Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 5

Book of Knowledge

Hadith 632–671

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

632

Majma al-Zawaid #632

وَعَنْ عِمْرَانَ [أَنَّ] النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ سَالِمٍ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُطَرِّفِ بْنِ مُحَمَّدٍ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمومن بن سالم ہے ، اس کے حوالے سے مطرف بن محمد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

633

Majma al-Zawaid #633

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ - الصَّلَاةَ "". قَالَ: قُلْتُ: أَسْمِعْتَ ذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَغَضِبَ، وَأَقْبَلَ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ قَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ، فَقَالُوا: سَمْعًا وَطَاعَةً لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثُوا رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا جَاءَنَا فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَمْرِكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ نُعْلِمَكَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَالَ: "" اذْهَبْ [إِلَى فُلَانٍ] فَاقْتُلْهُ، وَأَحْرِقْهُ بِالنَّارِ ""، فَانْتَهَى إِلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ وَقُبِرَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُبِشَ، ثُمَّ أَحْرَقَهُ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". فَقَالَ: تَرَانِي كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا. قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ "" «أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاهِي الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Muḥammad ibn al-Ḥanafiyyah reported: My father and I went to an in-law of ours from the tribe of Aslam who was among the Companions of the Prophet ﷺ. I heard him say, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Relieve us with it, O Bilāl'—referring to the prayer." I asked, "Did you hear this directly from the Messenger of Allah ﷺ?" He became angry and recounted to them that the Messenger of Allah ﷺ once dispatched a man to an Arab tribe. When he reached them, he claimed, "The Messenger of Allah ﷺ commanded me to rule among your women as I see fit!" They said, "We hear and obey the command of the Messenger of Allah ﷺ." However, they sent an envoy to the Messenger of Allah ﷺ who informed him, "So-and-so came to us and claimed that the Prophet ﷺ commanded him to rule among our women; if this was indeed your command, we hear and obey, but if it was otherwise, we wished to inform you." The Messenger of Allah ﷺ became angry and dispatched a man from the Anṣār, saying: > **"Go to him, kill him, and burn him with fire."** The Anṣāri found that the man had already died and been buried, so he ordered his grave to be exhumed and burned his corpse with fire. Then the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."** The Companion then said to me, "Do you think that after witnessing this, I would ever lie against the Messenger of Allah ﷺ?"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے سسرالی عزیزوں کی طرف گیا ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے بلال ! اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ !‘‘۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد نماز تھی ۔ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی خود سنی ہے ؟ تو وہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے لوگوں کو یہ بات بیان کرنا شروع کی : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو عربوں کے کسی قبیلے کی طرف بھیجا ، جب وہ شخص اُن لوگوں کے پاس پہنچا ، تو اس نے ان لوگوں سے یہ کہا : بے شک اللہ کے رسول نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ دوں ( یعنی جس بھی خاتون کی شادی جس بھی جگہ طے کرنا چاہوں کر دوں ) ان لوگوں نے کہا : ہم اللہ کے رسول کے فرمان کی اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں ، پھر انہوں نے ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، اُس شخص نے بتایا : فلاں شخص ہمارے ہاں آیا اور اس نے ہم سے یہ کہا : بے شک نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں فیصلہ دوں ( پھر اس قاصد نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : ) اگر تو یہ آپ کا حکم ہے ، تو ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم یہ چیز آپ کے علم میں لے آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، آپ ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور یہ ارشاد فرمایا : تم ( اس فلاں شخص ) کی طرف جاؤ ! اُسے قتل کر دو اور اُسے آگ میں جلا دو ! جب وہ انصاری ، اُس مطلوبہ فرد کے پاس پہنچا ، تو اُس شخص کا انتقال ہو چکا تھا اور اُسے دفنا دیا گیا تھا ، اُس انصاری کے حکم کے تحت اس کی میت کو قبر کھود کر نکالا گیا اور پھر اس انصاری نے آگ کے ذریعے اُسے جلا دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : پھر مجھے مخاطب کر کے اُن صحابی نے ) کہا : کیا تم میرے بارے میں یہ سجھتے ہو ؟ کہ اس کے بعد بھی ، میں نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اے بلال ! ہمیں اس کے ذریعے راحت پہنچاؤ !‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ شخص ” ضعیف “ ہے اور ’’ واہی الحدیث ‘‘ ہے ۔

