Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 19 · Chapter 1

Book of Marriage

Hadith 7297–7336

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7297

Majma al-Zawaid #7297

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" وَلَا جَارِيَةٍ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ؟ "" قَالَ: وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ. قَالَ: "" أَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، لَوْ كُنْتَ مِنَ النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ، أَبِالشَّيَاطِينِ تَمْرُسُونَ؟ مَا لِلشَّيَاطِينِ سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ "". قَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ: مَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَمِائَةِ عَامٍ؛ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ "". قَالَ: زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported: A man called ʿAkkāf ibn Bishr al-Tamīmī came to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ said to him, "O ʿAkkāf, do you have a wife?" He said: No. He said, "Not even a concubine?" He said: No. He said, "And are you well-off with good means?" He said: I am well-off with good means. He said, "Then you are one of the brothers of the devils. Had you been among the Christians you would have been one of their monks. Our Sunnah is marriage. The worst among you are your unmarried ones, and the most despised of your dead are your unmarried ones. Do you wrestle with the devils? The devils have no weapon more effective against the righteous than women, except those who are married; they are the purified ones, declared free of indecency. Woe to you, O ʿAkkāf, for women were the companions of Ayyūb and Dāwūd and Yūsuf and Kursuf." Bishr ibn ʿAtiyyah said to him: Who is Kursuf, O Messenger of Allah? He said, "A man who worshipped Allah on a seashore for three hundred years, fasting by day and standing in prayer by night, then he disbelieved in Allah the Almighty on account of a woman he fell in love with, and he abandoned the worship of Allah Almighty he had been upon. Then Allah Almighty reached him through some of his former good and accepted his repentance. Woe to you, O ʿAkkāf, marry, otherwise you are among the wavering." He said: Marry me off, O Messenger of Allah. He said, "I have married you to Karīmah bint Kulthūm al-Himyarī." > **"Our Sunnah is marriage. The worst among you are your unmarried ones, and the most despised of your dead are your unmarried ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس کا نام عکاف بن بشر تمیمی تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کنیز بھی نہیں ہے ؟ اس نے عرض کی ! جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم بھلائی کے ساتھ خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھلائی کے ساتھ خوشحال ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایسی صورت میں تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ایک ہو ‘ اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے ‘ تو ان کے راہبوں میں سے ایک ہوتے ‘ ہماری سنت نکاح کرنا ہے اور تم میں سے برے لوگ کنوارے ہیں اور تم میں بری موت کنواروں کو آتی ہے ‘ کیا تم شیاطین کے راستے پر چلنا چاہتے ہو ؟ شیاطین کا کوئی ہتھیار ایسا نہیں ہے ‘ جو نیک لوگوں کے بارے میں ‘ عورتوں سے زیادہ تیز ہو ‘ البتہ شادی کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ لوگ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ‘ اے عکاف ! تمہارا سیتاناس ہو ‘ یہ ( خواتین ) حضرت ایوب علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام اور کرسف کی بیویاں رہی ہیں ( یا یہ حضرات بھی شادی شدہ تھے ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ’’ کرسف “ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ‘ وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا ، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عبادت کی تھی ‘ اسے چھوڑ دیا ‘ پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی ‘ اس نے توبہ کی ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو ‘ تم شادی کر لو ! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری شادی کروا دیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7298

Majma al-Zawaid #7298

وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: «جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَكَّافُ أَلَكَ زَوْجَةٌ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" وَلَا جَارِيَةٌ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ؟ "" قَالَ: نَعَمْ؛ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ. قَالَ: "" فَأَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رُهْبَانِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنَّا. فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحَ. شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ أَمْوَاتِكُمْ عُزَّابُكُمْ. أَبِالشَّيَاطِينِ يَمْرُسُونَ؟ مَا لَهُمْ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، فَإِنَّكَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ "". قَالَ: فَقَالَ عَكَّافٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُزَوِّجَنِي مَنْ شِئْتَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAtiyyah ibn Busr al-Māzinī رضي الله عنه reported: ʿAkkāf ibn Wadāʿah al-Hilālī came to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ said to him, "O ʿAkkāf, do you have a wife?" He said: No. He said, "Not even a concubine?" He said: No. He said, "And are you healthy and well-off?" He said: Yes, and praise be to Allah. He said, "Then you are one of the brothers of the devils. Either you are among the monks of the Christians and thus one of them, or you are of us, so do as we do, for marriage is part of our Sunnah. The worst among you are your unmarried ones, and the most despised of your dead are your unmarried ones. Do they wrestle with the devils? They have no weapon against the righteous more effective than men and women, except those who are married; they are the purified ones, declared free of indecency." Then he mentioned the hadith similar to the hadith of Abū Dharr, except that he said, "Woe to you, O ʿAkkāf, marry, for you are among the wavering." ʿAkkāf said: O Messenger of Allah, I shall not marry until you marry me to whomever you wish. The Messenger of Allah ﷺ said, "Then I have married you, in the name of Allah and His blessing, to Karīmah bint Kulthūm al-Himyarī." > **"Do as we do, for marriage is part of our Sunnah. The worst among you are your unmarried ones, and the most despised of your dead are your unmarried ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عطیہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عکاف ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کنیز بھی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم تندرست اور خوشحال ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ہو ‘ یا تو تم عیسائیوں کے راہبوں میں ہوتے ‘ تو ان میں سے ایک ہوتے ‘ اگر تم ہم میں سے ہو گے ؟ تو تم وہ کرو ‘ جس طرح ہم کرتے ہیں اور ہماری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے ، تمہارے برے لوگ کنوارے ہیں ‘ اور بری موت کا شکار ہونے والے کنوارے ہیں کیا وہ شیطان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں ؟ میرے خیال میں شیاطین کا کوئی بھی ہتھیار ‘ نیک لوگوں کے بارے اس سے زیادہ تیز نہیں ہے ‘ جو مردوں اور عورتوں کا تعلق ہوتا ہے ‘ البتہ شادی کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ پاک اور خیانت ( یا فحاشی ) سے بری ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو حضرت ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عکاف ! تمہارا ستیاناس ہو تم شادی کر لو ! کیونکہ تم درمیان کے لوگوں میں سے ہو ( یا تذبذب کا شکار لوگوں میں سے ہو ) راوی کہتے ہیں : حضرت عکاف رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گا ‘ جب تک آپ جس سے چاہیں ‘ میری شادی نہیں کروا دیتے ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر میں اللہ کا نام لے کر اور اس کی برکت کے ساتھ ‘ تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7299

