Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 15 · Chapter 2

Book of Judgments and Rulings

Hadith 7024–7063

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7024

Majma al-Zawaid #7024

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ» - يَعْنِي الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الْخَطَّابِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, cursed corruption in judgment, including the intermediary who walks between the two parties. > **"The Messenger of Allah cursed the briber, the bribed, and the go-between"** — meaning the one who walks between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے رشوت دینے والے ‘ رشوت لینے والے اور رائش ( راوی کہتے ہیں : یعنی وہ شخص جو اُن دونوں کے درمیان معاملہ طے کرتا ہے ) پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ‘ بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوخطاب ہے اور وہ مجہول ہے ۔

7025

Majma al-Zawaid #7025

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, cursed both sides of bribery. > **"The Messenger of Allah cursed the briber and the bribed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کے رسول نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

7026

Majma al-Zawaid #7026

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned of the end of bribery. > **"The briber and the bribed shall be in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنم میں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7027

Majma al-Zawaid #7027

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: لَهُ فِي السُّنَنِ: "" «لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, gave the same stern warning. > **"The briber and the bribed shall be in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنم میں ہوں گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ سنن ‘‘ میں اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے :’’ اللہ تعالیٰ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7028

Majma al-Zawaid #7028

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, specified bribery in judicial rulings. > **"Allah has cursed the briber and the bribed in judgment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرنے میں ‘ رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7029

Majma al-Zawaid #7029

وَعَنْ عُلَيْمٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَبْسًا الْغِفَارِيَّ - وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ. قَالَ عَبْسٌ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي، ثَلَاثًا يَقُولُهَا. فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ: لِمَ تَقُلْ هَذَا؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ، وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ ""؟. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا: إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ [وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ] وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشُوءًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَابِسٌ الْغِفَارِيُّ وَقَالَ: "" «يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ، وَلَا أَعْلَمِهِمْ، وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً» "". وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUlaym reports that they sat upon a roof with a Companion of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him — ʿAbas al-Ghifari, may Allah be pleased with him — while people fled from the plague. ʿAbas thrice called upon the plague to take him. When questioned, since the Prophet forbade wishing for death, he cited the Prophet's command to hasten death before corruptions appear. > **"Hasten toward death before six: the rule of the foolish, the multitude of police, the sale of judgment, the belittling of blood, the severing of kinship, and a generation who take the Qurʾan as flutes, putting forward a man to chant for them though he is the least of them in understanding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک سطح پر بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ‘ علیم کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق وہ حضرت عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ‘ لوگ طاعون میں نکل رہے تھے ‘ حضرت عبس رضی اللہ عنہ نے کہا : اے طاعون ! تو مجھے گرفت میں لے انہوں نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے ‘ تو علیم نے ان سے کہا : آپ نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ کیا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات نہیں ارشاد فرمائی ہے :’’ تم میں سے کوئی ایک شخص موت کی آرزو نہ کرے ‘ کیونکہ اس صورت میں اس کا عمل منقطع ہو جائے گا ‘ اور اسے دوبارہ بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ نئے سرے سے عمل کرے “۔ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بے وقوفوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگایا جانا ‘ فیصلے کو فروخت کرنا ‘ خون کو کم تر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق پامال کرنا ‘ اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ‘ جو قرآن کو گانے کا ذریعہ بنا لیں گے ‘ وہ اپنے آگے ایسے شخص کو کریں گے ‘ جو ان کو گا کر سنائے گا ‘ اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سب سے کم تر ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ‘ جو ان میں سب سے بڑا فقیہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑا عالم نہیں ہو گا اور سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ‘ بلکہ وہ ہو گا ‘ جو انہیں گا کر سنائے گا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7030

Majma al-Zawaid #7030

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: فِي كِيسِي هَذَا حَدِيثٌ لَوْ حَدَّثْتُكُمُوهُ لَرَجَمْتُمُونِي. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا أَبْلُغَنَّ رَأْسَ السِّتِّينَ. قَالُوا: وَمَا رَأْسُ السِّتِّينَ؟ قَالَ: إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَالشَّهَادَةُ بِالْمَعْرِفَةِ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمَانَةَ غَنِيمَةً وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا، وَنَشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ. قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَالتَّهَاوُنُ بِالدَّمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said he carried a report in his keeping which, if he disclosed, the people would stone him. He then prayed: O Allah, let me not reach the beginning of sixty. When asked what that meant, he listed the corruptions he feared: the rule of children, the sale of judgment, the multitude of police, testimony by acquaintance, treating trust as booty and charity as a fine, a generation who take the Qurʾan as flutes, and disregard for blood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے ذہن میں ایک حدیث ہے : اگر میں اُسے تم لوگوں کو بیان کر دوں ‘ تو تم لوگ مجھے پتھر مارو گے ‘ پھر انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں ساٹھ ہجری تک نہ پہنچوں ‘ لوگوں نے کہا : ساٹھ ہجری کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بچوں کی حکومت آ جائے گی ‘ فیصلے فروخت ہوں گے ‘ شرطیں زیادہ عائد کی جائیں گی ‘ جان پہچان کی بنیاد پر گواہی دی جائے گی امانت کو غنیمت بنا لیا جائے گا ‘ صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ‘ اور ایسے لوگ آئیں گے ‘ جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ۔ حماد کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا : کہ خون کو ہلکا سمجھا جائے گا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7031

