Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 6

Book of Sales and Transactions

Hadith 6410–6449

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6410

Majma al-Zawaid #6410

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْخَمْرِ، وَحَرَّمَ ثَمَنَهَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

It is reported from al-Hasan that the Messenger of Allah ﷺ forbade wine and declared its price unlawful. > **"Wine is forbidden, and its price is unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے شراب کو منع کیا ہے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6411

Majma al-Zawaid #6411

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْأَشْرِبَةِ مِنْ نَحْوِ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) stated that Allah cursed wine, its presser, its drinker, its pourer, its seller, its buyer, its carrier, the one to whom it is carried, and the consumer of its price.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالی نے شراب پر اسے نچوڑنے والے پر اسے پلانے والے پر اسے فروخت کرنے والے پر اسے خریدنے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہو اس پر اور اس کی قیمت کھانے والے ( ان سب پر ) لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گے جو اس نوعیت سے متعلق ہوں گی ۔

6412

Majma al-Zawaid #6412

«وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَامِرُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟ "". قَالَ: أَفَلَا أَبِيعُهَا لِلْيَهُودِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا، فَأَهْرَقَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah (رضي الله عنه) reported that he gifted the Messenger of Allah ﷺ a camel-load of wine, and he ﷺ asked whether he knew it had been forbidden after him. When he asked whether he might sell it to the Jews, he ﷺ equated its seller with its drinker, so he poured it out. > **"O Amir, did you not know it has been forbidden after you? Its seller is like its drinker."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے عامر کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : کیا میں اسے کسی یہودی کو فروخت نہ کر دوں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے فروخت کرنے والا اسے پینے والے کی مانند ہے ‘ تو انہوں نے اسے بہا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے وہ ضعیف ہے ۔

6413

Majma al-Zawaid #6413

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبِيعُ؟ قَالَ: "" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that when the prohibition of wine descended, they asked whether they might sell, and he ﷺ answered with the parity of drinking and sale. > **"He who forbade its drinking forbade its selling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس کو فروخت نہ کر دیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6414

Majma al-Zawaid #6414

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: «لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاتِفًا يَهْتِفُ: "" أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَلَا تَبِيعُوهَا، وَلَا تَبْتَاعُوهَا، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيُهْرِقْهُ» "". قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا غُلَامُ، احْلُلْ عَنِ الْمَزَادَةِ فَأَهْرِقْهَا، فَأَهْرَقَ النَّاسُ وَمَا لَهُمْ خَمْرٌ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Sulaym (رضي الله عنها) reported that when the prohibition of wine descended, the Messenger of Allah ﷺ commanded a crier to proclaim that wine had been forbidden, so none should sell or buy it, and whoever had any should pour it out. Abu Talhah (رضي الله عنه) ordered his lad to loose the skins, and the people poured out, though their wine then was only from unripe and ripe dates. > **"Indeed wine has been forbidden, so do not sell it, nor buy it; and whoever has any of it, let him pour it out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے خبردار ! شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘ تو اب تم اسے فروخت نہ کرو اور اسے نہ خریدو ‘ اور جس کے پاس اس کا کچھ بھی ہو وہ اس کو بہا دے “۔ ( سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لڑکے ! مشکیزے کا منہ کھول دو اور اسے بہا دو ‘ تو لوگوں نے شراب کو بہا دیا حالانکہ ان دنوں ان کی شراب صرف ( کھجور کی دو قسموں ) بسر اور تمر سے بنائی جاتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6415

Majma al-Zawaid #6415

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَبَسَ الْعِنَبَ أَيَّامَ الْقِطَافِ حَتَّى يَبِيعَهُ مِنْ يَهُودِيٍّ، أَوْ نَصْرَانِيٍّ، أَوْ مَنْ يَتَّخِذُهُ خَمْرًا، فَقَدْ تَقَحَّمَ النَّارَ عَلَى بَصِيرَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ؛ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: حَدِيثُهُ يَدُلُّ عَلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ warned one who withholds grapes through harvest days to sell to a Jew, Christian, or winemaker that he plunges knowingly into the Fire. > **"Whoever withholds grapes during harvest days until he sells them to a Jew, or a Christian, or one who makes them wine, has plunged into the Fire knowingly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ‘ انگور نہ اتارے یہاں تک کہ وہ ان کو کسی یہودی یا عیسائی کو یا کسی ایسے شخص کو فروخت کرے جو شراب بناتا ہو تو ایسا شخص جانتے بوجھتے ہوئے آگ میں داخل ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن عبدالکریم ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث جھوٹ پر دلالت کرتی ہے ۔

