Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 16 · Chapter 1

Book of Wills and Bequests

Hadith 7078–7117

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7078

Majma al-Zawaid #7078

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تَرْكُ الْوَصِيَّةِ عَارٌ فِي الدُّنْيَا، وَنَارٌ وَشَنَارٌ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Abandoning the bequest is disgrace in this world, and Fire and ignominy in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وصیت کو ترک کرنا ‘ دنیا میں شرمندگی اور آخرت میں آگ اور شرمندگی والے عیب کا باعث ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7079

Majma al-Zawaid #7079

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ، وَعِنْدَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"It is not right for a Muslim who has anything to bequeath to pass two dark nights except with his will written beside him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کسی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دو سیاہ راتیں گزار دے ‘ جبکہ اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو ‘ جس کے بارے میں وہ وصیت کر سکتا ہو ‘ مگر یہ کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری صورت میں ہونی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7080

Majma al-Zawaid #7080

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فُلَانٌ. قَالَ: "" أَلَيْسَ كَانَ مَعَنَا آنِفًا؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ كَأَنَّهَا إِخْذَةٌ عَلَى غَضَبٍ. الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: we were with the Messenger of Allah ﷺ when a man came and announced the death of so-and-so. The Prophet ﷺ asked about his sudden absence, and when told he had just been with them, he ﷺ declared it a seizure taken in divine displeasure, and said: > **"Deprived is he who is deprived of making his will."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ ہمارے پاس نہیں تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ یہ غضب والی گرفت محسوس ہوتی ہے ‘ وہ شخص محروم ہے ‘ جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے :’’ وہ شخص محروم ہے ‘ جو وصیت سے محروم رہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

7081

Majma al-Zawaid #7081

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ: هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ. وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ: {يَابَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: 132]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي الْأَصْلِ عَلَامَةُ سُقُوطٍ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَيَّادٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ الْبَزَّارُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: they used to open their wills with the testimony that none is worthy of worship but Allah and that Muḥammad is His servant and Messenger ﷺ, that Paradise is true, Hell is true, the Hour is coming without doubt, and Allah will raise those in the graves. And the testator would enjoin those he left behind with what Ibrāhīm عليه السلام enjoined upon his sons: O my sons, Allah has chosen the religion for you, so die not except as Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ اپنی وصیت کے آغاز میں یہ تحریر کروایا کرتے تھے : ’’ یہ وہ چیز ہے ‘ جس کی وصیت فلاں بن فلاں نے کی ہے ‘ وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، جنت حق ہے ‘ جہنم حق ہے ‘ قیامت آنے والی ہے ‘ جس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا جو قبروں میں ہیں ‘ یہ شخص اپنے بعد والوں کو وہ وصیت کر رہا ہے ‘ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ اے میرے بیٹو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کر لیا ہے ‘ تو تم اس حال میں مرنا کہ تم مسلمان ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اصل میں یہ علامت موجود ہے کہ کچھ عبارت ساقط ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالمؤمن بن عیاد ہے ‘ جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے امام بزار نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7082