Majma al-Zawaid #7031

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا السُّحْتُ؟ قَالَ: الرِّشَا فِي الْحُكْمِ. قَالَ: ذَاكَ الْكُفْرُ. ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44]). رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَشَيْخُ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Masruq reports that he sat with ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, when a man asked what unlawful devouring is. Ibn Masʿud replied that it is bribes in judgment, that this is disbelief, and then he recited: And whoever does not judge by what Allah has revealed — those are the disbelievers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا : حرام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : فیصلہ دیتے ہوئے رشوت لینا ‘ انہوں نے فرمایا : یہ کفر ہے ‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور جو شخص اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا ‘ جو اللہ نے نازل کیا ہے ‘ تو یہی لوگ کافر ہیں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ کے استاد محمد بن عثمان بن عمر سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7032

Majma al-Zawaid #7032

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ كُفْرٌ، وَهُوَ بَيْنَ النَّاسِ سُحْتٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that a bribe in judgment is disbelief, and among people it is unlawful devouring.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فیصلے میں رشوت لینا کفر ہے اور یہ لوگوں کے درمیان حرام ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7033

Majma al-Zawaid #7033

وَعَنْهُ قَالَ: السُّحْتُ: الرِّشْوَةُ فِي الدِّينِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ غَيْرُ مُسَمًّى، فَإِنْ كَانَ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ فَهُوَ ثِقَةٌ، وَإِنْ كَانَ ضِرَارَ بْنَ صُرَدَ فَهُوَ ضَعِيفٌ، وَكِلَاهُمَا رَوَى عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ.

EnglishUnverified translation

On his authority, may Allah be pleased with him, it is reported that he said unlawful devouring is bribery in religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : سحت ( حرام ) یہ ہے کہ دین میں رشوت لی جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اگر تو یہ فضل بن دکین ہے ‘ تو پھر یہ ثقہ ہے اور اگر یہ ضرار بن صرد ہے ‘ تو پھر یہ ضعیف ہے ‘ اور ان دونوں نے سفیان سے روایت نقل کی ہے اور اس سے علی بن عبدالعزیز بغوی نے روایت نقل کی ہے ۔

7034

Majma al-Zawaid #7034

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «هَدَايَا الْعُمَّالِ غُلُولٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحِجَازِيِّينَ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Humayd al-Saʿidi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, condemned gifts given to office-holders. > **"The gifts of officials are misappropriation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سرکاری اہلکاروں کو دیے جانے والے تحائف ‘ خیانت ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے ۔

7035

Majma al-Zawaid #7035

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warn the unqualified witness. > **"Whoever testifies against a Muslim a testimony he is not worthy to give, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دے ‘ جس گواہی کا وہ اہل نہ ہو ‘ تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس میں تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7036

Majma al-Zawaid #7036

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الطَّيْرَ لَتَضْرِبُ بِمَنَاقِيرِهَا عَلَى الْأَرْضِ وَتُحَرِّكُ أَذْنَابَهَا مِنْ هَوْلِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَا يَتَكَلَّمُ شَاهِدُ الزُّورِ وَلَا يُفَارِقُ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى يُقْذَفَ بِهِ فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, contrasting the terror of the Day with the swift doom of the false witness. > **"Birds shall strike the earth with their beaks and shake their tails from the terror of the Day of Resurrection, yet the false witness shall barely speak, and his feet shall not leave the ground before he is flung into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ایک پرندہ اپنی چونچ زمین پر مارتا ہے اور اپنی دم کو حرکت دیتا ہے ‘ لیکن جب کوئی گواہی دینے والا کلام کرتا ہے ‘ تو اُس کے پاؤں اپنی جگہ سے ہلنے سے پہلے اُسے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7037

Majma al-Zawaid #7037

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ شَهِدَ شَهَادَةً يُسْتَبَاحُ بِهَا مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَيَسْفِكُ بِهَا دَمًا، فَقَدْ أَوْجَبَ النَّارَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ وَزَادَ: "" «وَمَنْ شَرِبَ شَرَابًا حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ الَّذِي رَزَقَهُ اللَّهُ، فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ» "". وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ [يَعْنِي] كَتَمَ الشَّهَادَةَ اجْتَاحَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ» "". وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. وَفِيهِ حَنَشٌ وَاسْمُهُ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, concerning testimony used to plunder and kill. > **"Whoever gives testimony by which the wealth of a Muslim is made lawful to seize and blood is shed has made the Fire obligatory for himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کوئی ایسی گواہی دے ‘ جس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال مباح کیا جا رہا ہو ‘ یا اس کی وجہ سے اس کا خون بہایا جا رہا ہو ‘ تو وہ شخص جہنم کو واجب کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص شراب پیئے ، یہاں تک کہ اس کی وہ عقل رخصت ہو جائے ‘ جو اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہے ‘ تو ایسا شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص ( یعنی ) گواہی کو چھپاتا ہے اور اس کے ذریعے مسلمان کا مال ہتھیا لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حنش ہے ، جس کا نام حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے اور ابو محصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا بزرگ ہے ۔

