Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 16 · Chapter 2

Book of Wills and Bequests

Hadith 7118–7131

14 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

7118

Majma al-Zawaid #7118

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُصْبِحَ يَوْمَ صَوْمِي دَهِينًا مُتَرَجِّلًا: "" وَلَا تُصْبِحْ يَوْمَ صَوْمِكَ عَبُوسًا. وَأَجِبْ دَعْوَةَ مَنْ دَعَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُظْهِرُوا الْمَعَازِفَ فَلَا تُجِبْهُمْ. وَصَلِّ عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ قَبِلَتِنَا، وَإِنْ قُتِلَ مَصْلُوبًا أَوْ مَرْجُومًا. وَلَأَنْ تَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ قُرَابِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَبُثَّ الشَّهَادَةَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ قِبْلَتِنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ enjoined me: > **"Enter the morning of your fast oiled and with combed hair, and do not enter the morning of your fast frowning. Accept the invitation of any Muslim who invites you unless they openly display instruments of music, then do not accept. Pray over whoever dies of the people of our Qiblah, even if executed by crucifixion or stoning. For you to meet Allah with sins nearly filling the earth is better for you than to spread testimony against any of the people of our Qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس دن میں نے روزہ رکھا ہوا ہو ‘ تو بالوں میں تیل بھی لگایا ہوا ہو ‘ اور بال سنوارے بھی ہوئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم روزے کی حالت میں ایسی صبح نہ کرنا کہ تم نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے ہوں اور مسلمانوں میں سے جو شخص تمہاری دعوت کرے تو اس کی دعوت قبول کر لینا ‘ جبکہ وہاں آلات موسیقی ظاہر نہ کیے گئے ہوں ‘ اگر ایسا ہو ‘ تو پھر تم قبول نہ کرنا ‘ اور اہل قبلہ میں سے جو شخص مر جاتا ہے ‘ تم اس کی نماز جنازہ ادا کرنا ‘ اگرچہ اسے مصلوب کر کے ‘ یا سنگسار کر کے مارا گیا ہو ‘ اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ تم نے پوری زمین جتنے گناہ ساتھ لیے ہوئے ہوں ‘ یہ چیز تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گی کہ تم نے اہل قبلہ میں سے کسی ایک کے خلاف گواہی دی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یمان بن سعید ہے ‘ جسے امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

7119

Majma al-Zawaid #7119

وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ: "" اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ، وَأَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ؛ فَإِنَّكِ لَا تَأْتِي اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذِكْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Anas رضي الله عنها said: O Messenger of Allah, enjoin me. He ﷺ said: > **"Abandon sins, for that is the best emigration. Guard the obligations, for that is the best jihād. And increase in remembrance of Allah, for you will bring to Allah nothing more beloved to Him than His remembrance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام انس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے آپ نے فرمایا : تم گناہوں سے لاتعلق رہو ‘ کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ‘ اور تم فرائض کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ‘ اور تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنا ‘ کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لے کر جاؤ گی ‘ جو اس کے نزدیک اُس کے ذکر سے زیادہ محبوب ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

7120

Majma al-Zawaid #7120

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي. قَالَ: "" اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى وَاذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ، وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرَةٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةَ السِّرِّ بِالسِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ بِالْعَلَانِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh رضي الله عنه said: I said, O Messenger of Allah, enjoin me. He ﷺ said: > **"Worship Allah as though you see Him, count yourself among the dead, remember Allah at every stone and at every tree, and when you do an evil deed then do beside it a good deed: a secret one for a secret one, and an open one for an open one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ مجھے وصیت کیجئے ! آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو جیسے تم اُسے دیکھ رہے ہو اور تم اپنا شمار مرحومین میں کرو ‘ تم ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو ‘ اور جب تم کوئی برائی کر لو تو اس کے فوراً بعد نیکی کر لو ‘ پوشیدہ کی جگہ پوشیدہ اور اعلانیہ کی جگہ اعلانیہ ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ابوسلمہ نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

7121

Majma al-Zawaid #7121

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ. اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ. وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ. وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ. وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ. وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ. وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Guarantee me six from yourselves and I shall guarantee you Paradise: be truthful when you speak, fulfill when you promise, render when you are entrusted, guard your private parts, lower your gazes, and restrain your hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تم بات کرو ‘ تو سچ بولو ‘ جب وعدہ کرو تو پورا کرو ‘ جب تمہیں امین بنایا جائے تو امانت ادا کر دو ‘ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو اور اپنے ہاتھ ( کسی کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے ) روک کے رکھو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

