Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 6

Book of Marriage

Hadith 7497–7536

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7497

Majma al-Zawaid #7497

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبِيعُ فَرَسِي أَوْ دِرْعِي؟ قَالَ: "" بِعْ دِرْعَكَ "" فَبِعْتُهَا بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ وُقِيَّةً فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَ فَاطِمَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAli رضي الله عنه reported that when he married Fātimah رضي الله عنها he asked the Messenger of Allah ﷺ whether to sell his horse or his armor. He commanded him to sell his armor, so he sold it for twelve uqiyas, and that became the dowry of Fātimah: > **"Sell your armor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنے لگا ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی زرہ فروخت کر دوں ‘ یا اپنا گھوڑا فروخت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی زرہ فروخت کر دو ! تو میں نے وہ بارہ اوقیہ کے عوض میں فروخت کر دی ‘ تو یہ فاطمہ کا مہر بنا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عباس بن جعفر بن زید بن طلق کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ ان کے دادا سے نقل کی ہے ‘ میں ان حضرات سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7498

Majma al-Zawaid #7498

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ زَوَّجَ عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَ: "" يَا عَلِيُّ لَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تُقَدِّمَ لَهُمْ شَيْئًا "". فَقَالَ: مَا لِي شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَعْطِهَا دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ "". قَالَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ: فَقُوِّمَتِ الدِّرْعُ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that when the Prophet ﷺ married ʿAli to Fātimah رضي الله عنهما, he commanded ʿAli not to approach his wife until he presented her something. When ʿAli said he had nothing, he commanded him to give her his Hutami armor. Ibn Abi Rawwād added that the armor was valued at four hundred and eighty dirhams: > **"O ʿAli, do not approach your wife until you present her something. Give her your Hutami armor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروائی ‘ تو آپ نے فرمایا : اے علی ! تم اپنی بیوی کے پاس اُس وقت تک نہ جانا ‘ جب تک اسے پہلے کوئی چیز نہیں دیتے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی حطمی زرہ اُسے دے دینا ۔ ابن ابورواد بیان کرتے ہیں : اس زرہ کی قیمت چار سو اسی درہم طے ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زنبور ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7499

Majma al-Zawaid #7499

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that ʿAli رضي الله عنه married Fātimah رضي الله عنها from the Messenger of Allah ﷺ for a body-armor of iron.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوہے کی زرہ کے عوض میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7500

Majma al-Zawaid #7500

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ بِفَاطِمَةَ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reported that ʿAli رضي الله عنه consummated his marriage with Fātimah رضي الله عنها before giving her anything.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا لی تھی ‘ اس سے پہلے کہ وہ انہیں کوئی چیز دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7501

Majma al-Zawaid #7501

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ حُرَيْثٍ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقَالَ: لَا أُزَوِّجُكَ إِلَّا عَلَى حُكْمِي. قَالَ: لَكَ حُكْمُكَ. قَالَ: لَسْتُ بِأَخْيَرَ مِنْ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَزَوَّجَهُ عَلَى الْفَرِيضَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Shibl reported that ʿUmar ibn Hurayth proposed to ʿAdi ibn Hātim رضي الله عنه, who said he would marry him only upon his own judgment. When ʿUmar accepted his judgment, ʿAdi said he was not better than the daughters of the Messenger of Allah ﷺ, and married him for the obligatory dowry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مغیرہ بن شبل بیان کرتے ہیں : عمر بن حریث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ‘ تو انہوں نے کہا : میں تمہاری شادی صرف اپنے فیصلے کی بنیاد پر کروں گا ، تو انہوں نے کہا : آپ کو فیصلے کا اختیار ہے ‘ تو حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادیوں سے زیادہ بہتر نہیں ہوں ، تو انہوں نے اُن صاحب کی شادی ’’ فریضہ ‘‘ کے عوض میں کروا دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7502

