Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 14 · Chapter 3

Book of Oaths and Vows

Hadith 6975–6983

9 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6975

Majma al-Zawaid #6975

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ كَلَامٌ فَقَالَتْ: مَا أُدْمُكَ وَأُدْمُ عِيَالِكَ إِلَّا مِنْ لَبَنِ شَاتِي. فَأَقْسَمَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ لَبَنِهَا شَيْئًا. فَضَافَهُمْ ضَيْفٌ فَأَدَمَتْ لَهُمْ بِلَبَنِ شَاتِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ عَلِمْتِ أَنِّي لَا آكُلُهُ. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلْهُ لَا آكُلُهُ. فَقَالَ الضَّيْفُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلَا لَا آكُلُهُ. فَبَاتَا بِغَيْرِ عَشَاءٍ. فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: مَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَهْلِكَ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ طَلَاقٌ، وَلَا ظِهَارٌ، وَلَا إِيلَاءٌ، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ. فَقَالَ [لَهُ] عَبْدُ اللَّهِ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا رَجَعْتَ [إِلَى أَهْلِكَ] أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَا تَصْنَعُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَبَنِ هَذِهِ الشَّاةِ، وَقَدْ أَرَى أَنْ تُطَيِّبَ لِنَفْسِكَ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Bakhtari رحمه الله reported that a dispute arose between a man from among the companions of Abdullah رضي الله عنه and his wife, after which she declared their condiment would only be from the milk of her goat, whereupon he swore he would eat nothing of its milk. When a guest came and she prepared food with that milk, the husband, wife, and guest each swore none would eat unless the others ate, so they passed the night without supper. When the account reached Abdullah and the man clarified there was no divorce nor zihar nor ila and narrated the affair, Abdullah adjured him that upon returning to his household the first thing he should do is eat from the milk of that goat, and viewed that he should satisfy himself by expiating his oath.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبختری بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ‘ اس عورت نے کہا : تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا سالن صرف میری بکری کے دودھ سے بنے گا ‘ اس شخص نے یہ قسم اٹھا لی ‘ کہ وہ اس بکری کے دودھ میں سے کچھ بھی نہیں کھائے گا ، پھر ان لوگوں کے ہاں مہمان آیا اس عورت نے ( اپنی قسم کے مطابق ) ان لوگوں کے لئے اپنی بکری کے دودھ سے سالن تیار کیا ‘ اس شخص نے کہا : تم یہ بات جانتی ہو کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم اگر تم اسے نہیں کھاؤ گے ‘ تو میں بھی اس کو نہیں کھاؤں گی ‘ مہمان نے کہا : اللہ کی قسم اگر تم دونوں اسے نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا ‘ ان دونوں نے رات کا کھانا کھائے بغیر رات بسر کر دی ‘ اگلے دن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا ‘ وہ شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا چیز ہے ؟ جو تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے ‘ اس نے کہا : وہ چیز نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی ظہار ہے ‘ نہ ایلاء ہے ‘ پھر اس نے پورا واقعہ سنایا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جب تم اپنی بیوی کے پاس واپس جاؤ ‘ تو سب سے پہلا کام یہ کرو اس بکری کے دودھ سے بنا ہوا سالن کھاؤ ‘ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر تمہاری تسلی نہیں ہوتی ہے ‘ تم کفارہ دے دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6976

Majma al-Zawaid #6976

عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: «مَرِضْتُ فَعَادَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَرِئْتُ قَالَ: "" صَحَّ جِسْمُكَ يَا خَوَّاتُ فِ لِلَّهِ بِمَا وَعَدْتَهُ "". قُلْتُ: مَا وَعَدْتُ اللَّهَ شَيْئًا. قَالَ: "" إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَرِيضٍ يَمْرَضُ إِلَّا نَذَرَ شَيْئًا أَوْ نَوَى شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ. فَفِ لِلَّهِ بِمَا وَعَدْتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ.

EnglishUnverified translation

Khawwat ibn Jubayr رضي الله عنه reported that he fell ill and the Prophet ﷺ visited him. When he recovered, the Prophet ﷺ addressed him concerning his restored body and commanded him to fulfil for Allah what he had promised Him. When Khawwat replied he had promised Allah nothing, the Prophet ﷺ explained that no sick person falls ill except he vows something or intends some act of good, and commanded him to fulfil for Allah what he had promised. > **"Your body has recovered, O Khawwat, so fulfil for Allah what you promised Him. There is no sick person who falls ill except that he vows something or intends some act of good. So fulfil for Allah what you promised Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بیمار ہو گیا نبی اکرم ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لائے جب میں تندرست ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا جسم تندرست ہو گیا ہے ‘ تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرو میں نے عرض کی : میں نے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھی مریض بیمار ہوتا ہے ‘ تو وہ کوئی نہ کوئی نذر مانتا ہے یا بھلائی کا کوئی کام کرنے کی نیت کرتا ہے ‘ تو تم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اللہ تعالی کے لئے اسے پورا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن اسحاق ہاشمی ہے ‘ جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6977