7038

Majma al-Zawaid #7038

وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَتَمَ شَهَادَةً إِذَا دُعِيَ إِلَيْهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَ بِالزُّورِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، فَقَالَ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ. وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, concerning the one who withholds testimony when called. > **"Whoever conceals testimony when called to it is like one who testifies falsely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کو گواہی کے لئے بلایا جائے اور وہ گواہی کو چھپا لے ‘ تو اُس کی مثال جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جسے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

7039

Majma al-Zawaid #7039

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ تَعَالَى. وَقَرَأَ: {وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ} [الحج: 30]). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that false testimony has been equated with associating partners with Allah, and he recited: And avoid false speech.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جھوٹی گواہی کو ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک قرار دینے کے برابر قرار دیا گیا ہے ‘ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور جھوٹی گواہی سے اجتناب کرو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

7040

Majma al-Zawaid #7040

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «أَيَّمَا رَجُلٍ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ. وَأَيَّمَا رَجُلٍ شَدَّ غَضَبًا عَلَى مُسْلِمٍ فِي خُصُومَةٍ لَا عِلْمَ لَهُ بِهَا، فَقَدْ عَانَدَ اللَّهَ حَقَّهُ، وَحَرَصَ عَلَى سُخْطِهِ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ تَتَابَعُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَأَيَّمَا رَجُلٍ أَشَاعَ عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِكَلِمَةٍ، وَهُوَ مِنْهَا بَرِيءٌ سَبَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُذِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ بِإِنْفَاذِ مَا قَالَ» ".

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, three grave warnings concerning obstruction of penalties, blind partisanship, and slander. > **"Whatever man whose intercession obstructs one of the fixed penalties of Allah shall remain in the wrath of Allah until he desists. Whatever man vents anger against a Muslim in a dispute he knows nothing about has opposed Allah in His right, sought His wrath, and upon him is the curse of Allah continuing until the Day of Resurrection. Whatever man spreads a word against a Muslim man, of which he is innocent, reviling him thereby in this world, it shall be binding upon Allah to melt him in the Fire on the Day of Resurrection until he produces fulfillment of what he said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جس شخص کی سفارش ‘ اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد کے لئے رکاوٹ بن جائے ‘ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں مسلسل رہتا ہے ‘ جب تک وہ اس سے الگ نہیں ہو جاتا ہے ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کے خلاف کسی جھگڑے میں غضب کا اظہار کرتا ہے ‘ جس کے بارے میں اسے پتہ ہی نہ ہو ‘ تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حق کے خلاف عناد کا مظاہرہ کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے بارے میں لالچ کا اظہار کرتا ہے ‘ ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے ‘ جو قیامت کے دن تک برقرار رہتی ہے اور جو شخص کسی مسلمان شخص کے خلاف کوئی بات پھیلاتا ہے ‘ حالانکہ وہ شخص اس بات سے بری الذمہ ہو ‘ اور اس شخص کا مقصد دنیا میں اس شخص کو برا کہنا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اُسے جہنم کی آگ میں گھول دے ‘ جب تک وہ ایسی چیز نہیں لے آتا ‘ جس کے ذریعے وہ اپنی کہی ہوئی بات ( کی سزا ) سے نکل آئے ‘‘۔

7041

Majma al-Zawaid #7041

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ ذَكَرَ امْرَءًا بِشَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ لِيَعِيبَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ بِنَفَاذِ مَا قَالَ فِيهِ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَرِجَالُ الثَّانِي ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from Abu al-Dardaʾ, may Allah be pleased with him, from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, concerning defamation intended to disgrace. > **"Whoever mentions a man with something not in him in order to disgrace him thereby, Allah shall confine him in the Fire of Hell until he produces fulfillment of what he said concerning him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص ‘ کسی شخص کا ذکر ‘ ایسی چیز کے حوالے سے کرتا ہے ‘ جو اس میں نہیں ہوتی ہے اور اس کا مقصد اس کے ذریعے اس کو معیوب قرار دینا ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم کی آگ میں روک لے گا ‘ جب تک وہ ایسی چیز نہیں لے آتا ‘ جس کے ذریعے وہ اس شخص کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات کا بدلہ نہیں دے دیتا ‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، پہلی روایت کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