634

Majma al-Zawaid #634

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَجُلًا لَبِسَ حُلَّةً مِثْلَ حُلَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَيَّ أَهْلِ بَيْتٍ شِئْتُ اسْتَطْلَعْتُ، فَقَالُوا: عَهْدُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْمُرُ بِالْفَوَاحِشِ. قَالَ: فَأَعَدُّوا لَهُ بَيْتًا وَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "" انْطَلِقَا إِلَيْهِ، فَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ حَيًّا فَاقْتُلَاهُ، ثُمَّ حَرِّقَاهُ بِالنَّارِ، وَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ [مَيِّتًا] فَقَدْ كُفِيتُمَاهُ، وَلَا أَرَاكُمَا إِلَّا قَدْ كُفِيتُمَاهُ، فَحَرِّقَاهُ ""، فَأَتَيَاهُ فَوَجَدَاهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ اللَّيْلِ يَبُولُ فَلَدَغَتْهُ حَيَّةٌ أَفْعَى فَمَاتَ، فَحَرَّقَاهُ بِالنَّارِ. ثُمَّ رَجَعَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَاهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ. وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ "" الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: A man wore a garment resembling the robe of the Prophet ﷺ, went to a household in Madinah, and claimed, "The Prophet ﷺ commanded me to inspect whichever household I wish!" They said, "Our knowledge of the Messenger of Allah ﷺ is that he never commands lewdness." They accommodated him in a house and sent a messenger to inform the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ said to Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما: > **"Go to him; if you find him alive, kill him and burn him with fire, and if you find him dead, you have been spared him—and I reckon you have already been spared him—so burn him."** They went and found that he had gone out at night to urinate, was bitten by a viper, and died; so they burned his body with fire. They returned to the Messenger of Allah ﷺ and informed him, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے حلہ جیسا حلہ پہنا ، پھر وہ مدینہ منورہ کے ایک گھرانے ( یا محلے ) میں آیا اور بولا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں جس بھی گھر میں چاہوں جا سکتا ہوں ، اُن لوگوں نے کہا : ہم نے تو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بھی یہی چیز پائی ہے کہ آپ کسی فحش چیز کا حکم نہیں دیتے ہیں ، پھر اُن میں سے کسی نے یہ کہا : تم لوگ اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کرو ، اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کوئی قاصد بھیجو ! جب اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : تم دونوں اُس کی طرف جاؤ ! اگر وہ تمہیں زندہ مل گیا ، تو اُسے قتل کر کے اسے آگ میں جلا دینا اور اگر تم نے اُسے ( مردہ ) پایا ، تو اُس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، اور تم دونوں کے بارے میں میرا یہی اندازہ ہے کہ اس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، تو تم اُسے آگ میں جلا دینا ، یہ دونوں حضرات اس شخص کی طرف روانہ ہوئے ، تو اُن دونوں نے یہ صورتحال پائی کہ وہ شخص رات کے وقت پیشاب کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اُسے کسی سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گیا ، تو ان دونوں حضرات نے اُسے آگ کے ذریعے جلا دیا ، پھر یہ دونوں واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو صورتحال بتائی ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام بخاری اور امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ........‘‘ الخ ۔

635

Majma al-Zawaid #635

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ الْحَضْرَمِيُّ (*). قُلْتُ: وَهُوَ مَتْرُوكٌ شِيعِيٌّ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam and al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابواسحاق کے حوالے سے اسے صرف موسیٰ بن عمران حضرمی نامی راوی نے روایت کیا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ شخص متروک ہے اور شیعہ ہے ۔

636

Majma al-Zawaid #636

وَعَنْ أَبِي مُوسَى - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، جسے امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

637

Majma al-Zawaid #637

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا أَبِي. وَلَا أَعْرِفُهُمَا.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ ہے کہ امام طبرانی نے یہ فرمایا ہے : ہمیں احمد نے یہ حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے والد نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں ان دونوں راویوں سے واقف نہیں ہوں ۔

638

Majma al-Zawaid #638

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے ، امام بخاری اور دیگر حضرات فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔

639

Majma al-Zawaid #639

وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَشَيْخُهُ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نُبَيْطٍ كَذَّبَهُ صَاحِبُ الْمِيزَانِ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا الصَّحَابِيَّ.

