Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 7

Book of Marriage

Hadith 7537–7576

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7537

Majma al-Zawaid #7537

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ؟ "" لِيَتِيمَةٍ كَانَتْ عِنْدَهَا. فَقُلْتُ: أَهْدَيْنَاهَا إِلَى زَوْجِهَا. قَالَ: "" فَهَلْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا جَارِيَةً تَضْرِبُ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّي؟ "" قَالَتْ: تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: "" تَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ. لَوْلَا الذَّهَبُ الْأَحْمَرُ مَا حَلَّتْ بِوَادِيكُمْ. لَوْلَا الْحِنْطَةُ السَّمْرَا مَا سَمِيَتْ عَذَارِيكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, radiyallahu ʿanha, reported that the Prophet ﷺ asked what happened to a certain orphan girl under her care. She said she had escorted her to her husband. He asked whether they sent with her a girl to beat the duff and sing. She asked what she should say, and he told her to say, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you. Were it not for red gold she would not have settled in your valley. Were it not for brown wheat your virgins would not have grown plump. > **"Did you send with her a girl to beat the duff and sing, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you. Were it not for red gold she would not have settled in your valley. Were it not for brown wheat your virgins would not have grown plump."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : فلاں لڑکی کا کیا حال ہے ؟ وہ ایک یتیم لڑکی تھی ، جو نبی اکرم ﷺ کی زیر پرورش تھی میں نے عرض کی : میں نے اس کی اس کے شوہر کے گھر رخصتی کروا دی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے ساتھ کسی ایسی لڑکی کو کیوں نہیں بھیجا جو دف بجاتی اور گانا گاتی سیدہ عائشہ ہی ہونا نے عرض کی : وہ کیا گاتی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ یہ گاتیں : ’’ ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اگر سرخ سونا نہ ہوتا ‘ تو اُس نے تمہارے ہاں نہیں آنا تھا ‘ اور اگر صاف گندم نہ ہوتی ، تو تمہاری کنواری لڑکیوں نے صحت مند نہیں ہونا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رواد بن جراح ہے ‘ جسے امام احمد یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

7538

Majma al-Zawaid #7538

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوَّلِ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ بِعَرُوسٍ وَمَعَهَا نِسْوَةٌ، وَإِذَا إِحْدَاهُنَّ تَقُولُ: وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَبَحْبَحَ فِي الْمِرْبَدِ. وَزَوْجُكِ فِي الْبَادِي وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقُولِي هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولِي: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiyallahu ʿanhu, reported that when the Prophet ﷺ first arrived in Madinah he passed a bride with women, and one of them was singing, He presented to her a ram wallowing in the enclosure, and your husband is in the desert and knows what tomorrow holds. The Messenger of Allah ﷺ said not to say that, but to say, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you. > **"Do not say this, but say, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو آغاز میں آپ کا گزر ایک شادی کے پاس سے ہوا جس میں خواتین موجود تھیں اور ان میں سے کوئی ایک یہ گا رہی تھی :’’ اور اس شخص نے اس عورت کو ایک دنبہ تحفہ کے طور پر دیا ہے جو باڑے میں ٹھہر گیا ہے ‘ اور تمہارا شوہر آبادی سے باہر رہتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا “۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ نہ گاؤ ! تم یہ گاؤ : ’’ ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

7539

Majma al-Zawaid #7539

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِنِسَاءٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي عُرْسٍ لَهُنَّ وَهُنَّ يُغَنِّينَ: وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَبَحْبَحَ فِي الْمِرْبَدِ. وَزَوْجُكِ فِي الْبَادِي وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, radiyallahu ʿanha, reported that the Prophet ﷺ passed women of the Ansar at a wedding singing, He presented to her a ram wallowing in the enclosure, and your husband is in the desert and knows what tomorrow holds. The Messenger of Allah ﷺ said that none knows what tomorrow holds except Allah. > **"None knows what tomorrow holds except Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار کی کچھ خواتین کے پاس سے گزرے جو ایک شادی میں شریک تھیں اور وہ یہ گانا گا رہی تھیں : ’’ اس مرد نے اس عورت کو ایک دنبہ تحفے کے طور پر دیا ہے جو باڑے میں ٹھہر گیا ہے ‘ اور تمہارا شوہر آبادی سے باہر رہتا ہے ‘ اور وہ یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا “۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل کیا ہو گا یہ بات صرف اللہ جانتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7540

Majma al-Zawaid #7540

«وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَوَارٍ يَتَغَنَّيْنَ يَقُلْنَ: فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ. فَوَقَفَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ دَعَاهُنَّ فَقَالَ: "" لَا تَقُلْنَ هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا: حَيَّانَا وَإِيَّاكُمْ "" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُرَخِّصُ لِلنَّاسِ فِي هَذَا؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ إِنَّهُ نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ أَشِيدُوا بِالنِّكَاحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Saʾib ibn Yazid, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ met slave girls singing, Greet us and we greet you. He stopped for them and called them and said not to say that, but to say, May Allah greet us and you. A man asked whether he permitted people this, and he said yes, for it is marriage not fornication, so proclaim marriage with song. > **"Do not say this, but say, May Allah greet us and you. Yes, it is marriage not fornication, so proclaim the marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات کچھ لڑکیوں سے ہوئی جو گانا گا رہی تھیں اور یہ گا رہی تھیں : تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کے پاس ٹھہر گئے آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا تم یہ نہ کہو بلکہ تم یہ کہو کہ انہوں نے ہمیں اور تمہیں خوش آمدید کہا ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ لوگوں کو اس کی اجازت دیتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں یہ نکاح ہے کوئی پوشیدہ عمل نہیں ہے تم نکاح پر گانا گاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے اسے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ۔