6416

Majma al-Zawaid #6416

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ "". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: "" لَا، هِيَ حَرَامٌ "". ثُمَّ قَالَ: "" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَّلُوهَا، ثُمَّ بَاعُوهَا، فَأَكَلُوا ثَمَنَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَثَمَنِ الْخِنْزِيرِ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ. وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ in Mecca in the year of the Conquest declare Allah and His Messenger's prohibition of selling wine, carrion, and swine. When asked about carrion fats used for caulking ships, greasing skins, and lighting, he ﷺ said no, it is unlawful, then invoked Allah's curse on the Jews for melting forbidden fats, selling them, and consuming their price. > **"Allah and His Messenger have forbidden selling wine, carrion, and swine. No, it is unlawful. May Allah destroy the Jews: when Allah forbade them fats, they melted them, sold them, and consumed their price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے سال مکہ مکرمہ میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، مردار اور خنزیر کو فروخت کرنے کو حرام قرار دے دیا ہے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ اس کے ذریعے کشتیوں کو تیل لگایا جاتا ہے کھالوں کو تیل لگایا جاتا ہے اور لوگ اس کے ذریعے روشنی بھی حاصل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جی نہیں ! وہ حرام ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے بے شک جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا لیا پھر وہ اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا لیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت خنزیر کی قیمت فاحشہ عورت کی کمائی نر جانور کو جفتی کے لئے دینے کے معاوضے ( سے منع کیا ہے ) ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔

6417

Majma al-Zawaid #6417

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ شُرْبَ الْخَمْرِ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ أَكْلَ الْمَيْتَةِ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْخَنَازِيرَ وَأَكْلَهَا وَثَمَنَهَا، وَقُصُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى، وَلَا تَمْشُوا فِي الْأَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَيْكُمُ الْإِزَارُ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّةَ غَيْرِنَا». رَوَاهُ بِطُولِهِ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ: أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Mecca he declared unlawful drinking wine and its price, eating carrion and its price, swine, eating it and its price; commanded trimming moustaches, sparing beards, and wearing the waist-wrapper in markets; and disowned imitation of others' ways. > **"Allah and His Messenger have forbidden you drinking wine and its price, and have forbidden you eating carrion and its price, and have forbidden you swine, eating it and its price. Trim the moustaches, spare the beards, and do not walk in the markets except with the waist-wrapper upon you; he is not of us who acts upon the way of other than us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ اور اس کے رسول نے تم پر شراب پینے کو اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے تم پر مردار کھانے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے تم پر خنزیر اس کے کھانے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے تم مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑھا کے رکھو اور جب تم بازار میں چلو تو تم نے تہبند ضرور باندھا ہوا ہو کیونکہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ‘ جو ہمارے علاوہ کسی اور کے طریقے پر عمل کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت طویل روایت کے طور پر امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اختصار کے ساتھ معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ائمہ یعنی امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6418

Majma al-Zawaid #6418

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْقَيْنَةَ، وَبَيْعَهَا، وَثَمَنَهَا، وَتَعْلِيمَهَا، وَالِاسْتِمَاعَ إِلَيْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ اثْنَانِ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared unlawful the singing girl, her sale, her price, her teaching, and listening to her. > **"Allah has forbidden the singing girl, her sale, her price, her teaching, and listening to her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے گانے والی کنیز ، اسے فروخت کرنے ، اس کی قیمت ، اسے تعلیم دینے اور اس کو سننے کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور لیث بن ابوسلیم نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ۔

6419

Majma al-Zawaid #6419

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَمَنُ الْقَيْنَةِ سُحْتٌ، وَغِنَاؤُهَا حَرَامٌ، وَالنَّظَرُ إِلَيْهَا حَرَامٌ، وَثَمَنُهَا مِثْلُ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ سُحْتٌ، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ عَلَى السُّحْتِ، فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكُ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ: لَا بَأْسَ بِهِ. وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the price of the singing girl suht, her singing and gazing upon her unlawful, her price like the price of the dog, the dog's price suht, and the Fire most deserving of flesh grown on suht. > **"The price of the singing girl is suht, her singing is unlawful, gazing at her is unlawful, her price is like the price of the dog, the price of the dog is suht, and whoever's flesh grows upon suht, the Fire is more deserving of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ گانے والی کنیز کی قیمت حرام ہے اس کا گانا حرام ہے اس کی طرف دیکھنا حرام ہے اس کی قیمت کتے کی قیمت کی مانند ہے اور کتے کی قیمت حرام ہے اور جس شخص کے گوشت کی نشوونما حرام پر ہوئی ہو تو آگ اس کی زیادہ مستحق ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے جمہور ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحیی بن معین کے حوالے سے ایک روایت میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6420

Majma al-Zawaid #6420

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الْمُغَنِّيَاتِ، وَالنَّوَّاحَاتِ، وَشِرَائِهِنَّ، وَبَيْعِهِنَّ وَتِجَارَةٍ فِيهِنَّ، وَقَالَ: "" كَسْبُهُنَّ حَرَامٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ali (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling, buying, and trading in singing and wailing women, declaring their earnings unlawful. > **"Their earnings are unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے گانے والی کنیزوں اور نوحہ کرنے والی کنیزوں کو فروخت کرنے ‘ انہیں خریدنے اور انہیں فروخت کرنے اور ان کی تجارت کرنے سے منع کیا ہے آپ نے فرمایا ہے : ان کی کمائی حرام ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حاریث بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔

6421

Majma al-Zawaid #6421

عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَقَالَ: "" طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ the prohibition of the price of the dog, describing it as a provision of Jahiliyyah. > **"The price of the dog is forbidden; it is a provision of Jahiliyyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے کتے کی قیمت سے منع کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : یہ جاہلیت کی کمائی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ جاہلیت کی کمائی ‘‘ ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6422

Majma al-Zawaid #6422

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ أَبُو نُعَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ forbade the price of the dog and the dowry of the adulteress. > **"The price of the dog and the dowry of the adulteress are forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ابونعیم ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

6423

Majma al-Zawaid #6423

وَعَنْ عُبَادَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ أَثْمَانِ الْكِلَابِ؟ فَقَالَ: "" طُعْمَةُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عُبَادَةَ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْهُ.

EnglishUnverified translation

Ubadah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ, when asked about the prices of dogs, answered that they are Jahili provision from which Allah has sufficed. > **"It is the food of the people of Jahiliyyah, and Allah the Exalted has sufficed beyond it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے کتوں کی قیمت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی کمائی ہے اللہ تعالٰی نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسحاق بن یحیی کی نقل کردہ نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو انہوں نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے حالانکہ اسحاق نامی راوی نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6424

Majma al-Zawaid #6424

«وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا عَنِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ: "" طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَقَدْ أَغْنَى اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ. وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Maymunah bint Sa'd (رضي الله عنها) reported that she asked for a ruling about dogs, and he ﷺ answered that they are Jahili provision from which Allah has sufficed. > **"It is a provision of Jahiliyyah, and Allah the Exalted has sufficed beyond it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کتوں کے بارے میں حکم بیان کیجئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ زمانہ جاہلیت کی کمائی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جو معروف نہیں ہے ۔

6425

Majma al-Zawaid #6425

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَمَنُ الْحَرِيسَةِ حَرَامٌ وَأَكْلُهَا حَرَامٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared unlawful both the price of the stolen sheep, al-harisah, and its eating. > **"The price of the harisah is unlawful, and eating it is unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چوری شدہ بکری کی قیمت حرام ہے اور اسے کھانا حرام ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6426

Majma al-Zawaid #6426

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُصِيبَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ: "" لَا، وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ "". قَالُوا: فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جَعْلًا. قَالَ: "" ذَاكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that on the Day of the Trench a polytheist was struck down, his people asked the Prophet ﷺ to let them bury him, he ﷺ refused them honour, and when they offered payment for it, he declared it doubly foul. > **"No, nor honour for you. That is fouler and fouler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر مشرکین کا ایک فرد مارا گیا ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ لوگ اس کو دفن کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! تمہارے لئے کوئی عزت افزائی نہیں ہے ‘ ان لوگوں نے کہا : ہم آپ کو اس کا معاوضہ دینے کے لئے تیار ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اور زیادہ خبیث ہے ‘ یہ اور زیادہ خبیث ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلیٰ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

6427

Majma al-Zawaid #6427

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، قَالَ: فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ: يَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا؟ إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً وَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْهُ شَاةً، وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ قَالَ رَجُلٌ: أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّزًا، مُسْتَنْثِلًا، مُتَقَيِّئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri (رضي الله عنه) reported that they set out with the Messenger of Allah ﷺ on a journey in companies, he lodging with Abu Bakr's (رضي الله عنه) company alongside a desert Bedouin. They alighted among desert dwellers with a pregnant woman; the Bedouin promised her a boy if she gave him a sheep, took a sheep, chanted rhymed incantations for her, then slaughtered it. When the eaters learned its origin from an informant, Abu Bakr (رضي الله عنه) withdrew, purged himself, and vomited.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر پر روانہ ہوئے لوگوں نے مختلف ٹولیوں کی شکل میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ ایک کے ساتھ تھے کچھ لوگ ایک کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں شامل تھا ہمارے ساتھ دیہات کا رہنے والا ایک اعرابی تھا ہم نے دیہات کے ایک گھر میں پڑاؤ کیا ‘ ان لوگوں کے درمیان ایک حاملہ عورت موجود تھی دیہاتی نے اس سے کہا : کیا تم اس بات کی خواہش مند ہو کہ تم لڑکے کو جنم دو اگر تم مجھے ایک بکری دو گی تو تم لڑکے کو جنم دو گی اس عورت نے اسے بکری دے دی دیہاتی نے مقفع اور مسجع کلام پڑھ کر ( اس پر دم کیا ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس نے وہ بکری ذبح کی جب حاضرین اسے کھانے کے لئے بیٹھے تو ایک شخص نے کہا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ بکری کہاں سے آئی ہے ؟ پھر اس نے ان لوگوں کو اس بارے میں بتایا راوی کہتے ہیں : تو میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے ‘ پاخانہ کیا ‘ اور قئے کی ( تاکہ وہ کھایا ہوا اگل دیں ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6428

