Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 10

Book of Sales and Transactions

Hadith 6570–6609

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6570

Majma al-Zawaid #6570

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُرَخِّصُ فِي الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَالدِّينَارِ بِالدِّينَارَيْنِ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَقِيَ عُمَرَ، وَعَلِيًّا، وَأَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِكَ فَلَمَّا رَجَعَ رَأَيْتُهُ يَطُوفُ بِالصَّيَارِفَةِ، وَيَقُولُ: وَيَلْكُمُ يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَشْتَرُوا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ، وَلَا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn Iyas reports that 'Abdullah — Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him — once permitted one dirham for two and one dinar for two. After journeying to Madinah and meeting 'Umar, 'Ali and the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, may Allah be pleased with them, who forbade him, he returned circling the money-changers warning the people neither to consume riba nor to buy one dirham for two or one dinar for two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن ایاس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ دو درہموں کے عوض میں ایک درہم اور دو دینار کے عوض میں ایک دینار کا لین دین کرنے کی رخصت دیا کرتے تھے ‘ پھر وہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ‘ وہاں ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم ﷺ کے دیگر اصحاب سے ہوئی ان حضرات نے ایسا کرنے سے منع کیا ‘ جب وہ واپس آئے ‘ تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ بیع صرف کرنے والوں کا چکر لگا رہے تھے ‘ اور یہ فرما رہے تھے : تمہارا ستیاناس ہو ! اے لوگوں کے گروہ ! تم سود نہ کھاؤ اور دو درہموں کے عوض میں ایک درہم ‘ یا دو دینار کے عوض میں ایک دینار نہ خریدو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6571

Majma al-Zawaid #6571

عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ [عَنْ عَمِّهِ] قَالَ: «كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ كُلَّ رِبًا مَوْضُوعٌ، إِنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَأَبُو حُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurrah al-Raqashi reports from his uncle, who held the halter of the Prophet's ﷺ she-camel on the middle day of Tashriq in the Farewell Hajj. Among his words ﷺ that day was the abolition of all riba, beginning with the riba of al-'Abbas ibn 'Abd al-Muttalib, may Allah be pleased with him, with capitals retained and neither wronging nor wronged. > **"O people, all riba is abolished. The first riba abolished is the riba of al-'Abbas ibn 'Abd al-Muttalib. You shall have your capitals; you shall neither wrong nor be wronged."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحرہ رقاشی ‘ اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے درمیانی دن میں ‘ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ‘ آپ نے جو بات ارشاد فرمائی ‘ اس میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے ‘ اور وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا وصول کیا جانے والا سود ہے ‘ ( سودی معاملات میں ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے ‘ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ابوحرہ نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے ۔

6572

Majma al-Zawaid #6572

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا، وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ: وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا، وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ». 'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said riba has seventy doors, and shirk is the like thereof in manifold grades. > **"Riba has seventy doors, and shirk is the like thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ سود کے ستر دروازے ہیں اور شرک بھی اس کی مانند ہے ( یعنی اُس کے بھی ستر دروازے ہیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے کہ ’’ شرک بھی اس کی مانند ہے ‘‘۔

6573

Majma al-Zawaid #6573

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ - وَهُوَ يَعْلَمُ - أَشَدُّ مِنْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Hanzalah, washed by the angels, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said a single dirham of riba eaten knowingly is more severe than thirty-six acts of adultery. > **"A dirham of riba which a man eats knowingly is worse than thirty-six adulteries."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ‘ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سود کا ایک درہم ‘ جسے کوئی شخص جانتے بوجھتے ہوئے کھا لیتا ہے ‘ وہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ( بڑا گناہ ) ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6574

Majma al-Zawaid #6574

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الدِّرْهَمُ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنَ الرِّبَا أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً يَزْنِيهَا فِي الْإِسْلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ سَلَامٍ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Salam, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said a dirham a man acquires through riba is greater before Allah than thirty-three adulteries committed in Islam. > **"A dirham a man acquires from riba is greater before Allah than thirty-three adulteries he commits in Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ ایک درہم ‘ جسے آدمی سود کے حوالے سے حاصل کرتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تینتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ بڑا ( گناہ ) ہے ‘ جو زنا اُس نے زمانہ اسلام میں کیے ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عطاء خراسانی نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

6575

Majma al-Zawaid #6575

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ بَابًا أَدْنَاهَا مِثْلُ إِتْيَانِ الرَّجُلِ أُمَّهُ. وَإِنَّ أَرْبَى الرِّبَا اسْتِطَالَةُ الرَّجُلِ فِي عِرْضِ أَخِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ؛ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara' ibn 'Azib, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said riba has seventy-two doors, the least like a man approaching his own mother, and the greatest riba is a man's prolonged assault upon his brother's honour. > **"Riba has seventy-two doors, the least of them like a man approaching his mother. The greatest riba is a man's aggression against his brother's honour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سود کے بہتر دروازے ہیں ، جن میں سے سب سے کم تر یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ صحبت کر لے ‘ اور سب سے بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت پر حملہ آور ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ‘ جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6576

Majma al-Zawaid #6576

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ، وَذِمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَمَنْ أَكَلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا فَهُوَ مِثْلُ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned that aiding an oppressor with falsehood to defeat truth severs one from Allah's and His Messenger's protection, that eating a dirham of riba equals thirty-three adulteries, and that flesh nourished on the unlawful is most deserving of the Fire. > **"Whoever aids an oppressor with falsehood to refute truth with it is free of Allah's protection and His Messenger's protection. Whoever eats a dirham of riba is like thirty-three adulteries, and whatever flesh grows of the unlawful, the Fire is most worthy of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص کسی ظالم کی ‘ باطل چیز کے حوالے سے مدد کرتا ہے ‘ تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ‘ تو ایسا شخص اللہ کے ذمہ اور اللہ کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے ‘ اور جو شخص سود کا ایک درہم کھاتا ہے ‘ تو یہ تینتیس مرتبہ زنا کرنے کی مانند ہے ‘ اور جس شخص کے گوشت کی نشوونما حرام پر ہوئی ہو ‘ تو آگ اُس کی زیادہ حق دار ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن رحمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6577

Majma al-Zawaid #6577

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - قَالَ عَفَّانُ: فَوْقِيَ - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ، وَبُرُوقٍ، وَصَوَاعِقَ "". قَالَ: "" فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that on the night he ﷺ was taken aloft, when they reached the seventh heaven amid thunder, lightning and thunderbolts, he passed people whose bellies were like houses containing snakes visible from outside. Jibril, peace be upon him, identified them as the eaters of riba. > **"I came upon people whose bellies were like houses, with snakes inside them visible from outside their bellies. I said: O Jibril, who are these? He said: These are the eaters of riba."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ‘ میں نے دیکھا کہ جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے ‘ تو میں نے اوپر دیکھا ( یہاں ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے اپنے اوپر دیکھا ) تو وہاں کڑک تھی ، بجلی تھی ، چمکتی ہوئی بجلیاں تھیں ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ‘ جن میں سانپ موجود تھے ‘ باہر سے اُن کے پیٹ دکھائی دے رہے تھے میں نے دریافت کیا : جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام احمد نے عجائب مخلوقات کے بارے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔

6578

Majma al-Zawaid #6578

وَعَنْ كَعْبٍ - يَعْنِي الْأَحْبَارَ - قَالَ: لَأَنْ أَزْنِيَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَكْلِ دِرْهَمٍ رِبًا يَعْلَمُ اللَّهُ أَنِّي أَكَلْتُهُ حِينَ أَكَلْتُهُ رِبًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، وَذَكَرَ الْحُسَيْنِيُّ أَنَّ حَنْظَلَةَ هَذَا غَسِيلُ الْمَلَائِكَةِ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ، فَقَدْ قُتِلَ بِأُحُدٍ، فَكَيْفَ يَرْوِي عَنْ كَعْبٍ؟ وَإِنْ كَانَ غَيْرُهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ، وَسَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ عَبْدُ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَى حَنْظَلَةَ.

EnglishUnverified translation

Ka'b al-Ahbar declares that committing adultery thirty-three times is dearer to him — i.e. lighter in his sight — than eating a single dirham of riba while Allah knows he ate it as riba, magnifying the enormity of conscious usury.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کعب احبار بیان کرتے ہیں : میں تینتیس مرتبہ زنا کر لوں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ایک درہم سود کا کھا لوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہو کہ جب میں نے اسے کھایا ہے ‘ تو اسے سود کے طور پر کھایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے حنظلہ بن راہب کے حوالے سے کعب احبار سے نقل کی ہے حسینی نے یہ بات ذکر کی ہے : حنظلہ نامی یہ صاحب وہی ہیں ، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ‘ اگر ایسا ہی ہو وہ تو غزوہ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ‘ تو وہ کعب احبار سے کیسے روایت حاصل کر سکتے ہیں ؟ اور اگر یہ ان کے علاوہ کوئی اور ہیں ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ ان کے صاحبزادے عبداللہ بن حنظلہ ہیں ، اور اصل میں عبداللہ کا نام ساقط ہو گیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ‘ اس روایت کے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ تک تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6579

Majma al-Zawaid #6579

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «آكِلُ الرِّبَا، وَمُؤَكِّلُهُ، وَكَاتِبُهُ، وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ - مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرُهُ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, declares that the eater of riba, its giver, its scribe and its two witnesses when they know of it, the tattooing woman and the woman tattooed for beautification, the withholder of sadaqah, and the apostate who returns to Bedouin life after Hijrah are all cursed upon the tongue of Muhammad ﷺ. > **"The eater of riba, its giver, its scribe and its two witnesses when they know of it are cursed upon the tongue of Muhammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سود کھانے والا ‘ اسے کھلانے والا ‘ اس کو لکھنے والا اس کے دونوں گواہ ‘ جب وہ لوگ اس کے بارے میں جانتے ہوں ‘ اور حسن کی خاطر جسم گودنے والی عورت اور گدوانے والی عورت ‘ اور صدقہ نہ دینے والا شخص ‘ اور ہجرت کے بعد مرتد ہو کر دیہاتی زندگی اختیار کرنے والا فرد ( ان سب پر ) حضرت محمد ﷺ کی زبانی لعنت کی گئی ہے یا یہ حضرت محمد ﷺ کی زبانی ملعون قرار پائے ہیں ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6580

Majma al-Zawaid #6580

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn al-'As, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say no people among whom riba becomes manifest escape seizure by drought and years of famine, and no people among whom bribes spread escape seizure by terror. > **"There are no people among whom riba appears except they are seized by famine, and no people among whom bribes appear except they are seized by terror."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ جب بھی کسی قوم میں سود پھیل جاتا ہے ‘ تو انہیں قحط سالی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور جب بھی کسی قوم کے درمیان رشوت پھیل جاتی ہے ‘ تو رعب کے ذریعے ان لوگوں کی گرفت ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

6581

Majma al-Zawaid #6581

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ حَدِيثًا، وَقَالَ فِيهِ: "" «مَا ظَهَرَ فِي قَوْمٍ الزِّنَا، وَالرِّبَا إِلَّا أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that whenever adultery and riba become manifest among a people, they render Allah's punishment lawful upon themselves. > **"Whenever zina and riba appear among a people, they make Allah's punishment lawful upon themselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کرتے ہیں جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جس بھی قوم کے درمیان زنا اور سود ظاہر ہوتے ہیں وہ لوگ اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے عقاب کو حلال کر لیتے ہیں “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

6582

Majma al-Zawaid #6582

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ يَظْهَرُ الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ يَظْهَرُ الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْرُ». Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ foretold that before the Hour, riba, adultery and wine will become openly manifest. > **"Before the Hour, riba, zina and wine will appear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت سے پہلے زنا ‘ سود اور شراب ظاہر ہو جائیں گے ( یعنی پھیل جائیں گے ) ‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6583

Majma al-Zawaid #6583

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا ظَهَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِي قَرْيَةٍ، فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» "". قُلْتُ: هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَرْجَمَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَلَعَلَّهُ سَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ said when adultery and riba appear in a township, its people render the Book of Allah — His decreed punishment — lawful upon themselves. > **"When zina and riba appear in a village, they make the decree of Allah Almighty lawful upon themselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کسی بستی میں زنا اور سود ظاہر ہو جائیں ( یعنی پھیل جائیں ) تو وہ لوگ اپنے لئے اللہ کی تحریر ( یعنی عذاب ) کو حلال کر دیتے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اصل میں اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے حالات میں منقول ہے ‘ شاید اصل میں ( حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ) کا نام ساقط ہو گیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن مرزوق ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6584

Majma al-Zawaid #6584

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ يُهْلَكْ أَهْلُ بَلْدَةٍ قَطُّ حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ الرِّبَا، وَالزِّنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدُ الْكُوفِيُّ الْأَحْوَلُ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ يُهْلَكْ أَهْلُ بَلْدَةٍ قَطُّ حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ الرِّبَا، وَالزِّنَا. 'Abdullah ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, declares that the people of no town were ever destroyed until riba and adultery became manifest among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کسی بھی بستی کے رہنے والے اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوتے جب تک ان کے درمیان سود اور زنا نہیں پھیل جاتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن احمد کوفی احول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6585