Majma al-Zawaid #7502

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا إِكْثَارُكُمْ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَإِنَّمَا الصَّدُقَاتُ فِيمَا بَيْنَهُمْ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَ ذَلِكَ. فَلَوْ كَانَ الْإِكْثَارُ فِي ذَلِكَ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ أَوْ مَكْرُمَةً لَمْ تَسْبِقُوهُمْ إِلَيْهَا فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ رَجُلٌ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ. قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِمْ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: فَأَنَّى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا} [النساء: 20]) فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى: قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Masrūq reported that ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه mounted the minbar of the Messenger of Allah ﷺ and said that the people had gone to excess in dowries of women, while the dowries between the Messenger of Allah ﷺ and his Companions were four hundred dirhams or less. He said that had excess been piety with Allah or honor, they would not have been outstripped to it, and warned that he should not know of a man exceeding four hundred dirhams. Then he descended and a woman of Quraysh confronted him, asking whether he had forbidden exceeding four hundred dirhams. When he said yes, she asked whether he had not heard what Allah revealed in the Qurʾan: And you have given one of them a heap of gold, take nothing from it; would you take it by slander and manifest sin. He said O Allah, forgiveness, all people are more understanding than ʿUmar. Then he returned to the minbar and declared that he had forbidden exceeding four hundred dirhams in women's dowries, but whoever wished to give from his wealth as he loved and whose soul was content might do so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے منبر پر چڑھے ‘ پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! تم لوگوں نے عورتوں کے مہر کتنے زیادہ کر دیے ہیں ؟ حالانکہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کا معاملہ بھی تھا ، اُن حضرات کے مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کرتے تھے ‘ اگر مہر کا زیادہ ہونا ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی نشانی ہوتی ‘ یا عزت افزائی کی نشانی ہوتی ، تو تم ان حضرات سے سبقت نہ لے جاتے ‘ اس لئے اب میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں ‘ جس نے چار سو سے زیادہ مہر دیا ہو ‘ راوی کہتے ہیں : پھر وہ منبر سے نیچے اتر گئے ‘ قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ان کے سامنے آئیں اور بولیں : اے امیرالمؤمنین ! آپ نے لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے ‘ کہ وہ چار سو درہم سے زیادہ مہر دیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! اس خاتون نے کہا : کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی بات ؟ اس نے کہا : کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ اگر تم اُن میں سے کسی ایک کو ڈھیر دے دو ‘ تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو ‘ کیا تم بہتان اور واضح گناہ کے طور پر اُسے لو گے ‘‘۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ‘ ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے دوبارہ منبر پر چڑھے اور بولے : میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ عورتوں کو چار سو درہم سے زیادہ مہر نہیں دینا ہے ‘ اب تم میں سے جو شخص جتنا پسند کرے ‘ اتنا مہر دیدے ۔ ابویعلی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آدمی کو جس سے تسلی ہو ‘ وہ ویسا ہی کر لے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7503

Majma al-Zawaid #7503

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ امْرَأَةً قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِمِائَةِ جَارِيَةٍ مَعَ كُلِّ جَارِيَةٍ أَلْفُ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin reported that al-Hasan ibn ʿAli رضي الله عنهما married a woman and sent to her one hundred slave-girls, with each slave-girl a thousand dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ‘ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے اس خاتون کی طرف ایک سو کنیزیں بھجوائیں ، جن میں سے ہر ایک کنیز کے پاس ایک ہزار درہم تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7504

Majma al-Zawaid #7504

وَعَنْ عَائِشَةَ وَمَكْحُولٍ قَالَا: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أَكْرَمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها and Makhūl reported that the Messenger of Allah ﷺ distinguished between what makes a woman lawful, which belongs to her, and what honors her father, brother, or guardian after the marriage contract, which belongs to him, with a man most entitled to what honors him through his daughter or sister: > **"Whatever makes the private part of a woman lawful, of dowry or promise, belongs to her. And whatever honors her father or her brother or her guardian after the marriage contract belongs to him, and most entitled to what a man is honored with is his daughter or his sister."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور مکحول روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت کی شرمگاہ کو جس مہر ‘ یا جس وعدے کے عوض میں حلال قرار دیا گیا ہو ‘ وہ چیز اس عورت کی ملکیت ہو گی ‘ اور جس چیز کے ذریعے عورت کے باپ ‘ یا بھائی کی عزت افزائی کی گئی ہو ‘ یا اس کے ولی کی عزت افزائی کی گئی ہو ‘ جو نکاح کا عقد ہو جانے کے بعد ہو ‘ تو وہ چیز اس شخص کی ملکیت ہو گی ‘ اور آدمی اس چیز کا سب سے زیادہ حق دار ہوتا ہے ، جس کے ذریعے اس شخص کی ‘ اُس کی بیٹی یا بہن کے حوالے سے عزت افزائی کی گئی ہو ‘ ( یعنی داماد کی طرف سے ‘ جو چیز اُسے تحفے کے طور پر دی گئی ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7505

