Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 15 · Chapter 3

Book of Judgments and Rulings

Hadith 7064–7077

14 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7064

Majma al-Zawaid #7064

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَحَدِ بَنِي أَشْجَعَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُعِينَهُ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ، فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَيَّاشُ بْنُ مُؤْنِسٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Aws ibn Shurahbil of Banu Ashja', may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ declare that walking with an oppressor in order to aid him, while knowing him to be an oppressor, expels one from Islam. > **"Whoever walks with an oppressor to aid him, knowing that he is an oppressor, has departed from Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اوس بن شرحبیل رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوا شجع سے ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چل کے جانا ہے ‘ تاکہ اس کی مدد کرے ‘ جبکہ وہ یہ جانتا ہو کہ وہ شخص ظالم ہے ‘ تو وہ اسلام سے نکل جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عیاش بن مونس ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

7065

Majma al-Zawaid #7065

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ فِي اللَّهِ فِي مُلْكِهِ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَحَقٌّ أَوْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ مَشَى مَعَ قَوْمٍ يَرَى أَنَّهُ شَاهِدٌ وَلَيْسَ بِشَاهِدٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ. وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْ شُعَيْرَةٍ. وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَجَاءٌ السَّقَطِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports a cluster of warnings: that intercession standing between a hadd of Allah and its execution sets one in opposition to Allah in His dominion; that aiding a dispute while ignorant whether it is truth or falsehood keeps one under the wrath of Allah until he withdraws; that marching with a people as a supposed witness when one is no witness is false testimony; that feigning a dream burdens one with knotting the two ends of a grain of barley; and that reviling a Muslim is fisq while fighting him is kufr. > **"Whose intercession stands between a hadd of Allah and its execution has set himself against Allah in His dominion. Whoever aids a dispute, not knowing whether it is truth or falsehood, remains in the wrath of Allah until he withdraws. Whoever marches with a people deeming himself a witness when he is no witness is a false witness. Whoever feigns a dream shall be tasked with knotting the two ends of a grain of barley. Reviling a Muslim is fisq, and fighting him is kufr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی سفارش ‘ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن جائے ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ‘ اللہ تعالیٰ کے مدمقابل ہوتا ہے ‘ اور جو شخص کسی خصومت میں مدد کرتا ہے اور وہ یہ جانتا ہی نہیں کہ یہ حق ہے یا باطل ہے ؟ تو وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ‘ جب تک وہ الگ نہیں ہو جاتا ہے اور جو شخص کسی قوم کے ساتھ چل کر جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہ ہو ‘ تو وہ جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہوتا ہے اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ‘ اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ چھوٹے جو کے دو کناروں کے درمیان گرہ لگائے ، مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال ‘ کفر ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی رجاء سقطی ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

7066

Majma al-Zawaid #7066

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُولُ اللَّهُ: اشْتَدَّ غَضَبِي عَلَى مَنْ ظَلَمَ مَنْ لَا يَجِدُ نَاصِرًا غَيْرِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مِسْعَرُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّهْدِيُّ كَذَا هُوَ فِي الطَّبَرَانِيِّ، وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا مِسْعَرَ بْنَ يَحْيَى النَّهْدِيَّ، ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ بِخَبَرٍ ذَكَرَهُ لَهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

'Ali, may Allah be pleased with him, reports the Divine word that Allah's wrath burns severe against the one who wrongs a man who finds no helper but Him. > **"Allah says: My anger is severe against one who wrongs him who finds no helper other than Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا غضب اس شخص پر شدید ہو گا جو کسی ایسے شخص پر ظلم کرتا ہے ‘ جو میرے علاوہ کسی اور کو مددگار نہیں پاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسعر بن حجاج نہدی ہے ‘ طبرانی میں اسی طرح ہے ‘ جبکہ میں نے مسعر بن یحیی نہدی کا ذکر پایا ہے ، جسے امام ذہبی نے ایک روایت کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جو انہوں نے اس کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