7541

Majma al-Zawaid #7541

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَبَّارٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "" قَالُوا: زَوَّجَ هَبَّارٌ ابْنَتَهُ فَضُرِبَ فِي عُرْسِهَا بِالْكِيرِ وَالْغِرْبَالِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشِيدُوا النِّكَاحَ أَشِيدُوا النِّكَاحَ هَذَا نِكَاحٌ لَا سِفَاحٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Habbar reported from his father Habbar, radiyallahu ʿanhu, that Habbar married his daughter and the kir and the ghirbal were beaten at her wedding. The Messenger of Allah ﷺ heard it and asked what it was. They said Habbar had married his daughter and the kir and ghirbal were beaten at her wedding. The Messenger of Allah ﷺ said to proclaim the marriage twice, for this is marriage not fornication. > **"Proclaim the marriage, proclaim the marriage, this is marriage not fornication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ہبار ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ہبار رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ، تو ان کی شادی میں ’’ کیر ‘‘ ( مخصوص آلہ ) اور ’’ غربال ‘‘ ( دف نما ایک برتن ) بجایا گیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ آواز سنی ‘ تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ہبار نے اپنی صاحبزادی کی شادی کی ہے ‘ تو اس کی شادی میں ’’ کیا ‘‘ ( مخصوص آلہ ) اور ’’ غربال ‘‘ ( دف نما ایک برتن ) بجایا جا رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ نکاح پر گانا گاؤ ! نکاح پر گانا گاؤ ! یہ نکاح ہے ‘ کوئی پوشید تعلق نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7542

Majma al-Zawaid #7542

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ شَهِدَ إِمْلَاكَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنْكَحَ الْأَنْصَارِيَّ وَقَالَ: "" عَلَى الْأُلْفَةِ وَالْخَيْرِ وَالطَّيْرِ الْمَيْمُونِ دَفِّفُوا عَلَى رَأْسِ صَاحِبِكُمْ "" فَدَفَّفُوا عَلَى رَأْسِهِ وَأَقْبَلَتِ السِّلَالُ فِيهَا الْفَاكِهَةُ وَالسُّكَّرُ فَنُثِرَ عَلَيْهِمْ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَنْتَهِبُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَزْيَنَ الْحِلْمَ أَلَا تَنْتَهِبُونَ؟ "" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنِ النُّهْبَةِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا! فَقَالَ: "" إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْعَسَاكِرِ، وَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ نُهْبَةِ الْوَلَائِمِ أَلَا فَانْتَهِبُوا "" قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْبِذُهُ وَيَجْبِذُنَا إِلَى ذَلِكَ النَّهْبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَالْأُلْفَةِ وَالطَّائِرِ الْمَيْمُونِ وَالسَّعَةِ فِي الرِّزْقِ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ» "". وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ وَضَّاعٌ. وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ حَازِمٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ لِمَازَةَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَلِمَازَةُ هَذَا يَرْوِي عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ مُتَأَخِّرٌ وَلَيْسَ هُوَ ابْنُ زَبَّارٍ ذَاكَ يَرْوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْوِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal, radiyallahu ʿanhu, reported that he attended the marriage of a man of the Ansar with the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ gave the sermon and married the Ansari, and said, Upon affection and good and blessed fortune, beat the duff over your companion. They beat the duff over his head, and baskets of fruit and sugar came and were scattered over them, but the people held back and did not take. The Messenger of Allah ﷺ said how beautiful is forbearance, why do you not take. They said he had forbidden plunder on such and such day. He said he had forbidden the plunder of armies, not the sharing of wedding feasts, so take. Muʿadh said he saw the Messenger of Allah ﷺ pulling it and pulling them toward that sharing. In another wording he said, Upon good and blessing and affection and blessed fortune and abundance in provision, may Allah bless you. > **"Upon affection and good and blessed fortune, beat the duff over your companion. I only forbade you the plunder of armies, and I did not forbid you the sharing of wedding feasts, so take."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی شادی میں شریک ہوئے نبی اکرم ﷺ نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور انصاری کی شادی کروا دی پھر آپ نے دعا دی : الفت ہو بھلائی ہو خیر آئے ( پھر آپ نے فرمایا : ) اپنے ساتھی کے سر پر دف بجاؤ لوگوں نے اس کے سرہانے دف بجائی پھر کچھ ٹوکرے آئے جن میں پھل اور میٹھی چیزیں تھیں ‘ وہ لوگوں کے سامنے رکھی گئیں لیکن لوگ اس سے رک گئے انہوں نے ان کو لوٹا نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بردباری اچھی چیز ہے ‘ لیکن تم لوگ لوٹتے کیوں نہیں ہو ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں فلاں ‘ فلاں دن لوٹنے سے منع کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہیں جنگ میں لوٹنے سے منع کیا تھا ولیمے میں لوٹنے سے منع نہیں کیا تھا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اس کو کھینچ رہے تھے اور لوگ بھی اس کو کھینچ رہے تھے اس طرح وہ چھین رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ’’ بھلائی ہو برکت ہو الفت ہو نیک نصیب ہو رزق میں گنجائش ہو اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ‘‘۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم ہے ‘ اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حازم ہے جو بنو ہاشم کا غلام ہے اس نے لمازہ سے روایت نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے لمازہ نامی اس راوی نے ثور بن یزید سے روایت نقل کی ہے ۔ اور یہ بعد کے زمانے کا ہے یہ ابن زبار نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ ‘ تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان جیسے افراد سے روایت نقل کرتا ہے معجم کبیر کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7543

Majma al-Zawaid #7543

«عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا خُصُومَةٌ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: هَذَا زَوْجِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا فِي الْأَرْضِ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ. وَقَالَ الْآخَرُ: هَذِهِ امْرَأَتِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا فِي الْأَرْضِ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهَا. فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَدْنُوَا إِلَيْهِ، ثُمَّ دَعَا لَهُمَا فَلَمْ يَفْتَرِقَا مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ. وَقَالَ الزَّوْجُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, radiyallahu ʿanhu, reported that a woman quarrelling with her husband came with him to the Messenger of Allah ﷺ. The woman said, This is my husband, by the One Who sent you with truth, there is none on earth more hateful to me than he. The husband said, This is my wife, by the One Who sent you with truth, there is none on earth more hateful to me than she. The Messenger of Allah ﷺ ordered them to come near him and supplicated for them, and they did not leave him until the woman said, By the One Who sent you with truth, Allah has created nothing more beloved to me than he, and the husband said, By the One Who sent you with truth, Allah has created nothing more beloved to me than she. > **"Come near to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عورت کی اپنے شوہر کے ساتھ ناچاقی چل رہی تھی وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرا شوہر ہے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے زمین میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ ہو شوہر نے کہا یہ میری بیوی ہے اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے زمین کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ ہو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا وہ دونوں آپ کے قریب ہو گئے پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو دعا کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر جانے سے پہلے عورت نے یہ کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی ہے جو میرے نزدیک اس شخص سے زیادہ محبوب ہو اور شوہر نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی ہے ‘ جو میرے نزدیک اس عورت سے زیادہ محبوب ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے جو امام طبرانی کا استاد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7544