7122

Majma al-Zawaid #7122

وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أَبَا كَاهِلٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ "". قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" أَحْيَا اللَّهُ قَلْبَكَ، وَلَا يُمِيتُهُ يَوْمَ يَمُوتُ بَدَنُكَ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ لَنْ يَغْضَبَ رَبُّ الْعِزَّةِ عَلَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَخَافَةٌ، وَلَا تَأْكُلُ النَّارُ مِنْهُ هُدْبَةً. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً حَيَاءً مِنَ اللَّهِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ دَخَلَتْ حَلَاوَةُ الصَّلَاةِ قَلْبَهُ حَتَّى يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرْوِيَهُ يَوْمَ الْعَطَشِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ كَفَّ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكُفَّ عَنْهُ أَذَى الْقَبْرِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ حَيًّا وَمَيِّتًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قُلْتُ: كَيْفَ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ إِذَا كَانَا مَيِّتَيْنِ؟ قَالَ: "" بِرُّهُمَا أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا يَسُبَّهُمَا، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْ أَحَدٍ فَيَسُبَّ وَالِدَيْهِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ عِنْدَ حُلُولِهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنْ رُفَقَاءِ الْأَنْبِيَاءِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ قَلَّتْ عِنْدَهُ حَسَنَاتُهُ وَعَظُمَتْ عِنْدَهُ سَيِّئَاتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُثْقِلَ مِيزَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَعَى عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ يُقِيمُ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ وَيُطْعِمُهُمْ مِنْ حَلَالٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مَعَ الشُّهَدَاءِ فِي دَرَجَاتِهِمْ. اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا بِي وَشَوْقًا لِي كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ، اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ مُسْتَيْقِنًا بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ ذُنُوبَ حَوْلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ، وَقَالَ: إِسْنَادُهُ مُظْلِمٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kāhil رضي الله عنه said: the Messenger of Allah ﷺ said to me, shall I tell you of a decree Allah has taken upon Himself, then supplicated life for my heart on the day my body dies. He ﷺ then detailed its counsels on fear of Allah, veiling faults, sweetness of prayer, congregation, fasting, restraining harm, dutifulness to parents living and dead by seeking forgiveness for them and never reviling them nor others' parents, paying zakāt, providing from the lawful, sending blessings upon him ﷺ, and testimony of unity, and said: > **"Know, O Abū Kāhil, that whoever testifies that none is worthy of worship but Allah alone, certain of it, it is binding upon Allah to forgive him with each utterance the sins of a year."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے ابوکاہل ! کیا میں تمہیں اس فیصلے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں طے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو زندگی دے اور اس دن اسے موت کا شکار نہ کرے جب تمہارا جسم مر جائے گا اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو ! کہ رب العزت اس شخص پر غضبناک نہیں ہو گا ‘ جس کے دل میں خوف ہو اور آگ اس شخص کو بالکل بھی نہیں کھائے گی ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر شرمگاہ کا پردہ رکھے گا ‘ تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پوشیدہ معاملات کا پردہ رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کے دل میں نماز کی حلاوت داخل ہو جائے ‘ یہاں تک کہ وہ اُس کے رکوع اور سجود کو مکمل کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس بندے کو راضی کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص چالیس دن اور چالیس راتوں تک با جماعت نماز یوں ادا کرے کہ وہ تکبیر اولی کو بھی پا لے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کو نوٹ کر لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور ساتھ رمضان کے روزے بھی رکھے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ پیاس والے دن اُسے سیراب کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قبر کی اذیت اُس سے روک لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی اور موت ‘ ہر حال میں اچھائی کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ قیامت کے دن اُسے راضی کرے ۔ میں نے عرض کی : کوئی شخص اپنے والدین کے مرنے کے بعد ‘ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ اچھا سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرے اور انہیں برا نہ کہے اور کسی کے والدین کو برا نہ کہے کہ وہ جواب میں اُس کے والدین کو برا کہے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص زکوۃ لازم ہونے کے وقت اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے انبیاء کا ساتھی بنائے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کی نیکیاں کم ہوں گی اور اس کی برائیاں زیادہ ہوں گی ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پلڑے کو بھاری کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنی بیوی بچوں کے لئے ( کمائی کرنے کے لئے ) کوشش کرتا ہے اور اپنے زیر ملکیت لوگوں کے لئے کوشش کرتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم رکھتا ہے اور انہیں حلال رزق کھلاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کو شہداء کے ساتھ ان کے درجہ میں رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص روزانہ دن کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے اور رات کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے ‘ وہ مجھ سے محبت اور میرے شوق کی خاطر ایسا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کے اس رات کے اور اس دن کے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ وہی ایک معبود ہے ‘ اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ہر مرتبہ ( یہ کلمات پڑھنے پر ) اس شخص کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے ‘ جس کا ذکر امام ذہبی نے کیا ہے ‘ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی سند تاریک ہے ۔

