وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ [الْأَعْمَالِ] عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ] مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ: (نَعَمْ)، [قَالَ: فَكَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ، قَالَ: (نَعَمْ)، قَالَ: فَكَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، كَفَّرَ اللَّهُ خَطَايَايَ؟ قَالَ: (نَعَمْ)] إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ stood and preached, mentioning belief in Allah and jihad in the path of Allah among the best deeds before Allah. A man stood and asked: O Messenger of Allah, if I am killed in the path of Allah, patient, seeking reward, advancing not retreating, will Allah expiate my sins? He said: Yes. He asked how he had spoken, repeating the question upon him as he had said, and he again said: Yes, then asked again, until the man repeated: O Messenger of Allah, if I am killed in the path of Allah patient, seeking reward, advancing not retreating, will Allah expiate my sins? He said: Yes, except debt, for Jibril whispered that to me. > **"Yes, except debt, for Jibril whispered that to me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے ‘ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عمل ہونے کا تذکرہ کیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہوں اور میں صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہوتا ہوں ، دشمن کی طرف رخ کیے ہوتا ہوں ، پیٹھ نہیں پھیری ہوتی ‘ تو کیا للہ تعالی میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے کیا کہا ہے ؟ اس نے اپنی بات دہرا دی جس طرح پہلے کہی تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا ہے ؟ اس نے دوبارہ اپنی بات دہرا دی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں صبر کرنے والے کے طور پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے ‘ پیٹھ نہ پھیر کر ‘ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہوں ‘ تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے اس بارے میں بتایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