Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 3

Book of Knowledge

Hadith 552–591

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

552

Majma al-Zawaid #552

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «اغْدُوَا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ ; فَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ يُبَارِكَ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا، وَيَجْعَلَ ذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ، وَهُوَ يَسْرِقُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Go early in the morning in search of knowledge, for I asked my Lord to bless my Ummah in its early morning hours, and to make that on Thursdays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ علم کے حصول کے لیے صبح جاؤ ! کیونکہ میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی ہے : کہ وہ میری اُمت کے صبح کے کاموں میں برکت رکھ دے ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے اس کام ( یعنی لوگوں کو تعلیم دینے ) کے لیے جمعرات کا دن مخصوص کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ‘ جو حدیث چوری کرتا ہے ۔

553

Majma al-Zawaid #553

عَنْ قُرَّةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا جَلَسَ جَلَسَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ حِلَقًا حِلَقًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سَلَّامٍ، كَذَّبَهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Qurrah رضي الله عنه narrated: > **"Whenever the Messenger of Allah ﷺ sat down, his Companions would sit around him in circles."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب تشریف فرما ہوتے تھے ‘ تو آپ ﷺ کے ساتھی آپ ﷺ کے اردگرد حلقہ بنا کے بیٹھتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام ہے ‘ جسے امام احمد نے کذاب قرار دیا ہے ۔

554

Majma al-Zawaid #554

وَعَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ: كَانَ أَنَسٌ مِمَّا يَقُولُ لَنَا إِذَا حَدَّثْنَا هَذَا الْحَدِيثَ: إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا هُوَ بِالَّذِي تَصْنَعُ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ. يَعْنِي: وَيَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْتَمِعُونَ حَوْلَهُ فَيَخْطُبُ، إِنَّمَا كَانُوا إِذَا صَلَّوُا الْغَدَاةَ قَعَدُوا حِلَقًا حِلَقًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَعَلَّمُونَ الْفَرَائِضَ وَالسُّنَنَ. وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yazīd al-Raqāshī narrated: Whenever Anas [ibn Mālik] رضي الله عنه narrated this hadith to us, he would say: > **"By Allah, it was not as you and your companions do—where one of you sits down, they gather around him, and he delivers a speech. Rather, when they performed the morning prayer, they would sit in circles reciting the Qur'an and learning the obligatory duties and the Sunan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ جب ہمیں یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو اُس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے تھے : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ اس طرح نہیں کیا کرتے تھے ‘ جس طرح تم اور تمہارے ساتھی کرتے ہو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ تم لوگ یہ کرتے ہو کہ ایک شخص بیٹھ جاتا ہے ‘ لوگ اُس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں ‘ اور وہ خطبہ دیتا ہے ( یعنی وہ تقریر کرتا ہے ) صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ وہ لوگ صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے ‘ وہ قرآن پڑھتے تھے ‘ فرائض اور سنتیں سیکھتے تھے ۔ یزید رقاشی نامی راوی ضعیف ہے ۔

555

Majma al-Zawaid #555

عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" يَا قَبِيصَةُ، مَا جَاءَ بِكَ؟ "" قُلْتُ: كَبَرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ. قَالَ: "" يَا قَبِيصَةُ، مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ. يَا قَبِيصَةُ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْتَ ثَلَاثًا: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمَ وَبِحَمْدِهِ، تُعَافَى مِنَ الْعَمَى وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ. يَا قَبِيصَةُ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ، وَانْشُرْ عَلَيَّ مَنْ رَحِمَتْكَ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Qabīṣah ibn al-Mukhāriq رضي الله عنه narrated: I came to the Prophet ﷺ, and he said to me, "O Qabīṣah, what brings you here?" I said, "My age has advanced and my bones have grown frail, so I came to you that you may teach me something by which Allah will benefit me." He ﷺ said: > **"O Qabīṣah, you did not pass by any rock, tree, or clay dwelling except that it sought forgiveness for you. O Qabīṣah, when you pray the morning prayer, say three times: 'Subḥān Allāh al-ʿAẓīm wa biḥamdihi' (Glory be to Allah, the Magnificent, and praise be to Him)—you will be protected from blindness, leprosy, and paralysis. O Qabīṣah, say: 'Allāhumma innī as'aluka mimmā ʿindaka, wa afiḍ ʿalayya min faḍlika, wanshur ʿalayya min raḥmatika, wa anzil ʿalayya min barakātika' (O Allah, I ask You of what is with You, pour over me of Your bounty, spread over me of Your mercy, and send down upon me of Your blessings)."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے قبیصہ ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ‘ ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں ‘ تاکہ آپ مجھے اُس چیز کی تعلیم دیں ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے قبیصہ ! تم جس بھی پتھر یا درخت یا ( مٹی سے بنی ہوئی ) اینٹ کے پاس سے گزرے ‘ اُنہوں نے تمہارے لئے دعائے مغفرت کی ( کیونکہ تم علم کے حصول کے لئے آئے ہو ) اے قبیصہ ! جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ‘ تو تم تین مرتبہ سبحان اللہ العظیم و بحمدہ پڑھو ! تم نابینا پن ‘ جذام اور فالج سے محفوظ رہو گے ‘ اے قبیصہ ! تم یہ پڑھو :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ مانگتا ہوں ، جو تیرے پاس ہے ، تو مجھ پر اپنا فضل بہا دے ‘ اور مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کر دے اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

