Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 18 · Chapter 3

Book of Emancipation

Hadith 7278–7296

19 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7278

Majma al-Zawaid #7278

عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَمِائَةِ فَسِيلَةٍ فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ. قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "" اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِطَ فَآذِنِّي "". قَالَ: فَآذَنْتُهُ. قَالَ: فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ بِيَدِهِ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي، فَعَلِقْنَ إِلَّا الْوَاحِدَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ مُطَوَّلَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, said he contracted his mukatabah with his masters upon planting five hundred palm-shoots for them, such that when they took root he would be free. He mentioned this to the Prophet, peace and blessings be upon him, who instructed him to plant and stipulate for them and to inform him before stipulating. Salman informed him, the Prophet came and planted with his own hand all except one, which Salman planted himself, and all took root except that one. > **"Plant and stipulate for them, and when you intend to stipulate, inform me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے مالک کے ساتھ کتابت کا معاہدہ کیا کہ میں انہیں پانچ سو پودے لگا کے دوں گا ‘ جب ان پر پھل لٹک جائے گا ‘ تو میں آزاد ہو جاؤں گا ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم پودے لگاؤ اور ان کے لئے شرط رکھو ‘ جب تم شرط رکھنے کا ارادہ کرو گے ‘ تو تم مجھے بتا دینا ‘ میں نے آپ کو اطلاع دی ‘ تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے تمام پودے لگائے ‘ صرف ایک پودے کا معاملہ مختلف تھا ‘ وہ میں نے لگایا ‘ تو باقی سب پر پھل آ گیا ‘ ایک پر نہیں آیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ‘ جو ’’ مناقب ‘‘ سے متعلق باب میں طویل روایت کے طور پر آئے گی ‘ اور اس کے علاوہ مقام پر بھی آئے گی ۔

7279

Majma al-Zawaid #7279

«وَعَنْ بَرِيرَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيَّ ثَلَاثَةً مِنَ السُّنَّةِ: تُصُدِّقَ عَلَيَّ بِلَحْمٍ فَأَهْدَيْتُهُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَبْقَتْهُ حَتَّى دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا هَذَا اللَّحْمُ؟ "" فَقَالَتْ: لَحْمٌ تُصُدِّقُ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا. فَقَالَ: "" هُوَ عَلَى بَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ "". وَكَاتَبَتْ عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ شَاءُوا عَدَدْتُ لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً. قُلْتُ: هُمْ يَقُولُونَ: إِلَّا أَنْ يُشْتَرَطَ لَهُمُ الْوَلَاءُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اشْتَرِطِي وَاشْتَرِطِي، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "". قَالَتْ: وَأُعْتِقْتُ فَكَانَ لِي الْخِيَارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Barirah, may Allah be pleased with her, said three Sunan were established through her: meat given to her in charity which she gifted to 'A'ishah, may Allah be pleased with her, who kept it until the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, entered and asked about it; her mukatabah for nine uqiyyahs, when 'A'ishah offered to pay in one sum while her masters stipulated wala' for themselves, whereupon the Prophet commanded the condition be left and ruled wala' for the emancipator; and her being given the choice of marriage after her emancipation. > **"It is charity for Barirah and a gift for us. Leave the condition, leave it, for wala' belongs to the one who emancipates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے بارے میں تین چیزیں ‘ سنت سے ثابت ہوئی ہیں ‘ مجھے گوشت صدقے کے طور پر دیا گیا ‘ وہ میں نے تحفے کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رکھ لیا جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : یہ گوشت کہاں سے آیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا جانے والا گوشت ہے ‘ وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ بریرہ کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نواقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اگر وہ لوگ چاہیں تو میں انہیں ایک ہی مرتبہ ادائیگی کر دیتی ہوں ، میں نے کہا : وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ولاء کا حق ان کے لئے رہے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم شرط رہنے دو تم شرط رہنے دو ! کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب میں آزاد ہو گئی ( تو مجھے شوہر کے ساتھ رہنے ‘ یا علیحدگی کا ) اختیار دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7280

