Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 5

Book of Sales and Transactions

Hadith 6370–6409

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6370

Majma al-Zawaid #6370

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ. فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Abi Yazid reported from his father, from one who heard the Prophet ﷺ, the same command to leave people to obtain provision from one another. > **"Leave people, that some of them may obtain from others; and when one of you seeks sincere advice from his brother, let him give him sincere counsel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن ابویزید نے اپنے والد کے حوالے سے ان صاحب سے یہ بات نقل کی ہے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی عطاء بن سائب ہے ۔

6371

Majma al-Zawaid #6371

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَعُوا النَّاسَ فَلْيُرْزَقْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Abi Yazid reported from his father that the Messenger of Allah ﷺ said, commanding non-interference in mutual provision and sincerity when consulted. > **"Leave people, that some of them may be sustained through others; and when one of you seeks sincere advice from his brother, let him advise him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکیم بن ابویزید ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو ! وہ ایک دوسرے کے ذریعے رزق حاصل کر لیں گے اور جب کوئی شخص اپنے بھائی سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ‘ تو اسے اس کی خیرخواہی کرنی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب نامی راوی ہے ۔

6372

Majma al-Zawaid #6372

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَعُوا النَّاسَ يُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ أَخُوكَ فَانْصَحْ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ata' ibn al-Sa'ib reported from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ commanded leaving people to obtain from one another and advising a brother who seeks counsel. > **"Leave people, that some of them may obtain from others; and when your brother seeks your sincere counsel, give him sincere counsel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کو رہنے دو ! وہ ایک دوسرے سے ( رزق ) حاصل کر لیں گے اور جب تمہارا بھائی تم سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ‘ تو تم اس کی خیرخواہی کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب نامی راوی ہے ۔

6373

Majma al-Zawaid #6373

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَشْتَرِ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade town agency for the desert in both directions. > **"Let no townsman sell for a Bedouin, nor buy for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے اور اس کے لئے کوئی چیز نہ خریدے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6374

Majma al-Zawaid #6374

عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حُصَيْنٍ السَّدُوسِيِّ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ جَدِّي قَالَ: «أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَمَعِي إِبِلٌ لِي وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْ أَهْلَ الْغَائِطِ أَنْ يُحْسِنُوا مُخَالَطَتِي، وَأَنْ يُعِينُونِي فَقَامُوا مَعِي فَلَمَّا بِعْتُ إِبِلِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي: "" ادْنُهْ "" فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَتِي وَدَعَا لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Nu'aym ibn Husayn al-Sadusi reported from his uncle, from his grandfather, that he came to Medina with camels of his while the Prophet ﷺ was there, asked him ﷺ to instruct the marketplace people to deal fairly with him and aid him, so they stood with him until he sold his camels; then the Prophet ﷺ drew him near, wiped his hand over his forelock, and supplicated for him three times. > **"Come near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعیم بن حصین سدوسی بیان کرتے ہیں : میرے چچا نے مجھے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا میرے پاس میرا اونٹ تھا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بازار والوں سے یہ کہیں کہ وہ میرے ساتھ اچھے طریقے سے معاملات کریں اور میری مدد کریں وہ لوگ میرے ساتھ اٹھ کر گئے جب میں نے اپنا اونٹ فروخت کر دیا تو میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے فرمایا آگے آ جاؤ پھر آپ نے اپنا دست مبارک میری پیشانی پر پھیرا اور میرے لئے تین مرتبہ دعا کی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے کہ میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6375

Majma al-Zawaid #6375

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «النَّاجِشُ آكِلُ رِبًا مَلْعُونٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَا أَعْرِفُ لِلْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ مِنَ ابْنِ أَبِي أَوْفَى سَمَاعًا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Awfa (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the najish, who inflates prices without intent to buy. > **"The najish is a consumer of riba, accursed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مصنوعی بولی لگانے والا شخص ‘ سود کھانے والا ملعون ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں عوام بن حوشب نامی راوی کے حضرت ابن اوفی رضی اللہ عنہ سے سماع سے واقف نہیں ہوں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

6376

Majma al-Zawaid #6376

وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا حِمَى فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا مُنَاجَشَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ismah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ negated private enclosure and false bidding in Islam. > **"There is no hima in Islam, nor munajashah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام میں کوئی چراگاہ نہیں ہے اور مصنوعی بولی لگانے کی کوئی ( اجازت ) نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

6377

Majma al-Zawaid #6377

عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوَرَ الْقَطَّانُ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Samurah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade encroaching upon a brother's proposal or transaction. > **"A man is not to propose over the proposal of his brother, nor buy over his purchase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام بھیجے ‘ یا اس کے سودے پر سودا کرے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داورقطان ہے ‘ جسے ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6378

Majma al-Zawaid #6378

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Aslam reported that he heard a man ask Ibn Umar (رضي الله عنهما) about auction sale, muzayadah, and Ibn Umar (رضي الله عنهما) answered with the Prophetic prohibition, excepting spoils and inheritances. > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade that one of you sell over the sale of his brother, except spoils and inheritances."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6379

Majma al-Zawaid #6379

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَبْتَاعَنَّ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade encroachment in sale and marriage. > **"Let none of you buy over the purchase of his brother, nor propose over the proposal of his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کے سودے پر ہرگز سودا نہ کرے اور اس کی شادی کے پیغام پر ‘ پیغام نہ بھیجے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حسین ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6380

