Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 8

Book of Sales and Transactions

Hadith 6490–6529

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6490

Majma al-Zawaid #6490

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that fruit should not be sold until its soundness has appeared. > **"Do not sell fruit until its soundness has appeared."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ :’’ کھجور کو اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6491

Majma al-Zawaid #6491

عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى رَبَّ النَّخْلِ أَنْ يَتَدَيَّنَ فِي ثَمَرِ نَخْلِهِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْ ثَمَرِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَتَدَيَّنَ بِدَيْنٍ كَثِيرٍ فَتَفْسَدَ الثَّمَرَةُ فَلَا يُوَفِّيَ عَنْهُ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الزَّرْعِ أَنْ يَدِينَ فِي زَرْعِهِ حَتَّى يَبْلُغَ الْحَصْدَ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الذَّهَبِ إِذَا بَاعَهَا بِطَعَامٍ فِي الثَّمَرِ أَنْ يَبِيعَ الطَّعَامَ بِالذَّهَبِ حَتَّى يَكْتَالَ الطَّعَامَ فَيَقْبِضَهُ مَخَافَةَ الرِّبَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السِّمَرِيُّ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ used to forbid the owner of palm-trees from taking on debt against the fruit of his palms before its fruit could be eaten — fearing he would take on a large debt and then the fruit would spoil and he could not repay it. He used to forbid the owner of a crop from taking debt against his crop before harvest time, and he used to forbid the owner of gold, when he sold it for food consisting of fruit, from selling the food for gold before measuring the food and taking it into possession, for fear of riba.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھجور کے درخت کے مالک کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنے کھجور کے درخت کے پھل کے عوض میں قرض لے جب تک اس کا پھل کھائے جانے کے قابل نہیں ہو جاتا کیونکہ اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ وہ بہت سا قرض لے لے گا اور پھر اگر اس کا پھل خراب ہو گیا تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے گا آپ نے کھیت کے مالک کو بھی اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنے کھیت کے عوض میں قرض لے جب تک وہ کھیت کاٹے جانے کے قابل نہیں ہو جاتا آپ نے سونے کے مالک کو اس بات سے منع کیا ہے کہ جب وہ اس سونے کو پھل کے عوض میں فروخت کرے تو پھل کو سونے کے عوض میں فروخت کرے ‘ جب تک وہ اناج کو ماپ نہیں لیتا ‘ اور جب تک وہ قبضے میں نہیں لے لیتا ‘ کیونکہ سود کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر سمری ہے ابن ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ازدی کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔

6492

Majma al-Zawaid #6492

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاهَةُ».

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when the star rises in the morning, blight is lifted. > **"When the star rises in the morning, blight is lifted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب صبح کے وقت ستارہ طلوع ہوتا ہے ‘ تو آفت اٹھا لی جاتی ہے ‘‘۔

6493

Majma al-Zawaid #6493

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ أَوْ جَفَّتْ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَلَفْظُهُ: "" «إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ» "". وَرَوَى الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ. وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration: Never does the star rise in the morning while a blight is upon a people except that it is lifted — or dries up. In the wording of al-Tabarani in al-Saghir: When the star ascends, blight is lifted from every land. > **"Never does the star rise in the morning while a blight is upon a people except that it is lifted — or dries up. When the star ascends, blight is lifted from every land."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب بھی صبح کے وقت ستارہ طلوع ہوتا ہے اور لوگوں پر کوئی آفت آنے والی ہو ‘ تو وہ اٹھا لی جاتی ہے یا وہ خشک ہو جاتی ہے “۔ یہ تمام روایات امام احمد نے امام بزار نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ ہیں : ’’ جب ستارہ بلند ہو جائے تو آفت کو ہر شہر سے اٹھا لیا جاتا ہے ‘‘۔ پہلی روایت انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عسل بن سفیان ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف بھی نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6494

Majma al-Zawaid #6494

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ عَرِيَّتَهُ مِنَ النَّخْلِ بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَهُ الْآخَرُ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports from the Messenger of Allah ﷺ that there is no harm in a man selling his 'ariyyah from the palm-trees for its estimated measure in dates, intending that the other eat it. > **"There is no harm in a man selling his 'ariyyah from the palm-trees for its estimate in dates, intending that the other eat it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص کھجور کے درخت میں سے عرایا کے طور پر اپنے حصے میں سے ‘ اندازے کے تحت کھجورں میں سے فروخت کر دے وہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ دوسرا شخص اس کو کھا لے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت کے طور پر منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6495