Majma al-Zawaid #7505

عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّمَا رَجُلٍ أَصْدَقَ امْرَأَةٍ صَدَاقًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهَا فَغَرَّهَا بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ فَرْجَهَا بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهُوَ زَانٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Suhayb ibn Sinān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ warned that a man who fixes a dowry while Allah knows he does not intend to pay it, deceiving her by Allah and making her lawful falsely, will meet Allah on the Day of Resurrection as an adulterer: > **"Any man who fixes a dowry for a woman, while Allah knows he does not intend to pay it to her, and deceives her by Allah and makes her private part lawful falsely, will meet Allah on the Day of Resurrection as an adulterer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی عورت کا مہر طے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہو کہ وہ اس عورت کو اس کی ادائیگی نہیں کرے گا ‘ اور وہ اللہ کے نام پر اس عورت کے ساتھ دھوکے سے کام لیتا ہے ‘ اور اس کی شرمگاہ کو باطل طور پر حلال کروا لیتا ہے ‘ وہ شخص قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ زانی ( شمار ) ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7506

Majma al-Zawaid #7506

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: عِنْدِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثَانِ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ "". وَالْآخَرُ: "" مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ، وَهُوَ لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهَا بِهِ فَهُوَ زَانٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْجَزَرِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said he retained two hadiths from the Messenger of Allah ﷺ, one concerning love of the Ansār and one concerning marrying without intending to fulfill the dowry: > **"Whoever loves the Ansār, Allah loves him. And whoever marries a woman for a dowry while not intending to fulfill it to her is an adulterer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے دو احادیث موجود ہیں ‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص انصار سے محبت رکھتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ اور دوسری روایت یہ ہے :’’ جو شخص مہر کے عوض میں ‘ عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے ‘ اور وہ اس عورت کو اس کی ادائیگی کا ارادہ نہ رکھتا ہو ‘ تو وہ شخص زانی شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے محمد بن حصین جزری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7507

Majma al-Zawaid #7507

«وَعَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مِنَ الْمَهْرِ أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا فَمَاتَ، وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهُوَ زَانٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا فِي الْبُيُوعِ فِي الدِّينِ.

EnglishUnverified translation

Maymūn al-Kurdi, from his father, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn that a man who marries for little or much dowry without intending to render her right, deceives her, then dies without paying her right, will meet Allah as an adulterer: > **"Any man who marries a woman for little or much dowry, with no intention in himself to render her right, deceives her, then dies without rendering her right, will meet Allah on the Day of Resurrection as an adulterer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میمون کر دی ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص تھوڑے ‘ یا زیادہ مہر کے عوض میں ‘ عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے ‘ اور اس کے دل میں نہ ہو کہ وہ اس عورت کو اس کا حق ادا کرے گا ‘ وہ اس عورت کو دھوکہ دیتا ہے ‘ اور پھر اسی حالت میں مر جاتا ہے ‘ اور اس نے اس عورت کو اس کا حق ادا نہیں کیا ہوتا ‘ تو قیامت کے دن ‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ ( شخص ) زانی شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی چند احادیث ’’ خرید و فروخت ‘‘ سے متعلق باب میں ’’ قرض ‘‘ سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

7508

Majma al-Zawaid #7508

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ نِكَاحِ السِّرِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي الْجَرَّاحِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ forbade secret marriage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پوشیدہ نکاح سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن عبدالصمد بن ابوجراح کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ کسی نے اس راوی کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7509

Majma al-Zawaid #7509

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يَوْمُ الْأَحَدِ يَوْمُ عُرْسٍ وَبِنَاءٍ. وَيَوْمُ الِاثْنَيْنِ يَوْمُ السَّفَرِ وَيَوْمُ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَيَوْمُ الْأَرْبِعَاءِ يَوْمُ أَخْذٍ وَلَا عَطَاءَ فِيهِ، وَيَوْمُ الْخَمِيسِ يَوْمُ دُخُولٍ عَلَى السُّلْطَانِ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمُ تَزْوِيجٍ وَبَاءَةٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said that Sunday is a day of wedding and consummation, Monday a day of travel, Tuesday a day of blood, Wednesday a day of taking with no giving in it, Thursday a day of entering upon the ruler, and Friday a day of marriage and union.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اتوار کا دن شادی اور رخصتی کا دن ہے ‘ پیر کا دن سفر کا دن ہے ‘ منگل کا دن خون کا دن ہے ‘ بدھ کا دن وصولی کا دن ہے ‘ ادائیگی کا دن نہیں ہے ‘ جمعرات کا دن حاکم وقت کے پاس جانے کا دن ہے ‘ اور جمعہ کا دن شادی بیاہ کا دن ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