EnglishUnverified translation

Nubayṭ ibn Sharīṭ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میں جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس میں امام طبرانی کے استاد احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط کو ’’ میزان ‘‘ کے مصنف نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی سند کے بقیہ راویوں میں سے صحابی رسول کے علاوہ اور کسی راوی کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ۔

640

Majma al-Zawaid #640

وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ لِأَبِي مُوسَى: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»؟ فَسَكَتَ أَبُو مُوسَى، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَيُقَالُ لَهُ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Maryam reported: I heard ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه saying to Abū Mūsā رضي الله عنه, "I adjure you by Allah, did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say:" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire?"** Abū Mūsā remained silent and did not say anything.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزوّر ہے ، جسے امام بخاری اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے علی بن ابوفاطمہ بھی کہا جاتا ہے ۔

641

Majma al-Zawaid #641

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسَ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me in order to mislead people thereby, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ، تو اُسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

642

Majma al-Zawaid #642

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Ḥurayth رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me in order to mislead people thereby, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

643

Majma al-Zawaid #643

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ہے اکثر حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

644

Majma al-Zawaid #644

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَّابِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn Ghazwān رضي الله عنه said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکریا غلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام دارقطنی فرماتے ہیں : وہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔

645

Majma al-Zawaid #645

وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَفْطَحُ عَنْ يَحْيَى بْنِ زَهْدَمِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا أَدْرِي الْبَلَاءُ مِنْهُ أَوْ مِنْ شَيْخِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿUrs ibn ʿAmīrah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : احمد بن علی افطح نے یحیی بن زہدم بن حارث کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ خرابی کی جڑ یہ راوی ہے یا اس کا استاد ہے ؟

646

Majma al-Zawaid #646

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Murrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

647

Majma al-Zawaid #647

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashjaʿī reported from his father رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خلیفہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

648

Majma al-Zawaid #648

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مِنْ قِبَلِ هِلَالٍ الْوَزَّانِ، لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ، وَكَذَلِكَ الْحَدِيثُ الْآتِي.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take a house in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں گھر بنا لینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند جو ہلال الوزان کے حوالے سے ہے ، میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، آگے آنے والی حدیث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

649

Majma al-Zawaid #649

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ، [وَمَنْ رَدَّ حَدِيثًا بَلَغَهُ عَنِّي فَأَنَا مُخَاصِمُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِذَا بَلَغَكُمْ عَنِّي حَدِيثٌ فَلَمْ تَعْرِفُوهُ فَقُولُوا: اللَّهُ أَعْلَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take a house in the Fire. And whoever rejects a hadith that reaches him from me, I will be his adversary on the Day of Resurrection. So when a hadith reaches you from me that you do not recognize, say: 'Allah knows best.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی چھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں ( اپنے ) گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جس شخص کے پاس میرے حوالے سے کوئی حدیث پہنچے اور وہ اسے مسترد کر دے ، تو قیامت کے دن میں اس کا مقابل فریق ہوؤں گا ، جب تمہارے پاس میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث پہنچے ، جس سے تم واقف نہ ہو ( یا جس سے تم شناسا یا مانوس نہ ہو ) تو تم لوگ یہ کہہ دو : اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

650

Majma al-Zawaid #650

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَكِيلِ الزُبَيْرِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيِّ أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ قَالُوا لِصُهَيْبٍ: يَا أَبَانَا، إِنَّ أَبْنَاءَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُونَ عَنْ آبَائِهِمْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ [آلِ] الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Dīnār, the agent of al-Zubayr ibn Shuʿayb al-Baṣrī, reported that the sons of Ṣuhayb said to Ṣuhayb رضي الله عنه, "O our father! The sons of the Companions of the Prophet ﷺ narrate from their fathers, (so why do you not narrate to us)?" He replied: "I heard the Prophet ﷺ say:" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار ، جو زبیر بن شعیب بصری کے وکیل ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ہمارے ابا جان ! ہم نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے صاحبزادوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہیں ؟ تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

651

Majma al-Zawaid #651

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Al-Sāʾib ibn Yazīd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

652

Majma al-Zawaid #652

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا كَذِبًا مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever deliberately narrates a false hadith from me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میرے حوالے سے کوئی جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے ، اُسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