Majma al-Zawaid #7299

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَقِيتُ اللَّهَ بِزَوْجَةٍ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: Had only a single day remained of my life, I would meet Allah with a wife. I heard the Messenger of Allah ﷺ say, "The worst among you are your unmarried ones." > **"The worst among you are your unmarried ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر میری زندگی کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو ‘ تو میں ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا کہ میری بیوی موجود ہو ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمہارے برے لوگ ‘ تمہارے کنوارے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔

7300

Majma al-Zawaid #7300

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا عَشْرُ لَيَالٍ لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يُفَارِقَنِي فِيهِنَّ امْرَأَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: Had I known that only ten nights remained of my life, I would have loved that a wife not be separated from me during them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ میری زندگی کے صرف دس دن باقی رہ گئے ہیں ، تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ ان کے دوران میری بیوی مجھ سے جدا نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7301

Majma al-Zawaid #7301

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ. وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا نَتَزَوَّجُ. وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَقُلْنَ مِثْلَ ذَلِكَ. وَرَاكِبُ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ. فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ. وَقَالَ: "" الْبَائِتُ وَحْدَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ cursed effeminate men who imitate women, and masculine women who imitate men, and celibate men who say, "We shall not marry," and celibate women who say the same, and the lone rider in the desert. This weighed heavily upon the Companions of the Messenger of Allah ﷺ until it became evident in their faces, and he said, "The one who sleeps alone," meaning the one who travels alone through the desert at night. > **"The one who sleeps alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نسوانیت ظاہر کرنے والے مردوں ، جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں ‘ اور مردانگی کا اظہار کرنے والی عورتوں ، جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں ‘ اور مردوں میں سے کنوارے رہنے والے لوگوں ‘ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کریں گے ‘ اور خواتین میں سے اکیلی رہنے والی عورتوں ‘ جو اس کی مانند بات کہتی ہیں اور ویرانے میں تنہا سوار ( ان سب پر ) لعنت کی ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات صحابہ کرام پر گراں گزری ‘ اور یہ چیز ان کے چہروں سے ظاہر ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے ) کہ جو تنہا رات گزارتا ہے ( یعنی ویرانے میں رات کے وقت تنہا سفر کرتا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ عقیلی نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7302

Majma al-Zawaid #7302

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَرْبَعَةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَأَمَّنَتْ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ: الَّذِي يُحْصِنُ نَفْسَهُ عَنِ النِّسَاءِ وَلَا يَتَزَوَّجُ، وَلَا يَتَسَرَّى لِأَنْ لَا يُولَدَ لَهُ [وَلَدٌ]، وَالرَّجُلُ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ وَقَدْ خَلَقَهُ اللَّهُ ذَكَرًا، وَالْمَرْأَةُ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ وَقَدْ خَلَقَهَا اللَّهُ أُنْثَى، وَمُضَلِّلُ الْمَسَاكِينِ» "". قَالَ خَالِدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ: - يَعْنِي يَهْزَأُ بِهِمْ - يَقُولُ لِلْمِسْكِينِ: هَلُمَّ أَعْطِكَ فَإِذَا جَاءَهُ [الرَّجُلُ] قَالَ: لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ. وَيَقُولُ لِلْمَكْفُوفِ: اتَّقِ الْبِئْرَ اتَّقِ الدَّابَّةَ، وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ. وَالرَّجُلُ يَسْأَلُ عَنْ دَارِ الْقَوْمِ فَيُرْشِدُهُ إِلَى غَيْرِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعكيِّ (*)، عَنْ خَالِدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ, who said: "Four Allah cursed above His Throne, and the angels said Amen over them: the one who fortifies himself against women and neither marries nor takes a concubine, lest a child be born to him; the man who imitates women though Allah created him male; the woman who imitates men though Allah created her female; and the one who misleads the poor." Khālid ibn al-Zibriqān explained that this means mocking them, such as saying to the poor man, "Come, let me give you something," and when the man comes to him he says, "I have nothing with me"; or saying to the blind man, "Beware of the well, beware of the beast," though there is nothing before him; or a man asking about the dwelling of a people and being directed to other than it. > **"Four Allah cursed above His Throne, and the angels said Amen over them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار لوگ ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے عرش کے اوپر سے لعنت کی ہے اور فرشتوں نے اس پر آمین کہا ہے ‘ وہ شخص جو خواتین کے حوالے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ‘ اور شادی نہ کرے اور کوئی کنیز نہ رکھے کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو جائے ‘ اور وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرد بنایا ہے اور وہ عورت جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے عورت بنایا ہے اور مسکینوں کو گمراہ کرنے والا شخص ‘‘۔ خالد بن زبرقان بیان کرتے ہیں : اس سے مراد ان کا مذاق اڑانے والا شخص ہے ‘ جیسے وہ کسی غریب سے یہ کہے کہ تم آؤ ! تاکہ میں تمہیں کچھ دوں ‘ جب دوسرا شخص اس کے پاس آئے تو وہ شخص کہے : میرے پاس کچھ نہیں ہے ‘ یا نابینا سے یہ کہے کہ تم کنویں سے بچ کے رہو ! تم جانور سے بچ جاؤ ! حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو ‘ یا کوئی شخص کسی علاقے کا پتہ دریافت کرے ‘ تو وہ اس کی رہنمائی دوسرے راستے کی طرف کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے حماد بن عبدالرحمن عکی کے حوالے سے خالد بن زبرقان سے نقل کی ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

7303

Majma al-Zawaid #7303

وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ كَانَ مُوسِرًا لِأَنْ يَنْكِحَ، ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ حَسَنٌ؛ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Najīh reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever is well-off enough to marry and then does not marry is not of me." > **"Whoever is well-off enough to marry and then does not marry is not of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابونجیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص نکاح کرنے جتنا خوشحال ہو اور پھر وہ نکاح نہ کرے ‘ تو اس کا مجھ سے تعلق نہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ’’ مرسل ‘‘ ہے اور حسن ہے ‘ جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے ۔

7304

Majma al-Zawaid #7304

«وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ شَبَابٍ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الطَّوْلَ فَلْيَنْكِحْ أَوْ فَلْيَتَزَوَّجْ وَإِلَّا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ came out to some young men of Quraysh and said: "O assembly of youths, whoever among you has the means, let him marry, and otherwise fasting is upon him, for it is a restraint for him." > **"O assembly of youths, whoever among you has the means, let him marry, and otherwise fasting is upon him, for it is a restraint for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے فرمایا : اے نوجوانوں کے گروہ ! تم میں سے جو شخص یہ قدرت رکھتا ہو ‘ اسے نکاح کر لینا چاہیے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اسے شادی کر لینی چاہیے ‘ ورنہ اس پر روزہ رکھنا لازم ہے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

