Majma al-Zawaid #7417
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا؟ قَالَ: هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا. فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا؟ فَقَالَ:، {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: 25]. فَلَمْ يَزَلِ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرَدِّدُهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
EnglishUnverified translation
Ibn Sirin said: Ibn Masud (may Allah be pleased with him) was asked about a man who commits fornication with a woman and then marries her. He said: They are both fornicators as long as they stay together. It was said to Ibn Masud: What if they repent and amend? He recited — And it is He who accepts repentance from His servants and pardons evil deeds and knows what you do [42:25] — and Ibn Masud kept repeating it until we thought he saw no harm in it after true repentance and amendment.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے ‘ تو پھر وہ اس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ‘ وہ زنا کرنے والے شمار ہوں گے ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ دونوں توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہی وہ ( معبود ) ہے ‘ جو اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے ‘ وہ یہ جانتا ہے کہ جو تم عمل کرتے ہو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل اس آیت کو دہراتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا ، کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ابن سیرین نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ‘ جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ‘ اس نے یہ روایت ’’ عنعنہ ‘‘ کے ساتھ نقل کی ہے ۔