7510

Majma al-Zawaid #7510

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ صَلَّى الْجُمُعَةَ وَصَامَ يَوْمَهُ وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جِنَازَةً وَشَهِدَ نِكَاحًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَسن الْأَوْصَابِيُّ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ promised Paradise for one who combines Friday prayer, fasting that day, visiting the sick, attending a funeral, and attending a wedding: > **"Whoever prays Friday, fasts its day, visits a sick person, attends a funeral, and attends a wedding, Paradise becomes obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جمعہ کی نماز ادا کرے ‘ اور اس نے اس دن روزہ رکھا ہو ‘ بیمار کی عیادت کی ہو ‘ اور جنازے میں شریک ہوا ہو ‘ اور نکاح میں شریک ہوا ہو ‘ تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن اوصابی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7511

Majma al-Zawaid #7511

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يُنْكَحُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ، وَلَا يُزَوَّجَهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ restricted marriage to equals and guardians and fixed a minimum dowry: > **"Women shall not be married except from equals, and none shall marry them off except guardians, and there is no dowry less than ten dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خواتین کی شادی صرف کفو میں کی جائے ‘ اور ان کی شادی صرف اولیاء کریں ‘ اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔

7512

Majma al-Zawaid #7512

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبُ غَيْرُ مُسَمَّى، فَإِنْ كَانَ هُوَ التَّوْأَمَ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ declared void the marriage of a woman without her guardian's permission, affirmed her dowry if consummated, and made the ruler the guardian of one without a guardian: > **"Any woman who marries without permission of a guardian, her marriage is void, her marriage is void. If he has entered with her, she shall have the dowry for what was made lawful of her private part, and the ruler is the guardian of one who has no guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے ‘ اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ‘ اس کا نکاح باطل ہوتا ہے ‘ اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ‘ تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ‘ اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ‘ اور سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ‘ جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے ( جس کی کنیت ذکر ہوئی ہے اور ) اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے ‘ اگر تو یہ ’’ توام ‘‘ ہے ، تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ‘ تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7513

Majma al-Zawaid #7513

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ declared void the marriage contracted without the guardian's permission, affirmed her dowry if consummated, commanded separation in either case, and made the ruler the guardian of one without a guardian: > **"Any woman married without permission of her guardian, her marriage is void. If he has entered with her, she shall have her dowry for what was made lawful of her private part, and they shall be separated. If he has not entered with her, they shall be separated, and the ruler is the guardian of one who has no guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس عورت کے ساتھ ‘ اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے ‘ تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہو گا ‘ اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہو ‘ تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے ‘ اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا ، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ‘ اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی ، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی ‘ اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے ‘ جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

7514

Majma al-Zawaid #7514

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ: "" «وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said there is no marriage except with a guardian, and the ruler is the guardian of one without a guardian: > **"There is no marriage except with a guardian, and the ruler is the guardian of one who has no guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘ اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے ‘ جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ‘ تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ’’ سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے ‘ جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7515

Majma al-Zawaid #7515

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said marriage requires a guardian: > **"There is no marriage except with a guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔

7516

Majma al-Zawaid #7516

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ required a guardian for marriage and made the ruler the guardian when they disputed: > **"There is no marriage except with a guardian, and if they dispute, the ruler is the guardian of one who has no guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘ اگر ( اولیاء کا ) باہمی طور پر اختلاف ہو جائے ، تو سلطان اُس کا ولی ہو گا ، جس کا کوئی ولی نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان رقی ہے ‘ وہ متروک ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

7517

Majma al-Zawaid #7517

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ مُرْشِدٍ أَوْ سُلْطَانٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ required permission of an upright guardian or a ruler: > **"There is no marriage except with permission of an upright guardian or a ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رہنمائی کرنے والے ( یعنی سمجھدار ‘ یا مخلص ) ولی ‘ یا سلطان کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7518