Majma al-Zawaid #6585

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤَكِّلَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning riba. > **"The Prophet ﷺ cursed the eater of riba and its feeder."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6586

Majma al-Zawaid #6586

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤَكِّلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَهُ، وَهُمْ يَعْلَمُونَ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَهُمْ يَعْلَمُونَ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning those who knowingly participate in riba. > **"The Prophet ﷺ cursed the eater of riba and its feeder, its scribe and its witness, while they know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سود کھانے والے اسے کھلانے والے اسے تحریر کرنے والے اور اس کے گواہ پر لعنت کی ہے ‘ جبکہ وہ علم رکھتے ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ وہ علم رکھتے ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے اور وہ متروک ہے ۔

6587

Majma al-Zawaid #6587

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْوَزَّانِ قَالَ: «رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى فِي السُّوقِ فِي الصَّيَارِفَةِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الصَّيَارِفَةِ، أَبْشِرُوا. قَالُوا: بَشَّرَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ بِمَا تُبَشِّرُنَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ. قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَبْشِرُوا بِالنَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَالْقَاسِمُ قَالَ الذَّهَبِيُّ: أَظُنُّ تَفَرَّدَ عَنْهُ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ. قُلْتُ: وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim ibn Abd al-Wahid al-Wazzan said: I saw Abdullah ibn Abi Awfa (رضي الله عنه) in the market among the money-changers. He said: O company of money-changers, receive glad tidings. They said: May Allah gladden you with Paradise, O Abu Muhammad, with what do you gladden us? He informed them of the statement of the Messenger of Allah ﷺ. > **"Receive glad tidings of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن عبدالواحد وزان بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفی کو بازار میں سونے چاندی کا لین دین کرنے والوں کے درمیان دیکھا ‘ وہ فرما رہے تھے : اے سونا چاندی کا لین دین کرنے والے لوگو ! تم یہ اطلاع حاصل کرو ان لوگوں نے کہا : اے ابومحمد ! اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی خوشخبری سنائے اس چیز کی وجہ سے ‘ جس کی آپ ہمیں اطلاع دینے لگے ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ ( یعنی جو سود کا کام کرتے ہیں ) جہنم کی اطلاع حاصل کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور قاسم نامی راوی کے بارے میں امام ذہبی نے یہ فرمایا ہے میرا یہ خیال ہے کہ فضل بن حسین جحدری اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔

6588

Majma al-Zawaid #6588

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِيَّاكَ وَالذُّنُوبَ الَّتِي لَا تُغْفَرُ: الْغُلُولُ؛ فَمَنْ غَلَّ شَيْئًا أَتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَكْلُ الرِّبَا؛ فَمَنْ أَكَلَ الرِّبَا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَجْنُونًا يَتَخَبَّطُ "". ثُمَّ قَرَأَ: "" {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} [البقرة: 275]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, warning against sins that are not forgiven, explaining the state of the traitor and the eater of riba on the Day of Resurrection, then reciting the verse of Surah al-Baqarah. > **"Beware of the sins that are not forgiven: misappropriation of booty, for whoever misappropriates anything will come with it on the Day of Resurrection; and eating riba, for whoever eats riba will come on the Day of Resurrection insane, staggering. Then he recited: Those who eat riba do not stand except as stands one whom Satan has confounded with touch."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ایسے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو ! جن کی مغفرت نہیں ہوتی ہے ‘ مال غنیمت میں خیانت کرنا ‘ جو شخص کسی چیز میں خیانت کرے گا ‘ وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر آئے گا اور سود کھانا ‘ جو شخص سود کھائے گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ مجنون ہو گا ‘ اور مخبوط الحواس ہو گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ‘ وہ یوں کھڑے ہوں گے ‘ جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ‘ جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالاول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6589

