Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 11

Book of Sales and Transactions

Hadith 6610–6649

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6610

Majma al-Zawaid #6610

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Sa'd, meaning Ibn Abi Waqqas (رضي الله عنه), reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Whoever withholds surplus water, Allah will withhold His bounty from him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اضافی پانی کو روک لے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا فضل اس سے روک لے گا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

6611

Majma al-Zawaid #6611

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَصْلَتَانِ لَا يَحِلُّ مَنْعُهُمَا: الْمَاءُ وَالنَّارُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Two qualities, it is not lawful to withhold them: water and fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو چیزیں ایسی جنہیں روکنا حلال نہیں ہے پانی اور آگ ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

6612

Majma al-Zawaid #6612

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ بَيْنَ قَمِيصِهِ وَجِلْدِهِ فَقَبَّلْتُ مِنْهُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ فَقُلْتُ: مَا الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "" الْمِلْحُ "" قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "" الْمَاءُ، وَالنَّارُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، [وَالْكَبِيرِ]، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ؛ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Sarjis (رضي الله عنه) reported: I came to the Prophet ﷺ and entered between his shirt and his skin, kissing the place of the seal, then said: What is it that is not lawful to withhold? He said: Salt. I said: Then what? He said: > **"Water and fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں آپ کی قمیص اور آپ کی جلد کے درمیان داخل ہوا میں نے مہر نبوت کا بوسہ لیا میں نے عرض کی : وہ کیا چیز ہے ‘ جسے روکنا حلال نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نمک میں نے عرض کی : پھر کون سی چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : پانی اور آگ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ‘ جو متروک ہے ۔

6613

Majma al-Zawaid #6613

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَمْنَعُوا عِبَادَ اللَّهِ فَضْلَ الْمَاءِ، وَلَا الْكَلَأَ، وَلَا النَّارَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَهَا مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ وَقُوَّةً لِلْمُسْتَضْعَفِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِسَنَدٍ قَالَ فِيهِ ابْنُ حِبَّانَ: إِنَّ مَا رُوِيَ بِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Do not withhold from the servants of Allah surplus water, nor herbage, nor fire, for Allah the Exalted has made them provision for the traveller and strength for the weak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کے بندوں کو اضافی پانی سے ( اضافی ) گھاس سے اور ( اضافی ) آگ سے نہ روکو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت رکھنے والے لوگوں کے لئے ضرورت کی چیز اور کمزوروں کے لئے قوت کا باعث بنایا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس کے بارے میں ابن حبان نے کہا ہے کہ اس سند کے ساتھ جو روایت نقل کی جائے گی وہ جھوٹی ہو گی ۔

6614

Majma al-Zawaid #6614

وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" لَا يُقْطَعُ طَرِيقٌ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ، وَلَا ابْنُ السَّبِيلِ عَارِيَةَ الدَّلْوِ، وَالرِّشَاءِ، وَالْحَوْضِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أَدَاةٌ تُعِينُهُ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّكِيَّةِ، يَسْقِي، وَلَا يُمْنَعِ الْحَفْرَ إِذَا تَرَكَ الْحَافِرُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ.

EnglishUnverified translation

Samurah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say concerning the road, surplus water, the traveller's loan of bucket, rope and basin, access to the well, and the space around a dug well. > **"No road is cut, nor surplus water withheld, nor the traveller denied loan of bucket, rope and basin if he has no tools to help him, and he is left between him and the well to water, nor digging prevented when the digger leaves twenty-five cubits as resting place for his livestock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ راستے کو نہیں کاٹا جائے گا ( یعنی ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا ) اور اضافی پانی سے نہیں روکا جائے گا اور مسافر کو عاریت کے طور پر ڈول رسی اور حوض سے نہیں روکا جائے گا اگر اس کے پاس سامان موجود نہ ہو ‘ تو تم ویسے اس کی مدد کر دو ‘ اور اس کو چرخی کے پاس جانے دیا جائے گا ‘ تاکہ وہ پانی پی لے اور کنویں کے ارد گرد کی جگہ سے نہیں روکا جائے گا جو پچیس ذراع تک ہو گی کہ جانور پانی پینے کے بعد وہاں بیٹھ سکیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔

6615

Majma al-Zawaid #6615

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ فَسَأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ فَمَنَعَهُ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَمَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ: النَّهْيَ عَنْ فَضْلِ الْمَاءِ فَقَطْ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفِرْدَوْسِيُّ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ: لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Any man whose cousin comes to him asking from his surplus and he withholds it, Allah will withhold His bounty from him on the Day of Resurrection. And whoever withholds surplus water to withhold thereby surplus herbage, Allah will withhold His bounty from him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد آئے اور اس سے اضافی چیز مانگے اور وہ شخص اسے نہ دے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا اور جو شخص اضافی پانی روک لیتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی گھاس کو روک دے تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے اپنا فضل روک لے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد نے اس میں سے صرف اضافی پانی کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن فردوسی ہے ‘ جسے ازدی نے اس حدیث کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا : یہ محفوظ نہیں ہے ۔