Majma al-Zawaid #7082

«عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حُذَيْمِ أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحُذَيْمٍ: اجْمَعْ لِي بَنِيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ. فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي [كُنَّا] نُسَمِّيهَا [فِي الْجَاهِلِيَّةِ] الْمُطَيَّبَةَ. فَقَالَ حُذَيْمٌ: يَا أَبَتِ إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ: إِنَّا نُقِرُّ بِهَذَا عَيْنَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ. قَالَ: فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ حُذَيْمٌ: رَضِينَا. فَارْتَفَعَ حُذَيْمٌ وَحَنِيفَةُ وَحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ، وَهُوَ رَدِيفٌ لِحُذَيْمٍ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حُذَيْمٍ؟ "". قَالَ: هَذَا. وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخْذِ حُذَيْمٍ، فَقَالَ: إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَفْجَأَنِي الْكِبَرُ أَوِ الْمَوْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُوصِيَ، وَإِنِّي قُلْتُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي: أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: "" لَا، لَا، لَا، الصَّدَقَةُ خَمْسٌ وَإِلَّا فَعَشْرٌ وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ وَإِلَّا فَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُونَ، فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ "". قَالَ: فَوَدَعُوهُ، وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا، وَهُوَ يَضْرِبُ حَبْلًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ "". قَالَ حَنْظَلَةُ: فَدَنَا أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ، وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ تَعَالَى لَهُ. فَمَسَحَ رَأَسَهُ وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "" أَوْ "" بُورِكَ فِيكَ "". قَالَ ذَيَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوْ بِالْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعِ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدِهِ، وَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ [عَلَى رَأْسِهِ]، وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ. قَالَ: فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥanẓalah ibn Ḥudhaym رضي الله عنه reported that his grandfather Ḥanīfah gathered his sons to bequeath one hundred prized camels to an orphan in his care. When his sons intended to honor it in his presence but revoke it after his death, they agreed to take the dispute to the Messenger of Allah ﷺ. Upon hearing the bequest, the Prophet ﷺ showed anger in his face, rose upon his knees from his sitting, and said: > **"No, no, no. Charity is five, otherwise ten, otherwise fifteen, otherwise twenty, otherwise twenty-five, otherwise thirty, otherwise thirty-five, and if it is much, then forty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے دادا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیم رضی اللہ عنہ سے کہا : اے میرے بیٹے ! تم میرے ساتھ تیاری کرو ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں وصیت کر دوں ‘ انہوں نے ان سب کو جمع کیا اور پھر یہ کہا : سب سے پہلی وصیت میں یہ کرتا ہوں ‘ یہ یتیم بچہ جو میری زیر پرورش ہے ‘ اس کو ایک سو اونٹ ملیں گے یہ وہ اونٹ ہیں جنہیں ہم زمانہ جاہلیت میں ’’ مطیبہ ‘‘ کہا کرتے تھے ‘ تو حضرت حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابا جان ! میں نے آپ کے بیٹوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : کہ ہم اپنے باپ کے سامنے تو اس بات کو تسلیم کریں گے ‘ لیکن جب ان کا انتقال ہو جائے گا تو اس سے رجوع کر لیں گے ‘ تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ ( گواہ ) بنیں گے ‘ حضرت حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم راضی ہیں ، حضرت حذیم رضی اللہ عنہ اور حضرت حنیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حنظہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا ، جو حضرت حذیم رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا یہ لوگ روانہ ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوحذیم ! تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کی وجہ سے ‘ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ حضرت حذیم رضی اللہ عنہ کے زانو پر مارا ‘ پھر انہوں نے یہ کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے اچانک موت کا شکار ہو جاؤں گا ‘ تو میں وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میں نے یہ کہا کہ میں سب سے پہلی وصیت یہ کرتا ہوں کہ یہ یتیم بچہ ‘ جو میری زیر پرورش ہے اسے ایک سو اونٹ ملیں گے ، جنہیں زمانہ جاہلیت میں ” مطیبہ ‘‘ کہا کرتا تھا تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ‘ یہاں تک کہ ہمیں آپ کے چہرے پر غصے کے آثار محسوس ہوئے ، آپ بیٹھے ہوئے تھے آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور فرمایا : نہیں ! نہیں ! نہیں ! صدقہ پانچ کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو دس کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو پندرہ کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو بیس کا ہوتا ہے ‘ ورنہ پچیس کا ہوتا ہے ‘ یا تیس کا ہوتا ہے ‘ یا پینتیس کا ہوتا ہے ‘ یا زیادہ بھی ہو جائے تو چالیس کا ہوتا ہے “۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے اسے ترک کر دیا یتیم کے پاس عصا موجود تھا ‘ اور وہ رسیوں کو مار رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس لڑکے کی لاٹھی بڑی ہے ‘ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے والد نبی اکرم ﷺ کے قریب ہوئے اور انہوں نے کہا : میرے بیٹے بڑے ہیں جن کی داڑھیاں آ چکی ہے ‘ لیکن یہ سب سے چھوٹا اور سب سے کمسن ہے ‘ تو آپ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت رکھے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے اندر برکت رکھی جائے ۔ ذیال نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اگر ان کے پاس کوئی ایسا شخص لایا جاتا ‘ جس کے چہرے ورم ہوتا ‘ یا کسی جانور کے تھن میں ورم ہوتا ہے ‘ تو وہ اپنے ہاتھ میں لعاب ڈالتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور پھر وہ اس جگہ پر رکھ دیتے ‘ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ، پھر وہ ہاتھ اس پر پھیرتے تھے ‘ تو اُس شخص کا ورم ختم ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7083

Majma al-Zawaid #7083

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ رِجْلَةٍ لَهُ. فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا صَنَعَ فَقَالَ: "" أَوَقَدَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَضِبَ، وَقَالَ: "" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ» "". وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that a man freed six of his slaves though he owned nothing else. When his Bedouin heirs informed the Messenger of Allah ﷺ, he ﷺ disapproved of one who leaves his heirs destitute, and said: > **"Has he indeed done that? Had we known, Allah willing, we would not have prayed over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ‘ دیہات سے تعلق رکھنے والے اس کے ورثاء آئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس کے طرز عمل کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ اگر ہمیں پہلے پتہ ہوتا ‘ تو اگر اللہ نے چاہا ‘ تو ہم اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ‘ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ‘ تو آپ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا ہے ‘ کہ میں اس کی نماز جنازہ نہیں ادا کروں گا ‘‘۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7084

Majma al-Zawaid #7084

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ «أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً». قُلْتُ: حَدِيثُ عِمْرَانَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn and Samurah ibn Jundub رضي الله عنهما reported that a man freed six slaves at death while owning nothing else. The Prophet ﷺ cast lots among them, saying in effect: > **"Let two be freed and four remain enslaved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ‘ اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے قرعہ اندازی کروا کے اُن میں سے دو غلاموں کو آزاد قرار دیا ‘ اور چار کو غلام رہنے دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔

7085

Majma al-Zawaid #7085

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «أَعْتَقَ رَجُلٌ فِي وَصِيَّتِهِ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَسْهَمَ فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ تَوْبَةُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَقَدْ ضُعِّفَ وَوُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه said: a man in his will freed six slaves though he had no wealth besides them. When that reached the Messenger of Allah ﷺ, he ﷺ was angered by exceeding the third, then cast lots and said in effect: > **"Let one-third of them be freed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنی وصیت میں اپنے چھ غلام آزاد کر دیے اس کے ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو آپ نے غصے کا اظہار کیا ، پھر آپ نے قرعہ اندازی کروا کے ان میں سے دو تہائی کو نکلوا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی توبہ بن نمیر ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7086