Majma al-Zawaid #6589

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} [البقرة: 275] قَالَ: يُعْرَفُونَ بِذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا كَمَا يَقُومُ الْمَجْنُونُ الْمُخَنَّقُ. {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا} [البقرة: 275] وَكَذَبُوا عَلَى اللَّهِ {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى} [البقرة: 275] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَنْ عَادَ} [البقرة: 275] فَأَكَلَ الرِّبَا {فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ} [البقرة: 275]. وَقَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ - فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 278 - 279] إِلَى آخَرِ الْآيَةِ فَبَلَغَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ثَقِيفٍ، وَفِي بَنِي الْمُغِيرَةِ مِنْ مَخْزُومٍ؛ «كَانَتْ بَنُو الْمُغِيرَةِ يُرْبُونَ لِثَقِيفٍ فَلَمَّا أَظْهَرَ اللَّهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَكَّةَ وَضَعَ يَوْمَئِذٍ الرِّبَا كُلَّهُ. وَكَانَ أَهْلُ الطَّائِفِ قَدْ صَالَحُوا عَلَى أَنَّ لَهُمْ رِبَاهُمْ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ مِنْ رِبًا فَهُوَ مَوْضُوعٌ. وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ صَحِيفَتِهِمْ: "" أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ: أَنْ لَا يَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا يُؤَاكِّلُوهُ "". فَأَتَى بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ، وَبَنُو الْمُغِيرَةِ إِلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ - وَهُوَ عَلَى مَكَّةَ - فَقَالَ بَنُو الْمُغِيرَةِ: مَا جَعَلَنَا أَشْقَى النَّاسِ بِالرِّبَا؟ وَضَعَ عَنِ النَّاسِ غَيْرَنَا. فَقَالَ بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ: صُولِحْنَا عَلَى أَنَّ لَنَا رِبَانَا. فَكَتَبَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 279] فَعَرَفَ بَنُو عَمْرٍو أَنَّ الْإِيذَانَ لَهُمْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بِقَوْلِهِ: {إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ} [البقرة: 279] فَتَأْخُذُونَ أَكْثَرَ {وَلَا تُظْلَمُونَ} [البقرة: 279] فَتُبْخَسُونَ مِنْهُ» {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ} [البقرة: 280] أَنْ تَذَرُوهُ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ {وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ - وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} [البقرة: 280 - 281] فَذَكَرُوا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ، وَآخِرَ سُورَةِ النِّسَاءِ نَزَلَتَا آخِرَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (رضي الله عنهما) explained the verse, Those who eat riba do not stand except as stands one whom Satan has confounded with touch, saying they will be recognized by that on the Day of Resurrection as standing only like the insane strangled one, and explained His saying, That is because they said trade is like riba, that they lied against Allah, while Allah permitted trade and forbade riba, and whoever receives admonition from his Lord and desists, up to His saying, and whoever returns and eats riba, then those are companions of the Fire abiding therein, and explained His saying, O you who believe, fear Allah and leave what remains of riba if you are believers, but if you do not, then take notice of war from Allah and His Messenger, to the end of the verse. It reached us, and Allah knows best, that this verse was revealed concerning Banu Amr ibn Umayr ibn Awf of Thaqif and Banu al-Mughirah of Makhzum, for Banu al-Mughirah used to take riba from Thaqif, then when Allah gave His Messenger ﷺ victory over Makkah he abolished all riba that day. The people of Taif had made treaty that their riba claims remained while what was upon them of riba was abolished, and the Messenger of Allah ﷺ wrote at the end of their document that they have what Muslims have and upon them is what is upon Muslims, that they shall not eat riba nor feed it. Then Banu Amr ibn Umayr and Banu al-Mughirah came to Attab ibn Asid (رضي الله عنه), who was over Makkah. Banu al-Mughirah said: Has riba made us the most wretched of people, abolished from people other than us? Banu Amr ibn Umayr said: We were treatied that our riba remains. So Attab ibn Asid wrote concerning that to the Messenger of Allah ﷺ, and this verse was revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ‘ وہ یوں کھڑے ہوں گے ‘ جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ‘ جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قیامت کے دن وہ لوگ اس صورت کے حال کے حوالے سے پہچانے جائیں گے کہ وہ صرف وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جس طرح مجنوں شخص کھڑا ہوتا ہے ، جس کی گردن مسلی گئی ہو ۔ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا : کہ بیع بھی سود کی مانند ہے ‘‘ حالانکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے ‘ اور سود کو حرام قرار دیا ہے ‘ تو جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے ‘ اور وہ باز آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے ‘‘ یعنی سود کھائے ’’ تو یہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے ‘ اسے ترک کر دو ‘ اگر تم ایمان رکھنے والے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ‘ تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ‘ کہ یہ آیت بنو عمرو بن عمیر بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جن کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا اور بنومغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، بنومغیرہ کے لوگ ثقیف قبیلے کے لوگوں کو سود دیا کرتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ عطا کر دیا ، تو اس دن نبی اکرم ﷺ نے ہر قسم کے سود کو کالعدم قرار دے دیا ‘ طائف کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر صلح کی کہ اُن کے سود انہیں ملیں گے اور جس سود کی ادائیگی ان کی ذمہ ہے ‘ وہ کالعدم قرار پائے گا نبی اکرم ملا ہم نے ان کے صحیفے کے آخر میں یہ بات لکھوادی کہ انہیں ہر وہ حق حاصل ہوگا جو مسلمانوں کو ملتا ہے اور ان پر ہر وہ چیز لاگو ہو گی جو مسلمانوں پر لاگو ہوتی ہے ‘ یہ کہ وہ لوگ سود نہیں کھائیں گے اور اسے نہیں کھلائیں گے بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو مکہ کے گورنر تھے ‘ بنو مغیرہ نے کہا : سود کے حوالے سے ہم سب سے زیادہ بد نصیب لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ہمارے علاوہ دوسروں کا سود معاف کر دیا ہے ، بنو عمرو بن عمیر نے کہا : ہمارے ساتھ تو اس بات پر مصالحت ہوئی تھی کہ ہمیں ہمارا سود ملے گا ‘ حضرت عتاب بن اسید ﷺ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ‘ تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ “۔ تو بنوعمرو کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس طرح تو وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے مترادف ہو جائیں گے ‘ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اگر تم توبہ کر لیتے ہو ‘ تو تمہیں تمہارے اصل مال تمہیں مل جائیں گے اور تم ظلم نہ کرو ‘‘۔ یعنی تم زیادہ وصولی نہ کرو ’’ اور تم پر ظلم نہ کیا جائے ‘‘ کہ تمہیں اصل رقم بھی نہ ملے ۔ ’’ اور اگر وہ شخص تنگدست ہو ‘‘ اور اگر تم اسے چھوڑ دیتے ہو ‘ تو یہ تمہارے لئے یہ زیادہ بہتر ہو گا ‘ اگر تم علم رکھتے ہو ۔ ’’ تو پھر مہلت دی جائے گی ‘ سہولت میسر ہونے تک کی ‘ اور اگر تم صدقہ کر دو ‘ تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ‘ اور تم اس دن سے ڈرو کہ جس دن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا اور پھر ہر شخص کو اس کا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا ‘‘۔ لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی اور سورۂ نساء کے ساتھ یہ آخری آیت ‘ یہ دونوں قرآن میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6590

Majma al-Zawaid #6590

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ السَّيْفَ الْمُحَلَّى، وَنَشْتَرِيهِ بِالْوَرِقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab (رحمه الله) said: We used to sell the ornamented sword and buy silver in exchange for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم زیور لگی ہوئی تلوار کو فروخت کر دیتے تھے اور اس کے عوض میں چاندی خرید لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6591

Majma al-Zawaid #6591

عَنْ بِنْتٍ لِعُتْبَةَ بْنِ عُلَيْلَةَ، وَامْرَأَةٍ مِنْ آلِ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَتَا أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَغْدُو عَلَيْهِمْ فَدَّانٌ إِلَّا ذَلُّوا» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي ذَمِّ الزَّرْعِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهَاتَانِ الْمَرْأَتَانِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The daughter of Utbah ibn Ulaylah and a woman of the family of Abu Umamah reported that they both heard Abu Umamah (رضي الله عنه) say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, concerning the household upon whom agricultural implements come in the morning. > **"There is no household upon whom a faddan comes in the morning except they are humiliated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتبہ بن علیلہ کی صاحبزادی اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی آل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون یہ دونوں بیان کرتی ہیں کہ ان دونوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس بھی گھرانے والوں کے پاس صبح کے وقت فدان ( یعنی ’’ اہل ‘‘ یا دوسرے آلات زراعت ) آتا ہے ‘ تو وہ لوگ ذلت کا شکار ہو جاتے ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں بھی ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو زراعت کی مذمت کے بارے میں ہے ‘ اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور میں ان دونوں خواتین سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6592

Majma al-Zawaid #6592

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَرْضٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِيهَا زَرْعٌ فَقَالَ: "" يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَا تَأْكُلِ الرِّبَا، وَلَا تُطْعِمْهُ، وَلَا تَزْرَعْ إِلَّا فِي أَرْضٍ تَرِثُهَا، أَوْ تُوَرِّثُهَا، أَوْ تَمْنَحُهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ passed by land of Abd al-Rahman ibn Awf (رضي الله عنه) in which there was cultivation, and addressed him as Abu Abd al-Rahman. > **"O Abu Abd al-Rahman, do not eat riba nor feed it, and do not cultivate except in land you inherit, or bequeath, or grant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زمین کے پاس سے ہوا ‘ جس میں کھیت موجود تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اے ابوعبدالرحمن ! تم سود نہ کھانا اور اسے نہ کھلانا اور تم صرف اس زمین میں صرف کھیتی باڑی کرنا جس کے تم وارث بنے ہو ‘ یا جسے تم نے وراثت میں منتقل کرنا ہو ‘ یا جسے تم نے عطیہ کے طور پر دیا ہو ( یا جو تمہیں عطیہ کے طور پر دی گئی ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

