«وَعَنْ وَابِصَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ لِلنَّاسِ بِالرِّقَّةِ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: إِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ؟ "". قَالُوا: هَذَا. قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ؟. "" قَالُوا: هَذَا. قَالَ: "" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، هَلْ بَلَّغْتُ؟ "" قَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اشْهَدْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ "". فَادْنُوا نُبَلِّغْكُمْ كَمَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
EnglishUnverified translation
Wābiṣah [ibn Maʿbad] رضي الله عنه used to stand before the people in al-Raqqah at the Grand Mosque on the Day of Fiṭr and the Day of Sacrifice (*al-Naḥr*), saying: I was present with the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage while he was addressing the people. He said: > **"O people, which month is the most sacred?"** They said, "This month." He ﷺ said: > **"O people, which land is the most sacred?"** They said, "This land." He ﷺ said: > **"Indeed, your blood, your wealth, and your honor are inviolable among you, just as the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours, until the Day you meet your Lord. Have I conveyed the message?"** The people said, "Yes!" The Messenger of Allah ﷺ raised his hands toward the sky and said: > **"O Allah, bear witness!"** Then he ﷺ said: > **"O people, let the one who is present among you convey to the one who is absent."** [Wābiṣah then said to the people:] "Come close, so that we may convey to you just as the Messenger of Allah ﷺ instructed us."
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن ‘ وہ ’’ رقہ ‘‘ کی سب سے بڑی مسجد میں ‘ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور یہ بات بیان کی : ’’ حجۃ الوداع کے موقع پر ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اے لوگو ! کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ‘ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ، تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ‘ اس مہینے میں ‘ اس شہر میں حرمت ہے اور ( یہ اُس وقت تک قابل احترام رہیں گے ) جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے ‘ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! گواہ ہو جا ! پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم میں سے موجود ( افراد ) غیر موجود ( افراد ) تک تبلیغ کر دیں ‘‘۔ اُس کے بعد ‘ حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ نے سامعین سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ ! تاکہ ہم تمہیں اُسی طرح تبلیغ کر دیں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