556

Majma al-Zawaid #556

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِبَابِهِ رَايَتَانِ: رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَثَّقَهُ مَالِكٌ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"No one leaves his house except that at his door are two banners: a banner in the hand of an angel and a banner in the hand of a devil. If he goes out for a purpose that Allah loves, the angel follows him with his banner, and he remains under the banner of the angel until he returns to his home. And if he goes out for a purpose that displeases Allah, Mighty and Majestic, the devil follows him with his banner, and he remains under the banner of the devil until he returns to his home."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے ‘ تو اُس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں ‘ ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ اور ایک جھنڈا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ اگر وہ شخص ایسے کام کے لیے نکلتا ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہو ‘ تو فرشتہ اپنا جھنڈا ساتھ لے کر اُس کے پیچھے جاتا ہے ‘ اور وہ شخص جب تک اپنے گھر واپس نہیں آتا ‘ اُس وقت تک مسلسل فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتا ہے ‘ اور اگر وہ کسی ایسے کام کے لیے نکلے ‘ جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ‘ تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اُس کے پیچھے جاتا ہے اور وہ شخص گھر واپس آنے تک مسلسل شیطان کے جھنڈے کے نیچے رہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ جسے امام مالک نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ایک روایت کے مطابق امام احمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

557

Majma al-Zawaid #557

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا انْتَعَلَ عَبْدٌ قَطُّ، وَلَا تَخَفَّفَ، وَلَا لَبِسَ ثَوْبًا فِي طَلَبِ عِلْمٍ - إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ حَيْثُ يَخْطُو عَتَبَةَ بَابِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī [ibn Abī Ṭālib] رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No servant puts on his sandals, leather socks, or clothing to set out in search of knowledge except that Allah forgives him his sins the moment he steps over the threshold of his door."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بھی کوئی بندہ علم کے حصول کے لیے ( نکلنے سے پہلے ) جوتا پہنتا ہے ‘ یا موزہ پہنتا ہے ‘ یا لباس پہنتا ہے ‘ تو جیسے ہی وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ پر قدم رکھتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

558

Majma al-Zawaid #558

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْتِهِ يَطْلُبُ عِلْمًا إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ عِيسَى، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَحَدِيثُهُ مُنْكَرٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"No man leaves his home seeking knowledge except that Allah makes easy for him thereby a path to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی طرف راستے کو آسان کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن عیسیٰ ہے اور وہ مجہول ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔

559

Majma al-Zawaid #559

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ فَقُمْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَقُلْنَا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ حِينَ يَلْبَسُ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ مَشَى حَافِيًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَمْ يَسْأَلْهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا افْتَرَضَ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْحَذَّاءُ. قُلْتُ: مُحَمَّدٌ هَذَا وَشَيْخُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: We were sitting with Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه when a funeral procession passed by. He stood up, so we stood up, and then we prayed. He took off his sandals, so we said, "O Successor of the Messenger of Allah ﷺ, you took off your sandals while the people are wearing their sandals?" He replied: > **"I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'Whoever walks barefoot in obedience to Allah, Allah, Mighty and Majestic, will not question him on the Day of Resurrection regarding what He made obligatory upon him.'"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ‘ ایک جنازہ گزرا ‘ وہ کھڑے ہوئے ‘ تو ہم بھی کھڑے ہو گئے ‘ پھر ہم نے نماز ادا کی ‘ اُنہوں نے جوتا اتار لیا ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! آپ نے جوتا کیوں اتار دیا ؟ جبکہ دوسرے لوگوں نے جوتے پہنے ہوئے ہیں ، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ‘ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ( یعنی فرمانبرداری کے کام میں ) جوتا پہنے بغیر ‘ پیدل چلتا ہے ‘ قیامت کے دن اللہ تعالی اُس سے ان چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے گا ، جو اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) نے اس شخص پر فرض کی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں محمد بن عبداللہ بن معاویہ حذاء اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے محمد نامی اس راوی اور اس کے استاد عبداللہ بن ابراہیم ‘ ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔

560

Majma al-Zawaid #560

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا تَسَارَعْتُمْ إِلَى الْخَيْرِ فَامْشُوا حُفَاةً ; فَإِنَّ اللَّهَ يُضَاعِفُ أَجْرَهُ عَلَى الْمُتَنَعِّلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"When you hasten toward good, walk barefoot, for Allah doubles the reward of such a person over one who wears sandals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تم نے بھلائی کے کام کی طرف جلدی کرنی ہو ‘ تو جوتا پہنے بغیر پیدل چل کر جاؤ ! کیونکہ ایسی صورت میں جوتا پہننے والے کے مقابلے میں دو گنا اجر ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عیسیٰ عطار ہے ‘ جو کذاب ہے ۔

