عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ، وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا فَقَالَ: يَا بَنِيَّ إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ تَخْلُفُوا أَبَاكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا أَصْغَرَكُمْ فَيَزْرِي بِكُمْ ذَلِكَ عِنْدَ أَكْفَائِكُمْ. وَلَا تُقِيمُوا عَلَيَّ نَائِحَةً، فَإِنِّي «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ». وَعَلَيْكُمْ (بِإِصْلَاحِ) الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَلَا تُعْطُوا رِقَابَ الْإِبِلِ إِلَّا فِي حَقِّهَا، وَلَا تَمْنَعُوهَا مِنْ حَقِّهَا. وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ عِرْقِ سُوءٍ فَمَهْمَا يَسُرُّكُمْ يَوْمًا يَسُوؤُكُمْ أَكْثَرَ، وَاحْذَرُوا أَبْنَاءَ أَعْدَائِكُمْ؛ فَإِنَّهُمْ لَكُمْ أَعْدَاءٌ عَلَى مِنْهَاجِ آبَائِكُمْ. وَإِذَا أَنَا مِتُّ فَادْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَإِنَّهَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبِشُونِي فَيُفْسِدُوا عَلَيْهِمْ دُنْيَاهُمْ وَيُفْسِدُوا عَلَيْكُمْ آخِرَتَكُمْ. ثُمَّ دَعَا بِكِنَانَتِهِ وَأَمَرَ ابْنَهُ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ يُدْعَى عَلِيًّا، فَقَالَ: أَخْرِجْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي. فَأَخْرَجَهُ، فَقَالَ: اكْسِرْهُ. فَكَسَرَهُ فَقَالَ: أَخْرِجْ سَهْمَيْنِ. فَأَخْرَجَهُمَا، فَقَالَ: اكْسِرْهُمَا. فَكَسَرَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجْ ثَلَاثِينَ سَهْمًا. فَأَخْرَجَهَا فَقَالَ: اعْصِبْهَا بِوَتَرٍ. فَعَصَبَهَا، ثُمَّ قَالَ: اكْسِرْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ كَسْرَهَا. فَقَالَ: يَا بَنِيَّ هَكَذَا أَنْتُمْ بِالِاجْتِمَاعِ وَكَذَلِكَ أَنْتُمْ بِالْفُرْقَةِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَى وَالِدُ الصِّدْ ... قِ وَأَحْيَا فَعَالَهُ الْمَوْلُودُ. وَكَفَى الْمَجْدُ وَالشَّجَاعَةُ وَالْحُلْمُ ... إِذَا زَانَهَا فِعَالٌ وُجُودٍ. وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَدْتُهُمْ لِلْنَائِبَاتِ الْعُهُودِ. كَثَلَاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا ... مَا شَدَّهَا لِلْمُرَادِ عَقْدٌ شَدِيدٌ. لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَبَدَّدَتِ الْأَسْهُمُ ... أَوْدَى بَجَمْعِهِمَا التَّبْدِيدُ. وَذُوُوا السِّنِّ وَالْمُرُوءَةِ أَوْلَى ... أَنْ يَكُنَّ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدُ. وَعَلَيْكُمْ حِفْظُ الْأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثَ الْأَصْغَرُ الْمَجْهُودُ. رَوَاهُ هَكَذَا بِتَمَامِهِ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ: (إِنَّمَا الصِّدْقُ مَا بَنَى الْوُدَّ). وَرَوَى أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ مِنْهُ طَرَفًا، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ: الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ الْمِزِّيُّ: ذَكَرَهُ بَعْضُهُمْ فِي الضُّعَفَاءِ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمِ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullāh ibn Abī Suwayd al-Minqarī said: I witnessed Qays ibn ʿĀṣim رضي الله عنه enjoining his thirty-two sons. He said, O my sons, when I die make your eldest your chief to succeed your father, and do not make your youngest chief lest that debase you before your peers. Set no wailing woman over me, for I heard the Messenger of Allah ﷺ forbid wailing. Tend wealth, for it awakens the noble and frees from need of the base. Spend camels only in their right and withhold not their right. Beware every evil stock, for what delights you one day will grieve you more. Beware the sons of your enemies, for they are enemies upon the way of their fathers. When I die bury me where the tribe of Bakr ibn Wāʾil cannot discover, for there were violent feuds between us in Jāhiliyyah, and I fear they will exhume me and ruin their world and your Hereafter. Then he called for his quiver and commanded his eldest son ʿAlī to break one arrow, then two, which he broke, then thirty bound with a bowstring, which he could not break. He said, O my sons, thus you are in unity and thus in division, then recited verses on glory built by a truthful father and kept alive by the child, on thirty sons bound like arrows against calamities, on giving leadership to elders, and on guarding the young until the strained youngest reaches maturity.