اونٹ کا گوشت ہے جو پہاڑی پر رکھا ہوا ہو ۔ نہ وہ اتنا صحت مند ہے کہ اسے منتقل کیا جائے اور نہ ہی اس تک رسائی اتنی آسان ہے کہ پہاڑ پر چڑھا جائے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق جب وہ کھاتا ہے تو سب کچھ ہڑپ کر جاتا ہے ۔ اور جب پیتا ہے تو سب کچھ ختم کر دیتا ہے ۔ جب جانور ذبح کرتا ہے تو ( اس کا گوشت ختم کر دیتا ہے ) اور جب سوتا ہے تو مد ہوش ہو کے سوتا ہے ۔ وہ ہتھیلی میری طرف نہیں بڑھاتا کہ اسے میری پراگندہ حالی کا پتہ چلے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میرے شوہر کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اگر میں بولوں سو مجھے طلاق ملتی ہے اور اگر میں خاموش رہوں تو ( جان سولی پر ) لٹکی رہتی ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میرا شوہر نامرد ہے ‘ وہ احمق ہے ‘ وہ گفتگو نہیں کر سکتا ‘ اسے ہر قسم کی بیماری لاحق ہے اور وہ مار پیٹ بھی کرتا ہے ۔ پھر کہا گیا : اے فلانی تم بتاؤ ۔ اس نے کہا : میں نے ابوزرع کے ساتھ شادی کی اور ابوزرع بھی کیا آدمی تھا ‘ اس نے زیور سے میرے کان جھکا دیے اور میرے بازؤں کو چربی سے بھر دیا ‘ اس نے مجھے اپنی مہربانیوں سے اتنا خوش کر دیا کہ میں بھر پور خوش ہو گئی ۔ اس نے مجھے تھوڑی سی بکریوں کے مالک کے ایک چھوٹے سے گھرانے میں پایا تھا اور پھر وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا ‘ جہاں گھوڑے ‘ اونٹ ‘ ہل چلانے والے بیل اور کسان موجود تھے ۔ میں اس کے ہاں جب سوتی تھی تو صبح تک سوئی رہتی تھی اور جب پیتی تھی تو خوب سیر ہو جاتی تھی ۔ جب میں جاتی تھی تو مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا ۔ ابوزرع کا بیٹا بھی کیا چیز ہے ۔ وہ اتنی سی جگہ میں پورا آ جاتا ہے جتنی جگہ پر کوئی نرم و نازک شاخ رکھی جاتی ہے اور بکری کے بچے کا شانہ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کفایت کر جاتا ہے ۔ ابوزرع کی بیٹی ‘ ابوزرع کی بیٹی بھی کیا چیز ہے ‘ جو بھرے ہوئے جسم کی مالک ہے ‘ ماں اور باپ کے لئے زینت کا باعث ہے اور اپنی پڑوسن ( یا سوکن ) کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔ ابوزرع کی کنیز ‘ ابوزرع کی کنیز کے کیا کہنے ‘ وہ ہماری باتوں کی تفتیش نہیں کرتی اور گھر کی چیز باہر نہیں لے جاتی ۔ ایک مرتبہ ابوزرع میرے پاس سے نکلا ‘ اس وقت دودھ میں سے مکھن نکالا جا رہا تھا ‘ وہاں اس نے دو بچوں کی ماں کو دیکھا وہ بچے چیتے کے بچوں کی طرح تھے ۔ ابوزرع نے اس کے ساتھ شادی کر لی اور اس نے مجھے طلاق دیدی ۔ پھر میں نے ایک اور شادی کر لی ۔ میں نے ایک خوش اخلاق نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ‘ جو بہادر بھی تھا اور شہسوار بھی تھا ۔ اس نے مجھے طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں اور مختلف قسم کے جانور دیئے ‘ اور یہ کہا : اے اُم زرع ! انہیں تم استعمال کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی دو ۔ میں نے ان سب چیزوں کو جمع کیا تو وہ سب مل کے ابوزرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہیں بھرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے ابوزرع سے بہتر ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ‘ جو ابوزرع کے بارے میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف ہے ۔ اس روایت میں صرف یہ الفاظ مرفوع ہیں :’’ میں تمہارے لئے یوں ہوں ، جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ‘ اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں اور بقیہ رجال کی ابن حبان اور دیگر حضرات نے توثیق کی ہے ‘ اور بعض کے بارے میں ایسے کلام کیا گیا ہے ‘ جو قدح کا باعث نہیں ہو گا ۔