Majma al-Zawaid #6380

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ "". فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ، وَقَدَحٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ. قَالَ: "" مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟ "". فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ: "" مَنْ يَزِيدُ؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ. فَقَالَ: "" هُمَا لَكَ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: دَمٍ مُوجِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنْ رَجُلٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ سَنَدَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported from a man of the Ansar who complained of need to the Prophet ﷺ. When asked what he possessed, he brought a coarse cloth and a cup. The Prophet ﷺ asked who would buy them; a man offered a dirham, so he ﷺ asked who would increase, the people fell silent, then a man offered two dirhams, so he ﷺ awarded them to him, then defined lawful begging. > **"Who will buy this? Who will increase over a dirham? Who will increase? They are yours. Begging is not lawful except for one of three: painful blood-money, crushing debt, or grinding poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے حاجت مند ہونے کی شکایت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چٹائی اور ایک پیالہ لے آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون اسے خریدے گا ؟ ایک صاحب نے عرض کی : میں ان دونوں کو ایک درہم کے عوض میں خرید لوں گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون ایک درہم سے زیادہ دے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کون زیادہ دے گا ؟ تو ایک صاحب بولے : میں دو درہم کے عوض میں ان دونوں کو لے لیتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارے ہوئے ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ مانگنا ‘ تین میں سے کسی ایک فرد کے لئے حلال ہے ایسا خون جو تکلیف پہنچانے والا ہو ( یعنی قتل کی دیت دینی ہو ) ایسا تاوان جو پریشان کرنے والا ہو اور ایسی غربت جو خاک آلود کر دے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے حضرت انس ﷺ کے حوالے سے ایک شخص سے نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ترمذی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔

6381

Majma al-Zawaid #6381

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُزَايَدَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sufyan ibn Wahb (رضي الله عنه) reported that he heard the Prophet ﷺ forbid muzayadah, that is, competitive increase in bidding. > **"The Prophet ﷺ forbade muzayadah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ہے آپ ﷺ نے ’’ مزایده ‘‘ ( یعنی زیادہ بولی لگا کر کوئی چیز خریدنے ) سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6382

Majma al-Zawaid #6382

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ». قَالَ سِمَاكٌ: الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ: هُوَ بِنُسَاء بِكَذَا وَكَذَا. وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade two transactions in one. Simak, a narrator, explained it as a seller saying: it is for such-and-such on credit, and for such-and-such in cash. > **"The Messenger of Allah ﷺ forbade two transactions in one sale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ۔ سماک نامی راوی کہتے ہیں : ( اس سے مراد یہ ہے ) ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے ، ادھار کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی اور نقد کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار اور امام احمد نے نقل کی ہے ۔

6383

Majma al-Zawaid #6383

وَرَوَى لَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَا تَحِلُّ صَفْقَتَانِ فِي صَفْقَةٍ» ".

EnglishUnverified translation

In the wording of al-Tabarani in al-Awsat from Ibn Mas'ud (رضي الله عنه), the Messenger of Allah ﷺ declared two transactions in one unlawful. > **"Two transactions in one are not lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ان کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک سودے میں دو سودے حلال نہیں ہیں ‘‘۔

6384

Majma al-Zawaid #6384

وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ: "" «الصَّفْقَةُ بِالصَّفْقَتَيْنِ رِبًا» "". وَهُوَ مَوْقُوفٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ وَزَادَ: «وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud (رضي الله عنه) is reported in al-Kabir, as a stopped narration, that a single concluded bargain set against two stipulated bargains is riba; in al-Bazzar's wording with the addition of the command to perfect ablution.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ دو سودوں میں ‘ ایک سودا سود ہے ‘‘۔ یہ روایت ’’ موقوف ‘‘ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے اور یہ بات زائد نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

6385

Majma al-Zawaid #6385

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ فَاتْبَعْهُ، وَلَا بَيْعَتَيْنِ فِي وَاحِدَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَلَفْظُهُ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ»، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the solvent debtor's delay as injustice, commanded following a transfer to a solvent party, and forbade two sales in one. > **"The delay of the rich is injustice; and when one of you is transferred to a solvent man, let him follow him; and no two sales in one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب کسی شخص کو وصولی کے لئے کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے تو اسے دوسرے شخص کے پیچھے جانا چاہیے اور ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں “۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم ﷺ نے ایک دو سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6386