6593

Majma al-Zawaid #6593

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ؛ وَلَكِنْ لِيَقُلْ: حَرَثْتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning speech in cultivation. > **"None of you should say: I sowed; but let him say: I ploughed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے : کہ میں نے زراعت کی ‘ بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے کھیتی باڑی کی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابومسلم جرمی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6594

Majma al-Zawaid #6594

عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَفَاءَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ. فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ؛ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي. فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that Allah granted Khaybar as fay to His Messenger ﷺ, so the Messenger of Allah ﷺ left its people there and placed it between him and them. He sent Abdullah ibn Rawahah (رضي الله عنه), who assessed its produce upon them, then addressed the Jews concerning his hatred of them for killing prophets of Allah and lying against Allah Almighty, that his hatred would not carry him to wrong them, that he had assessed twenty thousand wasqs of dates, giving them choice to take or leave. > **"O company of Jews, you are the most hateful of people to me; you killed the prophets of Allah and lied against Allah Almighty, yet my hatred of you does not carry me to wrong you. I have assessed twenty thousand wasqs of dates; if you wish, it is yours, and if you refuse, it is mine. They said: By this the heavens and the earth stand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خیبر مال فئے کے طور پر دیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو وہاں رہنے دیا ‘ آپ نے وہاں کی زمین ( کی پیداوار ) کو ان لوگوں کے اور اپنے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے پیدوار کا اندازہ لگایا ، پھر یہ ارشاد فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! تم میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ‘ تم نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو قتل کیا ، تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ‘ لیکن تمہارے ساتھ میرا بغض مجھے اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کروں ، میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ کھجور کے بیس ہزار وسق ہوں گے ‘ اگر تم چاہو ‘ تو اس حساب سے تم لے لو اور اگر تم نہیں مانتے ، تو پھر میں لے لیتا ہوں ‘ انہوں نے کہا : اسی ( حق اور انصاف ) کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6595

Majma al-Zawaid #6595

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا، أَوْ يَرُدُّوا، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْعُمَرِيُّ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ sent Ibn Rawahah (رضي الله عنه) to Khaybar to assess upon them, then gave them choice to take or return, whereupon they affirmed justice. > **"Ibn Rawahah assessed upon them, then gave them choice to take or return, and they said: By this the heavens and the earth stand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا ‘ انہوں نے ان لوگوں کے لئے پیدوار کا اندازہ لگایا اور پھر انہیں یہ اختیار دیا کہ وہ اس حساب کے مطابق یا وصولی کر لیں ، یا ادائیگی کر دیں ‘ تو ان لوگوں نے کہا : اسی ( انصاف کی ) وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6596

Majma al-Zawaid #6596

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَعَدَ الْيَهُودَ: "" أَنْ يُعْطِيَهُمْ نِصْفَ الثَّمَرَ عَلَى أَنْ يُعَمِّرُوهَا، ثُمَّ أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ "". فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُهَا، ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَتْرُكُوهَا. وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضٍ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ غَلَاءَ خَرْصِهِ فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هُوَ مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ، وَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ، وَالْأَرْضُ. ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ: "" لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ "". فَلَمَّا نَمَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَلَّكَكُمْ هَذِهِ الْأَمْوَالَ، وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ، فَقَدْ أَذِنَ اللَّهُ فِي إِجْلَائِكُمْ. فَأَجْلَى عُمَرُ كُلَّ يَهُودِيٍّ، وَنَصْرَانِيٍّ عَنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Khaybar he promised the Jews to give them half the fruits on condition they cultivate it, saying he would leave them as long as Allah left them. The Messenger of Allah ﷺ used to send Abdullah ibn Rawahah (رضي الله عنه) to assess it, then give them choice to take or leave. The Jews came to the Messenger of Allah ﷺ complaining of the severity of his assessment, so he called Abdullah ibn Rawahah and mentioned what they said. Abdullah said: This is what I have, O Messenger of Allah; if they wish they take it, and if they wish they leave it and we take it. So the Jews were satisfied and said: By this the heavens and the earth stand. Then the Messenger of Allah ﷺ said in the illness in which he died, and Umar (رضي الله عنه) later conveyed his treaty condition and expelled every Jew and Christian from the land of Hijaz, then divided it among the people of Madinah. > **"I will leave you as long as Allah leaves you. Two religions shall not coexist in the Arabian Peninsula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ کے رسول نے خیبر کو فتح کر لیا تو آپ نے یہودوں کے ساتھ یہ طے کیا کہ یہودی نصف پھل مسلمانوں کو ادا کریں گے ‘ اور زمین کی دیکھ بھال ( یعنی کام کاج ) وہ کریں گے اور یہ کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا ‘ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں رہنے دے گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ انہوں نے وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگایا اور پھر ان لوگوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اس کے مطابق یا تو حاصل کر لیں ‘ یا اتنا حصہ ترک کر دیں ‘ یہودی ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے آپ کے سامنے یہ شکایت کی کہ انہوں نے زیادہ اندازہ لگایا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی جو ان لوگوں نے کہا تھا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ چیز میرے پاس ہے ‘ یا رسول اللہ ! اگر یہ چاہیں تو یہ اس کے مطابق وصول کر لیں اور اگر چاہیں تو اسے چھوڑ دیں ‘ اس کو ہم لے لیتے ہیں تو یہودی راضی ہو گئے ‘ انہوں نے کہا : اسی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران ‘ جس میں آپ ﷺ کا وصال ہوا ‘ یہ ارشاد فرمایا : ’’ جزیرہ نما عرب میں دو دین اکٹھے نہیں رہیں گے ‘‘۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اللہ کے رسول نے تمہیں ان زمینوں پر اس وقت تک رہنے دیا تھا اور تمہارے لئے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ تمہیں اس وقت تک رہنے دیں گے ‘ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں رہنے دے گا ‘ تو اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں جلاوطن کرنے کی اجازت دے دی ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر یہودی اور ہر عیسائی کو حجاز کی سرزمین سے جلاوطن کر دیا ‘ اور پھر وہاں کی سرزمین اہل مدینہ کے درمیان تقسیم کر دی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے اور وہ صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6597

