Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 18 · Chapter 2

Book of Emancipation

Hadith 7238–7277

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7238

Majma al-Zawaid #7238

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" عَبْدٌ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَبْلَ مَوَالِيهِ بِسَبْعِينَ خَرِيفًا، فَيَقُولُ السَّيِّدُ: رَبِّ هَذَا كَانَ عَبْدِي فِي الدُّنْيَا قَالَ: جَازَيْتُهُ بِعَمَلِهِ وَجَازَيْتُكَ بِعَمَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ الصَّفَارُ، عَنْ أَبِيهِ، قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ يَحْيَى، وَأَبُوهُ ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ، وَلَمْ يُجِرِّحْهُ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that a slave obeying Allah and his masters enters Paradise seventy autumns before his masters, whereupon the master pleads his worldly ownership and the Lord answers with recompense according to deeds. > **"A slave who obeys Allah and obeys his masters, Allah admits him to Paradise seventy autumns before his masters. The master says: My Lord, this was my slave in the world. He says: I recompensed him for his deed and recompensed you for your deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ غلام ‘ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہو اور اپنے آقاؤں کی اطاعت کرتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے آقاؤں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل کر دے گا ‘ اس کا آقا کہے گا : اے میرے پروردگار ! یہ دنیا میں میرا غلام تھا ، تو پروردگار فرمائے گا : میں نے اس کے عمل کا بدلہ اسے دیا ہے ‘ اور تمہارے عمل کا بدلہ تمہیں دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : بیٹی بن عبداللہ بن عبدویہ صفار ‘ اپنے والد کے حوالے اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو یحیی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اور اس کے والد کا ذکر خطیب نے کیا ہے ‘ لیکن انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

7239

Majma al-Zawaid #7239

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ عَبْدًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَرَأَى عَبْدَهُ فَوْقَ دَرَجَتِهِ فَقَالَ: يَا رَبِّ هَذَا عَبْدِي فَوْقَ دَرَجَتِي؟ قَالَ: نَعَمْ جَزَيْتُهُ بِعَمَلِهِ وَجِزْيَتُكَ بِعَمَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ describing a servant entering Paradise and seeing his slave above his degree, questioning his Lord, and receiving the answer of recompense by deeds. > **"A servant entered Paradise and saw his slave above his degree, so he said: My Lord, this is my slave above my degree? He said: Yes, I recompensed him for his deed and recompensed you for your deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک شخص جنت میں داخل ہوا ‘ تو اس نے اپنے غلام کو اپنے سے اوپر کے درجہ میں پایا ‘ تو عرض کی : اے میرے پروردگار ! یہ میرا غلام میرے سے اوپر والے درجہ میں ہے ؟ پروردگار نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے اسے اس کے عمل کی جزا دی ہے ‘ اور تمہیں تمہارے عمل کی جزا دی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

7240

Majma al-Zawaid #7240

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَوَّلُ سَابِقٍ إِلَى الْجَنَّةِ مَمْلُوكٌ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ مَوَالِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو صَيْفِيٍّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ naming the obedient slave to Allah and masters as the first hastener to Paradise. > **"The first hastener to Paradise is a slave who obeys Allah and obeys his masters."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ‘ پہلا فرد وہ غلام ہو گا ‘ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہو گی ‘ اور اپنے آقاؤں کی اطاعت کی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ابوصیفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7241

Majma al-Zawaid #7241

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عَبْدٌ مَاتَ فِي إِبَاقَتِهِ دَخَلَ النَّارَ، وَإِنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ warning that a slave dying in desertion enters the Fire even if killed in the path of Allah. > **"A slave who dies in his desertion enters the Fire, even if killed in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو غلام مفرور ہونے کے دوران مر جاتا ہے ‘ وہ جہنم میں جائے گا ‘ اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اور اس کی نقل کردہ ؟ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7242