6616

Majma al-Zawaid #6616

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا، كُلُّهَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ [وَلَا يُمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The sanctuary of the well is forty cubits around it, all of it for the resting of camels and sheep, and the traveller is the first to drink, and surplus water is not withheld to withhold thereby herbage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کنویں کی حریم ‘ اس کے آس پاس چالیس ذراع تک ہو گی ‘ یہ سب اونٹوں اور بکریوں کے پانی پلانے کے بعد ان کو بٹھانے کے لئے ہو گی اور مسافر شخص سب سے پہلے پانی پیے گا اور اضافی پانی سے نہیں روکا جائے گا ورنہ اس کے نتیجے میں گھاس نہیں پیدا ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6617

Majma al-Zawaid #6617

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَلِيقٍ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ أَثْوَابًا إِلَى الْمَيْسَرَةِ [فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بَأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ] فَقَالَ: مَا الْمَيْسَرَةُ؟ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ؟. وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ، وَلَا رَاعِيَةٌ. فَرَجَعْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَنَا خَيْرُ مَنْ بَايَعَ. لَأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ [أَوْ فِي أَمَانَتِهِ] مَا لَيْسَ عِنْدَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ sent him to a Christian trader to send garments on credit till ease. He came to him saying the Messenger of Allah sent him for garments till ease, but the man asked: What is ease? When is ease? By Allah, Muhammad has neither bleating livestock nor grazing livestock. So he returned to the Prophet ﷺ, and when the Prophet ﷺ saw him he declared the enemy of Allah a liar and that he himself was best of those who trade, and that patched garments were better than betraying trust. > **"The enemy of Allah has lied; I am the best of those who trade. For one of you to wear a garment of diverse patches is better for him than to take in his trust what he does not have."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک عیسائی گنجے ( شاید مالدار شخص مراد ہے ) کے پاس بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو کچھ کپڑے دیدے کہ جب گنجائش ہو گی ( تو اسے رقم دے دی جائے گی ) میں اس شخص کے پاس آیا میں نے کہا اللہ کے رسول نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم انہیں کچھ کپڑے دے دو ‘ گنجائش میسر ہونے پر ( ان کی قیمت ادا کر دی جائے گی ) تو اس نے کہا : گنجائش کیا ہے ؟ اور گنجائش کب آئے گی ؟ اللہ کی قسم ! حضرت محمد ﷺ کا نہ تو کوئی جانور ہے اور نہ ہی کوئی زمین ہے ‘ میں واپس آیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے میں سب سے بہتر خرید و فروخت کرنے والا ہوں ، تم میں سے کوئی ایک شخص چیتھڑوں سے بنا ہوا لباس پہن لے ‘ یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ امانت کو حاصل کر لے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ایسی چیز ‘ جو اُس کی نہ ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

6618

Majma al-Zawaid #6618

وَلِأَنَسٍ فِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارِ - بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الَّذِي لَا زَرْعَ لَهُ، وَلَا ضَرْعَ - قَالَ: «بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَهُودَ أَسْتَسْلِفُ إِلَى الْمَيْسَرَةِ. فَقَالَ: أَيُّ مَيْسَرَةٍ لَهُ؟ هُوَ الَّذِي لَا أَصْلَ لَهُ وَلَا فَرْعَ! فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَمَا لَوْ أَعْطَانَا لَأَدَّيْنَا إِلَيْهِ» "". وَفِيهِ رَاوٍ يُقَالُ لَهُ: جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ. قَالَ: وَلَيْسَ بِالْجُعْفِيِّ. وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه), in the narration of al-Tabarani in al-Awsat and al-Bazzar like it except that he is one who has neither crop nor udder, reported that the Messenger of Allah ﷺ sent him to the Jews to borrow till ease. A man said: What ease has he? He is one who has neither root nor branch. So he returned to the Prophet ﷺ and informed him, whereupon he declared the enemy of Allah a liar and affirmed payment had he been given. > **"The enemy of Allah has lied; had he given us, we would have paid him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط اور امام بزار نے امام طبرانی کی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہودیوں کے پاس بھیجا ‘ تاکہ میں گنجائش میسر ہونے تک ان سے ادھار کے طور پر کوئی چیز لے لوں ‘ تو ایک شخص نے کہا : انہیں کہاں سے گنجائش ملے گی ؟ وہ تو ایسے فرد ہیں جن کی نہ تو کوئی اصل ہے اور نہ ہی کوئی فرع ہے میں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے ‘ اگر وہ ہمیں دے دیتا تو ہم نے ( اس کی رقم ) ادا کر دینی تھی ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام جابر بن یزید بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ جعفی نہیں ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6619