Majma al-Zawaid #7086

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَجُلًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، وَمَاتَ الرَّجُلُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that in the time of the Messenger of Allah ﷺ a man freed six slaves though he had no other wealth, then died. The Prophet ﷺ cast lots among them, and decreed: > **"Let two be freed and four remain enslaved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ‘ اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا ‘ نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا ‘ اور چار کو غلام رہنے دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7087

Majma al-Zawaid #7087

وَعَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ فَأَذِنُوا لَهُ، ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ فَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: ذَلِكَ النَّكَرُّهُ لَا يَجُوزُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim said: a man sought his heirs' permission to bequeath more than a third, they permitted him, then retracted it after he died. ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه was asked about it and said: that excess is disapproved and not permissible.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے ورثاء سے یہ اجازت مانگی کہ وہ ایک تہائی حصے سے زیادہ کے بارے میں وصیت کر دے ‘ ورثاء نے اسے اجازت دے دی ، پھر انہوں نے اس اجازت سے رجوع کر لیا ‘ یہ انہوں نے اس کے مرنے کے بعد کیا ، اس بارے میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ زیادتی ہے ‘ جو درست نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ قاسم نامی راوی نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7088

Majma al-Zawaid #7088

وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ: يَسْعَى فِي قِيمَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim said: Ibn Masʿūd رضي الله عنه was asked about a man who freed his slave at death though he owned nothing else and owed debt. He said: the slave shall work to earn his price for the creditors and heirs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو مرنے کے قریب اپنا غلام آزاد کر دیتا ہے اور اس شخص کا اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہوتا اور اس شخص کے ذمہ قرض بھی ہوتا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ غلام اپنی قیمت جتنی مزدوری کرے گا ( اور قیمت ادا کرے گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور قاسم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

7089

Majma al-Zawaid #7089

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِيَّاكَ الْحِرْمَانَ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرَ عِنْدَ الْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِنَانٍ الْأَسَدِيُّ كَذَا هُوَ فِي النُّسْخَةِ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ابْنُ زِيَادٍ الْأَسْدِيُّ، فَإِنْ كَانَ ابْنَ زِيَادٍ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said: beware of depriving heirs throughout life and squandering wealth at death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ زندگی بھر محروم رکھنے ‘ اور موت کے وقت فضول خرچی کرنے سے بچ کے رہو ! ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سنان اسدی ہے نسخہ میں اسی طرح مذکور ہے لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ ابن زیاد اسدی ہے کیونکہ اگر یہ ابن زیاد ہو ‘ تو پھر اس کے رجال صحیح کے رجال ہوں گے ۔

7090

Majma al-Zawaid #7090

عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّكُمْ مِنْ احُدَاحِي بِالْكُوفَةِ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُكُمْ، وَلَا يَدْعُ عَصَبَةً، وَلَا رَحِمًا فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَضَعَ مَالَهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Maysarah ʿAmr ibn Shuraḥbīl al-Hamdānī said: ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said to me: when one of you notables of Kūfah dies leaving neither paternal heir nor womb-relative, what prevents him from placing his wealth among the poor and needy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومیسرو عمرو بن شرحبیل ہمدانی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کوفہ کے اکابرین ! اگر تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے اور وہ کسی عصبہ کو نہیں چھوڑتا اور کسی رشتہ دار کو نہیں چھوڑتا ، تو پھر اس کے لئے کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ کہ وہ اپنا مال غریبوں اور مسکینوں میں خرچ کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7091

Majma al-Zawaid #7091

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah, Mighty and Majestic, has charitably granted you one-third of your wealth at your death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کے ایک تہائی حصے کو تم پر صدقہ کیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

7092

Majma al-Zawaid #7092

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي حَيَاتِكُمْ لِيَجْعَلَهَا لَكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah has charitably granted you one-third of your wealth at your death as an increase in your lifetimes, to make it an increase in your deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کے ایک تہائی حصے کو تم پر صدقہ کیا ہے تاکہ تمہاری زندگی میں یہ چیز اضافی ہو جائے ‘ اور یہ تمہارے اعمال میں اضافے کا باعث بن جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ضبی ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ امام احمد نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7093

Majma al-Zawaid #7093

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُبَيْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn ʿUbayd al-Sulamī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed Allah, Mighty and Majestic, has given you at your death one-third of your wealth as an increase in your deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عبید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تمہیں عطا کیا ہے ‘ تاکہ تمہارے اعمال میں اضافہ ہو جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

7094

Majma al-Zawaid #7094

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ لَيَصْنَعُ فِي ثُلُثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ خَيْرًا فَيُوَفِّي اللَّهُ بِذَلِكَ زَكَاتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه raised it to the Prophet ﷺ, who said: > **"The Muslim man indeed does good with his third at death, and Allah thereby completes his purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ مسلمان شخص موت کے قریب ایک تہائی مال کے بارے میں بھلائی کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کا پورا تزکیہ کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7095