Majma al-Zawaid #7280

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بِرَيْرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ لِتُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا وَلَاءَهَا فَشَرَطَتْ لَهُمْ ذَلِكَ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ: "" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "" ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: "" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ مَا كَانَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَمَرْدُودٌ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ "". وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ. فَفَارَقَتْهُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتًا فَرَأَى رِجْلَ شَاةٍ فَقَالَ لِعَائِشَةَ: "" أَلَا تَطْبُخِي لَنَا هَذَا اللَّحْمَ؟ "" قَالَتْ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَأَهْدَتْهُ لَنَا. قَالَ: "" اطْبُخُوهُ فَهُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, said 'A'ishah, may Allah be pleased with her, bought Barirah from the Ansar to free her, and they stipulated her wala' for themselves, which she accepted. When the Prophet, peace and blessings be upon him, came, she informed him, and he ruled wala' for the emancipator, then ascended the minbar and censured those who stipulate conditions not in the Book of Allah, rejecting every such condition. Barirah had a husband, and the Messenger gave her the choice to remain with him or part from him, and she parted from him. Later, seeing a sheep's trotter in the house, and learning it was charity given to Barirah and gifted onward, he ordered it cooked as charity for her and gift for them. > **"Wala' belongs only to the one who emancipates. What is the matter with people who stipulate conditions not in the Book of Allah? Whatever condition is not in the Book of Allah is rejected back to the Book of Allah. Cook it, for it is charity for her and a gift for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو انصار سے خرید لیا ‘ تاکہ انہیں آزاد کر دیں ‘ انصار نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بریرہ کی ولاء کی شرط عائد کی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ شرط مان لی ‘ جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں ، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ‘ ہر وہ شرط ‘ جو اللہ کی کتاب میں درست نہ ہو ‘ وہ اللہ کی کتاب کی طرف لوٹائی جائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : بریرہ کے شوہر سے نبی اکرم ﷺ نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں ‘ تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں جیسے پہلے تھیں ‘ اور اگر چاہیں تو اس سے علیحدگی اختیار کر لیں ‘ تو انہوں نے ان صاحب سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر داخل ہوئے ‘ تو آپ نے ایک بکری کا پایا دیکھا ‘ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تم یہ گوشت پکا کے نہیں دو گی ؟ انہوں نے عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا ‘ اور اس نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے پکا لو ! یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی تمیم بن منتصر ہے ‘ ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایت نقل کی ہے ‘ کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7281

Majma al-Zawaid #7281

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ زَوْجُ بِرَيْرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَرَاهُ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْبَعٍ: شَرَطَ مَوَالِيهَا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ "". وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ، وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, said Barirah's husband was a black slave named Mughith, whom he saw weeping in the streets of Madinah. The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, gave four judgments concerning her: despite her masters stipulating wala', he ruled it for the emancipator; he gave her the choice and she chose herself; he commanded her to observe 'iddah; and when charity given to her was gifted to 'A'ishah, may Allah be pleased with her, he ruled it charity for Barirah and gift for them. > **"Wala' belongs to the one who emancipates. It is charity for her and a gift for us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بریرہ کے شوہر ایک سیام فام غلام تھے ‘ ان کا نام مغیث تھا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے انہیں مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیکھا ‘ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے چار چیزوں کا فیصلہ دیا تھا ‘ آپ نے بریرہ کے مالکان کے لئے ولاء کی شرط برقرار رکھی تھی ، لیکن نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ‘ تو انہوں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں عدت گزارنے کا اختیار دیا ‘ بریرہ کو ایک چیز صدقے کے طور پر دی گئی ‘ انہوں نے اس میں سے کوئی چیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تحفے کے طور پر دے دی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے ہدیہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7282

Majma al-Zawaid #7282

وَعَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَاتَبَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَلَى عَشَرَةِ آلَافٍ، فَلَمَّا حَلَّتْ تَرَكَتْ لِي أَلْفًا، وَكَانَتْ مِمَّنْ صَلَّى إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Suddi reports from his father that Zaynab bint Qays ibn Makhramah, may Allah be pleased with her, contracted his mukatabah for ten thousand, and when payment fell due she remitted a thousand to him. She was among those who prayed toward both qiblahs with the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سدی ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ زینب بنت قیس بن مخزمہ رضی اللہ عنہا نے دس ہزار کے عوض میں میرے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا ‘ جب میں نے رقم ادا کر لی ‘ تو انہوں نے ایک ہزار مجھے چھوڑ دیے ‘ یہ ان خواتین میں سے ایک ہیں ‘ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو بن محمد بن منقزی اور وہ ضعیف ہے ۔