653

Majma al-Zawaid #653

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ "" فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنَنْقُصُ!. قَالَ: "" لَيْسَ أَعْنِيكُمْ، إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا يَطْلُبُ بِهِ شِينَ الْإِسْلَامِ ""، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ قُلْتَ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ، وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنَانِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، أَمَّا سَمِعْتُمُ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ "" إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ "" فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي رِوَايَةٍ، وَرَوَاهُ عَنِ الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat between the two eyes of Hell."** This weighed heavily upon his Companions, and they said, "O Messenger of Allah! When we narrate hadiths, we may inadvertently add or omit something!" He ﷺ replied: > **"I do not mean you; I only mean the one who lies against me in narration seeking thereby to bring disgrace upon Islam."** They asked, "O Messenger of Allah, you said 'between the two eyes of Hell'—does Hell have two eyes?" He ﷺ said: > **"Yes. Have you not heard Allah Almighty saying: {When it sees them from a far place}? Can it see them except with two eyes?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے ‘‘ یہ بات آپ ﷺ کے اصحاب پر بہت گراں گزری ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے ہم سے کمی و بیشی ہو جاتی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری مراد تم لوگ نہیں ہو ، میری مراد وہ شخص ہے ، جو میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور اس بات کو بیان کرنے کے ذریعے وہ اسلام کو رسوا کرنا چاہتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان ، تو کیا جہنم کی دو آنکھیں بھی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جب وہ دور سے انہیں دیکھے گی ‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو وہ انہیں آنکھوں کے ذریعے ہی دیکھ سکتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اسے امام نسائی اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن سعید القطان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، احوص کے حضرات حوالے سے یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ نے نقل کی ہے ، جو ایک ضعیف راوی ہے ۔

654

Majma al-Zawaid #654

وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «حَدِّثُوا عَنِّي بِمَا تَسْمَعُونَ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ أَوْ قَالَ عَلَيَّ غَيْرَ مَا قُلْتُ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي جَهَنَّمَ يَرْتَعُ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Qirṣāfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Narrate from me that which you hear, and it is not lawful for any man to lie against me. For whoever lies against me, or attributes to me what I have not said, a house shall be built for him in Hell wherein he shall reside."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میرے حوالے سے وہ چیز بیان کر دو ! جو تم نے سنی ہو ، کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا ( یہاں شاید علوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے ، جو میری کہی ہوئی بات کے علاوہ ہو ، تو اُس کے لئے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا ، جس میں وہ رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

655

Majma al-Zawaid #655

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَذِبٌ عَلَيَّ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِفَاعَةُ بْنُ الْهُرَيْرِ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not lie against me, for lying against me is not like lying against anyone else."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ! کیونکہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ، کسی اور ( شخص ) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی مانند نہیں ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رفاعہ بن ہریر ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

656

Majma al-Zawaid #656

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَى نَبِيِّهِ أَوْ عَلَى عَيْنَيْهِ أَوْ عَلَى وَالِدَيْهِ لَمْ يَرُحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aws ibn Aws رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever lies against his Prophet, or against his two eyes (by claiming false visions), or against his parents (by falsely claiming other lineage), shall not smell the fragrance of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اپنے نبی کے حوالے سے ، یا اپنی آنکھوں کے حوالے سے ، یا اپنے والدین کے حوالے سے جھوٹ بولتا ہے ( یعنی جو شخص جھوٹی حدیث روایت کرتا ہے ، یا جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، یا اپنے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے ) وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

657

Majma al-Zawaid #657

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَكْذِبُوا، عَلَيَّ إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ لَجَرِيءٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not lie against me; indeed, the one who lies against me is brazenly audacious in sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے حوالے سے جھوٹ بیان نہ کرو ! میرے حوالے سے جھوٹ بیان کرنے والا شخص ( گناہ کے کام میں ) جری ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

658

Majma al-Zawaid #658

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونًا الْكُرْدِيَّ وَهُوَ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: مَا لِلشَّيْخِ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، فَإِنَّ أَبَاكَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَ مِنْهُ؟ فَقَالَ: كَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

EnglishUnverified translation

Abū Khaldah reported: I heard Maymūn al-Kurdī while he was in the company of Mālik ibn Dīnār. Mālik ibn Dīnār said to him, "Why does the elder not narrate from his father, when your father reached the time of the Prophet ﷺ and heard from him?" Maymūn replied, "My father would not narrate to us from the Prophet ﷺ out of fear that he might add or omit anything, and he said: 'I heard the Messenger of Allah ﷺ say:'" > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے میمون کردی کو سنا : وہ اُس وقت مالک بن دینار کے پاس موجود تھے ، مالک بن دینار نے اُن سے کہا : کیا وجہ ہے کہ بزرگوار ( یعنی آپ ) اپنے والد کے حوالے سے حدیث روایت نہیں کرتے ہیں ؟ حالانکہ آپ کے والد نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور نبی اکرم ﷺ سے سماع کیا ہے ، تو میمون نے بتایا : میرے والد نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کرتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ کوئی کمی یا بیشی نہ کر دیں ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