Majma al-Zawaid #7544

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَدِمَ سَلْمَانُ مِنْ غِيبَةٍ لَهُ فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ فَقَالَ: أَرْضَاكَ اللَّهُ عَبْدًا. قَالَ: فَتَزَوَّجَ فِي كِنْدَةَ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدْخُلُ فِيهَا عَلَى أَهْلِهِ إِذَا الْبَيْتُ مُنَجَّدٌ، وَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ قَالَ: أَتَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ أَوْ هِيَ حُمْرَةٌ؟ أَمَرَنَا خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نَتَّخِذَ مِنَ الْمَتَاعِ إِلَّا أَثَاثًا كَأَثَاثِ الْمُسَافِرِ، وَلَا نَتَّخِذَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا نَنْكِحُ. فَخَرَجَ النِّسْوَةُ وَدَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ فَقَالَ: يَا هَذِهِ أَتُطِيعِينِي أَمْ تَعْصِينِي؟ قَالَتْ: بَلْ أُطِيعُكَ فِيمَا شِئْتَ. قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا إِذَا دَخَلَ أَحَدُنَا بِأَهْلِهِ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ وَيَأْمُرَهَا أَنْ تُصَلِّيَ خَلْفَهُ وَيَدْعُوَ وَتُؤَمِّنَ. فَفَعَلَ وَفَعَلَتْ فَلَمَّا جَلَسَ فِي مَجْلِسِ كِنْدَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ، فَعَادَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لَهُ: وَمَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَسْأَلُ عَمَّا وَارَتْهُ الْحِيطَانُ وَالْأَبْوَابُ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ أُجِيبَ أَمْ سَكَتَ عَنْهُ». هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, radiyallahu ʿanhuma, reported that Salman, radiyallahu ʿanhu, returned from an absence and ʿUmar, radiyallahu ʿanhu, met him and said, May Allah be pleased with you as a servant. Salman then married in Kindah, and on the night he was to enter upon his family the house was furnished and women were present. He asked whether the Kaʿbah had moved to Kindah or whether this was vanity, for his intimate friend Abu al-Qasim ﷺ had commanded them to take of goods only like the provision of a traveller, and of women only those they marry. The women left, and he entered upon his wife and said, O woman, will you obey me or disobey me. She said she would obey him in whatever he wished. He said his intimate friend ﷺ had commanded them that when one of them enters upon his wife he should stand and pray and command her to pray behind him, and he should supplicate and she should say amin. He and she did so. When he sat in the gathering of Kindah a man asked, How are you O Abu ʿAbdillah, how did you find your wife. He remained silent, and when asked again he said, What is it with one of you that he asks about what walls and doors have veiled, it suffices one of you to ask about a matter, if he is answered well, and if he is met with silence, that is well.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ( طویل عرصہ ) غیر موجود رہنے کے بعد تشریف لائے ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو راضی کرے راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے کندہ میں شادی کر لی تھی جب وہ رات آئی جس میں ان کی بیوی کی رخصتی ہوئی ، تو گھر بھرا ہوا تھا اس میں خواتین موجود تھیں انہوں نے دریافت کیا : کعبہ منتقل ہو کے کندہ میں آ گیا ہے یا پھر میری یہ عورت سرخ فام ہے میرے خلیل حضرت ‘ ابوالقاسم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ ہم ساز و سامان میں سے صرف اتنا اثاثہ رکھیں جتنا مسافر کا سامان ہوتا ہے ‘ اور خواتین میں سے صرف اتنی خواتین رکھیں جن کے ساتھ ہم نکاح کرتے ہیں ‘ تو خواتین گھر سے باہر چلی گئیں وہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے ‘ اور بولے : اے خاتون ! کیا تم میری اطاعت کرو گی یا میری نافرمانی کرو گی اس نے جواب دیا : آپ جیسے چاہیں گے میں آپ کی اطاعت کروں گی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا مجھے میرے خلیل نے یہ حکم دیا تھا کہ جب ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ‘ تو کھڑا ہو کر نماز ادا کرے اور عورت کو یہ ہدایت کرے کہ وہ اس کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کرے وہ شخص دعا کرے اور عورت آمین کہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا اور ان کی اہلیہ نے بھی ایسا ہی کیا اگلے دن جب وہ کندہ میں لوگوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ تو ایک شخص نے ان سے پوچھا : اے ابوعبداللہ ! آپ کا کیا حال ہے آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ تو وہ خاموش رہے اس شخص نے دوبارہ پوچھا تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے ‘ جسے دیواروں اور دروازوں نے چھپایا ہوا تھا تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ اگر وہ کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے ، تو اگر اسے جواب دیدیا جاتا ہے ‘ تو ٹھیک ہے اگر جواب نہیں دیا جاتا ( تو وہ بھی ٹھیک ہے ) یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔

7545

Majma al-Zawaid #7545

وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ: عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمْ فَكَانَتْ لَيْلَةُ الْبِنَاءِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَأْمُرْهَا أَنْ تُصْلِيَ خَلْفَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرًا» "". وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you marries and the night of consummation comes, he should pray two rakʿahs and command his wife to pray behind him, for Allah will place good in the house. > **"When one of you marries and the night of consummation comes, let him pray two rakʿahs and command her to pray behind him, for Allah will place good in the house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص شادی کر لے ‘ تو رخصتی کی رات اسے دو رکعت ادا کرنی چاہیں اور اپنی بیوی کو بھی یہ ہدایت کرنی چاہیے کہ وہ بھی اس کے پیچھے نماز ادا کرے ‘ تو اس طرح اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں بھلائی رکھ دے گا ‘‘۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7546

