وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ فَبِعْتُهُ فِي السُّوقِ بِتَمْرٍ أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا رَأَيْتُ الْيَوْمَ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ. مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا بِلَالُ؟ "". فَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فَقَالَ: "" انْطَلِقْ، فَرُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ، وَخُذْ تَمْرَكَ، فَبِعْهُ بِحِنْطَةٍ، أَوْ شَعِيرٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مِنْ هَذَا التَّمْرِ "". فَفَعَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ. فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" «فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ، وَاحِدٌ بِعَشَرَةٍ» "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ بِلَالٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ سَعِيدٌ مِنْ بِلَالٍ. وَلَهُ فِي الطَّبَرَانِيُّ أَسَانِيدُ بَعْضُهَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ بِاخْتِصَارٍ، عَنْ هَذَا، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَبَعْضُهَا مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ بِلَالٍ بِنَحْوِ الْأَوَّلِ، وَإِسْنَادُهَا ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Bilal, may Allah be pleased with him, reports that he sold his dates for finer dates at half their measure and presented them to the Prophet ﷺ. Ordered to return them, take back his own dates, sell them for wheat or barley and then buy the fine dates, he did so. The Prophet ﷺ then laid down the rule of equality in same-genus exchange and lawfulness of disparity when genera differ. > **"Go, return it to its owner, take back your dates, sell them for wheat or barley, then buy of these dates. Dates for dates equal for equal, wheat for wheat equal for equal, barley for barley equal for equal, salt for salt equal for equal, silver for silver weight for weight. Whatever is in excess is riba; but when the two types differ there is no harm, even one for ten."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس کھجوریں موجود تھیں میں نے انہیں بازار میں ان سے زیادہ عمدہ کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا اور ان سے آدھی کھجوریں حاصل کیں ، پھر میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ تو آپ نے فرمایا : میں نے آج جتنی عمدہ کھجوریں نہیں دیکھیں ، اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے جو کیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ کھجوریں اس کے مالک کو واپس کر دو ‘ اور اپنی کھجوریں واپس لے لو ‘ پھر ان کھجوروں کو گندم ‘ یا جو کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ان کے عوض میں یہ کھجوریں خرید لو ‘ میں نے ایسا ہی کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر برابر ہو گا ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ جو کے عوض - میں جو کا لین دین برابر برابر ہو گا ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ‘ جو اضافی ادائیگی ہو گی ‘ وہ سود شمار ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ جب دونوں طرف دو مختلف چیزیں ہوں ‘ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ‘ خواہ دس کے عوض میں ایک ہو ‘‘۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم انہوں نے اسے سعید بن مسیب کی حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور سعید نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کی طبرانی میں بھی کچھ اسانید ہیں ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ یہ روایات اس روایت سے مختصر ہیں اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، جبکہ بعض راویات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور یہ پہلی روایت کی مانند ہیں ، لیکن ان کی سند ضعیف ہے ۔