7067

Majma al-Zawaid #7067

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِينَ: مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِنْ حَقٍّ، وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports three traits of the character of the believers: anger that never draws into falsehood, contentment that never removes from truth, and power that never grasps what is not one's own. > **"Three are of the character of the believers: when one is angered, his anger does not draw him into falsehood; when he is pleased, his pleasure does not remove him from truth; and when he is empowered, he does not grasp what is not his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں اہل ایمان کے اخلاق میں سے ہیں ، وہ شخص کہ جب وہ غضبناک ہو ‘ تو اس کا غضب اُسے باطل میں داخل نہ کرے ‘ اور وہ جب راضی ہو ‘ تو اس کی رضامندی اسے حق سے نکالے نہیں ‘ اور وہ شخص کہ جو قدرت رکھتا ہو ‘ تو وہ اس چیز کے درپے نہ ہو ‘ جس کا اُسے حق نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن حسین ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

7068

Majma al-Zawaid #7068

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ: "" أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ، وَأَنْ يَفْدُوا غَائِبَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Amr, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ had a covenant written between the Muhajirun and the Ansar: that they jointly bear their blood-money obligations, ransom their captive with kindness, and maintain reconciliation among the Muslims. > **"That they jointly bear their blood-money obligations, ransom their absent one with kindness, and maintain reconciliation among the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک تحریر لکھوائی تھی کہ وہ ان کی دیت ادا کریں گے اور ان کے غیر موجود شخص کا مناسب طریقے سے فدیہ دیں گے اور مسلمانوں کے درمیان بہتری پیدا کریں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔

7069

Majma al-Zawaid #7069

وَعَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْذِيِّ قَالَ: «رَمَيْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِيهَا ظَبْيٌ، فَأَفْلَتَ فَأَخَذَهُ رَجُلٌ فَجَاءَ وَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ أَحَدُنَا صَارَ فِي يَدِهِ دُونَ صَاحِبِهِ، فَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mukhawwal al-Bahdhi, may Allah be pleased with him, reports that he had set snares at al-Abwa' in which a gazelle was caught, then escaped and was seized by another man. Both disputants came to the Messenger of Allah ﷺ, neither yielding to his fellow, so he ﷺ divided it between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مخول بہدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں لگائی ہوئی تھیں ، ان میں ایک ہرن پھنس گیا ، پھر وہ چھوٹ گیا ، ایک شخص نے اسے پکڑ لیا وہ شخص اور میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کے لیے اس کو چھوڑ نہیں رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7070

Majma al-Zawaid #7070

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَلِّبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ لِلْعَبَّاسِ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَكَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ. فَلَمَّا وَصَلَ الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ [فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ] فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِ الْمِيزَابِ، ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ [ثُمَّ جَاءَ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ: وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَّا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِشَامَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ..

EnglishUnverified translation

'Ubaydullah ibn 'Abbas ibn 'Abd al-Muttalib, brother of 'Abdullah ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, reports that al-'Abbas had a spout over the road of 'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with them. On a Friday, as 'Umar passed in his Friday garments, water mixed with the blood of two chicks slaughtered for al-'Abbas poured from the spout upon him, so 'Umar ordered the spout torn out, then returned, cast off his garments, put on others, and led the people in prayer. Al-'Abbas, may Allah be pleased with him, came to him swearing by Allah that the Prophet ﷺ himself had set it in that very place, whereupon 'Umar adjured him to climb upon his own back and restore it to the exact spot where the Messenger of Allah ﷺ had placed it — and al-'Abbas did so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب ‘ رضی اللہ عنہ جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا ایک پرنالہ تھا ، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ( دور خلافت میں اُن کے ) راستے میں آتا تھا ‘ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن مخصوص لباس پہنا ‘ اسی دن حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لئے دو پرندے ذبح کیے گئے ‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پرنالے کے پاس پہنچے ‘ تو اس پرنالے میں سے دونوں پرندوں کا خون پانی کے ساتھ بہتا ہوا آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لگ گیا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو اکھاڑ دینے کا حکم دیا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ واپس گئے ، انہوں نے کپڑے اتارے ‘ دوسر الباس پہنا پھر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ( نماز کے بعد ) حضرت عباس رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور بولے : اللہ کی قسم ! یہ پرنالہ اس جگہ پر لگا ہوا تھا ‘ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اسے لگایا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ میری پشت پر سوار ہو کر اُس پرنالے کو اسی جگہ رکھیں ‘ جہاں نبی اکرم ﷺ نے اسے لگایا تھا ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ ہشام بن سعد نامی راوی نے حضرت عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

