Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 4

Book of Knowledge

Hadith 592–631

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

592

Majma al-Zawaid #592

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «إِنِّي مُحَدِّثُكُمُ الْحَدِيثَ، فَلْيُحَدِّثِ الْحَاضِرُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to say: > **"Indeed, I speak these words to you, so let the one among you who is present convey them to the one who is absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ’’ میں تمہارے سامنے کوئی بات کرتا ہوں ‘ تو تم میں سے موجود افراد ‘ غیر موجود افراد تک ‘ وہ بات پہنچا دیا کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

593

Majma al-Zawaid #593

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِالْخَيْفِ، - خَيْفِ مِنًى -: "" نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَاوَوَعَاهَا وَبَلَّغَهَا مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرِجَالُهَا مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Muṭʿim رضي الله عنه narrated: I heard the Messenger of Allah ﷺ say at al-Khayf—the Khayf of Minā: > **"May Allah brighten the face of a servant who hears my saying, memorizes it, comprehends it, and conveys it to whoever has not heard it; for perhaps a carrier of understanding possesses no profound understanding himself, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who possesses deeper understanding than he. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere advice to the leaders of the Muslims, and adhering to their main body; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ ﷺ نے ’’ خیف ‘‘ میں ، یعنی منی کے خیف میں ‘ یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے یاد اور محفوظ رکھے اور پھر وہ بات اس شخص تک پہنچا دے جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ‘ اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے بڑا علم ہوتا ہے ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا اللہ تعالیٰ کیلے خالص ہونا ‘ مسلمان حکرانوں کی خیرخواہی ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ‘ غیر موجود افراد تک محیط ہوتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابن اسحاق نے ‘ زہری سے روایت کیا ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا شخص ہے ‘ ایک اور سند کے ساتھ ‘ یہ صالح بن کیسان کے حوالے سے ‘ زہری سے منقول ہے ‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

594

Majma al-Zawaid #594

وَعَنْ وَابِصَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: "" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَدِ اتُّهِمَ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُطَوَّلًا بِإِسْنَادٍ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا يَأْتِي.

EnglishUnverified translation

Wābiṣah [ibn Maʿbad] رضي الله عنه narrated: I heard the Messenger of Allah ﷺ delivering a sermon during the Farewell Pilgrimage, and he said: > **"Let the one who is present convey to the one who is absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ‘ نبی اکرم ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر ‘ خطبے کے دوران ‘ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ موجود ( فرد ) غیر موجود تک تبلیغ کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ‘ جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ‘ یہ روایت امام بزار نے ایک طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ جس کی سند اس سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور وہ روایت آگے آ رہی ہے ۔

595

Majma al-Zawaid #595

«وَعَنْ وَابِصَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُومُ لِلنَّاسِ بِالرِّقَّةِ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: إِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ؟ "". قَالُوا: هَذَا. قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ؟. "" قَالُوا: هَذَا. قَالَ: "" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ مُحَرَّمَةٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، هَلْ بَلَّغْتُ؟ "" قَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اشْهَدْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ "". فَادْنُوا نُبَلِّغْكُمْ كَمَا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Wābiṣah [ibn Maʿbad] رضي الله عنه used to stand before the people in al-Raqqah at the Grand Mosque on the Day of Fiṭr and the Day of Sacrifice (*al-Naḥr*), saying: I was present with the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage while he was addressing the people. He said: > **"O people, which month is the most sacred?"** They said, "This month." He ﷺ said: > **"O people, which land is the most sacred?"** They said, "This land." He ﷺ said: > **"Indeed, your blood, your wealth, and your honor are inviolable among you, just as the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours, until the Day you meet your Lord. Have I conveyed the message?"** The people said, "Yes!" The Messenger of Allah ﷺ raised his hands toward the sky and said: > **"O Allah, bear witness!"** Then he ﷺ said: > **"O people, let the one who is present among you convey to the one who is absent."** [Wābiṣah then said to the people:] "Come close, so that we may convey to you just as the Messenger of Allah ﷺ instructed us."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : عیدالفطر یا شاید عیدالاضحی کے دن ‘ وہ ’’ رقہ ‘‘ کی سب سے بڑی مسجد میں ‘ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور یہ بات بیان کی : ’’ حجۃ الوداع کے موقع پر ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اے لوگو ! کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ‘ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ، تمہارے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ‘ اس مہینے میں ‘ اس شہر میں حرمت ہے اور ( یہ اُس وقت تک قابل احترام رہیں گے ) جب تک تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہو جاتے ‘ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! گواہ ہو جا ! پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم میں سے موجود ( افراد ) غیر موجود ( افراد ) تک تبلیغ کر دیں ‘‘۔ اُس کے بعد ‘ حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ نے سامعین سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ ! تاکہ ہم تمہیں اُسی طرح تبلیغ کر دیں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