Majma al-Zawaid #7546

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا دَخَلَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا يَقُومُ الرَّجُلُ فَتَقُومُ مِنْ خَلْفِهِ فَيُصَلِّيَانِ رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لِأَهْلِي فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ فِي خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَرْوَزِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, radiyallahu ʿanhu, reported that the Prophet ﷺ said that when the wife enters upon her husband, the man should stand and she should stand behind him, and they should pray two rakʿahs and say, O Allah, bless me in my family and bless my family in me, O Allah, provide them through me and provide me through them, O Allah, join us together as long as You join in good, and separate us when You separate toward good. > **"When the wife enters upon her husband, the man stands and she stands behind him, and they pray two rakʿahs and say, O Allah, bless me in my family and bless my family in me, O Allah, provide them through me and provide me through them, O Allah, join us together as long as You join in good, and separate us when You separate toward good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب عورت رخصت ہو کر شوہر کے پاس آتی ہے ‘ تو آدمی کھڑا ہو اور عورت اس کے پیچھے کھڑی ہو اور وہ دونوں دو رکعت ادا کریں اور پھر یہ دعا کریں : ” اے اللہ ! میرے اہل خانہ میں میرے لئے برکت رکھ دے اور میرے اہل خانہ کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے اے اللہ ! انہیں مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما : اے اللہ ! تو ہمارے درمیان ہر قسم کی بھلائی رکھنا اور جب ‘ تو ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرے ‘ تو بھلائی کی طرف الگ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ مروزی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7547

Majma al-Zawaid #7547

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَفْرَكَنِي. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَا إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللَّهِ، وَإِنَّ الْفِرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُكْرِهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ: فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى الْخَيْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Waʾil reported that a man of Bajilah came to ʿAbdullah ibn Masʿud, radiyallahu ʿanhu, and said he had married a virgin girl and feared she would hate him. ʿAbdullah said affection is from Allah and hatred is from Satan, who seeks to make hateful what Allah has made lawful. When he enters upon her he should command her to pray two rakʿahs behind him. Al-Aʿmash mentioned it to Ibrahim, who added that ʿAbdullah said to say, O Allah, bless me in my family and bless them in me, O Allah, provide them through me and provide me through them, O Allah, join us together as long as You join toward good, and separate us when You separate toward good. > **"Affection is from Allah, and hatred is from Satan, who seeks to make hateful what Allah has made lawful. When you enter upon her, command her to pray two rakʿahs behind you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : بجیلہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ مجھ سے جدا ہو جائے گی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خبردار الفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ‘ اور علیحدگی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ‘ تاکہ وہ اس چیز کو انسان کے نزدیک پسندیدہ کروا دے جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہے ‘ جب تم اس عورت کی رخصتی کروا لو ‘ تو تم اسے یہ ہدایت کرنا کہ وہ تمہارے پیچھے نماز ادا کرے ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے فرمایا : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : تم یہ دعا کرنا ’’ اے اللہ ! تو میرے لئے میرے اہل خانہ میں برکت رکھ دے اور ان کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے ۔ اے اللہ ! تو ان کو مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما ۔ اے اللہ ! جب تک ‘ تو ہمیں اکٹھا رکھے گا بھلائی کی طرف اکٹھا رکھنا اور جب ‘ تو ہمارے درمیان علیحدگی کروائے گا ‘ تو بھلائی کی طرف علیحدگی کروانا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے جال صحیح کے رجال ہیں ۔

7548

Majma al-Zawaid #7548

«عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا آتِيَ أَهْلِي فِي غُرَّةِ الْهِلَالِ، وَأَنْ لَا أَتَوَضَّأَ مِنَ النُّحَاسِ، وَأَنْ أَسْتَنَّ كُلَمَّا قُمْتُ مِنْ سِنَتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded him not to approach his wife at the beginning of the crescent, not to perform ablution from copper, and to use the tooth-stick whenever he rose from sleep. > **"Do not approach your wife at the beginning of the crescent, do not perform ablution from copper, and use the tooth-stick whenever you rise from sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں ‘ اور میں پیتل کے برتن سے وضو نہ کروں ‘ اور جب بھی میں نیند سے بیدار ہوؤں ‘ تو میں مسواک کر لوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

7549

Majma al-Zawaid #7549

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ وِقَايَةٌ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: «فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Kabshah al-Anmari, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ sat with his Companions, then entered and came out having bathed. When asked whether something had happened, he said yes, a certain woman passed by him and desire for women fell in his heart, so he went to one of his wives and approached her. Likewise the protection among the best of your deeds is approaching the lawful. In another wording he said to do likewise. > **"Yes, a woman passed by me and desire for women fell in my heart, so I went to one of my wives and approached her. Likewise do, for approaching the lawful is among the best protection of your deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف لائے پھر تشریف لے گئے آپ نے غسل کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی معاملہ در پیش ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میرے پاس سے ایک عورت گزری ‘ تو میرے دل میں بیوی کے لئے خواہش پیدا ہوئی ‘ تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور میں نے اس کے ساتھ قربت کر لی تمہارے اعمال میں مثالی بچاؤ کا طریقہ یہی ہے کہ آدمی حلال طریقے سے ( خواہش پوری کر لے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ تو تم لوگ اسی طرح کر لو ‘‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

7550

Majma al-Zawaid #7550

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ عَطَّارَةً قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فَضْلِ نِكَاحِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, radiyallahu ʿanhu, reported that there was a perfumer woman in Madinah, then he mentioned the hadith from the Prophet ﷺ concerning the virtue of a man approaching his wife in marriage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ایک عورت تھی ‘ جو عطر فروش تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے پوری حدیث ذکر کی ہے جو آدمی کے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7551

Majma al-Zawaid #7551

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" عُدْتَ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَتَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَصَلَّيْتَ عَلَى جِنَازَةٍ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَأَصَبْتَ مِنْ أَهْلِكَ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَأَصِبْ مِنْهُمْ، فَإِنَّهَا مِنْكَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً "" وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Prophet ﷺ asked a man of his Companions whether he had visited a sick person today, given charity, prayed over a funeral, or approached his wife. The man said no to each, and the Prophet ﷺ told him to approach them, for it is charity from him upon them. That was on a Friday. > **"Did you visit a sick person today. Did you give charity. Did you pray over a funeral. Did you approach your wife. Then approach them, for it is charity from you upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے آج کسی بیمار کی عیادت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز صدقہ کی ہے اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے نماز جنازہ پڑھی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے یہ کر لینا تھا یہ تمہاری طرف سے اس پر صدقہ ہونا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن عاصم بن ہلال بارقی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7552