659

Majma al-Zawaid #659

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ: رَجُلٌ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَرَجُلٌ كَذِبَ عَلَى نَبِيِّهِ، وَرَجُلٌ كَذِبَ عَلَى عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ عُمَرَ، ضَعِيفٌ، لَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said: > **"Three will not smell the fragrance of Paradise: a man who claims lineage from other than his father, a man who lies against his Prophet, and a man who lies against his own eyes (by inventing false dreams)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین آدمی جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے ، ایک وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور ( کی اولاد ہونے ) کا دعوی کرے ، ایک وہ شخص جو اپنے نبی کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کرے اور ایک وہ شخص جو اپنی آنکھوں کے حوالے سے جھوٹی بات ( یعنی جھوٹا خواب ) بیان کرے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرزاق بن عمر ہے ، یہ ضعیف ہے ، کسی نے بھی اسے ثقہ قرار نہیں دیا ہے ۔

660

Majma al-Zawaid #660

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ بَلَغَهُ عَنِّي حَدِيثٌ فَكَذَّبَ بِهِ فَقَدْ كَذَّبَ ثَلَاثَةً: اللَّهَ، وَرَسُولَهُ، وَالَّذِي حَدَّثَ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَحْفُوظُ بْنُ مِسْوَرٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is conveyed a hadith from me and denies it, has indeed denied three: Allah, His Messenger, and the one who narrated it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کو میرے حوالے سے کوئی حدیث پہنچے اور وہ اُسے جھٹلا دے ، تو اُس نے تین کو جھٹلا دیا ، اللہ تعالیٰ کو ، اُس کے رسول کو اور اس شخص کو جس نے وہ حدیث بیان کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محفوظ بن مسور ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اُنہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے ۔

661

Majma al-Zawaid #661

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ بَلَغَهُ عَنِ اللَّهِ فَضِيلَةٌ فَلَمْ يُصَدِّقْ بِهَا لَمْ يَنَلْهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَزِيعٌ أَبُو الْخَلِيلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is conveyed a virtue promised from Allah and does not believe in it, shall not attain it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص تک اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کوئی فضیلت پہنچے اور وہ اُس کی تصدیق نہ کرے تو وہ اُس ( فضیلت ) تک نہیں پہنچ سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بزیع ابوخلیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

662

Majma al-Zawaid #662

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: خَطَبَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «حَتَّى مَتَى تُرْعَوْنَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ، هَتِّكُوهُ حَتَّى يَحْذَرَهُ النَّاسُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَإِسْنَادُ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ حَسَنٌ، رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَاخْتُلِفَ فِي بَعْضِهِمُ اخْتِلَافًا لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Ḥaydah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ addressed the people in a sermon, saying: > **"How long will you hold back from mentioning the corrupt person? Expose him so that the people may beware of him!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ کب تک فاجر کے ذکر کے حوالے سے پریشان رہو گے ؟ تم اُس کا پردہ فاش کرو ! تاکہ لوگ اُس سے بچ کے رہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، معجم اوسط اور معجم صغیر کی سند حسن ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

663

Majma al-Zawaid #663

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لِفَاسِقٍ غِيبَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ بِشْرٍ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Ḥaydah رضي الله عنه also reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no backbiting for a shameless transgressor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ فاسق کی غیبت نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن بشر ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

664

Majma al-Zawaid #664

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَلَسَ عُمَرُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُهُ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَائِزُ. قَالَ: فَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَيَحْيَى الْقَطَّانُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Buraydah reported: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه sat in a place where the Messenger of Allah ﷺ used to sit, where funeral processions would pass by. A funeral passed and the people praised the deceased with good words, so ʿUmar said, "It has become binding (i.e., Paradise)." Then another funeral passed, and the people said, "This man was the greatest liar among people!" Thereupon ʿUmar رضي الله عنه said: > **"Indeed, the worst of liars among the people is the one who lies against Allah, and then following them are those who lie against the spirit within their own bodies (by fabricating dreams)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ تشریف فرما تھے ، جہاں نبی اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے ، اُس جگہ جنازے پاس سے گزرا کرتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے ، لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے ، تو لوگوں نے کہا : یہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا وہ شخص ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو اپنے جسم میں موجود روح کے حوالے سے جھوٹ بولتے ہیں ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرتے ہیں ) ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ولید شنی ہے ، جسے امام نسائی اور یحیی القطان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