Majma al-Zawaid #7095

وَعَنْ عَمْرِو (بْنِ) الْقَارِئِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدَّمَ مِنْ جِعْرَانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ، وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ وَذَاكَ كَثِيرٌ "". قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَمُوتُ بِالْأَرْضِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا. قَالَ: "" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِئِ إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَاهُنَا فَادْفِنْهُ "". نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ بَعْدَ مَا انْطَلَقَ إِلَى حُنَيْنٍ وَرَجَعَ إِلَى الْجِعْرَانَةِ وَقَسَّمَ الْمَغَانِمَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عِيَاضُ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِئُ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Qāriʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ left Saʿd رضي الله عنه ill when he went to Ḥunayn, then visited him ill and overpowered by pain after returning from al-Jiʿrānah for ʿUmrah. Saʿd asked about bequeathing all his wealth since he had no child to inherit, then two-thirds, then half, and the Prophet ﷺ refused each, until he asked about a third. The Prophet ﷺ said: > **"Yes, and that is much. I hope Allah will raise you so that some peoples are humbled through you and others benefit through you. O ʿAmr ibn al-Qāriʾ, if Saʿd dies after me here, bury him here."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بیمار چھوڑا تھا ‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ حنین تشریف لے گئے تھے ‘ جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے ‘ تو آپ ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ انتہائی بیمار تھے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس مال بھی ہے اور میری آل اولاد نہیں ہے ‘ تو کیا میں اپنے پورے مال کے بارے میں وصیت کر دوں یا اسے صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں دو تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : نصف کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہ بھی زیادہ ہے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا میں اس سرزمین پر مر جاؤں گا ؟ جہاں سے میں ہجرت کر کے نکلا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سر بلندی عطا کرے گا ( یعنی تمہیں اور بھی زندگی دے گا ) اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کو رسوا کرے گا اور دوسرے لوگوں کو تمہارے ذریعے نفع دے گا ‘ اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد کا انتقال یہاں ہوتا ہے ‘ تو تم اسے ( یہاں ) دفن کرنا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کے راستے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں دفن کرنا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت مکہ میں تھے یہ آپ کے حنین چلے جانے اور جعرانہ سے واپس آنے اور مال غنیمت تقسیم کر دینے کے بعد کی بات ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا ‘ صفا و مروہ کی سعی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عمرو قاری ہے ‘ کسی نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ۔

7096

Majma al-Zawaid #7096

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ «أَنْ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَصِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ: "" الرُّبْعُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAbd al-Raḥmān al-Makhzūmī from his father from his grandfather reported that Saʿd رضي الله عنه asked the Prophet ﷺ about bequests, and he ﷺ said: > **"A quarter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عثمان بن عبدالرحمن مخزومی ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے وصیت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک چوتھائی حصے کے بارے میں ( وصیت کر دو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7097

Majma al-Zawaid #7097

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ «أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ أَوْصَى لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثُلُثِ مَالِهِ يَضَعُهُ حَيْثُ يَشَاءَ فَرَدَّهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَلَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَتَابِعِيُّهُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه reported that al-Barāʾ ibn Maʿrūr رضي الله عنه bequeathed one-third of his wealth to the Prophet ﷺ to dispose wherever he wished, but the Prophet ﷺ returned it to his children.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے لئے اپنے مال میں ایک تہائی حصے کی وصیت کی کہ نبی اکرم ﷺ جہاں چاہیں اُسے خرچ کر سکتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ مال اُن کے بچوں کو واپس کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کے تابعی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7098

Majma al-Zawaid #7098

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى لِرَجُلٍ بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ فَجَعَلَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّدُسَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that a man bequeathed to another man a share of his wealth, and the Prophet ﷺ fixed it, saying in effect: > **"Let him have a sixth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے اپنے مال کے ’’ ایک حصے ‘‘ کے بارے میں اس شخص کے لئے وصیت کر دی تو نبی اکرم ﷺ نے اس ’’ حصے ‘‘ کو ’’ چھٹا حصہ ‘‘ قرار دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7099

Majma al-Zawaid #7099

وَعَنْهُ «أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ لِرَجُلٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَهْمًا مِنْ مَالِهِ فَمَاتَ الرَّجُلُ، وَلِمَ يَدْرِ مَا هُوَ، فَرُفِعَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَهُ السُّدُسَ مِنْ مَالِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From him رضي الله عنه: a man in the time of the Messenger of Allah ﷺ assigned to another man a share of his wealth, then died without its amount being known. The matter was raised to the Messenger of Allah ﷺ, and he ﷺ decreed: > **"Let him have a sixth of his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کے لئے اپنے مال کا ’’ ایک حصہ ‘‘ مخصوص کر دیا پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس حصے سے مراد کیا ہے ؟ یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس ’’ حصے ‘‘ سے مراد اس شخص کے مال کا ’’ چھٹا ‘‘ حصہ لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7100