Majma al-Zawaid #7518

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلِيٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ required a guardian's permission for a woman's marriage: > **"A woman shall not be married except with permission of a guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت کا نکاح ‘ ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7519

Majma al-Zawaid #7519

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ required a guardian, two witnesses, and a dowry, little or much: > **"There is no marriage except with a guardian, two witnesses, and a dowry, little or much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ولی ‘ دو گواہوں ‘ اور مہر کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘ خواہ وہ ( مہر ) کم ہو یا زیادہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

7520

Majma al-Zawaid #7520

وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ فَقَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْبَغَايَا اللَّاتِي يُزَوِّجْنَ أَنْفُسَهُنَّ، لَا يَجُوزُ نِكَاحٌ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ» "". وَفِي إِسْنَادِهِمَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported in al-Awsat that the Messenger of Allah ﷺ described immoral women as those who marry themselves off, and required a guardian, two witnesses, and a dowry, little or much: > **"The prostitutes are those who marry themselves off. No marriage is valid except with a guardian, two witnesses, and a dowry, little or much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فاحشہ عورتیں ‘ اپنی شادی خود کرتی ہیں ، ولی ‘ دو گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا ‘ خواہ وہ ( مہر ) کم ہو یا زیادہ ہو ‘‘۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔

7521

Majma al-Zawaid #7521

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ required a guardian and two just witnesses for marriage: > **"There is no marriage except with a guardian and two just witnesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔

7522

Majma al-Zawaid #7522

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no valid marriage without a guardian and two just witnesses. > **"There is no marriage except with a guardian and two just witnesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ‘ محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے ‘ اگر تو یہ واسطی ہے ‘ تو پھر یہ ثقہ ہے ‘ اور اگر یہ وہ نہیں ہے ‘ تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7523

Majma al-Zawaid #7523

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, radiyallahu ʿanha, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no valid marriage without a guardian and two just witnesses. > **"There is no marriage except with a guardian and two just witnesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر ‘ نکاح نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7524

Majma al-Zawaid #7524

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَشَاهِدَيْنِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَشُهُودٍ "". وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashʿari, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no valid marriage without a guardian and two witnesses. > **"There is no marriage except with a guardian and two witnesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولی اور دو گواہوں کے بغیر ‘ نکاح نہیں ہوتا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور دو گوا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور گوا ہوں “ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7525

Majma al-Zawaid #7525

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, radiyallahu ʿanhu, reported that the Prophet ﷺ said that there is no valid marriage without a guardian and two just witnesses. > **"There is no marriage except with a guardian and two just witnesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر ‘ نکاح نہیں ہوتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے ۔

7526

Majma al-Zawaid #7526

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ عُقْدَةِ النِّكَاحِ شَيْءٌ جَعَلَتْ مَيْمُونَةُ أَمْرَهَا إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ فَجَعَلَتْهُ أُمُّ الْفَضْلَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَأَنْكَحَهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ مَيْمُونَةَ فَجُعِلَ أَمْرُهَا إِلَى الْعَبَّاسِ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAbbas, radiyallahu ʿanhuma, said that women have no share in contracting the knot of marriage. Maymunah, radiyallahu ʿanha, entrusted her affair to Umm al-Fadl, radiyallahu ʿanha, and Umm al-Fadl entrusted it to al-ʿAbbas, radiyallahu ʿanhu, and al-ʿAbbas married her to the Messenger of Allah ﷺ. In another wording, the Prophet ﷺ proposed to Maymunah and her affair was placed with al-ʿAbbas.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : خواتین کو نکاح کروانے کے معاملے میں کوئی حق نہیں ہے ‘ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما نے اپنا معاملہ ( اپنی بہن ) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تھا ‘ اور سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اسے ( اپنے شوہر ) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی شادی ‘ نبی اکرم ﷺ سے کروائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا ‘ تو ان کی شادی کا معاملہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا ‘‘۔