Majma al-Zawaid #7242

«عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمْلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. قَالَ: لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ: اعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: "" لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا. وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا. وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ. فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn Azib رضي الله عنه reports a Bedouin asking the Prophet ﷺ for a deed admitting to Paradise, receiving the brief yet weighty counsel to free the soul and ransom the neck, explained as sole freeing versus assisting in freeing, along with the dripping grant, kindness to the oppressive kin, feeding the hungry, watering the thirsty, commanding good, forbidding evil, and otherwise restraining the tongue except for good. > **"If you have shortened speech you have posed a weighty question: free the soul and ransom the neck. No, freeing the soul is to single-handedly free it, and ransoming the neck is to assist in freeing it, along with the dripping grant and kindness to the oppressive kin. If you cannot do that, feed the hungry, give drink to the thirsty, command good and forbid evil, and if you cannot do that, restrain your tongue except for good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے الفاظ مختصر استعمال کیے ہیں اور بڑا مسئلہ دریافت کیا ہے ‘ تم جان کو آزاد کرواؤ ‘ اور گردن کو چھڑواؤ ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب تم اسے آزاد کرنے میں منفرد ہو ‘ اور گردن کو چھٹروانے سے مراد یہ ہے ‘ کہ تم اس کو آزاد کروانے میں اس کی مدد کرو ‘ اور ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو ( یا ٹپکنے والا ہو ‘ یعنی دودھ دینا ) اور ظلم کرنے والے رشتے کو کچھ دینا ‘ اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ، تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ ‘ پیاسے کو پلاؤ ‘ نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ‘ اور اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، تو تم اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ ہر چیز سے روک کے رکھو ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7243

Majma al-Zawaid #7243

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: "" مِنَ الصَّدَقَةِ عِتْقُ الرَّقَبَةِ وَفَكُّهَا "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَتَا وَاحِدَةً؟ قَالَ: "" لَا. عِتْقُهَا أَنْ تُعْتِقَهَا. وَفَكُّهَا أَنْ تُعِينَ فِيهَا "". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: "" فَمِنْحَةٌ وَكُوفٍ أَوْ عَطْفٌ عَلَى ذِي الرَّحِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُوسَى؛ قَالَ الْأَزْدِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ mention charity as freeing the neck and ransoming it, explaining the former as freeing it oneself and the latter as assisting therein, then naming the dripping grant and kindness to kin for one unable to do so. > **"Among charity is freeing the neck and ransoming it. No, freeing it is to free it, and ransoming it is to assist therein. Then a dripping grant or kindness to kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا : آپ نے ارشاد فرمایا : صدقہ کرنے میں یہ بات شامل ہے کہ گردن کو آزاد کیا جائے اور اُسے چھڑوایا جائے ‘ ایک شخص نے عرض کی : کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اسے آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اسے آزاد کر دو ‘ اور اسے چھڑوانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کے آزاد کرنے میں مدد کرو ‘ اس نے عرض کی : اگر میں یہ نہ کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو ( یا ٹپکنے والا ہو ‘ یعنی دودھ دینا ) اور رشتہ دار پر مہربانی کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن موسیٰ ہے ‘ ازدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔

7244

Majma al-Zawaid #7244

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ) أَوْ مُكَاتِبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ promising Divine shade on a shadeless Day to one who aids a warrior in Allah's path, a debtor in hardship, or a contracted slave in his ransom. > **"Whoever aids a warrior in the path of Allah Almighty, or a debtor in his hardship, or a contracted slave in his ransom, Allah shades him on a Day when there is no shade except His."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مدد کرتا ہے ‘ یا کسی تنگدست مقروض کی مدد کرتا ہے ‘ یا مکاتب غلام کی مدد کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اُسے اس دن اپنا سایہ نصیب کرے گا ‘ جس دن اُس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سہل بن حنیف ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں ‘ کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

7245

Majma al-Zawaid #7245

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَهْلَهُ أَنْ يَتْبَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَيَّدُوهُ، فَكَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ بِإِسْلَامِي فَسَيِّرْنِي أَوْ خَلِّصْنِي فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةَ نَفَرٍ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ: "" لَعَلَّكُمْ تَجِدُونَ فِي دَارِ مَنْ يُعِينُكُمْ عَلَيْهِ "". فَأَعْتَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports a man who embraced Islam but was chained by his family fearing his following the Prophet ﷺ after the migration, who wrote informing of his Islam seeking deliverance, whereupon the Prophet ﷺ sent six men on a camel hoping to find a helper's house, then freed him. > **"Perhaps you will find in someone's house one who aids you concerning him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کی ‘ تو اس کے اہل خانہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلا جائے گا ، تو انہوں نے اس کو باندھ دیا ‘ اس نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا کہ آپ میرے اسلام کے بارے میں جانتے ہیں ، تو آپ مجھے خلاصی دلوا دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے چھ افراد ایک اونٹ پر بھیجے ‘ اور فرمایا : تم اسے اس شخص کے گھر میں پاؤ گے ‘ جو تمہاری اس کے بارے میں مدد کرے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے آزاد قرار دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7246

