Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 5

Book of Marriage

Hadith 7457–7496

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7457

Majma al-Zawaid #7457

«وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لَيْتَ عِنْدِي مَنْ يَرَاهَا وَمَنْ يُخْبِرُنِي عَنْهَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ يُدْعَى هِيتٌ: أَنَا أَنْعَتُهَا لَكَ إِذَا أَقْبَلَتْ قُلْتَ تَمْشِي عَلَى سِتٍّ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ قُلْتَ: تَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرَى هَذَا مُنْكَرًا أَرَاهُ يَعْرِفُ أَمْرَ النِّسَاءِ "". وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى سَوْدَةَ فَنَهَاهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَفَاهُ، وَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى أَمَرَهُ عُمَرُ فَجَهِدَ، وَكَانَ يُرَخِّصُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abi Waqqās رضي الله عنه reported that while he was with the Messenger of Allah ﷺ in Makkah he proposed to a woman and wished for someone to see her and inform him about her. A man called Hit offered to describe her, saying that when she approached she walked upon six and when she turned away she walked upon four. The Prophet ﷺ disapproved of this knowledge of women. That man used to enter upon Sawdah رضي الله عنها until the Prophet ﷺ forbade him, then banished him upon arrival in Madinah. He remained so until ʿUmar رضي الله عنه, when he suffered hardship, permitted him to enter Madinah on Fridays to receive charity: > **"I see this as objectionable; I see that he knows the affairs of women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مکہ میں ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے کہا : کاش کوئی اس عورت کو دیکھ کر مجھے اس عورت کے بارے میں بتا دے ‘ ایک شخص جس کا نام ’’ ہیت ‘‘ تھا ‘ اس نے کہا : میں اس کا حلیہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ‘ جب وہ آتی ہے ‘ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھ بل پڑتے ہیں اور جب وہ جاتی ہے ‘ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں وہ چار بل کے ساتھ چلتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس چیز کو منکر سمجھتا ہوں ‘ اور اس شخص کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ عورتوں کے معاملے سے واقف ہے ‘ وہ شخص پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جایا کرتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اس سے منع کر دیا کہ وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئندہ آئے ‘ جب وہ مدینہ منورہ آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جلا وطن کروا دیا ‘ اور اس کا معاملہ اسی طرح رہا ‘ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بھوک کا شکار ہوا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے یہ اجازت دی کہ وہ جمعہ کے دن مدینہ آیا کرے ‘ اور اسے صدقہ دے دیا جایا کرے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7458

Majma al-Zawaid #7458

«وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ كَنْزًا، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: "" «وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» "". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ addressed him concerning his treasure in Paradise and commanded him not to follow one glance with another, with the addition that the second glance is not for him: > **"O ʿAli, you have a treasure in Paradise, and you are Dhū al-Qarnayn. Do not follow one glance with another, for the first is for you, and the latter is not for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے علی ! تمہارے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے ‘ اور تم ’’ ذوالقرنین ‘‘ ہو ‘ تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا ‘ کیونکہ تمہیں صرف پہلی ( نظر ) کی اجازت ہے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تمہیں دوسری ( نظر ) کی اجازت نہیں ہے ‘‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

7459

Majma al-Zawaid #7459

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ لَقِيَ عُمَرُ عُثْمَانَ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ وَسَأَنْظُرُ. فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ فَعَرَضَهَا عَلَيْهِ فَسَكَتَ فَوَجَدَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَطَبَهَا فَلَقِيَ أَبَا بَكْرٍ عُمَرُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَرَدَّنِي، وَإِنِّي عَرَضْتُهَا عَلَيْكَ فَسَكَتَّ عَنِّي فَلَا أَنَا عَلَيْكَ كُنْتُ أَشُدَّ غَضَبًا مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، وَقَدْ رَدَّنِي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ سِرٌّ فَكَرِهْتُ أَنْ أُفْشِيَ السِّرَّ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ نَفْسِهِ، وَهُوَ هُنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَزَادَ: «قَالَ عُمَرُ: فَشَكَوْتُ عُثْمَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَزَوَّجَ حَفْصَةَ خَيْرٌ مِنْ عُثْمَانَ وَيُزَوَّجُ عُثْمَانَ خَيْرٌ مِنْ حَفْصَةَ "" فَزَوَّجَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ». وَفِي إِسْنَادِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that when Hafsah رضي الله عنها was widowed from Khunays ibn Hudhāfah, ʿUmar رضي الله عنه offered her to ʿUthmān رضي الله عنه, who said he had no need of women but would consider, and then offered her to Abū Bakr رضي الله عنه, who remained silent, which weighed upon ʿUmar. Then the Messenger of Allah ﷺ proposed to her. Afterwards ʿUmar met Abū Bakr and said his anger toward Abū Bakr for his silence was greater than toward ʿUthmān for his refusal, and Abū Bakr replied that it had been a secret he disliked to disclose. ʿUmar also complained of ʿUthmān to the Messenger of Allah ﷺ, who informed him that Hafsah would marry one better than ʿUthmān and ʿUthmān would marry one better than Hafsah, and the Prophet ﷺ then married his own daughter to ʿUthmān رضي الله عنه: > **"One better than ʿUthmān will marry Hafsah, and one better than Hafsah will be married to ʿUthmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ، خنیس بن حذافہ کے حوالے سے بیوہ ہو گئیں ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ دیا ‘ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے خواتین کی ضرورت نہیں ہے البتہ میں اس بارے میں غور کروں گا ، پھر اُن کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اس بارے میں پیشکش کی ‘ تو وہ خاموش رہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے الجھن محسوس ہوئی ، پھر جب نبی اکرم ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دے دیا ‘ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے عثمان کو پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے جواب دے دیا ‘ میں نے آپ کو پیشکش کی لیکن آپ خاموش رہے ‘ مجھے آپ پر عثمان سے زیادہ غصہ آیا ‘ کیونکہ اس نے مجھے جواب تو دے دیا تھا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ ایک راز تھا ‘ مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس راز کو ظاہر کروں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ‘ اور یہاں یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ زہری سے اس کے حدیث نقل کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ حفصہ کے ساتھ وہ شادی کرے گا ‘ جو عثمان سے زیادہ بہتر ہے ‘ اور عثمان کی شادی اس سے ہو گی ‘ جو حفصہ سے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی صاحبزادی کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کروا دی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7460

