«عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حُذَيْمِ أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحُذَيْمٍ: اجْمَعْ لِي بَنِيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ. فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي [كُنَّا] نُسَمِّيهَا [فِي الْجَاهِلِيَّةِ] الْمُطَيَّبَةَ. فَقَالَ حُذَيْمٌ: يَا أَبَتِ إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ: إِنَّا نُقِرُّ بِهَذَا عَيْنَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ. قَالَ: فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ حُذَيْمٌ: رَضِينَا. فَارْتَفَعَ حُذَيْمٌ وَحَنِيفَةُ وَحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ، وَهُوَ رَدِيفٌ لِحُذَيْمٍ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حُذَيْمٍ؟ "". قَالَ: هَذَا. وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخْذِ حُذَيْمٍ، فَقَالَ: إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَفْجَأَنِي الْكِبَرُ أَوِ الْمَوْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُوصِيَ، وَإِنِّي قُلْتُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي: أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ: "" لَا، لَا، لَا، الصَّدَقَةُ خَمْسٌ وَإِلَّا فَعَشْرٌ وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ وَإِلَّا فَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُونَ، فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ "". قَالَ: فَوَدَعُوهُ، وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا، وَهُوَ يَضْرِبُ حَبْلًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ "". قَالَ حَنْظَلَةُ: فَدَنَا أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ، وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ تَعَالَى لَهُ. فَمَسَحَ رَأَسَهُ وَقَالَ: "" بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ "" أَوْ "" بُورِكَ فِيكَ "". قَالَ ذَيَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوْ بِالْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعِ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدِهِ، وَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ [عَلَى رَأْسِهِ]، وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ. قَالَ: فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ḥanẓalah ibn Ḥudhaym رضي الله عنه reported that his grandfather Ḥanīfah gathered his sons to bequeath one hundred prized camels to an orphan in his care. When his sons intended to honor it in his presence but revoke it after his death, they agreed to take the dispute to the Messenger of Allah ﷺ. Upon hearing the bequest, the Prophet ﷺ showed anger in his face, rose upon his knees from his sitting, and said: > **"No, no, no. Charity is five, otherwise ten, otherwise fifteen, otherwise twenty, otherwise twenty-five, otherwise thirty, otherwise thirty-five, and if it is much, then forty."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے دادا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیم رضی اللہ عنہ سے کہا : اے میرے بیٹے ! تم میرے ساتھ تیاری کرو ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں وصیت کر دوں ‘ انہوں نے ان سب کو جمع کیا اور پھر یہ کہا : سب سے پہلی وصیت میں یہ کرتا ہوں ‘ یہ یتیم بچہ جو میری زیر پرورش ہے ‘ اس کو ایک سو اونٹ ملیں گے یہ وہ اونٹ ہیں جنہیں ہم زمانہ جاہلیت میں ’’ مطیبہ ‘‘ کہا کرتے تھے ‘ تو حضرت حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابا جان ! میں نے آپ کے بیٹوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : کہ ہم اپنے باپ کے سامنے تو اس بات کو تسلیم کریں گے ‘ لیکن جب ان کا انتقال ہو جائے گا تو اس سے رجوع کر لیں گے ‘ تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ ( گواہ ) بنیں گے ‘ حضرت حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم راضی ہیں ، حضرت حذیم رضی اللہ عنہ اور حضرت حنیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حنظہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا ، جو حضرت حذیم رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا یہ لوگ روانہ ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابوحذیم ! تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کی وجہ سے ‘ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ حضرت حذیم رضی اللہ عنہ کے زانو پر مارا ‘ پھر انہوں نے یہ کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں بڑھاپے کی وجہ سے اچانک موت کا شکار ہو جاؤں گا ‘ تو میں وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میں نے یہ کہا کہ میں سب سے پہلی وصیت یہ کرتا ہوں کہ یہ یتیم بچہ ‘ جو میری زیر پرورش ہے اسے ایک سو اونٹ ملیں گے ، جنہیں زمانہ جاہلیت میں ” مطیبہ ‘‘ کہا کرتا تھا تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے ‘ یہاں تک کہ ہمیں آپ کے چہرے پر غصے کے آثار محسوس ہوئے ، آپ بیٹھے ہوئے تھے آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور فرمایا : نہیں ! نہیں ! نہیں ! صدقہ پانچ کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو دس کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو پندرہ کا ہوتا ہے ‘ وہ نہیں تو بیس کا ہوتا ہے ‘ ورنہ پچیس کا ہوتا ہے ‘ یا تیس کا ہوتا ہے ‘ یا پینتیس کا ہوتا ہے ‘ یا زیادہ بھی ہو جائے تو چالیس کا ہوتا ہے “۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے اسے ترک کر دیا یتیم کے پاس عصا موجود تھا ‘ اور وہ رسیوں کو مار رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس لڑکے کی لاٹھی بڑی ہے ‘ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے والد نبی اکرم ﷺ کے قریب ہوئے اور انہوں نے کہا : میرے بیٹے بڑے ہیں جن کی داڑھیاں آ چکی ہے ‘ لیکن یہ سب سے چھوٹا اور سب سے کمسن ہے ‘ تو آپ اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت رکھے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے اندر برکت رکھی جائے ۔ ذیال نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اگر ان کے پاس کوئی ایسا شخص لایا جاتا ‘ جس کے چہرے ورم ہوتا ‘ یا کسی جانور کے تھن میں ورم ہوتا ہے ‘ تو وہ اپنے ہاتھ میں لعاب ڈالتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور پھر وہ اس جگہ پر رکھ دیتے ‘ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ، پھر وہ ہاتھ اس پر پھیرتے تھے ‘ تو اُس شخص کا ورم ختم ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