Majma al-Zawaid #6597

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى خَيْبَرَ عَلَى الشَّطْرِ أَوْ عَلَى الثُّلُثِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْخَزْرَجُ بْنُ الْخَطَّابِ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ granted Khaybar for a share of its produce. > **"The Messenger of Allah ﷺ granted Khaybar upon half or upon a third."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نصف ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک چوتھائی پیدوار کے عوض میں خیبر ( یہودیوں کو ) دیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خزرج بن خطاب ہے ‘ جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6598

Majma al-Zawaid #6598

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ فَلَا أَرَبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ. فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ. فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهَا، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا وَتَعْمَلُونَ بِهِ الْيَوْمَ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ. وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا مُرْسَلًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Urwah (رحمه الله) reported that when the Messenger of Allah ﷺ opened Khaybar he sent Abdullah ibn Rawahah (رضي الله عنه) to apportion with the Jews. When he came to them they began offering him food as gifts, so he disliked taking anything from them and said the Messenger of Allah ﷺ had sent him as a just arbiter between him and them and he had no need of their gifts. He assessed the palms, and when he established the assessment Abdullah gave them choice: if they wished he would guarantee their share while they cultivated, and if they wished they would guarantee the Muslim share while they cultivated. So they chose to guarantee and cultivate, and said: O Ibn Rawahah, this which you present to us and act upon today, by it the heavens and the earth stand, for they stand only by truth. Khaybar belonged to those who witnessed Hudaybiyah, none else shared with them, none of them stayed behind, none other witnessed it, and the Messenger of Allah ﷺ did not permit anyone who stayed behind from his expedition to Hudaybiyah to witness Khaybar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے خیبر فتح کیا ‘ تو آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ تاکہ وہ یہودیوں کے ساتھ حصے طے کر لیں ، جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کو ناپسندیدہ قرار دیا اور یہ فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے اپنے اور تمہارے درمیان عدل کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ‘ تو تمہارے ہدیہ میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں ہے ‘ پھر انہوں نے ان کی کھجوروں کا اندازہ لگایا جب ان کا اندازہ مکمل ہو گیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہیں تمہارا حصہ ادا کر دیتا ہوں ‘ تم اس پر قائم رہو ‘ اگر تم چاہو ‘ تو تم ہمیں ہمارا حصہ ادا کر دو اور تم اس پر قائم رہو ‘ تو انہوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ حصہ ادا کر دیں گے اور اس پر قائم رہیں گے ‘ ان لوگوں نے کہا : اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ نے ہمیں پیشکش کی ہے اور جس کے مطابق آپ عمل کر رہے ہیں ‘ اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ‘ یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) خیبر کے حصے ہر اس شخص کو ملے تھے ‘ جو حدیبیہ میں شریک ہوا تھا ‘ اس میں کوئی ایسا شخص شریک نہیں ہوا تھا ‘ جو حدیبیہ میں شریک نہ ہوا ہو ‘ اور اُن لوگوں کے علاوہ کوئی اور اس میں شریک نہیں ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے خیبر میں موجودگی کے زمانے میں کسی بھی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پیچھے رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6599

Majma al-Zawaid #6599

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ: «وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، وَيُكَلِّمُونَهُ، وَجَعَلُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَتَخَفَّفْ عَنَّا، وَتَجَاوَزْ، قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، وَلَا أَرَبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ أَنَا لَا آكُلُهُ. فَخَرَصَ النَّخْلَ فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ. فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ قَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab (رحمه الله) reported concerning the conquest of Khaybar that the Messenger of Allah ﷺ sent Abdullah ibn Rawahah (رضي الله عنه) to apportion its fruits with the Jews. When he came to them they began offering him food, speaking to him, and assigning for him jewelry from their women's jewelry, saying: This is yours, lighten for us and overlook. Ibn Rawahah said: O company of Jews, by Allah you are the most hateful of people to me, the Messenger of Allah ﷺ sent me only as a just arbiter between you and him, I have no desire for your worldly goods and I will not wrong you; you have only offered me unlawful gain which I will not eat. He assessed the palms, and when he established the assessment he gave them choice: if they wished he would guarantee their share, and if they wished they would guarantee the Muslim share and cultivate. So they chose to guarantee and cultivate, saying: O Ibn Rawahah, this which you act upon, by it the heavens and the earth stand, for they stand only by truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب ‘ فتح خیبر کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ تاکہ وہاں کے پھل یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیں ، جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ‘ تو ان لوگوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ‘ انہوں نے خواتین کے کچھ زیور بھی انہیں دینا چاہے ‘ ان لوگوں نے کہا : یہ آپ کے لئے ہیں اور آپ ہمارے ساتھ تخفیف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ‘ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ‘ اللہ کے رسول نے مجھے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ‘ مجھے تمہاری دنیا کے ساتھ کوئی دلچپسی نہیں ہے اور میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی بھی نہیں کروں گا ‘ تم نے مجھے حرام کی پیشکش کی ہے ‘ میں اسے نہیں کھاؤں گا ، پھر انہوں نے کھجوروں کی پیدوار کا اندازہ لگایا ‘ جب وہ پیدوار کا اندازہ لگا کر فارغ ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کو اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ‘ تو میں تمہارے لئے تمہارے حصے کا ضامن بن جاتا ہوں اور اگر تم چاہو ‘ تو تم ہمارے لئے ہمارے حصے کے ضامن بن جاؤ اور باقی تم خود سنبھال لو ‘ تو ان لوگوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ لوگ ضامن بن جاتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے ‘ ان لوگوں نے کہا : اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ لوگ عمل کرتے ہیں ‘ اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں اور یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6600