Majma al-Zawaid #7246

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعَتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعَتَاقَةِ الْأَسْوَدِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ صُبَيْحَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ extolling the loaned grant arriving morning and evening with reward, likening the loaned she-camel to freeing a red slave and the loaned sheep to freeing a black slave. > **"The best charity is the loaned grant arriving morning with reward and returning evening with reward: the loan of a she-camel is like freeing a red slave, and the loan of a sheep is like freeing a black slave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے بہتر صدقہ ‘ جو عطیہ کے طور پر دیا گیا ہو ‘ جو صبح کے وقت اجر لے کے آتا ہے اور شام کے وقت بھی اجر لے کے آتا ہے ‘ وہ اونٹنی عطیہ کے طور پر دینا ہے ‘ جو سرخ فام ( یعنی سفید فام ) غلام آزاد کرنے کی مانند ہے ‘ اور بکری عطیہ کے طور پر دینا ہے ‘ جو سیاہ فام غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صبیحہ ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7247

Majma al-Zawaid #7247

«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: "" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "" قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: "" قَوِّمْ صَانِعًا أَوِ اصْنَعْ لِأَخْرَقَ "" قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: "" فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفُهُ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports a man asking the Prophet ﷺ about the best deed and the most rewarding neck to free, receiving faith and jihad, then the priciest and most precious to its people, then assisting a craftsman or the unskilled, then withholding oneself from evil as charity for oneself. > **"Faith in Allah and jihad in His path. The dearest in price and most precious to its people. Assist a craftsman or work for the unskilled. Restrain yourself from evil, for it is a good charity you give for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ ! کے نبی ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ‘ اس نے عرض کی : ( آزاد کرتے ہوئے ) غلاموں میں کون سا زیادہ اجر والا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو ‘ اور وہ اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ‘ اس نے عرض کی : اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تم کام کرنے والے کی مدد کرو ‘ یا اپاہچ کے لئے کوئی کام کر دو ‘ اُس نے عرض کی : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے آپ سے برائی کو روک کے رکھو ! کیونکہ یہ صدقہ اور اچھائی ہو گی ‘ جو تم اپنی ذات کی طرف سے کرو گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7248

Majma al-Zawaid #7248

«عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتَهُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ أَعْتِقْ سَعْدًا "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sad, freedman of Abu Bakr رضي الله عنهما, who served the Prophet ﷺ pleasingly, reports the Prophet ﷺ twice commanding Abu Bakr to free Sad despite having no other servant, promising arrival of other men. > **"O Abu Bakr, free Sad. Free Sad, men shall come to you, free Sad, men shall come to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ ‘ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے ‘ ان کی خدمت نبی اکرم ﷺ کو پسند تھی آپ نے فرمایا : ابوبکر ! سعد کو آزاد کر دو ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی خدمت گار نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم سعد کو آزاد کر دو ! تمہارے پاس اور لوگ آ جائیں گے ‘ تم سعد کو آزاد کر دو تمہارے پاس اور لوگ ( یعنی غلام ) آ جائیں گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7249

Majma al-Zawaid #7249

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: يَسَارٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَأَعْتَقَهُ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الدِّيَاتِ فِي الْمُحَارِبِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa رضي الله عنه reports the Prophet ﷺ owned a boy named Yasar, and upon seeing his excellent prayer, freed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا ایک غلام تھا ، جس کا نام یسار تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سے نماز ادا کرتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ یہ روایت ’’ محاربین ‘‘ سے متعلق باب میں ‘ دیت سے متعلق باب میں ذکر ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن ابراہیم تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7250

