وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} [البقرة: 275] قَالَ: يُعْرَفُونَ بِذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا كَمَا يَقُومُ الْمَجْنُونُ الْمُخَنَّقُ. {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا} [البقرة: 275] وَكَذَبُوا عَلَى اللَّهِ {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى} [البقرة: 275] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَنْ عَادَ} [البقرة: 275] فَأَكَلَ الرِّبَا {فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [البقرة: 275]. وَقَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ - فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 278 - 279] إِلَى آخَرِ الْآيَةِ فَبَلَغَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ثَقِيفٍ، وَفِي بَنِي الْمُغِيرَةِ مِنْ مَخْزُومٍ؛ «كَانَتْ بَنُو الْمُغِيرَةِ يُرْبُونَ لِثَقِيفٍ فَلَمَّا أَظْهَرَ اللَّهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَكَّةَ وَضَعَ يَوْمَئِذٍ الرِّبَا كُلَّهُ. وَكَانَ أَهْلُ الطَّائِفِ قَدْ صَالَحُوا عَلَى أَنَّ لَهُمْ رِبَاهُمْ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ مِنْ رِبًا فَهُوَ مَوْضُوعٌ. وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ صَحِيفَتِهِمْ: "" أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ: أَنْ لَا يَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا يُؤَاكِّلُوهُ "". فَأَتَى بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ، وَبَنُو الْمُغِيرَةِ إِلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ - وَهُوَ عَلَى مَكَّةَ - فَقَالَ بَنُو الْمُغِيرَةِ: مَا جَعَلَنَا أَشْقَى النَّاسِ بِالرِّبَا؟ وَضَعَ عَنِ النَّاسِ غَيْرَنَا. فَقَالَ بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ: صُولِحْنَا عَلَى أَنَّ لَنَا رِبَانَا. فَكَتَبَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 279] فَعَرَفَ بَنُو عَمْرٍو أَنَّ الْإِيذَانَ لَهُمْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بِقَوْلِهِ: {إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ} [البقرة: 279] فَتَأْخُذُونَ أَكْثَرَ {وَلَا تُظْلَمُونَ} [البقرة: 279] فَتُبْخَسُونَ مِنْهُ» {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ} [البقرة: 280] أَنْ تَذَرُوهُ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ {وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ - وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} [البقرة: 280 - 281] فَذَكَرُوا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ، وَآخِرَ سُورَةِ النِّسَاءِ نَزَلَتَا آخِرَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) explained the verse, Those who eat riba do not stand except as stands one whom Satan has confounded with touch, saying they will be recognized by that on the Day of Resurrection as standing only like the insane strangled one, and explained His saying, That is because they said trade is like riba, that they lied against Allah, while Allah permitted trade and forbade riba, and whoever receives admonition from his Lord and desists, up to His saying, and whoever returns and eats riba, then those are companions of the Fire abiding therein, and explained His saying, O you who believe, fear Allah and leave what remains of riba if you are believers, but if you do not, then take notice of war from Allah and His Messenger, to the end of the verse. It reached us, and Allah knows best, that this verse was revealed concerning Banu Amr ibn Umayr ibn Awf of Thaqif and Banu al-Mughirah of Makhzum, for Banu al-Mughirah used to take riba from Thaqif, then when Allah gave His Messenger ﷺ victory over Makkah he abolished all riba that day. The people of Taif had made treaty that their riba claims remained while what was upon them of riba was abolished, and the Messenger of Allah ﷺ wrote at the end of their document that they have what Muslims have and upon them is what is upon Muslims, that they shall not eat riba nor feed it. Then Banu Amr ibn Umayr and Banu al-Mughirah came to Attab ibn Asid (رضي الله عنه), who was over Makkah. Banu al-Mughirah said: Has riba made us the most wretched of people, abolished from people other than us? Banu Amr ibn Umayr said: We were treatied that our riba remains. So Attab ibn Asid wrote concerning that to the Messenger of Allah ﷺ, and this verse was revealed.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ‘ وہ یوں کھڑے ہوں گے ‘ جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ‘ جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قیامت کے دن وہ لوگ اس صورت کے حال کے حوالے سے پہچانے جائیں گے کہ وہ صرف وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جس طرح مجنوں شخص کھڑا ہوتا ہے ، جس کی گردن مسلی گئی ہو ۔ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا : کہ بیع بھی سود کی مانند ہے ‘‘ حالانکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے ‘ اور سود کو حرام قرار دیا ہے ‘ تو جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے ‘ اور وہ باز آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے ‘‘ یعنی سود کھائے ’’ تو یہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے ‘ اسے ترک کر دو ‘ اگر تم ایمان رکھنے والے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ‘ تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ‘ کہ یہ آیت بنو عمرو بن عمیر بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جن کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا اور بنومغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، بنومغیرہ کے لوگ ثقیف قبیلے کے لوگوں کو سود دیا کرتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ عطا کر دیا ، تو اس دن نبی اکرم ﷺ نے ہر قسم کے سود کو کالعدم قرار دے دیا ‘ طائف کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر صلح کی کہ اُن کے سود انہیں ملیں گے اور جس سود کی ادائیگی ان کی ذمہ ہے ‘ وہ کالعدم قرار پائے گا نبی اکرم ملا ہم نے ان کے صحیفے کے آخر میں یہ بات لکھوادی کہ انہیں ہر وہ حق حاصل ہوگا جو مسلمانوں کو ملتا ہے اور ان پر ہر وہ چیز لاگو ہو گی جو مسلمانوں پر لاگو ہوتی ہے ‘ یہ کہ وہ لوگ سود نہیں کھائیں گے اور اسے نہیں کھلائیں گے بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو مکہ کے گورنر تھے ‘ بنو مغیرہ نے کہا : سود کے حوالے سے ہم سب سے زیادہ بد نصیب لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ہمارے علاوہ دوسروں کا سود معاف کر دیا ہے ، بنو عمرو بن عمیر نے کہا : ہمارے ساتھ تو اس بات پر مصالحت ہوئی تھی کہ ہمیں ہمارا سود ملے گا ‘ حضرت عتاب بن اسید ﷺ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ‘ تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ “۔ تو بنوعمرو کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس طرح تو وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے مترادف ہو جائیں گے ‘ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اگر تم توبہ کر لیتے ہو ‘ تو تمہیں تمہارے اصل مال تمہیں مل جائیں گے اور تم ظلم نہ کرو ‘‘۔ یعنی تم زیادہ وصولی نہ کرو ’’ اور تم پر ظلم نہ کیا جائے ‘‘ کہ تمہیں اصل رقم بھی نہ ملے ۔ ’’ اور اگر وہ شخص تنگدست ہو ‘‘ اور اگر تم اسے چھوڑ دیتے ہو ‘ تو یہ تمہارے لئے یہ زیادہ بہتر ہو گا ‘ اگر تم علم رکھتے ہو ۔ ’’ تو پھر مہلت دی جائے گی ‘ سہولت میسر ہونے تک کی ‘ اور اگر تم صدقہ کر دو ‘ تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ‘ اور تم اس دن سے ڈرو کہ جس دن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا اور پھر ہر شخص کو اس کا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا ‘‘۔ لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی اور سورۂ نساء کے ساتھ یہ آخری آیت ‘ یہ دونوں قرآن میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