Majma al-Zawaid #6495

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالْوَسْقِ وَالْوَسْقَيْنِ، وَالثَّلَاثَةِ، وَالْأَرْبَعَةِ، وَقَالَ: "" فِي كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ وَمَا بَقِيَ عِذْقًا يُوضَعُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ». قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُمُ الْيَوْمَ يَشْتَرِطُونَ ذَلِكَ عَلَى التُّجَّارِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ gave concession for 'araya in the amount of one wasq, two wasqs, three, and four, saying that for every harvest ten awsuq are due, and whatever remains as clusters is to be placed in the mosque for the poor. Muhammad said: Today they stipulate that upon the traders. > **"In every harvest, ten awsuq; and whatever remains as clusters is to be placed in the mosque for the poor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عرایا کے بارے میں یہ رخصت دی ہے کہ ایک وسق یا دو وسق یا تین یا چار وسق تک ہو گا آپ نے فرمایا ہے : پھل اتارنے والے کو دس وسق دیے جائیں گے جو باقی گچھے بچیں گے وہ مسجد میں غریبوں کے لئے رکھ دیے جائیں گے ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : آج کل لوگ تاجروں پر اس کی شرط عائد کر دیتے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابو اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6496

Majma al-Zawaid #6496

وَعَنْ جَابِرٍ - فِيمَا يَظُنُّ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ - قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، وَالْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. وَالْعَرَايَا يَجِيءُ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْمُرُ لَهُ بِالنَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ، وَلَمْ يَبْلُغْ، وَهُوَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَهَا بِالتَّمْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَابْنُ عَطَاءٍ إِنْ كَانَ يَعْقُوبَ بْنَ عَطَاءٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports — as Abu Bakr ibn 'Ayyash understood it — that the Messenger of Allah ﷺ forbade (the exchange of) fresh dates for dry dates and grapes for raisins, but gave concession for 'araya. 'Araya is when a Bedouin comes to a cousin of his or a man of his household, who assigns him one palm-tree or two before they have ripened, and he wishes to depart — then there is no harm in his selling it for dates.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوبکر بن عیاش کے گمان کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے خشک کھجوروں کے عوض میں تر کھجوروں کو منقی کے عوض میں کشمش کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عرایا کے بارے میں رخصت دی ہے عرایا سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی اپنے چچا زاد کے پاس یا کسی اور خاندان کے فرد کے پاس آتا ہے اور اسے ایک کھجور کا درخت یا دو درخت دے دیتا ہے ‘ جو ابھی پک کر تیار نہیں ہوتے پھر وہ نکلنا چاہتا ہے ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ کھجوروں کے عوض میں ( اس درخت کو ) فروخت کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے ابن عطاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ابن عطاء سے مراد اگر تو یعقوب بن عطاء ہے ‘ تو پھر وہ ضعیف ہے ویسے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ‘ تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

6497

Majma al-Zawaid #6497

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ». وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْفَصِيلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah and muzabanah. 'Ikrimah used to dislike the sale of the fasil (the unborn young).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۔ مکرمه فصیل فروخت کرنے کو مکروہ قرار دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6498

Majma al-Zawaid #6498

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَا يَصْلُحُ السَّلَفُ فِي الْفَصِيحِ وَالشَّعِيرِ وَالسُّلْتِ حَتَّى يُفْرَكَ، وَلَا فِي الْعِنَبِ وَالزَّيْتُونِ وَأَشْبَاهِهِ حَتَّى يُمَجَّجَ، وَلَا ذَهَبًا عَيْنًا بِوَرِقٍ دَيْنًا، وَلَا وَرِقًا دَيْنًا بِذَهَبٍ عَيْنًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه said: Salam (advance payment) is not valid in unhusked wheat, barley, and sult until they are threshed, nor in grapes, olives and their likes until they sweeten, nor gold in hand for silver as a debt, nor silver as a debt for gold in hand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فصیح ، جو اور سلت میں ” سلف ‘‘ درست نہیں ہے ‘ جب تک انہیں الگ نہیں کیا جاتا اور کشمش اور زیتون اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں بھی درست نہیں ہے ‘ جب تک وہ میٹھے نہیں ہو جاتے ‘ اور چاندی کے عوض میں سونے کا ادھار لین دین ‘ یا سونے کے عوض میں چاندی کا ادھار لین دین درست نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

6499

Majma al-Zawaid #6499

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ سَنَتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةً، أَوْ يَشْتَرِي فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَيْلٍ، أَوْ تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling palm-trees for two or three years (of future fruit), buying what is on the palm-tops for a fixed measure, or selling fruit before its soundness has appeared.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ دو یا تین سال کی شرط پر کھجور کا درخت فروخت کیا جائے یا کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو آدمی مخصوص ماپ کے عوض میں خرید لے ‘ یا پھل کو اس کے پک کر تیار ہونے سے پہلے فروخت کیا جائے ( نبی اکرم ﷺ نے ان سب چیزوں سے منع کیا ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6500