7305

Majma al-Zawaid #7305

«وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَحَبَّ فِطْرَتِي فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِي وَمِنْ سُنَّتِي النِّكَاحُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِنْ كَانَ عُبَيْدُ بْنُ سَعْدٍ صَحَابِيٌّ وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd ibn Saʿd conveyed from the Prophet ﷺ, who said: "Whoever loves my nature, let him follow my Sunnah, and marriage is part of my Sunnah." > **"Whoever loves my nature, let him follow my Sunnah, and marriage is part of my Sunnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان تک نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان پہنچا ہے : آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میری فطرت سے محبت رکھتا ہے ‘ اُسے میری سنت کی پیروی کرنی چاہیے اور میری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ حضرت عبید بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ، لیکن یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

7306

Majma al-Zawaid #7306

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: -، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ said, "O assembly of youths, whoever among you has means, let him marry, and whoever does not, fasting is upon him." The narrator thought he added, "For it is a restraint for him." > **"O assembly of youths, whoever among you has means, let him marry, and whoever does not, fasting is upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے نوجوانوں کے گروہ ! تم میں سے جو شخص صاحب حیثیت ہو ‘ اسے شادی کر لینی چاہیے اور جو نہ ہو ‘ تو اس پر روزے رکھنا لازم ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ’’ یہ چیز ( یعنی روزے رکھنا ) اس کی شہوت کو ختم کر دے گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

7307

Majma al-Zawaid #7307

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ: "" تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ used to command marriage and would forbid celibacy with severe prohibition, and he would say, "Marry the loving and fertile, for I shall boast of your numbers before the Prophets on the Day of Resurrection." > **"Marry the loving and fertile, for I shall boast of your numbers before the Prophets on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ شادی کرنے کا حکم دیتے تھے اور کنوارے رہنے سے منع کرتے تھے ‘ اور اس بارے میں سختی کرتے تھے ‘ آپ ارشاد فرماتے تھے : ’’ تم محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ شادی کرو ! کیونکہ قیامت کے دن میں دیگر انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کا اظہار کروں گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حفص بن عمر کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ‘ ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7308

Majma al-Zawaid #7308

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الِاخْتِصَاءِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَنَا بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْحَنِيفِيَّةَ السَّمْحَةَ وَالتَّكْبِيرَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنَّا فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-ʿĀs رضي الله عنه reported that ʿUthmān ibn Mazʿūn رضي الله عنه said: O Messenger of Allah, permit me to be castrated. The Messenger of Allah ﷺ said to him, "Allah has replaced monasticism for us with the tolerant straight religion and the proclamation of Allah is Most Great upon every elevation. If you are of us, then do as we do." > **"Allah has replaced monasticism for us with the tolerant straight religion and the proclamation of Allah is Most Great upon every elevation. If you are of us, then do as we do."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے خصی ہو جانے کی اجازت دیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کی جگہ ہمیں نرم اور سیدھا دین عطا کیا ہے ‘ اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تکبیر ( کہنے کا حکم عطا کیا ہے ) اگر تم ہم میں سے ہو ‘ تو وہ کرو جو ہم کرتے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7309

Majma al-Zawaid #7309

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ تَزَوَّجَ، فَقَدْ أُعْطِيَ نِصْفَ الْعِبَادَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: "Whoever marries has been given half of worship." > **"Whoever marries has been given half of worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص شادی کر لے ‘ اُسے نصف عبادت عطا کر دی گئی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم عمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7310

Majma al-Zawaid #7310

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ تَزَوُّجَ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْإِيمَانِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِمَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: "Whoever marries has completed half of faith, so let him fear Allah in the remaining half." > **"Whoever marries has completed half of faith, so let him fear Allah in the remaining half."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص شادی کر لے ‘ وہ نصف ایمان مکمل کر لیتا ہے ‘ تو باقی نصف کے بارے میں ‘ اُسے اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی یزید رقاشی اور ایک راوی جعفر جعفی ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ‘ ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

7311

Majma al-Zawaid #7311

وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ مِسْكِينٌ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ امْرَأَةٌ - وَإِنْ كَانَ كَثِيرَ الْمَالِ - مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ مِسْكِينَةٌ امْرَأَةٌ لَيْسَ لَهَا زَوْجٌ - وَإِنْ كَانَتْ كَثِيرَةَ الْمَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا إِنَّ أَبَا نَجِيحٍ لَا صُحْبَةَ لَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Najīh reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Poor, poor, poor is a man who has no wife, even if he has abundant wealth. Poor, poor, poor is a woman who has no husband, even if she has abundant wealth." > **"Poor, poor, poor is a man who has no wife, even if he has abundant wealth. Poor, poor, poor is a woman who has no husband, even if she has abundant wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونجیح روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسکین ، مسکین ، مسکین وہ شخص ہے ‘ جس کی بیوی نہ ہو ‘ اگرچہ اس کے پاس بہت سا مال ہو ‘ اور مسکنیہ ‘ مسکینہ ‘ مسکینہ وہ عورت ہے ‘ جس کا شوہر نہ ہو ‘ اگرچہ اس کا مال بہت ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ابونجیح کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔

7312

Majma al-Zawaid #7312

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ لَا تَزْنُوا احْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ» ".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "O youths of Quraysh, do not commit adultery. Guard your private parts. Know that whoever guards his private part shall have Paradise." > **"O youths of Quraysh, do not commit adultery. Guard your private parts. Know that whoever guards his private part shall have Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اے قریش کے نوجوانو ! تم زنا نہ کرو اور تم اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ‘ خبردار ! جو شخص اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ‘ اسے جنت نصیب ہو گی ‘‘۔

7313

Majma al-Zawaid #7313

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration: "Know that whoever guards his private part shall enter Paradise." > **"Know that whoever guards his private part shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ خبردار ! جو شخص اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7314

Majma al-Zawaid #7314

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَزَوَّجُوا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Marry, for I shall boast of your numbers before the nations." > **"Marry, for I shall boast of your numbers before the nations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ شادی کرو ! کیونکہ میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کا اظہار کروں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7315

Majma al-Zawaid #7315

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ لَا تَزْنُوا، مَنْ سَلِمَ لَهُ شَبَابُهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Talhah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "O youths of Quraysh, do not commit adultery. Whoever keeps his youth sound shall have Paradise." > **"O youths of Quraysh, do not commit adultery. Whoever keeps his youth sound shall have Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے قریش کے نوجوانو ! تم زنا ‘ نہ کرو ‘ جس شخص کی جوانی سلامت رہے گی ‘ اُسے جنت نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7316