7123

Majma al-Zawaid #7123

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا (قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنَ فَارِسٍ! قَالَ): يُرِيدُ (أَنْ) يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ (ابْنِ فَارِسٍ) وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ! قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ: "" أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ: إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ: آمُرُكَ بِاثْنَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَيْنِ. آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتَ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ لَوْ (وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إَلَّا اللَّهُ، وَلَو أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ) كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ؟ الْكِبْرُ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: [أَ] فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: "" لَا "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ؟ قَالَ: "" سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما said: we were with the Messenger of Allah ﷺ when a Bedouin in a brocaded cloak claimed the Prophet ﷺ debases nobles and raises shepherds. The Prophet ﷺ seized his cloak and reproached his dress, then narrated the will of Nūḥ عليه السلام to his son with two commands and two prohibitions, and explained pride when asked about fine sandals, garments, mounts, and companions, saying: > **"Pride is contempt for the truth and despising people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص آیا ‘ اس نے سیجان کا جبہ پہنا ہوا تھا ، جس پر دیباج کے بٹن لگے ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خبردار تمہارے اس ساتھی نے ہر شہسوار ابن شہسوار کو رکھ دیا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اس نے شہسوار ابن شہسوار کو پست کر دیا ہے اور چرواہا ابن چرواہا کو بلند کر دیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس کے جبہ کے کنارے پکڑے اور فرمایا : کیا میں تم پر ایسا لباس نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ جو اس شخص کا ہوتا ہے ‘ جسے عقل نہ ہو ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کا جب وفات کا وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ‘ میں تمہیں «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور «لا الہ الا اللہ» کو ایک پلڑے میں رکھا جائے تو «لا الہ الا اللہ» والا پلڑا بھاری ہو جائے گا ‘ اور اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک بند حلقہ بن جائیں ‘ تو «لا اله الا اللہ» اور «سبحان اللہ و بحمدہ» ان میں سے گزر جائے گا ‘ یہ ہر چیز کی نماز ہے ‘ اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تمہیں شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک کا تو ہمیں پتہ چل گیا ہے ‘ تکبر سے کیا مراد ہے ؟ کیا تکبر سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے اچھے جوتے ہوتے ہیں ، جس کے اچھے تسمے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کا عمدہ حلہ ہوتا ہے ‘ جسے وہ پہنتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کا جانور ہو جس پر وہ سوار ہوتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ لوگ ہوں ، جن کے ساتھ وہ بیٹھتا ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حق کو کمتر سمجھنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا “۔

7124

Majma al-Zawaid #7124

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ طَيَالِسَةٌ مَلْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ فَقَالَ: "" إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكُمَا عَنِ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهَا لَفَصَمَتْهَا أَوْ لَفَصَمَتْهَا» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: "" «وَأُوصِيكَ بِالتَّسْبِيحِ، فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ وَبِالتَّكْبِيرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرْتُهُ فِي الْأَذْكَارِ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from him رضي الله عنه: a Bedouin came to the Prophet ﷺ in a Ṭayālisah cloak wrapped with brocade. The Prophet ﷺ then sat and said that Nūḥ عليه السلام at death called his two sons and shortened the will to two commands and two prohibitions, forbidding shirk and pride and commanding Lā ilāha illallāh which outweighs the heavens, earth, and what is between them, and adding: > **"And I enjoin upon you glorification, for it is the worship of creation, and magnification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت ‘ جو اُن سے منقول ہے ‘ اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جس کے جسم پر طیالسی جبہ تھا ، جس پر دیباج لگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ واپس آئے اور تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ’’ حضرت نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا : میں تمہیں ایک مختصر وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور میں تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ‘ میں تم دونوں کو شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ‘ اور تم دونوں کو «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ‘ کیونکہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزیں اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور «لا الہ الا اللہ» کو ایک پلڑے میں رکھا جائے ‘ تو وہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر تمام آسمان اور زمین حلقہ بن جائیں اور «لا الہ الا اللہ» کو ان پر رکھا جائے ‘ تو وہ اس میں سے نکل جائے گا ‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ‘ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ میں تمہیں سبحان اللہ پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں ‘ کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے اور تکبیر پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر ذکر کی ہے ‘ میں نے اس کا ذکر ’’ اذکار ‘‘ والے باب میں «لا الہ الا اللہ» کی فضیلت سے متعلق باب میں کیا ہے ‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