Majma al-Zawaid #7250

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ الْمُتَوَضَّأَ فَأَصَابَ لُقْمَةً - أَوْ قَالَ: كِسْرَةً - فِي مَجْرَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى فَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى غُلَامِهِ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ ذَكِّرْنِي بِهَا إِذَا تَوَضَّأْتُ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ لِلْغُلَامِ: يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي اللُّقْمَةَ - أَوْ قَالَ: الْكِسْرَةَ -. قَالَ: يَا مَوْلَايَ أَكَلْتُهَا، قَالَ: اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ! فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: يَا مَوْلَايَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَعْتَقْتَنِي؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذْكُرُ عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ أَخَذَ لُقْمَةً أَوْ كِسْرَةً مِنْ مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا، ثُمَّ أَكَلَهَا لَمْ تَسْتَقِرَّ فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ» "". فَمَا كُنْتُ لِأَسْتَخْدِمَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عِيسَى بْنِ سَالِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ali رضي الله عنهما reports entering the ablution place and finding a morsel in the filth channel, removing harm, washing it well, and entrusting it to his boy for remembrance, but the boy ate it, whereupon Hasan freed him for Allah upon hearing from Fatimah bint Rasulillah رضي الله عنها from her father ﷺ that whoever lifts and purifies such a fallen morsel then eats it is forgiven before it settles, declaring he would not employ a man of Paradise. > **"Whoever takes a morsel or fragment from the channel of filth and urine, removes harm from it, washes it well, then eats it, it does not settle in his belly before he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ وضو کی جگہ پر داخل ہوئے ‘ وہاں انہیں ایک لقمہ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹکڑا ملا ‘ جو پاخانے یا پیشاب کے بہنے کی جگہ پر پڑا ہوا تھا ‘ انہوں نے اسے لیا اس سے گندگی کو صاف کیا ‘ اسے اچھی طرح سے دھویا ‘ پھر وہ اپنے غلام کو دیا اور فرمایا : اسے غلام ! جب میں وضو کر لوں گا ‘ تو یہ مجھے یاد کروا دینا ‘ جب آپ نے وضو کر لیا ، تو آپ نے غلام سے کہا : اے غلام ! وہ لقمہ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ ٹکڑا مجھے پکڑاؤ ! تو اس نے عرض کی : اے میرے آقا ! میں نے اسے کھا لیا ہے ‘ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ ! تم اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہو ‘ غلام نے ان سے کہا : اے میرے آقا ! آپ نے مجھے کسی وجہ سے آزاد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ انہوں نے اپنے والد نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جو شخص کوئی لقمہ ‘ یا ٹکڑا ‘ پاخانہ یا پیشاب کی جگہ پر پڑا ہوا پائے ‘ پھر اسے لے کر اس سے گندگی کو صاف کر کے اسے اچھی طرح سے دھو لے ‘ پھر اس کو کھا لے ‘ تو وہ لقمہ اس کے پیٹ میں ٹھہرنے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “۔ ( امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں کسی جنتی شخص سے خدمت نہیں لوں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عیسیٰ بن سالم کے حوالے سے وہب بن عبدالرحمن قریشی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7251

Majma al-Zawaid #7251

«عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلِدِ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ فَنَهَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. وَفِي الْمَنَاقِبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports owing the freeing of a slave from the children of Ismail عليه السلام, intending to free among Yemeni Khawlan captives but being forbidden by the Messenger of Allah ﷺ, then being commanded to free among Mudar captives of Banu al-Anbar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ان کے ذمہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنا لازم تھا ‘ یمن سے خولان قبیلے کے کچھ قیدی آئے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کسی کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں منع کر دیا ‘ پھر مضر قبیلے میں سے بنو عنبر کے کچھ قیدی آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُن میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ’’ مناقب ‘‘ سے متعلق باب میں ‘ اس نوعیت کی دیگر احادیث آئیں گی ۔

7252

Majma al-Zawaid #7252

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا طَلَاقَ إِلَّا لِعِدَّةٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا لِوَجْهِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that divorce is only for the waiting period and freeing only for the sake of Allah. > **"There is no divorce except for a waiting period, and no freeing except for the sake of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ طلاق صرف عدت کے لئے ہوتی ہے ‘ اور آزاد کرنا ‘ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن سعید بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7253

Majma al-Zawaid #7253

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ «رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَهِيَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا قَيْسًا الْجُذَامِيَّ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir al-Juhani رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ declaring the freeing of a believing neck a ransom from the Fire. > **"Whoever frees a believing neck, it is his ransom from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرتا ہے ‘ تو یہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف قیس جذامی کا معاملہ مختلف ہے ‘ کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔

7254

Majma al-Zawaid #7254

«وَعَنْ شُعْبَةَ الْكُوفِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: "" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي مُوسَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shubah al-Kufi reports at Abu Burdah ibn Abi Musa's gathering his father's narration from the Messenger of Allah ﷺ that freeing a neck frees each of the freer's limbs from the Fire for each of its limbs. > **"Whoever frees a neck, Allah frees for each of its limbs a limb of his from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شعبہ کوفی بیان کرتے ہیں : میں ابوبردہ بن ابوموسیٰ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میرے والد ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر ایک عضو کے عوض میں ‘ اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ( ہر ایک ) عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

7255

Majma al-Zawaid #7255

«وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَقَدْ ضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn al-Harith رضي الله عنه reports hearing the Prophet ﷺ promise binding Paradise to one who joins an orphan of Muslim parents to his food and drink until independent, and ransom from the Fire limb for limb to one who frees a Muslim person. > **"Whoever joins an orphan of Muslim parents to his food and drink until he is independent of him, Paradise becomes binding for him, and whoever frees a Muslim person, he is his ransom from the Fire, each of his limbs sufficing for a limb of his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ‘ مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ‘ جب تک وہ اس سے بے نیاز نہیں ہو جاتا ‘ اس شخص کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہو جائے گی ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کر دے ‘ تو وہ آزاد ہونے والا غلام ) اس شخص کے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا ‘ اس ( آزاد ہونے والے غلام ) کا ہر ایک عضو اس ( آزاد کرنے والے شخص ) کے ہر ایک عضو کا کفارہ بن جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔

7256

Majma al-Zawaid #7256

«وَعَنْ مَالِكِ بْنِ (عَمْرٍو) الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَكَانُ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ مُحَرَّرَةُ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا، وَهُوَ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Amr al-Qushayri رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare freeing a Muslim neck a ransom from the Fire with each bone for a bone. > **"Whoever frees a Muslim neck, it is his ransom from the Fire, and each bone of his bones is freed for a bone of his bones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص کسی مسلمان گردن ( یعنی غلام ) کو آزاد کرے ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا ‘ اُس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہڈی کی جگہ ( جہنم سے ) آزاد شمار ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ اس سے زیادہ طویل روایت ہے ‘ نہ نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں بھی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

7257

Majma al-Zawaid #7257

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنَّهُ يَجْرِي مِنْ كُلِّ عُضْوٍ أَوْ يُحَرِّرُ مِنْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو حَرِيزٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ declare that freeing a believing neck flows through each limb in saving a limb from the Fire. > **"Whoever frees a believing neck, from each of its limbs a limb of his is freed from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مومن گردن ( یعنی غلام ) کو آزاد کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے ہر عضو میں جاری ہوتی ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ اس کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کروا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ‘ جسے ابن حبان نے ‘ اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7258

Majma al-Zawaid #7258

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً لِلَّهِ أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad رضي الله عنه reports the Messenger of Allah ﷺ declaring that freeing a neck for Allah frees each of the freer's limbs from the Fire for each of its limbs. > **"Whoever frees a neck for Allah, Allah frees for each of its limbs a limb of his from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے غلام آزاد کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس ) آزاد ہونے والے غلام ) کے ہر ایک عضو کے عوض میں ‘ اُس ( آزاد کرنے والے شخص ) کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7259

Majma al-Zawaid #7259

«وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: "" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ. ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ. ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ. ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ. ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ (ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ) قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ. ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ "". قَالَ: ثُمَّ قَالَ: "" أَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ؛ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ، (وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، فَهِيَ فَكَاكُهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا) وَأَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Awf رضي الله عنه reports being asked which night is most heard, receiving the last depth of night with accepted prayer until dawn, no prayer until the sun is a spear or two high, accepted prayer until the shadow stands a spear's length, none until the sun declines, accepted until a spear or two remains, then none until sunset, followed by ransom rulings for a Muslim man freeing a Muslim man, a Muslim woman freeing a Muslim woman, and one freeing two Muslim necks. > **"The last depth of the night. Then prayer is accepted until dawn breaks. Then no prayer until the sun is a spear or two high. Then prayer is accepted until the shadow stands a spear's length. Then no prayer until the sun declines. Then prayer is accepted until the sun is a spear or two high. Then no prayer until the sun sets."** > **"Any Muslim man who frees a Muslim man, he is his ransom from the Fire, each bone of his sufficing for a bone of his, and any Muslim woman who frees a Muslim woman, she is her ransom from the Fire, each bone of hers sufficing for a bone of hers, and any Muslim man who frees two Muslim necks, they are his ransom from the Fire, each two bones of theirs sufficing for a bone of his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : رات کا کون سا حصہ ( دعا کی قبولیت ) کے حوالے سے زیادہ سنا جانے والا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ‘ پھر اس کے بعد نماز قبول ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی ہے ‘ پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج ایک نیزے یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا پھر نماز مقبول ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ سایہ نیزے جتنا ہو جائے ‘ پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ‘ پھر نماز مقبول ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ سورج ( غروب ہونے کی طرف ) ایک ‘ یا دو نیزے جتنا رہ جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی مسلمان شخص ‘ کسی مسلمان شخص کو آزاد کرتا ہے ‘ تو وہ ( آزاد ہونے والا ) اُس ( آزاد کرنے والے ) کے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتا ہے ‘ اُس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے ‘ اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے ‘ تو وہ اُس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتی ہے ‘ اس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے اور جو مسلمان شخص ‘ دو مسلمان افراد کو آزاد کرتا ہے ‘ تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں ، ان دونوں کی ہر ایک ہڈی اُس کی ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

7260

Majma al-Zawaid #7260

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَعْتَقَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ declaring that freeing a believer in this world frees each of the freer's limbs from the Fire for each of its limbs. > **"Whoever frees a believer in this world, Allah frees for each of its limbs a limb of his from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دنیا میں ‘ کسی مومن کو آزاد کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس ( آزاد ہونے والے ) کے ہر ایک عضو کی جگہ اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7261