7527

Majma al-Zawaid #7527

«عَنْ كَرْدَمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَلَيَّ حِذَاءٌ، وَلَا حِذَاءَ لَهُ فَقَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَكَ. فَقُلْتُ: لَا إِلَّا أَنْ تُزَوِّجَنِي ابْنَتَكَ! قَالَ: أَعْطِنِي، فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا. فَلَمَّا انْصَرَفْنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِنَعْلِي وَقَالَ: لَا زَوْجَةَ لَكَ عِنْدِي. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذَوْدًا مِنْ ذَوْدِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: "" أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kardam ibn Qays, radiyallahu ʿanhu, reported that he went out on a hot day with his cousin Abu Thaʿlabah. Kardam wore sandals and his cousin had none, so his cousin asked for his sandals. Kardam said he would not give them unless his cousin married his daughter to him, and his cousin said he had married her to him. When they returned, his cousin sent back the sandals and said there was no wife for him. The matter was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ, and he told Kardam to leave her, for there was no good in her for him. Kardam then said he had vowed to slaughter a camel from his herd at a certain place, and the Prophet ﷺ told him to fulfil his vow, for there is no vow concerning severing kinship or concerning what the son of Adam does not own. > **"Leave her, there is no good for you in her. Fulfil your vow, for there is no vow in severing kinship nor in what the son of Adam does not own."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے چچازاد جن کا نام ابوثعلبہ تھا ‘ ہم ایک گرم دن میں ( سفر پر ) نکلے میں نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس جوتے نہیں تھے ‘ انہوں نے کہا : تم اپنے جوتے مجھے دے دو ! میں نے کہا : جی نہیں ! البتہ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کریں گے ( تو میں دے دوں گا ) انہوں نے کہا : تم مجھے دے دو ! میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی ‘ جب ہم واپس آئے ‘ تو انہوں نے میرے جوتے مجھے بھجوا دیے اور کہا : تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ‘ اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس عورت کو چھوڑ دو ! تمہارے لئے اس میں بہتری نہیں ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک نذر مانی تھی کہ میں فلاں ‘ فلاں جگہ پر اپنا اونٹ قربان کروں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اپنی نذر کو پورا کر دو ! قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ‘ اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7528

Majma al-Zawaid #7528

«وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَلَقِيتُهُ، وَكَلَّمْتُهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: "" نُوَيْبِتَةٌ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟ قَالَ: "" لَا بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتُ مَعَ عَمٍّ لِي فِي سَفَرٍ فَأَدْرَكَهُ الْحَفَاءُ فَقَالَ: أَعِرْنِي حِذَاءَكَ فَقُلْتُ: لَا أُعِيرُكَهَا أَوْ تُزَوِّجُنِي ابْنَتَكَ قَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا أَهْلَنَا بَعَثَ إِلَيَّ بِحِذَائِي وَقَالَ: لَا امْرَأَةَ لَكَ عِنْدَنَا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Ruwaym al-Lakhmi reported from Abu Thaʿlabah, radiyallahu ʿanhu, whom he met and spoke with. Abu Thaʿlabah said he came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him, and the Prophet ﷺ said, Nuwaybitah. He asked whether it was a minor matter of good or of evil, and the Prophet ﷺ said it was a minor matter of good. He then told the story of travelling with his uncle, lending sandals in return for marriage to his daughter, and the uncle later returning the sandals and denying the marriage. The Prophet of Allah ﷺ said there was no good in her for him, and the rest of the hadith is the same as reported in full in the chapter of lost property. > **"It is rather a minor matter of good. There is no good for you in her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن رویم لخمی ‘ حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور ان سے بات چیت بھی کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : چھوٹا معاملہ ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بھلائی کا چھوٹا معاملہ یا خرابی کا چھوٹا معاملہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ بھلائی کا چھوٹا معاملہ ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں سفر پر اپنے چچا کے ساتھ روانہ ہوا ‘ انہیں جوتوں کی ضرورت پیش آئی ‘ تو انہوں نے مجھے کہا : تم جو تے عاریت کے طور پر مجھے دے دو ‘ میں نے کہا : میں یہ آپ کو عاریت کے طور پر نہیں دوں گا ‘ اگر آپ اپنی بیٹی کے ساتھ میری شادی کرتے ہیں ( تو پھر دے دوں گا ) انہوں نے کہا : میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی جب ہم اپنے گھر واپس پہنچے ‘ تو انہوں نے مجھے میرے جوتے بھجوا دیے اور بولے : تمہاری کوئی بیوی ہمارے پاس نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے لئے اس عورت میں بھلائی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو اس سے پہلے گمشدہ چیز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوفروہ یزید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7529