7071

Majma al-Zawaid #7071

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُحَرِّكْهُ فَلَا أُحَرِّكُهُ. فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ. فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَّسَ رَأْسَهُ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ فَضَرَبْتُ [يَدِي] بَيْنَ كَتِفَيِ الْعَبَّاسِ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ إِلَى عَلِيٍّ. قَالَ: فَسَلَّمَهُ لَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that after the passing of the Messenger of Allah ﷺ, al-'Abbas disputed with 'Ali, may Allah be pleased with them, over things the Prophet ﷺ had left behind. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, refused to disturb what the Messenger of Allah ﷺ had left undisturbed, and 'Umar after him took the same stand. When the dispute was brought before 'Uthman, may Allah be pleased with him, he fell silent and bowed his head. Fearing he might seize it, Ibn 'Abbas struck his hand between the shoulders of al-'Abbas, his father, and adjured him to surrender it to 'Ali — and he surrendered it to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کچھ چیزوں کے بارے میں اختلاف ہو گیا ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے ترکہ میں چھوڑی تھیں ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ چیز جسے نبی اکرم ﷺ نے ترکہ میں چھوڑا ہے ‘ اور اسے آپ نے کوئی حرکت نہیں دی تھی ‘ تو میں بھی اسے کوئی حرکت نہیں دوں گا ‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو یہ دونوں صاحبان اپنا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے بھی یہ کہا کہ جس چیز کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں دی تھی ، تو میں بھی اسے حرکت نہیں دوں گا ‘ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ‘ تو ان دونوں نے اپنا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خاموش رہے ۔ انہوں نے اپنا سر جھکا لیا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اس چیز کو اپنے قبضے میں لے لیں گے ‘ تو میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا اور میں نے یہ کہا : اے ابا جان ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ یہ چیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے وہ چیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7072

Majma al-Zawaid #7072

وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ فَعَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: "" بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ يَا عَبَّاسُ قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ، ابْنُ أَخِي وَلِي شَطْرُ الْمَالِ. وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ، تَقُولُ: ابْنَتُهُ تَحْتِي وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ. وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَدْ رَأَيْنَا مَا يَصْنَعُ فِيهِ فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ، وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ» "". وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ» "". وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُمَانِي لَتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قَالَ: فَخَلَوْا، ثُمَّ جَاءَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ، فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A venerable elder of Quraysh of Banu Taym, transmitting from six or seven Qurashis including 'Abdullah ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them, reports that 'Ali and al-'Abbas, may Allah be pleased with them, entered upon 'Umar raising their voices over what had been in the hands of the Messenger of Allah ﷺ. 'Umar bade al-'Abbas desist — knowing his plea that as the nephew he owned half the estate — and 'Ali — knowing his plea through the Prophet's daughter under him — reminding them how the Prophet ﷺ had disposed of it, and how Abu Bakr after him and 'Umar himself had striven to follow that practice. 'Umar swore that Abu Bakr had truthfully heard the Prophet ﷺ say that the Prophet is not inherited, his legacy being for the poor and needy of the Muslims, and that the Prophet does not die until one of his ummah has led him in prayer. He offered to hand the estate to the two disputants only if they would administer it by the practice of the Messenger of Allah ﷺ and of Abu Bakr — so they withdrew, returned, and al-'Abbas willingly ceded it to 'Ali. > **"The Prophet is not inherited; his legacy is for the poor and needy of the Muslims. The Prophet does not die until one of his ummah has led him in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قریش میں سے ‘ بنوتیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے یہ بات بیان کی ہے : فلاں نے اور فلاں نے اور فلاں نے یہاں تک کہ انہوں نے چھ یا سات افراد کو شمار کروایا ‘ جن سب کا تعلق قریش سے تھا ‘ اور ان میں ایک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ انہوں نے مجھے یہ روایت بیان کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے ‘ ان دونوں کی آواز بلند ہو رہی تھی ( یعنی آپس میں تکرار چل رہی تھی ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابا جان ! آپ ٹھہر جائیں مجھے پتہ ہے آپ کیا کہیں گے کہ میرے بھتیجے کا نصف مال مجھے ملنا چاہیے ‘ اور اے علی مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کیا کہیں گے ؟ آپ کہیں گے : ان کی صاحبزادی میری بیوی ہے ‘ تو اسے نصف مال ملنا چاہیے ‘ یہ جو کچھ بھی نبی اکرم ﷺ کے قبضے میں تھا ‘ ہم نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے کس طرح استعمال کیا ؟ آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے نگران بنے ‘ تو انہوں نے اس سب کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے طریقے کے مطابق استعمال کیا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں اس کا نگران بنا ‘ تو میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس بات کی بھرپور کوشش کروں گا کہ اس بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق کام کروں ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ‘ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اُٹھا کر یہ کہا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ نبی کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی ‘ اُن کی وراثت مسلمانوں کے غریب لوگوں اور مساکین کو دی جاتی ہے “۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نبی کا اُس وقت تک انتقال نہیں ہوتا ‘ جب تک اُس کی امت کا کوئی فرد اس کی امامت نہیں کرتا “ ( اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) یہ وہ چیزیں تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے قبضے میں تھیں ، ہم نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ انہیں کیسے استعمال کرتے تھے ؟ اگر آپ دونوں یہ چاہیں ‘ تو یہ دونوں میرے حوالے کر دیں ‘ یا یہ کہ آپ اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق عمل کرتے ہیں ، تو پھر میں یہ آپ کے سپرد کر دیتا ہوں ‘ راوی کہتے ہیں : یہ حضرات اس وقت اُٹھ کے چلے گئے ‘ پھر یہ دونوں حضرات واپس آئے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ یہ علی کے حوالے کر دیں ‘ کیونکہ میں اپنی خوشی سے یہ اس کو دے رہا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7073