7042

Majma al-Zawaid #7042

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي مُلْكِهِ. وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ لَا يَعْلَمُ أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ مَشَى مَعَ قَوْمٍ يَرَى أَنَّهُ شَاهِدٌ وَلَيْسَ بِشَاهِدٍ فَهُوَ كَشَاهِدِ زُورٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْ شُعَيْرَةٍ. وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَجَاءٌ السَّقَطِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned against five evils of dispute and falsehood. > **"Whoever's intercession obstructs one of the fixed penalties of Allah has opposed Allah in His dominion. Whoever aids in a dispute, not knowing whether it is truth or falsehood, remains in the wrath of Allah until he desists. Whoever walks with a people imagining himself a witness when he is no witness is like a false witness. Whoever claims a false dream shall be burdened with tying a knot between the two ends of a barley grain. Insulting the Muslim is wickedness, and fighting him is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کی سفارش ‘ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن جاتی ہے ‘ ایسا شخص اللہ تعالی کی بادشاہی میں اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ‘ اور جو شخص کسی اختلافی معاملے میں مدد کرتا ہے ‘ جس میں اس کو پتہ ہی نہ ہو کہ یہ حق ہے ‘ یا باطل ہے ؟ تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ‘ جب تک وہ اس سے الگ نہیں ہو جاتا ہے ‘ اور جو شخص کسی قوم کے ساتھ چل کر جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ گواہ ہے ‘ حالانکہ وہ گواہ نہیں ہوتا ، تو ایسا شخص جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہے اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ‘ تو اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو کناروں کے درمیان گرہ لگائے ، مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال ‘ کفر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رجاء سقطی ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

7043

Majma al-Zawaid #7043

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - فِيمَا أَحْسَبُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَرِثُ مِلَّةٌ مِلَّةً، وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّةٍ إِلَّا أُمَّتِي؛ تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Salamah reports from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, distinguished this nation in inheritance and testimony. > **"One religious community does not inherit from another, nor is the testimony of one community valid against another — except my nation; their testimony is valid against all others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ نے ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے :’’ ایک ملت ( یعنی دین ) دوسرے ملت کی وارث نہیں بنے گی اور ایک ملت کی گواہی ‘ دوسرے ملت کے خلاف درست نہیں ہے البتہ میری امت کا معاملہ مختلف ہے ‘ اُن کی گواہی ہر ایک کے خلاف درست ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7044

Majma al-Zawaid #7044

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: - أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: - «مَا الَّذِي يَجُوزُ فِي الرِّضَاعِ مِنَ الشُّهُودِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" «رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, was asked what witnesses suffice in a claim of nursing kinship. > **"One man or one woman"** — and in a narration — **"one man and one woman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے ہوئے کہا : رضاعت کے بارے میں گواہوں میں سے کس کی گواہی درست ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک مرد ‘ یا ایک عورت کی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ ایک مرد اور ایک عورت کی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7045

Majma al-Zawaid #7045

وَعَنْ حُذَيْفَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, accepted the testimony of the midwife.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ’’ دائی ‘‘ کی گواہی کو درست قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7046

Majma al-Zawaid #7046

وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ «أَنَّهُ شَهِدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ». قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ؟ فَقَالَ: لَا؛ إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وِجَادَةً، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmarah ibn Hazm, may Allah be pleased with him, testifies that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, judged by an oath together with a single witness. Zayd ibn al-Hubab asked Malik ibn Anas whether this applies to divorce and emancipation; Malik replied that it does not, but concerns buying, selling, and the like.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عماره بن حزم رضی اللہ عنہ گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ زید بن حباب بیان کرتے ہیں : میں نے امام مالک بن انس سے ، قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دینے کے بارے میں دریافت کیا ‘ کیا غلام اور طلاق دینے کے بارے میں یہ درست شمار ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! یہ خرید و فروخت اور اس طرح کی چیزوں کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ’’ وجادہ ‘‘ کے طور پر روایت کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7047

Majma al-Zawaid #7047

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Bilal ibn al-Harith, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, judged by an oath together with a witness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ہمراہ ‘ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7048

Majma al-Zawaid #7048

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْمُتْقِنِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, judged by an oath together with a witness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حکم جذامی ہے ‘ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ’ متقن ‘ نہیں ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7049

Majma al-Zawaid #7049

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, judged by an oath together with a witness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7050

Majma al-Zawaid #7050

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, judged by an oath together with a witness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔

7051

Majma al-Zawaid #7051

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَمَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ أَقْضِيَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ». وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdullah al-Ansari, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, attributed this judicial ruling to Gabriel's command. > **"Gabriel, peace be upon him, commanded me to judge by an oath together with a witness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل نے مجھ سے کہا : کہ میں ایک گواہ کے ہمراہ ‘ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ہمراہ ‘ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