Majma al-Zawaid #7316

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيَّمَا شَابٍّ تَزَوَّجَ فِي حَدَاثَةِ سِنِّهِ عَجَّ شَيْطَانُهُ: يَا وَيْلَهْ يَا وَيْلَهْ عَصَمَ مِنِّي دِينَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any youth who marries in his early years, his devil cries out: Woe to him, woe to him, he has protected his religion from me." > **"Any youth who marries in his early years, his devil cries out: Woe to him, woe to him, he has protected his religion from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو نوجوان کم عمری میں شادی کر لیتا ہے ‘ تو اُس کا شیطان چیخ کر یہ کہتا ہے : ہائے بربادی ‘ ہائے بربادی ‘ اس نے اپنے دین کو مجھ سے محفوظ کر لیا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7317

Majma al-Zawaid #7317

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَصَبْنَا مِنْ دُنْيَاكُمْ إِلَّا نِسَاءَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "We have taken of your world nothing but your women." > **"We have taken of your world nothing but your women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہم نے تمہاری دنیا میں سے ‘ صرف خواتین کو حاصل کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7318

Majma al-Zawaid #7318

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَالْحِلْمُ وَالْحِجَامَةُ وَالتَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: وَاهٍ. وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَغَيْرَهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ الْخَطَمَيِّ فِي الْحِجَامَةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Five are of the practices of the Messengers: modesty, forbearance, cupping, perfume, and marriage." > **"Five are of the practices of the Messengers: modesty, forbearance, cupping, perfume, and marriage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ پانچ چیزیں ’’ مرسلین ‘‘ کی سنت ہیں ‘ حیاء ‘ بردباری ، پچھنے لگوانا ‘ عطر لگانا اور نکاح کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ واہی ہے ۔ انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ‘ اور ایک اور حدیث نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر یزید خطمی کی نقل کردہ حدیث آئے گی ‘ جو پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے ۔

7319

Majma al-Zawaid #7319

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي الْخِصَاءِ. قَالَ: "" صُمْ وَاسْأَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh رضي الله عنهما reported: A youth came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, permit me to be castrated. He said, "Fast, and ask Allah of His bounty." > **"Fast, and ask Allah of His bounty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے ! آپ نے فرمایا : تم روزہ رکھو ! اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ایک شخص کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7320

Majma al-Zawaid #7320

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَخْتَصِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ». "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, permit me to be castrated. The Messenger of Allah ﷺ said, "The castration of my nation is fasting and standing in prayer." > **"The castration of my nation is fasting and standing in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں خصی ہو جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت کا خصی ہونا ‘ روزہ رکھنا اور نوافل ادا کرنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

7321

Majma al-Zawaid #7321

«وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ تَشُقُّ عَلَيَّ هَذِهِ الْعُزْبَةُ فِي الْمَغَازِي فَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَأَخْتَصِي؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنْ عَلَيْكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهَا مَخْفَرَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Mazʿūn رضي الله عنه said: O Messenger of Allah, I am a man for whom remaining unmarried during military expeditions is hard, so will you permit me to be castrated? He said, "No. Rather, fasting is upon you, O Ibn Mazʿūn, for it curbs desire." > **"No. Rather, fasting is upon you, O Ibn Mazʿūn, for it curbs desire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ جنگوں کے دوران اکیلا رہنا مجھ پر گراں گزرتا ہے ‘ تو آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اے ابن مظعون ! تم پر روزے رکھنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ شہوت کو ختم کر دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7322

Majma al-Zawaid #7322

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَكَا رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُزُوبَةَ فَقَالَ: أَلَا أَخْتَصِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى وَاخْتَصَى، وَلَكِنْ صُمْ وَوَفِّرْ شَعْرَ جَسَدِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported: A man complained to the Messenger of Allah ﷺ of being unmarried and said: Shall I not be castrated? The Prophet ﷺ said to him, "He is not of us who castrates or seeks castration. Rather fast, and leave the hair of your body." > **"He is not of us who castrates or seeks castration. Rather fast, and leave the hair of your body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے اکیلے ہونے کی شکایت کی اور عرض کی : کیا میں خصی نہ ہو جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ، جو خصی کرے یا خصی ہو جائے ‘ بلکہ تم روزہ رکھو اور اپنے جسم کے بال بڑھا لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ہلال ہے اور وہ متروک ہے ۔

7323

Majma al-Zawaid #7323

«وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى الرَّجُلَ أَنْ يَتَبَتَّلَ، وَأَنْ يُحْرَمَ وُلُوجَ بُيُوتِ الْمُؤْمِنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي نَقَلْتُ مِنْهَا، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ used to forbid a man from remaining celibate and from deeming it unlawful to enter the houses of the believers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی مجردر ہے ‘ اور اہل ایمان کے گھروں میں داخل ہونے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ میں نے اپنے اس نسخے میں اس روایت کو اسی طرح پایا ہے ‘ جس طرح میں نے اسے نقل کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔

7324

Majma al-Zawaid #7324

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِعِزِّهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا ذُلًّا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِمَالِهَا لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا فَقْرًا، وَمِنْ تَزَوَّجَهَا لِحُسْنِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا دَنَاءَةً، وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَمْ يَتَزَوَّجَهَا إِلَّا لِيَغُضَّ بَصَرَهُ أَوْ لِيُحْصِنَ فَرْجَهُ أَوْ لِيَصِلَ رَحِمَهُ؛ بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهَا وَبَارَكَ لَهَا فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ بْنِ حَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported: I heard the Prophet ﷺ say, "Whoever marries a woman for her honor, Allah will increase him only in disgrace. Whoever marries her for her wealth, Allah will increase him only in poverty. Whoever marries her for her beauty, Allah will increase him only in lowliness. And whoever marries a woman marrying her only to lower his gaze, or to guard his private part, or to uphold kinship, Allah will bless him through her and bless her through him." > **"Whoever marries a woman for her honor, Allah will increase him only in disgrace. Whoever marries her for her wealth, Allah will increase him only in poverty. Whoever marries her for her beauty, Allah will increase him only in lowliness. And whoever marries a woman marrying her only to lower his gaze, or to guard his private part, or to uphold kinship, Allah will bless him through her and bless her through him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی عورت کے عزت دار ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ شادی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کی ذلت میں اضافہ کرے گا ‘ جو شخص عورت کے مال کی وجہ سے ‘ اس کے ساتھ شادی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کی غربت میں اضافہ کرے گا ، جو شخص عورت کے حسن کی وجہ سے ‘ اس کے ساتھ شادی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو بے حیثیت کرے گا ‘ اور جو شخص عورت کے ساتھ شادی کرے اور اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ وہ اپنی نگاہ کو جھکا کے رکھے ‘ یا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے ‘ یا صلہ رحمی کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو عورت میں اور اس عورت کو اس شخص میں برکت نصیب کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عبدالقدوس بن حبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7325