Majma al-Zawaid #6977

عَنْ كَرَدْمِ بْنِ سُفْيَانَ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَذْرٍ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟ "". قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. قَالَ: "" فَأَوْفِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا جَعَلْتَ لَهُ. انْحَرْ عَلَى ثَوَابِهِ وَأَوْفِ نَذْرَكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Kardam ibn Sufyan رضي الله عنه asked the Messenger of Allah ﷺ concerning a vow he had taken in Jahiliyyah. The Prophet ﷺ asked whether it was for an idol or a sacrificial stone, and when he clarified it was for Allah Blessed and Exalted, the Prophet ﷺ commanded him to fulfil for Allah what he had assigned to Him, to slaughter seeking its reward and fulfil his vow. > **"Was it for an idol or for a sacrificial stone? Then fulfil for Allah, Blessed and Exalted is He, what you assigned to Him. Slaughter seeking its reward and fulfil your vow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسی نذر کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا وہ کسی بت کے لئے یا کسی مخصوص عبادت کے مقام کے لیے تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ اللہ تعالی کے لئے تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اللہ تعالی کے لئے اسے پورا کرو جو تم نے اللہ تعالیٰ کے لئے طے کیا ہے اور اس کے ثواب کے حصول کے لئے جانور قربان کرو اور اپنی نذر پوری کرو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔

6978

Majma al-Zawaid #6978

وَعَنِ ابْنَةِ كَرَدْمَةَ عَنْ أَبِيهَا «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي، فَقَالَ: "" إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ إِجْمَاعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا. وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ [الْجَارِيَةِ] مَشْيًا أَفَأَمْشِي عَنْهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Kardamah reported from her father رضي الله عنه that he asked the Messenger of Allah ﷺ concerning his vow to slaughter three of his camels. The Prophet ﷺ distinguished that if it was upon a gathering of Jahiliyyah, or a festival of Jahiliyyah, or upon an idol, then it is void, and if upon other than that then he should discharge his vow. The man then asked whether he might walk on behalf of the mother of the girl who owed walking, to which the Prophet ﷺ gave permission. > **"If it was upon a gathering of the gatherings of Jahiliyyah, or upon a festival of the festivals of Jahiliyyah, or upon an idol, then no. And if it was upon other than that, then discharge your vow. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کردمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ‘ اور یہ کہا : میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں تین اونٹ قربان کروں گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر یہ نذر زمانہ جاہلیت کے کسی اجتماع کی بنیاد پر ‘ یا زمانہ جاہلیت کی کسی عید کے حوالے سے ‘ یا کسی بت کے حوالے سے تھی ، تو پھر تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ اور اگر یہ اس کے علاوہ تھی ، تو پھر تم اپنی نذر کو پورا کرو ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس لڑکی کی والدہ نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی ، تو کیا میں اس کی طرف سے پیدل چل لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6979

Majma al-Zawaid #6979

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that Sad ibn Ubadah رضي الله عنه sought a verdict from the Messenger of Allah ﷺ concerning a vow incumbent upon his mother from Jahiliyyah, she having died before discharging it. The Prophet ﷺ commanded him to discharge it on her behalf. > **"Discharge it on her behalf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس نذر کے بارے میں حکم دریافت کیا ‘ جو ان کی والدہ نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی ‘ اور پھر اس کو پورا کرنے سے پہلے اس خاتون کا انتقال ہو گیا تھا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کی طرف سے اسے پورا کر دیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ زمانہ جاہلیت میں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6980

Majma al-Zawaid #6980

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ: «أَنَّ عَمَّتَهُ حَدَّثَتْهُ: أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا مَشْيٌ إِلَى الْكَعْبَةِ نَذْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ تَسْتَطِيعِينَ أَنْ تَمْشِيَ عَنْهَا؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَامْشِي عَنْ أُمِّكِ "". قَالَتْ: أَوَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ، ثُمَّ قَضَيْتِهِ عَنْهَا هَلْ كَانَ يُقْبَلُ مِنْكِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُ أَحَقُّ بِذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَمُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sinan ibn Abdullah al-Juhani رضي الله عنه reported through his paternal aunt that she came to the Prophet ﷺ and said her mother had died owing a vow of walking to the Kaaba. The Prophet ﷺ asked whether she was able to walk on her behalf, and upon her affirmation commanded her to walk on behalf of her mother. When she asked whether that would suffice, he affirmed it by the parable of repaying a debt on behalf of the mother, declaring Allah more entitled to such settlement. > **"Are you able to walk on her behalf? Then walk on behalf of your mother. Yes. What think you: if your mother owed a debt and you then repaid it on her behalf, would it be accepted from you? Allah is more entitled to that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن کریب نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حضرت سنان بن عبداللہ جہنی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ان کی پھوپھی نے انہیں بتایا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ‘ ان کے ذمہ خانہ کعبہ تک پیدل چل کر جانے کی نذر لازم تھی ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتی ہو کہ تم ان کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم اپنی والدہ کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ ‘ اس خاتون نے عرض کی : کیا یہ چیز ان کی جگہ کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اگر تمہاری ماں کے ذمہ کوئی قرض ہوتا ‘ اور تم اس کی طرف سے ادا کر دیتی ‘ تو کیا وہ تمہاری طرف سے قبول ہو جاتا ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اس بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور محمد بن کریب نامی راوی ضعیف ہے ۔

