Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 15 · Chapter 1

Book of Judgments and Rulings

Hadith 6984–7023

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6984

Majma al-Zawaid #6984

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbd, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, apportioned roles among the communities of the Muslims. > **"Caliphate shall remain in Quraysh, judgment shall remain in the Ansar, the call shall remain in Abyssinia, and emigration shall remain among the Muslims, and emigrants shall continue thereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خلافت قریش میں رہے گی ‘ فیصلہ کرنے کا عہدہ انصار میں رہے گا ‘ دعوت حبشیوں میں رہے گی ‘ اور ہجرت مسلمانوں میں رہے گی اور مہاجرین اس کے بعد بھی ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6985

Majma al-Zawaid #6985

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالشِّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ: "" «وَالشِّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, described where these trusts would endure. > **"Sovereignty shall remain in Quraysh, the judiciary in the Ansar, the call to prayer in Abyssinia, fidelity to covenant in Yemen, and trustworthiness in Azd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حکومت قریش میں رہے گی ، قاضی کا عہدہ انصار میں رہے گا ‘ اذان حبشیوں میں رہے گی ‘ میثاق ( کی پاسداری ) یمن میں رہے گی اور امانت ‘ ازد قبیلے کے لوگوں میں رہے گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ’’ میثاق ( کی پاسداری ) یمن میں رہے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6986

Majma al-Zawaid #6986

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Hittan visited ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, and they discussed judges, whereupon she reported what she heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"There shall surely come upon the just judge on the Day of Resurrection an hour in which he will wish that he had never judged between two persons, even over a single date."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بن حطان بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہا یہاں تک کہ ہم نے قاضی کا ذکر کیا ‘ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ قیامت کے دن عدل کرنے والے قاضی پر بھی ایسی گھڑی ضرور آئے گی ‘ جب وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے کبھی ایک کھجور کے بارے میں بھی ‘ دو آدمیوں کے درمیان کبھی کوئی فیصلہ نہ دیا ہوتا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ‘ امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔

6987

Majma al-Zawaid #6987

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشِيرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «حَتَّى يَفُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقَهُ الْجَوْرُ» "". وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْخِلَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, concerning the fate of every leader. > **"There is no commander of ten except that he shall be brought on the Day of Resurrection bound in chains; nothing shall release him except justice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی شخص دس آدمیوں کا امیر ہو گا ‘ تو جب اسے قیامت کے دن لایا جائے گا ‘ تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں گے اور صرف عدل ہی اُسے چھڑوا سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ یا عدل اُسے چھڑوا دے گا ، یا ظلم اسے ہلاکت کا شکار کروا دے گا ‘‘۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو خلافت سے متعلق باب میں آئیں گے ۔

6988

Majma al-Zawaid #6988

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ «أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ. قَالَ: أَوَتُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لَا عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ. قَالَ: لَا تَعْجَلْ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ، فَقَدْ عَاذَ بِمُعَاذٍ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا. قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي. قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ التَّقَلُّبَ كَفَافًا "". فَمَا أَرْجُو بَعْدَ هَذَا؟» قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَزَادَ أَحْمَدُ: فَأَعْفَاهُ وَقَالَ: لَا تُجْبِرَنَّ أَحَدًا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Mawhab reports that ʿUthman, may Allah be pleased with him, ordered Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, to judge among the people. Ibn ʿUmar asked to be excused, sought refuge in Allah from the office, and cited what he had heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Whoever seeks refuge in Allah has sought refuge in a mighty refuge. Whoever acts as judge and judges in ignorance shall be among the people of the Fire. Whoever acts as judge, possessing knowledge, and judges with truth or justice, shall beg to depart from it with neither gain nor loss."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن موہب بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ جائیں اور لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سر انجام دیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے اس حوالے سے معاف نہیں رکھیں گے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ جائیں اور قاضی کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دیں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا آپ جلدی نہ کریں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ’’ جو شخص اللہ کی پناہ مانگتا ہے ‘ تو وہ ایک مضبوط پناہ مانگتا ہے “۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : ٹھیک ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں اللہ کی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ ایسا کیوں نہیں کر رہے ؟ جبکہ آپ کے والد قاضی کے طور پر فیصلے دیا کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص قاضی بنے اور جہالت کی بنیاد پر فیصلے دے ‘ تو وہ جہنمی ہو گا اور جو شخص قاضی بنے اور وہ عالم ہو اور وہ حق یا عدل کے مطابق فیصلہ دے تو وہ یہ درخواست کرے گا کہ اُسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے ‘‘۔ ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) تو میں اس کے بعد کس چیز کی توقع رکھ سکتا ہوں ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو امام ترمذی نے نقل کی ہے اور وہ اس سیاق کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اور امام احمد نے بھی نقل کی ہے ‘ لیکن ان دونوں نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ امام احمد نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا ‘ انہوں نے کہا : آپ کسی ایک کو زبردستی مجبور نہیں کریں گے ۔

