Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 9

Book of Sales and Transactions

Hadith 6530–6569

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6530

Majma al-Zawaid #6530

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ جُدْعَانَ: "" إِذَا اشْتَرَيْتَ نَعْلًا فَاسْتَجِدَّهَا، وَإِذَا اشْتَرَيْتَ ثَوْبًا فَاسْتَجِدَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ counselled 'Amr ibn Jud'an to choose new footwear and new clothing when he purchases, preferring sound, unworn quality. > **"When you buy sandals, buy them new, and when you buy a garment, buy it new."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن جدعان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ جب تم جوتا خریدو تو نیا خریدو اور جب تم کپڑا خریدو تو نیا خریدو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6531

Majma al-Zawaid #6531

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الزُّبَيْرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَ فَرَسًا مِنْ ضِئْضِئِهَا تُبَاعُ فَنُهِيَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that al-Zubayr, may Allah be pleased with him, carried on a horse in the path of Allah, then found one of its offspring offered for sale, and was forbidden to buy it back, lest charity return to its giver by purchase. > **"Do not buy back what you gave in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا پھر انہوں نے اس گھوڑے کی اولاد میں سے ایک گھوڑا پایا جو فروخت ہو رہا تھا تو انہیں اس کو خریدنے سے منع کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔

6532

Majma al-Zawaid #6532

«وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: أُعْطِيتُ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ نَسْلِهَا، أَوْ مِنْ ضِئْضِئِهَا فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" دَعْهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ وَأَوْلَادُهَا جَمِيعًا فِي مِيزَانِكَ "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي شِرَائِهِ لَا شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ نَسْلِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ.

EnglishUnverified translation

'Umar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reports that he was given a she-camel in the path of Allah and wished to buy from its progeny. He asked the Prophet ﷺ, who bade him leave it, so that it and all its offspring would come in his scale on the Day of Resurrection. > **"Leave her; she and all her offspring will come in your scale on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اللہ کی راہ میں ایک اونٹنی دی گئی میں نے اس اونٹنی کی نسل میں سے ایک جانور خریدنے کا اردہ کیا ( یہاں ایک لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو قیامت کے دن یہ اور اس کی ساری اولاد تمہارے میزان میں آئیں گی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو صدقے والے جانور کو خریدنے کے بارے میں ہے اس کی نسل میں سے کسی چیز کو خریدنے کے بارے میں نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6533

Majma al-Zawaid #6533

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: تَصَدَّقْتُ بِفَرَسٍ [لِي]، فَرَأَيْتُ ابْنَتَهَا تُقَامُ فِي السُّوقِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا». قُلْتُ: هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Harithah, may Allah be pleased with him, reports that he gave a mare of his in charity, then saw her filly stood up for sale in the market and wished to buy her. He came to the Prophet ﷺ to ask concerning it, scrupling to take back his charity by purchase. > **"I gave a mare in charity and saw her daughter offered in the market — may I buy her?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا گھوڑا صدقہ کر دیا پھر میں نے اس کی بیٹی کو بازار میں کھڑی دیکھا میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اصل میں اسی طرح مذکور ہے اس میں مزید کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔

6534

Majma al-Zawaid #6534

وَفِي رِوَايَةٍ «عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَيْضًا قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ بَعْدُ يُبَاعُ فِي السُّوقِ بِثَمَنٍ يَسِيرٍ مَهْزُولٍ مَضْرُوبٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ عُرْفَهُ،» قَالَ: فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ. وَإِسْنَادُ الثَّانِي مُرْسَلٌ وَكَذَلِكَ إِسْنَادُ الْأَوَّلِ مُرْسَلٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَيْضًا قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ بَعْدُ يُبَاعُ فِي السُّوقِ بِثَمَنٍ يَسِيرٍ مَهْزُولٍ مَضْرُوبٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ عُرْفَهُ. In another narration Zayd ibn Harithah, may Allah be pleased with him, reports that he had given his horse in the path of Allah, then later saw it sold in the market for a paltry price, emaciated and ill-kept, recognising it by its forelock, and raised the matter to the Prophet ﷺ. > **"I carried on my horse in the path of Allah, then saw it sold cheap in the market, lean and beaten, and I knew its forelock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا بعد میں ‘ میں نے اسے بازار میں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا وہ کمزور اور بے حال ہو چکا تھا میں نے اس کی پیشانی کو پہچان لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں پہلی روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ دوسری روایت کی سند ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔ اسی طرح پہلی روایت کی سند بھی ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

6535

Majma al-Zawaid #6535

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى عِيرًا قَدِمَتْ فَرَبِحَ فِيهَا أَوَاقِيَ مِنْ ذَهَبٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: "" لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ bought a newly arrived caravan, gained some ounces of gold as profit, and gave them in charity to the widows of Banu 'Abd al-Muttalib, declaring his principle never to buy what he could not pay for. > **"I do not buy anything for which I do not have its price with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک قافلہ خرید لیا جو آیا ہوا تھا ، اس میں آپ کو سونے کے چند اوقیہ کا فائدہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے وہ رقم بنوعبدالمطلب کی بیواؤں پر صدقہ کر دی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : میں ایسی کوئی چیز نہیں خریدوں گا ‘ جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6536

Majma al-Zawaid #6536

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ [ابْنُ] إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ established the comprehensive legal maxim that harm is neither to be inflicted nor to be reciprocated in Islam. > **"There is no harm and no reciprocal harm in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام میں نہ تو ضرر پہنچایا جائے گا اور نہ ہی ضرر حاصل کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6537

Majma al-Zawaid #6537

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَشَيْخُهُ: أَحْمَدَ بْنِ رِشْدِينَ، وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: كَذَّبُوهُ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا ضَرَرَ، وَلَا ضِرَارَ». 'A'ishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah ﷺ said there is to be neither infliction of harm nor its reciprocation, a foundation for compensation and prevention of injury in transactions and neighbourly rights. > **"There is no harm and no reciprocal harm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ نہ تو ضرر پہنچایا جائے گا اور نہ ہی ضرر حاصل کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے استاد احمد بن رشدین ہیں یہ احمد بن رشدین بن محمد بن حجاج بن رشدین ہیں ابن عدی کہتے ہیں : لوگوں نے انہیں جھوٹا قرار دیا ہے ۔