7125

Majma al-Zawaid #7125

عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَسْتَخْلِفَ عُمَرَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى أَمْرٍ مُتْعِبٍ لِمَنْ وَلِيَهُ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ بِطَاعَتِهِ وَأَطِعْهُ بِتَقْوَاهُ، فَإِنَّ التُّقَى أَمْرٌ مَحْفُوظٌ، ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَ مَعْرُوضٌ لَا يَسْتَوْجِبُهُ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ فَمَنْ أَمَرَ بِالْحَقِّ وَعَمِلَ بِالْبَاطِلِ وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَعَمِلَ بِالْمُنْكَرِ يُوشِكُ أَنْ تَنْقَطِعَ أُمْنِيَّتُهُ، وَأَنْ يُحِيطَ بِهِ عَمَلُهُ، فَإِنْ أَنْتَ وَلِيتَ أَمْرَهُمْ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجِفَّ يَدَكَ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَأَنْ تُضْمِرَ بَطْنَكَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنْ تَكُفَّ لِسَانَكَ عَنْ أَعْرَاضِهِمْ فَافْعَلْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Agharr Abū Mālik said: when Abū Bakr رضي الله عنه intended to appoint ʿUmar رضي الله عنه as successor, he summoned him and said, I call you to a matter burdensome for whoever undertakes it, so fear Allah O ʿUmar through obeying Him and obey Him through fearing Him, for piety is a safeguarded matter. Whoever commands truth yet acts with falsehood, and commands good yet acts with evil, his hope will soon be cut and his deed will encompass him. If you govern them, keep your hand dry of their blood, your belly empty of their wealth, and your tongue restrained from their honor, if you are able, then do so, and there is no might nor power except through Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اغر ابومالک بیان کرتے ہیں : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کر دیں تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر انہیں بلایا اور فرمایا : میں تمہیں ایک مشکل معاملے کی طرف بلانے لگا ہوں ، جو اس شخص کے لئے مشکل ہے ‘ جو اس کا نگران بنے گا ‘ تو اے عمر ! تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ہمراہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور اس کے تقویٰ کے ہمراہ اس کی اطاعت کرنا ‘ کیونکہ پرہیز گاری ہی محفوظ چیز ہے ، پھر اس کے بعد معاملہ پیش ہو گا اور اس کو وہ چیز واجب کرتی ہے ‘ جو اس پر عمل کرے اور جو شخص حق کے مطابق حکم دے اور باطل کے مطابق عمل کرے ‘ یا نیکی کے مطابق حکم دے اور منکر کے مطابق عمل کرے ‘ تو عنقریب اس کی امید ختم ہو جائے گی ‘ اور اس کا یہ عمل اُسے گھیر لے گا ‘ تو اگر تم ان کے معاملے کے نگران بنتے ہو ‘ تو اگر تم سے ہو سکے تو تم ان کے خونوں سے اپنے ہاتھ خشک ( یعنی محفوظ ) رکھنا ‘ اور اپنے پیٹ میں ان کے اموال نہ ڈالنا اور ان کی عزتوں کے حوالے سے اپنی زبان کو روک کے رکھنا ‘ اگر تم سے ہو سکے ‘ تو ایسا کر لینا ‘ باقی اللہ تعالی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