Majma al-Zawaid #6428

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «لَا تَسْتَغِلُّوا الْأَمَةَ إِلَّا أَمَةً صَنَاعَ الْيَدَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّهْشَلِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported in marfu' form the prohibition of seeking inflated yield from a slave-girl, except one skilled with her hands. > **"Do not seek profit from a slave-girl, except a slave-girl skilled with her hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کنیز کی قیمت زیادہ نہ کرو البتہ اس کنیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو کوئی دست کاری جانتی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن سلیمان نہشلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6429

Majma al-Zawaid #6429

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا عَمَلٌ وَاصِبٌ يُعْرَفُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade the earnings of the slave-girl unless she has a known, established craft. > **"The earnings of the slave-girl are forbidden, unless she has a lasting, known craft."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کنیز کی کمائی سے منع کیا ہے البتہ اگر اسے کوئی فن آتا ہو جو مستقل ہو اور معروف ہو ( تو اس کا حکم مختلف ہو گا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6430

Majma al-Zawaid #6430

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُنْزِلُوهُنَّ الْغُرَفَ، وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ الْكِتَابَةَ، وَعَلِّمُوهُنَّ الْغَزْلَ وَسُورَةَ النُّورِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّامِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

A'ishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded not lodging women in upper chambers, not teaching them writing, but teaching them spinning and Surat al-Nur. > **"Do not lodge them in upper rooms, nor teach them writing; teach them spinning and Surat al-Nur."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ان خواتین کو بالا خانوں میں نہ ٹہراؤ اور انہیں تحریر کی تعلیم نہ دو انہیں سوت کاتنے کی اور انہیں سورہ نور کی تعلیم دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم شامی ہے امام دارقطنی کہتے ہیں : وہ کذاب ہے ۔

6431

Majma al-Zawaid #6431

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى هِنْدَ بِنْتِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ وَهِيَ امْرَأَةُ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ وَبِيَدِهَا مِغْزَلٌ تَغْزِلُ فَقُلْتُ لَهَا: تَغْزِلِينَ، وَأَنْتِ امْرَأَةُ أَمِيرٍ؟ فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَطْوَلُكُنَّ طَاقَةً أَعْظَمُكُنَّ أَجْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ الْحَلَّالُ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ziyad ibn Abdillah al-Qurashi reported that he entered upon Hind bint al-Muhallab ibn Abi Sufrah, wife of al-Hajjaj ibn Yusuf, while she held a spindle spinning, and when he marvelled at her spinning as a commander's wife, she cited her father from her grandfather that she heard the Messenger of Allah ﷺ say the longest in capacity among them is greatest in reward. > **"The longest of you in capacity is the greatest of you in reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیادہ بن عبداللہ قرشی بیان کرتے ہیں : میں ہند بنت مہلب بن ابوصفرہ کے پاس گیا وہ حجاج بن یوسف کی اہلیہ تھیں ان کے ہاتھ میں سوت کاتنے کا آلہ تھا جس کے ذریعے وہ سوت کات رہی تھیں میں نے ان سے کہا : کیا آپ سوت کات رہی ہیں جبکہ آپ گورنر صاحب کی بیوی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کو میرے دادا کے حوالے سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ جو تم میں سے زیادہ طویل بنے گی وہ زیادہ اجر پائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مروان الحلال ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : وہ کذاب ہے ۔

6432

Majma al-Zawaid #6432

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade the earnings of the cupper. > **"The earnings of the cupper are forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6433

Majma al-Zawaid #6433

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «وَهَبْتُ لِخَالَتِي فَاخِتَةَ بِنْتِ عَمْرٍو غُلَامًا وَأَمَرْتُهَا أَنْ لَا تَجْعَلَهُ حَازِرًا، وَلَا صَانِعًا، وَلَا حَجَّامًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that he heard the Prophet ﷺ say he had gifted his maternal aunt Fakhitah bint Amr (رضي الله عنها) a slave boy and ordered her not to make him a butcher, craftsman, or cupper. > **"I have gifted my maternal aunt Fakhitah bint Amr a slave boy, and ordered her not to make him a butcher, nor a craftsman, nor a cupper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں نے اپنی خالہ فاختہ بنت عمرو کو ایک غلام ہبہ کیا اور اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ آپ نے اسے قصائی ‘ یا بڑھئی ‘ یا پچھنے لگانے والا نہیں بنانا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6434

Majma al-Zawaid #6434

«وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: مُحَيِّصَةُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَسْبِهِ قَالَ: أَفَلَا أُطْعِمُهُ أَيْتَامًا لِي؟ قَالَ: "" لَا "" قَالَ: أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: "" لَا "" فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَعْلِفَ بِهِ نَاضِحَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of the Ansar called Muhayyisah (رضي الله عنه) had a cupper slave, and the Messenger of Allah ﷺ rebuked him over his earnings. When he asked whether he might feed his orphans with it or give it in charity, he ﷺ twice said no, then permitted him to use it as fodder for his water-carrying camel. > **"No. No. Fodder with it your water-carrying camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام محیصہ ہے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان کا ایک غلام تھا جو پچھنے لگایا کرتا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو اس کی کمائی سے منع کر دیا ان صاحب نے عرض کی : کیا میں وہ کمائی اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کو نہ کھلا دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں اس کو صدقہ نہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ رخصت دی کہ وہ اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دیا کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت تینوں ’’ سنن ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6435