Majma al-Zawaid #6600

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: «عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ التَّمْرِ، وَلَكُمْ نِصْفَهُ، وَتَكْفُونَا الْعَمَلَ حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ تَمْرَنَا قَدْ طَابَ فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرُصُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ. فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عِنْدَ اللَّهِ، وَعَدَاءً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكُمْ، وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ، وَاللَّهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ، وَأَنَا أَعْلَمُهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا: الَّذِي لَهُ وَالَّذِي لِلْيَهُودِ ثَمَانِينَ أَلْفِ وَسْقٍ. فَقَالَتِ الْيَهُودُ: خَرَبْتَنَا. فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: إِنْ شِئْتُمْ فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَنُسَلِّمُكُمُ الثَّمَرَةَ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَتَخْرُصُونَ عَنَّا. فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَبِهَذَا يَغْلِبُونَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Ubayd ibn Umayr (رحمه الله) reported concerning the settlement of the Prophet ﷺ with the Jews of Khaybar that half the dates would be for the Muslims and half for the Jews while the Jews sufficed the labour, until when their fruits ripened they came to the Prophet ﷺ and said their dates had ripened, so send an assessor to assess between us and you. So the Prophet ﷺ sent Abdullah ibn Rawahah (رضي الله عنه). When he toured their palms and looked at them he declared their fabrication against Allah and enmity to the Messenger of Allah ﷺ, that none was more hateful to him than them, yet that would not carry him to wrong them even an atom's weight. He then assessed all of it, what belonged to the Muslims and what belonged to the Jews, as eighty thousand wasqs. The Jews said: You have wronged us. Ibn Rawahah said: If you wish, give us forty thousand wasqs and we hand over the fruits to you, and if you wish, we give you forty thousand wasqs and you separate from us. They looked at one another, then said: By this the heavens and the earth stand, and by this you overcome them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عبید بن عمیر ‘ خیبر کے یہودیوں کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے معاہدے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ‘ یہ بیان کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : کھجوروں کی پیدوار کا نصف ہمیں ملے گا اور نصف تمہیں ملے گا اور کام کاج ہماری جگہ تم نے کرنا ہے ‘ یہاں تک کہ جب وہاں کا پھل تیار ہو گیا ، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گزارش کی کہ ہماری کھجوریں تیار ہو چکی ہیں ، آپ کسی اندازہ لگانے والے کو بھیجیں ، جو ہمارے اور آپ کے درمیان ( پیدوار ) کا اندازہ لگا لے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ جب انہوں نے وہاں کے کھجوروں کے درختوں کا چکر لگایا اور ان کا جائزہ لیا تو بولے : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق ‘ اللہ کی مخلوق میں سے تم سے زیادہ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا اور اللہ کے رسول کا دشمن ‘ اور کوئی نہیں ہے ‘ اور اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ہے ‘ جو میرے نزدیک تم سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ‘ اللہ کی قسم ! لیکن اس بات نے بھی مجھے اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں تمہارے ساتھ ذرے کے وزن جتنی زیادتی کروں ‘ اور میں اس بارے میں علم رکھتا ہوؤں ‘ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے تمام پیداوار کا اندازہ لگایا ‘ جو ان کے اور یہودیوں کے حصے میں آنی تھی ، تو وہ اسی ہزار وسق بنتے تھے ‘ یہودیوں نے کہا : آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ، حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم چاہو ‘ تو ہمیں چالیس ہزار وسق دے دو ‘ ہم پھل تمہارے حوالے کر دیں گے اور اگر تم چاہو ‘ تو ہم تمہیں چالیس ہزار وسق دے دیتے ہیں ‘ اور تم ہم سے الگ ہو جانا ‘ ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بولے : اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ‘ اسی کی وجہ سے یہ لوگ تم لوگوں پر غالب آئے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6601

Majma al-Zawaid #6601

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قُرَى عُرَيْنَةَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ: قَالَ الْأَشْجَعِيُّ: يَعْنِي الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ sent him to the villages of Uraynah and commanded him to take the share of the land, which al-Ashjai explained as meaning a third and a quarter. > **"Take the share of the land."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے عرینہ کی بستیوں کی طرف بھیجا ‘ آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں زمین کا حصہ وصول کر لوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں ، اشجعی فرماتے ہیں : اس سے مراد ‘ پیدوار کا ایک تہائی ‘ یا ایک چوتھائی حصہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ شعبہ اور سفیان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

6602

Majma al-Zawaid #6602

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: "" إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade muhaqalah and muzabanah, explaining that only three cultivate. > **"Only three cultivate: a man who has land so he cultivates it, a man who is granted land so he cultivates, and a man who rents land for gold or silver."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تین صورتوں میں کھیتی باڑی کی جا سکتی ہے ‘ آدمی کی اپنی زمین ہو ‘ وہ اس میں کھیتی باڑی کرے ‘ آدمی کو زمین عطیہ کے طور پر دی گئی ہو ‘ تو وہ کھیتی باڑی کر لے گا ‘ آدمی نے زمین سونے یا چاندی کے عوض میں کرائے پر حاصل کی ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6603

Majma al-Zawaid #6603

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُحَرِّمْ كِرَاءَ الْأَرْضِ، وَلَكِنَّهُ أَمَرَ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ وَجِيهٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ did not forbid renting land but commanded noble morals. > **"The Prophet ﷺ did not forbid renting land, but he commanded noble morals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے زمین کے کرائے کو حرام قرار نہیں دیا ہے ‘ بلکہ آپ نے عمدہ اخلاق کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن وجیہ ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6604

Majma al-Zawaid #6604

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسٍ، «عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ: فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ جَمِيعُهَا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ رَفِيقٌ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ عَلَى أَنَّكُمْ تَكْفُونَا الْعَمَلَ وَلَكُمْ شَطْرُ التَّمْرِ عَلَى أَنْ أُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتِ الْيَهُودُ التَّمْرَةَ، فَلَمْ تَزَلْ خَيْبَرُ بَعْدُ لِلْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَأَخْرَجَهُمْ فَقَالَتْ يَهُودُ: أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: بَلَى؛ عَلَى أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَهَذَا حِينَ بَدَا لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ. فَأَخْرَجَهُمْ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضُرِ افْتِتَاحَهَا قَالَ: فَأَهْلُهَا الْآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودِيٌّ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَعَامِرٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Abd al-Rahman ibn Nistas reported concerning the conquest of Khaybar that the Messenger of Allah ﷺ opened it and all of it, its tilth and its palms, belonged to him, while the Prophet ﷺ and his Companions had no helpers, so the Prophet ﷺ reconciled with the Jews that they would suffice the labour with half the dates for them, on condition he would leave them as long as seemed fit to Allah and His Messenger. That is when the Messenger of Allah ﷺ sent Ibn Rawahah (رضي الله عنه) to assess between them, and when he gave them choice the Jews took the dates. Khaybar remained thereafter with the Jews upon the treaty of the Prophet ﷺ until Umar (رضي الله عنه) expelled them, when the Jews said: Did the Prophet ﷺ not reconcile with us for such and such? He said: Yes, on condition to leave you as long as seemed fit to Allah and His Messenger, and now it seems fit to me to expel you. So he expelled them, then divided it among the Muslims who had conquered it with the Prophet ﷺ, giving none who was not present at its conquest. Its people today are Muslims with no Jew therein. The Messenger of Allah ﷺ commanded assessment only to count the zakah before the fruits were eaten.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبدالرحمن بن نسطاس ، خیبر فتح ہونے کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول ﷺ نے اسے فتح کر لیا ‘ وہاں کی تمام زمین ‘ کھیت اور کھجوروں کے باغات ‘ نبی اکرم ﷺ کی ملکیت میں آ گئے لیکن آپ کے اور آپ کے اصحاب کے پاس اتنے غلام نہیں تھے ( جو وہاں کام کاج کر سکتے ) تو نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ اس بات پر مصالحت کی کہ تم لوگ ہماری جگہ کام کرو گے اور کھجوروں کی نصف پیدوار تمہیں مل جائے گی ‘ اس شرط پر کہ میں تمہیں یہاں اس وقت تک رہنے دوں گا ‘ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ‘ ( پھر جب کھجوریں اتارنے کا وقت آیا ) تو آپ ﷺ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ‘ تاکہ وہ وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگائیں ، جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا ‘ تو یہودیوں نے کھجوروں کو اختیار کر لیا ۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی صلح کے مطابق ‘ خیبر مسلسل یہودیوں کے پاس رہا ‘ یہاں تک کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے انہیں وہاں سے نکالنے کا حکم دیا ‘ یہودیوں نے کہا : کیا نبی اکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ اتنی ‘ اتنی پیدوار کے عوض میں مصالحت نہیں کی تھی ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! کی تھی لیکن اس شرط پر کی تھی کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ، اس وقت تک ہم تمہیں یہاں رہنے دیں گے ‘ اب مجھے یہ مناسب لگتا ہے کہ میں تمہیں نکال دوں ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال دیا پھر انہوں نے وہاں کی زمین ان مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس کی فتح میں شریک ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین میں سے کسی ایسے شخص کو کچھ بھی نہیں دیا ‘ جو خیبر کی فتح میں موجود نہیں تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اب وہاں کے مالکان مسلمان ہیں اور وہاں کوئی یہودی نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا ، تاکہ پھلوں کے کھائے جانے سے پہلے زکوۃ کا شمار ہو سکے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عامر نامی اس راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6605