6538

Majma al-Zawaid #6538

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَقَالَ أَخَاهُ بَيْعًا أَقَالَهُ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Shurayh, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ promised that one who graciously rescinds a sale at his brother's regretful request — iqalah — will have his own slips cancelled by Allah on the Day of Resurrection. > **"Whoever rescinds a sale for his brother, Allah will cancel his slip on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو بیع واپس کر دے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6539

Majma al-Zawaid #6539

«عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَقَاسَمْتُ أَخِي، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يُبَارَكُ فِي ثَمَنِ أَرْضٍ، وَلَا دَارٍ لَا يُجْعَلُ فِي أَرْضٍ وَلَا دَارٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعَ؛ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُمَا، وَقَدْ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَأَحْمَدُ، وَغَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Hurayth reports that when he came to Madinah and divided property with his brother, Sa'id ibn Zayd, may Allah be pleased with him, conveyed that the price of land or a house carries no blessing unless it is placed back into land or a house. > **"There is no blessing in the price of land or a house which is not placed into land or a house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا میں نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ معاملہ طے کیا ‘ تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ زمین کی قیمت یا گھر کی قیمت میں برکت نہیں رکھی جاتی جبکہ وہ قیمت کسی اور زمین یا گھر میں نہ خرچ کی جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ ‘ ثوری اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ یحیی بن معین امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6540

Majma al-Zawaid #6540

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ «أَنَّ يَعْلَى بْنَ سُهَيْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ لَهُ: يَا يَعْلَى، أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ بِعْتَ دَارًا بِمِائَةِ أَلْفٍ؟ قَالَ: بَلَى قَدْ بِعْتُهَا بِمِائَةِ أَلْفٍ! قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ بَاعَ عُقْدَةَ مَالٍ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَالِفًا يُتْلِفُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ «أَنَّ يَعْلَى بْنَ سُهَيْلٍ مَرَّ بِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، فَقَالَ لَهُ: يَا يَعْلَى، أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ بِعْتَ دَارًا بِمِائَةِ أَلْفٍ؟ قَالَ: بَلَى قَدْ بِعْتُهَا بِمِائَةِ أَلْفٍ! قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ بَاعَ عُقْدَةَ مَالٍ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَالِفًا يُتْلِفُهَا». A tribesman reports that Ya'la ibn Suhayl passed by 'Imran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, who had heard he sold a house for a hundred thousand. 'Imran warned him that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that one who sells a knotted holding of wealth has a destroyer set over it to squander it. > **"Whoever sells a knotted holding of wealth, Allah sets over it a destroyer that destroys it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیلے کے ایک فرد بیان کرتے ہیں : یعلی بن سہیل کا گزر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم نے ایک لاکھ کے عوض میں گھر فروخت کر دیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے اسے ایک لاکھ کے عوض میں فروخت کیا ، تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ جو شخص زمین کو فروخت کر دیتا ہے اللہ تعالی اس پر ضائع کرنے والا مسلط کر دیتا ہے ‘ جو اس رقم کو ضائع کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

6541

Majma al-Zawaid #6541

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَبِيعُ تَالِدًا إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَالِفًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَبِيعُ تَالِدًا إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَالِفًا». 'Imran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said no servant sells inherited, long-held property but that Allah sets a cause of ruin over its price to consume it. > **"There is no servant who sells inherited property except that Allah sets a destroyer over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی بندہ ( باپ دادا سے ) وراثت میں ملنے والی چیز فروخت کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالی اس پر تلف ( یعنی ضائع ) کرنے والا مسلط کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6542

Majma al-Zawaid #6542

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَاعَ دَارًا، وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ». قُلْتُ: حَدِيثُ حُذَيْفَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الصَّبَّاحُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَاعَ دَارًا، وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ». Hudhayfah and 'Amr ibn Hurayth, may Allah be pleased with them, report that the Messenger of Allah ﷺ said one who sells a house and fails to place its price into another like it will find no blessing in that money. > **"Whoever sells a house and does not place its price into its like, it will not be blessed for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص گھر فروخت کرتا ہے اور پھر اس کی قیمت اس کی مانند ( کسی اور گھر ) میں خرچ نہیں کرتا تو اس رقم میں اس کے لئے برکت نہیں رکھی جاتی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام بن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صباح بن یحیی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6543

Majma al-Zawaid #6543

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى اللَّيْثِيِّ قَاضِي الْبَصْرَةِ «أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ بَاعَ دَارًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ عُقْرَةً مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ بَعَثَ اللَّهُ تَالِفًا يُتْلِفُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْلَى اللَّيْثِيُّ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Ya'la al-Laythi, judge of Basrah, reports that Ma'qil ibn Yasar, may Allah be pleased with him, sold a house for a hundred thousand and cited the Messenger of Allah ﷺ: any man who sells landed estate without need has a destroyer sent by Allah to squander it. > **"Any man who sells landed estate without need, Allah sends a destroyer to destroy it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن یعلی لیثی ‘ جو بصرہ کے قاضی ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ایک گھر ایک لاکھ کے عوض میں فروخت کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی ضرورت کے بغیر زمین ( یا گھر ) فروخت کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالٰی ایک ضائع کرنے والا بھیجتا ہے ‘ جو اس کے مال کو ضائع کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں جن میں عبداللہ بن یعلی لیثی بھی ہے ۔

6544

Majma al-Zawaid #6544

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَاعَ دَارًا لَمْ يَسْتَخْلِفْ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِي ثَمَنِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said one who sells a house without acquiring another in its stead will have no blessing placed in its price. > **"Whoever sells a house and does not replace it, its price will not be blessed for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی گھر فروخت کرتا ہے اور پھر اس کی جگہ دوسرا گھر نہیں لیتا ‘ تو اس شخص کے لئے اس گھر کی قیمت میں برکت نہیں رکھی جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6545