Majma al-Zawaid #6619

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: «أَضَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَيْفًا فَلَمْ يَلْقَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَصْلُحُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ: "" يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ: أَسْلِفْنِي دَقِيقًا إِلَى هِلَالِ رَجَبٍ "". قَالَ: لَا، إِلَّا بِرَهْنٍ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: "" أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَمِينٌ فِي السَّمَاءِ أَمِينٌ فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ أَسْلَفَنِي أَوْ بَاعَنِي لَأَدَّيْتُ إِلَيْهِ "". فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ} [طه: 131] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؛ يَعْزِفُهُ عَنِ الدُّنْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ hosted a guest but found with the Prophet ﷺ nothing to prepare for him, so he sent to a man of the Jews saying: Muhammad the Messenger of Allah says to you: Lend me flour till the crescent of Rajab. He said: No, except with pledge. So the narrator came to the Prophet ﷺ and informed him. He said: By Allah, I am trustworthy in heaven, trustworthy on earth; had he lent me or sold to me I would have paid him. When he left him this verse was revealed: And do not extend your eyes to what We have given pairs of them, to the end of the verse, diverting him from the world. > **"By Allah, I am trustworthy in heaven, trustworthy on earth; had he lent me or sold to me, I would have paid him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آیا نبی اکرم ﷺ کے پاس اس وقت کوئی ایسی چیز موجود نہیں تھی ، جو اس کے لئے سہولت کا باعث ہو سکے تو نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ تمہیں یہ کہہ رہے ہیں تم ہمیں رجب کے پہلی کے چاند پر ادائیگی کرنے کی شرط پر کچھ آٹا ادھار دے دو ‘ اس نے کہا : جی نہیں ! صرف رہن کے طور پر دیا جا سکتا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں آسمان کے بارے میں بھی امین ہوں اور زمین کے بارے میں بھی امین ہوں ‘ اگر وہ مجھے ادھار دے دیتا تو میں نے اسے ادائیگی کر ہی دینی تھی ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : جب میں آپ کے پاس سے نکلا ‘ تو یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ اور تم اپنی نگاہیں اُن چیزوں کی طرف نہ لے جاؤ ‘ جو ہم نے ان میں سے بعض لوگوں کو ( دنیاوی ) ساز و سامان میں سے دی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ اس میں نبی اکرم ﷺ کو دنیا سے الگ رہنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6620

Majma al-Zawaid #6620

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَأْتِيَ أَخَاهُ فَيَسْأَلَهُ قَرْضًا، وَهُوَ يَجِدُ فَيَمْنَعُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said: > **"It is not befitting a servant to come to his brother asking him a loan while he has means, then he withholds it from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندے کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کے پاس آئے اور وہ اس سے قرض مانگے اور اس کے پاس گنجائش بھی موجود ہو ‘ تو پھر وہ اُسے نہ دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر حنفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

6621

Majma al-Zawaid #6621

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لِكُلِّ قَرْضٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ: > **"For every loan is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر قرض کے لئے صدقہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

6622

Majma al-Zawaid #6622

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ that a man entered Paradise and saw written upon its gate the reward of charity and loan. > **"A man entered Paradise and saw written upon its gate: Charity is tenfold, and loan is eighteenfold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص جنت میں داخل ہونے لگا ‘ تو اس نے جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا دیکھا : صدقہ کا اجر دس گنا اور قرض کا اجر اٹھارہ گنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن حمید ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

6623

Majma al-Zawaid #6623

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا ". قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " الدَّيْنُ» ".

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said: Do not frighten yourselves after your security. They said: What is that, O Messenger of Allah? He said: > **"Debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم امن کی حالت میں آ چکے ہو ‘ تو اس کے بعد اپنے آپ کو خوف کا شکار نہ کرو ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُدھار ‘‘۔

6624

Majma al-Zawaid #6624

وَعَنْهُ أَيْضًا «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ "" أَوْ قَالَ: "" الْأَنْفُسَ "". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبِمَا نُخِيفُ أَنْفُسَنَا؟ قَالَ: "" الدَّيْنُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

From Uqbah also (رضي الله عنه) that the Prophet ﷺ said to his Companions: Do not frighten yourselves, or he said: souls. It was said: O Messenger of Allah, with what do we frighten ourselves? He said: > **"Debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے ہی یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم اپنے آپ کو خوف کا شکار نہ کرو ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی جانوں کو خوف کا شکار نہ کرو ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم اپنی جانوں کو کیسے خوف کا شکار کر سکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : اُدھار کے حوالے سے ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