Majma al-Zawaid #7460

«وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَعْرَابِيٌّ مَعَهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ فَجَعَلَ الْأَعْرَابِيُّ يَعْرِضُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَاءَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا قَالَ: فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ إِلَيْهَا وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْخُذُ بِرَأْسِي فَيَلْوِيهِ [وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Fadl ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that he was riding behind the Messenger of Allah ﷺ when a Bedouin with a beautiful daughter alongside him kept presenting her to the Messenger of Allah ﷺ hoping he would marry her. Whenever al-Fadl turned to look at her, the Messenger of Allah ﷺ took his head and turned it away, while the Messenger of Allah ﷺ continued chanting the Talbiyah until he stoned Jamrat al-ʿAqabah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سواری پر موجود تھا ، ایک دیہاتی کے پیچھے اس کی سواری پر اس کی خوبصورت بیٹی بھی تھی ‘ اس دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس عورت کو کیا ‘ یہ امید رکھتے ہوئے کہ نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ شادی کر لیں گے ‘ حضرت فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرا سر پکڑ کر اس کی طرف سے موڑ دیا ‘ نبی اکرم ﷺ مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7461

Majma al-Zawaid #7461

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةَ "" يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا، فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا، وَإِنْ هِيَ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that when the Messenger of Allah ﷺ wished to marry one of his daughters, he sat beside her curtain and mentioned the names of the man and the girl. If she remained silent he married her off, and if she disliked it she knocked the curtain, in which case he did not marry her off: > **"Indeed so-and-so mentions so-and-so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب اپنی کسی صاحبزادی کی شادی کرنے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ پردے کے پاس تشریف فرما ہوتے تھے اور فرماتے تھے : فلاں شخص نے فلاں خاتون کا ذکر کیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ صاحبزادی کا نام لیتے تھے اور اس شخص کا نام لیتے تھے ، جس نے ذکر کیا ہوتا تھا ‘ اگر وہ صاحبزادی خاموش رہتی ‘ تو آپ ان کی شادی طے کر دیتے تھے ‘ اور اگر وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتی تھی ، تو پردے کو کھٹکھٹا دیتی تھیں ، جب وہ پردہ کھٹکھٹا دیتیں ، تو نبی اکرم ﷺ ان کی شادی نہیں کرتے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7462

Majma al-Zawaid #7462

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ عِنْدَ خِدْرِهَا، ثُمَّ يَقُولُ: "" إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً "". فَإِنْ سَكَتَتْ فَذَلِكَ إِذْنُهَا أَوْ قَالَ: "" سُكُوتُهَا إِذْنُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that when the Prophet ﷺ wished to marry one of his daughters, he sat at her curtain and announced the proposal. Her silence was her permission: > **"Indeed so-and-so proposes to so-and-so. If she remains silent, that is her permission; her silence is her permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو آپ پردے کے پاس بیٹھ گئے ، پھر آپ نے فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ‘ اگر وہ صاحبزادی خاموش رہیں ، تو یہ ان کی اجازت شمار ہوئی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7463

Majma al-Zawaid #7463

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خُطِبَ بَعْضُ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى الْخِدْرِ فَقَالَ: "" إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً "". فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ كَانَ سُكُوتُهَا رِضَاهَا، وَإِنْ هِيَ كَرِهَتْ طَعَنَتْ فِي الْحِجَابِ فَكَانَ ذَلِكَ مِنْهَا كَرَاهِيَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that when one of his daughters received a proposal, the Messenger of Allah ﷺ sat at the curtain and announced it. Her silence was her approval, and her striking the veil indicated dislike: > **"Indeed so-and-so proposes to so-and-so. If she remains silent, her silence is her approval, and if she dislikes, she strikes the veil, and that is dislike from her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب کسی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا گیا ‘ تو آپ پردے کے پیچھے تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ‘ اگر وہ صاحبزادی خاموش رہیں ، تو ان کی خاموشی ان کی رضامندی شمار ہوئی ‘ اور اگر انہیں ناگوار گزرا ‘ تو انہوں نے پردے کو کھٹکھٹا دیا ‘ تو یہ چیز ان کی طرف سے ناگواری کا اظہار شمار ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7464

