Majma al-Zawaid #6975
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ كَلَامٌ فَقَالَتْ: مَا أُدْمُكَ وَأُدْمُ عِيَالِكَ إِلَّا مِنْ لَبَنِ شَاتِي. فَأَقْسَمَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ لَبَنِهَا شَيْئًا. فَضَافَهُمْ ضَيْفٌ فَأَدَمَتْ لَهُمْ بِلَبَنِ شَاتِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ عَلِمْتِ أَنِّي لَا آكُلُهُ. فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلْهُ لَا آكُلُهُ. فَقَالَ الضَّيْفُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلَا لَا آكُلُهُ. فَبَاتَا بِغَيْرِ عَشَاءٍ. فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: مَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَهْلِكَ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ طَلَاقٌ، وَلَا ظِهَارٌ، وَلَا إِيلَاءٌ، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ. فَقَالَ [لَهُ] عَبْدُ اللَّهِ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا رَجَعْتَ [إِلَى أَهْلِكَ] أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَا تَصْنَعُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَبَنِ هَذِهِ الشَّاةِ، وَقَدْ أَرَى أَنْ تُطَيِّبَ لِنَفْسِكَ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abu al-Bakhtari رحمه الله reported that a dispute arose between a man from among the companions of Abdullah رضي الله عنه and his wife, after which she declared their condiment would only be from the milk of her goat, whereupon he swore he would eat nothing of its milk. When a guest came and she prepared food with that milk, the husband, wife, and guest each swore none would eat unless the others ate, so they passed the night without supper. When the account reached Abdullah and the man clarified there was no divorce nor zihar nor ila and narrated the affair, Abdullah adjured him that upon returning to his household the first thing he should do is eat from the milk of that goat, and viewed that he should satisfy himself by expiating his oath.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوبختری بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ‘ اس عورت نے کہا : تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا سالن صرف میری بکری کے دودھ سے بنے گا ‘ اس شخص نے یہ قسم اٹھا لی ‘ کہ وہ اس بکری کے دودھ میں سے کچھ بھی نہیں کھائے گا ، پھر ان لوگوں کے ہاں مہمان آیا اس عورت نے ( اپنی قسم کے مطابق ) ان لوگوں کے لئے اپنی بکری کے دودھ سے سالن تیار کیا ‘ اس شخص نے کہا : تم یہ بات جانتی ہو کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا اس عورت نے کہا : اللہ کی قسم اگر تم اسے نہیں کھاؤ گے ‘ تو میں بھی اس کو نہیں کھاؤں گی ‘ مہمان نے کہا : اللہ کی قسم اگر تم دونوں اسے نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا ‘ ان دونوں نے رات کا کھانا کھائے بغیر رات بسر کر دی ‘ اگلے دن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا ‘ وہ شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ کیا چیز ہے ؟ جو تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے ‘ اس نے کہا : وہ چیز نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی ظہار ہے ‘ نہ ایلاء ہے ‘ پھر اس نے پورا واقعہ سنایا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ جب تم اپنی بیوی کے پاس واپس جاؤ ‘ تو سب سے پہلا کام یہ کرو اس بکری کے دودھ سے بنا ہوا سالن کھاؤ ‘ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر تمہاری تسلی نہیں ہوتی ہے ‘ تم کفارہ دے دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ‘ لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