6625

Majma al-Zawaid #6625

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ، وَكَفَّنَّاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ فَخَطَا خُطْوَةً، ثُمَّ قَالَ: "" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ "" قُلْتُ: دِينَارَانِ. فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ: "" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟ "". قُلْتُ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ! قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that a man died, so they washed, shrouded and embalmed him, then brought him to the Messenger of Allah ﷺ to pray over him. He stepped forward, then asked about debt upon him. When told two dinars, he turned away until Abu Qatadah (رضي الله عنه) assumed them. They came to him, and Abu Qatadah said: The two dinars are upon me. The Prophet ﷺ asked whether Allah had fulfilled the creditor's right and the deceased was freed therefrom. He said: Yes. So he prayed over him, then after a day asked what became of the two dinars. When told he had died only yesterday, he returned the next day and said he had settled them. So the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Has Allah fulfilled the creditor's right and the deceased is freed therefrom? Now his skin has cooled upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہوا ‘ ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن دیا ‘ اسے خوشبو لگائی پھر اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ایک قدم اٹھایا پھر آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ میں نے عرض کی : دو دینار ہیں ، نبی اکرم ﷺ واپس مڑ گئے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی ادائیگی اپنے ذمہ لی پھر ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : دو دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرض خواہ کے حق کو ادا کروا دیا اور میت اس سے لاتعلق ہو گئی ‘ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ‘ اس کے ایک دن بعد نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : دو دیناروں کے معاملے کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس کا تو گزشتہ کل انتقال ہوا ہے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اب اس شخص پر اس کی جلد ٹھنڈی ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6626

Majma al-Zawaid #6626

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي عَلَيْهَا، فَقَالُوا: عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْطَلِقُوا بِصَاحِبِكُمْ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلِّ عَلَيْهِ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was brought a funeral, so he stood to pray over it. They said debt was upon him, so the Messenger of Allah ﷺ said: Take your companion and pray over him. A man said: His debt is upon me, so pray over him. So the Messenger of Allah ﷺ stood and prayed over him. > **"Take your companion and pray over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنازہ لایا گیا نبی اکرم ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اٹھے ‘ لوگوں نے بتایا اس کے ذمہ قرض ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے ساتھی کو لے جاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کر لو ‘ ایک شخص بولا : اس کا قرض میرے ذمہ ہے ‘ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کیجئے ، تو نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس سے پہلے جنائز سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔

6627

Majma al-Zawaid #6627

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي فَقُتِلْتُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "" فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ: "" نَعَمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that a man came to the Prophet ﷺ and said: What if I strive with myself and my wealth, killed patient, seeking reward, advancing not retreating, shall I enter Paradise? He said: Yes. He repeated it twice or thrice, and he said: Yes, if there is no debt upon you for which you have no repayment. > **"Yes, if there is no debt upon you for which you have no repayment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیتا ہوں اور صبر کرنے والے کے طور پر ‘ ثواب کی امید رکھنے والے کے طور پر دشمن کی طرف رخ کر کے ‘ پیٹھ پھیرے بغیر رہتے ہوئے قتل ہو جاتا ہوں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس شخص نے دو یا تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! بشرطیکہ تمہارے ذمہ کوئی ایسا قرض نہ ہو کہ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت تمہارے پاس نہ ہو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کی سند حسن ہے ۔

6628

Majma al-Zawaid #6628

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ؟ قَالَ: "" الْجَنَّةُ "" فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَّا الدَّيْنَ؛ سَارَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهِ آنِفًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Jahsh (رضي الله عنه) reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, what is for me if I fight in the path of Allah till I am killed? He said: Paradise. When he turned away, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Paradise, except debt; Jibril (عليه السلام) just whispered it to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے قتل ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت ‘ جب وہ شخص مڑ کر جانے لگا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

6629

Majma al-Zawaid #6629

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ [عَنْ أَبِيهِ]: «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْجَنَّةُ "" فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: "" الدَّيْنُ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ النَّسَائِيَّ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abdullah ibn Jahsh, from his father (رضي الله عنهما), reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, if I am killed in the path of Allah? He said: Paradise. When he turned away he said: > **"Paradise. Debt was whispered to me by Jibril (عليه السلام) just now."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن جحش ‘ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت ( ملے گی ) جب وہ شخص مڑ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابھی جبرائیل نے مجھے سرگوشی میں یہ بات بتائی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث ہے ‘ جسے امام نسائی نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6630

Majma al-Zawaid #6630

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ «أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ثُمَّ أُحْيِيَ] لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ لَيْسَ ثَمَّةَ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Abdullah ibn Jahsh (رضي الله عنه) reported that he heard the Prophet ﷺ say: > **"Had a man been killed in the path of Allah, then revived, then killed in the path of Allah, then revived, he would not enter Paradise until his debt is settled for him, for there is neither gold nor silver there; there are only good deeds and evil deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے اور پھر اسے زندہ کر دیا جائے ، پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے ‘ پھر اسے زندہ کر دیا جائے تو وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا ‘ جب تک اس کی طرف سے اس کا قرض ادا نہیں کر دیا جاتا ، کیونکہ وہاں سونا اور چاندی نہیں ہو گا ‘ وہاں نیکیاں اور برائیاں ہوں گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ‘ جسے ابن حبان نے اور امام حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن عدی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6631