Majma al-Zawaid #6386

وَعَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَبَا حَنِيفَةَ، وَابْنَ أَبِي لَيْلَى، وَابْنَ شُبْرُمَةَ، فَسَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا، وَشَرَطَ شَرْطًا؟ قَالَ: الْبَيْعُ بَاطِلٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ. ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ. ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ جَائِزٌ. فَقُلْتُ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ! ثَلَاثَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْعِرَاقِ اخْتَلَفُوا عَلَيَّ فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَتَيْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا قَالَا، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعٍ، وَشَرْطٍ، الْبَيْعُ بَاطِلٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ. ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا قَالَا، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةً فَأَعْتِقَهَا؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ. ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا قَالَا، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً وَشَرَطَ حَمْلَنَا إِلَى الْمَدِينَةِ؛ الْبَيْعُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ جَائِزٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَقَالٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Warith ibn Sa'id reported that he came to Mecca and found Abu Hanifah, Ibn Abi Layla, and Ibn Shubrumah, and asked each about a man who sells with a stipulated condition: the first said both sale and condition are void, the second said the sale is valid and the condition void, the third said both are valid. When each was informed of the others' disagreement, Abu Hanifah cited through Amr ibn Shu'ayb from his father from his grandfather the Prophetic prohibition of a sale with a condition, Ibn Abi Layla cited through Hisham ibn Urwah from his father from A'ishah (رضي الله عنها) the command to buy Barirah and free her, and Ibn Shubrumah cited through Mis'ar ibn Kidam from Muharib ibn Dithar from Jabir ibn Abdillah (رضي الله عنهما) the Prophet's ﷺ sale of a she-camel with stipulated riding to Medina.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالوارث بن سعد بیان کرتے ہیں : میں مکہ آیا وہاں میں نے امام ابوحنیفہ امام ابن ابولیلیٰ اور امام ابن شبرمہ کو پایا میں نے امام ابوحنیفہ سے سوال کیا میں نے کہا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر کوئی شرط عائد کر دیتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : سودا باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ‘ پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا میں نے ان سے یہی سوال کیا ، تو انہوں نے فرمایا : سودا جائز ہو گا اور شرط باطل ہو گی پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا میں نے ان سے یہ سوال کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : سودا بھی جائز ہو گا اور شرط بھی جائز ہو گی ۔ میں نے کہا : سبحان اللہ ! کیا بات ہے ؟ عراق کے تین فقہاء ایک ہی مسئلے کے بارے میں میرے سامنے مختلف آراء پیش کر رہے ہیں میں امام ابوحنیفہ کے پاس آیا میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ عمرو بن شعیب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سودا کرنے میں شرط رکھنے سے منع کیا ہے ‘ تو سودا بھی باطل ہو گا اور شرط بھی باطل ہو گی ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : پھر میں ابن ابولیلیٰ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتوی دیا ہے ؟ ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں بریرہ کو خرید کر اسے آزاد کر دوں ( این ابولیلی نے کہا : ) تو یہ سودا جائز ہے اور شرط باطل ہے ۔ عبدالوارث کہتے ہیں : میں ابن شبرمہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں نے کس بنیاد پر یہ فتویٰ دیا ہے ؟ مسعر بن کدام نے محارب بن دثار کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک اونٹنی بھیجی ( یا فروخت کی ) تو یہ شرط عائد کی کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی جائے گی ( این شبرمہ نے کہا : ) تو یہاں سودا بھی جائز ہے اور شرط بھی جائز ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کی سند میں کلام پایا جاتا ہے ۔

6387

Majma al-Zawaid #6387

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ: "" إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ عَلَى أَهْلِ اللَّهِ - أَهْلِ مَكَّةَ - فَانْهَهُمْ عَنْ بَيْعِ مَا لَمْ يُقْبَضْ، وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يَضْمَنُوا، وَعَنْ شَرْطَيْنِ فِي شَرْطٍ، وَعَنْ بَيْعٍ وَقَرْضٍ، وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ مَنَاكِيرَ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ لِغَيْرِ الذَّهَبِيِّ فِيهِ كَلَامًا. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ said to Attab ibn Asid (رضي الله عنه) when sending him to the people of Allah, the people of Mecca, commanding him to forbid them certain transactions. > **"I have sent you to the people of Allah, the people of Mecca, so forbid them sale of what is not possessed, and profit of what is not guaranteed, and two conditions within a condition, and sale with a loan, and sale with salaf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : میں تمہیں اللہ والے لوگوں ( یعنی اہل مکہ ) کی طرف بھیجنے لگا ہوں تم انہیں ایسا سودا کرنے سے منع کر دینا جو قبضے میں نہ لیا گیا ہو اور اس چیز کے منافع سے منع کر دینا جس کے ضمان کے وہ پابند نہ ہوں اور ایک شرط میں دو شرطیں عائد کرنے سے اور بیع اور قرض سے اور بیع اور سلف سے منع کر دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ایلی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یحیی بن بکیر نے اس کے حوالے سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ذہبی کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس کے بارے میں کلام کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6388

Majma al-Zawaid #6388

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ فِي الْبَيْعِ: عَنْ سَلَفٍ، وَبَيْعٍ، وَشَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي، وَرِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade him four qualities in sale: salaf with sale, two conditions in a sale, selling what one does not have, and profit of what is not guaranteed. > **"Salaf with sale, two conditions in a sale, sale of what is not with you, and profit of what is not guaranteed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے سودے میں چار چیزوں سے منع کیا ہے سلف اور بیع ‘ ایک سودے میں دو شرطیں ، ایسی چیز فروخت کرنا جو میرے پاس نہ ہو اور ایسا منافع جس کے ضمان کی پابندی نہ ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن خالد واسطی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6389

Majma al-Zawaid #6389

وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ حِينَ أَمَّرَهُ مَكَّةَ: "" هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ مَا آمُرُكَ بِهِ؟ قُلْ لَهُمْ: لَا يَجْمَعْ أَحَدُكُمْ بَيْعًا وَسَلَفًا، وَلَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ بَيْعَ غَرَرٍ، وَلَا يَبِعْ أَحَدٌ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Attab ibn Asid (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ, when appointing him over Mecca, asked whether he would convey from him what he commanded, namely to tell his people not to combine sale with salaf, not to sell gharar sales, and not to sell what is not with them. > **"Will you convey from me to your people what I command you with? Let none of you combine a sale with salaf, nor sell a gharar sale, nor sell what is not with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں اہل مکہ کا امیر مقرر کیا ‘ تو ان سے فرمایا کیا میں تمہیں جس بات کی ہدایت کروں گا تم میری طرف سے اپنی قوم کو اس کی تبلیغ کر دو گے ؟ تم ان سے یہ کہنا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص بیع اور سلف کو جمع نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص دھوکے کا سودا نہ کرے اور تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی ایسی چیز فروخت نہ کرے جو اس کے پاس نہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6390

