وَعَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَفْلَحَ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ. قَالَ: وَوَجْهُكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ، وَأَنَا أُغَدِّي النَّاسَ فَغَدَّيْتُهُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ، وَأَخُوكَ فِي دِينِكَ، وَصَاحِبُكَ مَعَ نَبِيِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَهْرُكَ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بَعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُجِيبُكَ أَنِّي قَدْ شَفَّعْتُكَ فِي عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ، وَلَكِنَّهُ أَبَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا رَأْيُهُ. ثُمَّ بَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ عَنْ دَارِي لَخَرَجْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Suhayb, freedman of al-'Abbas, reports that al-'Abbas sent him to summon 'Uthman, may Allah be pleased with them, whom he found feeding the people; 'Uthman finished feeding them and came, greeting Abu al-Fadl with a prayer for a prosperous face. Al-'Abbas adjured him by Allah concerning 'Ali — his cousin, his brother in religion, his companion with the Prophet ﷺ, and his in-law — having heard that 'Uthman meant to move against 'Ali and his companions, and asked to be excused from any part in it. 'Uthman answered that he first granted the intercession for 'Ali: had 'Ali wished, none would have stood before him, unless he refused, in which case the matter rested on his own stands. He then sent to 'Ali adjuring him by ties of cousinhood, brotherhood in religion, companionship with the Messenger of Allah ﷺ, and the pledge of allegiance — and 'Ali swore by Allah that were he commanded to go forth from his very house, he would go forth.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
صہیب ‘ جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ‘ تاکہ میں انہیں بلا کے لاؤں ‘ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے ‘ میں نے انہیں بلایا وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : اے ابوالفضل ! آپ چہرہ کامیاب ہو ( یعنی دعا دی ) تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین ! آپ کا چہرہ بھی ( کامیاب ہو ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا تو انہیں کھانا کھلانے کے فوراً بعد میں آپ کے پاس آ گیا ہوں ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو علی کے بارے میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ‘ وہ آپ کے چچازاد ہیں ‘ دین میں آپ کے بھائی ہیں نبی کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی ہیں ‘ اور آپ کے سسرالی عزیز بھی بنتے ہیں ‘ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ علی اور اس کے ساتھیوں کو اس کا نگران بنا دیں اور مجھے اس معاملے میں معاف رکھیں اے امیر المونین ! تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو سب سے پہلا جواب تو یہ دیتا ہوں کہ علی کے بارے میں ، میں نے آپ کی سفارش کو قبول کر لیا ‘ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ چاہیں تو کوئی شخص ان کے علاوہ مناسب نہیں ہے ‘ لیکن اگر وہ انکار کر دیتے ہیں ، تو پھر ان کی رائے کا معاملہ مختلف ہے ‘ پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں آپ کو آپ کے چچازاد اور آپ کے پھوپھی زاد اور آپ کے دین میں ‘ آپ کے بھائی اور آپ کے رسول کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی اور آپ کے بیعت کے نگران ہونے کے حوالے سے آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے یہ حکم دے دیں کہ میں اپنے گھر سے نکل جاؤں تو میں نکل جاؤں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