665

Majma al-Zawaid #665

وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَقِيتُ سَلَمَةَ بْنَ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَرَجَعَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُكَذِّبَ صَاحِبَكَ فَلَقِّنْهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥammād ibn Zayd reported: I met Salamah ibn ʿAlqamah and he narrated a hadith to me, then he retracted it and said: > **"If you wish to expose your companion as a liar, then prompt him (with details to see if he falsely claims to know them)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حماد بن زید بیان کرتے ہیں : میری ملاقات مسلمہ بن علقمہ سے ہوئی ، اُنہوں نے مجھے یہ روایت بیان کی ، پھر اُنہوں نے اس سے رجوع کیا اور پھر بولے : جب تم یہ ارادہ کرو کہ اپنے ساتھی کی تکذیب کرو ! تو اُس کو اس کی تلقین کرو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

666

Majma al-Zawaid #666

عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُكْثِرُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَحَبَسَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: هَذَا أَثَرٌ مُنْقَطِعٌ، وَإِبْرَاهِيمُ وُلِدَ سَنَةَ عِشْرِينَ، وَلَمْ يُدْرِكْ مِنْ حَيَاةِ عُمَرَ إِلَّا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ بِالْكُوفَةِ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنْ عُمَرَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابُ التَّثَبُّتِ عَنْ بَعْضِ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reported: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه sent for Ibn Masʿūd, Abū Masʿūd al-Anṣārī, and Abū al-Dardāʾ رضي الله عنهم, and said: > **"What is this hadith that you narrate in such abundance from the Messenger of Allah ﷺ?"** And he detained them in Madinah until he was martyred.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا : آپ لوگ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بکثرت احادیث کیوں روایت کرتے ہیں ؟ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کو مدینہ منورہ میں روکے رکھا ، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کر لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ ’’ منقطع ‘‘ روایت ہے ، ابراہیم نامی راوی بیس ہجری میں پیدا ہوئے تھے ، انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صرف تین سال ملے تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں رہے ہیں ، تو یہ روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : بعض احادیث کے بارے میں تحقیق کرنے سے متعلق باب آگے آئے گا ۔

667

Majma al-Zawaid #667

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ، وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ - فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفِرُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ - فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥumayd and Abū Usayd رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you hear a hadith attributed to me which your hearts recognize, towards which your skin and hair soften, and which you perceive to be near to you, then I am the closest of you to it. But when you hear a hadith attributed to me which your hearts reject, from which your hair and skin recoil, and which you perceive to be far from you, then I am the furthest of you from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میرے حوالے سے کوئی حدیث سنو ، جس سے تمہارے دل ( یعنی ذہن ) مانوس ہوں ، جس کے لیے تمہارے بال اور تمہاری جلد نرم ہو جائے اور تم یہ سمجھو کہ وہ بات تم سے قریب ہے ، تو اس بات کے حوالے سے میں تم سے زیادہ حق رکھتا ہوؤں گا ، اور جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو ، جسے تمہارے دل منکر قرار دیں ، تمہارے بال اور تمہاری جلد اُس سے متنفر ہو اور تم یہ سمجھو کہ یہ تم سے بعید ہے ، تو اُس بات سے میں تم سب سے زیادہ دور ہوؤں گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

668

Majma al-Zawaid #668

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «"" إِذَا حَدَّثْتُمْ عَنِّي حَدِيثًا، فَوَافَقَ الْحَقَّ - فَأَنَا قُلْتُهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When a hadith is narrated to you from me and it conforms to the truth, then it is I who said it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ حق کے مطابق ہو ، تو وہ بات میں نے ہی کہی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