Majma al-Zawaid #7464

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خُطِبَ إِلَيْهِ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَتَى الْخِدْرَ فَقَالَ: "" إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةً "". فَإِنْ طَعَنَتْ فِي الْخِدْرِ لَمْ يُزَوِّجْهَا، وَإِنْ لَمْ تَطْعَنْ فِي الْخِدْرِ زَوَّجَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَانِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that when a proposal came for one of his daughters, the Prophet ﷺ came to the curtain and announced it. If she struck the curtain he did not marry her off, and if she did not strike it he married her off: > **"Indeed so-and-so proposes to so-and-so. If she strikes the curtain, I shall not marry her off, and if she does not strike it, I shall marry her off."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب آپ کی کسی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا گیا تو آپ پردے کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : فلاں شخص نے فلاں خاتون کے لئے شادی کا پیغام دیا ہے ‘ اگر اس صاحبزادی نے پردے کو ہاتھ لگا دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی نہیں کی ‘ اور اگر انہوں نے پردے کو ہاتھ نہیں لگایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی شادی کروا دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ‘ جس کی توثیق کی گئی ہے ‘ ویسے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

7465

Majma al-Zawaid #7465

«وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ يَأْتِيهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ فَيَقُولُ لَهَا: "" يَا بُنَيَّةُ إِنَّ فُلَانًا خَطَبَكِ، فَإِنْ كَرِهْتِيهِ فَقُولِي: لَا، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَحِي أَحَدٌ أَنْ يَقُولَ: لَا. وَإِنْ أَحْبَبْتِ، فَإِنَّ سُكُوتَكِ إِقْرَارٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ wished to marry a woman of his household, he came to her from behind the veil and instructed her that silence would be consent and that she should say no without shyness if she disliked: > **"O my daughter, so-and-so has proposed to you. If you dislike him, say no, for none feels shy to say no. And if you like him, your silence is consent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب اپنے خاندان کی خواتین میں سے کسی خاتون کی شادی کروانی ہوتی تو آپ پردے کے پیچھے ان کے پاس تشریف لاتے اور ان سے فرماتے : اے میری بیٹی ! فلاں شخص نے تمہیں شادی کا پیغام دیا ہے اگر تمہیں یہ ناپسند ہے ‘ تو تم یہ کہہ دو : جی نہیں ! کیونکہ کوئی بھی شخص ’’ نہ ‘‘ کہتے ہوئے نہیں شرماتا ‘ اور اگر یہ تمہیں پسند ہے ‘ تو تمہاری خاموشی اقرار شمار ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ‘ اور یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

7466

Majma al-Zawaid #7466

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْطُبُ عَلَى يَزِيدَ بِنْتًا لَهُ أَوْ أُخْتًا لَهُ فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ يَزِيدَ فَقَالَ: إِنَّا قَوْمٌ لَا نُزَوِّجُ نِسَاءَنَا حَتَّى نَسْتَأْمِرَهُنَّ. فَأَتَيْتُهَا فَذَكَرْتُ لَهَا يَزِيدَ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ حَتَّى يَسِيرَ فِينَا صَاحِبُكَ كَمَا سَارَ فِرْعَوْنُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ. فَرَجَعْتُ إِلَى الْحَسَنِ فَقُلْتُ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى فِلْقَةٍ مِنَ الْفِلَقِ تُسَمِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِرْعَوْنَ. قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِيَّاكَ وَبُغْضَنَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُبْغِضُنَا، وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا زِيدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنِ الْحَوْضِ بِسِيَاطٍ مِنْ نَارٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِفِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Hudayj reported that Muʿāwiyah ibn Abi Sufyān sent him to al-Hasan ibn ʿAli to propose for Yazid a daughter or sister of his. Al-Hasan رضي الله عنه replied that they did not marry their women without consulting them. When the messenger mentioned Yazid to the woman, she swore by Allah that it would not happen until his master acted among them as Pharaoh acted among the Children of Israel, slaughtering their sons and sparing their women. When he returned and complained that she had called the Commander of the Believers Pharaoh, al-Hasan warned him against hating them and cited the Messenger of Allah ﷺ: > **"None hates us nor envies us except that he will be driven away from the Basin on the Day of Resurrection with whips of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن حدیج بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا ‘ تاکہ میں ان کی صاحبزادی ‘ یا اُن کی کسی بہن کے لئے یزید کا رشتہ پیش کروں ، میں ان کے پاس آیا ‘ میں نے ان کے سامنے یزید کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہم اپنی خواتین کی شادیاں اُن کی مرضی معلوم کیے بغیر نہیں کرتے ہیں ، میں اس خاتون کے پاس آیا اور میں نے اس خاتون کے سامنے یزید کا ذکر کیا ‘ تو اس خاتون نے کہا : اللہ کی قسم ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ‘ جب تک تمہارے آقا ہمارے درمیان یوں نہیں چلتے ، جس طرح فرعون ، بنی اسرائیل کے درمیان چلا تھا کہ اس نے ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھا تھا ‘ راوی کہتے ہیں : میں واپس حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ اور میں نے کہا : آپ نے مجھے ایک تیز مزاج خاتون کی طرف بھیجا تھا ، جس نے امیرالمؤمنین کو ’’ فرعون ‘‘ کا نام دیا ہے ‘ تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے معاویہ ! ہمارے ساتھ بغض رکھنے سے بچنا ! کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہمارے ساتھ جو بھی شخص بغض رکھے گا ‘ یا جو بھی شخص حسد رکھے گا ‘ قیامت کے دن اُسے آگ کے کوڑوں کے ذریعے حوض سے پرے کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر واقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