Majma al-Zawaid #7325

«عَنْ جَابِرٍ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ؟ "" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَبِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟ "" قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا. قَالَ: "" أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ. قَالَ: "" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لِدِينِهَا وَمَالِهَا وَجِمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: "" «تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِثَلَاثٍ». "". إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported: I married a woman in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ. He said, "O Jābir, have you married?" I said: Yes. He said, "A virgin or a previously married woman?" I said: A previously married woman. He said, "Why not a virgin, whom you would play with and who would play with you?" I said: O Messenger of Allah, I have sisters, and I feared she would come between me and them. He said, "A woman is married for her religion, her wealth, and her beauty, so hold to the one with religion, may your hands be dusty." > **"A woman is married for her religion, her wealth, and her beauty, so hold to the one with religion, may your hands be dusty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جابر ! کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کنواری کے ساتھ کہ ثیبہ کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی : شیبہ کے ساتھ ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کنواری کے ساتھ کیوں نہ کی ؟ کہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بہنیں ہیں ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ میرے اور میری بہنوں کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ عورت کے ساتھ اس کے دین ‘ یا اس کے مال ‘ یا اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ‘ تو تم پر دین دار کو اختیار کرنا لازم ہے ‘ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ عورت کے ساتھ تین باتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7326

Majma al-Zawaid #7326

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ لِجِمَالِهَا وَمَالِهَا وَخُلُقِهَا وَدِينِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "A woman is married for one of these qualities: her beauty, her wealth, her character, and her religion. So hold to the one with religion and character, may your right hand be dusty." > **"A woman is married for one of these qualities: her beauty, her wealth, her character, and her religion. So hold to the one with religion and character, may your right hand be dusty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت کے ساتھ ان میں سے کسی ایک وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ‘ اس کی خوبصورتی ‘ یا اس کا مال ‘ یا اس کے اخلاق ‘ یا اس کا دین ‘ تو تم پر دین دار اور اچھے اخلاق والی عورت کو اختیار کرنا لازم ہے ، تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7327

Majma al-Zawaid #7327

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عُودُوا الْمَرِيضَ وَاتَّبِعُوا الْجِنَازَةَ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَأْتُوا الْعُرْسَ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنْكِحُوا الْمَرْأَةَ مِنْ أَجْلِ حُسْنِهَا فَعَلَّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بِخَيْرٍ، وَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَنْكِحُوا الْمَرْأَةَ لِكَثْرَةِ مَالِهَا وَعَلَّ مَالَهَا أَنْ لَا يَأْتِيَ بِخَيْرٍ، وَلَكِنْ بِذَاتِ الدِّينِ وَالْأَمَانَةِ فَاتَّبِعُوهُنَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Visit the sick and follow the funeral procession. There is no harm upon you if you do not attend the wedding feast. There is no harm upon you if you do not marry a woman for her beauty, for perhaps she brings no good. There is no harm upon you if you do not marry a woman for her abundant wealth, for perhaps her wealth brings no good. Rather seek those with religion and trustworthiness." > **"Visit the sick and follow the funeral procession. There is no harm upon you if you do not attend the wedding feast. There is no harm upon you if you do not marry a woman for her beauty, for perhaps she brings no good. There is no harm upon you if you do not marry a woman for her abundant wealth, for perhaps her wealth brings no good. Rather seek those with religion and trustworthiness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیمار کی عیادت کرو جنازے کے ساتھ جاؤ اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم شادی میں شریک نہ ہو ‘ اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم عورت کی خوبصورتی کی وجہ سے اس سے نکاح نہ کرو ‘ کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی بھلائی لے کے نہ آئے ‘ اور تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تم کسی عورت کے مال کی کثرت کی وجہ سے اس کے ساتھ نکاح نہ کرو ‘ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا مال بھلائی لے کے نہ آئے ‘ بلکہ دین دار اور امانت والی عورتیں تلاش کرو ( یا اُن کو ترجیح دو ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے ۔

7328

Majma al-Zawaid #7328

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلْمَرْأَةِ؟ "" فَسَكَتُوا فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ: أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ؟ قَالَتْ: لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهَا فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that he was with the Messenger of Allah ﷺ when he said, "What is best for a woman?" They fell silent. When I returned I said to Fātimah رضي الله عنها: What is best for women? She said: That men do not see them. I mentioned that to the Prophet ﷺ, and he said, "She is Fātimah, a part of me." > **"She is Fātimah, a part of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ آپ نے دریافت کیا : عورت کے لئے کون سی چیز زیادہ بہتر ہے ؟ لوگ خاموش رہے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں گھر گیا ، تو میں نے فاطمہ سے دریافت کیا : خواتین کے لئے کون سی چیز بہتر ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : یہ کہ مرد انہیں نہ دیکھیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ فاطمہ ‘ میری جان کا ٹکڑا ہے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی علی بن زید بھی ہے ۔

7329

Majma al-Zawaid #7329

عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ امْرَأَةَ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي شَرَطْتُ لِزَوْجِي: أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ بَعْدَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Mubashshir رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ proposed to the widow of al-Barāʾ ibn Maʿrūr. She said: I had stipulated to my husband that I would not marry after him. The Prophet ﷺ said, "That is not proper." > **"That is not proper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی بیوہ کو شادی کا پیغام بھیجا ، تو اس خاتون نے کہا : میں نے اپنے شوہر کے ساتھ یہ شرط طے کی تھی کہ میں ان کے بعد شادی نہیں کروں گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ درست نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7330

Majma al-Zawaid #7330

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ يَأْتِينَكُمْ بِالْأَمْوَالِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا سَلْمِ بْنِ جُنَادَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Marry women, for they will bring you wealth." > **"Marry women, for they will bring you wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خواتین کے ساتھ شادی کرو ! وہ تمہارے پاس اموال لے کر آئیں گی ‘‘ ( یعنی ان کی قسمت کا رزق بھی تمہیں نصیب ہو گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف سلم بن جنادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