669

Majma al-Zawaid #669

عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ: قَامَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَوْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ إِلَى الْحَسَنِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَحَادِيثَ تُحَدِّثُ بِهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْنِدْهَا لَنَا، فَقَالَ: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ، فَقَالَ: حَدِيثُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قِيَامِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُدَامَةَ - وَكَانَ امْرَأَ صِدْقٍ - عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَامُوا وَقَالُوا: كِدْنَا نَغْلِبُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا، وَفِي إِسْنَادِهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Mubārak ibn Faḍālah reported: Ismāʿīl ibn Ibrāhīm (or Ibrāhīm ibn Ismāʿīl) stood up before al-Ḥasan al-Baṣrī and said, "O Abū Saʿīd! We hear hadiths from you that you narrate directly from the Messenger of Allah ﷺ, so provide us with their chains of narration!" Al-Ḥasan replied, "Ask about whatever you wish." He asked, "The hadith of the Prophet ﷺ regarding the establishment of the Hour." Al-Ḥasan said: > **"Anas ibn Mālik narrated it to me from the Prophet ﷺ; and Jābir ibn ʿAbdillāh narrated it to me from the Prophet ﷺ; and ʿAbdullāh ibn Qudāmah—who was a truthful man—narrated it to me from al-Aswad ibn Sarīʿ from the Prophet ﷺ."** Thereupon they stood up and said, "We could not prevail over this venerable scholar!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مبارک بن فضالہ بیان کرتے ہیں : اسماعیل بن ابراہیم ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابراہیم بن اسماعیل ، حسن بصری کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے : اے ابوسعید ! ہم نے آپ سے کئی ایسی احادیث سنی ہیں ، جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کی ہیں ، آپ اُن کی سند ہمارے سامنے بیان کر دیں ! حسن بصری نے فرمایا : تم جس ( حدیث ) کے بارے میں چاہو پوچھ لو ! تو اُن صاحب نے کہا : قیامت قائم ہونے کے بارے میں ، نبی اکرم ﷺ سے منقول حدیث ( کی سند آپ بیان کر دیں ! ) تو حسن بصری نے جواب دیا : یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ، اور یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ، اور یہ حدیث عبداللہ بن قدامہ نے ، جو ایک سچے آدمی تھے ، اُنہوں نے حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے مجھے بیان کی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے : ہم اس بزرگ ( یعنی حسن بصری ) پر غالب نہیں آ سکتے ہیں ۔

670

Majma al-Zawaid #670

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعْصُوبًا رَأْسُهُ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الْكُتُبُ الَّتِي يَبْلُغُنِي أَنَّكُمْ تَكْتُبُونَهَا، أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ يُوشِكُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِكِتَابِهِ، فَيُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا ; فَلَا يَتْرُكُ فِي وَرَقَةٍ وَلَا فِي قَلْبٍ مِنْهُ حَرْفًا إِلَّا ذَهَبَ بِهِ ""، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَ الْمَجْلِسَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ؟ قَالَ: "" مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا أَبْقَى فِي قَلْبِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās and ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهم reported: The Messenger of Allah ﷺ came out to us with his head wrapped in a cloth, ascended the pulpit, and said: > **"What are these writings that reach me which you are writing down? Is there a book to be kept alongside the Book of Allah? It is near that Allah will become angry for the sake of His Book, so that it will be taken away by night, leaving not a single letter on any leaf or in any heart except that it will be removed."** One of those present asked, "Then what will become of the believing men and believing women, O Messenger of Allah?" He ﷺ replied: > **"Whoever Allah intends good for, He will preserve in his heart: 'Lā ilāha illā Allāh' (there is no deity worthy of worship except Allah)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا ، آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا : ’’ ان تحریروں کا کیا معاملہ ہے ؟ جن کے بارے میں مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم انہیں نوٹ کرتے ہو ، کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ نوٹ کیا جائے گا ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہو گا اور پھر اس کتاب کو رات کے وقت اُٹھا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ وہ ( اللہ تعالیٰ ) کسی ورق میں ، یا کسی دل میں اُس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا ، مگر یہ کہ اسے اٹھا لے گا ‘‘ حاضرین میں سے کسی نے کہا : یا رسول اللہ ! پھر مؤمن مردوں اور مؤمن خواتین کا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا ، اُس کے دل میں لا الہ الا اللہ باقی رہنے دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے ، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

671

Majma al-Zawaid #671

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «"" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا وَاتَّبَعُوهُ، وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, the Children of Israel wrote a book and followed it, and they abandoned the Torah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل نے تحریر لکھی اور اس کی پیروی کرنے لگے انہوں نے ’’ تورات ‘‘ کو چھوڑ دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