Majma al-Zawaid #7261

وَعَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا مَلَكَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا فِيهِ ثَمَنُ رَقَبَةٍ فَلْيُعْتِقْهَا، فَإِنَّهُ يَفْدِي كُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الصَّغَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sukaynah رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ commanding one who owns enough for a neck's price to free it as limb-for-limb ransom. > **"When one of you owns enough for the price of a neck, let him free it, for each of its limbs ransoms a limb of his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسکینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص ایسی چیز کا مالک بن جائے ، جس میں غلام آزاد کرنے کی قیمت ہو ‘ تو اسے غلام آزاد کر دینا چاہیے ‘ کیونکہ اُس ( آزاد ہونے والے ) کا ہر ایک عضو اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ہر ایک عضو کا فدیہ بن جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ صغانی ہے اور وہ متروک ہے ۔

7262

Majma al-Zawaid #7262

«عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً فَأَعْتِقْهَا. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَعْتِقْهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of the Ansar رضي الله عنه reports bringing a black slave girl while owing a believing neck, asking the Prophet ﷺ to free her if believing, whereupon the Prophet ﷺ questioned her on the testimony of monotheism, his messengership, and resurrection, received her affirmation, and ordered her freeing. > **"Do you testify there is no god but Allah? Do you testify I am the Messenger of Allah? Do you believe in resurrection after death? Free her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک سیاہ فام کنیز کو لے کے آیا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ‘ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مومن ہے ‘ تو آپ اسے آزاد کر دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کنیز سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں ‘ اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7263

Majma al-Zawaid #7263

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ أَعْجَمِيَّةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ائْتِنِي بِهَا "". قَالَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: وَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَأَعْتِقْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ (مَتْنُ) أَحَدِهِمَا مِثْلُ هَذَا، وَالْآخَرُ: «فَقَالَ لَهَا: "" أَيْنَ اللَّهُ؟ "". فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ. قَالَ: "" مَنْ أَنَا "". قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ». وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْمَرْزُبَانِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ، وَعَنْعَنَهُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports a man owing a neck and possessing a black non-Arab slave girl, whom the Prophet ﷺ questioned on the two testimonies and ordered freed upon affirmation, with another version questioning where Allah is and receiving a gesture to the heaven and affirmation of his messengership. > **"Bring her to me. Do you testify there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah? Free her. Where is Allah? Who am I? You are the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : مجھ پر ایک گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ‘ اور میرے پاس ایک سیاہ فام عجمی کنیز موجود ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں ‘ اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ ان میں سے ایک روایت کا متن اس روایت کی مانند ہے ‘ اور دوسری کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ‘ ایک راوی سعید بن ابومرزبان ہے ‘ وہ ضعیف اور تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ’’ عنعنہ “ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ برے حافظے کا مالک ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7264

Majma al-Zawaid #7264

«وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَيْنَ اللَّهُ؟ "" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ. قَالَ: "" فَمَنْ أَنَا؟ "" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَتُؤْمِنِينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Juhayfah رضي الله عنه reports a woman bringing a black slave girl while owing a believing neck and asking sufficiency, whereupon the Messenger of Allah ﷺ questioned her on Allah's aboveness, his identity, the two testimonies, and belief in revelation, received affirmation, and judged her believing for freeing. > **"Where is Allah? In the heaven. Who am I? You are the Messenger of Allah. Do you testify there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah? Do you believe in what came from Allah? Free her, for she is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ اس کے ساتھ ایک سیاہ فام کنیز تھی ‘ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، تو کیا یہ کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : آسمان میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے تم اس پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ( اس عورت سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! یہ مومن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7265

