وَعَنْ زَامِلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ إِلَى الْعِيدِ عَنْ يَمِينِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعَنْ يَسَارِهِ عُمَرُ - أَوْ قَالَ: ابْنُ عُمَرَ - فَلَمَّا فَرَغَ مَرَّ عَلَى بَابِ أَبِي كَثِيرٍ - أَوْ كَبِيرٍ - وَاللَّحَّامُونَ بِفِنَائِهَا وَالنَّاسُ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَقَالَ: "" كَيْفَ تَبِيعُونَ؟ "". قَالُوا: كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ، وَلَا تَخْلِطُوا مَيْتَةً بِمَذْبُوحَةٍ عَلَى النَّاسِ. أَيُّهَا النَّاسُ احْفَظُوا: لَا تَحْتَكِرُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تُلْقُوا السِّلَعَ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ إِنَاءَهَا وَلِتُنْكَحَ، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Zāmil ibn ʿAmr reported from his father, from his grandfather: The Prophet ﷺ went out on the day of Fiṭr to the ʿĪd, with Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه on his right and ʿUmar رضي الله عنه on his left. When he finished, he passed by the gate of Abū Kathīr where the butchers were in its courtyard, while the people were fresh from ignorance. He asked: They said, "For such-and-such." So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"How do you sell?"** > **"Sell as you wish, but do not mix carrion with slaughtered meat for the people. O people, take heed: do not hoard, do not engage in artificial bidding, do not meet goods before the market, let no city-dweller sell for a Bedouin, let no man sell over his brother's sale, let no man propose over his brother's proposal until he permits him, and let no woman ask for the divorce of another so as to overturn her vessel and be married instead, for her provision is upon Allah Almighty."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
زامل بن عمرو نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : عیدالفطر کے دن نبی اکرم ﷺ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپ کے دائیں طرف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے اور بائیں طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جب آپ فارغ ہوئے تو آپ کا گزر باب ابوکثیر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) باب ابوکبیر کے پاس سے ہوا جس کے باہر گوشت فروخت کرنے والے لوگ موجود تھے لوگ اس وقت زمانہ جاہلیت کے قریب تھے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیسے فروخت کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اتنے ‘ اتنے کے عوض میں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جیسے چاہو ویسے فروخت کرو لیکن لوگوں کے لئے ذبح شدہ جانور کے ساتھ مردار کو نہ ملا دینا اے لوگو ! حفاظت کرو تم ذخیرہ اندوزی نہ کرو تم مصنوعی بولی نہ لگاؤ تم ( منڈی سے باہر ) سامان ( کے قافلے ) سے نہ ملو ‘ شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے جب تک وہ بھائی اسے اجازت نہیں دے دیتا اور کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے حصے کے برتن کو خود حاصل کر لے اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا جائے کیونکہ اس عورت کا رزق اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے ۔