Majma al-Zawaid #6500

وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السَّنَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of two years (i.e. selling fruit two years in advance).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو سال ( بعد کی ادائیگی کی شرط والی ) بیع سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

6501

Majma al-Zawaid #6501

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَضَامِينِ، وَالْمَلَاقِيحِ، وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ؛ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of al-madamin (what is in the wombs of females), al-malaqih (what is in the loins of males), and habal al-habalah (the offspring of the offspring).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ملاقیح ( یعنی جو بچہ ابھی نر جانور کی پشت میں ہے ) مضامین ( یعنی جو بچہ ابھی مادہ جانور کے پیٹ میں ہے ) اور حبل الحبلہ ( حمل کے حمل ) کی بیع سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ۔ امام احمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6502

Majma al-Zawaid #6502

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَلَاقِيحِ وَالْمَضَامِينِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ forbade the sale of al-malaqih and al-madamin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ملاقیح ( یعنی جو بچہ ابھی نر جانور کی پشت میں ہے ) اور مضامین ( یعنی جو بچہ ابھی مادہ جانور کے پیٹ میں ہے ‘ اُس ) کی بیع سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6503

Majma al-Zawaid #6503

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: «أَصَابَ النَّاسَ جُهْدٌ شَدِيدٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَعَشَرَ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ عَشْرًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ عَشِيرًا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ بِقَلُوصٍ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ نَاسٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَنْ يُرَدَّ فَرُدَّ الْبَيْعُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ubayd ibn Nadlah al-Khuza'i رضي الله عنه reports: Severe hardship struck the people in the time of the Messenger of Allah ﷺ. A man divided his camel into tenths, then said: Whoever wishes may take a tenth of this meat in exchange for a young she-camel (qalus) due at habal al-habalah (when the pregnant one's offspring gives birth)? People took it, and when that reached the Prophet ﷺ, he ordered that it be returned — so the sale was revoked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید بن نضلہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے اونٹ کے گوشت کے دس حصے کیے اور پھر اس نے کہا : جو شخص چاہے وہ اس گوشت کا دسواں حصہ اس اونٹنی کے عوض میں حاصل کر لے ‘ جو اس کے حاملہ جانور کے ہاں پیدا ہو گی ‘ راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے اس طرح گوشت لے لیا جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے ختم کیا جائے تو وہ سودا کالعدم قرار دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6504

Majma al-Zawaid #6504

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ قَالَ: "" عَلَى الَّذِي فِي بَطْنِ النَّاقَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ubayd ibn Nadlah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade habal al-habalah — that is, what is in the belly of the she-camel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حمل کے حمل ( کی بیع ) سے منع کیا ہے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ( یا راوی کہتے ہیں : ) اس پر جو اونٹنی کے پیٹ میں موجود ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6505

Majma al-Zawaid #6505

عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيِّ «أَنَّ رَجُلًا نَحَرَ جَزُورًا فَاشْتَرَى مِنْهُ رَجُلٌ عَشِيرًا بِحُقَّةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّهُ». قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: قَالَ فِيهِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: عَنْ سُفْيَانَ قَالَ فِيهِ: إِلَى أَجَلٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

'Ubayd ibn Nadlah al-Khuza'i رضي الله عنه reports that a man slaughtered a camel, and another man bought a tenth of it in exchange for a huqqah (a container / young camel). When that reached the Messenger of Allah ﷺ, he revoked it. Abu Nu'aym said: Some of our companions said in it, from Sufyan: (on credit) until a fixed term.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید بن نضلہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اونٹ قربان کیا ، تو ایک شخص نے اس سے حقہ کے عوض میں گوشت کا دسواں حصہ لے لیا نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے اس سودے کو کالعدم قرار دیا ابونیم نامی راوی کہتے ہیں : اس روایت کے بارے میں ہمارے بعض اصحاب نے سفیان کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ مخصوص مدت کے بعد ادائیگی کی شرط کی صورت میں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6506

Majma al-Zawaid #6506

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ forbade selling meat in exchange for a live animal.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جانور کے عوض میں گوشت فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6507

Majma al-Zawaid #6507

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ forbade selling an animal for an animal on credit (nasi'ah).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جانور کو جانور کے بدلے میں ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6508

Majma al-Zawaid #6508

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ forbade selling an animal for an animal on credit.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جانور کے عوض میں جانور کو ادھار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6509

Majma al-Zawaid #6509

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الدُّورِيَّ، فَقَدْ وُثِّقَ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling an animal for an animal on credit.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جانور کے عوض میں جانور ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو عمرو مقری ہے اگر تو یہ دوری ہے ، تو پھر اس کی توثیق کی گنی ہے اور حدیث صحیح ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے اور تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔

6510

Majma al-Zawaid #6510

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَأْخُذُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرِّبَا "" الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ. فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِأَفْرَاسٍ، وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ؟ قَالَ: "" لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade taking one dinar for two, one dirham for two, and one sa' for two, warning them of riba. When asked about a horse sold for several horses or a noble she-camel for camels, he ﷺ permitted it on condition of immediate hand-to-hand exchange. > **"Do not take one dinar for two dinars, nor one dirham for two dirhams, nor one sa' for two sa's. I fear riba for you. There is no harm in a horse for horses or a noble she-camel for camels when it is hand to hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو دیناروں کے عوض میں ایک دینار حاصل نہ کرو دو درہموں کے عوض میں ایک درہم حاصل نہ کرو دو صاع کے عوض میں ایک صاع حاصل نہ کرو مجھے تم لوگوں کے بارے میں سود کا اندیشہ ہو گا یہ سود ہے سود ہے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ایک شخص کئی گھوڑوں کے عوض میں ایک گھوڑا فروخت کرتا ہے یا ایک عمدہ اونٹنی کو ایک اونٹ کے عوض میں فروخت کر دیتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ دست بدست لین دین ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اور ثقہ ہے ۔

6511

Majma al-Zawaid #6511

وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً مُسِنَّةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ وَقَالَ: "" مَا هَذِهِ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الصَّدَقَةِ. فَسَكَتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيِّ، وَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الْإِبِلِ قَالَ: "" فَنَعَمْ إِذًا». وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Sunabihi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ saw an aged she-camel among the sadaqah camels and became angry, asking whence it came. The keeper explained he had taken it in return for two inferior camels from the Fringes of the sadaqah herd, at which the Prophet ﷺ fell silent, and in one narration approved it. > **"What is this? — Then yes, that is fine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک مسنہ اونٹنی ملاحظہ فرمائی تو آپ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہاں سے آئی ہے ؟ ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے صدقہ کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے اونٹوں کے حواشی میں سے دو اونٹوں کے عوض میں لی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر یہ ٹھیک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق امام نسائی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

6512

Majma al-Zawaid #6512

وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ «أَنَّهُ قَدِمَ بِإِبِلٍ لَهُ سِمَانٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي زَمَنِ مَحْلٍ، وَجُدُوبٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَجِبُوا مِنْ سِمَنِهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِهَا فَخَرَجَ إِلَيْهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: "" لِمَ جَلَبْتَ إِبِلَكَ هَذِهِ؟ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِهَا خَادِمًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ عِنْدَهُ خَادِمٌ؟ "" فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" هَاتِ "" فَجَاءَ بِهَا عُثْمَانُ، فَلَمَّا رَآهَا أَسْوَدُ قَالَ: مِثْلَهَا أُرِيدُ. فَقَالَ: عِنْدِي فَخُذْهَا. فَأَخَذَهَا أَسْوَدُ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلَهُ. قَالَ أَسْوَدُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" تَمْلِكُ لِسَانَكَ "" قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْهُ؟ قَالَ: "" فَتَمْلِكُ يَدَكَ "" قَالَ: فَمَا أَمَلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟ قَالَ: "" فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ». قُلْتُ: وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الصَّمْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُخْتٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aswad ibn Asram, may Allah be pleased with him, came to Madinah in a year of drought with fat camels that amazed its people. The Prophet ﷺ summoned him, asked his purpose, and when he sought a servant in exchange, 'Uthman ibn 'Affan, may Allah be pleased with him, produced one whom Aswad accepted, the Prophet ﷺ taking possession of the camels. Aswad then sought counsel, and was enjoined to master his tongue and hand for good alone. > **"Control your tongue. Control your hand. Speak with your tongue only what is good, and extend your hand only toward good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ قحط سالی اور خشک سالی کے زمانے میں مدینہ منورہ موٹا تازہ اونٹ لے کر آئے جب اہل مدینہ نے انہیں دیکھا تو انہیں اونٹ کی صحت پسند آئی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے ان کے اونٹ کا ذکر ہوا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو پیغام بھیجا وہ آپ کے پاس لائے گئے نبی اکرم ﷺ نکلے آپ نے ان کا جائزہ لیا اور فرمایا : تم اپنا یہ اونٹ کس لئے لے کے آئے ہو ان صاحب نے عرض کی : میں اس کے عوض میں ایک خادم لینا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کس شخص کے پاس خادم موجود ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لے کے آؤ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے کے آئے جب اسود نے اس کنیز کو دیکھا تو بولے میں ایسی ہی چاہتا تھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا یہ میرے پاس ہے تم اسے لے لو تو حضرت اسود رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کا اونٹ لے لیا ۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کوئی وصیت کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان قابو میں رکھنا انہوں نے عرض کی : اگر میں اس پر قابو نہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر ثابت رہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ہاتھ پر قابو رکھنا ۔ انہوں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر بھی قابو نہ رکھ پاؤں تو کس چیز پر قابو رکھوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی زبان کے ذریعے صرف بھلائی کی بات کہنا اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی کے کام کی طرف بڑھانا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ خاموشی سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بخت ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6513