596

Majma al-Zawaid #596

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ بِحِمْصَ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ مَجْلِسَكُمْ هَذَا مِنْ بَلَاغِ اللَّهِ لَكُمْ وَاحْتِجَاجِهِ عَلَيْكُمْ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَلَّغَ، فَبَلِّغُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Makḥūl narrated: Ibn Abī Zakariyyā, Sulaymān ibn Ḥabīb, and I entered upon Abū Umāmah [al-Bāhilī] رضي الله عنه in Ḥimṣ. We greeted him with salām, and he said: > **"Indeed, this gathering of yours is part of Allah's conveyance to you and His proof against you. And indeed, the Messenger of Allah ﷺ has conveyed the message, so convey it you also."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : میں ابن ابوزکریا اور سلیمان بن حبیب ’’ حمص ‘‘ میں ‘ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ہم نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا :’’ تمہاری یہ محفل ( یا نشست ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے تبلیغ ہے ‘ اور یہ تمہارے خلاف اُس کی حجت ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے تبلیغ کی تھی ، تو تم بھی تبلیغ کرو ! “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

597

Majma al-Zawaid #597

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَيُحَدِّثُنَا حَدِيثًا كَثِيرًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا سَكَتَ قَالَ: أَعَقَلْتُمْ؟ بَلِّغُوا كَمَا بُلِّغْتُمْ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaym ibn ʿĀmir narrated: We used to sit with Abū Umāmah رضي الله عنه, and he would narrate many hadiths to us from the Messenger of Allah ﷺ. Whenever he finished speaking, he would say: > **"Have you understood? Then convey as it was conveyed to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ مذکور ہے : سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں : ہم حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے ‘ تو وہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بہت سی احادیث بیان کرتے تھے ‘ جب وہ خاموش ہوتے ( یعنی جب وہ احادیث بیان کر لیتے تھے ) تو یہ فرماتے تھے : کیا تم نے سمجھ لیا ہے ؟ اب تم تبلیغ کرنا ! جس طرح تمہیں تبلیغ کی گئی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

598

Majma al-Zawaid #598

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَسْمَعُ صِغَارُهُمْ مِنْ كِبَارِهِمْ، وَفِي آخِرِهِمْ يَسْمَعُ كِبَارُهُمْ مِنْ صِغَارِهِمْ. قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَلِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّ الصِّغَارَ سَمِعُوا وَلَمْ يَسْمَعِ الْكِبَارُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"In the early era of this Ummah, the young learn from their elders; but in its later era, the elders will learn from their youngsters."** It was said to Ibn ʿAbbās, "Why is that?" He replied: > **"Because the youngsters will have heard and learned, while the elders did not."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس امت کے ابتدائی حصے میں کمسن لوگ ‘ بڑے لوگوں سے سماع کرتے ہیں ( یعنی علم حاصل کرتے ہیں ) اور اس امت کے آخری حصے میں ‘ بڑی عمر کے لوگ ، کمسن لوگوں سے سماع کریں گے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا : اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ انہوں نے جواب دیا : کیونکہ کمسن لوگوں نے سماع کیا ہو گا ‘ اور بڑی عمر کے لوگوں نے سماع نہیں کیا ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے ۔

599

Majma al-Zawaid #599

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: يَا بَنِيَّ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ فَاحْتَفِظُوا بِهَا: لَا تَقْبَلُوا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ ثِقَةٍ، وَلَا تَدِينُوا وَلَوْ لَبِسْتُمُ الْعَبَاءَ، وَلَا تَكْتُبُوا شِعْرًا تَشْغَلُوا بِهِ قُلُوبَكُمْ عَنِ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيُحْتَمَلُ فِي هَذَا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه, when death approached him, said: > **"O my sons! Indeed, I forbid you from three things, so preserve them: do not accept a hadith from the Messenger of Allah ﷺ except from a trustworthy person (*thiqah*); do not incur debts even if you have to wear coarse wool (*ʿabāʾah*); and do not write poetry so as to occupy your hearts away from the Qur'an."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کی وفات کا وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، تم انھیں یاد رکھنا ! اللہ کے رسول کی حدیث ‘ صرف کسی مستند شخص سے قبول کرنا ‘ اور تم قرض نہ لینا ، خواہ تمہیں پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں ‘ اور تم شعر نوٹ نہ کرنا ‘ ورنہ تمہارے دل ‘ قرآن سے ہٹ کے اُس ( شاعری ) میں مشغول ہو جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اس میں احتمال موجود ہے ۔