Majma al-Zawaid #6435

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ يُحَدِّثُ أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً، وَنَاضِحًا، وَغُلَامًا حَجَّامًا، وَأَرْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَارِيَةِ، فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا - قَالَ شُعْبَةُ: مَخَافَةَ أَنْ تَبْتَغِيَ - وَقَالَ: "" مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَأَعْلِفُوهُ النَّاضِحَ "". وَقَالَ فِي الْأَرْضِ: "" ازْرَعْهَا، أَوْ ذَرْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abi Sulaym reports that he heard 'Abayah ibn Rifa'ah ibn Rafi' relate that when his grandfather died, he left behind a slave-girl, a water-carrying camel (nadih), a slave boy who was a cupper, and a piece of land. The Messenger of Allah ﷺ gave rulings concerning each: regarding the slave-girl he forbade her earnings — Shu'bah added, for fear she would seek them through immorality — and regarding the cupper he instructed that his earnings be spent as fodder, and regarding the land he instructed that it be cultivated or left alone. > **"Feed the water-camel with what the cupper earns. Cultivate it (the land), or leave it idle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن ابوسلیم بیان کرتے ہیں : میں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب ان کے دادا کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایک کنیز ایک اونٹنی اور ایک پچھنے لگانے والا غلام اور ایک زمین چھوڑی تو نبی اکرم ﷺ نے کینز کے بارے میں یہ فرمایا کہ آپ نے اس کی کمائی سے منع کر دیا شعبہ کہتے ہیں : اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ فاحشہ نہ بن جائے اور آپ نے یہ فرمایا پچھنے لگانے والا جو کمائی کرے گا وہ تم اونٹ کو کھلا دینا زمین کے بارے میں آپ نے یہ فرمایا کہ تم خود اس پر کھیتی باڑی کرو یا اسے ایسے رہنے دو ( یعنی اسے ٹھیکے پر نہ دینا ) ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6436

Majma al-Zawaid #6436

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ: "" اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ was asked about the earnings of the cupper, and he directed that they be spent as animal feed. > **"Feed it to your water-camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تم اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6437

Majma al-Zawaid #6437

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا طِيبَةَ فَحَجَمَهُ، قَالَ: فَسَأَلَهُ: "" كَمْ ضَرِيبَتُكَ؟ "". قَالَ: ثَلَاثَةٌ آصُعٍ. فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ، وَقِيلَ: إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ summoned Abu Taybah, who cupped him. He then asked him about the amount of his imposed tax, and when he replied that it was three sa', he interceded so that one sa' was remitted from him. > **"How much is your tax (daribah)?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ابوطیبہ کو بلایا انہوں نے آپ کو پچھنے لگائے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہارا اخراج کتنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تین صاع ، تو نبی اکرم ﷺ نے ایک صاع معاف کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ یہ روایت جعفر بن ابووحشیہ کے حوالے سے سلیمان بن قیس سے منقول ہے اور ایک قول کے مطابق جعفر نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔

6438

Majma al-Zawaid #6438

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعِينَ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ. وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ، وَرَمَاهُ ابْنُ مَعِينٍ بِالْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was cupped in the two jugular veins (al-akhda'ayn) and between the shoulders, and he gave the cupper his wage — and had it been unlawful, he would not have given it to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اخدع نامی دو رگوں میں اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے تھے اور آپ نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ دیا تھا اگر یہ حرام ہوتا تو آپ اسے ادا نہ کرتے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مفلس ہے ‘ جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے یحیی بن معین نے اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔

6439

Majma al-Zawaid #6439

وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ: "" كَمْ خَرَاجُكَ؟ "". قَالَ: صَاعَانِ. فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Jamilah al-Tuhawi reports that he heard 'Ali رضي الله عنه say that the Messenger of Allah ﷺ was cupped, and when the cupper finished, he asked him about the amount of his kharaj. When he replied that it was two sa', he remitted one sa' from him and instructed 'Ali to give him one sa'. > **"How much is your kharaj?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجمیلہ طہوی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے حجام سے دریافت کیا : تمہار اخراج کتنا ہے ؟ اس نے جواب دیا دو صاع تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ایک صاع معاف کر دیا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اسے ایک صاع دے دوں ۔ یہ روایت امام عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

6440

Majma al-Zawaid #6440

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ، وَأَنَّ الْحَجَّامَ شَكَا إِلَيْهِ ضَرِيبَتَهُ، فَأَرْسَلَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ ضَرِيبَتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was cupped, and the cupper complained to him about his imposed tax, so he sent word to his masters that they should lighten his tax from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے پچھنے لگانے والے نے آپ کی خدمت میں اپنے خراج کی شکایت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے آقاؤں کو پیغام بھیجا کہ وہ اس کے خراج میں اس کے لئے تخفیف کر دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6441

