Majma al-Zawaid #7577
«وَعَنْ صِرْمَةَ الْعُذْرِيِّ قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سُلَيْمٍ فَأَصَبْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ فَأَرْغَبْنَا فِي الْبَيْعِ، وَقَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزُوبَةُ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَصْنَعَ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا حَتَّى نَسْأَلَهُ. فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اعْزِلُوا أَوْ لَا تَعْزِلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ مِنْ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Sirmah al-ʿUdhri, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ raided Banu Sulaym and they took noble Arab women. They desired sale and were pressed by bachelorhood, so they wished to enjoy and withdraw. Some said they should not do that while the Messenger of Allah ﷺ was among them until they asked him. They asked him, and the Messenger of Allah ﷺ said to withdraw or not withdraw, whatever soul Allah has written to come to be till the Day of Resurrection will come to be. > **"Withdraw or do not withdraw, whatever soul Allah has written to come to be till the Day of Resurrection will come to be."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت صرمہ عذری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنوسلیم سے جنگ کے لئے تشریف لے گئے ہمیں عرب کی معزز عورتیں ملیں ہمیں ان کی فروخت میں بھی دلچسپی تھی اور ہم اکیلے رہ کے بھی تنگ آ گئے تھے ‘ تو ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ہم ان کے ساتھ صحبت کر لیتے ہیں اور عزل کر لیں گے ہم میں سے کسی ایک نے یہ کہا : ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے جب کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں ہمیں پہلے آپ سے پوچھ لینا چاہیے ہم نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عزل کرو یا نہ کرو قیامت کے دن تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس جان کے بارے میں طے کر دیا ہے کہ اس نے پیدا ہونا ہے ‘ تو وہ ( پیدا ) ہو کے رہے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