Majma al-Zawaid #7552

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي وَجَنِّبْ مَا رَزَقْتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَإِنْ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that none of you should be unable, when he approaches his wife, to say, In the name of Allah, O Allah, keep me away and keep what You provide me away from the accursed Satan. If a child is decreed between them, Satan will never harm him. > **"When one of you approaches his wife, let him say, In the name of Allah, O Allah, keep me away and keep what You provide me away from the accursed Satan, for if a child is decreed between them, Satan will never harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز آ جاتا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس جائے ‘ تو یہ پڑھ لے : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! تو مجھے ‘ اور جو رزق ( یعنی اولاد ) تو مجھے عطا کرے گا اسے مردود شیطان سے الگ رکھنا “۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) اگر ان دنوں میاں بیوی کے نصیب میں اولاد ہوئی ‘ تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7553

Majma al-Zawaid #7553

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «أُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَفِيتَ. قُلْتُ لِلْحَسَنِ: وَمَا الْكَفِيتُ؟ قَالَ: الْبِضَاعُ». قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: الْكِفَاتُ: الْجِمَاعُ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ السَّلَامِ بْنَ عَاصِمٍ الرَّازِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ was given al-kafīt. When al-Hasan was asked what al-kafīt is, he said it means vigour. Ibn al-Athir said al-kafīt means intercourse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو کفیت عطا کیا گیا تھا ۔ رادی کہتے ہیں : میں نے حسن سے دریافت کیا : کفیت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ٹکڑا ۔ ابن اثیر کہتے ہیں : کفات کا مطلب صحبت کرنا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالسلام بن عاصم رازی کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

7554

Majma al-Zawaid #7554

«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ أُعْطِيتُ مِنْهُ شَيْئًا مَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَهُ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْجِمَاعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, radiyallahu ʿanhuma, said he was given something of vigour which he knew none was given except the Messenger of Allah ﷺ, meaning intercourse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے اس حوالے سے جتنی صلاحیت عطا کی گئی ہے میرے علم کے مطابق کسی کو اتنی عطا نہیں کی گئی البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے ( راوی کہتے ہیں : ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد صحبت کرنے کی صلاحیت تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7555

Majma al-Zawaid #7555

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أُعْطِيَ قُوَّةَ عَشَرَةٍ وَجُعِلَتِ الشَّهْوَةُ عَلَى عَشَرَةِ أَجْزَاءٍ وَجُعِلَتْ تِسْعَةُ أَعْشَارٍ مِنْهَا فِي النِّسَاءِ وَوَاحِدَةٌ فِي الرِّجَالِ وَلَوْلَا مَا أُلْقِيَ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ مَعَ شَهَوَاتِهِنَّ لَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ مُغْتَلِمَاتٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, radiyallahu ʿanhuma, reported from the Messenger of Allah ﷺ that he was given the strength of forty in grip and in marriage, and every believer is given the strength of ten. Desire was made in ten parts, nine tenths in women and one in men. Were it not for the modesty cast upon them along with their desires, every man would have nine ardent wives. > **"I was given the strength of forty in grip and in marriage, and every believer is given the strength of ten. Desire was made in ten parts, nine tenths in women and one in men. Were it not for the modesty cast upon them along with their desires, every man would have nine ardent wives."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ گرفت اور نکاح کے حوالے سے مجھے چالیس آدمیوں جتنی قوت عطا کی گئی ہے ‘ اور ہر مومن کو دس افراد جتنی قوت دی جاتی ہے ‘ اور شہوت کے دس اجزا کیے گئے ہیں ، جن میں سے نو اجزاء خواتین میں ہوتے ہیں اور ایک جزء مردوں میں ہے ‘ اگر خواتین پر حیاء نہ ڈالی گئی ہوتی ‘ جو ان کی خواہش کے ساتھ ہوتی ہے ‘ تو ہر آدمی کے ساتھ نو ‘ بیویاں ہونی تھیں ، جن میں نکاح ( یعنی ازدواجی تعلق قائم رکھنے کی ) شدید خواہش ہوتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7556

Majma al-Zawaid #7556

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَضْلُ مَا بَيْنَ لَذَّةِ الْمَرْأَةِ وَلَذَّةِ الرَّجُلِ كَأَثَرِ الْمَخِيطِ فِي الطِّينِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يَسْتُرُهُنَّ بِالْحَيَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the excess of the pleasure of the woman over the pleasure of the man is like the mark of a needle in clay, except that Allah veils them with modesty. > **"The excess of the pleasure of the woman over the pleasure of the man is like the mark of a needle in clay, except that Allah veils them with modesty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ عورت کی لذت اور مرد کی لذت کے درمیان اتنا فرق ہے جس طرح مٹی میں سوئی کا نشان ہوتا ہے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر حیاء کے ذریعے پردہ ڈال دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن علی بن شوذب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7557

Majma al-Zawaid #7557

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَسْتَتِرِ اسْتَحْيَتِ الْمَلَائِكَةُ فَخَرَجَتْ فَإِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ كَانَ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَصِيبٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you approaches his wife he should cover, for if he does not cover the angels are shy and leave, and if a child is between them Satan will have a share in him. > **"When one of you approaches his wife, let him cover, for if he does not cover the angels are shy and leave, and if a child is between them Satan will have a share in him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ‘ تو اسے پردہ کر لینا چاہیے اگر وہ پردہ نہیں کرے گا ‘ تو فرشتے اس سے حیا کرتے ہوئے باہر چلے جائیں گے ‘ اور اگر ان دونوں کے ہاں اولاد ہو گی ‘ تو شیطان کا اس میں سے حصہ ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے ، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ‘ اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

7558

Majma al-Zawaid #7558

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ وَقَالَ الْبَزَّارُ: أَخْطَأَ مِنْدَلٌ فِي رَفْعِهِ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you approaches his wife he should cover and not strip naked like two donkeys stripping. > **"When one of you approaches his wife, let him cover, and let him not strip naked like two donkeys."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے ‘ تو اسے پردہ کر لینا چاہیے ‘ اور اسے مکمل طور پر برہنہ نہیں ہونا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام بزار کہتے ہیں : مندل نے اس روایت کو ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر نقل کرنے میں غلطی کی ہے ‘ درست یہ ہے کہ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7559