561

Majma al-Zawaid #561

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا، ثُمَّ شَدَدْتُ رَحْلِي، فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَنِيسٍ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ فَخَشِيتَ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَحْشُرُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ: الْعِبَادَ - عُرَاةً، غُرْلًا، بُهْمًا "" قَالَ: قُلْنَا: وَمَا بُهْمًا؟ قَالَ: "" لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ. ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الدَّيَّانُ، أَنَا الْمَالِكُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ حَتَّى أَقْضِيَهُ مِنْهُ، حَتَّى اللَّطْمَةُ "". قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ هَذَا وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا؟ قَالَ: "" الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Muḥammad ibn ʿAqīl narrated that he heard Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه say: News reached me concerning a man who had heard a hadith from the Messenger of Allah ﷺ. So I purchased a camel, strapped on my saddle, and journeyed toward him for a whole month until I arrived in the Levant, where I found ʿAbdullāh ibn Unays رضي الله عنه. I said to the doorkeeper, "Tell him that Jābir is at the door." He asked, "The son of ʿAbdullāh?" I said, "Yes." So he came out, treading upon his garment [in haste], and he embraced me and I embraced him. I said, "A hadith reached me regarding you, that you heard it from the Messenger of Allah ﷺ concerning retribution (*qiṣāṣ*), and I feared that you might die or I might die before I could hear it." He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Allah will gather mankind on the Day of Resurrection—or he said: the servants—naked, uncircumcised, and *buhm*."** We asked, "What is *buhm*?" He ﷺ said: > **"Having nothing with them. Then He will call them with a voice that those far away will hear just as those nearby hear: 'I am the Judge (*al-Dayyān*), I am the Sovereign (*al-Mālik*). It is not proper for any of the people of the Fire to enter the Fire while he is owed a right by anyone among the people of Paradise until I settle it for him; and it is not proper for any of the people of Paradise to enter Paradise while he is owed a right by anyone among the people of the Fire until I settle it for him—even if it be a single slap.'"** We said, "How can this be when we will come naked, uncircumcised, and destitute?" He ﷺ said: > **"Through good deeds and bad deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک صاحب کے بارے میں ‘ مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے ایک حدیث نبی اکرم ﷺ سے سنی ہوئی ہے ‘ میں نے ایک اونٹ خریدا ‘ اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ تک سفر کر کے شام آیا ‘ وہ صاحب حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ‘ میں نے دربان سے کہا : اُن سے کہو ! جابر دروازے پر موجود ہے ‘ دربان نے دریافت کیا : جو عبداللہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو عبداللہ بن انیسں اپنے کپڑے کو پاؤں تلے دیتے ہوئے ( یعنی تیزی سے ) باہر آئے اور مجھ سے گلے ملے ‘ میں نے کہا : ایک حدیث کے بارے میں ‘ مجھے آپ کے حوالے سے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ نے وہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے ‘ وہ قصاص ( یعنی قیامت کے دن بدلہ دلوائے جانے ) کے بارے میں ہے ‘ تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ میرے اُس حدیث کو سننے سے پہلے کہیں آپ کا ‘ یا میرا انتقال نہ ہو جائے ‘ تو حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بندوں کو برہنہ جسم ‘ ختنہ کے بغیر حالت میں ” بہم ‘‘ حالت میں اٹھائے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے اپنے استاد سے پوچھا : لفظ ” بہم ‘‘ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ایسی آواز میں خطاب کرے گا ‘ جسے دور کا شخص بھی اُسی طرح سن لے گا ‘ جس طرح پاس والا سن لے گا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں دیان ( فیصلہ کرنے والا ) ہوں ، میں مالک ہوں ‘ اہل جہنم میں سے کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ‘ جبکہ اس نے کسی جنتی کا حق دینا ہو ‘ جب تک میں اُسے بدلہ نہیں دلوا دیتا ‘ اور اہل جنت میں سے ‘ کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو ‘ جبکہ اُس نے کسی جہنمی کا حق دینا ہو ‘ جب تک میں اُس کا فیصلہ نہیں کر دیتا ‘ خواہ وہ تھپڑ مارنے کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی ( قصاص یا بدلہ دیے جانے ) کا یہ معاملہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ ہم ( جب میدان محشر میں ) آئیں گے ‘ تو برہنہ جسم ہوں گے ‘ ختنے کے بغیر ہوں گے ‘ اور کوئی چیز بھی پاس نہیں ہو گی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( قیامت کے دن ‘ بدلے کے طور پر ) نیکیوں اور برائیوں ( کا لین دین ہو گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں عبداللہ بن محمد نامی راوی ضعیف ہے ۔

562

Majma al-Zawaid #562

وَعَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا، جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً فَسَتَرَهَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: لِهَذَا جِئْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا، وَفِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: خَرَجَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ - فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Makḥūl narrated: ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه came to Maslamah ibn Makhlad رضي الله عنه, and there was some altercation between him and the doorkeeper. Maslamah heard his voice and granted him permission to enter. ʿUqbah said, "I have not come to visit you socially; rather, I came to you for a specific need. Do you remember the day the Messenger of Allah ﷺ said:" > **"Whoever learns of a misdeed committed by his brother and conceals it, Allah will conceal his faults on the Day of Resurrection."** Maslamah replied, "Yes." ʿUqbah said, "It is for this that I came."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے گھر آئے ‘ تو اُن کے اور دربان کے درمیان تکرار ہو گئی ، حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی آواز سنی ‘ تو انہیں اندر آنے کی اجازت دیدی ، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : میں آپ کے پاس آپ سے ملنے کے لئے نہیں آیا ہوں ‘ بلکہ میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں ‘ کیا آپ کو وہ دن یاد ہے ؟ جب نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کی کسی برائی سے واقف ہو اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے ‘ تو قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا ‘‘۔ حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اسی لئے آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ‘ اسی طرح نقل کی ہے ‘ جبکہ معجم اوسط میں یہ محمد بن سیرین سے منقول ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ....... پھر انہوں نے اس روایت کو مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ معجم کبیر والی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

563

Majma al-Zawaid #563

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُنِيبٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: بَلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ]- أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، وَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". قَالَ: فَقَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَمُنِيبٌ هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿUmayr narrated from Munīb, from his uncle, who said: Word reached a man from among the Companions of the Prophet ﷺ concerning another man from among the Companions of the Prophet ﷺ who was residing in Egypt, that he was narrating from the Prophet ﷺ that he said: > **"Whoever conceals the fault of his Muslim brother in this world, Allah will conceal his faults on the Day of Resurrection."** So he traveled to him in Egypt and asked him about the hadith. The companion said, "Yes, I heard the Messenger of Allah ﷺ say:" > **"Whoever conceals the fault of his Muslim brother in this world, Allah will conceal his faults on the Day of Resurrection."** The visiting companion said, "And I, too, heard it directly from the Messenger of Allah ﷺ."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر نے ‘ منیب کے حوالے سے ‘ اُن کے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : صحابہ کرام میں سے ایک صاحب کو ایک اور صحابی کے بارے میں ‘ یہ بات پتہ چلی کہ وہ دوسرے صحابی ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا ‘ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا ‘‘۔ تو وہ صحابی ‘ اُس دوسرے صحابی کی طرف سفر کر کے گئے ‘ جو مصر میں رہتے تھے ‘ انہوں نے اُس صحابی سے اُس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ؟ تو اُس دوسرے صحابی نے بتایا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا ‘‘۔ تو اس صحابی نے ( یعنی جو سفر کر کے مدینہ منورہ سے مصر گئے تھے ‘ اُنہوں نے ) یہ بتایا : یہ بات میں نے بھی ‘ نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ منیب نامی اس راوی سے مراد ‘ اگر منیب بن عبداللہ ہے ‘ تو امام ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ‘ تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