600

Majma al-Zawaid #600

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ تَظْهَرَ فِيكُمْ شَيَاطِينُ كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَوْثَقَهَا فِي الْبَحْرِ، يُصَلُّونَ مَعَكُمْ فِي مَسَاجِدِكُمْ، وَيَقْرَءُونَ مَعَكُمُ الْقُرْآنَ، وَيُجَادِلُونَكُمْ فِي الدِّينِ، وَإِنَّهُمْ لَشَيَاطِينُ فِي صُورَةِ الْإِنْسَانِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ مُسْلِمٌ مَوْقُوفًا، وَهَذَا مَرْفُوعٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ نَسَبَهُ ابْنُ مَعِينٍ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Soon there will appear among you devils whom Sulaymān ibn Dāwūd [عليهما السلام] imprisoned in the sea. They will pray with you in your mosques, recite the Qur'an with you, and dispute with you concerning religion; yet indeed, they are devils in human form."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب تمہارے درمیان وہ شیاطین ظاہر ہو جائیں گے ‘ جن کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندر میں قید کیا ہوا تھا وہ تم لوگوں کے ساتھ تمہاری مساجد میں نماز ادا کریں گے ‘ وہ تمہارے ساتھ قرآن پڑھیں گے ‘ اور وہ تمہارے ساتھ دین کے بارے میں بحث کریں گے ‘ انسانی شکل میں وہ شیاطین ہوں گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام مسلم نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہاں یہ ’’ مرفوع ‘‘ ہے ‘ اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد واسطی ہے ‘ یحیی بن معین نے اُس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ۔

601

Majma al-Zawaid #601

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ قَالَ: "" «يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ، يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَنَسَبَهُ إِلَى الْوَضْعِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah and ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهم reported as a raised (*marfūʿ*) narration that the Prophet ﷺ said: > **"This knowledge shall be carried by the trustworthy (*ʿudūl*) of every successive generation; they will purge from it the distortions of extremists, the false interpretations of the ignorant, and the plagiarisms of the falsehood-mongers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بعد والوں میں سے اس علم کو عادل لوگ حاصل کریں گے ، جو اس سے غلو کرنے والوں کی تعریف ، جاہل لوگوں کی تاویل اور باطل لوگوں کی اس کی طرف غلط نسبت کی نفی کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی ہے ، جسے یحیی بن معین اور امام احمد بن حنبل نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی نسبت ( حدیث ) ایجاد کرنے کی طرف کی ہے ۔

602

Majma al-Zawaid #602

وَعَنِ الْمُقَنَّعِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَدَقَةِ إِبِلِنَا فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ، فَقُلْتُ: إِنَّ فِيهَا نَاقَتَيْنِ هَدِيَّةً لَكَ، فَأَمَرَ بِعَزْلِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا وَخَاضَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَاعِثُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رَقِيقِ مِصْرَ، أَوْ قَالَ: مُضَرَ - شَكَّ أَبُو غَسَّانَ - يُصَدِّقُهُمْ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ لَنَا وَمَا عِنْدَ أَهْلِنَا مِنْ مَالٍ وَلَا صَدَّقْتُهُمْ هَاهُنَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ مَعَهُ أَسْوَدُ قَدْ حَاذَى رَأْسُهُ بِرَأْسِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَطْوَلَ مِنْهُ، فَلَّمَا دَنَوْتُ كَأَنَّهُ أَهْوَى إِلَيَّ، فَكَفَّهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ خَاضُوا فِي كَذَا وَكَذَا، فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيَّ "". قَالَ الْمُقَنَّعُ: فَلَمْ أُحَدِّثْ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا حَدِيثًا نَطَقَ بِهِ كِتَابٌ أَوْ جَرَتْ بِهِ سُنَّةٌ، يُكْذَبُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ، فَكَيْفَ بَعْدَ مَوْتِهِ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Muqannaʿ رضي الله عنه narrated: I brought the zakat of our camels to the Prophet ﷺ, and he ordered that it be accepted. I said, "Among them are two she-camels as a gift for you." So he ordered that the gift be set apart from the zakat. I remained for some days, and the people began spreading rumors that the Messenger of Allah ﷺ was sending Khālid ibn al-Walīd to the slaves of Miṣr—or he said: Muḍar (the narrator Abū Ghassān was unsure)—to collect their zakat. I said, "By Allah, whatever property we and our people possess, I have already paid its zakat here." So I came to the Prophet ﷺ while he was upon a she-camel of his, accompanied by a tall Black man whose head was level with the head of the Prophet ﷺ—I had never seen anyone among the people taller than him. When I drew close, the man leaned toward me [to restrain me], but the Prophet ﷺ stopped him. I said, "The people are spreading rumors saying such-and-such." Thereupon, the Prophet ﷺ raised his hands until I could see the whiteness of his armpits, and he said: > **"O Allah, I do not make it lawful for them to attribute lies to me!"** Al-Muqannaʿ said: "Therefore, I never narrate anything from the Prophet ﷺ except a hadith explicitly spoken by the Book of Allah or established by the Sunnah. If lies were attributed to him during his lifetime, how much more so after his death?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقنع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنے اونٹوں کی زکوۃ کے ہمراہ حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے اُن کے بارے میں حکم دیا تو انہیں قبضہ میں لے لیا گیا ، میں نے گزارش کی : ان میں دو اونٹنیاں ایسی ہیں جو آپ کے لیے تحفے کے طور پر ہیں ، نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت تحفہ کو صدقے سے الگ کر دیا گیا ، میں کچھ دنوں تک وہاں ٹھہرا رہا ، اس دوران لوگ آپس میں یہ بات چیت کرتے رہے کہ نبی اکرم ﷺ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مصر کے غلاموں ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : مضر کے غلاموں کی طرف بھیجنے لگے ہیں ، یہ شک ابوغسان نامی راوی کو ہے ، تاکہ وہ ان لوگوں سے زکوۃ وصول کر کے آئیں ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اور ہمارے علاقے کے لوگوں کے پاس جو بھی مال ہے ، میں نے اس کی زکوۃ یہاں ادا کر دی ہے ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اُس وقت اپنی اونٹنی پر موجود تھے ، آپ ﷺ کے ساتھ ایک سیاہ فام صاحب موجود تھے ( قد و قامت کے حوالے سے ) جن کا سر ، نبی اکرم ﷺ کے سر کے برابر تھا ، میں نے اُن سے زیادہ طویل القامت کوئی شخص نہیں دیکھا ، جب میں نبی اکرم ﷺ کے قریب ہونے لگا ، تو وہ میری طرف بڑھے ( تاکہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے قریب آنے سے روک دیں ) نبی اکرم ﷺ نے انہیں روک دیا ، میں نے عرض کی : لوگ یہ کچھ سوچ رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں لوگوں کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا ہوں کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کریں ۔ حضرت مقنع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا ، جس کے بارے میں کتاب ( یعنی قرآن ) میں حکم موجود ہو ، یا جس کے حوالے سے سنت جاری ہو چکی ہو ، اگر نبی اکرم ﷺ کی حیات میں آپ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی جا سکتی ہے ، تو پھر آپ ﷺ کے وصال کے بعد کیا عالم ہو گا ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سیف بن ہارون برجمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