Majma al-Zawaid #6545

عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ ابْتَاعَ أَرْضًا بِشَطِّ الْفُرَاتِ فَاتَّخَذَ بِهَا قَصَبًا فَلَمَّا أَتَى عُمَرُ ذَكَرَ أَنَّهُ ابْتَاعَ أَرْضًا، فَقَالَ لَهُ: مِمَّنِ ابْتَعْتَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: مِنْ أَرْبَابِهَا. فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ اجْتَمَعَ أَصْحَابُهُ، فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مِمَّنِ ابْتَعْتَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: مِنْ أَرْبَابِهَا. فَقَالَ: هَلْ بِعْتُمُوهُ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَرْبَابُهَا. فَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى مَنِ اشْتَرَيْتَ، وَاقْبِضِ الثَّمَنَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ؛ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَنُقِلَ عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ وَثَّقَهُ، وَالصَّحِيحُ عَنْ أَحْمَدَ تَضْعِيفُهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi reports that 'Utbah ibn Farqad bought land on the bank of the Euphrates and built upon it. When 'Umar, may Allah be pleased with him, came, he asked from whom it was bought. 'Utbah claimed its owners, but in the evening gathering the actual proprietors denied selling anything. 'Umar ruled that these were its true owners, ordering the land returned to the seller and the price reclaimed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : عتبہ بن فرقد نے دریائے فرات کے کنارے زمین خریدی اور وہاں عمارت بنا لی ( یا نرکل لگا دیا ) ‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ‘ تو انہوں نے اس بات کا ذکر ان کے سامنے کیا کہ انہوں نے زمین خریدی ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم نے وہ زمین کس سے خریدی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے مالکان ہے ‘ جب شام ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھی اکھٹے ہوئے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو بلا لیا اور بولے : تم نے وہ زمین کس سے خریدی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے مالکان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : ) کیا تم لوگوں نے کچھ فروخت کیا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ اس زمین کے مالکان ہیں ، تو تم زمین اس شخص کو واپس کرو ‘ جس سے تم نے خریدی ہے اور قیمت قبضے میں لے لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن عامر بجلی ہے ‘ جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام احمد سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے ‘ امام احمد سے مستند روایت یہ منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

6546

Majma al-Zawaid #6546

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْضِ الْأَعَاجِمِ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ أَرْضِ الْأَعَاجِمِ، وَشِرَائِهَا، وَكِرَائِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ سَاقِطٌ مِنْ أَصْلِ السَّمَاعِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ الْخَثْعَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Amr, may Allah be pleased with them both, asked Rafi' ibn Khadij, may Allah be pleased with him, about the Prophet's ﷺ ruling on the lands of the non-Arabs. He answered that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling them, buying them, and leasing them, guarding the kharaj trust from private appropriation. > **"The Messenger of Allah forbade selling the lands of the non-Arabs, buying them, and leasing them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : جو عجمیوں کی سرزمین کے بارے میں ہے ‘ تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے عجمیوں کی زمین کو فروخت کرنے اسے خریدنے اور اسے کرائے پر دینے ( یا لینے ) سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اصل سماع میں یہ روایت ساقط ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ خثعمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6547

Majma al-Zawaid #6547

«وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا، وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا عَاصِمُ، مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ أَصَابَا غَنَمًا أَضَاعَهَا رَبُّهَا بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ الْمَرْءِ الْمَالَ وَالسَّرَفَ لِدِينِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا، وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «يَا عَاصِمُ، مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ أَصَابَا غَنَمًا أَضَاعَهَا رَبُّهَا بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ الْمَرْءِ الْمَالَ وَالسَّرَفَ لِدِينِهِ». 'Asim ibn 'Adi, may Allah be pleased with him, reports that he and his brother bought a hundred shares of Khaybar. When it reached the Prophet ﷺ, he warned that two raiding wolves set upon neglected sheep corrupt them less than a man's love of wealth and eminence corrupts his religion. > **"O 'Asim, two raiding wolves that seize sheep whose owner neglected them corrupt them no more than a man's love of wealth and honour corrupts his religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے خیبر کے حصوں میں سے ایک سو حصے خرید لیے ‘ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عاصم ! دو حملہ آور بھیٹریے ‘ جو بکریوں پر حملہ آور ہوں ‘ وہ بکریوں کے مالکان کا اس سے زیادہ نقصان نہیں کرتے ہیں ، جتنا مال اور شرف کی محبت ‘ آدمی کے دین کو خراب کرتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6548