7126

Majma al-Zawaid #7126

عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ: اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحْدًا، وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ: أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَائْتَمَنَكَ النَّاسُ. وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَائْتَمَنَهُ النَّاسُ فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا، وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ، ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ لَوَثِقْتُ بِهِ. سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ said: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه leaned upon Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما with Ibn ʿUmar and Saʿīd ibn Zayd رضي الله عنهم present, and said, know I have decreed nothing on Kalālah, I appoint no successor after me, and whoever of the Arab captives lives to my death is free from the wealth of Allah. When Saʿīd suggested naming a man as Abū Bakr had done, ʿUmar said he had seen blameworthy eagerness among his companions, so he entrusts the matter to the six with whom the Messenger of Allah ﷺ died pleased. Had Sālim freedman of Abū Ḥudhayfah or Abū ʿUbaydah ibn al-Jarrāḥ رضي الله عنهم lived, he would have entrusted it to him with confidence.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابورافع بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ‘ ان کے پاس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ موجود تھے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے ‘ اور میں اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہا ہوں ، عربوں کے قیدیوں میں سے جس کو میرے وفات کا وقت نصیب ہو جائے ‘ وہ اللہ کے مال میں سے آزاد شمار ہو گا ، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ مسلمانوں میں سے کسی شخص کی طرف اشارہ کر دیں تو لوگ اس حوالے سے آپ کو امین سمجھیں گے ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا تھا ‘ لوگوں نے انہیں بھی امین سمجھا تھا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنے اصحاب کی طرف سے ناپسندیدہ خواہش دیکھی ہے ‘ میں اس معاملے کو ان چھ افراد کے سپرد کر رہا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ اپنے وصال کے وقت ان حضرات سے راضی تھے ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر دو افراد میں سے کوئی ایک اس وقت موجود ہوتا ‘ تو میں اُسے امیر مقرر کر دیتا اور اس پر یقین رکھتا ‘ ابوحذیفہ کا غلام سالم اور ابوعبیدہ بن جراح ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

7127

Majma al-Zawaid #7127

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ أَتَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ: احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُدْرِكَنِي النَّاسُ. أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقَضِ فِي الْكَلَالَةِ قَضَاءً، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي عَتِيقٌ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: I was the first to reach ʿUmar رضي الله عنه when he was stabbed. He said, retain three from me, for I fear people will not reach me: I passed no judgment on Kalālah, I appoint no caliph over people, and every slave of mine is free.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو میں سب سے پہلے ان کے پاس آیا انہوں نے فرمایا : میری تین باتیں یاد رکھنا ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اب لوگ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ‘ میں نے کلالہ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے اور میں نے لوگوں پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا ہے اور میرا ہر غلام آزاد شمار ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ( عربی متن میں اسی طرح مذکور ہے شاید اصل عبارت یہ ہونی چاہیے : یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) ۔

7128

Majma al-Zawaid #7128

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي الْعَبَّاسُ: أَيْ بُنَيَّ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُوكَ وَيُقَرِّبُكَ وَيَسْتَشِيرُكَ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ: اتَّقِ لَا يُجَرِّبَنَّ عَلَيْكَ كَذِبَةً، وَلَا تُفْشِيَنَّ لَهُ سِرًّا، وَلَا تَغْتَابَنَّ عِنْدَهُ أَحَدًا. قَالَ عَامِرٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كُلُّ وَاحِدَةٍ خَيْرٌ مِنْ أَلْفٍ، فَقَالَ: كُلُّ وَاحِدَةٍ خَيْرٌ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: al-ʿAbbās رضي الله عنه said to me, O my son, the Commander of the Believers summons you, draws you near, and consults you with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, so retain three traits from me: beware he ever detects a lie from you, never divulge his secret, and never backbite anyone before him. ʿĀmir said to Ibn ʿAbbās, each is better than a thousand, and he replied, each is better than ten thousand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! امیر المؤمنین تمہیں بلایا کرتے ہیں تمہیں قریب رکھتے ہیں ‘ اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے ہمراہ تم سے بھی مشورہ لیا کرتے ہیں ‘ تو تم میری تین باتیں یاد رکھنا ! تم اس بات سے بچنا کہ وہ تمہاری طرف سے کسی جھوٹ کا سامنا کریں ‘ اور تم ان کے سامنے کوئی پوشیدہ چیز ظاہر نہ کرنا ‘ اور تم ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا ۔ عامر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : ان میں سے ہر ایک بات ایک ہزار سے زیادہ بہتر ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : ان میں سے ہر ایک بات دس ہزار سے زیادہ بہتر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ‘ جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