7467

Majma al-Zawaid #7467

«وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ - وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ: نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ صَالِحًا -[أَخْبَرَهُ] أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: اخْطُبْ عَلَيَّ ابْنَةَ صَالِحٍ. قَالَ: إِنَّ لَهُ يَتَامَى، وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ. فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ. فَقَالَ: لِي يَتَامَى، وَلَمْ أَكُنْ لِأُتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا. وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ابْنَتِي خَطَبَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حِجْرِهِ، وَلَمْ يُؤَامِرْهَا. فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ: "" أَنْكَحْتَ ابْنَتَكَ، وَلَمْ تُؤَامِرْهَا؟ "" قَالَ: نَعَمْ! قَالَ: "" أَشِيرُوا النِّسَاءَ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهُنَّ بِكْرٌ "" فَقَالَ صَالِحٌ: إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لَمَّا تَصَدَّقَهَا ابْنُ عُمَرَ، فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhim ibn Sālih, whose known name was Nuʿaym ibn al-Nahhām, whom the Messenger of Allah ﷺ had named Sālih, reported through ʿAbd Allah ibn ʿUmar رضي الله عنهما that ʿAbd Allah asked ʿUmar ibn al-Khattāb رضي الله عنه to propose the daughter of Sālih for him. ʿUmar said Sālih had orphans and would not prefer them over them. ʿAbd Allah then sent his uncle Zayd ibn al-Khattāb to propose, and Sālih replied that he had orphans and would not neglect his own flesh to raise another's, and declared before witnesses that he had married her to so-and-so. The girl's mother, whose inclination was toward ʿAbd Allah ibn ʿUmar, came to the Messenger of Allah ﷺ and said that ʿAbd Allah had proposed but her father had married her to an orphan in his care without consulting her. The Messenger of Allah ﷺ sent to Sālih questioning him, and commanded consultation of women even if virgins. Sālih replied that he had done so only because of what Ibn ʿUmar had given her in charity, claiming for her from his own wealth the like of what he gave: > **"Did you marry your daughter without consulting her? Consult women concerning themselves, even if virgins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن صالح سے روایت منقول ہے ‘ صالح وہ شخص ہے ‘ جو حضرت نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کے نام سے معروف ہیں ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام ” صالح ‘‘ رکھا تھا ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ صالح کی صاحبزادی کو میرے لئے شادی کا پیغام دیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کے ( زیر پروش ) یتیم بچے ( یعنی صالح کے اپنے یتیم بھانجے یا بھتیجے ) ہیں ‘ وہ ہمیں ان پر ترجیح نہیں دے گا ( یعنی وہ اپنے کسی بھتیجے وغیرہ کے ساتھ اس کی شادی کرے گا ) پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے چچا حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ‘ تاکہ وہ شادی کا پیغام دے دیں ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت صالح رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا : عبداللہ بن عمر نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ‘ تاکہ وہ آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دے ‘ انہوں نے فرمایا : میرے زیر پرورش کچھ یتیم بچے ہیں ( یعنی میرے بھتیجے وغیرہ ہیں ) تو میں اپنے خون کو نظر انداز نہیں کروں گا ‘ اور آپ کے رشتہ دار کو ترجیح نہیں دوں گا ، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اس عورت کی شادی فلاں کے ساتھ کر دی ہے ‘ اس لڑکی کی ماں کی خواہش یہ تھی کہ اس لڑکی کی شادی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہو ‘ وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور بولی : اے اللہ ! کے نبی ! عبداللہ بن عمر نے میری بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ‘ لیکن اس بچی کے باپ نے اپنے زیر پرورش ایک یتیم لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کی شادی کر دی اور اس نے لڑکی سے مرضی بھی معلوم نہیں کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت صالح رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ہے ؟ اور اس کی مرضی بھی معلوم نہیں کی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خواتین کے ساتھ ان کی ذات کے بارے میں مشورہ لو ! اگرچہ وہ کنواری ہی کیوں نہ ہوں ۔ حضرت صالح رضی اللہ عنہ نے کہا : اس خاتون نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ عبداللہ بن عمر نے اس خاتون کو پیسے دیے تھے ‘ اس عورت کو میرے مال میں سے اتنا ہی مال ملتا ہے ‘ جتنا عبداللہ بن عمر نے اسے دیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7468

Majma al-Zawaid #7468

وَعَنْ أَبِي مُوسَى «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يُزَوِّجَ ابْنَتَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ commanded seeking a daughter's permission when marrying her off: > **"When a man wishes to marry off his daughter, let him seek her permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کا ارادہ کرے ‘ تو اُس سے مرضی معلوم کر لے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7469