Majma al-Zawaid #6548

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَمَّا بَنَى عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ دَارَهُ أَتَيْتُهُ لِأَسْتَأْجِرَ مِنْهُ بَيْتًا فَقَالَ: مَا تَصَنْعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ فِيهِ وَأَشْتَرِيَ، وَأَبِيعَ. قَالَ: أَقُلْتَ ذَلِكَ؟ لَأُحَدِّثُكَ فِي هَذِهِ الدَّارِ بِحَدِيثٍ: إِنَّ هَذِهِ الدَّارَ مُبَارَكَةٌ عَلَى مَنْ سَكَنَ فِيهَا، مُبَارَكَةٌ عَلَى مَنْ بَاعَ فِيهَا، وَاشْتَرَى؛ وَذَلِكَ أَنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ مَالٌ مَوْضُوعٌ، فَتَنَاوَلَ بِكَفِّهِ مِنْهُ دَرَاهِمَ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ وَقَالَ: "" هَاكَ يَا عَمْرُو هَذِهِ الدَّرَاهِمَ فَأَخَذْتُهَا ثُمَّ مَضَيْتُ بِهَا إِلَى أُمِّي فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ أَمْسِكِي هَذِهِ الدَّرَاهَمَ حَتَّى نَنْظُرَ فِي أَيِّ شَيْءٍ نَضَعُهَا، فَإِنَّهَا دَرَاهِمُ أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَأَخَذْتُهَا، ثُمَّ مَكَثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى قَدِمْنَا الْكُوفَةَ، فَأَرَدْتُ شِرَاءَ دَارٍ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا بُنَيَّ، إِذَا اشْتَرَيْتَ دَارًا، وَهَيَّأْتَ مَالَهَا، فَأَخْبِرْنِي. فَفَعَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهَا، فَدَعَوْتُهَا، فَجَاءَتْ، وَالْمَالُ مَوْضُوعٌ فَأَخْرَجَتْ شَيْئًا مَعَهَا، فَطَرَحَتْهُ فِي الدَّرَاهِمِ، ثُمَّ خَلَطَتْهَا بِيَدِهَا، فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ، أَيُّ شَيْءٍ هَذِهِ؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَذِهِ الدَّرَاهِمُ الَّتِي جِئْتَنِي بِهَا، فَزَعَمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَاكَهَا بِيَدِهِ، فَأَنَا أَعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الدَّارَ مُبَارَكَةٌ لِمَنْ جَلَسَ فِيهَا، مُبَارَكَةٌ لِمَنْ بَاعَ فِيهَا، وَاشْتَرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَدْ نَحَرَ جَزُورًا، وَقَدْ أَمَرَ بِقَسْمِهَا، فَقَالَ لِلَّذِي يُقَسِّمُهَا: "" أَعْطِ عَمْرًا مِنْهَا قِسْمًا "". فَلَمْ يُعْطِنِي، وَأَغْفَلَنِي. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ يَدَيْهِ دَرَاهِمُ، فَقَالَ: "" أَخَذْتَ الْقِسْمَ الَّذِي أَمَرْتُ لَكَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَعْطَانِي شَيْئًا. قَالَ: "" فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ دَرَاهِمَ ""، ثُمَّ أَعْطَانِيهَا». فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Suqah reports from his father that when 'Amr ibn Hurayth built his house, the narrator came to rent a shop for trade. 'Amr told him the house is blessed for dweller, buyer and seller, for the Prophet ﷺ had once scooped dirhams with his own hand and given them to him. He entrusted them to his mother, later mixed them into the purchase price of the Kufan house, confident in their blessing. > **"Here, O 'Amr, take these dirhams. This house is blessed for whoever dwells in it, blessed for whoever buys and sells in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سوقہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب عمرو بن حریث نے گھر بنایا ‘ تو میں ان کے پاس آیا تاکہ ان سے ان کا گھر کرائے پر لے لوں ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ میں یہاں بیٹھ کر خرید و فروخت کیا کروں گا ‘ انہوں نے فرمایا : اگر تم یہ بات کہہ رہے ہو ‘ تو پھر میں تمہیں اس گھر کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں ‘ یہ گھر یہاں رہنے والے کے لئے برکت والا ہے اور اس شخص کے لئے برکت والا ہو گا ‘ جو اس میں کوئی چیز فروخت کرے یا خریدے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ مال رکھا ہوا تھا ، آپ نے اس مال میں سے مٹھی بھر درہم لیے اور فرمایا : اے عمرو ! یہ لے لو ‘ میں نے وہ لے لیے ‘ میں وہ لے کر اپنی والدہ کے پاس آیا ‘ میں نے کہا : اے امی جان ! آپ یہ درہم سنبھال کے رکھ لیں ہم بات میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ہم اسے کہاں خرچ کریں ؟ کیونکہ یہ وہ دراہم ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے عطا کیے ہیں اور میں نے لیے ہیں ، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ‘ اتنا عرصہ گزر گیا یہاں تک کہ ہم لوگ کوفہ آ گئے میں نے ایک گھر خریدنے کا ارادہ کیا ، تو میری والدہ نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! جب تم گھر خریدنے لگو اور اس کی ادائیگی کی تیاری کر لو ‘ تو تم مجھے بتا دینا تو میں نے ایسا ہی کیا پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا میں نے انہیں بلایا جب وہ آئیں تو مال ان کے پاس رکھا ہوا تھا انہوں نے اپنا کچھ مال نکالا اور ان دراہم میں ڈال دیا ( جو میں نے ادائیگی میں دینے میں تھے ) اور پھر اپنے ہاتھ کے ذریعے انہیں ملا دیا میں نے کہا : اے امی جان ! یہ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! یہ وہ دراہم ہیں جو تم میرے پاس لے کے آئے تھے اور تم نے یہ بات بیان کی تھی کہ یہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے تمہیں دیے ہیں ، تو مجھے یہ پتہ ہے کہ یہ گھر برکت والا ہو گا ، اس شخص کے لئے ‘ جو اس میں بیٹھے گا اور برکت والا ہو گا ، اس شخص کے جو اس میں کوئی چیز فروخت کرے گا ‘ یا خریدے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ایک اونٹ قربان کروایا تھا آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا تقسیم کرنے والے صاحب سے آپ نے فرمایا : عمرو کو بھی اس میں سے ایک حصہ دے دینا ، لیکن ان صاحب نے مجھے نہیں دیا وہ مجھ سے غافل رہ گئے جب میں اگلے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے سامنے کچھ درہم موجود تھے ‘ آپ نے دریافت کیا : میں نے تمہیں جس کے بارے میں ہدایت کی تھی تم نے وہ حصہ لے لیا تھا راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے مٹھی بھر درہم لئے اور پھر وہ مجھے عطا کر دیے ... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6549

Majma al-Zawaid #6549

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُنَاسٌ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: "" ائْتِنَا بِطَعَامٍ "". فَذَهَبَ بِلَالٌ، فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ [مِنْ تَمْرٍ] جَيِّدٍ، وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا، فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ؟ "" فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that when guests came to the Prophet ﷺ, Bilal, may Allah be pleased with him, exchanged two sa' of their inferior dates for one sa' of fine dates. The Prophet ﷺ admired the dates, asked their source, and when told, ordered the transaction reversed as riba. > **"Whence is this? Return our dates to us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کے لئے کچھ لے آؤ ! حضرت بلال رضی اللہ عنہ گئے ۔ انہوں نے کھجوروں کے دو صاع کے عوض میں عمدہ قسم کی کھجوروں کا ایک صاع لیا ان حضرات کی کھجوریں ہلکی قسم کی تھیں ، نبی اکرم ﷺ کو وہ کھجوریں پسند آئیں نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ انہوں نے ایک صاع کے عوض میں دو صاع کھجوریں دی ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہماری کھجوریں ہمارے پاس واپس لے آؤ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