Majma al-Zawaid #6390

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَوْمَيْنِ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ، وَعَنْ لِبَاسَيْنِ، وَعَنْ مَطْعَمَيْنِ، وَعَنْ نِكَاحَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ. فَأَمَّا الصَّوْمَانُ: فَيَوْمُ الْفِطْرِ وَيَوْمُ الْأَضْحَى. وَأَمَّا الصَّلَاتَانِ: فَصَلَاةٌ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَصَلَاةٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ. وَأَمَّا اللِّبَاسَانِ: فَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَكُونُ بَيْنَ عَوْرَتِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ فَتُدْعَى تِلْكَ السَّمَّاءُ. وَأَمَّا الْمَطْعَمَانِ: فَأَنْ يَأْكُلَ بِشِمَالِهِ وَيَمِينُهُ صَحِيحَةٌ، وَيَأْكُلَ مُتَّكِئًا. وَأَمَّا الْبَيْعَانِ: فَيَقُولُ الرَّجُلُ: تَبِيعُ لِي، وَأَبِيعُ لَكَ. وَأَمَّا النِّكَاحَانِ: فَنِكَاحُ الْبَغِيِّ وَنِكَاحٌ عَلَى الْخَالَةِ وَالْعَمَّةِ». قُلْتُ: عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ، وَلَمْ أَرَهُ فِي الصُّغْرَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade two fasts, two prayers, two garments, two foods, two marriages, and two sales: fasting the days of Fitr and Adha; prayer after dawn until sunrise and after Asr until sunset; wrapping in one garment with nothing between one's nakedness and the sky; eating with the left while the right is sound and eating reclined; a man saying sell to me and I shall sell to you; and marriage of the adulteress and marriage over the maternal or paternal aunt. > **"Two fasts: the day of Fitr and the day of Adha. Two prayers: prayer after dawn until the sun rises, and prayer after Asr until the sun sets. Two garments: wrapping in one garment with nothing between his nakedness and the sky. Two foods: eating with his left while his right is sound, and eating reclined. Two sales: a man saying, sell to me and I shall sell to you. Two marriages: marriage of the adulteress, and marriage over the maternal aunt and paternal aunt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں دو قسم کے روزوں ‘ دو قسم کی نمازوں دو قسم کے لباس دو قسم کے کھانوں دو قسم کے نکاح اور دو قسم کے سودوں سے منع کیا ہے جہاں تک دو روزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن ( کا روزہ ) ہے جہاں تک دو نمازوں کا تعلق ہے ‘ تو صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ادا کی جانے والی نماز ہے اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک والی نماز ہے جہاں تک دو لباسوں کا تعلق ہے ‘ تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی نے ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر لپیٹا ہوا ہو اور اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو اور جہاں تک دو قسم کے کھانوں کا تعلق ہے ‘ تو یہ ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے جبکہ اس کا دایاں ہاتھ ٹھیک ہو اور یہ کہ آدمی ٹیک لگا کر کھائے جہاں تک دو قسم کے سودوں کا تعلق ہے ‘ تو ایک صورت یہ ہے کہ آدمی یہ کہے کہ تم مجھے یہ چیز فروخت کر دو اور میں تمہیں فروخت کر دوں گا جہاں تک دو قسم کے نکاح کا تعلق ہے ‘ تو فاحشہ عورت سے نکاح کرنا اور خالہ یا پھوپھی پر نکاح کرنا ( یعنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا ) ۔ ( علا ہیثمی فرماتے ہیں : ) ’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس کی نسبت امام نسائی کی طرف کی ہے میں نے سنن نسائی میں یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6391

Majma al-Zawaid #6391

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنِ اشْتَرَى رَقَبَةً لِيَعْتِقَهَا فَلَا يُشْتَرَطُ لِأَهْلِهَا الْعِتْقُ؛ فَإِنَّهُ عُقْدَةٌ مِنَ الرِّزْقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقُرَشِيُّ؛ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَقَوَّاهُ غَيْرُهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَنَزِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Ma'qil ibn Yasar (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade stipulating emancipation upon the sellers when buying a neck in order to free it, for it is a bond of provision. > **"Whoever buys a neck to free it, let emancipation not be stipulated upon its owners; for it is a bond of provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی غلام آزاد کرنے کے لئے خریدے تو وہ اس کے مالکان کے سامنے آزادی کی شرط نہ رکھے کیونکہ یہ رزق کے حوالے سے کیا جانے والا معاہدہ ( یا سودا ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن فضل قرشی ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے قومی کہا ہے ابوعبداللہ عنزی نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

6392

Majma al-Zawaid #6392

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالنَّاسُ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ affirmed return of a temporary grant and adherence to stipulations in accord with truth. > **"The grant is to be returned, and people are upon their conditions so long as they accord with the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ عطیہ کے طور پر ( عارضی استعمال کے لئے ) دی گئی چیز واپس کی جائے گی اور لوگوں کو ان کی ( آپس میں طے کردہ ) شرائط کی پابندی کرنی ہو گی جبکہ وہ حق کے مطابق ہوں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

6393

Majma al-Zawaid #6393

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ» ".