7052

Majma al-Zawaid #7052

وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ صَحَابَتَهُ فَأَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ - وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ وَقَدْ أَسْلَمُوا - فَرَكِبَ زَبِيبٌ نَاقَةً لَهُ، ثُمَّ اسْتَقْدَمَ الْقَوْمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ صَحَابَتَكَ أَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ، وَقَدْ أَسْلَمُوا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَكَ بَيِّنَةٌ يَا زَبِيبُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ؛ شَهِدَ سَمُرَةُ وَحَلَفَ زَبِيبٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُدُّوا عَلَى بَنِي الْعَنْبَرِ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ غَيْرَ زِرْبِيَّةِ أُمِّي. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَبِيبٍ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى أَجْرَاهَا عَلَى سُرَّتِهِ. قَالَ زَبِيبٌ: حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ "". ثُمَّ انْصَرَفَ زَبِيبٌ بِالسَّيْفِ فَبَاعَهُ بِبَكْرَتَيْنِ مِنْ صَدَقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَالَدَتَا عِنْدَ زَبِيبٍ حَتَّى بَلَغَتَا مِائَةً وَنَيِّفًا». قُلْتُ: رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثًا بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ، وَفِيهِ: أَنَّهُمْ رَدُّوا عَلَيْهِ نِصْفَ الَّذِي لَهُمْ. وَهُنَا: أَنَّهُمْ رَدُّوا الْجَمِيعَ. وَهُنَاكَ: لَمْ يَشْهَدْ سَمُرَةُ وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ. وَهُنَا: أَنَّهُ شَهِدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Zaynab bint Thaʿlabah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, sent his Companions who seized captives of Banu al-ʿAnbar though they had lived through both eras and had embraced Islam. Zabib, may Allah be pleased with him, hastened upon his she-camel and pleaded their case. Asked for proof, he offered the testimony of Samurah and his own oath, whereupon the Prophet ordered everything returned to Banu al-ʿAnbar. He then drew near to Zabib, wiped his hand from his head to his navel until Zabib felt the coolness of his palm, and prayed for him. > **"Have you proof, O Zabib? Return to Banu al-ʿAnbar everything belonging to them. O Allah, grant him pardon and well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ زینب بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو بھیجا ‘ انہوں نے بنوعنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ، جو مخضر مین تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے ‘ زبیب اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں سے پہلے آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے اصحاب نے بنو عنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ہے ‘ حالانکہ وہ لوگ ’’ مخضر مین “ ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : اے زبیب ! کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دے دی اور حضرت زبیب رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا لی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بنو عنبر کی ہر چیز انہیں واپس کر دو ! تو لوگوں نے ان لوگوں کی ہر چیز انہیں واپس کر دی ‘ صرف میری والدہ کی ہنڈیا نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ‘ جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا ‘ یہاں تک کہ ان کی ناف تک لے کے آئے ‘ حضرت زبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی ہتھیلی کی ٹھنڈک میں نے محسوس کی ‘ پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے عفو اور عافیت عطا فرما ! پھر حضرت زبیب رضی اللہ عنہ تلوار لے کر گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے صدقہ کے اونٹوں میں سے ‘ دو جوان اونٹنیوں کے عوض میں وہ تلوار فروخت کر دی ‘ ان اونٹنیوں نے حضرت زبیب رضی اللہ عنہ کے ہاں بچوں کو جنم دیا ‘ یہاں تک کہ ان کے ہاں ایک سو سے زیادہ اونٹنیاں ہو گئیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس صحابی کے حوالے سے اس سیاق کے بغیر روایت نقل کی ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے ان لوگوں کی چیزوں کا نصف واپس کیا تھا ‘ جبکہ یہاں یہ ہے کہ سب کچھ واپس کر دیا تھا ‘ وہاں یہ بات ذکر ہوئی ہے : حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی نہیں دی تھی ‘ انہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا ‘ جبکہ یہاں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے گواہی دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7053

Majma al-Zawaid #7053

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: «جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هِيَ أَرْضِي. وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ أَرْضِي حَرَثْتُهَا وَقَصَبْتُهَا. فَأَحْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي بِيَدِهِ الْأَرْضُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAdi ibn ʿAdi al-Kindi, may Allah be pleased with him, reports that two men came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, disputing over land, each claiming it, one adding that he plowed and cultivated it. The Prophet administered the oath to the one in possession of the land.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اُن دونوں کا ایک زمین کے بارے میں جھگڑا چل رہا تھا ، اُن دونوں میں سے ایک نے کہا : وہ میری زمین ہے ‘ دوسرے نے کہا : وہ میری زمین ہے ‘ میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں ، میں نے اس میں کاشت کاری کی ہوئی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے حلف لیا ، جس کے قبضے میں زمین تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7054

Majma al-Zawaid #7054

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشُهُودٍ عُدُولٍ فِي عَدَّةٍ وَاحِدَةٍ فَسَاهَمَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اقْضِ بَيْنَهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that two men disputed before the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, each bringing an equal number of upright witnesses. The Messenger drew lots between them and prayed. > **"O Allah, judge between them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے مقدمہ پیش کیا ‘ ان دونوں میں سے ہر ایک عادل گواہ لے آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور یہ دعا کی : اے اللہ ! تو ان کے درمیان فیصلہ کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسامہ بن زید قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7055

Majma al-Zawaid #7055

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ «أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعِيرٍ فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةً أَنَّهُ لَهُ فَقَضَى بِهِ بَيْنَهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with them both, reports that two men disputed before the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, over a camel, each establishing proof that it was his. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, divided it between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک اونٹ کے بارے میں مقدمہ پیش کیا ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے ثبوت ( یعنی گواہ ) پیش کر دیا کہ وہ اونٹ اس کا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس اونٹ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ اونٹ ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یاسین زیات ہے اور وہ متروک ہے ۔

7056

Majma al-Zawaid #7056

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ حَبَسَ فِي تُهْمَةٍ».