6989

Majma al-Zawaid #6989

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «أَرَادَهُ عُثْمَانُ عَلَى الْقَضَاءِ فَأَبَى وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: وَاحِدٌ نَاجٍ، وَاثْنَانِ فِي النَّارِ. مَنْ قَضَى بِالْجَوْرِ أَوْ بِالْهَوَى هَلَكَ. وَمَنْ قَضَى بِالْحَقِّ نَجَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَلَفْظُهُ: "" «قَاضٍ قَضَى بِالْهَوَى فَهُوَ فِي النَّارِ. وَقَاضٍ قَضَى بِغَيْرِ عِلْمٍ فَهُوَ فِي النَّارِ. وَقَاضٍ قَضَى بِالْحَقِّ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» "". وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, refused the judgeship offered by ʿUthman, may Allah be pleased with him, citing the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Judges are three: one saved and two in the Fire. Whoever judges with injustice or desire shall perish, and whoever judges with truth shall be saved. A judge who judges by desire is in the Fire, a judge who judges without knowledge is in the Fire, and a judge who judges with truth is in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں قاضی کے عہدے پر فائز کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے انکار کر دیا اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ‘ ایک نجات پانے والا ہو گا اور دو جہنم میں جائیں گے ‘ جو شخص ظلم کے مطابق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یا نفسانی خواہش کے مطابق فیصلہ دے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور جو شخص حق کے مطابق فیصلہ دے گا ‘ وہ نجات پا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ جو قاضی خواہش نفس کے مطابق فیصلہ دے گا ‘ وہ جہنم میں جائے گا ایک قاضی وہ ہے ‘ جو علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے گا ‘ وہ جہنم میں جائے گا اور ایک قاضی وہ ہے ‘ جو حق کے مطابق فیصلہ دے گا ‘ وہ جنت میں جائے گا ‘‘۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ‘ امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

6990

Majma al-Zawaid #6990

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, promised divine aid to the just arbiter. > **"The Hand of Allah is with the judge when he judges, and the Hand of Allah is with the divider when he divides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قاضی جب فیصلہ دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کا دست رحمت اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب تقسیم کرنے والا تقسیم کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کا دست رحمت اس کے ساتھ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

6991

Majma al-Zawaid #6991

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «يُؤْتَى بِالْقَاضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، فَإِنْ أُمِرَ بِهِ وَدُفِعَ فَهَوَى فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, raises this warning to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him. > **"The judge shall be brought on the Day of Resurrection and halted at the brink of Hell. If it is commanded concerning him and he is thrust in, he shall fall therein for seventy years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ قیامت کے دن قاضی کو لایا جائے گا اور جہنم کے کنارے پر کھڑا کر دیا جائے گا ‘ اگر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا ‘ تو اسے اُس میں پھینک دیا جائے گا ‘ اور وہ ستر سال تک اُس میں گرتا رہے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ چالیس سال تک اس میں گرتا رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6992