Majma al-Zawaid #7559

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ، وَلَا يَتَعَرَّيَانِ تَعَرِّيَ الْحَمِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you approaches his wife he should cover himself and his wife, and they should not strip naked like donkeys. > **"When one of you approaches his wife, let him cover himself and his wife, and let them not strip naked like donkeys."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے ‘ تو اسے اپنے اوپر ‘ اور اپنی بیوی پر پردہ کر لینا چاہیے ‘ اور گدھوں کی طرح مکمل برہنہ نہیں ہونا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7560

Majma al-Zawaid #7560

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا جَالِسٌ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ إِذْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي لَأَحْسَبُكُنَّ تُخْبِرْنَ مَا يَفْعَلُ بِكُنَّ أَزْوَاجُكُنَّ "" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ "" قَالَ: "" لَأَحْسَبُ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ إِذَا أَتَاهَا زَوْجُهَا لَيَكْشِفَانِ عَنْهُمَا اللِّحَافَ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ؟ "" قَالَتْ: إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلَا تَفْعَلْنَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, radiyallahu ʿanhu, reported that while the Messenger of Allah ﷺ sat one day with a woman present, he said he thought women disclose what their husbands do with them. She swore by her father and mother that they do so. He said not to do so, for Allah detests whoever does that. He said he thought that when her husband comes to one of them they cast off the blanket and look at one another's nakedness like two donkeys. She swore they do so, and he said not to do so, for Allah detests that. > **"Do not do so, for Allah detests whoever does that. Do not do so, for Allah detests that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ‘ آپ کے پاس ایک خاتون موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے کہا : تم خواتین کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم ایک دوسرے کو یہ بات بتا دیتی ہو کہ تمہارے شوہروں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ یا رسول اللہ ! ہم ( خواتین ) ایسا کرتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کیا کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والے پر ناراض ہوتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا خیال ہے تم خواتین میں سے کسی ایک کا شوہر جب اس کے پاس آتا ہے ‘ تو وہ اوپر سے لحاف ہٹا دیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ لیں ‘ یوں جیسے وہ دونوں گدھے ہوں ‘ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! ہم ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7561

Majma al-Zawaid #7561

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «أَتَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْتَحِي أَنْ يَرَى أَهْلِي عَوْرَتِي. قَالَ: "" وَلِمَ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ لَهُنَّ لِبَاسًا وَجَعَلَهُنَّ لَكَ لِبَاسًا؟ "" قَالَ: أَكْرَهُ ذَلِكَ. قَالَ: "" فَإِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ مِنِّي وَأَرَاهُ مِنْهُمْ "" قَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنَا ""، قَالَ: أَنْتَ فَمَنْ بَعْدَكَ إِذًا؟ قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ عُثْمَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ابْنَ مَظْعُونٍ لَحَيِيٌّ سِتِّيرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Masʿud al-Laythi, radiyallahu ʿanhu, reported that ʿUthman ibn Mazʿun, radiyallahu ʿanhu, came to the Messenger of Allah ﷺ and said he was shy that his wife should see his nakedness. The Prophet ﷺ asked why, since Allah made him a garment for them and them a garment for him. He said he disliked it. The Prophet ﷺ said they see it from him and he sees it from them. He asked, Are you the Messenger of Allah. The Prophet ﷺ said yes. He asked who then after him. When ʿUthman turned away, the Messenger of Allah ﷺ said that Ibn Mazʿun is modest and veiling. > **"Why, when Allah has made you a garment for them and them a garment for you. They see it from me and I see it from them. Ibn Mazʿun is modest and veiling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن مسعود لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس بات سے حیاء آتی ہے کہ میری بیوی میری شرمگاہ دیکھ لے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا لباس بنایا ہے ‘ اور اسے تمہارا لباس بنایا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لیکن میری بیویاں میری شرمگاہ کو دیکھ لیتی ہیں اور میں ان کی شرمگاہ کو دیکھ لیتا ہوں ان صاحب نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ہوں ۔ انہوں نے کہا : آپ کے بعد کیا ہو سکتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چلے گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن مظعون شرمیلا اور پردے والا شخص ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7562

Majma al-Zawaid #7562

«عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: "" لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ. وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا؟ "" فَأَزَمَّ الْقَوْمُ فَقُلْتُ: أَيْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ، وَإِنَّهُنَّ لَيَفْعَلْنَ. قَالَ: "" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ لَقِيَ شَيْطَانَةً فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Asmaʾ bint Yazid, radiyallahu ʿanha, reported that she was with the Messenger of Allah ﷺ while men and women sat with him. He said perhaps a man mentions what he does with his wife, and perhaps a woman informs of what she did with her husband. The people fell silent, and she said by Allah they do so. He said not to do so, for it is like a devil meeting a she-devil and covering her while people look on. > **"Perhaps a man mentions what he does with his wife, and perhaps a woman informs of what she did with her husband. Do not do so, for it is like a devil meeting a she-devil and covering her while people look on."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں آپ کے پاس کچھ مرد اور خواتین بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ جو کرتا ہے ‘ وہ بیان کر دیتا ہے ‘ اور بعض اوقات کوئی عورت اس چیز کو بیان کر دیتی ہے ‘ جو اس نے اپنے شوہر کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ تو لوگ خاموش رہے ‘ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! لوگ ایسا کرتے ہیں ‘ اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم ایسا نہ کرو ! اس کی مثال شیطان کی مانند ہے ‘ جو کسی شیطان مؤنث سے ملتا ہے ‘ اور اس کے ساتھ صحبت شروع کر دیتا ہے ‘ جبکہ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کی سند حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