7129

Majma al-Zawaid #7129

عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَلَقَ أَحَدًا هُوَ أَنْصَحُ لَكَ مِنِّي. إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ صَلَاةً لَا تَرَى أَنَّكَ تُصَلِّي بَعْدَهَا، وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ؛ فَإِنَّهُ فَقْرٌ حَاضِرٌ، وَعَلَيْكَ بِالْإِيَاسِ؛ فَإِنَّهُ الْغِنَى، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ إِلَيْهِ مِنَ الْعَمَلِ وَالْقَوْلِ، وَاعْمَلْ مَا بَدَا لَكَ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd رضي الله عنه said to his son at death: O my son, you will meet none more sincere to you than me. When you intend prayer, perfect your ablution, then pray a prayer as though you will not pray after it. Beware of greed, for it is present poverty; upon you is despair of what people hold, for that is richness. Beware of any deed or word requiring apology, and do besides that as seems to you.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے : انہوں نے مرنے کے قریب اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے ! تم کسی ایسے شخص سے نہیں ملو گے ‘ جو تمہارے لئے مجھ سے زیادہ خیرخواہ ہو ‘ جب تم نماز ادا کرنے کا ارادہ کرو ‘ تو اچھی طرح وضو کرنا پھر اس طرح نماز ادا کرنا کہ تم یہ سمجھو کہ تم اس کے بعد نماز ادا نہیں کر پاؤ گے ‘ اور تم لالچ سے بچ کے رہنا ‘ کیونکہ یہ سامنے موجود غربت ہے اور تم پر ( لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کے حوالے سے ) مایوس رہنا لازم ہے ‘ کیونکہ ایسا شخص ہی خوشحال ہوتا ہے ‘ تم اس چیز سے بچ کے رہنا کہ کوئی ایسا عمل یا قول کرو کہ جس پر معذرت کرنی پڑے ‘ اس کے علاوہ جو تمہیں مناسب لگے ‘ وہ کام کر لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

7130

Majma al-Zawaid #7130

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَيَدْعُونَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُوصِيكَ بِأَمْرَيْنِ إِنْ حَفِظْتَهُمَا حَفِظْتَ: إِنَّهُ لَا غِنَى بِكَ عَنْ نَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ إِلَى نَصِيبِكَ مِنَ الْآخِرَةِ أَفْقَرُ فَآثِرْ نَصِيبَكَ مِنَ الْآخِرَةِ عَلَى نَصِيبِكَ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَظِمَهُ لَكَ انْتِظَامًا، فَتَزُولَ بِهِ مَعَكَ أَيْنَمَا زُلْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِابْنِ سِيرِينَ سَمَاعًا مِنْ مُعَاذٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn said: a man with his companions came to Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه greeting him and supplicating for him. Muʿādh said, I enjoin you with two matters: if you guard them you are guarded. You cannot do without your share of this world, yet you are needier of your share of the Hereafter, so prefer your share of the Hereafter over your share of this world until it orders it for you in full order, then it departs with you wherever you go.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ ان کے ساتھ ان کے پاس موجود تھے جو ان پر سلام بھیج رہے تھے اور ان کے لئے دعا کر رہے تھے ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں دو باتوں کی وصیت کرتا ہوں ‘ اگر تم انہیں یاد رکھو گے ‘ تو یاد رکھو گے ‘ دنیا میں سے تمہارا جو حصہ ہے ‘ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے ‘ اور آخرت میں سے جو تمہارا حصہ ہے ‘ اسکی تمہیں زیادہ ضرورت ہے ‘ تو تم آخرت کے حوالے سے اپنے حصے کو دنیا کے حصے پر ترجیح دو ‘ یہاں تک کہ وہ تمہارے لئے انتظام کر لے اور پھر وہ تمہارے ساتھ وہیں جائے ‘ جہاں تم رہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے ابن سرین کے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

