وَعَنِ الْحَسَنِ «أَنَّ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ سَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ مَالًا يَتَّجِرُ فِيهِ، وَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا، ثُمَّ قَدِمَ بِهِ الْأُبُلَّةَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ، فَلَمْ يَدَعْ مِنْهَا دِنًّا، وَلَا غَيْرَهُ إِلَّا كَسَرَهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا، وَمُشْتَرِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَحَامِلَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ: وَمُعْتَصِرَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا. وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Hasan reported that a freedman of Uthman ibn Abi al-As (رضي الله عنه) asked for capital to trade with shared profit, received twenty thousand dirhams, bought wine with it, and brought it to al-Ubullah. Uthman (رضي الله عنه) went out to him, broke every vat and vessel, and cited the Messenger of Allah ﷺ cursing wine and its drinker, buyer, seller, presser, carrier, the one for whom it is pressed, the one to whom it is carried, and the consumer of its price. > **"The Messenger of Allah ﷺ cursed wine, its drinker, its buyer, its seller, its presser, the one for whom it is pressed, its carrier, the one to whom it is carried, and the consumer of its price."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے کچھ مال دیں ، جس کے ذریعے وہ تجارت کرے اور منافع ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا تو انہوں نے اس غلام کو بیس ہزار درہم دیے اس غلام نے اس کے ذریعے شراب خرید لی پھر وہ اسے لے کر ابلہ آیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نکل کر اس کی طرف گئے ۔ انہوں نے شراب کے ہر ایک مٹکے کو توڑ دیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے شراب پر اسے پینے والے پر اسے خریدنے والے پر اسے فروخت کرنے والے پر اسے نچوڑنے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اسے نچڑوانے والے پر جس کی طرف وہ لاد کر لے جائی جا رہی ہے اس پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر ( لعنت کی ہے ) ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز اور وہ ضعیف ہے ۔