Majma al-Zawaid #6631

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ، فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ [الْأَعْمَالِ] عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ] مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ: (نَعَمْ)، [قَالَ: فَكَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ، قَالَ: (نَعَمْ)، قَالَ: فَكَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، كَفَّرَ اللَّهُ خَطَايَايَ؟ قَالَ: (نَعَمْ)] إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ stood and preached, mentioning belief in Allah and jihad in the path of Allah among the best deeds before Allah. A man stood and asked: O Messenger of Allah, if I am killed in the path of Allah, patient, seeking reward, advancing not retreating, will Allah expiate my sins? He said: Yes. He asked how he had spoken, repeating the question upon him as he had said, and he again said: Yes, then asked again, until the man repeated: O Messenger of Allah, if I am killed in the path of Allah patient, seeking reward, advancing not retreating, will Allah expiate my sins? He said: Yes, except debt, for Jibril whispered that to me. > **"Yes, except debt, for Jibril whispered that to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے ‘ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عمل ہونے کا تذکرہ کیا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہوں اور میں صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہوتا ہوں ، دشمن کی طرف رخ کیے ہوتا ہوں ، پیٹھ نہیں پھیری ہوتی ‘ تو کیا للہ تعالی میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے کیا کہا ہے ؟ اس نے اپنی بات دہرا دی جس طرح پہلے کہی تھی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے کیا کہا ہے ؟ اس نے دوبارہ اپنی بات دہرا دی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر میں صبر کرنے والے کے طور پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے ‘ پیٹھ نہ پھیر کر ‘ اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہوں ‘ تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ ختم کر دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ‘ ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے اس بارے میں بتایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6632

Majma al-Zawaid #6632

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ، ثُمَّ قَالَ: "" هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ؟ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: بِدَيْنِهِ» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَطْوَلَ مِنْهُ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ قَوْمٌ، وَضَعَّفَهُ قَوْمٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed the dawn prayer, then said, asking for one of Hudhayl, that their companion was detained at the gate of Paradise, he thought he said: due to his debt. > **"Is anyone here from Hudhayl? Your companion is detained at the gate of Paradise due to his debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا یہاں ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد موجود ہے ؟ تمہارے ساتھی کو جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے ذمہ قرض کی وجہ سے ( روکا گیا ہے ) ‘‘ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس سے ذرا طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ‘ جسے کچھ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6633

Majma al-Zawaid #6633

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُحْتَسِبًا حَتَّى يُقْتَلَ أَفِي الْجَنَّةِ هُوَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ: "" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, a man fights in the path of Allah seeking reward till he is killed, is he in Paradise? He said: Yes. When he turned away he called him and said that Jibril (عليه السلام) had informed him of the condition of debt. > **"Yes. Jibril (عليه السلام) came to me and said: If there is no debt upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص اللہ کی راہ میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے جنگ میں حصہ لیتا ہے ‘ یہاں تک کہ مارا جاتا ہے تو کیا وہ جنت میں جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب وہ شخص مڑ کر واپس چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوایا اور ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ شرط یہ ہے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

6634

Majma al-Zawaid #6634

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَوَّلُ مَا يُهْرَاقُ دَمُ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذَنْبُهُ كُلُّهُ إِلَّا الدَّيْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"With the first shedding of the martyr's blood, all his sins are forgiven except debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شہید کے خون کے بہنے کا جیسے ہی آغاز ہوتا ہے ‘ تو اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6635

Majma al-Zawaid #6635

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْغَفْلَةُ فِي ثَلَاثٍ: عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، وَحِينَ يُصَلَّى الصُّبْحُ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَغَفْلَةُ الرَّجُلِ عَنْ نَفْسِهِ حَتَّى يَرْكَبَهُ الدَّيْنُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ صَوْمَى، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Heedlessness is in three: from remembrance of Allah, and when the dawn prayer is prayed until the sun rises, and a man's heedlessness of himself until debt mounts him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غفلت تین صورتوں میں ہوتی ہے اللہ کے ذکر کے حوالے سے اور اس وقت جب آدمی نے صبح کی نماز ادا کر لی ہو اس وقت سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ‘ اور آدمی کا اپنی ذات کے حوالے سے غفلت کا شکار ہونا یہاں تک کہ اس پر قرض سوار ہو جائے ( یعنی اس کے ذمہ قرض لازم ہو جائے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن صومی ہے اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6636