564

Majma al-Zawaid #564

قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَرَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ قَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سَتْرِ الْمُسْلِمِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ حَتَّى تَحَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Jurayj narrated: Abū Ayyūb [al-Anṣārī] رضي الله عنه mounted his riding beast and journeyed to ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه in Egypt. He said, "I am asking you about a matter regarding which no one who witnessed it directly from the Messenger of Allah ﷺ remains except you and me. What did you hear the Messenger of Allah ﷺ say regarding concealing the faults of a Muslim?" ʿUqbah replied: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever conceals the private fault (*ʿawrah*) of a believer in this world, Allah, Mighty and Majestic, will conceal his faults on the Day of Resurrection."** So Abū Ayyūb turned back toward Medina, and he did not even untie his saddle until he had heard this hadith.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن جریج بیان کرتے ہیں : حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہو کر ( یعنی مدینہ منورہ سے سفر کر کے ) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے مصر گئے اور یہ کہا : میں آپ سے ایک ایسے معاملے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس جو افراد موجود تھے ‘ اُن میں سے صرف میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں ( میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں : مسلمان کی پردہ پوشی کے بارے میں ‘ آپ نے نبی اکرم ﷺ کو کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دنیا میں کسی مؤمن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرے گا ‘ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اُس شخص کی پردہ پوشی کرے گا ‘‘۔ تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس مدینہ منورہ روانہ ہو گئے ‘ اُنہوں نے اپنا پالان تک نہیں کھولا ‘ جب تک حضرت عقبہ نے انہیں یہ حدیث بیان نہیں کر دی ۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح ’’ منقطع ‘‘ سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

565

Majma al-Zawaid #565

عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا عَلَى مِصْرَ إِذْ أَتَى الْبَوَّابُ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْرَابِيًّا عَلَى الْبَابِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ. قَالَ: فَأَشْرَفْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَنْزِلُ إِلَيْكَ أَوْ تَصْعَدُ؟ فَقَالَ: لَا تَنْزِلُ وَلَا أَصْعَدُ، حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ، جِئْتُ أَسْمَعُهُ. قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ عَوْرَةً فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَوْءُودَةً» فَضَرَبَ بِعِيرَهُ رَاجِعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Rajāʾ ibn Ḥaywah narrated: I heard Maslamah ibn Makhlad رضي الله عنه say: While I was governing Egypt, the doorkeeper came and said, "A bedouin is at the gate upon a camel asking permission to enter." I asked, "Who are you?" He replied, "Jābir ibn ʿAbdillāh al-Anṣārī." Maslamah said: I looked down upon him and said, "Shall I descend to you, or will you come up?" He replied, "Neither shall you descend nor shall I come up. A hadith reached me that you narrate from the Messenger of Allah ﷺ concerning concealing the faults of a believer, and I came solely to hear it." I said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever conceals a private fault (*ʿawrah*) of a believer, it is as though he has revived a female infant buried alive (*mawʾūdah*)."** Thereupon, Jābir struck his camel and turned back on his journey.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں : میں نے ‘ حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب میں مصر کا گورنر تھا ، تو دربان میرے پاس آیا اور بولا : دروازے پر ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر موجود ہے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ‘ میں نے دریافت کیا تم کون ہو ؟ تو اُس نے بتایا : جابر بن عبداللہ انصاری ، حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا اور دریافت کیا : میں نیچے آ جاؤں ؟ یا آپ اوپر آ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہ تم نیچے آؤ نہ میں اوپر آؤں گا ‘ ایک حدیث کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی ہے ‘ کہ تم اُسے اللہ کے رسول کے حوالے سے روایت کرتے ہو ‘ اور وہ حدیث مؤمن کی پردہ پوشی کے بارے میں ہے ‘ میں اُس کو سننے کے لیے آیا ہوں ( حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص کسی مؤمن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرتا ہے ‘ تو وہ گویا ایسی بچی کو زندگی دیتا ہے ‘ جسے زندہ دفن کیا جانا تھا ‘‘۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مارا ‘ اور واپس روانہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوسنان قسملی ہے ‘ جسے ابن حبان نے اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد ‘ امام بخاری اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

566

Majma al-Zawaid #566

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَخْرُجُ النَّاسُ مِنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَلَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ - أَوْ عَالِمِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"People will set out from the East and the West in search of knowledge, but they will not find any scholar more knowledgeable than the scholar of Medina—or the scholar of the people of Medina."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگ علم کے حصول کے لیے ‘ مشرق و مغرب ( کے مختلف علاقوں ) سے نکلیں گے ‘ لیکن وہ کوئی ایسا علم نہیں پائیں گے جو مدینہ کے عالم ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل مدینہ کے عالم سے بڑا عالم ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ‘ اور اکثر حضرات کے نزدیک وہ ضعیف ہے ۔

