وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ - الصَّلَاةَ "". قَالَ: قُلْتُ: أَسْمِعْتَ ذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَغَضِبَ، وَأَقْبَلَ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ قَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ، فَقَالُوا: سَمْعًا وَطَاعَةً لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثُوا رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا جَاءَنَا فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَمْرِكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ نُعْلِمَكَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، وَقَالَ: "" اذْهَبْ [إِلَى فُلَانٍ] فَاقْتُلْهُ، وَأَحْرِقْهُ بِالنَّارِ ""، فَانْتَهَى إِلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ وَقُبِرَ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُبِشَ، ثُمَّ أَحْرَقَهُ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". فَقَالَ: تَرَانِي كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا. قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ "" «أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاهِي الْحَدِيثِ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn Muḥammad ibn al-Ḥanafiyyah reported: My father and I went to an in-law of ours from the tribe of Aslam who was among the Companions of the Prophet ﷺ. I heard him say, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Relieve us with it, O Bilāl'—referring to the prayer." I asked, "Did you hear this directly from the Messenger of Allah ﷺ?" He became angry and recounted to them that the Messenger of Allah ﷺ once dispatched a man to an Arab tribe. When he reached them, he claimed, "The Messenger of Allah ﷺ commanded me to rule among your women as I see fit!" They said, "We hear and obey the command of the Messenger of Allah ﷺ." However, they sent an envoy to the Messenger of Allah ﷺ who informed him, "So-and-so came to us and claimed that the Prophet ﷺ commanded him to rule among our women; if this was indeed your command, we hear and obey, but if it was otherwise, we wished to inform you." The Messenger of Allah ﷺ became angry and dispatched a man from the Anṣār, saying: > **"Go to him, kill him, and burn him with fire."** The Anṣāri found that the man had already died and been buried, so he ordered his grave to be exhumed and burned his corpse with fire. Then the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever deliberately lies against me, let him take his seat in the Fire."** The Companion then said to me, "Do you think that after witnessing this, I would ever lie against the Messenger of Allah ﷺ?"
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے سسرالی عزیزوں کی طرف گیا ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے بلال ! اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ !‘‘۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد نماز تھی ۔ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی خود سنی ہے ؟ تو وہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے لوگوں کو یہ بات بیان کرنا شروع کی : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو عربوں کے کسی قبیلے کی طرف بھیجا ، جب وہ شخص اُن لوگوں کے پاس پہنچا ، تو اس نے ان لوگوں سے یہ کہا : بے شک اللہ کے رسول نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ دوں ( یعنی جس بھی خاتون کی شادی جس بھی جگہ طے کرنا چاہوں کر دوں ) ان لوگوں نے کہا : ہم اللہ کے رسول کے فرمان کی اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں ، پھر انہوں نے ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، اُس شخص نے بتایا : فلاں شخص ہمارے ہاں آیا اور اس نے ہم سے یہ کہا : بے شک نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں فیصلہ دوں ( پھر اس قاصد نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : ) اگر تو یہ آپ کا حکم ہے ، تو ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم یہ چیز آپ کے علم میں لے آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ، آپ ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور یہ ارشاد فرمایا : تم ( اس فلاں شخص ) کی طرف جاؤ ! اُسے قتل کر دو اور اُسے آگ میں جلا دو ! جب وہ انصاری ، اُس مطلوبہ فرد کے پاس پہنچا ، تو اُس شخص کا انتقال ہو چکا تھا اور اُسے دفنا دیا گیا تھا ، اُس انصاری کے حکم کے تحت اس کی میت کو قبر کھود کر نکالا گیا اور پھر اس انصاری نے آگ کے ذریعے اُسے جلا دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ ( عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : پھر مجھے مخاطب کر کے اُن صحابی نے ) کہا : کیا تم میرے بارے میں یہ سجھتے ہو ؟ کہ اس کے بعد بھی ، میں نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اے بلال ! ہمیں اس کے ذریعے راحت پہنچاؤ !‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ شخص ” ضعیف “ ہے اور ’’ واہی الحدیث ‘‘ ہے ۔