Majma al-Zawaid #6992

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasar al-Muzani, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, commanded him to judge between a people. When he expressed his inadequacy, the Prophet reassured him with a condition. > **"The Hand of Allah is with the judge so long as he does not deliberately commit injustice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ مزنی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں کچھ لوگوں کے درمیان قاضی کے فرائض سرانجام دوں ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اچھی طرح سے قاضی کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالی کا دست رحمت قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6993

Majma al-Zawaid #6993

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ وَنَسَبُوهُ إِلَى الْكَذِبِ وَالْوَضْعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Allah is with the judge so long as he does not deliberately commit injustice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان قاری ہے ‘ جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ بولنے اور حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی ہے ۔

6994

Majma al-Zawaid #6994

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَلَايَةً، وَكَانَتْ بِنِيَّةِ الْحَقِّ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يُوَفِّقَانِهِ وَيُرْشِدَانِهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا، وَكَانَتْ نِيَّتُهُ غَيْرَ الْحَقِّ، وَكَّلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «يُوَفِّقَانِهِ وَيُسَدِّدَانِهِ إِذَا أُرِيدَ بِهِ الْخَيْرُ» "". وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, distinguished between the sincere ruler and the insincere. > **"Whoever assumes charge of any affair of the Muslims with the intention of truth, Allah appoints over him two angels who grant him success and guide him. Whoever assumes charge of any affair of the Muslims with an intention other than truth, Allah abandons him to himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق ہوتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر کر دیتا ہے ‘ جو اسے توفیق دیتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرتے ہیں ‘ اور جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے اور اس کی نیت حق کے مطابق نہیں ہوتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ وہ دونوں فرشتے اسے توفیق دیتے ہیں ، اُسے سیدھے راستے پر رکھتے ہیں ‘ جب اس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیا گیا ہو ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خثیم بن عراک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6995

Majma al-Zawaid #6995

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ يُسَدِّدَانِهِ مَا نَوَى الْحَقَّ، فَإِذَا نَوَى الْحَيْفَ عَلَى عَمْدٍ وَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَنَاحٌ مَوْلَى الْوَلِيدِ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, described the angels appointed over every Muslim authority. > **"There is no Muslim who assumes charge of any affair of the Muslims except that Allah sends to him two angels who keep him upright so long as he intends truth. When he deliberately intends injustice, they abandon him to himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو بھی مسلمان ‘ مسلمانوں کے کسی معاملے کا نگران بنتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے ‘ جو اسے سیدھی راہ بتاتے ہیں ‘ جب تک وہ حق کی نیت رکھتا ہے ‘ اور جب وہ جان بوجھ کر زیادتی کی نیت کر لے ‘ تو وہ دونوں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جناح ہے ‘ جو ولید کا آزاد کردہ غلام ہے ‘ ازدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6996

Majma al-Zawaid #6996

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا يُسَدِّدُهُ إِلَى الْخَيْرِ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Allah, mighty and majestic, is with the judge so long as he does not deliberately commit injustice; He keeps him upright toward good so long as he does not intend otherwise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جب تک وہ جان بوجھ کر زیادتی نہیں کرتا ‘ اللہ تعالیٰ اسے بھلائی کی توفیق دیتا رہتا ہے ‘ جب تک وہ بھلائی کے علاوہ کا ارادہ نہیں کرتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے ‘ جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔

6997

Majma al-Zawaid #6997

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ قَاضٍ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَمَعَهُ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ إِلَى الْحَقِّ مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهُ، فَإِذَا أَرَادَ غَيْرَهُ وَجَارَ مُتَعَمِّدًا؛ تَبَرَّأَ مِنْهُ الْمَلَكَانِ وَوَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned every Muslim judge. > **"There is no judge among the judges of the Muslims except that with him are two angels who keep him upright toward truth so long as he does not intend otherwise. When he intends otherwise and deliberately wrongs, the two angels disavow him and abandon him to himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مسلمانوں کے قاضیوں میں سے ‘ جو بھی قاضی ہوتا ہے ‘ اس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ‘ جو حق کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں جب تک وہ حق کے علاوہ کسی اور چیز کا ارادہ نہیں کرتا ‘ جب وہ حق کے علاوہ کا ارادہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر زیادتی کرتا ہے ‘ تو دونوں فرشتے اس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور اسے اس کی ذات کے حوالے کر دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6998