Majma al-Zawaid #6441

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ دِينَارًا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ خَلَا ذِكْرَ الدِّينَارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ شَرِيكٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was cupped and gave the cupper a dinar as his wage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ایک دینار ادا کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے اور دیگر کتابوں میں بھی ہے تاہم ان میں دینار کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن سعید بن مسیب بن شریک ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6442

Majma al-Zawaid #6442

وَعَنْ ثَوْبَانَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَقَالَ: "" أَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawban رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was cupped and gave the cupper his wage, instructing that it be used as animal feed. > **"Feed it to your water-camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

6443

Majma al-Zawaid #6443

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ، وَالْعَجَمِيُّ، وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَنْتُمْ بِخَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَيَأْتِي نَاسٌ يَثْقَفُونَهُ كَمَا يَثْقَفُونَ الْقَدَحَ، يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports: While we were reciting — among us an Arab and a non-Arab, a Black man and a White man — the Messenger of Allah ﷺ came out to us and declared that we were in a good state, reciting the Book of Allah with the Messenger of Allah ﷺ among us, but that people would come after who would straighten and embellish it as an arrow-shaft is straightened, hastening to take its wages and not deferring them. > **"You are in a good state, reciting the Book of Allah, and among you is the Messenger of Allah ﷺ. But there will come people who will craft it (the recitation) as the arrow-shaft is crafted, hastening its wages and not deferring them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے ہمارے درمیان ایک عجمی موجود تھا اور ایک عربی تھا اور ایک سیاہ فام تھا ایک سفید فام تھا اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے آپ نے ارشاد فرمایا : تم بہترین حالت میں ہو کہ تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو اور تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اس کو یوں بنائیں سنواریں گے ‘ جس طرح پیالے کو بنایا سنوارا جاتا ہے ‘ اور وہ اس کا معاوضہ جلدی ( یعنی دنیا میں ) وصول کریں گے ‘ وہ اسے تاخیر سے ( یعنی آخرت میں ) وصول نہیں کرنا چاہیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

6444

Majma al-Zawaid #6444

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ أَيْضًا: عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَرَجَ إِلَيْنَا - يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّ فِيكُمْ خَيْرًا مِنْكُمْ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ فِيكُمُ الْأَحْمَرُ، وَالْأَبْيَضُ، وَالْعَجَمِيُّ، وَالْعَرَبِيُّ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports in another narration that the Prophet ﷺ — meaning the Messenger of Allah ﷺ — came out to us and said that among us was one better than us, meaning the Messenger of Allah ﷺ himself, and that we were reciting the Book of Allah with red and white, non-Arab and Arab among us, then he mentioned the like of the previous narration. > **"Among you is one better than you, and you recite the Book of Allah — among you the red, the white, the non-Arab, and the Arab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان تم سے بہتر فرد موجود ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد خود نبی اکرم ﷺ تھے ‘ اور تم لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہو تمہارے درمیان سرخ فام اور سفید فام اور عجمی اور عربی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔

6445

Majma al-Zawaid #6445

وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sallam reports that Mu'awiyah رضي الله عنه wrote to 'Abd al-Rahman ibn Shibl رضي الله عنه to teach the people what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ. So he gathered them and said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ command learning the Qur'an, and warn against going to excess in it, abandoning it, eating by it, or seeking abundance through it. > **"Learn the Qur'an, and when you have learned it, do not go to excess in it, nor turn away from it in neglect, nor eat by it, nor seek increase through it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلام بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ لوگوں کو اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی باتیں سنی ہیں تو انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اسے چھوڑ کر جفا نہ کرو اور اس کا معاوضہ نہ کھانا اور اس کے ذریعے ( مال کی ) کثرت کے طلبگار نہ ہونا “۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو آگے چل کر مکمل روایت کے طور پر آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6446

Majma al-Zawaid #6446

وَعَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الدُّوسِيِّ قَالَ: «أَقْرَأَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْقُرْآنَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ قَوْسًا فَغَدَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَدْ تَقَلَّدَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَقَلَّدْهَا مِنْ جَهَنَّمَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِنَّمَا حَضَرْنَا طَعَامَهُمْ فَأَكَلْنَا مِنْهُ؟ قَالَ: "" أَمَّا مَا عُمِلَ لَكَ، فَإِنَّمَا تَأْكُلُهُ بِخَلَاقِكَ، وَأَمَّا مَا عُمِلَ لِغَيْرِكَ فَحَضَرْتَهُ فَأَكَلْتَ مِنْهُ فَلَا بَأْسَ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَلَا أَظُنُّهُ أَدْرَكَ الطُّفَيْلَ.