567

Majma al-Zawaid #567

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْقُرْآنِ فَلْيَأْتِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفَرَائِضِ فَلْيَأْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْفِقْهِ فَلْيَأْتِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الْمَالِ فَلْيَأْتِنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي لَهُ وَالِيًا وَقَاسِمًا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه addressed the people at al-Jābiyah, saying: > **"O people! Whoever wishes to ask about the Qur'an, let him go to Ubayy ibn Kaʿb. Whoever wishes to ask about the laws of inheritance (*farāʾiḍ*), let him go to Zayd ibn Thābit. Whoever wishes to ask about jurisprudence (*fiqh*), let him go to Muʿādh ibn Jabal. And whoever wishes to ask about wealth, let him come to me, for indeed, Allah has appointed me as its custodian and distributor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ’’ جابیہ ‘‘ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! جو شخص قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہو ‘ وہ ابی بن کعب کے پاس جائے ‘ جو شخص وراثت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ‘ وہ زید بن ثابت کے پاس جائے ‘ جو شخص فقہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ‘ وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے ، جو شخص مال کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہو ‘ وہ میرے پاس آئے ‘ کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے لیے مجھے ہی والی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد بن حصین ہے ‘ میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

568

Majma al-Zawaid #568

وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ: "" مِنْ أَشْرَاطِهَا ثَلَاثٌ: إِحْدَاهُنَّ الْتِمَاسُ الْعِلْمِ عِنْدَ الْأَصَاغِرِ» "". قَالَ مُوسَى: يُقَالُ: إِنَّ الْأَصَاغِرَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umayyah al-Jumaḥī رضي الله عنه narrated that a man asked the Prophet ﷺ about the Hour, and he ﷺ replied: > **"Among its portents are three: one of them is seeking knowledge from the *aṣāghir* (the minor ones / subordinates)."** Mūsā [the narrator] said: "It is said that *al-aṣāghir* refers to the people of religious innovations (*ahl al-bidaʿ*)."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامیہ جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اُس کی تین نشانیاں ہیں ‘ اُن میں سے ایک یہ ہے : کہ چھوٹوں سے علم حاصل کیا جائے گا ۔ موئی نامی راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : یہاں چھوٹوں سے مراد ‘ بدعتی لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جو ضعیف ہے ۔

569

Majma al-Zawaid #569

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ صَالِحِينَ مُتَمَاسِكِينَ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِنْ أَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ مِنْ أَصَاغِرِهِمْ هَلَكُوا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"The people will continue to remain upright and cohesive so long as knowledge comes to them from the Companions of Muḥammad ﷺ and from their elders; but when knowledge comes to them from their youngsters (or subordinates), they will be ruined."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ اُس وقت تک نیک اور ( دین کی تعلیمات کو ) مضبوطی سے تھامے رکھیں گے ‘ جب تک اُن کے پاس حضرت محمد ﷺ کے اصحاب اور اُن لوگوں کے اکابرین کی طرف سے علم آئے گا ‘ اور جب ان کے پاس علم ، تم لوگوں کے چھوٹوں کی طرف سے آئے گا ‘ تو وہ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

570

Majma al-Zawaid #570

عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْحَدِيثُ عَلَى مَا تَعْرِفُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī [ibn Abī Ṭālib] رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said: > **"Hadith is to be understood according to what you commonly recognize."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ بات کا وہ مفہوم مراد ہوتا ہے ‘ جس سے تم آشنا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ‘ ابن حبان اور امام حاکم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

571

Majma al-Zawaid #571

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعُ طَالِبُهُمَا: طَالِبُ عِلْمٍ، وَطَالِبُ الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There are two avid seekers whose greed is never sated: the seeker of knowledge and the seeker of the worldly life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دو حرص والی چیزیں ایسی ہیں کہ ان دونوں ( چیزوں ) کا طلبگار سیر نہیں ہوتا ، علم کا طلبگار اور دنیا کا طلبگار ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے ‘ جو ضعیف ہے ۔

572

Majma al-Zawaid #572

وَعَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْهُومَانِ لَا تَنْقَضِي نَهْمَتُهُمْ: مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لَا تَنْقَضِي نَهْمَتُهُ، وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا لَا تَنْقَضِي نَهْمَتُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid narrated from ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما—the narrator said: I believe he raised it to the Prophet ﷺ—who said: > **"There are two insatiable seekers whose craving never ends: an insatiable seeker in the pursuit of knowledge whose craving is never extinguished, and an insatiable seeker in the pursuit of the worldly life whose craving is never extinguished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد نے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ انہوں نے ‘ نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر ‘ اسے نقل کیا ہے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ حرص والی دو چیزیں ایسی ہیں ، جن کی حرص ختم نہیں ہوتی ہے ‘ جس شخص کو علم کے حصول کی حرص ہو ‘ اُس کی حرص ختم نہیں ہوتی ہے ‘ اور جس شخص کو دنیا کے حصول کی حرص ہو ‘ اس کی حرص ختم نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

573

Majma al-Zawaid #573

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَرْبَعٌ لَا يَشْبَعْنَ مِنْ أَرْبَعٍ: عَيْنٌ مِنْ نَظَرٍ، وَأَرْضٌ مِنْ مَطَرٍ، وَأُنْثَى مِنْ ذَكَرٍ، وَعَالِمٌ مِنْ عِلْمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Four things are never sated with four: an eye with looking, the earth with rain, a female with a male, and a scholar with knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ چار چیزیں ‘ چار چیزوں کے حوالے سے سیر نہیں ہوتی ہیں ، آنکھ دیکھنے سے ‘ زمین ‘ بارش سے ‘ مونث ‘ مذکر سے ‘ اور عالم ‘ علم سے ( کبھی سیر نہیں ہوتے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عبدالقدوس ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اُس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