Majma al-Zawaid #6998

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنِ ابْتُلِيَ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَقْضِيَنَّ وَهُوَ غَضْبَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, forbade judgment in anger. > **"Whoever is tried with judging between the Muslims, let him not judge while he is angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو مسلمانوں کے درمیان قاضی کے عہدے پر فائز کر دیا جائے ‘ تو وہ غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6999

Majma al-Zawaid #6999

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ - يَعْنِي عَطِيَّةَ بْنَ سَعْدٍ - قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Muhammad ibn ʿAtiyyah reports from his father, from his grandfather, may Allah be pleased with them, that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned against the anger of rulers. > **"When the ruler blazes with rage, Satan gains dominion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن محمد بن عطیہ ‘ یعنی عطیہ بن سعد بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب سلطان غصے میں آتا ہے ‘ تو شیطان مسلط ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7000

Majma al-Zawaid #7000

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا وَهُوَ شَبْعَانُ رَيَّانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ. وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, required composure for judgment. > **"The judge shall not judge between two persons except while he is satiated and quenched."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قاضی دو آدمیوں کے درمیان صرف اُس وقت فیصلہ سنائے جب وہ سیر ہو ‘ اور سیراب ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن عمر ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔

7001

Majma al-Zawaid #7001

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ «أَنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذْ قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ وَأَصَابَ فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِذَا اجْتَهَدَ وَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ أُكْسُومٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِعِلْمٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that two litigants disputed before ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with him. The one against whom judgment was given complained to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who explained the reward of judicial striving. > **"When the judge judges, striving, and is correct, he shall have ten rewards. When he strives and errs, he shall have one reward"** — or he said — **"two rewards."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : دو افراد نے اپنا مقدمہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انہوں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دیا ‘ جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا ‘ وہ ناراض ہو گیا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لے اور درست فیصلہ دے ‘ تو اسے دس گنا اجر ملتا ہے اور جب وہ اجتہاد کرتے ہوئے غلطی کرے ‘ تو اسے ایک ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : یا ) دو اجر ملتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن اکسوم ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

7002

Majma al-Zawaid #7002

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَصْمَانِ [يَخْتَصِمَانِ] قَالَ لِعَمْرٍو: "" اقْضِ بَيْنَهُمَا [يَا عَمْرُو] "". قَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَإِنْ كَانَ "". قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: "" إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ» "". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: "" «إِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ أَجْرَانِ، وَإِنْ أَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with him, reports that two litigants came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, who commanded ʿAmr to judge between them. ʿAmr deferred to the Prophet, who insisted, and then asked what reward would be his. > **"If you judge between them and judge correctly, you shall have ten good deeds. If you strive and err, you shall have one good deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دو افراد آئے ‘ جو ایک دوسرے کے مقابل فریق تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عمرو ! تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ ایسا ہی ہے ( لیکن تم ہی فیصلہ دو ) انہوں نے عرض کی : اگر میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دوں گا ‘ تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو گے اور درست فیصلہ دو گے ‘ تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے اجتہاد سے کام لیا اور تم نے غلطی کی ‘ تو تمہیں ایک نیکی ملے گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت منقول ہے :’’ اگر تم نے درست فیصلہ دیا ‘ تو تمہیں دگنا اجر ملے گا اور اگر تم نے غلطی کی ‘ تو تمہیں ایک اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

7003

Majma al-Zawaid #7003

وَرَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " «إِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ» ".