Majma al-Zawaid #6605

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «دَخَلَتِ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي، إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ تَمْرَ مَالِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ وَحَشَدْنَاهُ، لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَصَبْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ، فَبَعَثْنَا عَلَيْهِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَلَا لَا يَصْنَعُ خَيْرًا) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَاءَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا، وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ، [مَا شِئْتَ]؟ فَوَضَعَ لَهُمْ مَا نَقَصُوا». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ كَلَامٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that a woman entered upon the Prophet ﷺ and said: By my father and mother, I and my son bought from so-and-so the dates of his property, we counted and gathered them, yet by Him Who honoured you with what He honoured you, we obtained nothing except what we eat in our stomachs or feed a poor person hoping for blessing. So we sent to him and came seeking remission of our loss, but he swore by Allah he would remit nothing. So the Messenger of Allah ﷺ said it three times, until news reached the owner of the dates and he came, saying: By my father and mother, if you wish I will remit what they lost, and if you wish, from the principal, as you wish. So he remitted for them what they had lost. > **"Will he not do good?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اور میرے بیٹے نے ‘ فلاں شخص سے اس کی زمین میں سے کھجوروں کا درخت ( یا باغ ) خریدا ‘ ہم نے اسے شمار کر لیا ‘ اس کی دیکھ بھال کی ‘ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، ہمیں اس درخت میں سے صرف اتنا ملا کہ جسے ہم خود کھا سکتے ہیں ، یا برکت کی امید رکھتے ہوئے کسی مسکین کو کھلا سکتے ہیں ( یعنی ہمیں اس میں نقصان ہو گیا ) ہم نے اُسے کہا کہ ہماری جو کمی ہوئی ہے ، تو اس حساب سے ہمیں ادائیگی معاف کر دو ‘ تو اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ہمیں کوئی چیز معاف نہیں کرے گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار ! کیا وہ بھلائی نہیں کرے گا ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ راوی کہتے ہیں : اس بات کی اطلاع کھجور کے مالک کو ملی ‘ تو وہ آیا اور اس نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ اگر آپ چاہیں تو جتنا اس کا نقصان ہوا ہے ‘ میں اس حساب سے ادائیگی چھوڑ دیتا ہوں ‘ اور اگر آپ چاہیں تو میں پورے مال کی ادائیگی چھوڑ دیتا ہوں ، جیسے آپ چاہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے لئے نقصان کے حوالے سے ادائیگی معاف کروا دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عبدالرحمن بن ابورجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ویسے وہ ثقہ ہے ۔

6606

Majma al-Zawaid #6606

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ: أَنْ لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَائِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ".

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) wrote to his agent over land not to withhold surplus water, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever withholds surplus water to withhold thereby surplus herbage, Allah will withhold His bounty from him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے زمین کے بارے میں اپنے منشی کو خط میں لکھا کہ تم نے اپنے اضافی پانی کے بارے میں کسی کو روکنا نہیں ہے ‘ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اضافی پانی کو روک دے ‘ تاکہ اس کے ذریعے اضافی گھاس پھوس نہ ہو ‘ تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص سے اپنے فضل کو روک لے گا ‘‘۔

6607

Majma al-Zawaid #6607

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِهِ أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ.

EnglishUnverified translation

In another narration from Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) from the Messenger of Allah ﷺ concerning withholding surplus. > **"Whoever withholds his surplus water or surplus herbage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو شخص اضافی پانی کو روک لے ‘ یا اضافی گھاس پھوس کو روک لے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن راشد خزاعی ہے اور وہ ثقہ ہے ، بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

6608

Majma al-Zawaid #6608

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ، وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ فَيَهْزُلَ الْمَاءُ، وَتَجُوعَ الْعِيَالُ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, warning against withholding surplus water and herbage lest water diminish and dependents hunger. > **"Do not withhold surplus water, nor withhold herbage, lest water dwindle and dependents hunger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اضافی پانی سے نہ روکو ‘ اور گھاس سے نہ روکو ‘ ورنہ پانی کم ہو جائے گا اور بال بچے بھوکے ہو جائیں گے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6609

Majma al-Zawaid #6609

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: لَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ بَعْدَمَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ، وَلَا فَضْلَ مَرْعًى» "". قُلْتُ: أَخْرَجْتُهُ لِقَوْلِهِ "" بَعْدَ مَا يَسْتَغْنِي عَنْهُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه), with al-Mas'udi doubting only whether he raised it, reported that the Prophet ﷺ said concerning surplus water and pasture after need is met. > **"Do not withhold surplus water after you are sufficed from it, nor surplus pasture."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسعودی بیان کرتے ہیں : میرے خیال میں انہوں نے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو اضافی پانی یا اضافی چراگاہ ( یعنی گھاس پھوس ) سے منع نہ کرو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے روایت کی ان الفاظ کی وجہ سے اسے یہاں نقل کیا ہے : ” اس کے بعد کہ آدمی اس سے بے نیاز ہو جائے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