7331

Majma al-Zawaid #7331

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «"" إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said: "Part of the blessing of a woman is the ease of her proposal, the ease of her dowry, and the ease of her womb," meaning her fitness to bear children. > **"Part of the blessing of a woman is the ease of her proposal, the ease of her dowry, and the ease of her womb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ عورت کی برکت میں یہ بات شامل ہے کہ اُسے پیغام دینا آسان ہو اس کا مہر دینا آسان ہو اور اس کا رحم آسان ہو ‘‘ ( یعنی وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید بن اسلم ہے ‘ وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7332

Majma al-Zawaid #7332

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ مُؤْنَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ سَخْبَرَةَ يُقَالُ: اسْمُهُ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "The greatest of women in blessing are the easiest of them in provision," meaning in dowry and upkeep. > **"The greatest of women in blessing are the easiest of them in provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ سب سے زیادہ برکت والی خواتین وہ ہیں ‘ جن کی مؤنت ( یعنی مہر وغیرہ کا خرچ ) آسان ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن سخبرہ ہے ‘ ایک قول کے مطابق اس کا نام عیسیٰ بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

7333

Majma al-Zawaid #7333

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي بِشَيْءٍ. قَالَ: "" مَا عِنْدِي شَيْءٌ، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ الْغَدُ فَأْتِنِي بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ» "". قَالَ وَذُكِرَ الْحَدِيثُ فِي النَّوَادِرِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حَلْبَسُ بْنُ غَالِبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have married off my daughter, and I would love for you to help me with something. He said, "I have nothing with me now, but tomorrow bring me a wide-mouthed flask and a stick of wood." The hadith continues among the rare reports. > **"I have nothing with me now, but tomorrow bring me a wide-mouthed flask and a stick of wood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیٹی کی شادی کرنے لگا ہوں ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کسی چیز کے حوالے سے میری مدد کریں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس وقت تو میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ‘ تم کل میرے پاس ایک شیشی لے کر آنا جس کا منہ کھلا ہو اور درخت کی لکڑی لے کے آنا ‘‘ اس کے بعد ’’ نوادر ‘‘ میں حدیث ذکر کی گئی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حلبس بن غالب ہے اور وہ متروک ہے ۔