Majma al-Zawaid #6636

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: "" هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ "". فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ. فَقَالَ: "" هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ "" ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُومَ؟ "". قَالَ: فَرِقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ حَدَثَ! قَالَ: "" لَا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ فُلَانًا قَدْ حُبِسَ بِبَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَجْلِ دَيْنِهِ "". قَالَ الرَّجُلُ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ؛ وَثَّقَهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed, then turned and asked whether anyone from Banu so-and-so was present. None answered him. He repeated it a second and third time until a man said: I am here, O Messenger of Allah. He asked what prevented him from standing. He said he feared something new had occurred. He denied that, informing that their companion so-and-so had been detained at the gate of Paradise due to his debt. The man said: His debt is upon me, O Messenger of Allah. > **"Is anyone here from Banu so-and-so? Your companion so-and-so has been detained at the gate of Paradise due to his debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی اور نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ اپنی بات کو دہرایا تو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پہلے کیوں نہیں کھڑے ہوئے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی نیا حکم نہ سامنے آ جائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارا ساتھی فلاں شخص اسے اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ‘ اُس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ‘ جسے ابوخالد احمر اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6637

Majma al-Zawaid #6637

«وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ أَنَّ أَبَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَعِيَالًا وَدَيْنًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَبَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قَضَيْتُ مَا خَلَا امْرَأَةً ادَّعَتْ دِينَارَيْنِ، وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ. قَالَ: "" أَعْطِهَا، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ "". فَأَعْطَيْتُهَا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْقِصَّةَ فِي أَخِيهِ وَهُنَا فِي أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

Sa'd ibn al-Atwal (رضي الله عنه) reported that his father died leaving three hundred dirhams, dependents and debt, so he wished to spend upon his dependents. The Prophet ﷺ informed him his father was detained due to his debt and commanded him to settle for him. He said: By my father and mother, O Messenger of Allah, I have settled all except a woman who claimed two dinars without proof. He said: Give her, for she is truthful. So he gave her. > **"Your father is detained due to his debt, so settle for him. Give her, for she is truthful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : اُن کے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے تین سو درہم اور عیال اور قرض پسماندگان میں چھوڑے ‘ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ( وہ رقم ) اُن کے عیال پر خرچ کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے باپ کو اس کے قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے تم اس کی طرف سے قرض کو ادا کر دو ! میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! میں نے سارا قرض ادا کر دیا ہے ‘ البتہ ایک عورت کا معاملہ مختلف ہے ‘ جس نے دو دیناروں کا دعویٰ کیا ہے ‘ لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اُسے ادا کر دو کیونکہ وہ سچ بول رہی ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے اس خاتون کو ادائیگی کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ پورا واقعہ کیا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں ہے اور یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ اُن کے والد کے بارے میں ہے ۔

6638

Majma al-Zawaid #6638

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ كُلَّهُ، وَالَّذِي قَبْلَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

A man from the Companions of the Prophet ﷺ reported the like of the previous narration concerning settling debt for the deceased father.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ‘ ایک صاحب کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔ یہ پوری روایت اور اس سے پہلے والی روایت ‘ امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک ابوجعفر ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

6639

Majma al-Zawaid #6639

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ "" فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ. ثُمَّ قَالَ: "" هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ "" فَلَمْ يُجْبِهُ أَحَدٌ. ثُمَّ قَالَ: "" هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ "" فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَاهُنَا فُلَانٌ، فَقَالَ: "" إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ بِبَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ عَلَيْهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَيَّنَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ، وَهَذِهِ عِبَارَةٌ سَهْلَةٌ فِي التَّضْعِيفِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed, and when he finished asked whether anyone from Banu so-and-so was present. None answered. He repeated it again and a third time until a man said: Yes, O Messenger of Allah, here is so-and-so. He informed that their companion was detained at the gate of Paradise due to debt upon him. A man said: His debt is upon me, O Messenger of Allah. > **"Is anyone here from Banu so-and-so? Your companion is detained at the gate of Paradise due to debt upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کی ‘ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ‘ پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ تو ایک صاحب بولے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! یہاں فلاں شخص موجود ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے ایک ساتھی کو جنت کے دروازے پر اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے ‘ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی اسلم بن سہل واسطی ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : امام دارقطنی نے اسے ’’ لین “ قرار دیا ہے اور کسی کو ضعیف قرار دینے کے بارے میں یہ عبارت ہلکی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6640

Majma al-Zawaid #6640

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" صَاحِبُ الدَّيْنِ مَأْسُورٌ بِدَيْنِهِ يَشْكُو إِلَى اللَّهِ الْوَحْدَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ؛ وَثَّقَهُ عَفَّانُ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn Azib (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ: > **"The debtor is held captive by his debt, complaining to Allah of solitude."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مقروض شخص کو ‘ اُس کے قرض کے عوض میں پابند رکھا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکیلے ہونے کی شکایت کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ جسے عفان اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6641