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿAmir, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, a like account concerning the striving judge. > **"If you strive and are correct, you shall have ten rewards. If you strive and err, you shall have one reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے ‘ اپنی سند کے ساتھ ‘ جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں :’’ اگر تم نے اجتہاد کیا اور درست فیصلہ دیا ‘ تو تمہیں دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور غلطی کی ، تو تمہیں ایک اجر ملے گا ‘‘۔

7004

Majma al-Zawaid #7004

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِي: "" اقْضِ بَيْنَهُمَا "". فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي! فَقَالَ: "" اقْضِ بَيْنَهُمَا "". فَقُلْتُ: عَلَى مَاذَا؟ قَالَ: "" اجْتَهِدْ، فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ لَمْ تُصِبْ فَلَكَ حَسَنَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ قَبْلَ هَذَا أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿAmir al-Juhani, may Allah be pleased with him, reports that he came to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, while two litigants disputed before him. The Prophet commanded him to judge, and when he asked upon what basis, the Prophet instructed him to strive. > **"Strive. If you are correct, you shall have ten good deeds. If you are not correct, you shall have one good deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت آپ کے سامنے دو مقابل فریق موجود تھے ‘ جو مقدمہ لے کے آئے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ‘ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اس چیز کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کرو ‘ میں نے عرض کی : کس بنیاد پر ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اجتہاد کرو ! اگر تم نے درست فیصلہ دیا ‘ تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے درست فیصلہ نہ دیا ‘ تو تمہیں ایک نیکی ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے اور وہ متروک ہے ‘ اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ امام احمد نے اسے ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7005

Majma al-Zawaid #7005

وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ قَضَى فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَرَجُلٌ قَضَى فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَرَجُلٌ قَضَى بِجَوْرٍ فَفِي النَّارِ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ: "" «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ» "" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, concerning the three judges. > **"Judges are three: a man who judges, striving, and is correct — for him is Paradise; a man who judges, striving, and errs — for him is Paradise; and a man who judges with injustice — he is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ‘ ایک وہ شخص ہے ‘ جو فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لیتا ہے اور درست فیصلہ دیتا ہے ‘ تو اسے جنت نصیب ہو گی ‘ اور ایک وہ شخص ہے ‘ جو فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لیتا ہے اور غلطی کر جاتا ہے ‘ اسے بھی جنت نصیب ہو گی اور ایک وہ شخص ہے ‘ جو ظلم کے مطابق فیصلہ دیتا ہے ‘ تو وہ جہنم میں جائے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ‘ ایک قسم کا قاضی جنت میں جائے گا اور دو قسم کے قاضی جہنم میں جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7006

Majma al-Zawaid #7006

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ قَالَ: كَتَبَ أَبُو بَكَرَةَ إِلَى ابْنِهِ، وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى سِجِسْتَانَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي أَمْرٍ قَضَاءَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Jawshan reports that Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, wrote to his son when he was governor of Sijistan, conveying what he heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. > **"Let no one give two conflicting judgments in a single matter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن جوشن بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو خط لکھا ‘ جو سجستان کے گورنر تھے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کوئی شخص ایک ہی معاملے کے بارے میں ‘ دو قسم کے فیصلے نہ دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7007

Majma al-Zawaid #7007

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلَامٌ، فَقَالَ: "" أَجْعَلُ بَيْنِي وَبَيْنَكِ عُمَرَ؟ "". فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: "" أَجْعَلُ بَيْنِي وَبَيْنَكِ أَبَاكِ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, reports that a dispute arose between her and the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, whereupon he offered to appoint an arbiter, first ʿUmar, may Allah be pleased with him, whom she declined, then her father Abu Bakr, may Allah be pleased with him, whom she accepted. > **"Shall I place ʿUmar between me and you?"** — she said: **"No."** — he said: **"Shall I place your father between me and you?"** — she said: **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان کسی بارے میں اختلاف ہو گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان عمر کو ثالث بناتا ہوں ، میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان ‘ تمہارے والد کو ثالث بنا دیتا ہوں ؟ میں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواسود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7008