574

Majma al-Zawaid #574

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ مَعَادِنِ التَّقْوَى تَعَلُّمُكَ إِلَى مَا عَلِمْتَ مَا لَمْ تَعْلَمْ، وَالنَّقْصُ فِيمَا قَدْ عَلِمْتَ قِلَّةُ الزِّيَادَةِ فِيهِ، إِنَّمَا يُزْهِدُ الرَّجُلَ فِي عِلْمِ مَا لَمْ يَعْلَمْ قِلَّةُ الِانْتِفَاعِ بِمَا قَدْ عَلِمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Jābir [ibn ʿAbdillāh] رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Among the foundations of Taqwa is that you learn, alongside what you already know, that which you do not know; and deficiency in what you already know is the lack of increase therein. Indeed, what causes a man to become indifferent to learning what he does not know is his meager benefit from what he has already learned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تقوی کے معدن میں یہ بات بھی شامل ہے ‘ کہ تمہیں جس چیز کا علم ہے ‘ اُس کے ہمراہ تم اُس چیز کا بھی علم حاصل کرو ‘ جس کا تمہیں علم نہیں ہے ‘ تم جو چیز جانتے ہو ‘ اُس میں کمی اس میں اضافے کی قلت ہے ۔ آدمی اُس وقت تک علم سے بے رغبتی اختیار نہیں کرتا ‘ جب تک وہ یہ نہیں جان لیتا کہ اُس نے جو علم حاصل کیا ہے ‘ اُس سے تھوڑا نفع حاصل ہوا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یاسین زیات ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

575

Majma al-Zawaid #575

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ لَا أَزْدَادُ فِيهِ عِلْمًا فَلَا بُورِكَ فِي طُلُوعِ شَمْسِ ذَلِكَ الْيَوْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"If a day passes over me in which I do not increase in knowledge, then may no blessing be placed in the rising of the sun on that day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب مجھ پر کوئی ایسا دن آئے ‘ جس میں میرے علم میں اضافہ نہ ہوا ہو ‘ تو اس دن کے سورج کے نکلنے میں برکت نہیں رکھی گئی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ہے ‘ امام ابوحاتم فرماتے ہیں : وہ کذاب ہے ۔

576

Majma al-Zawaid #576

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا تَقُولُ فِيَّ؟ قَالَ: وَمَا عَسَى أَنْ أَقُولَ فِيكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي عَامِلٌ بِقَلَمٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يُؤْتَى بِصَاحِبِ الْقَلَمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي تَابُوتٍ مِنْ نَارٍ مُقْفَلٍ عَلَيْهِ بِأَقْفَالٍ مِنْ نَارٍ، [فَيُنْظَرُ قَلَمُهُ فِيمَنْ أَجْرَاهُ] فَإِنْ كَانَ أَجْرَاهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ فُكَّ عَنْهُ التَّابُوتُ، وَإِنْ كَانَ أَجْرَاهُ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ هَوَى بِهِ فِي التَّابُوتِ سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى بَارِي الْقَلَمِ وَلَائِقِ الدَّوَاةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ الْجِيزِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ آفَةَ هَذَا الْحَدِيثِ الْجِيزِيُّ ; لِأَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ: تَفَرَّدَ بِهِ الْجِيزِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ narrated: I was with ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما when a man came to him and said, "O Abū ʿAbbās, what do you say concerning me?" Ibn ʿAbbās said, "And what should I say concerning you?" The man said, "I work with the pen." Ibn ʿAbbās said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"The person of the pen will be brought on the Day of Resurrection in a casket of fire, locked with padlocks of fire, and his pen will be examined as to what he used it for. If he used it in obedience to Allah and His pleasure, the casket will be unlocked for him; but if he used it in disobedience to Allah, he will plummet with it in the casket for seventy autumns—even down to the sharpening of the pen and the ink poured into the inkstand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : میں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ‘ ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا : اے ابوعباس ! میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہارے بارے میں ‘ کسی حوالے سے رائے دوں ؟ اُس نے کہا : میں قلم کے ذریعے کام کرنے والا شخص ہوں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ‘ قلم والے شخص کو آگ سے بنے ہوئے تابوت میں لایا جائے گا ‘ جس پر آگ سے بنے ہوئے تالے لگے ہوں گے ‘ اور پھر اس شخص کے قلم کا جائزہ لیا جائے گا کہ اُس نے اُس فلم کو کس کام میں استعمال کیا ؟ اگر اُس نے اُس قلم کو اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا مندی کے کام میں استعمال کیا ہو گا ‘ تو اُسے تابوت سے نجات مل جائے گی ‘ اور اگر اُس نے اُس قلم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام میں استعمال کیا ہو گا ‘ تو وہ اس تابوت میں ستر سال تک ( جہنم میں ) گرتا رہے گا ‘ یہاں تک کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ایوب جیزی نے اسماعیل بن عیاش سے روایت کیا ہے ‘ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں خرابی کی جڑ جیزی نامی راوی ہے ‘ کیونکہ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جیزی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔

577

Majma al-Zawaid #577

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ فِي كِتَابٍ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَسْتَغْفِرُ لَهُ مَا دَامَ اسْمِي فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ الدَّارِسِيُّ، كَذَّبَهُ الْأَزْدِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever invokes blessings upon me in a book, the angels continue to seek forgiveness for him for as long as my name remains in that book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص مجھ پر تحریری طور پر درود بھیجتا ہے ‘ تو فرشتے اُس وقت تک اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ‘ جب تک میرا نام اُس تحریر میں موجود رہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبید دارسی ہے ‘ جسے ازدی اور دیگر حضرات نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔

578

Majma al-Zawaid #578

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ ذَكَرَنِي فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُغْرِبُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever remembers me, let him send blessings upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میرا ذکر کرے ‘ اُسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ازرق بن علی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

579

Majma al-Zawaid #579

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلْيُصَلِّ عَلَيَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever hears me mentioned in his presence, let him invoke blessings upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے ‘ اُسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

580

Majma al-Zawaid #580

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخُطِّئَ الصَّلَاةَ عَلَى خُطِّئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ أَوْ بِشْرٌ، فَإِنْ كَانَ بَشِيرًا فَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَإِنْ كَانَ بِشْرًا فَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ. قُلْتُ: وَالْأَحَادِيثُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَأْتِي فِي الْأَدْعِيَةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥusayn ibn ʿAlī رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever hears me mentioned in his presence and fails to invoke blessings upon me has missed the path to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جنت کے راستے سے بھٹکا دیا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن محمد کندی ہے ‘ یا شاید اس کا نام بشر ہے ‘ اگر یہ بشیر ہے ‘ تو پھر عبداللہ بن مبارک ‘ یحیی بن معین اور امام دارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور اگر یہ بشر ہے ‘ تو پھر میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے سے متعلق احادیث آگے چل کر ‘ دعاؤں سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

581

Majma al-Zawaid #581

عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ، وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ.