Majma al-Zawaid #7469

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ. وَالثَّيِّبُ تُصِيبُ مِنْ أَمْرِهَا مَا لَمْ تَدْعُ إِلَى سَخْطَةٍ، فَإِنْ دَعَتْ إِلَى سَخْطَةٍ، وَكَانَ أَوْلِيَاؤُهَا يَدْعُونَ إِلَى رِضًا رُفِعَ ذَلِكَ إِلَى السُّلْطَانِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ: قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ: آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: هَكَذَا أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُرَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ distinguished between the virgin, whose permission is silence, and the previously married woman, who decides her affair so long as she does not call to displeasure, in which case if her guardians call to what is pleasing the matter is raised to the ruler: > **"The virgin shall not be married until she is consulted, and her permission is silence. The previously married woman decides her affair so long as she does not call to displeasure; if she calls to displeasure while her guardians call to what is pleasing, that is raised to the ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ کنواری کی شادی ‘ اُس وقت تک نہ کی جائے گی ‘ جب تک اس کی مرضی معلوم نہ کی جائے ‘ اس کی مرضی اس کی خاموشی ہو گی اور ثیبہ عورت ‘ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرے گی ‘ جبکہ وہ کسی ناراضگی کی طرف نہ جاتی ہو ‘ لیکن اگر وہ کسی ناراضگی کی طرف جا رہی ہو ‘ اور اس کے اولیاء اسے رضا مندی کی طرف لے جا رہے ہوں ، تو پھر معاملہ سلطان کے سامنے پیش کیا جائے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : میں نے عیسیٰ بن یونس بن اسحاق سے کہا : نبی اکرم ﷺ سے منقول وہ آخری حدیث کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : امام اوزاعی نے اسی طرح بیان کیا ہے ‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن مرہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ ویسے وہ ثقہ ہے ۔

7470

Majma al-Zawaid #7470

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمْرُ النِّسَاءِ بِأَيْدِي آبَائِهِنَّ وَإِذْنُهُنَّ سُكُوتُهُنَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ assigned the affair of women to their fathers and made silence their permission: > **"The affair of women is in the hands of their fathers, and their permission is their silence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خواتین کا معاملہ ان کے باپوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کی خاموشی ان کی اجازت ہوتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سالم ہمدانی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7471

Majma al-Zawaid #7471

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ نِكَاحَ ثَيِّبٍ وَبِكْرٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا كَارِهَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوثَى، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَعَنِ الْعُرْسِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمِرُوا النِّسَاءَ تُعْرِبُ الثَّيِّبُ عَنْ نَفْسِهَا وَإِذْنُ الْبِكْرِ صَمْتُهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: زَادَ سُفْيَانُ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ. وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَلَمْ يُجَاوِزْ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ. قُلْتُ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ rejected the marriage of a previously married woman and a virgin whom their father had married off unwillingly. Al-ʿUrs also reported the command to consult women, with the previously married expressing herself and the virgin's silence being permission: > **"Consult women; the previously married woman expresses herself, and the permission of the virgin is her silence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ثیبہ اور ایک کنواری لڑکی کے نکاح کو مسترد کر دیا تھا ‘ ان کے باپ نے ان دونوں کی شادیاں کروائیں تھیں ‘ اور زبردستی کروائیں تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن جوثی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ حضرت عرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورتوں سے مشورہ لیا کرو ! ثیبہ عورت اپنے بارے میں خود اظہار کرے گی اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے کہا ہے : سفیان نے سند میں عرس کا اضافہ کیا ہے ۔ اسے لیث بن سعد نے ابن ابی حسین سے نقل کیا ہے اور انہوں نے عدی بن عدی سے آگے سند بیان نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7472

Majma al-Zawaid #7472

«وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ جَارِيَةً زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَأَرَادَتْ أَنْ تُزَوَّجَ رَجُلًا آخَرَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَعَهَا مِنَ الَّذِي زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الَّذِي أَرَادَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that a slave-girl was married off by her father but wished to marry another man. She came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him, so he removed her from the one her father had married her to and the Prophet ﷺ married her to the one she desired.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک لڑکی کی شادی اس کے باپ نے کر دی ‘ وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ‘ اور یہ چیز آپ کے سامنے ذکر کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی اس شخص سے علیحدگی کروا دی ‘ جس کے ساتھ اس کے باپ نے اس کی شادی کی تھی ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کی شادی اس شخص کے ساتھ کروا دی ‘ جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7473

Majma al-Zawaid #7473

«وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ قَالَا: أَنْكَحَ حِذَامُ ابْنَتَهُ - وَهِيَ كَارِهَةٌ - رَجُلًا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahmān and Mujammiʿ, the sons of Yazid ibn Jāriyah رضي الله عنهم, reported that Hidhām married his daughter to a man while she disliked it and she was previously married. She came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him, so he annulled her marriage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور حضرت مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات بیان کرتے ہیں : حضرت حذام رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی زبردستی ایک شخص کے ساتھ کر دی ‘ وہ صاحبزادی ثیبہ تھیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7474

Majma al-Zawaid #7474

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِذَا أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded consulting the orphan girl concerning herself, with silence as permission and refusal preventing compulsion: > **"The orphan girl shall be consulted concerning herself; if she remains silent, she has permitted, and if she refuses, she shall not be compelled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یتیم لڑکی سے ‘ اُس کی ذات کے بارے میں ‘ اس کی مرضی معلوم کی جائے گی ‘ اگر وہ خاموش رہے ‘ تو یہ اُس کی مرضی شمار ہو گی اور اگر وہ انکار کر دے ‘ تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7475