Majma al-Zawaid #6513

«وَعَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِخْوَةٍ مِنْ كِنْدَةَ كَانُوا عَبِيدًا لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَفَدَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فِي خِلَافَتِهِ فَدَعَا أَبُو بَكْرٍ ابْنَ حَمَّالٍ فَطَلَبَ مِنْهُ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةَ الَّذِي يَخْدُمُهُ، وَيَشْتَرِيَ مِنْهُ إِخْوَتَهُ الَّذِينَ يُحَارِبُ بِسِتَّةٍ مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ، فَأَعْتَقَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ وَأَخَذَ مَكَانَ إِخْوَتِهِ سِتَّةً مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ قَالَ: وَكَانَتْ وِفَادَةُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحُلَلِ السَّبْعِينَ، فَأَقَرَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ انْتَقَضَ ذَلِكَ وَصَارَ عَلَى الصَّدَقَةِ». قُلْتُ: الْمُصَالَحَةُ عَلَى الْحُلَلِ فَقَطْ رَوَاهَا أَبُو دَاوُدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abyad ibn Hammal, may Allah be pleased with him, embraced Islam while owning three Kindah brothers as slaves from Jahiliyyah. In the caliphate of Abu Bakr, may Allah be pleased with him, he came as a delegate; Abu Bakr asked him to free the one who served him and to sell the warrior brothers for six non-Arab captives of Qadisiyyah. Abyad did so, freeing those with him and taking six in their place. The report also notes his treaty of seventy robes confirmed by the Prophet ﷺ and Abu Bakr. > **"Free the neck of the one who serves you, and sell me his brothers who fight, for six of the captives of Qadisiyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے تین بھائیوں کی ملکیت ہونے کے عالم میں اسلام قبول کیا وہ تینوں بھائی زمانہ جاہلیت میں ان کے غلام تھے وہ ایک وفد کی شکل میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کے عہد خلافت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس غلام کو آزاد کر دیں جو ان کی خدمت کرتا ہے اور وہ اس غلام کے بھائی کو ان سے قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلاموں کے عوض میں خرید لیتے ہیں تو حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا انہوں نے اپنے ساتھ موجود بھائیوں کو آزاد کر دیا اور ان بھائیوں کی جگہ قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ غلام حاصل کر لیے پھر حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ وہ ان اہلکاروں کے سلسلے میں حاضر ہوئے ہیں کہ جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد زیادتی کی ہے اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ستر حلوں کی ادائیگی طے کی تھی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو برقرار رکھا جس پر نبی اکرم ﷺ نے انہیں برقرار رکھا تھا یہاں تک کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعد وہ چیز پھر کالعدم ہو گئی اور وہ صدقہ شمار ہوئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حلوں کے عوض میں معاہدہ کرنے والا حصہ امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6514

Majma al-Zawaid #6514

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ فَحَمَلَتْ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ: الْحَمَّامُ. وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمِّي، وَكَلَّمَهُ فِي ابْنِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَسَلَّمِ ابْنَكَ مَا اسْتَطَعْتَ "". فَانْطَلَقَ فَأَخَذَ ابْنَهُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ مَوْلَى الْغُلَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامَيْنِ فَقَالَ: "" خُذْ أَحَدَهُمَا وَدَعْ لِلرَّجُلِ ابْنَهُ "" فَأَخَذَ غُلَامًا وَتَرَكَ الْآخَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Abi Nu'aym reports that in Jahiliyyah a man of Aslam named 'Ubayd ibn 'Umayr fathered a boy called al-Hammam by a slave-girl. His uncle came to the Messenger of Allah ﷺ pleading for the son, was told to recover him as best he could, and seized him. When the boy's master came disputing, the Prophet ﷺ offered him two slaves in compensation to leave the father his son, and he took one. > **"Recover your son as best you can. Take one of the two slaves and leave the man's son to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابونعیم بیان کرتے ہیں : اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام عبید بن عمیر تھا انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کی وہ حاملہ ہو گئی اس نے ان صاحب کے بچے کو جنم دیا جس کا نام حمام رکھا گیا یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرے چچا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بیٹے کے بارے میں آپ کے ساتھ بات چیت کی نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جہاں تک تم سے ہو سکے تم اپنے بیٹے کو حاصل کرنے کی کوشش کرو وہ صاحب گئے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو لیا اور اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اس غلام کا آقا بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا نبی اکرم ﷺ نے اس کے آقا کو دو غلاموں کی پیش کش کی اور فرمایا : تم ان دو میں سے کسی ایک کو لے لو اور اس شخص کے بیٹے کو چھوڑ دو تو اس شخص نے ایک غلام لے لیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6515