603

Majma al-Zawaid #603

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْعَصَبِيَّةِ وَالْقَدَرِيَّةِ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: I heard the Prophet ﷺ say: > **"The destruction of my Ummah lies in sectarian tribalism (*ʿaṣabiyyah*), denial of the Divine Decree (*qadariyyah*), and narrating traditions from unverified sources."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کی ہلاکت ، عصبیت ، تقدیر کے انکار اور غیر مستند شخص سے روایت کی وجہ سے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن ہارون ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

604

Majma al-Zawaid #604

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ثَلَاثٍ: فِي الْقَدَرِيَّةِ، وَالْعَصَبِيَّةِ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبَتٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ [وَالصَّغِيرِ]، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The destruction of my Ummah lies in three things: denial of the Divine Decree (*al-qadariyyah*), tribal fanaticism (*al-ʿaṣabiyyah*), and narrating traditions from unverified sources."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کی ہلاکت تین چیزوں کے ذریعے ہو گی ، تقدیر کا انکار عصبیت اور غیر مستند شخص سے روایت کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

605

Majma al-Zawaid #605

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تَنَاصَحُوا فِي الْعِلْمِ ; فَإِنَّ خِيَانَةَ أَحَدِكُمْ فِي عِلْمِهِ أَشَدُّ مِنْ خِيَانَتِهِ فِي مَالِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: لَيِّنُ الْحَدِيثِ، مُدَلِّسٌ، قِيلَ: هُوَ صَدُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ لَا يَكْذِبُ. وَقَالَ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَكَانَ ثِقَةً. وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ لِتَدْلِيسِهِ وَالْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Offer sincere advice to one another in knowledge, for indeed, the betrayal of one of you in his knowledge is more severe than his betrayal in his wealth. And indeed, Allah will question you on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ علم کے بارے میں ایک دوسرے کی خیرخواہی کرو ، کیونکہ تم میں سے کسی ایک شخص کا اپنے علم کے بارے میں خیانت کرنا اس سے زیادہ سخت ہے کہ اُس نے اپنے مال میں خیانت کی ہو ، بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم لوگوں سے حساب لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے ، امام ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ حدیث میں کمزور ہے اور تدلیس کرنے والا ہے ، اُن سے دریافت کیا گیا : کیا یہ صدوق ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ جھوٹ نہیں بولتا ہے ابوہاشم رفاعی بیان کرتے ہیں : ابواسامہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی : وہ کہتے ہیں : ابوسعد بقال نے ہمیں یہ حدیث بیان کی جو ایک ثقہ راوی ہے ، اس راوی کی تدلیس کی وجہ سے شعبہ نے ، امام بخاری نے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