7334

Majma al-Zawaid #7334

«وَعَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟ "". قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَمَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ. فَأَعْرَضَ عَنِّي [فَخَدَمْتُهُ مَا خَدَمْتُهُ]، ثُمَّ قَالَ لِي الثَّانِيَةَ: "" يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟ "". فَقُلْتُ: مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ. فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْلَمُ مِنِّي بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ لِي أَتَزَوَّجُ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ. فَقَالَ لِي: "" يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ؟ "". فَقُلْتُ: بَلَى مُرْنِي بِمَا شِئْتَ. قَالَ: "" انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ - حَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ فِيهِمْ تَرَاخٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةً "" - لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ - فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةً. فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِحَاجَتِهِ. فَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي الْبَيِّنَةَ، وَلَيْسَ عِنْدِي صَدَاقٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ "" قَالَ: فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ [بِهِ] النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لَهُمْ: هَذَا صَدَاقُهَا "". فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: هَذَا صَدَاقُهَا. فَقَبِلُوهُ وَرَضُوهُ وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِينًا فَقَالَ: "" يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ حَزِينٌ؟ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَكْرَمَ مِنْهُمْ وَرَضُوا بِمَا آتَيْتُهُمْ وَأَحَسَنُوا وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ. فَقَالَ: "" يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ شَاةً "" قَالَ: فَجَمَعُوا لِي كَبْشًا عَظِيمًا سَمِينًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا فَلْتَبْعَثْ بِالْمِكْتَلِ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ "" قَالَ: فَأَتَيْتُهَا، فَقُلْتُ لَهَا مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: هَذَا الْمِكْتَلُ فِيهِ سَبْعُ آصُعِ شَعِيرٍ لَا وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ خُذْهُ. قَالَ: فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ: "" اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لَهُمْ: لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا [فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ، وَذَهَبْتُ بِالْكَبْشِ، وَمَعِي أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ، فَقَالَ: لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا]، وَهَذَا طَبِيخًا فَقَالُوا: أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَكْفِيكُمُوهُ وَأَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَا أَنْتُمْ. فَأَخَذْنَا الْكَبْشَ أَنَا، وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاهُ وَسَلَخْنَاهُ وَطَبَخْنَاهُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي بَعْدَ ذَلِكَ أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقُلْتُ أَنَا: هِيَ فِي حَدِّي. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هِيَ فِي حَدِّي. وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلِيَّ مِثْلَهَا حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا. قُلْتُ: لَا أَفْعَلُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ. قَالَ: وَرَفَضَ الْأَرْضَ، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا [لِي]: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ؟ فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذَا ثَانِي اثْنَيْنِ هَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبُ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَغْضَبُ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِهِمَا فَتَهْلِكُ رَبِيعَةُ. قَالَ: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ارْجِعُوا. فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَقَالَ لِي: "" يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا. قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهْتُهَا. قَالَ لِي: قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا، فَأَبَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَجَلْ لَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قُلْ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ [فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ] "". قَالَ الْحَسَنُ: فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ يَبْكِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Rabīʿah al-Aslamī رضي الله عنه reported: I used to serve the Prophet ﷺ, and he said to me, "O Rabīʿah, will you not marry?" I said: No, by Allah, O Messenger of Allah, I do not wish to marry, and I have nothing with which to maintain a wife, and I do not wish anything to distract me from you. He turned away from me, and I served him as I served him. Then he said to me a second time, "O Rabīʿah, will you not marry?" I said: I do not wish to marry; I have nothing with which to maintain a wife, and I do not wish anything to distract me from you. He turned away from me. Then I returned to myself and said: By Allah, the Messenger of Allah ﷺ knows better than I what benefits me in this world and the Hereafter. By Allah, if he says to me, "Will you marry," I shall surely say, "Yes, O Messenger of Allah, command me as you wish." Then he said to me, "O Rabīʿah, will you not marry?" I said: Yes indeed, command me as you wish. He said, "Go to the household of so-and-so," a clan of the Ansār among whom there had been some distance from the Messenger of Allah ﷺ, "and say to them: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to you, commanding you to marry me to so-and-so," naming a woman among them. So I went to them and said to them: The Messenger of Allah ﷺ has sent me to you, commanding you to marry me to so-and-so. They said: Welcome to the Messenger of Allah and to the messenger of the Messenger of Allah ﷺ. By Allah, the messenger of the Messenger of Allah ﷺ shall not return except with his need fulfilled. So they married me to her, treated me kindly, and did not ask me for proof, though I had no dowry with me. Then the Messenger of Allah ﷺ said, "O Buraydah al-Aslamī, gather for him the weight of a date-pit in gold." So they gathered for me the weight of a date-pit in gold. I took what they had gathered for me and brought it to the Prophet ﷺ. He said, "Take this to them and say to them: This is her dowry." So I went to them and said: This is her dowry. They accepted it, were pleased with it, and said: Much and good. Then I returned to the Messenger of Allah ﷺ grieving, and he said, "O Rabīʿah, why are you grieving?" I said: O Messenger of Allah, I have never seen people more generous than them. They were pleased with what I brought them, treated me well, and said, "Much and good," yet I have nothing with which to hold a wedding feast. He said, "O Buraydah, gather for him a sheep." So they gathered for me a great fat ram. Then the Messenger of Allah ﷺ said to me, "Go to ʿĀʾishah and tell her to send the basket in which there is food." So I went to her and told her what the Messenger of Allah ﷺ had commanded me, and she said: This is the basket; in it are seven measures of barley. By Allah, we have no food besides it this morning. Take it. So I took it and brought it to the Prophet ﷺ and informed him of what ʿĀʾishah had said. He said, "Take this to them and say to them: Let this become bread with you by morning, and this meat stew." They said: As for the bread, we shall suffice you of it, but as for the ram, you suffice us of it. So I and some men of Aslam took the ram, slaughtered it, skinned it, and cooked it, and by morning we had bread and meat. I held a wedding feast and invited the Prophet ﷺ. Then he said: The Messenger of Allah ﷺ later gave me land and gave Abū Bakr land, and worldly means came to us. We differed over a cluster of dates on a palm tree. I said: It is within my boundary. Abū Bakr said: It is within my boundary. There were words between me and Abū Bakr, and Abū Bakr said to me a word I disliked, and he regretted it. He said to me: O Rabīʿah, say back to me the like of it, so that there may be retaliation. I said: I shall not do it. Abū Bakr said: You shall surely say it, or I shall complain of you to the Messenger of Allah ﷺ. I said: I shall not do it. He left the land and Abū Bakr set out to the Prophet ﷺ, and I set out following him. Some men of Aslam came and said to me: May Allah have mercy on Abū Bakr, for what does he seek the Messenger of Allah ﷺ against, when he is the one who said to you what he said? I said: Do you know who this is? This is Abū Bakr al-Siddīq. This is the second of two. This is the elder of the Muslims. Beware, lest he turn and see you aiding me against him, and he becomes angry, and comes to the Messenger of Allah ﷺ, who becomes angry for his anger, and Allah Almighty becomes angry for the anger of them both, and Rabīʿah perishes. He said: What do you command us? He said: Go back. So Abū Bakr, may Allah have mercy on him, set out to the Messenger of Allah ﷺ, and I followed him alone until he came to the Prophet ﷺ, and he narrated the account as it had been. He raised his head to me and said to me, "O Rabīʿah, what is between you and al-Siddīq?" I said: O Messenger of Allah, it was such-and-such. He said to me a word I disliked. He said to me: Say as I said, so that there may be retaliation, but I refused. The Messenger of Allah ﷺ said, "Yes, do not answer him back. Rather say: May Allah forgive you, O Abū Bakr." So I said: May Allah forgive you, O Abū Bakr. Al-Hasan said: Then Abū Bakr, may Allah have mercy on him, turned away weeping. > **"O Rabīʿah, will you not marry? Do not answer him back. Rather say: May Allah forgive you, O Abū Bakr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ‘ آپ نے مجھ سے دریافت کیا : اے ربیعہ ! کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں شادی نہیں کرنا چاہتا ‘ کیونکہ میرے پاس اتنا کچھ موجود نہیں ہے کہ جس کے ساتھ عورت کی دیکھ بھال کی جا سکے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی بھی چیز مجھے آپ سے الگ کروا دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ‘ پھر کچھ عرصہ میں آپ کی خدمت کرتا رہا ، پھر آپ نے مجھ سے دوسری مرتبہ دریافت کیا : اے ربیعہ ! تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : میں شادی نہیں کرنا چاہتا ‘ میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جس کے ذریعے عورت کی دیکھ بھال کر سکوں ‘ اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی چیز مجھے آپ سے مشغول کر دے ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا پھر میں نے دل میں سوچا ‘ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا چیز میری دنیا اور میری آخرت میں میرے حق میں بہتر ہے ؟ اللہ کی قسم ! اب اگر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا : کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ تو میں کہہ دوں گا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ جو چاہیں حکم دیں ، پھر آپ نے دریافت کیا : اے ربیعہ ! کیا تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم آل فلاں کی طرف جاؤ ! نبی اکرم ﷺ نے انصار کے ایک قبیلے کا نام لیا ‘ جن کا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کچھ تعلق تھا ‘ اور ان سے یہ کہو : کہ اللہ کے رسول نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور وہ تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ فلاں عورت کے ساتھ میری شادی کروا دو ! ان کے قبیلے کی ایک عورت کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ‘ میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا : اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے اور وہ تمہیں یہ حکم دے رہے کہ فلاں عورت کے ساتھ میری شادی کروا دو ! انہوں نے کہا : اللہ کے رسول کو اور اللہ کے رسول کی طرف سے آنے والے فرد کو خوش آمدید ہے ‘ اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کی طرف سے آنے والا فرد ‘ اپنی حاجت پوری کر کے ہی واپس جائے گا ، پھر ان لوگوں نے میری شادی ( طے ) کروا دی اور میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کیا ، انہوں نے مجھ سے کوئی ثبوت نہیں مانگا میرے پاس مہر دینے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بریدہ اسلمی ! اس کے لئے ایک گٹھلی کے وزن جتنا سونا اکٹھا کرو ‘ ان لوگوں نے میرے لئے گٹھلی کے وزن جتنا سونا اکٹھا کر لیا ‘ میں نے وہ لیا ‘ جو انہوں نے میرے لئے جمع کیا تھا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ یہ اس عورت کا مہر ہے ‘ میں ان لوگوں کے پاس آیا ، میں نے کہا : یہ اس عورت کا مہر ہے ‘ تو انہوں نے اس کو قبول کر لیا ‘ اور اس سے راضی ہو گئے ‘ اور یہ کہا : یہ زیادہ ہے اور پاکیزہ ہے ‘ پھر میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس غمگین ہو کر آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ربیعہ ! تم کیوں غمگین ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ان لوگوں سے زیادہ معزز لوگ نہیں دیکھے ‘ میں نے جو انہیں دیا ‘ وہ اس سے راضی ہو گئے اور انہوں نے اچھا سلوک کیا اور انہوں نے یہ کہا : یہ زیادہ بھی ہے اور پاکیزہ بھی ہے ‘ لیکن اب میرے پاس ولیمہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بریدہ ! اس کے لئے بکری کا بندوبست کرو ! ان لوگوں نے میرے لئے ایک بڑا موٹا تازہ دنبا لیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم عائشہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : کہ پیمانے میں جو اناج موجود ہے ‘ وہ بھجوا دے ‘ راوی کہتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ‘ میں نے انہیں وہ بات بتائی ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ پیمانہ ہے اس میں جو کے سات صاع موجود ہیں ‘ اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی اناج نہیں ہے ‘ تم یہ لے لو ! میں نے وہ لے لیے ‘ میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو فرمایا تھا ‘ اس کے بارے میں آپ کو بتایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو : تم لوگوں نے روٹی تیار کرنی ہے ‘ میں وہ لے کر ان لوگوں کے پاس گیا اور دنبہ بھی ساتھ لے گیا ‘ میرے ساتھ اسلم قبیلے کے کچھ افراد تھے ‘ انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے کھانا تیار کرنا ہے اور یہ دنبہ پکانا ہے ‘ تو ان لوگوں نے کہا : روٹی تو ہم تیار کر لیں گے ، لیکن دنبہ ہماری جگہ تم تیار کر لو ‘ تو میں نے اور اسلم قبیلے کے لوگوں نے دنبہ لیا اور اسے ذبح کیا ‘ اور اس کی کھال اتاری اُسے پکایا تو ہمارے پاس روٹی اور گوشت تیار ہو گیا ‘ میں نے ولیمہ کی دعوت کی اور نبی اکرم ﷺ کو بھی بلایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے کچھ زمین عطا کی ‘ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی زمین عطا کی ‘ دنیا آ گئی ، تو ہمارے درمیان کھجور کے ایک درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ‘ میں نے کہا : یہ میری حدود میں آتا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میری حدود میں آتا ہے ‘ میرے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان تیز کلامی ہو گئی ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک ایسا کلمہ کہا ‘ جو مجھے ناگوار گزرا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ‘ انہوں نے مجھ سے کہا : اے ربیعہ ! تم اس طرح کی بات میرے خلاف بھی کہہ لو ! تاکہ بدلہ ہو جائے ‘ میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا تو تم یہ کہو گے ‘ یا پھر میں تمہارے خلاف نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کروں گا ‘ میں نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ زمین چھوڑ دی اور نبی اکرم ﷺ کی طرف چل پڑے ‘ میں ان کے پیچھے چل پڑا ‘ اسلم قبیلے کے کچھ لوگ آئے ‘ اور انہوں نے مجھ سے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ! وہ کس بات کی شکایت اللہ کے رسول سے کرنا چاہ رہے ہیں ؟ حالانکہ انہوں نے ہی تمہیں نامناسب بات کہی ہے میں نے کہا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ، جو دو افراد میں سے ایک ہیں ‘ اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں ، تم اس چیز سے بچ کے رہو ! کہ کہیں وہ مڑ کر یہ نہ دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو ‘ اور پھر وہ غصے میں آ جائیں گے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جائیں گے ‘ تو ان کے غصے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ بھی غضبناک ہوں گے ‘ اور ان دونوں کے غصے کی وجہ سے ‘ اللہ تعالیٰ بھی غضبناک ہو گا ‘ اور ربیعہ ہلاک ہو جائے گا ‘ اس شخص نے کہا : پھر تم ہمیں کیا ہدایت کرتے ہو ؟ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے ‘ ان کے پیچھے میں بھی اکیلا آیا ‘ جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، تو آپ کو پوری بات سنائی ، جس طرح ہوئی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مجھ سے دریافت کیا : اے ربیعہ ! تمہارا اور صدیق کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ‘ اس طرح کی صورت حال ہوئی تھی ‘ انہوں نے ایک بات کہی ‘ جو مجھے ناگوار گزری ‘ انہوں نے مجھ سے یہ کہا : کہ تم بھی اس طرح کہہ لو ‘ جس طرح میں نے کہا ہے ‘ تاکہ بدلہ ہو جائے ، تو میں نے یہ بات نہیں مانی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ! تم نے اسے جواب نہیں دینا تھا ‘ تم یہ کہو : کہ اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ‘ تو میں نے یہ کہہ دیا : اے ابوبکر ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ۔ حسن نامی راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے واپس چلے گئے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7335