Majma al-Zawaid #6515

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ. وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلًا، وَبَاعَهُ بَعْدَ تَوْبِيرِهِ فَلَهُ ثَمَرَتُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى الدِّمَشْقِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn 'Umar and Jabir ibn 'Abdillah, may Allah be pleased with them, report the ruling that a slave's property and the liability for his debt remain with the seller unless the buyer stipulates otherwise, and likewise the fruit of a pollinated palm remains the seller's unless the buyer stipulates otherwise. > **"Whoever sells a slave who possesses property, his property belongs to the seller and his debt is upon the seller, unless the buyer stipulates otherwise. Whoever pollinates palms and then sells them after pollination, its fruit belongs to him, unless the buyer stipulates otherwise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کے پاس مال موجود ہو ‘ تو وہ مال اس فروخت کرنے والے کو ملے گا اگر غلام کے ذمہ قرض ہو ‘ تو اس کی ادائیگی بھی اس شخص کے ذمہ ہو گی البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو ‘ تو حکم مختلف ہے اور جس شخص نے کھجور کے درخت کی پیوند کاری کر لی ہو اور اس کی پیوند کاری کرنے کے بعد وہ کھجور کا درخت فروخت کرے ‘ تو اس کا پھل اس فروخت کرنے والے کو ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو ‘ تو حکم مختلف ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ دمشقی ہے وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

6516

Majma al-Zawaid #6516

وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَاعَ مَمْلُوكًا، وَلَهُ مَالٌ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَالدَّيْنُ عَلَى الْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْبَائِعُ عَلَى الْمُشْتَرِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَادَةَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عُبَادَةَ.

EnglishUnverified translation

'Ubadah, may Allah be pleased with him, reports the ruling that one who sells a slave possessing property while debt lies upon him leaves the debt upon the seller, unless the seller stipulates it upon the buyer. > **"Whoever sells a slave who has property and upon whom is a debt, the debt is upon the seller unless the seller stipulates it upon the buyer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کا مال موجود ہو یا اس کے ذمہ قرض ہو ‘ تو قرض کی ادائیگی فروخت کرنے والے کے ذمہ ہو گی البتہ اگر فروخت کرنے والے نے خریدار کے ذمہ شرط عائد کر دی ہو ‘ تو حکم مختلف ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اسحاق بن یحیی بن عبادہ نے اپنے دادا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6517

Majma al-Zawaid #6517

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ، وَالْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ limited the warranty of a slave to four days and affirmed the option of the two contracting parties so long as they have not separated. > **"There is no warranty after four days, and the two sellers retain the option so long as they have not parted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چار دن کے بعد کوئی عہدہ ( گارنٹی ) نہیں رہے گی اور خرید و فروخت کرنے والوں کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہو گا جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ہے اور وہ متروک ہے ۔

6518

Majma al-Zawaid #6518

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا، فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا، وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا». قُلْتُ: لِعَلِيٍّ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَبَهُمَا لَهُ، وَأَنَّهُ بَاعَ أَحَدَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to sell two slave brothers. He sold them separately and mentioned it to the Prophet ﷺ, who ordered him to overtake them, take them back, and sell them only together. > **"Overtake them and take them back, and do not sell them except together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو غلاموں کو ‘ جو دونوں بھائی تھے انہیں فروخت کر دوں ‘ میں نے فروخت کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا پھر میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو واپس لو اور ان دونوں کو اکھٹے فروخت کرنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وہ دونوں غلام انہیں ہبہ کے طور پر دیے تھے اور انہوں نے ان دونوں میں سے ایک کو فروخت کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6519