6550

Majma al-Zawaid #6550

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ فَبِعْتُهُ فِي السُّوقِ بِتَمْرٍ أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا رَأَيْتُ الْيَوْمَ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ. مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا بِلَالُ؟ "". فَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فَقَالَ: "" انْطَلِقْ، فَرُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ، وَخُذْ تَمْرَكَ، فَبِعْهُ بِحِنْطَةٍ، أَوْ شَعِيرٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مِنْ هَذَا التَّمْرِ "". فَفَعَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ. وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ. فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" «فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ، وَاحِدٌ بِعَشَرَةٍ» "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ بِلَالٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ سَعِيدٌ مِنْ بِلَالٍ. وَلَهُ فِي الطَّبَرَانِيُّ أَسَانِيدُ بَعْضُهَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ بِاخْتِصَارٍ، عَنْ هَذَا، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَبَعْضُهَا مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ بِلَالٍ بِنَحْوِ الْأَوَّلِ، وَإِسْنَادُهَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilal, may Allah be pleased with him, reports that he sold his dates for finer dates at half their measure and presented them to the Prophet ﷺ. Ordered to return them, take back his own dates, sell them for wheat or barley and then buy the fine dates, he did so. The Prophet ﷺ then laid down the rule of equality in same-genus exchange and lawfulness of disparity when genera differ. > **"Go, return it to its owner, take back your dates, sell them for wheat or barley, then buy of these dates. Dates for dates equal for equal, wheat for wheat equal for equal, barley for barley equal for equal, salt for salt equal for equal, silver for silver weight for weight. Whatever is in excess is riba; but when the two types differ there is no harm, even one for ten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس کھجوریں موجود تھیں میں نے انہیں بازار میں ان سے زیادہ عمدہ کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا اور ان سے آدھی کھجوریں حاصل کیں ، پھر میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ تو آپ نے فرمایا : میں نے آج جتنی عمدہ کھجوریں نہیں دیکھیں ، اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے جو کیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ ! یہ کھجوریں اس کے مالک کو واپس کر دو ‘ اور اپنی کھجوریں واپس لے لو ‘ پھر ان کھجوروں کو گندم ‘ یا جو کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ان کے عوض میں یہ کھجوریں خرید لو ‘ میں نے ایسا ہی کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر برابر ہو گا ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ جو کے عوض - میں جو کا لین دین برابر برابر ہو گا ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ‘ جو اضافی ادائیگی ہو گی ‘ وہ سود شمار ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ جب دونوں طرف دو مختلف چیزیں ہوں ‘ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ‘ خواہ دس کے عوض میں ایک ہو ‘‘۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم انہوں نے اسے سعید بن مسیب کی حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ‘ اور سعید نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کی طبرانی میں بھی کچھ اسانید ہیں ، جن میں سے بعض میں یہ مذکور ہے : یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ یہ روایات اس روایت سے مختصر ہیں اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، جبکہ بعض راویات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور یہ پہلی روایت کی مانند ہیں ، لیکن ان کی سند ضعیف ہے ۔

6551

Majma al-Zawaid #6551

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَمْرِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ: "" أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ؟ "". قَالُوا: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرُ بَعْلٍ، فَبِعْنَاهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" رُدُّوهُ عَلَى صَاحِبِهِ، فَبِيعُوهُ بِعَيْنٍ، ثُمَّ ابْتَاعُوا التَّمْرَ "". وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that Rayyan dates were brought to the Prophet ﷺ. Told they were obtained by selling two sa' of Ba'l dates for one, he ordered them returned to their owner, and in one narration instructed them to sell their own dates for coined money first and then buy the desired dates. > **"Return it to its owner. Sell yours for money, then buy the dates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ’’ ریان ‘‘ نامی کھجوریں لائی گئیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے بتایا ہمارے پاس ’’ بعل ‘‘ کھجوریں تھیں ، تو ہم نے ایک صاع کے عوض میں ان کے دو صاع فروخت کر دیئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تم یہ اس کے مالک کو واپس کر دو ‘ پھر اس کو ( یعنی اپنی کھجوروں کو ) عین ( یعنی سونا یا چاندی ) کے عوض میں فروخت کرو اور پھر ( اس سونا یا چاندی کے عوض میں ) یہ کھجوریں خرید لو ‘‘۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

6552

Majma al-Zawaid #6552

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «اشْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا، فَأُتِيَ بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ، فَلَمَّا جَاءُوا بِهِ أَنْكَرَهُ، وَقَالَ: "" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ "". قَالُوا: بِعْنَا بِصَاعَيْنِ، فَأَتَيْنَا بِصَاعٍ. فَقَالَ: "" رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ desired dates and was brought a sa' of 'Ajwah. Finding it strange, he asked its source. Told it was got by selling two sa' for one, he twice ordered it returned, declaring no need of it. > **"Return it, return it; we have no need of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھجور کی خواہش کا اظہار کیا ، تو آپ کے پاس عجوہ کھجوروں کا ایک صاع لایا گیا جب وہ آپ کے پاس آیا ، تو آپ کو اس پر حیرانگی ہوئی آپ نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم نے دو صاع کھجوریں فروخت کیں تو پھر ( ان کا ) ایک صاع لے کر آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے واپس کر دو ! اسے واپس کر دو ‘ ہمیں اس کی حاجت نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6553