7563

Majma al-Zawaid #7563

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَلَا عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَخْلُوَ بِأَهْلِهِ يُغْلِقُ بَابًا، ثُمَّ يُرْخِي سِتْرًا، ثُمَّ يَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ، أَلَا تَخْشَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تُغْلِقَ بَابَهَا وَتُرْخِيَ سِتْرَهَا فَإِذَا قَضَتْ حَاجَتَهَا حَدَّثَتْ صَوَاحِبَهَا؟ "" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ لَيَفْعَلْنَ، وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ. قَالَ: "" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ لَقِيَ شَيْطَانَةً عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ رَوْحِ بْنِ حَاتِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, radiyallahu ʿanhu, reported from the Prophet ﷺ that perhaps one of you is alone with his wife behind a closed door and lowered curtain, fulfils his need, then goes out and tells his companions of that, and perhaps one of you women closes her door and lowers her curtain, fulfils her need, then tells her companions. A woman with yellowish cheeks said by Allah they do so. He said not to do so, for it is like a devil meeting a she-devil on the roadside, fulfilling his need from her, then turning away and leaving her. > **"Do not do so, for it is like a devil meeting a she-devil on the roadside, fulfilling his need from her, then turning away and leaving her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ تنہا ہو گا وہ دروازہ بند کر دے گا پھر پردہ گرا دے گا پھر اپنی خواہش پوری کر لے گا پھر وہ باہر نکل کر اپنے ساتھیوں کو اس بارے میں بتائے گا کیا تم خواتین میں سے کوئی اس بات سے ڈرتی نہیں ہے کہ اس نے دروازہ بند کر لیا تھا ‘ اور پردہ گرا دیا تھا ‘ اور جب اس نے اپنی حاجت مکمل کر لی ‘ تو پھر وہ اپنی ساتھی خواتین کو بتا دیتی ہے ‘ تو ایک عورت جس کے رخسار زرد ( یا سیاہی مائل سرخ ) تھے ‘ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! عورتیں ایسا کرتی ہیں اور مرد بھی ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس کی مثال شیطان کی مانند ہے جو کسی شیطانہ سے راستے میں ملتا ہے ‘ اور اس سے اپنی حاجت پوری کرتا ہے ‘ اور چلا جاتا ہے ‘ اور اسے وہیں چھوڑ دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے روح بن حاتم کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7564

Majma al-Zawaid #7564

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الشِّبَاعُ حَرَامٌ» "". قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: يَعْنِي بِهِ: الَّذِي يَفْتَخِرُ بِالْجِمَاعِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ دَرَّاجٌ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ: السِّبَاعُ بِالسِّينِ الْمُهْمَلَةِ وَقِيلَ: بِالْمُعْجَمَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, radiyallahu ʿanhu, reported from the Prophet ﷺ that al-shibaʿ is forbidden. Ibn Lahiʿah said it means one who boasts of intercourse. Ibn al-Athir said it is al-sibaʿ with sin or with shin. > **"Al-shibaʿ is forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شباع ، حرام ہے ‘‘۔ ابن لہیعہ کہتے ہیں : اس سے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے کہ صحبت کرنے کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ ابن اثیر کہتے ہیں : یہ لفظ ” سباع ‘‘ ہے ، جس میں ” س “ ہے ‘ اور ایک قول کے مطابق ‘ اس میں ” ش “ ہے ۔

7565

Majma al-Zawaid #7565

عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي تَحْتَهُ: "" عَلَيْكِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَعْرُوفٌ أَبُو الْخَطَّابِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say to the wife under him that calmness and dignity be upon her. > **"Upon you be calmness and dignity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی اہلیہ سے یہ فرماتے تھے : تم پر سکینت اور وقار لازم ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معروف ابوخطاب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

7566

Majma al-Zawaid #7566

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا جَامَعَ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَصْدُقْهَا فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَ حَاجَتَهَا فَلَا يُعَجِّلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ حَاجَتَهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you has intercourse with his wife he should be sincere to her, and if he fulfils his need before she fulfils hers, he should not hasten her until she fulfils her need. > **"When one of you has intercourse with his wife, let him be sincere to her, and if he fulfils his need before she fulfils hers, let him not hasten her until she fulfils her need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے ‘ تو اسے اُس کا خیال کرنا چاہیے ‘ جب وہ اپنی حاجت پوری کر لے اور عورت کی حاجت ابھی پوری نہ ہوئی ہو ‘ تو وہ شخص جلدی نہ کرے ‘ جب تک عورت کی حاجت پوری نہیں ہو جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7567

Majma al-Zawaid #7567

عَنْ عُمَرَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَغْسِلْ فَرْجَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar, radiyallahu ʿanhu, reported from the Prophet ﷺ that when one of you approaches his wife and then wishes to return, he should wash his private part. > **"When one of you approaches his wife, then wishes to return, let him wash his private part."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور پھر اگر وہ یہ کام دوبارہ کرنے کا ارادہ کرے ‘ تو اسے اپنی شرمگاہ کو دھو لینا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7568

Majma al-Zawaid #7568

عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ مِنْ أَهْلِهِ حَاجَةً فَلْيَأْتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ: "" «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Talq ibn ʿAli, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you desires his wife for a need, he should come to her even if she is at the oven. In the wording of al-Tirmidhi, when a man calls his wife for his need she should come to him even if she is at the oven. > **"When one of you desires his wife for a need, let him come to her even if she is at the oven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی شخص کو اپنی بیوی کی خواہش محسوس ہو ‘ تو وہ اس کے پاس چلا جائے خواہ وہ عورت تندور پر موجود ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ’’ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو صحبت کرنے کے لئے بلائے ‘ تو اسے اس کے پاس چلے جانا چاہیے اگرچہ وہ اس وقت تندور پر موجود ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

7569

Majma al-Zawaid #7569

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَكَّارًا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَانَ يَعْمَلُ عَلَى زُرْنُوقٍ فَاسْتَعْدَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ أَنَسًا أَنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهَا لَيْلًا وَلَا نَهَارًا، فَأَصْلَحَ أَنَسٌ بَيْنَهُمَا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ عَلَى سِتَّةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin reported that a labourer of Anas ibn Malik, radiyallahu ʿanhu, who worked on a zurnuq, was complained against by his wife to Anas that he did not leave her night or day. Anas reconciled between them upon six times in each day and night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا ایک مزدور جو ’’ زرنوق ‘‘ ( پانی نکالنے کا مخصوص آلہ ) پر کام کرتا تھا ‘ اس کی بیوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ شکایت کی کہ وہ رات اور دن میں کسی بھی وقت اسے نہیں چھوڑتا ہے ‘ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان یہ طے کروایا کہ وہ ایک دن اور ایک رات میں چھ مرتبہ ( اس کے ساتھ صحبت کر لے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7570