Majma al-Zawaid #6641

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا هَمَّ إِلَّا هَمُّ الدَّيْنِ، وَلَا وَجَعَ إِلَّا وَجَعُ الْعَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ قَرِينٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"There is no worry except the worry of debt, and no pain except the pain of the eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پریشانی صرف قرض کی پریشانی ہوتی ہے ‘ اور تکلیف صرف آنکھ کی ہی تکلیف ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن قرین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6642

Majma al-Zawaid #6642

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيَّ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ، وَعَلَيَّ دَيْنٌ. قَالَ: "" فَاقْضِ دَيْنَكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، بَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that a man said: O Messenger of Allah, the Hajj of Islam is upon me, and debt is upon me. He said: > **"Settle your debt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ذمہ فرض حج لازم ہے ‘ اور میرے ذمہ قرض بھی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنا قرض ادا کرو ! یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ ہے ‘ جو بنوامیہ کا آزاد کردہ غلام ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6643

Majma al-Zawaid #6643

«عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ كَانَ لِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ لِهَذَا عَلَيَّ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ، وَقَدْ غَلَبَنِي عَلَيْهَا. قَالَ: "" أَعْطِهِ حَقَّهُ "" قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا. قَالَ: "" أَعْطِهِ حَقَّهُ "" قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا. قَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ تَبْعَثُنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَأَرْجُو أَنْ تَغْنِمَنَا شَيْئًا [فَأَرْجِعُ] فَاقْضِهِ حَقَّهُ قَالَ: "" أَعْطِهِ حَقَّهُ "". قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَالَ ثَلَاثًا لَمْ يُرَاجَعْ. فَخَرَجَ بِهِ ابْنُ أَبِي حَدْرَدٍ إِلَى السُّوقِ، وَعَلَى رَأْسِهِ عِصَابَةٌ، وَهُوَ مُتَّزِرٌ بِبُرْدَةٍ، فَنَزَعَ الْعِمَامَةَ عَنْ رَأْسِهِ فَاتَّزَرَ بِهَا، وَنَزَعَ الْبُرْدَةَ، فَقَالَ: اشْتَرِ مِنِّي هَذِهِ الْبُرْدَةَ، فَبَاعَهَا مِنْهُ بِالدَّرَاهِمِ، فَمَرَّتْ عَجُوزٌ، فَقَالَتْ: مَا لَكَ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَأَخْبَرَهَا. فَقَالَتْ: هَا دُونَكَ هَذَا الْبُرْدَ؛ لِبُرْدٍ طَرَحَتْهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَحْيَى لَمْ أَجِدْ لَهُ رِوَايَةً عَنِ الصَّحَابَةِ فَيَكُونَ مُرْسَلًا صَحِيحًا.

EnglishUnverified translation

Abu Hadrad al-Aslami (رضي الله عنه) owed a Jew four dirhams, so the Jew sought redress, saying: O Muhammad, this one owes me four dirhams and has overpowered me concerning them. He said: Give him his right. He said: By Him Who sent you with truth, I cannot afford them. He said: Give him his right. He said: By Him in Whose Hand is my soul, I cannot afford them. He informed him that he had told the Jew the Prophet would send them to Khaybar, hoping they would gain something and returning he would pay his right. He again said: Give him his right. When the Prophet ﷺ said a matter thrice it was not reviewed. So Ibn Abi Hadrad took him to the market with a band on his head and wrapped in a cloak as waist-wrapper, removed the turban from his head to wrap with it, removed the cloak and offered it for sale for the dirhams. An old woman passed and asked what was wrong, O Companion of the Messenger of Allah ﷺ. He informed her, so she gave him both cloak and payment, casting upon him the cloak he had offered. > **"Give him his right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے کسی یہودی کے چار درہم دینے تھے ‘ یہودی نے ان کے خلاف مقدمہ کرتے ہوئے یہ کہا : اے حضرت محمد ! اس شخص نے میرے چار درہم دینے ہیں اور اس نے ان کے حوالے سے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دے دو ‘ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں اس پر قدرت نہیں رکھتا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دو ! انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اس کی قدرت نہیں رکھتا ، انہوں نے بتایا کہ میں نے اس شخص کو یہ بتایا ہے کہ آپ ہمیں خیبر کی طرف بھیجیں گے ‘ تو ہمیں یہ امید ہے کہ ہمیں مال غنیمت میں سے کچھ حاصل ہو گا ‘ واپس آ کر اس کے حق کی اسے ادائیگی کر دوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے اس کا حق دو ! راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کوئی بات تین مرتبہ ارشاد فرما دیتے تھے ‘ تو پھر آپ کو نظر ثانی کے لئے درخواست نہیں کی جاتی تھی ‘ حضرت ابن ابوحدرد رضی اللہ عنہ اس شخص کو ساتھ لے کر بازار کی طرف گئے ‘ اُن کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور انہوں نے چادر کو تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا ‘ انہوں نے اپنا عمامہ سر سے اتارا اور اسے تہبند کے طور پر باندھ لیا اور چادر اتار لی اور دریافت کیا : کون مجھ سے یہ چادر خریدے گا ؟ انہوں نے چند درہم کے عوض میں چادر کو فروخت کرنا تھا ‘ ایک بوڑھی عورت گزری اس نے کہا : اے اللہ ! کے رسول کے ساتھی ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے اس خاتون کو سارا معاملہ بتایا ‘ تو اس خاتون نے کہا : یہ لو تم اپنی چادر بھی رکھو ( اور رقم بھی تم رکھو ) اس عورت نے اس چادر کے بارے میں یہ بات کہی ‘ جو انہوں نے اتار کر دی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ میں نے محمد بن ابویحیی کے بارے میں ایسی کوئی روایت نہیں پائی کہ انہوں نے کسی صحابی سے روایت نقل کی ہو ‘ تو یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ اور صحیح ہو گی ۔