EnglishUnverified translation

Thābit ibn Qays ibn Shammās رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"You hear, and others will hear from you, and others will hear from those who hear from you."** Then he ﷺ said: > **"After that, there will come a people who bear witness before being asked to bear witness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ ( مجھ سے علمی باتیں ) سنو ! تم سے بھی سنا جائے گا ، جنہوں نے تم سے سنا ہو گا ‘ اُن سے بھی سنا جائے گا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے ‘ جو گواہی دیں گے ‘ اس سے پہلے کہ اُن سے گواہی مانگی جائے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عبدالرحمن بن ابی لیلی نامی راوی نے ‘ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

582

Majma al-Zawaid #582

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْخُ سُلَيْمَانَ بْنِ سَيْفٍ، سَعِيدَ بْنَ بَزِيغٍ ; فَإِنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ. وَإِنْ كَانَ سَعِيدَ بْنَ الرَّبِيعِ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ; فَإِنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said during the Farewell Pilgrimage: > **"May Allah brighten the face of a person who hears my saying and comprehends it; for perhaps a carrier of understanding is not himself a jurist. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere counsel to the leaders of the Muslims, and adhering to their main body (*jamāʿah*); for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقعہ پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ! جو میری بات سن کر اُسے محفوظ رکھے ‘ کیونکہ بعض اوقات علمی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ، تین چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کے بارے میں مؤمن شخص کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا ‘ اللہ تعالٰی کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ اُن کی دعا ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ‘ جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ سلیمان بن سیف کے استاد سعید بن بزیغ کا معاملہ مختلف ہے ‘ کیونکہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ‘ اگرچہ سعید بن ربیع ، جو صحیح کے رجال میں سے ایک ہیں ‘ اُنہوں نے ان دونوں سے روایات نقل کی ہیں ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

583

Majma al-Zawaid #583

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً، سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنَّصِيحَةُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُبَيْدٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon to us and said: > **"May Allah brighten the face of a person who hears this saying of mine and conveys it; for perhaps a carrier of understanding conveys it to one who possesses deeper understanding than himself. There are three things concerning which the heart of a Muslim never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, sincere counsel to every Muslim, and adhering to the main body of the Muslims; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ! جو میری یہ گفتگو سن کر اُس کی تبلیغ کر دے ‘ کیونکہ بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے زیادہ بڑا عالم ہوتا ہے ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ‘ ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنا ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ ان کی دعا اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ‘ جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کا مدار عبدالرحمن بن زبید نامی راوی پر ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ‘ یہ بات امام بخاری میں بیان کی ہے ۔

584

Majma al-Zawaid #584

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ فَقَالَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd ibn ʿUmayr narrated from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ addressed them, saying: > **"May Allah brighten the face of a person who hears my saying and comprehends it; for perhaps a carrier of understanding possesses no profound understanding himself, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who possesses deeper understanding than he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن عمیر نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے اُن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے بڑا عالم ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ میں نے کسی کو محمد بن نصر نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، جو معجم اوسط میں امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

585

Majma al-Zawaid #585

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ كَلَامِي ثُمَّ لَمْ يَزِدْ فِيهِ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى [مَنْ هُوَ] أَوْعَى مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالْمُنَاصَحَةُ لِأُولِي الْأَمْرِ، وَالِاعْتِصَامُ بِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ: "" «رُبَّ حَامِلِ كَلِمَةٍ» بَدَلَ: "" فِقْهٍ "". وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، رُمِيَ بِالْكَذِبِ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"May Allah brighten the face of a servant who hears my speech and then adds nothing to it; for perhaps a carrier of understanding conveys it to one who retains it better than he. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere counsel to those in authority, and holding fast to the main body of the Muslims; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میرا کلام سنے اور اُس میں کوئی اضافہ نہ کرے ، بعض اوقات براہ راست کوئی چیز سیکھنے والا شخص اس بات کو اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے زیادہ بہتر طور پر اس بات کو یاد رکھتا ہے ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کے بارے میں ‘ مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا ‘ اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ‘ حکمرانوں کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، کیونکہ ان کی دعاء ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ‘ جو اُن کے پیچھے ہوتے ہیں ( یعنی جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے اس میں لفظ ” حامل فقہ ‘‘ کی بجائے ” حامل کلمہ ‘‘ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

586

Majma al-Zawaid #586

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَقَالَ: "" نَضَّرَ اللَّهُ وَجْهَ عَبْدٍ سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَمَلَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى الْخَيَّاطُ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه narrated in a sermon: The Messenger of Allah ﷺ addressed us in Masjid al-Khayf, saying: > **"May Allah brighten the face of a servant who hears my saying and carries it; for perhaps a carrier of understanding is not himself a jurist, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who has deeper understanding than he. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere counsel to those in authority, and adhering to the main body of the Muslims; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے خطبہ کے دوران یہ بات بیان کی : مسجد خیف میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری بات سن کر اسے سیکھ لے ‘ کیونکہ بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ‘ اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ( یعنی اُس سے زیادہ علم رکھتا ہے ) تین چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ‘ کیونکہ اُن کی دعا ‘ اُن لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ‘ جو ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خیاط ہے ‘ جو متروک الحدیث ہے ۔