6981

Majma al-Zawaid #6981

وَعَنْ مَرْوَانَ بْنِ قَيْسٍ، وَكَانَ قَدْ أَخَذَ الرَّعِيَّةَ عَنْ أَهْلِهِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ، وَقَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى مَكَّةَ، وَأَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً، وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ يُمْشَى عَنْهُ، وَأَنْ يُنْحَرَ عَنْهُ بَدَنَةٌ مِنْ مَالِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ، اقْضِ عَنْهُ، وَانْحَرْ عَنْهُ وَامْشِ عَنْهُ. أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ لِرَجُلٍ فَقَضَيْتَ عَنْهُ مِنْ مَالِكَ أَلَيْسَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ رَاضِيًا؟ [وَ] اللَّهَ تَعَالَى أَحَقُّ أَنْ يُرْضَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Marwan ibn Qays رضي الله عنه reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said his father had died having imposed upon himself to walk to Makkah and to sacrifice a badanah, leaving no wealth, asking whether it would be discharged if walked and sacrificed on his behalf from the son's own wealth. The Prophet ﷺ answered affirmatively and commanded him to discharge, sacrifice, and walk on his behalf, illustrating it with the parable of a debt owed to a man and Allah's greater right to be pleased. > **"Yes, discharge it on his behalf, and sacrifice on his behalf and walk on his behalf. What think you: if your father owed a debt to a man and you repaid it on his behalf from your wealth, would not the man return satisfied? Allah Exalted is He is more entitled to be pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مروان بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اپنے اہل خانہ سے ’’ رعیہ ‘‘ لیا تھا ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ‘ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ پیدل چل کر مکہ تک جائیں گے اور اونٹ قربان کریں گے ‘ انہوں نے کوئی مال نہیں چھوڑا ‘ تو کیا ان کی طرف یہ نذر ادا ہو جائے گی ‘ اگر ان کی طرف سے پیدل چل کر جایا جائے ‘ اور میں اپنے مال میں سے ان کی طرف سے اونٹ قربان کر لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کی طرف سے اس کو پورا کرو اور ان کی طرف سے قربانی کرو اور ان کی طرف سے پیدل چل کر جاؤ ‘ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر تمہارے والد کے ذمہ کسی شخص کا قرض ہوتا ‘ اور تم اپنے مال میں سے ان کی طرف سے ادا کر دیتے ، تو کیا اس شخص نے راضی ہو کر واپس نہیں جانا تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ تو اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6982

Majma al-Zawaid #6982

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً، وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: "" أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that al-As ibn Wail had vowed in Jahiliyyah to slaughter one hundred budn, and Hisham ibn al-As had slaughtered his fifty share. When Amr رضي الله عنه asked the Prophet ﷺ concerning the remainder, the Prophet ﷺ made benefit conditional upon the father's affirmation of Tawhid, that fasting and charity on his behalf would then benefit him. > **"As for your father, had he affirmed Tawhid, then had you fasted and given charity on his behalf, that would have benefited him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ ایک سو اونٹ قربان کریں گے ‘ ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کر دیے ‘ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے والد نے توحید کا اقرار کیا تھا ‘ تو پھر تم روزہ رکھو اور اس کی طرف سے صدقہ کرو ‘ تو یہ چیز اسے نفع دے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6983

Majma al-Zawaid #6983

عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: «جَاءَ الشَّرِيدُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ [الْفَتْحِ]، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَحَ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَا هُنَا فَصَلِّ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn Abi Rabah رحمه الله reported that al-Sharid رضي الله عنه came to the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest and said he had vowed that if Allah Mighty and Majestic granted him the conquest of Makkah he would pray in Bayt al-Maqdis. The Prophet ﷺ repeatedly directed him to pray in his present place. > **"Here, then pray. Here, then pray. Here, then pray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : حضرت شرید رضی اللہ عنہ ‘ فتح کے دن ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مکہ کو فتح کر دیا ‘ تو میں بیت المقدس میں نماز ادا کروں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یہاں نماز ادا کر لو ! یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