Majma al-Zawaid #7073

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ: لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ. قَالَ مَعْمَرٌ: جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ: الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin reports that al-Hasan ibn 'Ali, may Allah be pleased with them both, declared that from Jabars to Jabaliq — the east to the west, as Ma'mar glosses — no man would be found whose grandfather was a Prophet but he and his brother. He counselled gathering upon Mu'awiyah, may Allah be pleased with him, adding that he knew not but that it might be a trial for them and enjoyment for a time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’ اگر تم جابرس سے لے کر جابلق تک کا جائزہ لو ‘ تو تمہیں میرے اور میرے بھائی ( یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا ‘ جس کا نانا ’’ نبی ‘‘ ہو اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی خلافت ) پر اکھٹے ہو جاؤ ‘ ہو سکتا ہے کہ یہ بھی تمہارے لئے آزمائش ہو ‘ اور مخصوص مدت تک کی مہلت ہو ‘‘۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں : جابرس اور جابلق سے مراد ‘ مشرق اور مغرب ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7074

Majma al-Zawaid #7074

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالنُّخَيْلَةِ حِينَ صَالَحَهُ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِذَا كَانَ ذَا فَقُمْ فَتَكَلَّمْ وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ سَلَّمْتَ هَذَا الْأَمْرَ لِي. وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: أَخْبِرِ النَّاسَ بِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تَرَكْتَهُ. فَقَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ. قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَأَنَا أَسْمَعُ. ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ إِمَّا كَانَ حَقًّا لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ، أَوْ يَكُونُ حَقًّا كَانَ لِامْرِئٍ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi reports that he witnessed al-Hasan ibn 'Ali, may Allah be pleased with them both, at al-Nukhaylah when Mu'awiyah made peace with him. Mu'awiyah bade him rise, address the people, and announce his surrender of authority — in one transmission, to inform them of the affair he had abandoned. Al-Hasan rose upon the pulpit, praised Allah and extolled Him, then declared that the wisest wisdom is piety and the most foolish folly is immorality; that the authority disputed between him and Mu'awiyah — if it had been his own right — he surrendered to Mu'awiyah seeking the rectitude of this ummah and the sparing of its blood, and if it had been the right of one more entitled to it than he, he likewise yielded it; adding that he knew not but that it might be a trial for them and enjoyment for a time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : نخیلہ کے مقام پر ‘ میں حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ‘ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صلح کی ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : جب یہ بات ہو گئی ہے ‘ تو آپ اٹھ کر کلام کریں اور یہ بات بیان کریں کہ آپ نے حکومت میرے حوالے کر دی ہے ‘ یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بتا دیں جسے آپ نے ترک کر دیا ہے ‘ تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ‘ امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں یہ بات سن رہا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا :’’ اما بعد ! سب سے بڑی سمجھداری ‘ پرہیز گاری ہے ‘ اور سب سے بڑی حماقت گنہگاری ہے ‘ یہ معاملہ جس کے بارے میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا ‘ اگر تو یہ میرا حق تھا ، تو پھر میں اسے معاویہ کے لئے چھوڑ رہا ہوں ، تاکہ اس امت کے درمیان بہتری ہو جائے اور ان کا خون بہنا بند ہو جائے ‘ اور اگر یہ کسی ایسے شخص کا حق تھا ‘ جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ‘ تو میں نے ایسا کر لیا ہے ( اور اس سے دست بردار ہو گیا ہوں ) مجھے نہیں معلوم کہ شاید یہ صورت حال بھی تم لوگوں کے لئے آزمائش ہو ‘ اور ایک مخصوص مدت تک کی مہلت ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7075