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that he detained a man on suspicion pending inquiry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : آپ ﷺ نے ایک الزام کی وجہ سے ایک شخص کو قید کر دیا تھا ۔

7057

Majma al-Zawaid #7057

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَنَّهُ كَفَلَ فِي تُهْمَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, required surety in a case of accusation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے ایک الزام میں کفالت طلب کی تھی ( یا کفیل بنایا تھا ‘ شاید اس کا ایک یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایک الزام کے سلسلے میں ضمانت طلب کی تھی ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خثیم بن عراک ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

7058

Majma al-Zawaid #7058

وَعَنْ نُبَيْشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَبَسَ فِي تُهْمَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Nubayshah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, detained a man on suspicion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک الزام کی وجہ سے ایک شخص کو قید کر دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7059

Majma al-Zawaid #7059

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ جُرْحُهَا جُبَارٌ» "". وَالْعَجْمَاءُ: الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ، وَغَيْرُهَا. وَالْجُبَارُ: هُوَ الْهَدْرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ. وَقَضَى: "" «فِي الرِّكَازِ الْخُمْسَ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّ تَمْرَ النَّخِيلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يُشْتَرَطَ الْمُبْتَاعُ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ» "". وَقَضَى: «بِالشُّفْعَةِ [بَيْنَ الشُّرَكَاءِ] فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ». وَقَضَى «لِحَمْلِ ابْنِ مَالِكٍ [الْهُذَلِيِّ] بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى». وَقَضَى «فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا، وَكَانَ لَهُ مِنِ امْرَأَتَيْهِ كِلَيْهِمَا وَلَدٌ. قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا صَاحَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بُطْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ "". مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ لَهُ». قَالَ: وَقَضَى «فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ فِي الطَّرِيقِ، ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا [الْبُنْيَانَ] فِيهَا فَقَضَى: "" أَنْ يُتْرُكَ لِلطَّرِيقِ مِنْهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ» "". قَالَ: وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى: الْمَقْيَا. وَقَضَى «فِي النَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى: "" أَنَّ فِي كُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَيِّزٌ لَهَا» "". وَقَضَى «فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ: "" أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ، فَكَذَلِكَ تَنْقَضِي حَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» "". وَقَضَى: "" «لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بِالسُّدْسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ» "". وَقَضَى: "" «أَنْ لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ» "". وَقَضَى: "" «أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ» "". «وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ: "" لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ» "". «وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: "" أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَأِ» "". وَقَضَى «فِي الدِّيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ: "" ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً» "". وَقَضَى «فِي الدِّيَةِ الصُّغْرَى: "" ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ» "". ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِبِلَ الدِّيَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابَ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ. ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ. قَالَ: فَزَادَ ثُلُثَ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ. قَالَ: فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا. قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ، وَلَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ، وَلَا الذَّهَبَ. وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ قِيمَةُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ. قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ. وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah ibn al-Samit, may Allah have mercy on him, relates a compendium of the judgments of the Messenger of Allah ﷺ: the mine is jubar, the well is jubar, and the wound inflicted by the dumb beast — grazing livestock or otherwise — is jubar, that is, a vain loss for which no compensation is exacted. He ﷺ decreed the fifth in rikaz (buried treasure); that the dates of pollinated palms belong to the one who pollinated them unless the buyer stipulates otherwise; that the property of a slave belongs to the seller unless the buyer stipulates otherwise; that the child belongs to the bed while the adulterer gets the stone; pre-emption among partners in lands and houses; the inheritance of Haml ibn Malik al-Hudhali from the wife slain by her co-wife; and for the slain foetus a ghurrah — a slave or slave-girl — to be inherited by her husband and sons. When the father of the condemned murderess protested in rhymed speech — how shall I pay for one who neither drank nor ate, neither cried nor raised his voice, for the like of that is void — the Messenger of Allah ﷺ declared him to be of the soothsayers, on account of his rhymed affectation. He further relates judgments: seven cubits to be left for the road from an open courtyard upon it when its people wish to build therein — the road called al-Maqya; each of one to three disputed palms to have a precinct reaching to the extent of its branches; the upper palms to drink from the torrent before the lower, the water held to the ankles then released downward through the gardens in turn; a wife not to give from her wealth without her husband's permission; two grandmothers to share a sixth equally; one who frees his share in a slave to complete the manumission if he is solvent; no harm nor reciprocating harm; no right for a wrongful root; the surplus of a well in Madinah not to be withheld, nor surplus desert