Majma al-Zawaid #7570

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُسَوِّفَةَ وَالْمُفَسِّلَةَ. فَأَمَّا الْمُسَوِّفَةُ: فَالَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ: سَوْفَ، الْآنَ. وَأَمَّا الْمُفَسِّلَةُ: الَّتِي إِذَا أَرَادَهَا زَوْجُهَا قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ. وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ cursed the musawwifah and the mufassilah. As for the musawwifah, she is the one who when her husband desires her says, Later, now. As for the mufassilah, she is the one who when her husband desires her says, I am menstruating, while she is not menstruating. > **"Allah curses the musawwifah and the mufassilah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مسوفہ اور مفسلہ پر لعنت کی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جہاں تک مسوفہ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے اس کے ساتھ صحبت کا ارادہ کیا ہو اور وہ یہ کہے : تھوڑی دیر بعد کر لیں گے ۔ جہاں تک لفظ مفسلہ کا تعلق ہے ‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے ساتھ اس کے شوہر نے صحبت کا ارادہ کیا ہو ‘ تو وہ یہ کہہ دے کہ مجھے حیض آیا ہوا ہے حالانکہ اسے حیض نہ آیا ہوا ہو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلا ہے ‘ اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔

7571

Majma al-Zawaid #7571

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ الْمُسَوِّفَاتِ "" قِيلَ: وَمَا الْمُسَوِّفَاتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الَّتِي يَدْعُوهَا زَوْجُهَا إِلَى فِرَاشِهَا فَتَقُولُ: سَوْفَ. حَتَّى تَغْلِبَهُ عَيْنَاهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ جَعْفَرِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَمَيْسَرَةُ ضَعِيفٌ، وَلَمْ أَرَ لِأَبِيهِ مِنِ ابْنِ عُمَرَ سَمَاعًا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ said, May Allah curse the musawwifat. It was said, O Prophet of Allah, who are the musawwifat. He said, She whose husband calls her to his bed and she says, Later, until sleep overcomes him. > **"May Allah curse the musawwifat. She whose husband calls her to his bed and she says, Later, until sleep overcomes him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ مسوفات پر لعنت کرے عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! مسوفات کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ عورت جس کا شوہر اسے بستر کی طرف بلائے ‘ اور وہ یہ کہے کہ تھوڑی دیر بعد ‘ یہاں تک کہ شوہر کی آنکھ لگ جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر جعفر بن میسرہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ اور میسرہ نامی راوی ضعیف ہے میں نے ان کے والد کے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع کے بارے میں کچھ نہیں دیکھا ۔

7572

Majma al-Zawaid #7572

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مِنِ امْرَأَةٍ يَطْلُبُ زَوْجُهَا مِنْهَا حَاجَةً فَتَأْبَى فَيَبِيتُ وَهُوَ عَلَيْهَا غَضْبَانٌ إِلَّا بَاتَتْ تَلْعَنُهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no woman whose husband seeks his need from her and she refuses, so he spends the night angry with her, except that she spends the night with the angels cursing her until morning. > **"There is no woman whose husband seeks his need from her and she refuses, so he spends the night angry with her, except that the angels curse her until morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس عورت سے اس کا شوہر قربت کی خواہش ظاہر کرے اور وہ انکار کر دے اور شوہر اس عورت پر غصے کے عالم میں رات گزارے ‘ تو وہ عورت ایسی حالت میں رات گزارتی ہے کہ صبح ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7573

Majma al-Zawaid #7573

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَنَّ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ مِنْهُ الْوَلَدُ أَهْرَقْتَهُ عَلَى صَخْرَةٍ لَأَخْرَجَ اللَّهُ مِنْهَا وَلَدًا - أَوْ لَخَرَجَ مِنْهَا - وَلَيَخْلُقَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَفْسًا هُوَ خَالِقُهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiyallahu ʿanhu, reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ asking about withdrawal. The Messenger of Allah ﷺ said that if the fluid from which a child is to be were poured upon a rock, Allah would bring forth a child from it, and Allah will create every soul He is to create. > **"If the fluid from which a child is to be were poured upon a rock, Allah would bring forth a child from it, and Allah will create every soul He is to create."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عزل کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نطفے سے بچے نے پیدا ہونا ہے اگر اسے کسی چٹان پر ڈال دیا جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس میں سے بھی بچے کو نکال دے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں سے بھی بچہ نکل آئے گا اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر ہی دے گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

7574

Majma al-Zawaid #7574

«وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ عَزَلَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعْزِلُونَ. فَفَزِعَ وَقَالَ: "" إِنِ النَّفْسَ الْمَخْلُوقَةَ كَائِنَةٌ فَلَا آمُرُ، وَلَا أَنْهَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ الْحَنَفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah, radiyallahu ʿanhu, reported that the first who practised withdrawal were men of the Ansar. They came to the Messenger of Allah ﷺ and said some of the Ansar practise withdrawal. He was alarmed and said the created soul will come to be, so he neither commands nor forbids. > **"The created soul will come to be, so I neither command nor forbid."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جن لوگوں نے سب سے پہلے عزل کا آغاز کیا وہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تھے وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ عزل کرتے ہیں ‘ تو نبی اکرم ﷺ پریشان ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : جس جان نے پیدا ہونا ہے اس نے پیدا ہو کے رہنا ہے ‘ تو میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں ‘ اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان حنفی ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7575

Majma al-Zawaid #7575

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ النُّطْفَةَ الَّتِي أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهَا الْمِيثَاقَ أُلْقِيَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لَخَلَقَ اللَّهُ مِنْهَا إِنْسَانًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ said, By the One in Whose Hand is my soul, if the drop upon which Allah took the covenant were cast upon a rock, Allah would create a human from it. > **"By the One in Whose Hand is my soul, if the drop upon which Allah took the covenant were cast upon a rock, Allah would create a human from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جس نطفے سے اللہ تعالیٰ نے میثاق لیا ہے اگر اسے کسی چٹان پر ڈالا جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس میں سے بھی انسان کو پیدا کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7576

Majma al-Zawaid #7576

«وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فِي الْعَزْلِ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَهُ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" أَوْلَمَ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَخْلُقْ نَسَمَةً هُوَ بَارِئُهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn al-Yaman, radiyallahu ʿanhu, reported that they were discussing withdrawal and the Messenger of Allah ﷺ heard them and came out to them and said, Do you do it. They said yes. He said, Do you not know that Allah never creates a soul He fashions except that it will come to be. > **"Do you do it. Do you not know that Allah never creates a soul He fashions except that it will come to be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ عزل کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی بات چیت سنی آپ ان کے پاس تشریف لائے ‘ اور آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جس بھی جان کو پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہو کے رہے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ‘ اور وہ جمہور کے نزدیک متروک ہے یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