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ declared void every condition lacking sanction in Allah's Book, even a hundred conditions. > **"Every condition not in the Book of Allah is void, even if a hundred conditions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی خواہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں “۔

6394

Majma al-Zawaid #6394

وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ مَرْدُودٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ وَلَهُ إِسْنَادٌ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported in another wording that the Messenger of Allah ﷺ affirmed wala for the emancipator, then asked what is with people who stipulate conditions not in Allah's Book, declaring every such condition rejected. > **"Wala belongs to the one who frees. What is with people who stipulate conditions not in the Book of Allah? Whatever condition is not in the Book of Allah is rejected."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملے گا ‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں جن کی اجازت ‘ اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ‘ جو بھی شرط ایسی ہو کہ اس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ مردود شمار ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ ایک روایت کی ایک ’’ مرسل ‘‘ سند بھی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6395

Majma al-Zawaid #6395

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ forbade selling weapons during civil strife. > **"The Prophet ﷺ forbade selling arms in fitnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فتنے کے زمانے میں ہتھیار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ، ہے اور وہ متروک ہے ۔

6396

Majma al-Zawaid #6396

عَنْ عَلِيٍّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ، وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ، وَعَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ forbade every fanged beast of prey, every taloned bird, the price of carrion, flesh of domestic donkeys, the dowry of the adulteress, stud fees for the stallion, and purple saddle-cloths. > **"Every fanged beast of prey, every taloned bird, the price of carrion, the flesh of domestic donkeys, the dowry of the adulteress, the stud fee of the stallion, and purple saddle-cloths are forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے درندوں میں سے نوکیلے دانتوں والے اور پرندوں میں سے ہر نوکیلے پنچوں والے ( جانوروں اور پرندوں کا گوشت کھانے ) سے منع کیا ہے اور مردار کی قیمت سے اور پالتو گدھوں کا گوشت ( کھانے ) سے اور فاحشہ عورت کی کمائی سے اور نر جانور کو جفتی کے لئے ( معاوضے کے عوض میں ) دینے سے اور ارجوان کی چادروں ( کو استعمال کرنے ) سے منع کیا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت میں سے صرف پالتو گدھوں اور ارجوان کی چادروں والا حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6397

Majma al-Zawaid #6397

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَعَسْبِ الْفَحْلِ» "". وَكَانَ لِلْبَرَاءِ تَيْسٌ يَطْرُقُهُ مَنْ طَلَبَهُ، وَلَا يَمْنَعُهُ أَحَدًا، وَلَا يُعْطِي أَجْرَ الْفَحْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْحَرَشِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' ibn Azib (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ the prohibition of the price of the dog, the dowry of the adulteress, the earnings of the cupper, the sweet of the soothsayer, and the stud fee of the stallion. Bara' himself had a he-goat which he lent freely to whoever sought it for covering, refusing none and taking no stud wage. > **"The price of the dog, the dowry of the adulteress, the earnings of the cupper, the sweet of the soothsayer, and the stud fee of the stallion are forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت فاحشہ عورت کی کمائی پچھنے لگانے والے کی کمائی کاہن کی مٹھائی اور نر جانور کو جفتی کے لئے دینے ( کے معاوضے ) سے منع کیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت براء رضی اللہ عنہ کا ایک نر جانور تھا جو شخص جفتی کے لئے اسے مانگتا تھا وہ اسے دے دیتے تھے وہ کسی کو منع نہیں کرتے تھے اور وہ نر جانور کا معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد بن دینار حرشی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6398

Majma al-Zawaid #6398

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مِنَ السُّحْتِ: ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Sa'ib ibn Yazid (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted among suht, unlawful earnings, the price of the dog, the dowry of the adulteress, and the earnings of the cupper. > **"Among suht are: the price of the dog, the dowry of the adulteress, and the earnings of the cupper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حرام چیزوں میں سے ( یہ چیزیں بھی شامل ہیں ) کتے کی قیمت فاحشہ عورت کی آمدن اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6399

Majma al-Zawaid #6399

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «يُكْرَهُ مَهْرُ الْبَغِيِّ، وَأَجْرُ الْكَاهِنِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ بَعْضَ هَذَا فِي أَبْوَابِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) stated that the dowry of the adulteress, the wage of the soothsayer, the earnings of the cupper, and the price of the dog are disliked and unlawful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فاحشہ عورت کی آمدن کاہن کی کمائی حجام کی کمائی اور کتے کی قیمت کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں دیگر احادیث آگے آئیں گی جو اس سے متعلق بعض امور پر مشتمل ہوں گی وہ متعلقہ ابواب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔

6400

Majma al-Zawaid #6400

عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ يَكُونُ فِيهَا الْعِنَبُ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ فَقَالَ: عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي؟! سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ: "" الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ "". فَقَالَ عُمْرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ: الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ! فَقَالَ: "" لَيْسَ عَلْيَكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَيُذِيبُونَهُ فَيَبِيعُونَهُ، فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ، وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ». قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي النَّهْيِ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الْوَاحِدِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Wahid al-Bunani reported that he was with Ibn Umar (رضي الله عنهما) when a man who had bought vineyards with grapes, unable to sell all as grapes and needing to press some, asked about the price of wine. Ibn Umar (رضي الله عنهما) replied by narrating that they sat with the Messenger of Allah ﷺ when he ﷺ looked to the sky, lowered himself and scratched the earth, saying woe to the Children of Israel; and when Umar (رضي الله عنه) was alarmed, he ﷺ explained they melted forbidden fats, sold them and consumed the price, and likewise wine's price is unlawful for you. > **"Woe to the Children of Israel. There is no harm upon you from that. When fats were forbidden to them, they melted them, sold them, and consumed their price; and likewise the price of wine is unlawful for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالواحد بنانی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا اے ابوعبدالرحمن ! میں نے یہ باغ خریدا ہے ‘ جس میں انگور ہوتے ہیں ہم ان سب کو انگور کی شکل میں فروخت نہیں کر سکتے ہیں کچھ کو نچوڑنا پڑتا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے میں دریافت کرنا چاہ رہے ہو ؟ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور پھر اسے جھکا لیا اور زمین سے کچھ کریدنے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل کے لئے بربادی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اس فرمان نے ہمیں پریشان کر دیا ہے کہ بنی اسرئیل کے لئے بربادی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بربادی میں سے تم پر کچھ نہیں آئے گا ان لوگوں پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ لوگ اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیتے تھے اور اس کی قیمت کھایا کرتے تھے اسی طرح تم لوگوں پر شراب کی قیمت حرام ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد نے شراب کی قیمت کی ممانعت کے بارے میں نقل کیا ہے لیکن وہ روایت اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالواحد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

6401

Majma al-Zawaid #6401

«وَعَنْ كَيْسَانَ أَنَّهُ كَانَ يَتَّجِرُ بِالْخَمْرِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنَّهُ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ، وَمَعَهُ خَمْرٌ فِي الزُّقَاقِ يُرِيدُ بِهَا التِّجَارَةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِشَرَابٍ جَيِّدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا كَيْسَانُ، إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ بَعْدَكَ "". قَالَ: أَفَنَبِيعُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ وَحُرِّمَ ثَمَنُهَا "". فَانْطَلَقَ كَيْسَانُ إِلَى الزُّقَاقِ فَأَخَذَ بِأَرْجُلِهَا، ثُمَّ أَهْرَقَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ كَيْسَانَ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ: «أَفَلَا أَبِيعُهَا مِنَ الْيَهُودِ؟ فَقَالَ: "" إِنَّ بَائِعَهَا كَشَارِبِهَا» "".

EnglishUnverified translation

Kaysan (رضي الله عنه) reported that he traded in wine in the time of the Messenger of Allah ﷺ, and came from Syria with wine in skins for trade. When he offered excellent drink to the Messenger of Allah ﷺ, he ﷺ informed him it had been forbidden after him, and that both it and its price were forbidden; so Kaysan went to the skins, seized them by their legs, and poured them out. > **"O Kaysan, it has been forbidden after you. It has been forbidden, and its price has been forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں وہ شراب کی تجارت کیا کرتے تھے ایک مرتبہ وہ شام سے آئے تو ان کے ساتھ شراب کے مشکیزے بھی تھے ‘ جن کی تجارت کا ارادہ تھا وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس بڑی عمدہ قسم کی شراب لے کے آیا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے کیسان تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اسے فروخت کر دیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اور اس کی قیمت ( دونوں کو ) حرام قرار دیا گیا ہے ‘ تو حضرت کیسان رضی اللہ عنہ ان مشکیزوں کی طرف گئے اور پھر انہوں نے انہیں نیچے کی طرف سے پکڑ کے انہیں بہا دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نافع بن کیسان ہے اور وہ مستور ہے امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا ہم اسے یہودوں کو فروخت نہ کر دیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے فروخت کرنے والا اسے پینے والے کی مانند ہے ۔

6402

Majma al-Zawaid #6402

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ «أَنَّ الدَّارِيَّ كَانَ يُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ جَاءَ بِرَاوِيَةٍ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ قَالَ: "" هَلْ شَعَرْتَ أَنَّهَا حُرِّمَتْ بَعْدَكَ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبِيعُهَا، فَأَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ؛ انْطَلَقُوا إِلَى مَا حُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ شُحُومِ الْغَنَمِ، وَالْبَقَرِ، فَأَذَابُوهُ، فَجَعَلُوهُ بِمِثَالِهِ فَبَاعُوا بِهِ مَا يَأْكُلُونَ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ، وَإِنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ، وَثَمَنَهَا حَرَامٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا عَنِ ابْنِ غَنْمٍ أَنَّ الدَّارِيَّ، وَفِيهِ شَهْرٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ghanm (رضي الله عنه) reported that al-Dari used to gift the Messenger of Allah ﷺ a camel-load of wine each year; in the year it was forbidden he brought a load, the Prophet of Allah ﷺ smiled and asked whether he knew it had been forbidden after him, and when he asked whether he might sell it and benefit by its price, he ﷺ thrice cursed the Jews for melting forbidden sheep and cattle fats, shaping them likewise, selling them and consuming: wine and its price are thrice unlawful. > **"Did you know it has been forbidden after you? May Allah curse the Jews, may Allah curse the Jews, may Allah curse the Jews; they turned to what was forbidden to them of sheep and cattle fats, melted them, formed them likewise, and sold that by which they eat. Wine is unlawful and its price is unlawful; wine is unlawful and its price is unlawful; wine is unlawful and its price is unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : داری نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ہر سال ایک شراب کا ایک مشکیزہ تحفے میں پیش کیا کرتا تھا جب وہ سال آیا جب اسے حرام قرار دے دیا گیا تو وہ صاحب مشکیزہ لے کے آئے جب نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو آپ ہنس پڑے اور آپ نے فرمایا : کیا تمہیں پتہ ہے کہ تمہارے بعد اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے فروخت نہ کر دوں اور اس کی قیمت کے ذریعے نفع حاصل کر لوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت کی ہے اللہ تعالی نے یہودیوں پر لعنت کی ہے کہ وہ اس چیز کی طرف گئے کہ جب ان پر بکریوں اور گائے کی چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کو پگھلا لیا اور پھر اس کو اس جیسا بنا کے اسے فروخت کرنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے ‘ شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے کہ داری کا یہ معاملہ پیش آیا تھا اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس راوی کے بارے میں کلام پایا جاتا ہے ۔