Majma al-Zawaid #7100

«عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي، وَأَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يُجْزِئُ عَنْكَ (مِنْ ذَلِكَ) الثُّلُثُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ: وَأَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي الَّتِي أَصَبْتُ فِيهَا الذَّنْبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik رضي الله عنه said: I said, O Messenger of Allah, part of my repentance is to detach myself from my wealth and abandon the abode of my people where I committed the sin. The Messenger of Allah ﷺ said to him: > **"One-third of that will suffice you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری توبہ میں یہ بات شامل ہے کہ میں اپنے مال سے الگ ہو جاؤں اور اپنی قوم کے اس علاقے کو چھوڑ دوں ‘ جہاں میں نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ایک تہائی حصہ بھی تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے صرف یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ اپنی قوم کے اس علاقے سے الگ ہو جاؤں ‘ جہاں میں نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

7101

Majma al-Zawaid #7101

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَلَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلَ فِي فِي امْرَأَتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"For you to leave your heirs rich is better than to leave them destitute begging from people. You will not spend any expenditure seeking thereby the Face of Allah but you will be rewarded for it, even what you place in the mouth of your wife."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو ‘ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں بد حال چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں ‘ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے ‘ تمہیں اس کا اجر ملے گا ‘ یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالو گے ( اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ متروک ہے ۔

7102

Majma al-Zawaid #7102

عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجُمَحِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَأَنَا عِنْدَ نَاقَتِهِ: "" لَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ. قَدْ أَعْطَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ. مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ.

EnglishUnverified translation

Khārijah ibn ʿAmr al-Jumaḥī رضي الله عنه said: on the Day of the Conquest, while I stood by his she-camel, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no bequest for an heir. Allah, Mighty and Majestic, has given every rightful one his right, and for the adulterer is deprivation. Whoever claims another than his father or takes as patrons other than his liberators, upon him is the curse of Allah, the angels, and all people; Allah will accept from him neither obligatory nor voluntary deed on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خارجہ بن عمرو جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے یہ فرمایا ‘ میں اس وقت آپ کی اونٹنی کے پاس موجود تھا ( آپ ﷺ نے یہ فرمایا : ) ’’ وارث کے لئے وصیت نہیں ہو گی ‘ اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کو اس کا حق دے دیا ہے ‘ زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی جو شخص اپنے باپ کی بجائے کسی اور طرف خود کو منسوب کرے ‘ یا آزاد کرنے والے اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ ‘ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7103

Majma al-Zawaid #7103

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيْسَ لِقَاتِلٍ وَصِيَّةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه said: I heard the Prophet ﷺ say: > **"There is no bequest for a killer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قاتل کے لئے وصیت نہیں ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7104

Majma al-Zawaid #7104

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَمُطِيعَ بْنَ الْأَسْوَدِ أَوْصَوْا إِلَى الزُّبَيْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn ʿUrwah said: ʿAbdullāh ibn Masʿūd, al-Miqdād ibn al-Aswad, ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and Muṭīʿ ibn al-Aswad رضي الله عنهم appointed al-Zubayr رضي الله عنه as executor of their wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ کے لئے وصیت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7105

Majma al-Zawaid #7105

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَوْصَى إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَائِشَةُ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَشَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah said: ʿĀʾishah, Ḥakīm ibn Ḥizām, Shaybah ibn ʿUthmān, and ʿAbdullāh ibn ʿĀmir رضي الله عنهم appointed ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما as executor of their wills.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لئے وصیت کی تھی ، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ حضرت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عامر ( نے بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لئے وصیت کی تھی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7106

Majma al-Zawaid #7106

وَعَنْ أَبِي حُصَيْنٍ قَالَ: أَوْصَى عُبَيْدَةُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْأَسْوَدُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥuṣayn said: ʿUbaydah bequeathed that al-Aswad should lead his funeral prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحصین بیان کرتے ہیں : عبیدہ نے یہ وصیت کی تھی کہ اسود اُن کی نماز جنازہ پڑھائیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7107

Majma al-Zawaid #7107

عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، فَقَالَ: إِنَّ عَمِّي أَوْصَى إِلَيَّ بِتَرِكَتِهِ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ تَرِكَتِهِ أَفَأَشْتَرِيهِ؟ قَالَ: لَا، وَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ṣilah ibn Zufar said: a man of Hamdān came on a piebald horse to ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه and said, my uncle appointed me executor of his estate, and this horse is from it, may I buy it. He said: no, nor shall you borrow anything from his wealth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ اس کا تعلق ہمدان سے تھا ‘ وہ ابلق گھوڑے پر سوار تھا ، اس نے کہا : میرے چچا نے اپنے ترکہ کے بارے میں میرے لئے وصیت کی تھی ( کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں گا ) اور یہ گھوڑا اس ترکہ میں شامل ہے ‘ تو کیا میں اسے خرید سکتا ہوں ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! تم اس مال میں سے کوئی چیز قرض کے طور پر بھی نہیں لو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7108