Majma al-Zawaid #7265

«وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِأَمَةٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ عَنِّي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ رَبُّكِ؟ "" قَالَتْ: اللَّهُ رَبِّي. قَالَ: "" فَمَا دِينُكِ؟ "" قَالَتِ: الْإِسْلَامُ. قَالَ: "" فَمَنْ أَنَا؟ "" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" فَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: "" وَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَتَصُومِينَ رَمَضَانَ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَتُقِرِّينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِهَا وَقَالَ: "" أَعْتِقِيهَا، فَقَدَ أَجْزَأَتْ عَنْكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْإِيمَانِ، وَفِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ قُبَيْلَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Awn ibn Abdullah ibn Utbah reports from his father from his grandfather that a woman brought a slave girl while owing a believing neck, whom the Messenger of Allah ﷺ questioned on her Lord, religion, his identity, testimony, five prayers, Ramadan fasting, and affirmation of revelation, then struck her back ordering her freeing as sufficient. > **"Who is your Lord? Allah is my Lord. What is your religion? Islam. Who am I? You are the Messenger of Allah. Do you testify I am the Messenger of Allah? I bear witness you are the Messenger of Allah. Do you pray the five? Do you fast Ramadan? Do you affirm what came from Allah? Free her, for she has sufficed for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : مجھے میرے والد نے ‘ میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک عورت اپنی کنیز کے ساتھ ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ‘ تو کیا یہ میری طرف سے کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نیث دریافت کیا : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ اس کنیز نے عرض کی : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اسلام ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم پانچ نمازیں ادا کرتی ہو ؟ اُس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم رمضان کے روزے رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس چیز کا اقرار کرتی ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا اور فرمایا : اسے آزاد کر دو ! یہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ایمان سے متعلق باب میں اور اس شخص سے متعلق باب میں ‘ جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اس سے کچھ پہلے گزرا ہے ‘ اس میں ذکر کی گئی ہیں ۔

7266

Majma al-Zawaid #7266

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا. وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ».

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ used to free slaves who came to him before their masters when they embraced Islam, freeing two men on the day of Taif.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس جو بھی غلام اس کے آقاؤں کے اسلام قبول کرنے سے پہلے آ جاتا تھا ، تو آپ اسے آزاد قرار دیتے تھے ‘ غزوہ طائف کے موقع پر آپ ﷺ نے دو افراد کو آزاد قرار دیا تھا ۔

7267

Majma al-Zawaid #7267

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الطَّائِفِ: "" مَنْ خَرَجَ مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ "". فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكَرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ (بِاخْتِصَارٍ)، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

A variant reports the Messenger of Allah ﷺ announcing on the day of Taif that any slave emerging is free, whereupon slaves including Abu Bakrah emerged and were freed. > **"Whoever among the slaves emerges is free."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : غزوہ طائف کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو بھی غلام نکل کر آئے گا ‘ وہ آزاد شمار ہو گا ، تو کچھ غلام نکل کر آ گئے ، جن میں ایک حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو آزاد قرار دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7268

Majma al-Zawaid #7268

«وَعَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، فَقُلْنَا: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهْرِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ فَأَبَى وَقَالَ: " هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ ". وَكَانَ أَبُو بَكَرَةَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ».

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports from a Thaqafi man that they asked the Messenger of Allah ﷺ three concessions without license, concerning purification in cold land, gourds, and return of Abu Bakrah, who had emerged to the Prophet ﷺ during the Taif siege and embraced Islam, receiving the answer of Divine and Messengerial emancipation. > **"He is the freedman of Allah and the freedman of His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی نے ‘ ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے تین درخواستیں کیں لیکن آپ نے ہمیں رخصت نہیں دی ‘ ہم نے عرض کی : ہماری سرزمین ٹھنڈی سرزمین ہے ‘ ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت عطا کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں رخصت نہیں دی ‘ ہم نے آپ سے یہ گزارش کی کہ آپ ہمیں دباء استعمال کرنے کی رخصت دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ‘ ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کریں ، تو آپ نے یہ بات بھی تسلیم نہیں کی ‘ آپ نے فرمایا : وہ اللہ کے نام پر آزاد ہے اور اس کے رسول کے نام پر آزاد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اس وقت نکل کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔

7269

Majma al-Zawaid #7269

وَفِي رِوَايَةٍ «عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَانٌ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ؛ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ، وَكَانَ مَمْلُوكًا فَأَسْلَمَ قَبْلَنَا وَقَالَ: "" لَا، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» "" فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A variant via al-Shabi from a Thaqafi man reports requesting return of Abu Bakrah as a slave embracing before them, receiving refusal and the judgment of Divine then Messengerial freeing. > **"No, he is the freedman of Allah, then the freedman of the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : فلاں ثقفی نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے تین چیزوں کے بارے میں درخواست کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے ہمیں کسی کے بارے میں بھی رخصت نہیں دی ‘ ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کر دیں ، کیونکہ وہ پہلے غلام تھے اور وہ ہم سے پہلے اسلام لے آئے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کردہ ہے ‘ اور پھر اس کے بعد اللہ کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7270

Majma al-Zawaid #7270

«وَعَنْ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ مُحَاصِرٌ أَهْلَ الطَّائِفِ بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ عَبْدًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ: عُتَقَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports emerging to the Messenger of Allah ﷺ while he besieged Taif with twenty-three slaves, whom the Messenger ﷺ freed, known thereafter as the Utaqa.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نکل کر نبی اکرم ﷺ کی طرف چلے گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس وقت طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ‘ وہ تئیس غلام تھے ‘ جو نکل کر نبی اکرم ﷺ کی طرف گئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں آزاد قرار دیا اور یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں ’’ عتقاء ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7271