EnglishUnverified translation

Al-Tufayl ibn 'Amr al-Dawsi رضي الله عنه reports that Ubayy ibn Ka'b رضي الله عنه taught him the Qur'an, so he gifted him a bow. The next morning Ubayy went to the Prophet ﷺ wearing it slung around his neck, and the Prophet ﷺ warned him that he had slung upon himself a portion of Hell. The narrator then asked about attending people's meals and eating from them, and the Prophet ﷺ distinguished between food prepared for one's sake and food one merely happens upon. > **"You have slung upon yourself (a bow) from Hell. As for what was prepared for you, you eat it at the expense of your (Hereafter) share; but as for what was prepared for other than you, and you attended and ate from it, there is no harm in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے قرآن پڑھایا میں نے تحفے کے طور پر انہیں کمان دی اگلے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے وہ کمان گلے میں لٹکائی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم نے جہنم میں سے لے کر اسے لٹکایا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم وہ لوگ ہیں کہ جب ہم کھانے کے پاس موجود ہوں تو اس میں سے کھا لیتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو تمہارے لئے تیار کیا گیا ہو ‘ تو تم ( آخرت میں سے ) اپنے حصے کے عوض میں اسے کھاؤ گے اور جو تمہارے علاوہ کسی اور کے لئے تیار کیا گیا ہو اور تم وہاں موجود ہو ‘ تو تم اس میں سے کھا لو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان بن عمیر ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا اور میرا نہیں خیال کہ اس نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔

6447

Majma al-Zawaid #6447

«وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: يَا إِسْمَاعِيلُ أَدِّبْ وَلَدِي، فَإِنِّي مُعْطِيكَ قَالَ: فَكَيْفَ بِذَلِكَ؟ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ يَأْخُذُ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ قَوْسًا قَلَّدَهُ اللَّهُ قَوْسًا مِنْ نَارٍ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَلَيْسَ هُوَ فِي الضُّعَفَاءِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Isma'il ibn 'Ubaydullah reports that 'Abd al-Malik ibn Marwan said to him: O Isma'il, discipline my sons, for I shall pay you. He replied: How can that be, when Umm al-Darda' رضي الله عنها narrated to me from Abu al-Darda' رضي الله عنه, from the Prophet ﷺ, that whoever takes a bow in return for teaching the Qur'an, Allah will collar him with a bow of Fire. > **"Whoever takes a bow in return for teaching the Qur'an, Allah will collar him with a bow of Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں : عبدالملک بن مروان نے مجھ سے کہا : اے اسماعیل ! میرے بچوں کی تربیت کرو میں تمہیں ادائیگی کروں گا انہوں نے کہا : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ جو شخص قرآن کی تعلیم دینے کے عوض میں ایک کمان حاصل کرے گا تو اللہ تعالی آگ کی بنی ہوئی کمان اس کے گلے میں ڈالے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں یحیی بن عبدالعزیز کے حوالے سے ولید بن مسلم سے نقل کی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور نہ ہی یہ ضعیف راویوں میں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6448