587

Majma al-Zawaid #587

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَمَشَّاهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr narrated from his father [Bashīr ibn Saʿd] رضي الله عنهما, from the Prophet ﷺ, that he said: > **"May Allah have mercy upon a servant who hears my speech and memorizes it; for perhaps a carrier of understanding is not himself a jurist, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who has deeper understanding than he. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere counsel to the leaders of the Muslims, and adhering to the main body of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مؤمن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا ‘ اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ‘ جسے امام بخاری اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور یحیی بن معین نے اُس کا ساتھ دیا ہے ۔

588

Majma al-Zawaid #588

وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ جَنْدَرَةَ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ عِلْمٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ الْقَلْبُ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ، وَمُنَاصَحَةُ الْوُلَاةِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ» "". قَالَ: وَبَلَغَنِي أَنَّ ابْنًا لِأَبِي قِرْصَافَةَ أَسَرَتْهُ الرُّومُ، فَكَانَ أَبُو قِرْصَافَةَ يُنَادِيهِ مِنْ سُورِ عَسْقَلَانَ فِي وَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ: يَا فُلَانُ، الصَّلَاةُ، فَيَسْمَعُهُ فَيُجِيبُهُ، وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ الْبَحْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Qirṣāfah Jandarah ibn Khaythamah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"May Allah brighten the face of a person who hears my saying, comprehends it, and memorizes it; for perhaps a carrier of knowledge conveys it to one who is more knowledgeable than he. There are three things concerning which the heart never harbors rancor: sincerity of deeds, offering sincere counsel to those in authority, and adhering to the main body (*al-jamāʿah*)."** [The narrator added: Word reached me that a son of Abū Qirṣāfah was captured by the Byzantines. Abū Qirṣāfah used to call out to him from the city wall of Ascalon at the time of each prayer: "O so-and-so! The prayer!" and his son would hear him and answer him, even though the expanse of the sea lay between them.]

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقرصافہ جندرہ بن خیثمہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ کر لے اور یاد رکھے ‘ بعض اوقات کوئی علمی بات سیکھنے والا شخص ‘ اس شخص تک ( وہ بات ) منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے ‘ تین چیزوں کے بارے میں دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا خالص ہونا ، حکمرانوں کی خیرخواہی ‘ اور جماعت کے ساتھ رہنا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو رومیوں نے قید کر لیا ‘ تو حضرت ابوقرصافحہ ہیں رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت ’’ عسقلان ‘‘ شہر کی فصیل کے پاس بلند آواز میں یہ کہتے تھے : اے فلاں ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ‘ اُن کے بیٹے اُن کی آواز سنتے تھے اور انہیں جواب دیتے تھے ‘ حالانکہ ان دونوں کے درمیان سمندر کی چوڑائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے اُس کے راویوں میں سے کسی کا ذکر کرتے ہوئے ‘ کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔

589

Majma al-Zawaid #589

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ بَلَّغَهَا، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَرْبَرِيُّ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Jābir [ibn ʿAbdillāh] رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"May Allah brighten the face of a person who hears my saying, comprehends it, and then conveys it; for perhaps the one to whom it is conveyed is more retentive than the listener. There are three things concerning which the heart of a Muslim person never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere counsel to the rulers of the Muslims, and adhering to their main body; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے اور پھر اُس کی تبلیغ کر دے ‘ کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس تک تبلیغ کی گئی ہوتی ہے ‘ وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں ‘ اُس بات کو زیادہ بہتر طور پر محفوظ رکھتا ہے ، تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں کسی مسلمان کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کی خیرخواہی ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا ‘ کیونکہ اُن کی دعا ان لوگوں کو بھی محیط ہوتی ہے ‘ جو اُن کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ بربری ہے ‘ امام دارقطنی فرماتے ہیں : یہ قومی نہیں ہے ۔

590

Majma al-Zawaid #590

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَهُوَ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"May Allah brighten the face of a servant who hears my saying and comprehends it; for perhaps a carrier of understanding is not himself a jurist, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who possesses deeper understanding than he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ‘ کیونکہ بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ‘ اور بعض اوقات ( ایسا بھی ہوتا ہے ) کوئی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اُس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے بڑا عالم ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبداللہ ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

591

Majma al-Zawaid #591

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ: "" «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا ثُمَّ ذَهَبَ بِهَا إِلَى مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ [مُؤْمِنٍ]: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنُّصْحُ لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْأَمْرَ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah ﷺ addressed us in Masjid al-Khayf at Minā, saying: > **"May Allah brighten the face of a person who hears my saying, memorizes it, and then delivers it to one who has not heard it; for perhaps a carrier of understanding is not himself a jurist, and perhaps a carrier of understanding conveys it to one who possesses deeper understanding than he. There are three things concerning which the heart of a believer never harbors rancor: sincerity of deeds for Allah alone, offering sincere advice to whomever Allah has placed in authority over you, and adhering to the main body of the Muslims; for indeed, their supplication encompasses those behind them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : منی میں ، مسجد خیف میں ‘ ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو خوش رکھے ‘ جو میری گفتگو سن کر اسے محفوظ رکھے ‘ اور پھر اُسے اُس شخص تک پہنچا دے ، جس نے اُسے نہیں سنا تھا ، بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص عالم نہیں ہوتا ‘ اور بعض اوقات کوئی بات سیکھنے والا شخص ‘ وہ بات اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اُس سے بڑا عالم ہوتا ہے ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں مومن کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ہے ‘ عمل کا ‘ اللہ تعالیٰ کیلئے خالص ہونا ‘ اُن لوگوں کے لیے خیرخواہی ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا حکمران بنایا ہے ‘ اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ اُن کی دعا ‘ پیچھے موجود افراد تک محیط ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