Majma al-Zawaid #7008

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: وَمَا اتَّخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاضِيًا، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ زَمَانِهِ قَالَ لِيَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ يُمَنٍ: "" اكْفِنِي بَعْضَ الْأُمُورِ "" يَعْنِي صِغَارَهَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that neither the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, nor Abu Bakr, may Allah be pleased with him, nor ʿUmar, may Allah be pleased with him, appointed a standing judge, until at the end of his caliphate ʿUmar asked Yazid, the nephew of Yaman, to relieve him of some minor matters.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کوئی قاضی مقرر نہیں کیا تھا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں کیا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں کیا تھا ‘ البتہ انہوں نے اپنے عہد خلافت کے آخری دور میں یزید ‘ جو یمن کا بھانجا ہے ‘ اس سے یہ کہا تھا : تم بعض امور کے بارے میں ‘ میری کفایت کرو ‘ یعنی چھوٹے معاملات تم نمٹا لیا کرو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7009

Majma al-Zawaid #7009

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ لَمْ يَتَّخِذَا قَاضِيًا. وَأَوَّلُ مَنِ اسْتَقْضَى عُمَرُ قَالَ: رُدَّ عَنِّي النَّاسَ فِي الدِّرْهَمِ وَالدِّرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: قَدْ تَقَدَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَنْ يَقْضِيَ بِحَضْرَتِهِ، وَوَرَدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Al-Saʾib ibn Yazid, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and Abu Bakr, may Allah be pleased with him, took no judge, and that ʿUmar, may Allah be pleased with him, was the first to appoint one, saying: keep the people away from me concerning cases of one or two dirhams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کسی کو قاضی نہیں بنایا تھا ‘ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو قاضی مقرر کیا تھا ‘ اور یہ فرمایا : ایک درہم اور دو درہم کے بارے میں ‘ تم لوگوں کو مجھ سے دور رکھو ۔ ( یعنی تم اُن کے فیصلے کر دیا کرو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس کے بقیہ رجال حسن ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو اپنی موجودگی میں فیصلہ دینے کا حکم دیا تھا ‘ اور یہ بات بھی وارد ہوئی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ پیش آیا تھا ۔

7010

Majma al-Zawaid #7010

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الصَّلَاةِ، وَغَيْرِهَا مِنْ أَمْرِ الْمَدِينَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, appointed Ibn Umm Maktum, may Allah be pleased with him, a blind Companion, as his deputy over the prayer and other affairs of Madinah in his absence.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ( کی امامت ) اور مدینہ منورہ کے دیگر معاملات کے بارے میں حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

7011

Majma al-Zawaid #7011

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ: ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَا يُتْرَكُ. وَقَدْ تَرَكَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, linked divine purification to justice for the weak. > **"Allah does not purify a nation in which the right of the weak is not taken from the strong."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاک نہیں کرتا ، جس میں کمزور شخص کے لئے ‘ طاقتور سے حق نہیں لیا جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ اسے متروک قرار نہیں دیا جائے گا ‘ حالانکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔

7012

Majma al-Zawaid #7012

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يُعْطَى الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا فِي الْخِلَافَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, made unhindered justice the mark of a purified nation. > **"No nation is purified in which the weak is not given his right without obstruction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ ایسی امت کو پاک نہیں کیا جاتا جس ‘ میں کمزور کو اس کا حق رکاوٹ ( یا دقت ) کے بغیر نہیں دیا جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث خلافت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

7013

Majma al-Zawaid #7013

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ الدُّورَ، وَأَقْطَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِيمَنْ أَقْطَعَ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكِّبْهُ عَنَّا. قَالَ: "" فَلِمَ بَعَثَنِي اللَّهُ إِذًا؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُعْطُونَ الضَّعِيفَ مِنْهُمْ حَقَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, arrived in Madinah and allotted dwellings, granting him a share among others, some Companions objected to his proximity. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, rebuked them. > **"Then for what did Allah send me? Allah does not purify a nation whose people do not give the weak among them his right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو آپ نے مختلف گھر عطیہ کے طور پر دیے ‘ جن لوگوں کو آپ نے عطیہ کے طور پر دیے تھے ‘ ان میں آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھی دیا ‘ آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں ہم سے ہٹا دیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں بھیجا ہے ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاک نہیں کرتا ‘ جو لوگ اپنے میں سے ضعیف شخص کو اس کا حق نہیں دیتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7014