Majma al-Zawaid #6553

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ "". - وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا - فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ؟ قَالَ: "" لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports the same prohibition of selling one dinar for two, one dirham for two, and one sa' for two from fear of riba, with the same exception that horses for horses and a noble she-camel for camels entail no harm when hand to hand. > **"Do not sell one dinar for two dinars, nor one dirham for two dirhams, nor one sa' for two sa's. I fear al-rama' for you — and al-rama' is riba. There is no harm when it is hand to hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو دینار کے عوض میں ‘ ایک دینار فروخت نہ کرو ‘ دو درہم کے عوض میں ایک درہم فروخت نہ کرو ‘ دو صاع کے عوض میں ایک صاع فروخت نہ کرو ‘ مجھے تمہارے بارے میں رماء کا اندیشہ ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ’’ رماء ‘‘ سے مراد سود ہے ‘ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو کچھ گھوڑوں کے عوض میں ایک گھوڑا فروخت کرتا ہے یا اونٹ کے عوض میں اونٹنی فروخت کر دیتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ دست بدست لین دین ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت کی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناد ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6554

Majma al-Zawaid #6554

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ حَدَّثُوا «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ، مَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى». قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, Abu Sa'id and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them, report that the Prophet ﷺ required gold for gold and silver for silver equal for equal, spot for coined spot. Whoever gives more or demands more commits riba. > **"Gold for gold equal for equal, silver for silver equal for equal, spot for spot. Whoever gives more or takes more has committed riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اور نقد ہو گا جو شخص زیادہ دے ‘ یا زیادہ کا مطالبہ کرے ‘ تو وہ سود کا کام کرے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6555

Majma al-Zawaid #6555

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ كَيْلًا بِكَيْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ الْمُؤْمِنِ هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ listed gold, silver, wheat, barley, salt and dates, requiring equality and equal measure in same-genus exchange. Giving or demanding increase is riba. > **"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt, dates for dates — equal for equal, measure for measure. Whoever gives more or seeks more has committed riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سونے کے عوض میں سونے کا لین دین ، چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین ‘ جو کے عوض میں جو کا لین دین ‘ نمک کے عوض میں نمک کا لین دین اور کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر ‘ برابر ماپ کے مطابق ہو گا ، جو شخص زیادہ دے ‘ یا زیادتی کا طلبگار ہو ‘ وہ سود کا مرتکب ہو گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبدالمؤمن کی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالمؤمن نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6556

Majma al-Zawaid #6556

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ يَدًا بِيَدٍ؟ فَقَالَ: «قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتِّ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ يَدًا بِيَدٍ. فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ يَدًا بِيَدٍ؟ فَقَالَ: «قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتِّ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ يَدًا بِيَدٍ. فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ». Abu al-Zubayr al-Makki asked Jabir ibn 'Abdillah, may Allah be pleased with them both, about wheat for dates with disparity, hand to hand. Jabir answered that in the Prophet's ﷺ time they bought one sa' of wheat for six sa' of dates on the spot, but if the genus is one, there is no good in it except equal for equal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کھجور کے عوض میں گندم کے نقد ‘ اضافی لین دین کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ ہم گندم کا ایک صاع ‘ کھجور کے چھ صاع کے عوض میں نقد لین دین میں فروخت کرتے تھے ‘ لیکن اگر دونوں طرف ( اناج کی ) ایک ہی قسم ہو ‘ تو پھر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے البته اگر دونوں طرف برابر ہو ‘ تو حکم مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6557

Majma al-Zawaid #6557

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ، وَازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ صَاحِبَ تَمْرِكَ يَشْتَرِي صَاعًا بِصَاعَيْنِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَمْرِي كَذَا وَكَذَا لَا يَأْخُذُوهُ إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَفْعَلْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports the rule of equality in gold, silver, wheat, barley and salt. When told that the keeper of the Prophet's ﷺ dates bought one sa' for two, the keeper pleaded that his poor dates were taken only with increase. The Prophet ﷺ forbade him outright. > **"Gold for gold, silver for silver, wheat for wheat, barley for barley, salt for salt — equal for equal. Whoever gives more and takes more has committed riba. Do not do it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سونے کے عوض میں سونے کا لین دین ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین ، گندم کے عوض میں گندم کا لین دین ‘ جو کے عوض میں جو کا لین دین ، نمک کے عوض میں نمک کا لین دین برابر ‘ برابر ہو گا ‘ جو شخص اضافی ادائیگی کرے ‘ یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو تو وہ سود کا کام کرے گا ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کی کھجوروں کے نگران صاحب تو دو صاع کے عوض میں ‘ ایک صاع فروخت کرتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو پیغام بھیج کر بلایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری کھجوریں ایسی ‘ ایسی ہیں ‘ لوگ صرف اس وقت ہی انہیں لیتے ہیں ، جب میں انہیں اضافی ادائیگی کروں ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6558

Majma al-Zawaid #6558

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعَدِيَّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي بِالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ، وَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ، وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ، لَا فَضْلَ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ "". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ بِرَأْيِي، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Zubayr al-Makki reports that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, had permitted one dinar for two by personal reasoning. Abu Usayd al-Sa'idi, may Allah be pleased with him, rebuked him sternly and testified that he heard the Prophet ﷺ require equality without excess in dinar, dirham, wheat, barley and salt. Ibn 'Abbas withdrew, admitting he had spoken from opinion without a heard text. > **"Dinar for dinar, dirham for dirham, a sa' of wheat for a sa' of wheat, a sa' of barley for a sa' of barley, a sa' of salt for a sa' of salt — with no excess between any of that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنا ‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دو دینار کے عوض میں ایک دینار کے ( کے لین دین جائز ہونے کا ) فتویٰ دیتے تھے ‘ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سخت کلمات استعمال کیے ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابواسید ! میں یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ میرے رشتے کو جانتے ہوئے میرے بارے میں اس طرح کے کلمات کہے گا ، تو حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دینار کے عوض میں دینار کا لین دین ‘ درہم کے عوض میں درہم کا لین دین ، گندم کے ایک صاع کے عوض میں گندم کا ایک صاع ‘ جو کے ایک صاع کے عوض میں جو کا ایک صاع ‘ نمک کے ایک صاع کے عوض میں نمک کا ایک صاع ( لین دین کیا جائے گا ) ان دونوں کے درمیان کوئی اضافی ادائیگی نہیں ہو گی ‘‘۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ فتوی میں اپنی رائے کے حوالے سے دیا کرتا تھا ‘ میں نے اس بارے میں کوئی روایت نہیں سنی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6559