7283

Majma al-Zawaid #7283

«عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: طَهْمَانُ أَوْ ذَكْوَانُ فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نَصِيبَهُ، فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَعْتِقُ فِي عُنُقِكَ وَتَرِقُّ فِي عُنُقِكَ "". قَالَ: وَكَانَ يَخْدِمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ: عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ. رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ - فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَقَطَ مِنْ نُسْخَتِي - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Isma'il ibn Umayyah reports from his grandfather that a slave called Tahman or Dhakwan had his share freed by his grandfather. The slave came to the Prophet, peace and blessings be upon him, who ruled him partly free and partly enslaved, and he continued serving his master until he died. > **"You are free in respect of your person and enslaved in respect of your person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن امیہ ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا جس کا نام طہمان ‘ یا شاید ذکوان تھا ‘ ان کے دادا نے اس میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ‘ وہ غلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی گردن میں آزاد ہو ‘ تم اپنی گردن میں غلام ہو ( یعنی کچھ آزاد ہو ‘ اور کچھ غلام ہو ) راوی کہتے ہیں : تو وہ غلام مرتے دم تک اپنے آقا کی خدمت کرتا رہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : اسماعیل بن امیہ کے حوالے سے ‘ ان کے والد کے حوالے سے ‘ ان کے دادا سے منقول ہے ۔ انہوں نے یہ روایت عبداللہ بن احمد کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ ان کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ میرے نسخے میں یہ لفظ نہ آیا ہو ‘ کہ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا سے نقل کی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

7284

Majma al-Zawaid #7284

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْمُزْنِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يُعْتِقُ الرَّجُلُ مِنْ عَبْدِهِ مَا شَاءَ إِنْ شَاءَ ثُلُثًا، وَإِنْ شَاءَ رُبْعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ: "" «إِنْ شَاءَ خُمْسًا لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ ضَغْطَةٌ» "". وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ - بِالْفَاءِ - وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Sinan al-Muzani, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, permitted a man to free of his slave whatever portion he willed, with no constraint between him and Allah. > **"A man may free of his slave whatever he wills — if he wills a third, if he wills a quarter, if he wills a fifth; there is no compulsion between him and Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سنان مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ آدمی اپنے غلام میں سے جتنا چاہے ‘ اس کو آزاد کر دے ‘ اگر چاہے ‘ تو ایک تہائی حصے کو کر دے ‘ اگر چاہے ‘ تو چوتھائی حصے کو کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : اگر وہ چاہے ‘ تو پانچویں حصے کو آزاد کر دے ‘ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی قہر ( یا زبردستی ) نہیں ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن فضاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7285

Majma al-Zawaid #7285

«وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ عَشَرَةٍ فَأَعْتَقَ تِسْعَةٌ مِنْهُمْ وَأَبَى الْعَاشِرُ أَنْ يُعْتِقَ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمَائِي. قَالَ: "" سَمَاؤُكَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them both, reports that a slave was jointly owned by ten men. Nine freed their shares while the tenth refused, saying, O Messenger of Allah, it is my eminence. The Prophet, peace and blessings be upon him, affirmed his upper right in him remained. > **"Your upper share is in him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک غلام ‘ دس آدمیوں کی ملکیت تھا ‘ ان میں سے نو افراد نے ( اپنے ‘ اپنے حصے کو ) آزاد کر دیا ‘ اور دسویں فرد نے ‘ اپنے حصے کو آزاد کرنے سے انکار کر دیا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرا رتبہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس میں تمہارا رتبہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل ہے اور وہ متروک ہے ۔

7286

Majma al-Zawaid #7286

«وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ عَشَرَةٍ فَأَعْتَقُوهُ إِلَّا وَاحِدًا مِنْهُمْ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَشْفِعُ بِهِ عَلَى الرَّجُلِ، وَكَلَّمَهُ فِيهِ فَوَهَبَ الرَّجُلُ نَصِيبَهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَقُولُ: أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَكَانَ اسْمُهُ رَافِعًا أَبَا الْبَهِيِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn 'Umar ibn Sa'id reports that a slave jointly owned by ten was freed by all except one. He came to the Prophet, peace and blessings be upon him, seeking his intercession with that man. The Prophet spoke to him, the man gifted his share to the Prophet, and the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, freed him. He thereafter called himself the mawla of the Messenger of Allah. His name was Rafi', Abu al-Bahiyy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمر بن سعید بیان کرتے ہیں : ایک غلام دس آدمیوں کی ملکیت تھا ‘ انہوں نے اسے آزاد کر دیا ‘ ان میں سے ایک نے اس کو آزاد نہیں کیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تاکہ اس شخص کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے سفارش کروائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس غلام کے بارے میں اس شخص سے بات کی ‘ تو اس شخص نے اپنے حصہ نبی اکرم ﷺ کو پیش کر دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس غلام کو آزاد کر دیا ‘ تو وہ غلام یہ کہا کرتا تھا : میں نبی اکرم ﷺ کا آزاد کردہ غلام ہوں ‘ اس کا نام ’’ رافع ابوبہی ‘‘ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ محمد بن عمر نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7287