Majma al-Zawaid #7014

وَعَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ فِيهَا لِلضَّعِيفِ حَقُّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي حُسْنِ قَضَاءِ الدَّيْنِ فِي الْبَيْعِ.

EnglishUnverified translation

Qabus ibn Mukhariq reports from his father, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned against neglecting the weak. > **"No nation is purified in which the right of the weak is not secured for him without obstruction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قابوس بن مخارق ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کی جاتی ، جس میں کمزور شخص کا حق ‘ کسی رکاوٹ ( یا دقت ) کے بغیر وصول نہیں کیا جا سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے سے متعلق احادیث ‘ خرید و فروخت سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔

7015

Majma al-Zawaid #7015

وَعَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ لِقَاضِي الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ رِزْقًا، وَلِصَاحِبِ مَغَانِمِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Masruq reports that ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, disapproved of the judge of the Muslims taking a stipend for his judging, and likewise the one in charge of their spoils taking pay.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے قاضی کے لئے یہ چیز مکروہ قرار دی ہے کہ وہ اس کا معاوضہ وصول کرے ‘ اسی طرح ان کے مال غنیمت ( کو تقسیم کرنے والے فرد کے لئے بھی معاوضہ لینا مکروہ ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7016

Majma al-Zawaid #7016

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُعَنِّفَ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ دُونَ الْآخَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ غُصْنٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, forbade rebuking one of the two disputants to the exclusion of the other, commanding equality between them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دو مقابل فریقوں میں سے ایک فریق کو چھوڑ کر دوسرے پر سختی کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن غصن ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

7017

Majma al-Zawaid #7017

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا ابْتُلِيَ أَحَدُكُمْ فِي الْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَقْضِيَنَّ، وَهُوَ غَضْبَانُ وَلْيُسَوِّ بَيْنَهُمْ بِالنَّظَرِ وَالْمَجْلِسِ وَالْإِشَارَةِ، وَلَا يَرْفَعْ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ فَوْقَ الْآخَرِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, wife of the Prophet, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, commanded complete impartiality of the judge. > **"When one of you is tried with judging between the Muslims, let him not judge while angry. Let him treat them equally in gaze, seating, and gesture, and let him not raise his voice against one of the two litigants above the other."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص مسلمانوں کے درمیان قاضی بننے کی آزمائش میں مبتلاء ہو ‘ تو وہ غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ دے ‘ دیکھنے ‘ بیٹھنے کی جگہ ‘ اور اشارہ کرنے کے حوالے سے ‘ وہ لوگوں کے درمیان برابری رکھے ‘ اور دو فریقوں میں سے کسی ایک کے خلاف دوسرے کی بہ نسبت آواز بلند نہ کرے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7018

Majma al-Zawaid #7018

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ لَهُ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اخْتَصَمَ عِنْدَهُ الرَّجُلَانِ فَاتَّعَدَا الْمَوْعِدَ فَجَاءَ أَحَدُهُمَا، وَلَمْ يَأْتِ الْآخَرُ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلَّذِي جَاءَ عَلَى الَّذِي لَمْ يَجِئْ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي الدَّابَّةِ وَالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ. وَالَّذِي نَحْنُ فِيهِ أَمْرُ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِقَوِيٍّ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reports that Muʿawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with them both, asked him whether the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, when two men disputed before him and agreed to return at an appointed time, would judge for the one who came against the one who failed to come. Abu Musa replied that such a ruling concerned beasts, sheep, and camels, whereas their present matter concerned the governance of the people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ جب نبی اکرم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں نے مقدمہ پیش کیا اور دونوں نے مخصوص وقت میں آنے کا وعدہ کیا اور ان میں سے ایک آ گیا اور دوسرا نہیں آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے آنے والے شخص کے حق میں اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دیا ‘ جو نہیں آیا تھا ۔ تو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ جانور ‘ یا اونٹ یا بکری وغیرہ کے مقدمے میں ہو گا ‘ اور ہمارا اور آپ کا اختلاف لوگوں پر حکومت کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ‘ ابوحاتم کہتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ‘ ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