Majma al-Zawaid #6519

وَعَنْ ضُمَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِأُمِّ ضُمَيْرَةَ، وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ أَجَائِعَةٌ أَنْتِ؟ أَعَارِيَةٌ أَنْتِ؟ "" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا "". ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى الَّتِي عِنْدَهُ فَرَدَّهَا عَلَى الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ، ثُمَّ ابْتَاعَهُمْ مِنْهُ. قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: ثُمَّ أَقْرَأَنِي كِتَابًا عِنْدَهُ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِأَبِي ضُمَيْرَةَ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَقَهُمْ، وَأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ إِنْ أَحَبُّوا أَقَامُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْ أَحَبُّوا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَلَا يُعْرَضَ لَهُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Dumayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ passed by Umm Dumayrah weeping because she had been separated from her son. He forbade separating mother and child, had her returned through the chain of buyers, then purchased the household himself and freed them, granting them a written covenant that they were an Arab household free to remain with him ﷺ or return to their people, to be met only with good. > **"A mother is not to be separated from her child. In the Name of Allah, the Most Merciful, the Especially Merciful: from Muhammad, the Messenger of Allah, to Abu Dumayrah and his household — the Messenger of Allah has freed them. They are an Arab household; if they wish they may stay with the Messenger of Allah, and if they wish they may return to their people, and none shall confront them except with good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت اُم ضمیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جو رو رہی تھیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے کیا تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے یا تمہیں لباس کی ضرورت ہے اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اور میرے بیٹے کے درمیان علیحدگی کروا دی گئی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماں اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی نہیں کروائی جائے گی پھر نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ خاتون جس کی ملکیت میں تھیں تو اس شخص نے وہ خاتون اس شخص کو واپس کر دی جس شخص سے اس خاتون کو خریدا تھا پھر انہوں نے اس شخص سے انہیں خرید لیا ۔ ابن ابوذئب کہتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ایک تحریر مجھے پڑھائی ( جس میں یہ تحریر تھا ) ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول کی طرف سے ابو ضمیرہ کے نام اور اس کے اہل خانہ کے لئے ہے اللہ کے رسول نے انہیں آزاد کیا ہے اور وہ عربوں کا گھرانہ شمار ہوں گے اگر وہ چاہیں تو وہ اللہ کے رسول کے ہاں مقیم رہیں اور اگر چاہیں تو اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں ان کے ساتھ صرف بھلائی کا سلوک کیا جائے گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

6520

Majma al-Zawaid #6520

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ فَرَّقَ فَلَيْسَ» "". قَالَ: أَشَدُّ تَفَرُّقٍ الْوَلَدُ وَأَمُّهُ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ فَرَّقَ فَلَيْسَ» قَالَ: أَشَدُّ تَفَرُّقٍ الْوَلَدُ وَأَمُّهُ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ. Ma'qil ibn Yasar, may Allah be pleased with him, reports the stern warning against splitting kinsmen in sale, explaining that the severest form is between a child and his mother and between brothers. > **"Whoever separates, he is not of us. The severest separation is between a child and his mother, and between brothers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بھی علیحدگی کرواتا ہے ‘ تو اس سے زیادہ سخت علیحدگی اور کوئی نہیں کرواتا کہ ماں اور اس کے بچے کو یا بھائیوں کو الگ کر دیا جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نصر بن طریف ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6521

Majma al-Zawaid #6521

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتَبَايَعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, recalls that they used to buy and sell ummahat al-awlad — slave-girls who had borne children to their masters — while the Messenger of Allah ﷺ was among them. > **"We used to trade in ummahat al-awlad while the Messenger of Allah was among us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم ام ولد کنیزوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6522

Majma al-Zawaid #6522

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ [لَهُ]، فَأَرَادَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَنْ يَبِيعَهَا فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَاجْعَلُوهَا فِي نَصِيبِ وَلَدِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that when a man died leaving an umm walad and al-Walid ibn 'Uqbah wished to sell her for the dead man's debt, they consulted Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, after his prayer. He ruled that if sale were unavoidable, she should be placed within her own child's share so as not to be alienated from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص فوت ہو گیا اس نے اپنی ایک ام ولد کو ( پس ماندگان میں ) چھوڑ اولید بن عقبہ نے یہ ارادہ کیا کہ اس شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی کے لئے اس اُم والد کو فروخت کر دے ۔ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم ان کا انتظار کرتے رہے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ہم نے یہ صورت حال ان کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : اگر تم نے ایسا ہی کرنا ہے ‘ تو اس اُم ولد کنیز کو اس کے بچے کے حصے میں شامل کر دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6523

Majma al-Zawaid #6523

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ جَارِيَةً لِي قَدْ أَرْضَعَتِ ابْنًا لِي، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَهَا فَمَقَتَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَقَالَ: لَيْتَهُ يُنَادِي: مَنْ أَبِيعُهُ أُمَّ وَلَدِي؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ جَارِيَةً لِي قَدْ أَرْضَعَتِ ابْنًا لِي، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَهَا فَمَقَتَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَقَالَ: لَيْتَهُ يُنَادِي: مَنْ أَبِيعُهُ أُمَّ وَلَدِي؟. 'Alqamah reports that a man told Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, that his slave-girl had suckled his son and he intended to sell her. Ibn Mas'ud expressed revulsion, deeming it akin to proclaiming the sale of the mother of his child.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا میری ایک کنیز نے میرے بیٹے کو دودھ پلایا ہے اب میں اُسے فروخت کرنا چاہتا ہوں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا : عنقریب یہ شخص یہ اعلان کرے گا کہ میں اپنی ام ولد کس کو فروخت کروں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6524