water withheld so as to withhold herbage; the major aggravated diyah as thirty bint labun, thirty hiqqah and forty khalifah, and the minor as thirty bint labun, thirty hiqqah, twenty bint makhad and twenty male ibn makhad — with 'Umar's, may Allah be pleased with him, later valuations in dirhams, additions for the sacred month and the sacred city completing twenty thousand for the two sanctuaries, taken from the Bedouins in livestock and from each people in the just value of their wealth. > **"The mine is jubar, the well is jubar, and the wound of the dumb beast is jubar. In rikaz there is the fifth. The fruit of the palms belongs to him who pollinated them unless the buyer stipulates, and the property of the slave belongs to him who sold him unless the buyer stipulates. The child belongs to the bed, and for the adulterer is the stone. This one is of the soothsayers. There shall be no harm nor reciprocating harm, and no right belongs to a wrongful root."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جو فیصلے دیے ہیں ‘ ان میں یہ بات بھی شامل ہے :’’ کان میں گر کر مرنا رائیگاں جائے گا ، کنویں میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ‘ جانور سے گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ‘‘۔ لفظ ’’ عما ‘‘ کا مطلب جانور ہے ‘ خواہ اس کا تعلق پالتو جانوروں سے ہو ‘ یا اس کے علاوہ سے ہو ۔ ’’ جبار ‘‘ کا مطلب وہ چیز ہے ‘ جو رائیگاں جائے ، جس کا جرمانہ نہ ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے کہ رکاز ( دفینہ ) میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے : کہ کھجور کے درخت کی کھجوریں اُس شخص کو ملیں گی ‘ جس نے ان کی پیوند کاری کی ہو گی البتہ اگر خریدار نے شرط رکھی ہو ‘ تو حکم مختلف ہو گا ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے : کہ مملوک ( کنیز یا غلام ) کا مال فروخت کرنے والے کو ملے گا ‘ البتہ اگر خریدار نے شرط رکھی ہو ‘ تو حکم مختلف ہے ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے : بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ۔ آپ ﷺ نے شفعہ کے بارے میں فیصلہ دیا ہے : کہ وہ زمین یا گھر کے بارے میں شراکت داروں کے درمیان ہو گا ۔ آپ ﷺ نے حمل بن مالک ہذلی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا : کہ وہ اپنی بیوی کی وراثت میں حصہ دار بنیں گے ، جس بیوی کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا ۔ قتل ہونے والے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا تھا : کہ جرمانے کے طور پر ایک غلام یا کنیز کو ادا کیا جائے گا ‘ اور اس عورت کا وارث ‘ اس کا شوہر اور اس کے بیٹے بنیں گے ‘ اُن صاحب کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی ‘ قتل کرنے والی عورت کے والد نے ، جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسے بچے کا جرمانہ کیسے ادا کروں ؟ جس نے کچھ پیا نہیں ، کچھ کھایا نہیں ‘ وہ چیخا نہیں ‘ ایسا خون تو رائیگاں جاتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کاہنوں میں سے ایک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات اُس کی مسجع و مقفع گفتگو کی وجہ سے کہی تھی ۔ وہ فرماتے ہیں : گھر سے باہر کھلی جگہ جو راستے میں ہو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے : کہ اگر اس کے مالکان وہاں کوئی عمارت تعمیر کرنا چاہیں ، تو آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ اس میں سے سات ذراع کا راستہ چھوڑیں گے ‘ راوی کہتے ہیں : اس راستے کو ’’ مقیا ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جہاں کھجور کا ایک ‘ یا دو درخت ہوں ‘ یا تین ہوں اور پھر حقوق کے بارے میں اختلاف ہو جائے ‘ تو اس کے بارے میں بھی نبی اکرم ﷺ نے فیصلہ دیا ہے : آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے : کہ ہر کھجور کے درخت کی حد وہاں تک شمار ہو گی ، جہاں تک اُس کی شاخ جاتی ہے ۔ پانی کی ندی سے کھجور کے درخت کو سیراب کرنے کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اوپر کی طرف والے لوگ اپنے حصے کو سیراب کر لیں گے ‘ وہ نیچے والوں سے پہلے ایسا کریں گے ‘ یہاں تک کہ پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے ، پھر وہ پانی کو نیچے والوں کے لئے چھوڑ دیں گے ‘ جو اس کے بعد آتا ہو گا ‘ اسی طرح یا تو باغات ختم ہو جائیں گے ‘ یا پانی ختم ہو جائے گا ۔ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ بھی دیا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کوئی چیز نہیں دے گی ۔ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ دو دادیاں ‘ وارثت میں چھٹے حصے کی حقدار بنیں گی ‘ اور وہ ان دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہو گا ۔ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے : کہ جو شخص کسی مشترکہ غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے ‘ تو اس پر لازم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسے آزاد کرے ‘ اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ نہ تو ضرر پہنچایا جائے گا نہ ضرور حاصل کیا جائے ۔ آپ ﷺ نے یہ فیصلہ بھی دیا ہے : کسی کو ( غصب کے طور پر کسی کی جگہ پر ) پودا لگانے کا حق نہیں ہو گا ۔ آپ ﷺ نے اہل مدینہ کے درمیان کھجوروں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ کنویں کے پانی سے منع نہیں کیا جائے گا ۔ آپ ﷺ نے ویرانے میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا : کہ اضافی پانی کو روکا نہیں جائے گا کہ اس کے ذریعے اضافی گھاس پھوس اگنی بند ہو جائے ۔ آپ ﷺ نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا : کہ تیس بنت لبون ‘ تیس حقہ اور چالیس خلفہ ہوں گے ۔ آپ ﷺ نے چھوٹی دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا : کہ تیس بنت لبون ‘ تیس حقہ ‘ بیس بنت مخاض اور بیس بنو مخاض مذکر ہوں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد اونٹوں کی قیمت زیادہ ہو گئی اور درہموں کی قیمت کم ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کے اونٹوں کو چھ ہزار درہم کے برابر قرار دیا ‘ اس حساب سے کہ ایک اوقیہ ایک اونٹ کی قیمت بنتی ہے پھر اونٹوں کی قیمت اور زیادہ ہو گئی اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں دو ہزار کا اضافہ کر دیا ‘ جو ہر اونٹ کے لئے دو اوقیہ بنتے ہیں ، پھر اونٹوں کی قیمت زیادہ ہو گئی اور درہم کی کم ہو گئی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل کر کے بارہ ہزار کر دیا ‘ جو ہر اونٹ کے لئے تین اوقیہ بنتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : حرمت والے مہینے میں دیت کا ایک تہائی حصہ اضافی ہو گا ‘ اور حرمت والے شہر میں ایک تہائی حصہ مزید ہو گا ‘ راوی کہتے ہیں : تو حرمین کی دیت میں ہزار ( درہم ) مکمل ہو جاتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ دیہات کے رہنے والوں سے جانور وصول کیے جائیں گے ‘ انہیں سونے یا چاندی کی ادائیگی کا پابند نہیں کیا جائے گا ‘ ہر قوم سے وہ چیز وصول کی جائے گی ‘ جو اُن کے اموال میں سے عدل کے مطابق قیمت کے حساب سے بنتی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اسحاق نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