Majma al-Zawaid #7108

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ، وَلَا يُضِلُّونَ. وَكَانَ فِي الْبَيْتِ لَغَطٌ فَتَكَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَفَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَعِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ يَكْتُبُ فِيهَا كِتَابًا لِأُمَّتِهِ قَالَ: "" لَا يَظْلِمُونَ، وَلَا يُظْلَمُونَ "". وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that near his death the Messenger of Allah ﷺ called for a sheet to write a document after which they would neither stray nor lead astray. Voices rose in the house and ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه spoke, so the Messenger of Allah ﷺ set it aside. In another wording he ﷺ intended to write for his Ummah: > **"They shall neither wrong nor be wronged."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے وصال کے قریب ایک صحیفہ منگوایا ‘ تاکہ اس میں ایسی تحریر لکھ دیں کہ جس کے بعد لوگ گمراہ نہیں ہوں گے اور گمراہ نہیں کریں گے ‘ گھر میں اس بارے میں آوازیں بلند ہوئیں ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بات چیت شروع کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس تحریر میں اپنی امت کے لئے یہ لکھوانا تھا کہ نہ وہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم کیا جائے ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7109

Majma al-Zawaid #7109

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَتِفٍ فَقَالَ: "" ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَخْتَلِفُونَ بِعْدِي أَبَدًا "". فَأَخَذَ مَنْ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ فِي لَغَطٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِمَّنْ حَضَرَ: وَيْحَكُمُ عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ! فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: اسْكُتِي، فَإِنَّهُ لَا عَقْلَ لَكِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْتُمْ لَا أَحْلَامَ لَكُمْ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: the Messenger of Allah ﷺ called for a shoulder-blade and said: > **"Bring me a shoulder-blade; I shall write for you a document after which you will never differ after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( جانور کے ) کندھے ( کی ہڈی ) منگوائی ‘ آپ نے فرمایا : میرے پاس کندھا ( یعنی جانور کی کندھے کی ہڈی ) لے کر آؤ ! تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں ، تم میرے بعد کبھی اختلاف نہیں کرو گے تو آپ کے پاس لوگوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ‘ حاضرین میں سے ایک خاتون نے کہا : تم لوگوں کا ستیاناس ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے ‘ تو حاضرین میں سے کسی نے کہا : تم خاموش رہو ! تمہیں عقل نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سب میں سمجھ داری نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7110

Majma al-Zawaid #7110

وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: «أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ: "" لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ. وَلَا تَعُقَنَّ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ. وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا، فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ. وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا، فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ. وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ، فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخْطُ اللَّهِ. وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ، وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ، وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ فَاثْبُتْ. وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ enjoined me with ten counsels: > **"Associate nothing with Allah, even if you are killed and burned. Do not disobey your parents, even if they command you to leave your family and wealth. Do not deliberately abandon an obligatory prayer, for whoever deliberately abandons an obligatory prayer, the protection of Allah is disavowed from him. Do not drink wine, for it is the head of every obscenity. Beware of disobedience, for by disobedience the wrath of Allah descends. Beware of fleeing from the battlefront, even if people perish; if death befalls people, stand firm. Spend upon your family from your means, do not lift your stick from them in discipline, and make them fear Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے دس کلمات کی وصیت کی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ خواہ تمہیں قتل کر دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ‘ اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ‘ اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنے مال سے نکل جاؤ ‘ اور تم فرض نماز جان بوجھ کر ہرگز ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر ترک کر دیتا ہے ‘ اس سے اللہ تعالی کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور تم شراب ہرگز نہ پینا ‘ کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے اور تم گناہ کے ارتکاب سے بچ کے رہنا ‘ کیونکہ گناہ اللہ تعالیٰ کی ناراضنگی کو حلال کر دیتا ہے اور تم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے سے بچنا ‘ خواہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہوں ‘ اگر لوگوں کو موت لاحق ہو جائے ‘ تو تم ثابت قدم رہنا ‘ اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان کی تربیت کے حوالے سے ان سے عصا کو نہ اٹھانا اور انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے رہنا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ امام طبرانی کی سند متصل ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

7111

Majma al-Zawaid #7111

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَبْلِكَ. أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلُّ شَيْءٍ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، فَإِنَّهُ جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ» "". فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ: "" «وَاخَزِنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ، فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه was asked by a man for counsel, and replied: you have asked me what I once asked the Messenger of Allah ﷺ before you. He ﷺ said: > **"I enjoin upon you fear of Allah, for it is the head of everything; upon you is jihād, for it is the monasticism of Islam; upon you is remembrance of Allah and recitation of the Qurʾān, for it is your spirit in the heaven and your remembrance on earth. Guard your tongue except for good, for thereby you will overcome Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ انہوں نے فرمایا : تم نے مجھ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ‘ جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے تم سے پہلے دریافت کیا ( تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ) ’’ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ ہر چیز کی بنیاد ہے اور تم پر جہاد کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے اور تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا لازم ہے کیونکہ یہ آسمان میں تمہارے لئے آسانی کا باعث بنے گا اور زمین میں تمہارے ذکر کا باعث بنے گا “۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ ہر بھلائی کا مجموعہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم اپنی زبان کو صرف بھلائی کے کام میں استعمال کرنا ‘ اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