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالله بن ابوسوید منقری بیان کرتے ہیں : میں حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ‘ وہ وصیت کر رہے تھے ‘ انہوں نے اپنے بچوں کو جمع کیا ‘ وہ بتیس افراد تھے ‘ انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں ‘ تو تم اپنے میں سے سب سے بڑے کو سردار بنانا ‘ جو تمہارے باپ کا جانشین ہو ‘ تم اپنے میں سے چھوٹے کو سردار نہ بنانا ‘ ورنہ وہ تمہارے ہم پلہ لوگوں کے حوالے سے تمہیں بے حیثیت کر دے گا اور تم کسی نوحہ کرنے والی عورت کو مجھ پر کھڑا نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نوحہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ‘ اور تم پر مال کی دیکھ بھال لازم ہے ‘ کیونکہ یہ معزز شخص کے لئے بچاؤ کا باعث ہوتا ہے اور کمینے شخص سے بے نیاز رکھتا ہے ‘ اور تم اونٹوں کی گردنیں ‘ صرف حق میں خرچ کرنا اور انہیں ان کے حق سے نہ روکنا ‘ اور تم ہر قسم کی زیادتی سے بیچ کے رہنا ، کیونکہ بعض اوقات کوئی چیز جو آج تمہیں خوش کر رہی ہے ‘ وہ ( بعد میں ) زیادہ تر تمہیں بری لگے گی ‘ اور تم اپنے دشمنوں کے بچوں سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح تمہارے دشمن ہی ہوں گے ‘ جب میں مر جاؤں ‘ تو مجھے کسی ایسی جگہ پر دفن کرنا ‘ جہاں بکر بن وائل قبیلے کے لوگ واقف نہ ہو سکیں ، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ میری قبر کھود کر اپنی دنیا خراب کریں گے اور تمہاری آخرت کو خراب کریں گے ‘ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا اور اپنے بڑے بیٹے کو حکم دیا ، جس کا نام علی تھا ‘ انہوں نے کہا : تم میرے ترکش میں سے ایک تیر نکالو ! اس نے نکالا ‘ انہوں نے کہا : تم اسے توڑ دو ! اس نے اسے توڑ دیا ‘ انہوں نے کہا : دو تیر نکالو ‘ اس نے دو تیر نکالے ‘ انہوں نے کہا : تم یہ دونوں تیر توڑ دو ‘ اس نے ان دونوں کو توڑ دیا ‘ پھر انہوں نے فرمایا : تم تین تیر نکالو ‘ اس نے نکالے ‘ انہوں نے فرمایا : اسے تار کے ذریعے باندھ دو ! اس نے وہ باندھ دیے ‘ پھر انہوں نے فرمایا : تم اسے توڑ دو ! تو وہ انہیں نہیں توڑ سکا ‘ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اکھٹے رہنے میں تم اسی طرح رہو گے اور الگ رہنے کی صورت میں تمہاری یہ صورت ہو گی ، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ بیشک بزرگی وہی ہوتی ہے ‘ جو سچے باپ نے بنائی ہو اور اس کے کاموں کو ( اس کے ) بچے زندہ رکھیں ‘ بزرگی ‘ بہادری اور بردباری کافی ہوتی ہیں ، جبکہ یہ کام کاج کرنے اور سخاوت سے آراستہ ہوں ‘ اے میرے بیٹے ! پیش آنے والی مشکلات کے لیے تم اگر تیس ( افراد مل کر ) عہد کر لو ‘ تو ان کی مثال ان تیس تیروں کی طرح ہو گی ، جنہیں مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہو ‘ تو ان کو توڑا نہیں جا سکتا ‘ اور اگر ان کو الگ الگ کر دیا جائے ‘ تو علیحدہ ہونا ‘ اُن سب کو ہلاک کر دے گا ، عمر رسیدہ ہونا اور صاحب مروت ہونا ‘ اس بات سے اولیٰ ہے کہ تمہاری طرف سے ان کے لیے سرداری ہو ‘ اور تم پر چھوٹوں کی دیکھ بھال لازم ہے ‘ یہاں تک کہ مشقت کا شکار کمسن فرد بلوغت تک پہنچ جائے “۔ یہ روایت اس طرح مکمل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم معجم اوسط میں پہلا شعر یہ ہے : ’’ بیشک سچائی وہ ہے ‘ جو محبت بناتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علاء بن فضل ہے امام مزی کہتے ہیں : بعض حضرات نے اس کا ذکر ضعیف راویوں میں کیا ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف حکیم بن قیس بن عاصم کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