606

Majma al-Zawaid #606

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَادِيثَ سَمِعْتُهَا وَحَفِظْتُهَا، مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهَا إِلَّا أَنَّ أَصْحَابِي يُخَالِفُونَنِي فِيهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه said: > **"I heard several hadiths from the Messenger of Allah ﷺ which I comprehended and memorized; nothing prevents me from narrating them except that my companions differ with me concerning them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے کئی احادیث سنی ہیں ، جنہیں میں نے سنا اور انہیں یاد رکھا لیکن میں انہیں اس لیے روایت نہیں کرتا ہوں کہ اُن ( میں سے بعض ) کے بارے میں میرے ساتھی میرے برخلاف روایت نقل کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

607

Majma al-Zawaid #607

وَعَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ أَوْ شَكْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Idrīs al-Khawlānī narrated: I saw Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه, whenever he finished narrating a hadith from the Messenger of Allah ﷺ, say: > **"This, or something similar to it, or resembling it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، جب وہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کر کے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے یہ کہا : یہ یا اس کی مانند ، یا اُس کی طرح ( حدیث کے الفاظ ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

608

Majma al-Zawaid #608

وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: أَيْ مُطَرِّفٌ، وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنِّي لَوْ شِئْتُ حَدَّثْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لَا أُعِيدُ حَدِيثًا، ثُمَّ لَقَدْ زَادَنِي بُطْأً عَنْ ذَلِكَ وَكَرَاهِيَةً لَهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهِدْتُ كَمَا شَهِدُوا، وَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعُوا، يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ شُبِّهَ لَهُمْ، فَكَانَ أَحْيَانًا يَقُولُ: لَوْ حَدَّثْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ كَذَا وَكَذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ صَدَقْتُ، وَأَحْيَانًا يَعْزِمُ يَقُولُ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ كَذَا وَكَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْغَنَوِيُّ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ عُمَرَ فِي بَابِ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

EnglishUnverified translation

Muṭarrif narrated: ʿImrān ibn al-Ḥuṣayn رضي الله عنه said to me: "O Muṭarrif, by Allah, I consider that if I wished, I could narrate from the Messenger of Allah ﷺ for two consecutive days without repeating a single hadith. Yet what increases my hesitation and reluctance is that men among the Companions of Muḥammad ﷺ—I was present just as they were present, and I heard just as they heard—narrate hadiths that have become confused to them." At times, ʿImrān would say: "If I were to tell you that I heard the Prophet of Allah ﷺ say such-and-such, I believe I would be speaking the truth," and at other times, he would speak with firm resolve, saying: > **"I heard the Prophet of Allah ﷺ say such-and-such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے مطرف ! اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر میں چاہوں تو میں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مسلسل دو دن تک احادیث بیان کر سکتا ہوں ، جن میں سے کوئی بھی بات میں نہیں دہراؤں گا ، لیکن پھر میں ایسا اس لئے نہیں کرتا اور اس بات کو ناپسند کرتا ہوں ( کہ میں احادیث روایت کروں ) کیونکہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ حضرات ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت محمد ﷺ کے بعض اصحاب جس طرح وہ موجود تھے اس طرح میں بھی موجود تھا ، جس طرح انہوں نے سماع کیا ، اسی طرح میں نے بھی سماع کیا ، لیکن وہ کچھ ایسی احادیث روایت کرتے ہیں ؛ جو ان کے لیے مشتبہ ہو گئیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت عمران رضی اللہ عنہ بعض اوقات یہ فرمایا کرتے تھے : اگر میں تمہارے سامنے یہ بات بیان کروں کہ میں نے اللہ کے نبی کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تو میں یہ سجھتا ہوں کہ میں نے سچ بیان کیا ہو گا ، اور بعض اوقات حضرت عمران رضی اللہ عنہ جزم کے ساتھ فرماتے تھے : میں نے اللہ کے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون غنوی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی ، جس میں نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق روایات آئیں گی ۔

609

Majma al-Zawaid #609

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "" الصِّدْقُ، فَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ، وَإِذَا بَرَّ آمَنَ، وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَمَلُ النَّارِ؟ قَالَ: "" الْكَذِبُ، إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَ، وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ، وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ [يَعْنِي] النَّارَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated: A man came to the Prophet ﷺ and asked, "O Messenger of Allah, what is the deed of Paradise?" He ﷺ replied: > **"Truthfulness. For when a servant speaks the truth, he acts righteously; when he acts righteously, he has faith; and when he has faith, he enters Paradise."** The man asked, "O Messenger of Allah, what is the deed of the Fire?" He ﷺ replied: > **"Lying. When a servant lies, he commits wickedness; when he commits wickedness, he disbelieves; and when he disbelieves, he enters—meaning the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! جنت کا عمل کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سچ بولنا ، کیونکہ جب بندہ سچ بولے گا تو نیکی کرے گا ، جب وہ نیکی کرے گا تو مؤمن ہو گا اور جب وہ مومن ہو گا ، تو جنت میں داخل ہو جائے گا ، اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! جہنم کا عمل کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جھوٹ بولنا ، کیونکہ جب آدمی جھوٹ بولے گا تو گناہ کرے گا ، جب گناہ کرے گا تو کفر کرے گا ، اور جب وہ کفر کرے گا تو اس میں داخل ہو جائے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