Majma al-Zawaid #7475

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: «تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ: وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَهُمَا خَالَايَ. قَالَ: فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ - يَعْنِي إِلَى أُمِّهَا - فَأَرْغَبَهَا بِالْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا فَأَبَتَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي وَأَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمِّهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ، وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ، وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ، وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى أُمِّهَا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هِيَ يَتِيمَةٌ، وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا "". قَالَ: فَانْتُزِعَتْ وَاللَّهِ مِنِّي بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that when ʿUthmān ibn Mazʿūn رضي الله عنه died, he left a daughter from Khuwaylah bint Hakīm ibn Umayyah ibn Hārithah ibn al-Awqas and entrusted her to his brother Qudāmah ibn Mazʿūn, both maternal uncles of Ibn ʿUmar. Ibn ʿUmar proposed to Qudāmah for the daughter and Qudāmah married her to him. Then al-Mughirah ibn Shuʿbah approached her mother and enticed her with wealth, so she and the girl inclined to the mother's desire and both refused. The matter was raised to the Messenger of Allah ﷺ. Qudāmah said she was his brother's daughter entrusted to him and he had married her to her cousin ʿAbd Allah ibn ʿUmar without falling short in righteousness or suitability, but she had inclined to her mother. The Messenger of Allah ﷺ ruled that she was an orphan not to be married except with her permission. By Allah, after Ibn ʿUmar had possessed her, she was taken from him and married to al-Mughirah ibn Shuʿbah رضي الله عنه: > **"She is an orphan, and she shall not be married except with her permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ‘ انہوں نے خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن اوقص سے اپنی ایک بیٹی چھوڑی ‘ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصی مقرر کیا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : وہ دونوں حضرات میرے ماموں تھے ‘ میں نے قدامہ بن مظعون کو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ‘ تو انہوں نے میری شادی اس خاتون کے ساتھ طے کر دی ‘ مغیرہ بن شعبہ اس خاتون کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کے حوالے سے رغبت دلائی ‘ تو اس خاتون کا جھکاؤ ان کی طرف ہو گیا اور لڑکی کا جھکاؤ بھی ماں کی خواہش کی طرف تھا ، ان دونوں نے انکار کر دیا ‘ ان دونوں کا معاملہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا ، تو حضرت قدامہ بن مطعون رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ میری بھتیجی ہے اور میرے بھائی نے اس کا مجھے وصی مقرر کیا تھا ، اور میں نے اس کی شادی اس کے چچازاد عبداللہ بن عمر سے کی ہے ‘ میں نے بہتری میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ‘ لیکن یہ عورت اپنی ماں کی طرف مائل ہو گئی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ یتیم لڑکی ہے ‘ اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہیں کی جا سکتی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس کا مالک ہو چکا تھا ‘ اس کے بعد اسے مجھ سے الگ کر دیا گیا ‘ اور ان لوگوں نے اس کی شادی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7476

Majma al-Zawaid #7476

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْكِحُوا الْأَيَامَى ثَلَاثًا عَلَى مَا تَرَاضَى بِهِ الْأَهْلُونَ وَلَوْ قَبْضَةً مِنْ أَرَاكٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded marrying unmarried women, repeating it three times, upon whatever their families mutually agreed, even a handful of arāk: > **"Marry the unmarried women, marry the unmarried women, marry the unmarried women, upon whatever their families mutually agree, even a handful of arāk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیوہ عورتوں کا نکاح کروا دو ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ اس چیز پر ‘ جس پر اس کے اہل خانہ راضی ہوتے ہیں خواہ وہ مٹھی بھر پیلو ہی کیوں نہ ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7477

Majma al-Zawaid #7477

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عَوِّضُوهُنَّ وَلَوْ بِسَوْطٍ "" - يَعْنِي فِي التَّزْوِيجِ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ commanded giving compensation in marriage even if minimal: > **"Compensate them, even with a whip, meaning in marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ انہیں معاوضہ ( یعنی مہر ) دو ! خواہ وہ ایک لاٹھی ہی کیوں نہ ہو ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : یعنی شادی میں ایسا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7478

Majma al-Zawaid #7478

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: زَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِامْرَأَةٍ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَصُّهُ مِنْ فِضَّةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ married a man to a woman for an iron ring whose stone was of silver.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی شادی ایک خاتون کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی کے عوض میں کروا دی ، جس میں چاندی لگی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7479

Majma al-Zawaid #7479

وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْكِحْنِي فُلَانَةً. قَالَ: "" مَا مَعَكَ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ - أَوْ تُعْطِيهَا -؟ "" قَالَ: مَا مَعِي شَيْءٌ. قَالَ: "" لِمَنْ هَذَا الْخَاتَمُ؟ "" قَالَ: لِي. قَالَ: "" فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ "" وَأَنْكَحَهَا، وَأَنْكَحَ آخَرَ عَلَى سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ شَيْءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَحُسَيْنٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn ʿAbd Allah ibn Dumayrah, from his father from his grandfather, reported that a man came to the Prophet ﷺ asking him to marry him to so-and-so. The Prophet ﷺ asked what he had to give as dowry and about a ring belonging to him, then commanded him to give it to her and married him to her. He also married another man who had nothing upon Sūrat al-Baqarah: > **"What do you have to give her as dowry? Whose is this ring? Give it to her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ‘ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری شادی فلاں خاتون کے ساتھ کروا دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اُسے مہر کے طور پر دینے کے لئے کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ انگوٹھی کس کی ہے ؟ اس نے عرض کی : یہ میری ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ اُسے دے دو ! آپ نے اس خاتون کے ساتھ اس شخص کی شادی کروا دی ‘ اسی طرح ایک اور شخص ‘ جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ، آپ نے سورۃ بقرہ ( کی تعلیم ) کی شرط پر اُس کی شادی کروا دی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور حسین نامی راوی متروک ہے ۔