7112

Majma al-Zawaid #7112

وَعَنْ حَرْمَلَةَ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، فَقَالَ: "" اتَّقِ اللَّهَ، وَإِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْهُ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا تَكْرَهُ فَاتْرُكْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥarmalah al-ʿAnbarī رضي الله عنه said: I came to the Messenger of Allah ﷺ and said, O Messenger of Allah, enjoin me. He ﷺ said: > **"Fear Allah. When you sit in a gathering then leave it, and you hear them saying what pleases you, come to it; and when you hear them saying what you dislike, leave it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حرملہ عنبری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور جب تم کسی محفل میں موجود ہو اور تم وہاں سے اٹھو اور پھر تم ان لوگوں کو وہ بات کہتے ہوئے سنو ‘ جو تمہیں اچھی لگے تو تم چلے جانا اور جب ان لوگوں کو کوئی ایسی بات کہتے ہوئے سنو ‘ جو تم ناپسند کرتے ہو ‘ تو پھر اسے چھوڑ دینا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7113

Majma al-Zawaid #7113

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي. قَالَ: "" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ؛ فَإِنَّهَا رَأْسُ أَمْرِكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورٌ لَكَ فِي السَّمَاوَاتِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" لَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ؛ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ؛ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ؛ فَإِنَّهُ مَرَدَّةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" انْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكَ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عِنْدَكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" صِلْ قَرَابَتَكَ، وَإِنْ قَطَعُوكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" لَا تَخَفْ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي. قَالَ: "" تُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ "". ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ مِنْ عِنْدِ قَوْلِهِ: لَا وَرَعَ كَالْكَفِّ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو زُرْعَةَ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه said: I said, O Messenger of Allah, enjoin me. He ﷺ kept increasing me with each asking, enjoining taqwa as the head of the affair, recitation of the Qurʾān and remembrance as light in the heavens and earth, avoiding much laughter which kills the heart and removes the light of the face, jihād as the monasticism of this Ummah, silence except for good which repels Satan and aids the religion, looking to one below and not above so as not to despise Allah's blessing, joining kin even if they sever, fearing no blame in Allah, and loving for people what one loves for oneself. Then he ﷺ struck his hand upon my chest and said: > **"O Abū Dharr, there is no intellect like planning, no piety like restraint, and no nobility like good character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ‘ کیونکہ یہ تمہارے معاملے ( یعنی دین ) کی بنیاد ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اللہ کا ذکر کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ چیز تمہارے لئے آسمانوں میں نور ہو گی اور زمین میں تمہارے لئے نور ہو گی ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم زیادہ نہ ہنسنا ‘ کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر جہاد کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ میری امت کے رہبانیت ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر خاموش رہنا لازم ہے البتہ بھلائی کی بات کا معاملہ مختلف ہے ‘ یہ چیز شیطان کو تم سے پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہاری مددگار ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کا جائزہ لینا جو تم سے کمتر ہو ‘ تم اس کی طرف نہ دیکھنا جو تم سے بلند تر ہو ‘ یہ چیز اس بات کے زیادہ لائق ہو گی کہ تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہیں سمجھو گے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ‘ اگرچہ وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کے لئے اُسی چیز کو پسند کرنا ‘ جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوذر ! تدبیر کی مانند کوئی عقل مندی نہیں ہے ‘ احتیاط کی مانند کوئی پرہیز گاری نہیں ہے ‘ اور اچھے اخلاق کی مانند کوئی خوبی نہیں ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ پرہیز کی مانند کوئی احتیاط نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہاں سے لے کر آخر تک نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی غسانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7114

Majma al-Zawaid #7114

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعِ خِلَالٍ قَالَ: "" لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتُمْ أَوْ حُرِّقْتُمْ أَوْ صُلِبْتُمْ، وَلَا تَتْرُكُوا الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا، فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْمِلَّةِ. وَلَا تَرْكَبُوا الْمَعْصِيَةَ؛ فَإِنَّهَا سُخْطُ اللَّهِ، وَلَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ؛ فَإِنَّهَا رَأْسُ الْخَطَايَا كُلِّهَا، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الْمَوْتِ وَإِنْ كُنْتُمْ فِيهِ، وَلَا تَعْصِ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا كُلِّهَا فَاخْرُجْ، وَلَا تَضَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ، وَأَنْصِفْهُمْ مِنْ نَفْسِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ enjoined me with seven traits: > **"Do not associate anything with Allah, even if you are cut, burned, or crucified. Do not deliberately abandon prayer, for whoever abandons it deliberately has left the religion. Do not commit disobedience, for it is the wrath of Allah. Do not drink wine, for it is the head of all sins. Do not flee from death, even if you are in it. Do not disobey your parents, even if they command you to leave the entire world, then leave it. Do not put your stick down from your family, and deal justly with them from yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی تھی آپ نے فرمایا تھا : ’’ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ‘ یا تمہیں مصلوب کر دیا جائے ‘ اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر اسے ترک کرتا ہے ‘ وہ ملت سے خارج ہو جاتا ہے ‘ اور تم معصیت کا ارتکاب نہ کرنا ‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے اور تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ‘ اور تم موت سے فرار اختیار نہ کرنا ‘ اگرچہ تم اس میں ہو ‘ اور تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا ‘ اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنی پوری دنیا سے نکل جاؤ ‘ تو تم نکل جانا اور تم اپنے اہل خانہ سے عصا کو اُٹھا کے نہ رکھنا اور اپنی ذات کی طرف سے اُن کے ساتھ انصاف سے کام لینا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن شریح ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7115