Majma al-Zawaid #6559

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنِ الصَّرْفِ. رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمْ نَهَوْا عَنِ الصَّرْفِ. رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. Jabir ibn 'Abdillah, Abu Sa'id and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them, all forbade sarf — currency exchange with delay or disparity — and two of them transmitted the prohibition as raised to the Prophet ﷺ himself. > **"The Prophet forbade sarf except hand to hand, equal for equal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ’’ بیع صرف ‘‘ سے منع کیا کرتے تھے ‘ ان میں سے دو افراد نے اس بات کو نبی اکرم ﷺ تک ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6560

Majma al-Zawaid #6560

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: «كَانَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقَ نَسِيئَةً إِلَى الْعَطَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ، فَنَهَاهُمْ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً»، وَأَنْبَأَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا: "" أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Qilabah reports that people bought gold for silver on credit till the state stipend. Hisham ibn 'Amir, may Allah be pleased with him, passed them, forbade them, and informed them that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling gold for silver on credit — and that this is riba. > **"The Messenger of Allah forbade us to sell gold for silver on credit; that is riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ چاندی کے عوض میں سونا خرید لیا کرتے تھے ‘ جو اس وقت تک ادھار ہوتا تھا ‘ جب انہیں تنخواہ ملتی تھی ، ہشام بن عامر ان لوگوں کے پاس آئے اور انہوں نے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور یہ بات بیان کی : کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم چاندی کو سونے کے عوض میں ادھار فروخت کریں ‘ انہوں نے ہمیں یہ بات بھی بتائی کہ یہ چیز سود ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6561

Majma al-Zawaid #6561

«وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: خَرَجْتُ بِخَلْخَالَيْنِ أَبِيعُهُمَا، وَكَانَ أَهْلُنَا قَدِ احْتَاجُوا إِلَى نَفَقَةٍ فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: قُلْتُ: احْتَاجَ أَهْلُنَا إِلَى نَفَقَةٍ فَأَرَدْتُ بَيْعَ هَذَيْنِ الْخَلْخَالَيْنِ. قَالَ: وَأَنَا قَدْ خَرَجْتُ بِدُرَيْهِمَاتٍ أُرِيدَ بِهَا فِضَّةً أَجْوَدَ مِنْهَا. قَالَ: فَوَضَعَ الْخَلْخَالَيْنِ فِي كِفَّةٍ وَوَضَعَ الدَّرَاهِمَ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ الْخَلْخَالَانِ عَلَى الدَّرَاهِمِ شَيْئًا، فَدَعَا بِمِقْرَاضٍ. قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! هُوَ لَكَ. قَالَ: إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتْرُكُهُ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، الزَّائِدُ وَالْمُزْدَادُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ؛ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِمَّا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنَ الْقَبَائِحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi', may Allah be pleased with him, went out to sell two anklets for household expenses and met Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, who sought finer silver for his dirhams. Weighed, the anklets outweighed the dirhams slightly, so Abu Bakr called for shears to cut the excess. When Abu Rafi' waived it, Abu Bakr refused, citing the Prophet ﷺ that excess giver and taker in gold and silver are in the Fire. > **"Gold for gold equal for equal, silver for silver equal for equal. The giver of excess and the taker of excess are in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں پازیبیں لے کر نکلا ‘ میں انہیں فروخت کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت تھی ، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے دریافت کیا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے کہا : میرے گھر والوں کو خرچ کی ضرورت ہے ‘ تو میں ان دو پازیبوں کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ‘ انہوں نے فرمایا : میں بھی کچھ درہم لے کر نکلا ہوں اور میں ان کے عوض میں ان سے زیادہ عمدہ چاندی حاصل کرنا چاہتا ہوں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے پازیبیں ایک پلڑے میں رکھیں اور درہم دوسرے پلڑے میں رکھے ‘ تو پازیبوں والا پلڑا ‘ درہم والے کے مقابلے میں کچھ وزنی تھا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قینچی منگوائی میں نے کہا : سبحان اللہ اتنی ( اتنی تھوڑی سی چاندی کے لئے کیا قیچی منگوانی ہے ؟ ) یہ آپ کی ہوئی ، انہوں نے فرمایا : اگر تم اسے چھوڑ بھی دو گے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اضافی ادائیگی کرنے والا یا جس کو اضافی ادائیگی کی گئی ہو ‘ وہ جہنم میں جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی حفص بن ابوحفص ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ‘ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ‘ ہم اس چیز سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، جو اس کی طرف قبیح باتیں منسوب کی گئی ہیں ۔

6562

Majma al-Zawaid #6562

وَعَنْ شُرَحْبِيلَ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى "".». قَالَ شُرَحْبِيلُ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ، فَأَدْخَلَنِي اللَّهُ النَّارَ. قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَشُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Shurahbil ibn Sa'd reports from Ibn 'Umar, Abu Hurayrah and Abu Sa'id, may Allah be pleased with them, that the Prophet ﷺ required gold for gold and silver for silver equal for equal, spot for spot, with increase deemed riba. Shurahbil sealed it with an oath invoking the Fire upon himself if he had not heard it. > **"Gold for gold equal for equal, silver for silver equal for equal, spot for spot. Whoever gives more or takes more has committed riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا اور دونوں طرف عین کے عوض میں عین ہو گا ‘ جو شخص اضافی ادائیگی کرے یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ‘ تو وہ سود کا کام کرے گا ‘‘۔ شرحبیل نے یہ بات بیان کی : اگر میں نے ان کی زبانی یہ بات نہ سنی ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم میں داخل کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے شرحبیل بن سعد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6563