Majma al-Zawaid #7075

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي اجْتَمَعَ فِيهِ عَلِيٌّ وَمُعَاوِيَةُ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنَّهُ لَا يَجْمُلُ بِكَ أَنْ تَتَخَلَّفَ عَنْ صُلْحٍ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ صِهْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ يَوْمَئِذٍ عَلَى بُخْتِيٍّ عَظِيمٍ فَقَالَ: مَنْ يَطْمَعُ فِي هَذَا الْأَمْرِ وَيَرْجُوهُ أَوْ يَمُدُّ لَهُ عُنُقَهُ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِالدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ذَهَبْتُ أَنْ أَقُولَ: يَطْمَعُ فِيهِ مَنْ ضَرَبَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَدْخَلَكُمَا فِيهِ. فَذَكَرْتُ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا فَأَعْرَضْتُ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ أَرَادَ صُلْحَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَوَهِمَ الرَّاوِي.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that when the day came for 'Ali and Mu'awiyah, may Allah be pleased with them, to meet at Dumat al-Jandal, Hafsah, may Allah be pleased with her, told him it ill became him — the in-law of the Messenger of Allah ﷺ and the son of 'Umar ibn al-Khattab — to lag behind a peace through which Allah would reconcile the ummah of Muhammad ﷺ. Mu'awiyah arrived that day upon a great Bactrian camel asking who aspired to authority and craned his neck toward it. Ibn 'Umar, who had never before entertained worldly ambition, was moved to answer that it is aspired to by him who fought him and his father over Islam until he brought them into it — but he remembered Paradise and its bliss, and turned away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب وہ دن آیا جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل کے مقام اکٹھا ہونا تھا ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سے کہا : یہ چیز تمہارے لئے مناسب نہیں ہے کہ تم اس صلح سے پیچھے رہو ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی امت میں صلح کروا دے گا ‘ تم اللہ کے رسول ﷺ کے سسرالی عزیز ہو ‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہو ‘ اس دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بڑے بختی اونٹ پر بیٹھ کر آئے اور بولے : اس معاملے کے بارے میں کون لالچ رکھتا ہے ؟ اور کون اس کی امید رکھتا ہے ؟ اور اس کی طرف گردن اٹھا کے دیکھتا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس دن سے پہلے کبھی میں نے اپنے دل میں دنیا کے بارے میں نہیں سوچا تھا ‘ لیکن اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں یہ کہوں : اس کے بارے میں وہ شخص امید رکھتا ہے ، جس نے اسلام کی خاطر تمہارے ساتھ اور تمہارے باپ کے ساتھ جنگ کی تھی ‘ یہاں تک کہ تم دونوں کو اسلام میں داخل کروایا تھا ، لیکن پھر مجھے جنت اور اس کی نعمتوں کا خیال آ گیا ‘ تو میں نے اس سے اعراض کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ بظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ ) حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح ہے اور اس بارے میں راوی کو وہم ہوا ہے ۔