7480

Majma al-Zawaid #7480

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بَإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَفِي الْآخَرِ رَجَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said the best women are those easiest in dowry: > **"The best of them are those easiest in dowry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ان ( خواتین ) میں سب سے بہتر وہ ہیں ، جن کا مہر ( ادا کرنا ) سب سے زیادہ آسان ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ دوسری میں رجاء بن حارث ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7481

Majma al-Zawaid #7481

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَخَفُّ النِّسَاءِ صَدَاقًا أَعْظَمُهُنَّ بَرَكَةً»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ شِبْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said the women lightest in dowry are greatest in blessing: > **"The women lightest in dowry are greatest in blessing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ ’’ سب سے کم مہر والی خواتین ‘ سب سے زیادہ برکت والی ہوتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن شبل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7482

Majma al-Zawaid #7482

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرَ رَحِمَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِمَا: عَنْ عُرْوَةَ: فَأَقُولُ: "" إِنَّ مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا "". وَفِي إِسْنَادِهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said part of a woman's blessedness lies in ease of proposal, ease of dowry, and ease of womb. ʿUrwah added that part of her first ill omen is abundance of her dowry: > **"Part of the blessedness of a woman is ease of her proposal, ease of her dowry, and ease of her womb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت کی برکت میں ‘ یہ بات شامل ہے کہ اُسے نکاح کا پیغام دینا آسان ہو ‘ اس کا مہر دینا آسان ہو ‘ اور اس کا رحم آسان ہو ( یعنی وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے ان دونوں روایات میں یہ بات نقل کی ہے : عروہ کے حوالے سے منقول ہے ‘ عروہ کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : عورت کی سب سے پہلی نحوست یہ ہے کہ اس کا مہر زیادہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7483

Majma al-Zawaid #7483

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنِ اسْتَحَلَّ بِدِرْهَمٍ فِي النِّكَاحِ، فَقَدِ اسْتَحَلَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yahyā ibn ʿAbd al-Rahmān ibn Abi Labibah, from his father from his grandfather, reported that the Messenger of Allah ﷺ said one dirham in marriage suffices for lawfulness: > **"Whoever makes lawful with a dirham in marriage has made lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص نکاح میں ‘ ایک درہم کے عوض میں حلال کروا لے ( یعنی ایک درہم مہر کے طور پر ادا کرے ) تو اس نے حلال کروا لیا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7484

Majma al-Zawaid #7484

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَسِّمُ الْغَنَمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الصَّدَقَةِ تَقَعُ الشَّاةُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: دَعْ لِي نَصِيبَكَ أَتَزَوَّجْ بِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَبْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was distributing sheep of charity among his Companions, with one sheep falling between two men. One of them said to leave his share to him so he could marry with it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان صدقہ کی بکریاں تقسیم کیں ‘ ایک بکری دو آدمیوں کے حصے میں آئی ‘ تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا : تم اپنا حصہ میرے لئے چھوڑ دو ! میں اس کے عوض میں شادی کر لوں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حرب بن میمون عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ امام ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7485

Majma al-Zawaid #7485

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَ قِيمَتُهَا ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ وَثُلُثًا. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that ʿAbd al-Rahmān ibn ʿAwf رضي الله عنه married a woman at the time of the Messenger of Allah ﷺ for the weight of a date-stone of gold, whose value was three dirhams and a third.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک خاتون کے ساتھ سونے کی ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض میں شادی کی ‘ اُس سونے کی قیمت تین درہم اور ایک تہائی درہم تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے : تاہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7486

Majma al-Zawaid #7486

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ: "" فَهَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا؟ "" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" عَلَى كَمْ؟ "" قَالَ: عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that a man came to the Prophet ﷺ and said he had married a woman of the Ansār. The Prophet ﷺ asked whether he had looked at her since there is something in the eyes of the Ansār, and he replied yes. When asked for how much, he replied four uqiyas, at which the Prophet ﷺ remarked upon its excessiveness: > **"Did you look at her, for in the eyes of the Ansār is something? For how much? For four uqiyas? As though you carve silver from the side of this mountain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : میں نے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے اسے دیکھا ہے ؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کتنے مہر کے عوض میں کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : چار اوقیہ کے عوض میں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چار اوقیہ کے عوض میں ؟ یہ تو یوں ہے ‘ جیسے تم اس پہاڑ سے چاندی چھیل کر اتارتے ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے احمد بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7487

Majma al-Zawaid #7487

«وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ قَالَ: "" كَمْ أَمْهَرْتَهَا؟ "" قَالَ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. قَالَ: "" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hadrad al-Aslami رضي الله عنه reported that he came to the Prophet ﷺ seeking help with a woman's dowry. When asked how much he had fixed, he replied two hundred dirhams, at which the Prophet ﷺ remarked upon its amount: > **"How much did you fix for her? If you scooped from Bathān, you would not have added."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تاکہ عورت کو مہر ادا کرنے کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کریں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے اسے کتنا مہر دینا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : دو سو درہم ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم بطحان بھر کر بھی دو ‘ تو تم زیادہ نہیں دو گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7488

Majma al-Zawaid #7488

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ married Umm Salamah رضي الله عنها for household goods whose value was ten dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایسے سامان ( کے مہر ہونے ) کے عوض میں ‘ شادی کی تھی ، جس کی قیمت دس درہم تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ‘ امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7489