Majma al-Zawaid #6563

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَشْتَرِي الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، [أَوِ] الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ؟ قَالَ: "" إِذَا اشْتَرَيْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقْكَ صَاحِبُكَ، وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ». قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ فِي السُّنَنِ أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْفِضَّةِ، وَيَقْبِضُ الْفِضَّةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, asked the Messenger of Allah ﷺ whether he might buy gold with silver and silver with gold. He ﷺ permitted it on condition that the two do not part while any confusion or unsettled claim remains between them — immediate, clear possession. > **"When you buy one of them with the other, let your companion not leave you while any ambiguity remains between you and him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا میں چاندی کے عوض میں سونے کو خرید سکتا ہوں یا سونے کے عوض میں چاندی کو خرید سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے عوض میں خریدو ‘ تو تمہارا ساتھی جب تم سے جدا ہو تو تمہارے اور اس کے درمیان کوئی التباس نہیں ہونا چاہیے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث سنن میں مذکور ہے کہ وہ چاندی کے عوض میں اونٹ فروخت کر دیتے تھے اور چاندی قبضے میں لے لیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6564

Majma al-Zawaid #6564

«وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أَصُوغُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْنَنِي: أَنَّهُنَّ سَمِعْنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَحْيَى الْبَكَّاءُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi', may Allah be pleased with him, who worked as a goldsmith for the wives of the Prophet ﷺ, reports that they told him they heard the Messenger of Allah ﷺ require gold for gold and silver for silver weight for weight, with increase deemed riba. > **"Gold for gold and silver for silver, weight for weight. Whoever gives more or seeks more has committed riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے لئے کپڑے رنگنے ( یا سنیارے ) کا کام کیا کرتا تھا تو انہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا ‘ جو شخص اضافی ادائیگی کرے گا ‘ یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ‘ تو وہ سود کا کام کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بکا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6565

Majma al-Zawaid #6565

وَعَنْ أَنَسٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ عُبَادَةَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ؛ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas and 'Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with them, report that the Messenger of Allah ﷺ required gold for gold and silver for silver equal for equal. > **"Gold for gold equal for equal, and silver for silver equal for equal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر برابر ہو گا اور چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر برابر ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن صبیح ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6566

Majma al-Zawaid #6566

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الصَّرْفِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرَيْنِ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ «نَهَى عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ» مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ تَارِيخٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ forbade sarf — unequal or deferred currency exchange — two months before his passing ﷺ, confirming the ruling stood firm to the end of his life. > **"The Prophet forbade sarf two months before his death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے وصال سے دو ماہ پہلے بیع صرف کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں ان کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : کہ نبی اکرم ﷺ نے سونے کے عوض میں سونے کے لین دین سے منع کر دیا تھا اور اس میں تاریخ کا ذکر نہیں ہے ( کہ کتنا عرصہ پہلے کیا تھا ؟ ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6567

Majma al-Zawaid #6567

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ، فَقَدْ أَرْبَى "". وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, declared that gold is for gold weight for weight, and giving or taking excess is riba. The transmitter swears by Allah that Ibn 'Umar never lied against the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر کے وزن کے ساتھ ہو گا اضافی ادائیگی کرے ‘ یا اضافی ادائیگی کا طلبگار ہو ‘ تو وہ سود کا کام کرے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! حضرت عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی جھوٹی بات بیان نہیں کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ‘ ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

6568

Majma al-Zawaid #6568

وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: «سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: آخُذُ الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ؟ قَالَ: عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبْهُ؛ هَلْ شَعَرْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: "" خُذُوا الْمِثْلَ بِالْمِثْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَبِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Bishr ibn Harb asked Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, whether he might take one dirham for two. He answered that this is riba itself, not to be approached, citing the Prophet's ﷺ command to take equal for equal. > **"Take equal for equal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا میں دو درہموں کے بدلے میں ایک درہم وصول کر لوں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ عین سود ہے ‘ تم اس کے قریب بھی نہ جانا ‘ کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہے : تم برابر کا لین دین کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے بشر بن حرب نامی راوی ضعیف ہے اس کے بارے میں کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

6569

Majma al-Zawaid #6569

وَعَنْ أَبِي الْمُعَارِكِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ غَافِقٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مَهْرَةَ مِائَةُ دِينَارٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَغَنِمُوا غَنِيمَةً، فَقَالَ الْمَهْرِيُّ: أُعَجِّلُ لَكَ سَبْعِينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ تَمْحُوَ عَنِّيَ الْمِائَةَ. وَكَانَتِ الْمِائَةُ مُسْتَأْخَرَةً فَرَضِيَ الْغَافِقِيُّ بِذَلِكَ فَمَرَّ بِهِمَا الْمِقْدَادُ، فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ لِيَشُدَّهُ، فَلَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ قَالَ: كِلَاكُمَا قَدْ أَذِنَ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَأَبُو الْمُعَارِكِ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ أَنَّ الْمِزِّيَّ ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَمَّاهُ عَلِيًّا أَبَا الْمُعَارِكِ الْوَادِيَّ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ma'arik reports that in 'Uthman's time, may Allah be pleased with him, a Ghafiq man was owed a hundred deferred dinars by a Mahrah man. After spoils arrived, the debtor offered seventy promptly to extinguish the hundred, and the creditor agreed. Al-Miqdad, may Allah be pleased with him, seized his mount's bridle and, hearing the tale, declared both had announced war from Allah and His Messenger ﷺ by this riba of settlement.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعارک بیان کرتے ہیں : غافق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ‘ مہرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ایک سو دینار دینے تھے ‘ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بات ہے ‘ لوگوں کو شک ہے ‘ تو مہری شخص نے کہا : میں تمہیں ستر دینار فوراً ادا کر دیتا ہوں ‘ اس شرط پر کہ تم باقی کے دینار مجھے معاف کر دو ‘ کیونکہ ان ایک سو دینار کی ادائیگی کا مخصوص وقت ابھی نہیں آیا تھا ، غافقی شخص اس بات پر راضی ہو گیا ، حضرت مقدام رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس سے گزرے ‘ تو اس شخص نے ان کے جانور کی لگام پکڑی ، تاکہ انہیں روک لے ‘ پھر انہیں پوری بات بیان کی ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابومعارک کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ البتہ امام مزی نے عیاش بن عباس کے حالات میں ان کا ذکر کیا ہے اور اس کا نام ابومعارک الوادی بیان کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