Majma al-Zawaid #7335

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ: مَنْ سَعَى فِي فِكَاكِ رَقَبَةٍ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ. وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ. وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، [وَالْأَوْسَطِ]، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَازِعِ رَوَى عَنْهُ حَفِيدُهُ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ فَقَطْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "Three acts, whoever performs them trusting in Allah and seeking reward, it is binding upon Allah to aid him and bless him: whoever strives to free a slave trusting in Allah and seeking reward, it is binding upon Allah to aid him and bless him. Whoever marries trusting in Allah and seeking reward, it is binding upon Allah to aid him and bless him. And whoever revives dead land trusting in Allah and seeking reward, it is binding upon Allah to aid him and bless him." > **"Three acts, whoever performs them trusting in Allah and seeking reward, it is binding upon Allah to aid him and bless him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تین کام ایسے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرتے ہوئے اور ثواب کی امید کرتے ہوئے وہ کام کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کی مدد کرے اور اس شخص کے لئے برکت رکھے ‘ جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے کسی غلام کو آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس شخص کی مدد کرے اور اس کو برکت نصیب کرے ‘ جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے شادی کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس میں برکت نصیب کرے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے کسی بنجر زمین کو آباد کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کی مدد کرے اور اسے برکت نصیب کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن وازع ہے ، جس سے صرف اس کے پوتے عمرو بن عاصم نے روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7336

Majma al-Zawaid #7336

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَيْلِ، ثُمَّ قَالَ [اللَّهُمَّ] عُقْرًا الْإِبِلُ النِّسَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه reported: Nothing was more beloved to the Messenger of Allah ﷺ than horses. Then he said: O Allah, pardon; except women are different.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کوئی بھی چیز ‘ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک گھوڑوں سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھی ، پھر انہوں نے کہا : اے اللہ ! معافی کا سوال ہے ‘ البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے . یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