Majma al-Zawaid #7489

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْأَزْهَرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿid al-Khudri رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ married Umm Salamah رضي الله عنها for household goods whose value was ten dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گھر کے سامان ( کے مہر ہونے ) کی شرط پر شادی کی تھی ، جس کی قیمت دس درہم تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ازہر ہے اور وہ متروک ہے ۔

7490

Majma al-Zawaid #7490

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَتَاعٍ يَسْوَى أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ married her for household goods worth forty dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ ایسے سامان کے عوض میں شادی کی تھی ، جس کی قیمت چالیس درہم بنتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7491

Majma al-Zawaid #7491

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ صَحْفَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النِّسَاءَ وَيَقُولُ: "" لَكِ كَذَا وَكَذَا وَجَفْنَةُ سَعْدٍ تَدُورُ مَعِي كُلَمَّا دُرْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنه sent a bowl to the Prophet ﷺ every night. When the Prophet ﷺ proposed to women, he mentioned such-and-such provisions along with the circulating bowl of Saʿd: > **"For you is such-and-such, and the bowl of Saʿd circulates with me wherever I circulate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کی طرف ( کھانے کا ) ایک پیالہ بھجوایا کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ جب کسی خاتون کو شادی کا پیغام دیتے تھے ‘ تو یہ فرماتے تھے : تمہیں یہ ‘ یہ اور یہ ( چیزیں ) ملیں گی ‘ اور سعد کا پیالہ بھی ملے گا ‘ جو میرے ساتھ جاتا ہے ‘ جہاں بھی میں جاتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7492

Majma al-Zawaid #7492

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ حَبِيبَةَ وَأَصْدَقَ مِنْ مَالِهِ مِائَتَيْ دِينَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَرَوَّادٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَإِسْمَاعِيلُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ هَذَا ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that al-Najāshi married the Prophet ﷺ to Umm Habibah رضي الله عنها and gave from his own wealth two hundred dinars as dowry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجاشی نے ‘ نبی اکرم ﷺ کی شادی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تھی ‘ اور اپنے مال میں سے دو سو دینار ( مہر کے طور پر ) دیے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن علی انصاری ہے ‘ اس نے رواد بن جراح سے یہ روایت نقل کی ہے ‘ رواد میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اسماعیل نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ اس روایت کی دوسری سند ضعیف ہے ۔

7493

Majma al-Zawaid #7493

«وَعَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: أَعْتَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَ عِتْقِي صَدَاقِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ: لَا يُرْوَى عَنْ صَفِيَّةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Safiyyah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ freed her and made her freedom her dowry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے آزاد کر دیا اور میری آزادی کو میرا مہر قرار دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ انہوں نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے : سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔

7494

Majma al-Zawaid #7494

«وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ مِلْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَعَتَقَ كُلَّ أَسِيرٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbi reported that Juwayriyah رضي الله عنها was owned by the Messenger of Allah ﷺ, so he freed her and made her freedom her dowry, and every captive of Banū al-Mustaliq was freed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی کنیز تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد کر دیا ‘ اور ان کی آزادی کو اُن کا مہر قرار دیا ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے بنو مصطلق کے ہر قیدی کو آزاد کر دیا ( یا بنو مصطلق کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7495

Majma al-Zawaid #7495

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْءٍ، فَكَيْفَ؟!، ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: "" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ "" قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟ "" قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا، قَالَ: فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAli رضي الله عنه reported that he wished to propose to the Messenger of Allah ﷺ for his daughter but had nothing. Then he recalled his kinship and his care and proposed to him. The Prophet ﷺ asked whether he had anything and about the Hutami armor he had given him on such-and-such day. When ʿAli said it was with him, he commanded him to give it to her, and he gave it to her: > **"Do you have anything? Where is your Hutami armor which I gave you on such-and-such day? Give it to her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دینا چاہا ۔ تو میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ، پھر میں کیا کروں ؟ پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی یاد آئی ‘ تو میں نے آپ کو شادی کا پیغام دے دیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے ؟ جو میں نے تمہیں فلاں موقع پر دی تھی ، انہوں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم وہ اسے دے دو ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو ( زرہ ) میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

7496

Majma al-Zawaid #7496

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: زَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ عَلَى بَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ حُطَمِيَّةٍ، وَكَانَ سَلَّحَنِيهَا. وَقَالَ: "" ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا تُحَلِّلُهَا بِهَا "". فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَيْهَا، وَاللَّهِ مَا ثَمَنُهَا كَذَا وَكَذَا وَأَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَمُجَاهِدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ married him to his daughter Fātimah رضي الله عنها for an iron Hutami body-armor which he himself had armed him with. He commanded him to send it to her to adorn herself with it, so he sent it to her. By Allah, its price was such-and-such plus four hundred dirhams: > **"Send it to her, that she may adorn herself with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میری شادی اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی ‘ جو لوہے کی بنی ہوئی حطمی زرہ کے عوض میں تھی ‘ وہ نبی اکرم نے ہی مجھے دی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ اس کو بھجوا دو ! تاکہ وہ اس کے عوض میں زیور بنا لے تو وہ میں نے اُن کی طرف بھجوا دی ‘ اللہ کی قسم ! اس کی قیمت اتنی ‘ اتنی اور چار سو درہم تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے مجاہد نامی راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