7019

Majma al-Zawaid #7019

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ دُعِيَ إِلَى حَاكِمٍ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَهُوَ ظَالِمٌ» "". - أَوْ قَالَ: "" «لَا حَقَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warned the one who evades a lawful summons. > **"Whoever is summoned before a judge among the judges of the Muslims and does not come to him is unjust"** — or he said — **"he has no right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کو ‘ کسی مسلمان حکمران کے پاس بلایا جائے ‘ اور وہ اس کے پاس نہ آئے ‘ تو وہ ظالم ہو گا ‘‘ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : اس کا کوئی حق نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء بن ابومیمونہ ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

7020

Majma al-Zawaid #7020

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" «إِذَا طَالَبَ الرَّجُلُ الْآخَرَ، فَدَعَا أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ إِلَى الَّذِي يَقْضِي بَيْنَهُمَا فَأَبَى أَنْ يَجِيءَ فَلَا حَقَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, would say concerning two disputants when one calls the other to a judge and the other refuses. > **"When a man claims against another, and one of them calls his fellow to the one who will judge between them, and he refuses to come, then he has no right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب ایک شخص ‘ دوسرے کے خلاف مقدمہ کرے ‘ اور پھر ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اس شخص کی طرف جانے کے لئے کہے ‘ جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہو ‘ اور دوسرا آنے سے انکار کر دے ‘ تو پھر اُس کو حق نہیں ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7021

Majma al-Zawaid #7021

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: "" «إِذَا خَاصَمَ الرَّجُلُ الْآخَرَ فَدَعَا أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ إِلَى الرَّسُولِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمَا، مَنْ أَبَى أَنْ يَجِيءَ فَلَا حَقَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, addressed them concerning disputants when one invites the other to the Messenger to judge between them. > **"When a man disputes with another, and one of them calls his fellow to the Messenger to judge between them, whoever refuses to come has no right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’ جب ایک شخص کا دوسرے سے اختلاف ہو ‘ اور ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہے : رسول کے پاس چلیں ‘ تاکہ وہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں ‘ تو جو شخص آنے سے انکار کرے گا ‘ اسے حق نہیں ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔

7022

Majma al-Zawaid #7022

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ دُعِيَ إِلَى سُلْطَانٍ فَلَمْ يَجِبْ فَهُوَ ظَالِمٌ لَا حَقَّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Samurah, may Allah be pleased with him, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said concerning the one summoned by authority. > **"Whoever is summoned before the authority and does not respond is unjust; he has no right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کو سلطان کی طرف بلایا جائے اور وہ نہ جائے ‘ تو وہ ظالم ہو گا اور اس کو حق نہیں ملے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ‘ جسے ابن عدی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7023

Majma al-Zawaid #7023

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِنَّمَا أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا أَسْمَعُ مِنْكُمْ، وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ أَخِيهِ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that two men disputed before the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who reminded them of the limits of human judgment. > **"I am only a human. I judge between you by what I hear from you. Perhaps one of you is more eloquent in his plea than his brother. Whomever I award anything of his brother's right, I have only cut for him a piece of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے مقدمہ پیش کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ایک بشر ہوں ، میں تمہارے درمیان اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہوں ‘ جو میں نے تم سے سنا ہوتا ہے ‘ یہ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں اپنے بھائی سے زیادہ تیز زبان ہو ‘ تو جس شخص کے حق میں ‘ میں اُس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ کر دوں ‘ تو میں نے اسے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