Majma al-Zawaid #7115

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ: "" لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتُ أَوْ حُرِّقْتُ. وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا؛ فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَهَا، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ. وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ. وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دُنْيَاكَ فَاخْرُجْ مِنْهَا. وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِنَّكَ أَنْتَ أَنْتَ وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكْتَ. وَأَقْرِ أَصْحَابَكَ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمُ الْعَصَا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ» "" (فَقَطْ). وَقَدْ عَلَّمَ الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ عَلَيْهِ عَلَامَةَ ابْنِ مَاجَهْ وَلَعَلَّهُ قَلَّدَ فِيهِ ابْنُ عَسَاكِرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ enjoined me with seven: > **"Do not associate anything with Allah, even if you are cut or burned. Do not deliberately abandon prayer, for whoever abandons it, the protection is disavowed from him. Do not drink wine, for it is the key to every evil. Obey your parents, even if they command you to leave your world, then leave it. Do not dispute authority with its people. Do not flee from the battlefront, even if you perish. Honor your companions, spend upon your family from your means, do not lift the stick from them, and make them fear Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی تھی :’’ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ‘ اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص اسے ترک کر دیتا ہے اس سے ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے ‘ اور تم اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ‘ اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم دنیا سے نکل جاؤ ‘ تو تم اس سے نکل جانا اور تم حکومت کے بارے میں متعلقہ فرد سے تنازع نہ کرنا ‘ تم تم ہی ہو اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ‘ خواہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تم اپنے ساتھیوں کی مہمان نوازی کرنا ‘ اور اپنے اہل خانہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا ‘ اور تم اُن سے عصا نہ اٹھانا اور تم اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے :’’ تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے ‘‘۔ شیخ جمال الدین مزی نے اس پر ’’ ابن ماجہ ‘‘ کی علامت لگائی ہے ‘ شاید انہوں نے اصل میں ’’ ابن عساکر ‘‘ کہنا تھا ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7116

Majma al-Zawaid #7116

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنِّي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي. وَأَنْ أُحِبَّ الْمَسَاكِينَ وَأَدْنُوَ مِنْهُمْ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِي، وَإِنْ قَطَعَتْنِي وَجَفَتْنِي. وَأَنْ أَقُولَ بِاللَّهِ لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَأَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا. وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الْجُوديِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه said: my Beloved ﷺ enjoined me: > **"Look to one below you and do not look to one above you. Love the poor and draw near them. Join your womb even if it severs you and treats you harshly. Speak for Allah and fear in Allah no blame of a blamer. Ask no one for anything. And increase in saying: there is no might nor power except through Allah, for it is from the treasures of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ﷺ نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں اس شخص کا جائزہ لوں ‘ جو مجھ سے نیچے کا ہے ‘ میں اس شخص کی طرف نہ دیکھوں ‘ جو مجھ سے اوپر کا ہے اور یہ کہ میں مسکینوں سے محبت رکھوں اور ان کے قریب رہوں اور میں صلہ رحمی کروں ‘ اگرچہ وہ لوگ میرے ساتھ زیادتی کریں اور جفا کریں ‘ اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کروں ‘ اور میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے خوف زدہ نہ ہوؤں ‘ اور میں کسی سے کچھ نہ مانگوں اور میں کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة الا باللہ» پڑھتا ہوں ‘ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجودی ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7117

Majma al-Zawaid #7117

وَعَنْ أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضُوءَهُ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ: "" لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ. وَلَا تَعْصِ وَالِدَيْكَ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلَّى مِنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتَخَلَّ. وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ. وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ. وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَاءَ بِسَخْطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ. وَلَا تَزْدَادَنَّ فِي تُخُومِ أَرْضِكَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ مِنْ مِقْدَارِ سَبْعِ أَرَضِينَ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ، وَلَا تَرَفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umaymah, freedwoman of the Messenger of Allah ﷺ, said: I was pouring his ablution water when a man entered and said, enjoin me. He ﷺ said: > **"Do not associate anything with Allah, even if you are cut and burned with fire. Do not disobey your parents, even if they command you to abandon your family and world, then abandon it. Do not ever drink wine, for it is the key to every evil. Do not ever deliberately abandon prayer, for whoever does so, the protection of Allah and His Messenger is disavowed from him. Do not ever flee from the battlefront, for whoever does so returns with wrath from Allah and his abode is Hell, an evil destination. Do not ever add to the boundaries of your land, for whoever does so will come on the Day of Resurrection carrying upon his neck the measure of seven earths. Spend upon your family from your means, do not lift your stick from them, and make them fear Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام امیمہ رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی کنیز ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ پر وضو کا پانی انڈیل رہی تھی اسی دوران ایک شخص اندر آیا ‘ اس نے کہا : آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ‘ خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے ‘ یا تمہیں آگ کے ذریعے جلا دیا جائے ‘ اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ‘ اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنی دنیا سے نکل جاؤ ‘ تو تم نکل جانا اور تم شراب ہرگز نہ پینا ‘ کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ‘ اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر واپس آتا ہے ‘ اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے ‘ اور تم زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات میں کوئی اضافہ نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرے گا ‘ تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کی گردن پر سات زمینوں کی مقدار جتنے ( وزن کا طوق ) ہو گا اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان سے اپنے عصا کو اُٹھا کے نہ رکھنا اور اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ‘ جسے امام بخاری اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