610

Majma al-Zawaid #610

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا كَانَ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْكَذِبِ، وَمَا اطَّلَعَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ فَيَخْرُجُ مِنْ قَلْبِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ تَوْبَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَمْ يَكُنْ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated: > **"There was no character trait more detestable to the Messenger of Allah ﷺ than lying. Whenever he noticed anything of that in any person, it would not leave his heart until he knew that the person had initiated sincere repentance."** In another narration: > **"There was no character trait more detestable to the Companions of the Messenger of Allah ﷺ [than lying]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کوئی بھی عادت نبی اکرم ﷺ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ۔ جب بھی نبی اکرم ﷺ کسی شخص کے حوالے سے جھوٹ پر مطلع ہوتے ، تو آپ ﷺ اس شخص سے ناراض رہتے ، جب تک آپ کو یہ علم نہیں ہو جاتا کہ اب اس نے توبہ کر لی ہے ( اور وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے نزدیک کوئی بھی عادت ( جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ) ۔‘‘ یہ روایت بھی امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔

611

Majma al-Zawaid #611

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ: لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا؟ قَالَ: "" إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تَكْتُبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو شَدَّادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ فِي الْمِيزَانِ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ سِوَى ابْنِ جُرَيْجٍ. قُلْتُ: قَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمُسْنَدِ، فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd رضي الله عنها narrated: I said, "O Messenger of Allah, if one of us women says regarding something she desires, 'I do not desire it,' is that counted as a lie?" He ﷺ said: > **"Indeed, a lie is recorded as a lie, until even a small, trivial lie (*al-kudhaybah*) is recorded as a small lie."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی عورت کسی چیز کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ اُسے اس چیز کی خواہش محسوس ہو رہی ہے ، حالانکہ اسے اس چیز کی خواہش محسوس نہ ہو رہی ہو ، تو کیا یہ چیز بھی جھوٹ شمار کی جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جھوٹ کو جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ، یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابوشداد نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے ، مصنف کتاب "" میزان "" میں یہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ابن جریج کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یونس بن یزید ایلی نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، جو ’’ مسند ‘‘ میں مذکور ہے ، تو اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔

612

Majma al-Zawaid #612

وَعَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهِ كَاذِبٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ قُتَيْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Nawwās ibn Samʿān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is a grave betrayal that you speak to your brother a statement which he believes you to be truthful in, while you are lying to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بڑی مخیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ کوئی بات کرو ، جس کے بارے میں وہ تمہیں سچ سمجھ رہا ہو ، اور تم جھوٹ بول رہے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد عمر بن ہارون سے روایت کی ہے جسے قتیبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جب کہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

613

Majma al-Zawaid #613

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ: تَعَالَ هَاكَ، ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ ; فَهِيَ كِذْبَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever says to a child, 'Come here, take this,' and then does not give him anything, it is counted as a lie."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی بچے سے یہ کہے : تم آؤ ! اور یہ لو ! اور پھر وہ اسے کچھ نہ دے ، تو یہ چیز جھوٹ شمار ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے زہری کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ زہری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

614

Majma al-Zawaid #614

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"O people! What drives you to plunge headlong into lying just as moths plunge continuously into fire?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "" اے لوگو تمہیں کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے ؟ کہ تم مسلسل جھوٹ بولو ، یوں جس طرح پتنگے مسلسل آگ میں گرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

615

Majma al-Zawaid #615

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، أَوْ رَدَّ شَيْئًا أَمَرْتُ بِهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَارِيَةُ بْنُ الْهَرِمِ الْفُقَيْمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever intentionally attributes a lie to me, or rejects anything that I have commanded, let him take his abode in Hellfire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے یا کسی ایسی چیز کو مسترد کر دے جس کے بارے میں ، میں نے حکم دیا ہو ، تو اُسے جہنم میں گھر بنا لینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن ہرم فقیمی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

616

Majma al-Zawaid #616

وَعَنْ دُجَيْنٍ أَبِي الْغُصْنِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، أَخَافُ أَنْ أَزَيِدَ أَوْ أَنْ أَنْقُصَ، كُنَّا إِذَا قُلْنَا لِعُمَرَ: حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَخَافُ أَنْ أَزِيدَ حَرْفًا أَوْ أَنْتَقِصَ حَرْفًا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَهُوَ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". وَفِيهِ دُجَيْنُ بْنُ ثَابِتٍ أَبُو الْغُصْنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، لَيْسَ بِشَيْءٍ.