Majma al-Zawaid #6524

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ». 'Imran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of arms during civil strife, lest they fuel bloodshed among Muslims. > **"Do not sell weapons in times of fitnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فتنے کے زمانے میں ہتھیار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز ہے اور وہ متروک ہے ۔

6525

Majma al-Zawaid #6525

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُحَفَّلَاتِ وَقَالَ: "" مَنِ ابْتَاعَهُنَّ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا حَلَبَهُنَّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ forbade the sale of muhaffalat — animals whose milk is deliberately retained in the udder to deceive buyers — and granted one who buys them the option to rescind after milking them and discovering the deceit. > **"Whoever buys muhaffalat has the option when he milks them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے محفلہ کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے ‘ جو شخص انہیں خرید لیتا ہے تو اسے ( سودا ختم کرنے ) کا اختیار ہو گا جبکہ اس نے ان کا دودھ دوہ لیا ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6526

Majma al-Zawaid #6526

وَعَنْ أَبِي لَيْلَى أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنِ اشْتَرَى نَاقَةً مُصَرَّاةً، فَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا، وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Layla, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet of Allah ﷺ ruled that one who buys a musarrat she-camel — one whose udder was tied to inflate its yield — may return her with a sa' of dates if displeased. > **"Whoever buys a musarrat she-camel, if he dislikes her let him return her along with a sa' of dates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص نے تصریہ والی اونٹنی خرید لی ہو ‘ تو اگر وہ اس کو ناپسند کرے تو اسے واپس کر دے اور کھجور کا ایک صاع بھی دیدی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6527

Majma al-Zawaid #6527

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ: إِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: "" «رَدَّ مِثْلَيْ أَوْ مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا» "" بَدَلَ التَّمْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ forbade tying up the udders of camels and sheep for sale to inflate their milk. The buyer of a musarrat sheep has two considerations — to keep or return — and if he returns her, he returns a sa' of dates with her. > **"Do not tie up the udders of camels and sheep for sale. Whoever buys a musarrat sheep has one of two choices; if he returns her, let him return her with a sa' of dates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ فروخت کرنے کے لئے اونٹنیوں اور بکریوں کا تصریہ نہ کرو ! جو شخص تصریہ والی بکری خرید لے ‘ تو اسے دو میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا ( یعنی اگر وہ چاہے ‘ تو سودا ختم کر سکتا ہے ) اگر وہ اس کو واپس کرتا ہے ‘ تو کھجور کے ایک صاع کے ساتھ واپس کرے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے تا ہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ وہ اس کے دودھ جتنی یا اس کی دگنا گندم واپس کرے گا ‘‘ یہاں کھجور کی جگہ لفظ گندم منتقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6528

Majma al-Zawaid #6528

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تُرْسِلُوا الْإِبِلَ هَمَلًا صَرُّوهَا صَرًّا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْضَعُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: قَدْ مَرَّ فِي بَابِ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ مَا يَتَضَمَّنُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa', may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade leaving camels to wander untended without shepherd or restraint, commanding their udders to be tied, for Satan suckles what is left exposed. > **"Do not send out camels neglected. Tie their udders firmly, for Satan suckles them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اونٹوں کو چرواہے کے بغیر کھلا نہ چھوڑو ! ان کے تھن باندھ کے رکھو ‘ کیونکہ شیطان ان کا دودھ پی لیتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن سودوں سے منع کیا گیا ہے ان سے متعلق باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ‘ جو تصریہ والے جانور کو فروخت کرنے کی ممانعت والا مضمون رکھتی ہے ۔

6529

Majma al-Zawaid #6529

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُدْعَانَ: "" إِذَا اشْتَرَيْتَ نَعْلًا فَاسْتَجِدَّهَا، وَإِذَا اشْتَرَيْتَ ثَوْبًا فَاسْتَجِدَّهُ، وَإِذَا اشْتَرَيْتَ دَابَّةً فَاسْتَفْرِهْهَا، وَإِذَا كَانَ عِنْدَكَ كَرِيمَةُ قَوْمٍ فَأَكْرِمْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ counselled 'Abdullah ibn Jud'an to buy new sandals and new garments when he buys, to seek a noble, spirited mount, and to honour a noblewoman entrusted to him. > **"When you buy sandals, buy them new. When you buy a garment, buy it new. When you buy a mount, seek a choice one. When a noblewoman of a people is with you, honour her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جدعان رضی اللہ عنہ سے کہا جب تم جوتا خریدو تو نیا خریدو جب تم کپڑا خریدو تو نیا خریدو جب تم جانور خریدو تو عمدہ قسم کا خریدو ‘ اور جب تمہارے پاس کسی قوم کی معزز خاتون ( یعنی بیوی ) ہو ‘ تو اس کی عزت افزائی کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ متروک ہے ۔