7131

Majma al-Zawaid #7131

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ، وَهُوَ يُوصِي فَجَمَعَ بَنِيهِ وَهُمُ اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ ذَكَرًا فَقَالَ: يَا بَنِيَّ إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ تَخْلُفُوا أَبَاكُمْ، وَلَا تُسَوِّدُوا أَصْغَرَكُمْ فَيَزْرِي بِكُمْ ذَلِكَ عِنْدَ أَكْفَائِكُمْ. وَلَا تُقِيمُوا عَلَيَّ نَائِحَةً، فَإِنِّي «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ». وَعَلَيْكُمْ (بِإِصْلَاحِ) الْمَالِ، فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرِيمِ وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ، وَلَا تُعْطُوا رِقَابَ الْإِبِلِ إِلَّا فِي حَقِّهَا، وَلَا تَمْنَعُوهَا مِنْ حَقِّهَا. وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ عِرْقِ سُوءٍ فَمَهْمَا يَسُرُّكُمْ يَوْمًا يَسُوؤُكُمْ أَكْثَرَ، وَاحْذَرُوا أَبْنَاءَ أَعْدَائِكُمْ؛ فَإِنَّهُمْ لَكُمْ أَعْدَاءٌ عَلَى مِنْهَاجِ آبَائِكُمْ. وَإِذَا أَنَا مِتُّ فَادْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَإِنَّهَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ خَمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ يَنْبِشُونِي فَيُفْسِدُوا عَلَيْهِمْ دُنْيَاهُمْ وَيُفْسِدُوا عَلَيْكُمْ آخِرَتَكُمْ. ثُمَّ دَعَا بِكِنَانَتِهِ وَأَمَرَ ابْنَهُ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ يُدْعَى عَلِيًّا، فَقَالَ: أَخْرِجْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي. فَأَخْرَجَهُ، فَقَالَ: اكْسِرْهُ. فَكَسَرَهُ فَقَالَ: أَخْرِجْ سَهْمَيْنِ. فَأَخْرَجَهُمَا، فَقَالَ: اكْسِرْهُمَا. فَكَسَرَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: أَخْرِجْ ثَلَاثِينَ سَهْمًا. فَأَخْرَجَهَا فَقَالَ: اعْصِبْهَا بِوَتَرٍ. فَعَصَبَهَا، ثُمَّ قَالَ: اكْسِرْهَا فَلَمْ يَسْتَطِعْ كَسْرَهَا. فَقَالَ: يَا بَنِيَّ هَكَذَا أَنْتُمْ بِالِاجْتِمَاعِ وَكَذَلِكَ أَنْتُمْ بِالْفُرْقَةِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: إِنَّمَا الْمَجْدُ مَا بَنَى وَالِدُ الصِّدْ ... قِ وَأَحْيَا فَعَالَهُ الْمَوْلُودُ. وَكَفَى الْمَجْدُ وَالشَّجَاعَةُ وَالْحُلْمُ ... إِذَا زَانَهَا فِعَالٌ وُجُودٍ. وَثَلَاثُونَ يَا بَنِيَّ إِذَا مَا ... عَقَدْتُهُمْ لِلْنَائِبَاتِ الْعُهُودِ. كَثَلَاثِينَ مِنْ قِدَاحٍ إِذَا ... مَا شَدَّهَا لِلْمُرَادِ عَقْدٌ شَدِيدٌ. لَمْ تُكْسَرْ وَإِنْ تَبَدَّدَتِ الْأَسْهُمُ ... أَوْدَى بَجَمْعِهِمَا التَّبْدِيدُ. وَذُوُوا السِّنِّ وَالْمُرُوءَةِ أَوْلَى ... أَنْ يَكُنَّ مِنْكُمْ لَهُمْ تَسْوِيدُ. وَعَلَيْكُمْ حِفْظُ الْأَصَاغِرِ حَتَّى ... يَبْلُغَ الْحِنْثَ الْأَصْغَرُ الْمَجْهُودُ. رَوَاهُ هَكَذَا بِتَمَامِهِ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ: (إِنَّمَا الصِّدْقُ مَا بَنَى الْوُدَّ). وَرَوَى أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ مِنْهُ طَرَفًا، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ: الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ الْمِزِّيُّ: ذَكَرَهُ بَعْضُهُمْ فِي الضُّعَفَاءِ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمِ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Suwayd al-Minqarī said: I witnessed Qays ibn ʿĀṣim رضي الله عنه enjoining his thirty-two sons. He said, O my sons, when I die make your eldest your chief to succeed your father, and do not make your youngest chief lest that debase you before your peers. Set no wailing woman over me, for I heard the Messenger of Allah ﷺ forbid wailing. Tend wealth, for it awakens the noble and frees from need of the base. Spend camels only in their right and withhold not their right. Beware every evil stock, for what delights you one day will grieve you more. Beware the sons of your enemies, for they are enemies upon the way of their fathers. When I die bury me where the tribe of Bakr ibn Wāʾil cannot discover, for there