Majma al-Zawaid #6450
«وَعَنِ الْمُثَنَّى بْنِ وَائِلٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بِشْرٍ فَمَسَحَ رَأْسِي وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى ذِرَاعِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ أَجْرِ الْمُعَلِّمِ؟ فَقَالَ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مُتَنَكِّبٌ قَوْسًا فَأَعْجَبَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَجُودَ قَوْسَكَ أَشْتَرَيْتَهَا؟ "". قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَهْدَاهَا إِلَيَّ رَجُلٌ أَقَرَأْتُ ابْنَهُ الْقُرْآنَ. قَالَ: "" فَتُحِبُّ أَنْ يُقَلِّدَكَ اللَّهُ قَوْسًا مِنْ نَارٍ؟ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَرَدُّوهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَالْمُثَنَّى وَوَلَدُهُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَجْرَحْ وَاحِدًا مِنْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Muthanna ibn Wa'il reports that he visited 'Abdullah ibn Bishr رضي الله عنه, who wiped his head, and a man asked him about the wage of the teacher. He replied that a man wearing a bow slung over his shoulder once entered upon the Messenger of Allah ﷺ, the bow pleased the Prophet ﷺ, and when he asked whether he had bought it, the man replied that it had been gifted to him by one whose son he had taught the Qur'an. The Prophet ﷺ then warned him of being collared with a bow of Fire and ordered it returned. > **"How fine is your bow — did you buy it? Would you love that Allah collars you with a bow of Fire? Then return it."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مثنی بن وائل بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرا ہاتھ اپنی کلائی پر رکھ دیا ایک شخص نے ان سے تعلیم دینے والے کے معاوضے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس نے ایک کمان لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ کو وہ اچھی لگی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری کمان کتنی اچھی ہے کیا تم نے اسے خریدا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! مجھے ایک شخص نے یہ تحفے کے طور پر دی ہے ‘ جس کے بیٹے کو میں نے قرآن سکھایا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالی تمہارے گلے میں آگ کی بنی ہوئی کمان پہنائے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تم اسے واپس کر دو ( یا ان لوگوں نے اسے واپس کر دیا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مثنی اور ان کے صاحبزادے ان دونوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے لیکن انہوں نے ان دونوں میں سے کسی پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