Majma al-Zawaid #7529

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُطَلِّقُ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ: كُنْتُ لَاعِبًا. وَيَعْتِقُ، ثُمَّ يُرَاجِعُ وَيَقُولُ: كُنْتُ لَاعِبًا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا} [البقرة: 231] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ طَلَّقَ أَوْ حَرَّمَ أَوْ نَكَحَ أَوْ أَنْكَحَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ لَاعِبًا فَهُوَ جَادٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مِنْ أَعْدَاءِ اللَّهِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الطَّلَاقِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, radiyallahu ʿanhu, reported that in the Age of Ignorance a man would divorce and then take back, saying he was only jesting, and would free a slave and then revoke it, saying he was only jesting. Then Allah revealed, Do not take the verses of Allah in jest. The Prophet ﷺ said that whoever divorces, or declares forbidden, or marries, or gives in marriage, and then says he was only jesting, it is counted as serious. > **"Whoever divorces, or declares unlawful, or marries, or gives in marriage, and says, I was only jesting, then it is serious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص طلاق دیتا تھا ، پھر رجوع کر لیتا تھا اور کہتا تھا : میں نے تو مذاق کیا تھا اسی طرح غلام آزاد کرتا تھا اور پھر رجوع کر لیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میں نے تو مذاق کیا تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :’’ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص طلاق دے ‘ یا حرام قرار دے ‘ یا نکاح کرے ‘ یا نکاح کروائے اور پھر یہ کہے : میں تو مذاق کر رہا تھا ، تو وہ سنجیدہ شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے ‘ اور وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ایک ہے ‘ میں یہ کہتا ہوں : اس طرح کی ایک حدیث ’’ طلاق ‘‘ سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔

7530

Majma al-Zawaid #7530

وَعَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ نَكَحَ لَاعِبًا أَوْ طَلَّقَ لَاعِبًا، فَقَدْ جَازَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعْضِلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي فِي الطَّلَاقِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَدْ مَضَى فِي الْعِتْقِ بَعْضُهَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Karim reported that Ibn Masʿud, radiyallahu ʿanhu, said that whoever marries in jest or divorces in jest, it is valid and takes effect.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالکریم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ جو شخص مذاق کے طور پر نکاح کر دے ‘ یا مذاق کے طور پر طلاق دے ‘ تو یہ درست ہو گا ( یعنی ثابت شمار ہو گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس میں ’’ معضل ‘‘ ہونا پایا جاتا ہے ‘ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ’’ طلاق ‘‘ سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ اور اس نوعیت کی دیگر احادیث ’’ غلام آزاد کرنے ‘‘ سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔

7531

Majma al-Zawaid #7531

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي: بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ فَيَقُولُ: "" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» "". قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: وَسَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُوسَى يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَصِلَ آتِيكَ بِآيٍ مِنَ الْقُرْآنِ تَقُولُ: {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1]، {اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 70] أَمَّا بَعْدُ. ثُمَّ تَكَلَّمْ بِحَاجَتِكَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ خَلَا حَدِيثَ أَبِي مُوسَى. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى مُتَّصِلٌ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, radiyallahu ʿanhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to teach them the sermon of need, saying, All praise belongs to Allah, we praise Him, seek His help, and seek refuge with Allah from the evils of our souls and the evils of our deeds. Whomever Allah guides none can misguide, and whomever He misguides none can guide. I bear witness that none is worthy of worship but Allah alone without partner, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger. Abu ʿUbaydah reported that he heard Abu Musa, radiyallahu ʿanhu, say that the Messenger of Allah ﷺ would say, If you wish you may add verses of the Qurʾan, Fear Allah as He should be feared and do not die except as Muslims, and Fear Allah through Whom you ask one another and the wombs, indeed Allah is Watchful over you, and Fear Allah and speak upright words, He will amend your deeds and forgive your sins, and whoever obeys Allah and His Messenger has attained great success. Then, Amma baʿd, speak of your need. > **"All praise belongs to Allah, we praise Him and seek His help and seek refuge with Allah from the evils of our souls and the evils of our deeds. Whomever Allah guides none can misguide, and whomever He misguides none can guide. I bear witness that none is worthy of worship but Allah alone without partner, and I bear witness that Muhammad is His servant and Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ نکاح کی تعلیم دی تھی آپ نے یہ پڑھا : ’’ بے شک ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں ‘ اور ہم اس سے مدد مانگتے ہیں اور ہم اپنی ذات کے شر سے اور اپنے اعمال کی خرابی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا کر دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے ‘ اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘‘۔ ابوعبیدہ نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ اگر تم چاہو تو تم اس میں قرآن کی کچھ آیات بھی شامل کر لو ! تم یہ پڑھو : ’’ تم لوگ اللہ سے ( یوں ) ڈرو جو اس سے ڈرنے کا حق ہے ‘ اور تم مرتے وقت صرف مسلمان ہی ہونا ‘‘ ’’ اور تم اس اللہ سے ڈرو ! جس کے وسیلے سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے داری کے حقوقی کا خیال رکھو بے شک اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہے ‘‘۔ ’’ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو وہ تمہارے اعمال کو درست کر دے گا ‘ اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ‘ تو وہ عظیم کامیابی حاصل کر لیتا ہے ‘‘۔ اما بعد ! پھر تم اپنی حاجت کے بارے میں کلام کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت نہیں نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث متصل ہے ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