EnglishUnverified translation

Dujayn Abū al-Ghuṣn narrated: I entered Medina and met Aslam, the freed slave of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه. I said, "Narrate to me from ʿUmar." He replied, "I cannot, for I fear that I may add or omit something. Whenever we said to ʿUmar, 'Narrate to us from the Messenger of Allah ﷺ,' he would say: 'I fear that I might add a letter or omit a letter, for indeed, the Messenger of Allah ﷺ said:'" > **"Whoever lies against me is in the Fire."** [And in another narration: "Whoever intentionally lies against me, let him take his seat in the Fire."]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

دجین ابوغصن بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، میری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے ہوئی ، تو میں نے کہا : آپ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو اسلم نے کہا : میں ایسا نہیں کر سکتا ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی اضافہ یا کمی کر دوں گا ، جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے تھے آپ ہمیں اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو وہ یہ فرماتے تھے : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی حرف زیادہ کر دوں گا ، یا کوئی حرف کم کر دوں گا اور نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ اس کی سند میں ایک راوی دجین بن ثابت ابوغصن ہے اور وہ ضعیف ہے ، وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

617

Majma al-Zawaid #617

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَعْنِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ قَالَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ» "". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ. وَفِي رِوَايَةِ الْبَزَّارِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى، وَهُوَ حَدِيثٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالطَّرِيقُ الْأَوَّلُ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه used to say: "Nothing prevents me from narrating from the Messenger of Allah ﷺ that I was not among the most retentive of his Companions regarding what he said; rather, I bear witness that I heard him say:" > **"Whoever attributes to me that which I did not say, let him take his seat in the Fire."** And in another narration from ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever attributes a lie to me, let him take a house in the Fire."** And in the narration of al-Bazzār: The Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever intentionally lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرمایا کرتے تھے : نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث روایت کرنے میں یہ چیز میرے لئے رکاوٹ نہیں بنتی ہے کہ میں آپ کے اصحاب سے زیادہ بہتر طور پر آپ کی باتوں کو محفوظ کرنے والا نہیں ہوں لیکن میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ایک روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ دونوں روایات امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہیں ۔ امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور یہ ایسی حدیث ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، پہلے والی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے وہ ضعیف ہے ، ویسے اُسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔

618

Majma al-Zawaid #618

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" «لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبُ عَلَيَّ يَلِجُ النَّارَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī [ibn Abī Ṭālib] رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever intentionally lies against me, let him take his seat in the Fire."** [Al-Haythamī noted: In the Ṣaḥīḥ, from ʿAlī, the Prophet ﷺ said: "Do not lie against me, for whoever lies against me shall enter the Fire."]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اہلیہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث منقول ہے : ’’ میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ! کیونکہ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

619

Majma al-Zawaid #619

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿUbaydillāh رضي الله عنه narrated: I heard the Prophet ﷺ say: > **"Whoever intentionally lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دکین ہے ، جیسے یحیی بن معین نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔

620

Majma al-Zawaid #620

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَلَهُ عِنْدَهُمَا إِسْنَادَانِ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, attributing a lie to me is not like attributing a lie to anyone else. Whoever intentionally lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ، کسی اور کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی مانند نہیں ہے ، جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں صاحبان نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

621

Majma al-Zawaid #621

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the one who lies against me, a house will be built for him in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اُس کے لئے جہنم میں گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

622

Majma al-Zawaid #622

وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي النَّارِ» "". وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, Allah will build for him a house in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہی امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیتا ہے ۔‘‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

623

Majma al-Zawaid #623

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

624

Majma al-Zawaid #624

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُ قَالَ لِلْمُخْتَارِ: هَذَا رَجُلٌ كَذَّابٌ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَلَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ: "" «مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ نَحْوَ أَحْمَدَ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn ʿUrfuṭah رضي الله عنه said concerning al-Mukhtār, "This man is a liar, and I indeed heard the Messenger of Allah ﷺ say:" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے مختار کے بارے میں یہ کہا : یہ شخص کذاب ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نقل کی ہے امام بزار نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص میرے حوالے سے ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، امام احمد کی روایت کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ہے ، جو حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، اس کے حوالے سے صرف خالد بن سلمہ نے روایت نقل کی ہے ۔

625

Majma al-Zawaid #625

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَادِيثَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ: "" «عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْ بِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Maymūn al-Ḥaḍramī reported that Abū Mūsā al-Ghāfiqī heard ʿUqbah ibn ʿĀmir al-Juhanī رضي الله عنه narrating hadiths from the Messenger of Allah ﷺ upon the pulpit. Abū Mūsā said, "Indeed, this companion of yours is either a true preserver or ruined! For the last covenant the Messenger of Allah ﷺ made with us was that he said:" > **"Hold fast to the Book of Allah. You will soon return to a people who love to hear hadiths from me; so whoever attributes to me what I have not said, let him take his seat in the Fire, and whoever has memorized something accurately, let him narrate it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن میمون حضری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے حضرت عقب بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مختلف احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ، تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بولے : تمہارے یہ ساتھی یا تو حافظ ہیں ، یا ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ، نبی اکرم ﷺ سے ہماری جو آخری ملاقات ہوئی تھی ، اُس میں آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم لوٹ کر ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے ، جو میرے حوالے سے حدیث روایت کرنے کو پسند کرتے ہوں گے ، تو جو شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جس شخص کو کوئی بات یاد ہو ، اسے وہ بات بیان کر دینی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