6403

Majma al-Zawaid #6403

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّهُ حَرَامٌ شِرَاؤُهَا وَثَمَنُهَا» "". وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ghanm (رضي الله عنه) reported from Tamim al-Dari (رضي الله عنه) the same account of yearly gifting, in abridged form, with the ruling on its purchase and price. > **"Its purchase is unlawful and its price is unlawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ وہ تحفے کے طور پر پیش کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث اختصار کے طور پر نقل کیا ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” بے شک اسے فروخت کرنا اور اس کی قیمت بھی حرام ہے “۔ اس روایت کی سند متصل اور حسن ہے ۔

6404

Majma al-Zawaid #6404

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ يَحْمِلُ الْخَمْرَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَبِيعُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَحَمَلَ مِنْهَا بِمَالٍ، فَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: يَا فُلَانُ، إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ. فَوَضَعَهَا حَيْثُ انْتَهَى عَلَى تَلٍّ وَسَجَّى عَلَيْهَا بِالْأَكْسِيَةِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ؟ قَالَ: "" أَجَلْ "" قَالَ: أَلِيَ أَنْ أَرُدَّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ؟ قَالَ: "" لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا "". قَالَ: أَلِيَ أَنْ أُهْدِيَهَا إِلَى مَنْ يُكَافِئُنِي مِنْهَا؟ قَالَ: "" لَا "" قَالَ: إِنَّ فِيهَا مَالًا لِيَتَامَى فِي حِجْرِي، قَالَ: "" إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَأْتِنَا نُعَوِّضْ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ "". ثُمَّ نَادَى: "" يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ""، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا؟ قَالَ: "" فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا "". فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ بِمَعْنَاهُ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمِيعِ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، وَعِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that a man used to carry wine from Khaybar to Medina and sell it to the Muslims for wealth. When a Muslim met him and told him wine had been forbidden, he set it upon a mound covered with garments, came to the Prophet ﷺ seeking confirmation, asked whether he might return it to its seller or gift it for recompense, and mentioned orphans' wealth in it; he ﷺ disallowed return and gifting, promised compensation from Bahrayn wealth, then proclaimed to Medina, and when asked whether the skins could be used, commanded their mouths loosed so it poured until it settled in the valley's belly. > **"Yes. Its return is not proper. No. When the wealth of Bahrayn comes to us, come to us and we shall compensate your orphans from their wealth. O people of Medina, loose its bindings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص خیبر سے مدینہ منورہ شراب لاد کر لایا کرتا تھا اسے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتا تھا اس کے عوض میں مال حاصل کرتا تھا ایک مرتبہ وہ شراب لے کے مدینہ منورہ آیا مسلمانوں میں سے ایک شخص کی اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا : اے فلاں ! شراب کو تو حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘ تو وہ شخص جہاں موجود تھا اس نے وہاں ایک ٹیلے کے اوپر شراب رکھی اس پر چادر ڈال دی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے یہ بات پتہ چلا ہے کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں نے جس سے اسے خریدا ہے اسے میں واپس کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے واپس کرنا ٹھیک نہیں ہے اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو اسے تحفے کے طور پر دے دوں جو اس کے بدلے میں مجھے کچھ دیدے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! اس نے عرض کی : اس میں کچھ یتیموں کا مال بھی ہے ‘ جو میرے زیر پرورش ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب بحرین کا مال ہمارے پاس آئے گا تو تم ہمارے پاس آ جانا تمہارے زیر پرورش یتیم بچوں کے مال کا معاوضہ ہم تمہیں دے دیں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے اعلان کروایا اے اہل مدینہ راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ برتن بھی ہیں جن سے ہم نفع حاصل کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم ان کی بندش کھول دو یہاں تک کہ شراب بہہ جائے اور شیبی حصے میں چلی جائے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس روایت کے ایک حصے کا مفہوم نقل کیا ہے اور ان تمام کی سند میں ایک راوی یعقوب قمی اور ایک عیسیٰ بن جاریہ ہے اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

6405

Majma al-Zawaid #6405

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ بَعْدَمَا حُرِّمَ الْخَمْرُ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشُقَّتْ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَمَرْتَ بِهَا فَتُبَاعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that a man of Thaqif gifted the Messenger of Allah ﷺ a camel-load of wine after its prohibition, so he ﷺ ordered it split open. When a man suggested ordering its sale, he ﷺ answered that its forbiddance covers both uses. > **"He who forbade its drinking forbade its selling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو شراب کا ایک مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا یہ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد کی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت اسے چیر دیا گیا اس شخص نے عرض کی : اگر آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تو اسے فروخت کر دیا جاتا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس ذات نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کو فروخت کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6406