Majma al-Zawaid #7287

وَعَنْ سَمُرَةَ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ حُرٌّ وَلَيْسَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَرِيكٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِمِثْلِ حَدِيثٍ قَبْلَهُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, that a man of Hudhayl freed his share in a slave, whereupon the Prophet ruled him free, for Allah has no partner. > **"He is free, and Allah, Blessed and Exalted, has no partner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ غلام آزاد شمار ہو گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شراکت دار نہیں ہوتا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اس سے پہلے والی حدیث کی مانند نقل کی ہے ‘ اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7288

Majma al-Zawaid #7288

«وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: حَفِظْنَا عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ ضَمِنَ لَهُمْ بَقِيَّتَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn al-Musayyab said they preserved from thirty Companions of the Prophet, may Allah be pleased with them, that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ruled that whoever frees his share in a slave guarantees the remainder to the partners. > **"Whoever frees a share in a slave guarantees the remainder to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : ہم نے تیس صحابہ کرام کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص کسی غلام میں ‘ اپنے حصے کو آزاد کر دے ‘ تو وہ اس کی بقیہ قیمت کا ( دوسرے مالکان ) کے لئے ضامن ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7289

Majma al-Zawaid #7289

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا فِي مَمْلُوكٍ ضَمِنَ لَهُمْ نَصِيبَهَمْ مِنْ مَالِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ruled that one who frees his portion in a slave guarantees the partners their portions from his own wealth. > **"Whoever frees a portion in a slave guarantees to them their portions from his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص کسی غلام میں ( اپنے ) حصے کو آزاد کرتا ہے ‘ تو وہ ( دیگر شراکت داروں ) کے لئے ‘ ان کے حصے کے حوالے سے ‘ اپنے مال میں سے ضامن ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے نقل کی ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

7290

Majma al-Zawaid #7290

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا [لَهُ] مِنْ رَقِيقٍ، فَإِنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ بَقِيَّتَهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ فِي ثَمَنِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, imposed upon one who frees his share in a slave to free the remainder, and if he lacked means, the slave would work to earn his price. > **"Whoever frees a share he owns in a slave, upon him is to free the remainder; if he has no wealth, the slave shall work to earn his price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی غلام میں ‘ اپنے حصے کو آزاد کر دے ‘ تو اس پر یہ لازم ہے کہ اس کے بقیہ حصے کو بھی آزاد کرے ‘ اگر اس شخص کے پاس مال نہیں ہوتا ‘ تو غلام اپنی قیمت کے حوالے سے مزدوری کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق مروزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7291

Majma al-Zawaid #7291

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ بَعْضُهُمْ قُوِّمَ عَلَيْهِ بِأَغْلَى الْقِيمَةِ فَيَغْرَمُ ثَمَنَهُ وَيُعْتَقُ الْعَبْدُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

'A'ishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ruled that when a slave is jointly owned and one partner frees him, he is valued at the highest price, the emancipator pays his value, and the slave is freed. > **"When a slave is jointly owned and one of them frees him, he is valued at the highest value, so he pays his price and the slave is freed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی غلام مختلف لوگوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک اس کو آزاد کر دے ‘ تو غلام کی سب سے زیادہ قیمت لگائی جائے گی ‘ پھر وہ اس کی قیمت کا تاوان ( جرمانہ ) ادا کرے گا اور غلام کو آزاد کر دیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7292

Majma al-Zawaid #7292

وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ ضَامِنٌ بَقِيَّتَهُ» ".