7076

Majma al-Zawaid #7076

وَعَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَفْلَحَ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ. قَالَ: وَوَجْهُكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ، وَأَنَا أُغَدِّي النَّاسَ فَغَدَّيْتُهُمْ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ، وَأَخُوكَ فِي دِينِكَ، وَصَاحِبُكَ مَعَ نَبِيِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَهْرُكَ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بَعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا أُجِيبُكَ أَنِّي قَدْ شَفَّعْتُكَ فِي عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ، وَلَكِنَّهُ أَبَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا رَأْيُهُ. ثُمَّ بَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ عَنْ دَارِي لَخَرَجْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Suhayb, freedman of al-'Abbas, reports that al-'Abbas sent him to summon 'Uthman, may Allah be pleased with them, whom he found feeding the people; 'Uthman finished feeding them and came, greeting Abu al-Fadl with a prayer for a prosperous face. Al-'Abbas adjured him by Allah concerning 'Ali — his cousin, his brother in religion, his companion with the Prophet ﷺ, and his in-law — having heard that 'Uthman meant to move against 'Ali and his companions, and asked to be excused from any part in it. 'Uthman answered that he first granted the intercession for 'Ali: had 'Ali wished, none would have stood before him, unless he refused, in which case the matter rested on his own stands. He then sent to 'Ali adjuring him by ties of cousinhood, brotherhood in religion, companionship with the Messenger of Allah ﷺ, and the pledge of allegiance — and 'Ali swore by Allah that were he commanded to go forth from his very house, he would go forth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صہیب ‘ جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ‘ تاکہ میں انہیں بلا کے لاؤں ‘ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے ‘ میں نے انہیں بلایا وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : اے ابوالفضل ! آپ چہرہ کامیاب ہو ( یعنی دعا دی ) تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المومنین ! آپ کا چہرہ بھی ( کامیاب ہو ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا تو انہیں کھانا کھلانے کے فوراً بعد میں آپ کے پاس آ گیا ہوں ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو علی کے بارے میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ‘ وہ آپ کے چچازاد ہیں ‘ دین میں آپ کے بھائی ہیں نبی کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی ہیں ‘ اور آپ کے سسرالی عزیز بھی بنتے ہیں ‘ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ علی اور اس کے ساتھیوں کو اس کا نگران بنا دیں اور مجھے اس معاملے میں معاف رکھیں اے امیر المونین ! تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو سب سے پہلا جواب تو یہ دیتا ہوں کہ علی کے بارے میں ، میں نے آپ کی سفارش کو قبول کر لیا ‘ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ چاہیں تو کوئی شخص ان کے علاوہ مناسب نہیں ہے ‘ لیکن اگر وہ انکار کر دیتے ہیں ، تو پھر ان کی رائے کا معاملہ مختلف ہے ‘ پھر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں آپ کو آپ کے چچازاد اور آپ کے پھوپھی زاد اور آپ کے دین میں ‘ آپ کے بھائی اور آپ کے رسول کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی اور آپ کے بیعت کے نگران ہونے کے حوالے سے آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے یہ حکم دے دیں کہ میں اپنے گھر سے نکل جاؤں تو میں نکل جاؤں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7077

Majma al-Zawaid #7077

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: أَلَا تَعْذِرُنِي مِنْ عَلِيٍّ فَقُلْتُ: "" مَا لَهُ؟ "". فَقُلْتُ: جَاءَنِي رَجُلٌ فَعَادَنِي. فَقَالَ عَلِيٌّ: تَنَحَّيْ عَنْهُ وَإِلَّا أُنْفِدُكِ بِالرُّمْحِ. وَأَنَّهُ طَعَنَنِي فِي مُقَدَّمِ رَأْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا كَانَ عَلِيٌّ لِيَطْعَنَكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Hani, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her in the year of the Conquest. She asked him to shield her from 'Ali; when he asked what was the matter, she said a man had come to her seeking her protection, but 'Ali told her to stand aside from him lest he pierce her with his spear — and indeed pricked the front of her head. The Prophet ﷺ reassured her that 'Ali would never have stabbed her. > **"'Ali would never have stabbed you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : فتح کے مکہ کے سال ‘ نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ‘ میں نے کہا : کیا آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے نہیں بچائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا : ایک شخص میرے پاس آیا وہ میرے پیچھے چھپ گیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اس کے آگے سے ہٹ جاؤ ! ورنہ میں تمہیں نیزہ مار دوں گا ‘ اور پھر انہوں نے میرے سر کے اگلے حصے پر نیزہ چبھو بھی دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علی کو تمہیں نیزہ نہیں مارنا چاہیے تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