Majma al-Zawaid #6406

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: «أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زِقُّ خَمْرٍ بَعْدَمَا حُرِّمَتْ فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ "". فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ بَاعُوهَا، فَأَعْطَوْا ثَمَنَهَا فُقَرَاءَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُهْرِيقَتْ فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ، وَقَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا، فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abbad reported that a skin of wine was gifted to the Prophet ﷺ after its prohibition; when it was brought he ﷺ declared wine forbidden. When some suggested selling it and giving its price to the Muslim poor, he ﷺ ordered it poured out in a valley of Medina, cursing the Jews for selling what was forbidden of fats and consuming their prices. > **"Wine has been forbidden. May Allah curse the Jews: their fats were forbidden to them, so they sold them and consumed their prices."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عباد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو شراب کا مشکیزہ پیش کیا گیا یہ اس کی حرمت کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے جب اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ان لوگوں میں سے کسی نے عرض کی : اگر یہ لوگ اسے فروخت کر دیں اور اس کی قیمت غریب مسلمانوں کو دے دیں ( تو یہ ٹھیک رہے گا ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تو اسے مدینہ منورہ کے نشیبی علاقے میں بہا دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کو کھانا شروع کر دیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

6407

Majma al-Zawaid #6407

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ يُكَنَّى أَبَا تَمَّامٍ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ يَا أَبَا تَمَّامٍ "". فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَسْتَنْفِقُ ثَمَنَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ ثَمَنَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah reported from his father (رضي الله عنه) that a man of Thaqif called Abu Tammam gifted the Messenger of Allah ﷺ a camel-load of wine. He ﷺ told him it had been forbidden, and when he asked whether he might spend its price, he ﷺ answered with the parity of drinking and price. > **"It has been forbidden, O Abu Tammam. He who forbade its drinking forbade its price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن ربیعہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ‘ جن کی کنیت ابوتمام تھی ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو شراب کا مشکیزہ تحفے کے طور پر پیش کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوتمام ! اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی قیمت استعمال کر سکتا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک جس نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے اس نے اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6408

Majma al-Zawaid #6408

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَمْرَ، وَشَارِبِهَا، وَسَاقِيَهَا، وَعَاصَرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَايِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ cursed wine, its drinker, its pourer, its presser, the one for whom it is pressed, its carrier, the one to whom it is carried, its seller, its buyer, and the consumer of its price. > **"May Allah curse wine, its drinker, its pourer, its presser, the one for whom it is pressed, its carrier, the one to whom it is carried, its seller, its buyer, and the consumer of its price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے شراب پینے والے پر اسے پلانے والے پر اسے نچوڑنے والے پر اسے نچڑوانے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر اور جس کی طرف وہ لاد کر لے جائی جا رہی ہو اس پر اور جو اس کو فروخت کرے اور جو اسے خریدے اور جو اس کی قیمت کو کھائے ( ان سب پر لعنت کی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6409

Majma al-Zawaid #6409

وَعَنِ الْحَسَنِ «أَنَّ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ سَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ مَالًا يَتَّجِرُ فِيهِ، وَالرِّبْحُ بَيْنَهُمَا، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَاشْتَرَى بِهِ خَمْرًا، ثُمَّ قَدِمَ بِهِ الْأُبُلَّةَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عُثْمَانُ، فَلَمْ يَدَعْ مِنْهَا دِنًّا، وَلَا غَيْرَهُ إِلَّا كَسَرَهُ، وَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا، وَمُشْتَرِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَحَامِلَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ: وَمُعْتَصِرَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا. وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reported that a freedman of Uthman ibn Abi al-As (رضي الله عنه) asked for capital to trade with shared profit, received twenty thousand dirhams, bought wine with it, and brought it to al-Ubullah. Uthman (رضي الله عنه) went out to him, broke every vat and vessel, and cited the Messenger of Allah ﷺ cursing wine and its drinker, buyer, seller, presser, carrier, the one for whom it is pressed, the one to whom it is carried, and the consumer of its price. > **"The Messenger of Allah ﷺ cursed wine, its drinker, its buyer, its seller, its presser, the one for whom it is pressed, its carrier, the one to whom it is carried, and the consumer of its price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے غلام نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے کچھ مال دیں ، جس کے ذریعے وہ تجارت کرے اور منافع ان دونوں کے درمیان تقسیم ہو جائے گا تو انہوں نے اس غلام کو بیس ہزار درہم دیے اس غلام نے اس کے ذریعے شراب خرید لی پھر وہ اسے لے کر ابلہ آیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نکل کر اس کی طرف گئے ۔ انہوں نے شراب کے ہر ایک مٹکے کو توڑ دیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے شراب پر اسے پینے والے پر اسے خریدنے والے پر اسے فروخت کرنے والے پر اسے نچوڑنے والے پر اسے لاد کر لے جانے والے پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اسے نچڑوانے والے پر جس کی طرف وہ لاد کر لے جائی جا رہی ہے اس پر اور اس کی قیمت کھانے والے پر ( لعنت کی ہے ) ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز اور وہ ضعیف ہے ۔