were violent feuds between us in Jāhiliyyah, and I fear they will exhume me and ruin their world and your Hereafter. Then he called for his quiver and commanded his eldest son ʿAlī to break one arrow, then two, which he broke, then thirty bound with a bowstring, which he could not break. He said, O my sons, thus you are in unity and thus in division, then recited verses on glory built by a truthful father and kept alive by the child, on thirty sons bound like arrows against calamities, on giving leadership to elders, and on guarding the young until the strained youngest reaches maturity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن ابوسوید منقری بیان کرتے ہیں : میں حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ‘ وہ وصیت کر رہے تھے ‘ انہوں نے اپنے بچوں کو جمع کیا ‘ وہ بتیس افراد تھے ‘ انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں ‘ تو تم اپنے میں سے سب سے بڑے کو سردار بنانا ‘ جو تمہارے باپ کا جانشین ہو ‘ تم اپنے میں سے چھوٹے کو سردار نہ بنانا ‘ ورنہ وہ تمہارے ہم پلہ لوگوں کے حوالے سے تمہیں بے حیثیت کر دے گا اور تم کسی نوحہ کرنے والی عورت کو مجھ پر کھڑا نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نوحہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ‘ اور تم پر مال کی دیکھ بھال لازم ہے ‘ کیونکہ یہ معزز شخص کے لئے بچاؤ کا باعث ہوتا ہے اور کمینے شخص سے بے نیاز رکھتا ہے ‘ اور تم اونٹوں کی گردنیں ‘ صرف حق میں خرچ کرنا اور انہیں ان کے حق سے نہ روکنا ‘ اور تم ہر قسم کی زیادتی سے بیچ کے رہنا ، کیونکہ بعض اوقات کوئی چیز جو آج تمہیں خوش کر رہی ہے ‘ وہ ( بعد میں ) زیادہ تر تمہیں بری لگے گی ‘ اور تم اپنے دشمنوں کے بچوں سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح تمہارے دشمن ہی ہوں گے ‘ جب میں مر جاؤں ‘ تو مجھے کسی ایسی جگہ پر دفن کرنا ‘ جہاں بکر بن وائل قبیلے کے لوگ واقف نہ ہو سکیں ، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ میری قبر کھود کر اپنی دنیا خراب کریں گے اور تمہاری آخرت کو خراب کریں گے ‘ پھر انہوں نے اپنا ترکش منگوایا اور اپنے بڑے بیٹے کو حکم دیا ، جس کا نام علی تھا ‘ انہوں نے کہا : تم میرے ترکش میں سے ایک تیر نکالو ! اس نے نکالا ‘ انہوں نے کہا : تم اسے توڑ دو ! اس نے اسے توڑ دیا ‘ انہوں نے کہا : دو تیر نکالو ‘ اس نے دو تیر نکالے ‘ انہوں نے کہا : تم یہ دونوں تیر توڑ دو ‘ اس نے ان دونوں کو توڑ دیا ‘ پھر انہوں نے فرمایا : تم تین تیر نکالو ‘ اس نے نکالے ‘ انہوں نے فرمایا : اسے تار کے ذریعے باندھ دو ! اس نے وہ باندھ دیے ‘ پھر انہوں نے فرمایا : تم اسے توڑ دو ! تو وہ انہیں نہیں توڑ سکا ‘ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اکھٹے رہنے میں تم اسی طرح رہو گے اور الگ رہنے کی صورت میں تمہاری یہ صورت ہو گی ، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ بیشک بزرگی وہی ہوتی ہے ‘ جو سچے باپ نے بنائی ہو اور اس کے کاموں کو ( اس کے ) بچے زندہ رکھیں ‘ بزرگی ‘ بہادری اور بردباری کافی ہوتی ہیں ، جبکہ یہ کام کاج کرنے اور سخاوت سے آراستہ ہوں ‘ اے میرے بیٹے ! پیش آنے والی مشکلات کے لیے تم اگر تیس ( افراد مل کر ) عہد کر لو ‘ تو ان کی مثال ان تیس تیروں کی طرح ہو گی ، جنہیں مضبوطی سے باندھ دیا گیا ہو ‘ تو ان کو توڑا نہیں جا سکتا ‘ اور اگر ان کو الگ الگ کر دیا جائے ‘ تو علیحدہ ہونا ‘ اُن سب کو ہلاک کر دے گا ، عمر رسیدہ ہونا اور صاحب مروت ہونا ‘ اس بات سے اولیٰ ہے کہ تمہاری طرف سے ان کے لیے سرداری ہو ‘ اور تم پر چھوٹوں کی دیکھ بھال لازم ہے ‘ یہاں تک کہ مشقت کا شکار کمسن فرد بلوغت تک پہنچ جائے “۔ یہ روایت اس طرح مکمل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم معجم اوسط میں پہلا شعر یہ ہے : ’’ بیشک سچائی وہ ہے ‘ جو محبت بناتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی علاء بن فضل ہے امام مزی کہتے ہیں : بعض حضرات نے اس کا ذکر ضعیف راویوں میں کیا ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ صرف حکیم بن قیس بن عاصم کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