7060

Majma al-Zawaid #7060

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ شَرَطَ لِأَخِيهِ شَرْطًا لَا يُرِيدُ أَنْ يَفِيَ لَهُ بِهِ فَهُوَ كَالْمُدْلِي جَارَهْ إِلَى غَيْرِ مَنْعَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ warn that one who stipulates a condition for his brother while intending never to fulfil it to him is like a man who lures his neighbour into an exposed place with no refuge. > **"Whoever stipulates a condition for his brother, not intending to fulfil it to him, is like one who lures his neighbour into a place with no defence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص اپنے کسی بھائی کے ساتھ کوئی شرط طے کرتا ہے ‘ اور اس کا یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ شرط کو پورا کرے گا ‘ تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے ‘ جو اپنے پڑوسی کو کسی ایسی مشکل میں گرفتار کروا دیتا ہے ‘ جس سے وہ نکل نہ سکے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ وہ ثقہ اور تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7061

Majma al-Zawaid #7061

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خُدَيْجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ فِيمَا أُحِلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Rafi' ibn Khadij, may Allah be pleased with him, reports the ruling that Muslims stand by the conditions they stipulate, in matters that have been made lawful. > **"The Muslims are bound by their conditions in what has been made lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہوں گے ‘ جبکہ وہ حلال ہوں ‘‘ ( یا جبکہ وہ اُس چیز کے بارے میں ہوں ‘ جو حلال ہو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور وہ متروک ہے ‘ ابوزرعہ کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا ‘ تو اس کا محل صدق ہو گا ۔

7062

Majma al-Zawaid #7062

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِئَةَ شَرْطٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عَفْرَةَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports the nullification of every stipulation that finds no sanction in the Book of Allah, though such stipulations number a hundred. > **"Every condition not in the Book of Allah is void, even if there be a hundred conditions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر وہ شرط ‘ جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو ‘ وہ باطل شمار ہو گی ، خواہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن یحیی بن عفرہ ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7063

Majma al-Zawaid #7063

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ: حَنَشٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ، وَفِي إِسْنَادِ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports the grave warning that aiding an oppressor with falsehood in order to vanquish truth thereby casts one out of the covenant of Allah and the covenant of His Messenger ﷺ. > **"Whoever aids an oppressor with falsehood in order to defeat truth thereby has freed himself from the protection of Allah and the protection of His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ظالم کی باطل چیز میں مدد کرتا ہے ‘ تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ‘ تو وہ اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں نے کتابوں میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حنش ہے اور وہ متروک ہے ، ابو محصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا بزرگ ہے ‘ معجم صغیر اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سعید بن رحمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