Majma al-Zawaid #7271

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: "" أَيَّمَا عَبْدٍ خَرَجَ فَهُوَ حُرٌّ "" فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports the Messenger of Allah ﷺ alighting at Taif and commanding a crier to announce that any slave emerging is free, whereupon two slaves emerged and were freed. > **"Any slave who emerges is free."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے طائف کے پاس پڑاؤ کیا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا : جو غلام نکل کر آئے گا وہ آزاد شمار ہو گا ، تو دو غلام نکل کر آپ کی طرف آئے تھے تو آپ نے ان دونوں کو آزاد قرار دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

7272

Majma al-Zawaid #7272

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: تَدَلَّى عَبْدٌ مِنْ حِصْنِ الطَّائِفِ فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّ عَلَيَّ غُلَامِي. فَقَالَ: "" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ مَوْلَاهُ لَمْ يُرَدَّ إِلَيْهِ، وَإِذَا أَسْلَمَ الْمَوْلَى، ثُمَّ أَسْلَمَ الْعَبْدُ دُفِعَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ وَجِيهٍ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports a slave lowering himself from the Taif fortress, whose master demanded his return, receiving the ruling that a slave embracing before his master is not returned, but a slave embracing after his master is handed over. > **"When a slave embraces before his master, he is not returned to him, and when the master embraces then the slave embraces, he is handed over to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : طائف کے قلعے میں سے ایک غلام اتر کر آ گیا ‘ اس کا آقا بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! میرا غلام مجھے واپس کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب غلام اپنے آقا سے پہلے اسلام قبول کر لے ‘ تو اس غلام کو واپس نہیں کیا جائے گا ‘ اور جب آقا نے اسلام قبول کر لیا اور غلام نے بعد میں اسلام قبول کیا ہو ‘ تو پھر اسے آقا کے سپرد کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم بن وجیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

7273

Majma al-Zawaid #7273

«وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ: أَنَّ نَافِعًا كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَفَرَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْلَانُ مُشْرِكٌ فَأَسْلَمَ غَيْلَانُ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ وَلَاءَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ghaylan ibn Salamah al-Thaqafi, may Allah be pleased with him, reports that Nafi' had been his slave and fled to the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, while Ghaylan was still a polytheist. When Ghaylan later accepted Islam, the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, returned Nafi's wala' to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نافع ‘ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ‘ وہ فرار ہو کر نبی اکرم ﷺ کے پاس چلا گیا ، حضرت غیلان رضی اللہ عنہ اس وقت مشرک تھے ‘ بعد میں حضرت غیلان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے نافع کی ولاء ‘ حضرت غیلان رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7274

Majma al-Zawaid #7274

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ لَعِبَ بِطَلَاقٍ أَوْ عَتَاقٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda', may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, ruled that one who trifles with divorce or emancipation is held to what he uttered. > **"Whoever trifles with divorce or emancipation, it is as he said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کھیل ( یعنی مذاق ) کے طور پر طلاق دے ‘ یا غلام آزاد کرے ‘ تو یہ اس کے کہے ہوئے کی مانند شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7275

Majma al-Zawaid #7275

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ عَقْدٍ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports from the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, that divorce is valid only after a marriage contract and emancipation only after ownership. > **"There is no divorce except after a contract, and no emancipation except after ownership."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ طلاق ‘ عقد ( یعنی نکاح ) کے بعد ہی دی جا سکتی ہے ‘ اور غلام آزاد کرنا ‘ ملکیت کے بعد ہی ہو سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7276

Majma al-Zawaid #7276

«عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ نَمُنَّ عَلَى أَوْلَادِ الزِّنَا فِي الْعِتْقِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, said the Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, commanded them to show favor to children born of zina by freeing them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم آزاد کرنے میں زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں پر احسان کریں ( یعنی انہیں آزاد کریں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی مدینی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7277

Majma al-Zawaid #7277

وَعَنْ سُلْمَى بِنْتِ نَصْرٍ الْمُحَارِبِيَّةِ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَتَاقَةِ وَلَدِ الزِّنَا، فَقَالَتْ: أَعْتِقِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَسَلْمَى لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Salma bint Nasr al-Muharibiyyah said she asked 'A'ishah, may Allah be pleased with her, concerning freeing a child born of zina, and she instructed her to free him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلمی بنت نصر محاربیہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو آزاد کرنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم اُسے آزاد کر دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ سلمی نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ۔