7532

Majma al-Zawaid #7532

عَنْ عَلِيٍّ السُّلَمِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَلَا أُنْكِحُكَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ؟ "" قَالَ: بَلَى. قَالَ: "" قَدْ أُنْكِحْتَهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُعْلَمُ رَوَى عَلِيٌّ السُّلَمِيُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAli al-Sulami, radiyallahu ʿanhu, reported that the Prophet ﷺ said to him, Shall I not marry you to Umaymah the daughter of Rabiʿah ibn al-Harith. He said yes, and the Prophet ﷺ said he had married her to him. > **"Shall I not marry you to Umaymah the daughter of Rabiʿah ibn al-Harith. I have married her to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہارا نکاح امیمہ بنت ربیعہ بن حارث کے ساتھ نہ کروا دوں ؟ تو میں نے عرض کی جی ہاں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہارا نکاح اس کے ساتھ کروا دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : حضرت علی سلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف یہ حدیث منقول ہے اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7533

Majma al-Zawaid #7533

عَنْ أَبِي حَسَنٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ: "" أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ» "". رَوَاهُ ابْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hasan, radiyallahu ʿanhu, reported that the Prophet ﷺ disliked secret marriage until the duff is beaten and it is said, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you. > **"We have come to you, we have come to you, so greet us and we greet you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے ( آپ کو یہ پسند تھا کہ نکاح کے موقعہ پر ) دف بجائی جائے ‘ اور یہ گایا جائے : ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تمہارے پاس آئے تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد کے صاحبزادے نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7534

Majma al-Zawaid #7534

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَعْلِنُوا النِّكَاحَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn al-Zubayr, radiyallahu ʿanhuma, reported that the Prophet ﷺ said to announce the marriage openly. > **"Announce the marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نکاح کا اعلان کرو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

7535

Majma al-Zawaid #7535

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ: "" أَهْدَيْتُمُ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغْنِيهِمْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ، فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, radiyallahu ʿanhu, reported that the Prophet ﷺ said to ʿAʾishah, radiyallahu ʿanha, Did you escort the girl to her house. She said yes. He asked why they did not send with her one who would sing, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you, for the Ansar are a people in whom there is fondness for poetry. > **"Did you escort the girl to her house. Why did you not send with her one who sings, We have come to you, we have come to you, greet us and we greet you, for the Ansar are a people in whom there is fondness for poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تم نے لڑکی کی اس کے گھر رخصتی کروا دی ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے ساتھ ان کو کیوں نہیں بھیجا جو ( شادی کا ) گانا گاتے اور یہ کہتے ہیں : ہم تمہارے پاس آئے ہیں تم ہمیں خوش آمدید کہو اور ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں ‘ انصار ایسے لوگ ہیں جنہیں گانے میں دلچسپی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7536

Majma al-Zawaid #7536

«وَعَنْ زَوْجِ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ: "" هَلْ مِنْ لَهْوٍ»؟ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَعْبَدُ بْنُ قَيْسٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

The husband of the daughter of Abu Lahab reported that the Messenger of Allah ﷺ came to them when he married the daughter of Abu Lahab and asked whether there was any amusement. > **"Is there any amusement."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابولہب کی بیٹی کے شوہر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ جب ابولہب کی بیٹی کے ساتھ میں نے شادی کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کوئی لہو ( شادی کا گانا ) ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معبد بن قیس ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