Majma al-Zawaid #6448

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجَتْ سَرِيَّةٌ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرُّوا بِبَعْضِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ، فَقَالُوا لَهُمْ: قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَدْ جَاءَ بِالنُّورِ وَالشِّفَاءِ. قَالُوا: فَإِنَّ عِنْدَنَا رَجُلًا يَتَخَبَّطُهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ: الشَّيْطَانُ - فَهَذِهِ حَالُهُ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: ائْتُونِي بِهِ. فَقَرَأَ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَسَاقُوا إِلَيْهِمْ غَنَمًا، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ عَلَى الْقُرْآنِ أَجْرًا. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا هَذِهِ كَرَامَةٌ أُكْرِمْتَ بِهَا، وَلَيْسَ هُوَ أَجْرًا لِلْقُرْآنِ. فَذَبَحَ، وَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ قَالُوا: حَتَّى نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَجَعْنَا. فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ الَّذِي أُهْدِيَ لَهُ الْغَنَمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا مَرَرْنَا بِبَنِي فُلَانٍ وَقَالُوا: إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ. فَقُلْنَا: نَعَمْ قَدْ جَاءَ بِالشِّفَاءِ وَالنُّورِ. فَقَالُوا: إِنَّ عِنْدَنَا مَنْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ. قُلْتُ: ائْتُونِي بِهِ. فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَبَرَأَ فَسَاقُوا إِلَيْنَا غَنِيمَةً، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِي: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْكُلَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا عَلَّمَكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: عَلِمْتُ أَنْ أَرْقِيَ مِنْ كَلَامِ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَصَابَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، فَقَدْ أَصَبْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ، كُلْ وَأَطْعِمْ أَصْحَابَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn 'Abdullah رضي الله عنهما reports that an expedition dispatched by the Messenger of Allah ﷺ passed by an Arab tribe who asked whether their master had come with light and healing. When they confirmed it, the tribesmen mentioned a man possessed, confused by Satan. A man of the Ansar had him brought, recited the Fatihah of the Book over him three times, and the man recovered, so they drove sheep to the Companions. Some of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ objected that it was not lawful to take a wage for the Qur'an, while others said it was but an honour bestowed, not a wage for the Qur'an. Some ate from the slaughtered animal and some abstained until they could ask the Messenger of Allah ﷺ upon return. When they returned, the one to whom the sheep had been given recounted the events, and the Messenger of Allah ﷺ asked what had taught him that it was a ruqyah, affirmed that he had recited from the Speech of Allah, and declared his earning from a true ruqyah lawful, permitting him to eat and feed his companions. > **"What taught you that it is a ruqyah? Whoever gains by a false ruqyah, you have indeed gained by a true ruqyah. Eat, and feed your companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی روانہ کی ہوئی ایک جنگی مہم روانہ ہوئی ان لوگوں کا گزر عربوں کے کسی قبیلے کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے ان اصحاب سے دریافت کیا کہ ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ کے آقا نور اور شفاء لے کے آئے ہیں ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ نور اور شفاء لے کے آئے ہیں قبیلے والوں نے کہا : ہمارے پاس ایک شخص ہے ‘ جسے شیطان نے خبط الحواس بنا دیا ہے ‘ تو اس کی حالت یہ ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے کہا : تم اسے میرے پاس لے کے آؤ اس انصاری نے تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کر دیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا وہ لوگ بکریاں لے کر صحابہ کرام کے پاس آ گئے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے یہ کہا کہ تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ تم قرآن کا معاوضہ وصول کرو ان میں سے کسی نے یہ کہا کہ یہ عزت افزائی ہے ‘ جس کے ذریعے تمہاری عزت افزائی کی گئی ہے یہ قرآن کا معاوضہ نہیں ہے پھر انہوں نے جانور کو ذبح کر لیا تو کچھ صحابہ کرام نے اس کا گوشت کھا لیا اور جنہوں نے نہیں کھایا تھا انہوں نے کہا : جب تک ہم واپس جا کر نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کر لیتے ( ہم اس کا گوشت نہیں کھائیں گے ) جب وہ لوگ واپس آئے تو جن صاحب کو وہ بکریاں تحفے کے طور پر دی گئی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا گزر بنو فلاں کے پاس سے ہوا انہوں نے کہا : تمہارے آقا شفار اور نور لے کے آئے ہیں ہم نے کہا : جی ہاں ! وہ شفاء اور نور لے کے آئے ہیں ان لوگوں نے کہا : ہمارے پاس ایک ایسا شخص ہے ‘ جسے شیطان نے مخبوط الحواس بنا لیا ہے ‘ تو میں نے کہا : تم اسے میرے پاس لے کے آؤ تو میں نے اس پر تین مرتبہ سورت فاتحہ پڑ کر دم کیا ‘ تو وہ ٹھیک ہو گیا وہ لوگ میرے پاس بکریاں لے کے آ گئے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا : تمہارے لئے اس کو کھانا حلال نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہیں کس نے اس بات کی تعلیم دی ہے کہ یہ دم کے الفاظ ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : مجھے اس بات کا علم ہے کہ میں اللہ کے کلام کے ذریعے دم کر رہا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص باطل الفاظ کے ذریعے نتیجہ حاصل کر لے ( تو وہ بھی حاصل کر لیتا ہے ) تم نے دم کے حق الفاظ کے ذریعے صحیح نتیجہ حاصل کیا ہے تم خود بھی کھاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی کھلاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن اسماعیل بن مجالد ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے ۔

6449

Majma al-Zawaid #6449

«وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ رَجُلٌ يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: صَاحِبِي الَّذِي تَرَاهُ مَعِيَ اشْتَرَى قَوْسًا، وَأَهْدَاهَا إِلَيَّ، أَفَآخُذُهَا مِنْهُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا "" فَمَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ عَادَ قَالَ: آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا "" ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ رَأْسُ الْحَوْلِ قَالَ: آخُذُ تِلْكَ الْقَوْسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا ""، قَالَ أَفَلَا آخُذُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَكُونُ عُدَّةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتُرِيدُ أَنْ تَلْقَى اللَّهَ يَا عَوْفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبَيْنَ كَتِفَيْكَ جَمْرَةٌ مِنْ جَهَنَّمَ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Awf ibn Malik رضي الله عنه reports that a man who was learning the Qur'an from him bought a bow and gifted it to him. When he asked the Messenger of Allah ﷺ whether he might take it, the Prophet ﷺ refused. He waited until a year had passed and asked again, and was again refused; then again after another year, and was again refused. When he suggested taking it as equipment in the path of Allah, the Messenger of Allah ﷺ warned him of meeting Allah with an ember of Hell between his shoulders. > **"No. Do you wish, O 'Awf, to meet Allah on the Day of Resurrection with an ember of Hell between your shoulders?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص تھا جسے وہ قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا میرا وہ ساتھی جسے آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوا ہے وہ میرے ساتھ تھا اس نے کمان خریدی اور وہ مجھے تحفے کے طور پر دے دی کیا میں وہ اس سے لے لوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا تو وہ دوبارہ آئے اور بولے یا رسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر وہ کچھ عرصہ ٹھہرے رہے پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں وہ کمان لے لوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے لے نہ لوں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تیاری کے لئے شمار ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عوف کیا تم یہ چاہتے ہو کہ قیامت کے دن جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ‘ تو تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان جہنم کا انگارہ رکھا ہوا ہو ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