Majma al-Zawaid #7457
«وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لَيْتَ عِنْدِي مَنْ يَرَاهَا وَمَنْ يُخْبِرُنِي عَنْهَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ يُدْعَى هِيتٌ: أَنَا أَنْعَتُهَا لَكَ إِذَا أَقْبَلَتْ قُلْتَ تَمْشِي عَلَى سِتٍّ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ قُلْتَ: تَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرَى هَذَا مُنْكَرًا أَرَاهُ يَعْرِفُ أَمْرَ النِّسَاءِ "". وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى سَوْدَةَ فَنَهَاهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَفَاهُ، وَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى أَمَرَهُ عُمَرُ فَجَهِدَ، وَكَانَ يُرَخِّصُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Saʿd ibn Abi Waqqās رضي الله عنه reported that while he was with the Messenger of Allah ﷺ in Makkah he proposed to a woman and wished for someone to see her and inform him about her. A man called Hit offered to describe her, saying that when she approached she walked upon six and when she turned away she walked upon four. The Prophet ﷺ disapproved of this knowledge of women. That man used to enter upon Sawdah رضي الله عنها until the Prophet ﷺ forbade him, then banished him upon arrival in Madinah. He remained so until ʿUmar رضي الله عنه, when he suffered hardship, permitted him to enter Madinah on Fridays to receive charity: > **"I see this as objectionable; I see that he knows the affairs of women."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مکہ میں ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے کہا : کاش کوئی اس عورت کو دیکھ کر مجھے اس عورت کے بارے میں بتا دے ‘ ایک شخص جس کا نام ’’ ہیت ‘‘ تھا ‘ اس نے کہا : میں اس کا حلیہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ‘ جب وہ آتی ہے ‘ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھ بل پڑتے ہیں اور جب وہ جاتی ہے ‘ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں وہ چار بل کے ساتھ چلتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس چیز کو منکر سمجھتا ہوں ‘ اور اس شخص کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ عورتوں کے معاملے سے واقف ہے ‘ وہ شخص پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جایا کرتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اس سے منع کر دیا کہ وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئندہ آئے ‘ جب وہ مدینہ منورہ آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جلا وطن کروا دیا ‘ اور اس کا معاملہ اسی طرح رہا ‘ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بھوک کا شکار ہوا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے یہ اجازت دی کہ وہ جمعہ کے دن مدینہ آیا کرے ‘ اور اسے صدقہ دے دیا جایا کرے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