626

Majma al-Zawaid #626

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ؟ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُمْ يَا عُقْبَةُ، [فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ] فَقَالَ: إِنِّي «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ""، وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn Abī Ruqayyah reported: I heard Maslamah ibn Makhlad delivering a sermon to the people from the pulpit, saying, "O people! Do you not find in striped cloth and linen sufficient means to dispense with silk? Here is a man among you who will inform you from the Messenger of Allah ﷺ. Stand up, O ʿUqbah!" ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه stood up and said, "Indeed, I heard the Messenger of Allah ﷺ say:" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."** He then added, "And I bear witness that I heard him say:" > **"Whoever wears silk in this world shall be forbidden from wearing it in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن ابورقیہ بیان کرتے ہیں : میں نے مسلمہ بن مخلد کو سنا ، وہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا عصب اور کتان میں تمہیں وہ چیز نہیں ملتی ہے ، جو تمہیں ریشم سے بے نیاز کر دے ؟ تمہارے درمیان یہ صاحب موجود ہیں ، جو تمہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کریں گے ، اے حضرت عقبہ ! آپ کھڑے ہو جائیں ( تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ) اور اُنہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( پھر حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اُسے پہننے سے محروم رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

627

Majma al-Zawaid #627

وَعَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا. قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ: حَدَّثَنَا زَيْدٌ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُ بِهَا وَتَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ: [قَدْ] حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَعَدَنَاهُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ. قَالَ: إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلِيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»، وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥayyān al-Taymī narrated from his uncle, who said: Ḥuṣayn ibn Sabrah, ʿUmar ibn Muslim, and I went to Zayd ibn Arqam رضي الله عنه. When we sat with him, Ḥuṣayn said, "You have attained immense good, O Zayd!" Zayd told them that ʿUbaydullāh ibn Ziyād had summoned him and asked, "What are these hadiths you narrate from the Messenger of Allah ﷺ that we do not find in the Book of Allah? You claim he has a Basin (al-Ḥawḍ) in Paradise!" Zayd replied, "The Messenger of Allah ﷺ narrated it to us and promised it to us." Ibn Ziyād retorted, "You have lied; rather, you are an old man who has grown senile!" Zayd said, "Indeed, my two ears heard it and my heart retained it from the Messenger of Allah ﷺ saying:" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."** Zayd then said, "And I have never lied against the Messenger of Allah ﷺ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحیان تیمی نے اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم اُن کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے اُن سے کہا : اے حضرت زید ! آپ نے بہت ہی بھلائی حاصل کی ہے ، یزید بن حیان بیان کرتے ہیں : اس محفل میں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا : عبداللہ بن زیاد نے مجھے بلوایا ، میں اُس کے پاس گیا ، تو وہ بولا : وہ احادیث کیا ہیں ؟ جو آپ اللہ کے رسول ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور روایت کرتے ہیں ، لیکن ہمیں وہ اللہ کی کتاب میں نہیں ملتی ہیں ، آپ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جنت میں نبی اکرم ﷺ کا ایک حوض ہے ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں بتایا ہے اور آپ نے اس کے بارے میں ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ، تو عبداللہ بن زیاد بولا : آپ جھوٹ بول رہے ہیں ، آپ ایک بوڑھے ہیں جو خرافات بیان کر رہے ہیں ، تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے ان دو کانوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنا ، اور میرے دل نے اُسے محفوظ رکھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( پھر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

628

Majma al-Zawaid #628

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Saʿd ibn ʿUbādah al-Anṣārī رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take a resting place in the Fire, or a house in Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے آگ ( یعنی جہنم میں اپنے لیٹنے کی جگہ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

629

Majma al-Zawaid #629

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ دُونَ قَوْلِهِ: "" «لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ» "".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me in order to mislead people thereby, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام نسائی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ تاکہ وہ اُس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ۔‘‘

630

Majma al-Zawaid #630

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ أَفَرَى الْفِرَى: مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ، وَمِنْ أَفَرَى الْفِرَى: مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Among the gravest of fabrications is for a person to claim to have seen with his eyes what they did not see, and among the gravest of fabrications is for someone to attribute to me what I have not said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی وہ کوئی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور سب سے بڑے جھوٹ میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ کوئی شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا صرف ابتدائی حصہ منقول ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

631

Majma al-Zawaid #631

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فِي رِوَايَةِ حَدِيثٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: "" فِي رِوَايَةِ حَدِيثٍ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever lies against me in narrating a hadith, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص حدیث روایت کرتے ہوئے میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم یہ الفاظ نہیں ہیں :” حدیث روایت کرتے ہوئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