EnglishUnverified translation

'Ubadah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ruled that one who frees a share of a slave guarantees the remainder. > **"Whoever frees a share of a slave, he guarantees the remainder."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی غلام میں سے ‘ ایک حصے کو آزاد کر دے ‘ تو وہ اس کے بقیہ حصے کا ضامن ہو گا “۔

7293

Majma al-Zawaid #7293

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

In another wording from 'Ubadah, may Allah be pleased with him, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, imposed completion of the emancipation upon one who possesses means. > **"Upon him is the completion of his emancipation, if he has wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو اس پر یہ لازم ہو گا کہ اس کو مکمل آزاد کروائے ‘ اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7294

Majma al-Zawaid #7294

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَجُلَانِ مِنْ جُهَيْنَةَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ فَأَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَمَّنَهُ إِيَّاهُ، وَكَانَتْ لَهُ غُنَيْمَةٌ قَرِيبٌ مِنْ مِائَةِ شَاةٍ فَبَاعَهَا فَأَعْطَى صَاحِبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said two men of Juhaynah jointly owned a slave, and one freed him. He came to the Prophet, peace and blessings be upon him, who held him liable for his partner's share. He owned a small flock near a hundred sheep, which he sold and paid to his partner.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا ، ان دونوں میں سے ایک شخص نے اسے آزاد کر دیا ‘ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اس کے ضمان کا پابند کیا ‘ اس شخص کے پاس کچھ بکریاں تھیں ، جو ایک سو کے قریب تھیں ‘ اس نے انہیں فروخت کیا اور اپنے ساتھی کو اس کو اس کی قیمت دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7295

Majma al-Zawaid #7295

عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَأَوْصَى إِلَيَّ، فَكَانَ فِيمَا أَوْصَى بِهِ أُمُّ وَلَدِهِ وَامْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَوَقَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَأُمِّ الْوَلَدِ كَلَامٌ، فَقَالَتْ لَهَا الْمَرْأَةُ: يَا لَكْعَاءُ غَدًا يُؤْخَذُ بِأُذُنِكِ فَتُبَاعِينَ فِي السُّوقِ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَا تُبَاعُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ غَيْرُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Khawwat ibn Jubayr, may Allah be pleased with him, said a man died entrusting him with his estate, including his umm walad and a free wife. Harsh words passed between the two women, and the free wife taunted her that tomorrow she would be seized by the ear and sold in the market. He mentioned this to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, who forbade her sale. > **"She is not to be sold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا ‘ اس نے مجھے وصیت کی اس نے مجھے جو وصیت کی تھی ، اس میں اس کی اُم ولد بھی شامل تھی ، اور آزاد بیوی بھی شامل تھی ، ایک مرتبہ اس عورت اور ام ولد کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ‘ تو عورت نے اس سے کہا : اے نالائق عورت ! کل تجھے تمہارے کان سے پکڑا جائے گا اور بازار میں فروخت کر دیا جائے گا ‘ میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے فروخت نہیں کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اُم ولد کے بارے میں ‘ اس کے علاوہ حدیث گزر چکی ہے ۔

7296

Majma al-Zawaid #7296

عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَطَالَتْ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَنْعِتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ. قَالُوا: هَذِهِ امْرَأَةٌ [مَسْحُورَةٌ] سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا. قَالَتْ: نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقُ. قَالَتْ: وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً، فَقَالَتْ: بِيعُوهَا مِنْ أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Amrah reports that 'A'ishah, may Allah be pleased with her, fell ill and her complaint lengthened. A practitioner came to Madinah, and her nephews asked him about her pain. He swore they described a bewitched woman. They identified her slave-girl as the sorceress. The girl confessed she had sought 'A'ishah's death in order to be freed, though she was already a mudabbara to be freed upon her mistress's death. 'A'ishah ordered her sold to the harshest Arab master and her price used for another like her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بیان کرتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں ‘ ان کی بیماری طویل ہو گئی ‘ ایک شخص مدینہ منورہ آیا ‘ جو حساب کتاب لگایا کرتا تھا ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے گئے ‘ اور اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا : تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تم اس خاتون کی جو صورت حال بیان کر رہے ہو ‘ اس سے لگتا ہے کہ ان پر جادو ہوا ہے ‘ لوگوں نے کہا : اس عورت نے ان پر جادو کیا ہے ‘ اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز کے بارے میں یہ کہا ‘ تو اس عورت نے یہ بتایا : جی ہاں ! میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مر جائیں اور میں آزاد ہو جاؤں ‘ راوی بیان کرتی ہیں : وہ کنیز مدبرہ کے طور پر آزاد ہونی تھی ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے کسی ایسے شخص کے پاس بھیجو ‘ جو عربوں میں سب سے زیادہ برا مالک ہو ‘ اور پھر اس کی قیمت کو ‘ اس جیسی کسی کنیز ( کو خرید کر آزاد کرنے ) میں خرچ کر دینا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