6644

Majma al-Zawaid #6644

وَعَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَ الْحُسَيْنُ مُنَادِيًا، فَنَادَى: أَلَّا يُقْبِلَ مَعَنَا رَجُلٌ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ امْرَأَتِي ضَمِنَتْ دَيْنِي؟ فَقَالَ حُسَيْنٌ: وَمَا ضَمَانُ امْرَأَةٍ؟! رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn Umayr, from his father, reported that al-Husayn (رضي الله عنه) commanded a crier who called that no man upon whom is debt should come with them. A man said his wife would guarantee his debt, so Husayn asked what guarantee of a woman amounts to.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن عمیر ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے منادی کو یہ حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا : ہمارے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ آئے ، جس کے ذمہ کوئی قرض ہو ‘ ایک صاحب بولے : میری بیوی میرے قرض کی ضامن بنتی ہے ‘ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عورت کی ضمانت کی کیا حیثیت ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر ہے امام ذہبی کہتے ہیں : وہ معروف نہیں ہے ۔

6645

Majma al-Zawaid #6645

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ أَتَاهُ أُنَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا: إِنَّ لَنَا دُيُونًا؟ لَمْ تَحِلَّ، فَقَالَ: "" ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that when the Messenger of Allah ﷺ commanded expulsion of Banu al-Nadir from Madinah, people from them came saying they had debts not yet due. He commanded reduction for prompt payment. > **"Remit and take promptly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے نکالنے کا حکم جاری کیا ‘ تو ان میں سے کچھ افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا : ہم نے لوگوں سے قرض لینے ہیں جن کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کچھ معاف کر دو اور کچھ پہلے لے لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6646

Majma al-Zawaid #6646

وَتَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ أَشْيَاءَ، فَذَكَرَهَا مِنْهَا: أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ. قَالَ: وَالْآجِلُ بِالْعَاجِلِ أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ رَجُلٌ: أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ». فَذَكَرَهُ. وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ فِي الْبَزَّارِ.

EnglishUnverified translation

The hadith of Ibn Umar (رضي الله عنهما) has preceded that the Prophet ﷺ forbade certain matters, among them forbidding sale of deferred for prompt, meaning one has a thousand dirhams upon a man, so a man says: I will hasten five hundred for you and leave the remainder.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے : نبی اکرم ﷺ نے کچھ چیزوں سے منع کیا تھا ‘ انہوں نے اُس میں اس کا بھی ذکر کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے تاخیر والی ادائیگی کے عوض میں جلدی ادائیگی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے ‘ راوی نے یہ بات بیان کی ہے : تاخیر والی ادائیگی کے بدلے میں جلدی ادائیگی سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک ہزار درہم دینے ہوں اور پھر وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو جلدی دے دیتا ہوں ‘ اور آپ باقی رقم چھوڑ دیں ، تو انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور یہ روایت ( یا یہ راوی ) بزار میں بھی ہے ۔

6647

Majma al-Zawaid #6647

وَعَنْ أَبِي الْمُعَارِكِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ غَافِقٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مَهْرَةَ مِائَةُ دِينَارٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَغَنِمُوا غَنِيمَةً حَسَنَةً فَقَالَ الْمَهْرِيُّ: أُعَجِّلُ لَكَ سَبْعِينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ تَمْحُوَ عَنِّيَ الْمِائَةَ، وَكَانَتِ الْمِائَةُ مُسْتَأْخَرَةً فَرَضِيَ الْغَافِقِيُّ بِذَلِكَ، فَمَرَّ بِهِمَا الْمِقْدَادُ، فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ لِيُشَهِّدَهُ، فَلَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ قَالَ: كِلَاكُمَا قَدْ أَذِنَ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو الْمُعَارِكِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Mu'arik reported that a man of Ghafiq had a hundred dinars upon a man of Mahrah in the time of Uthman (رضي الله عنه), the deferred hundred not yet due, and they gained a good booty. The Mahri said: I will hasten seventy dinars for you on condition you erase the hundred from me. The Ghafiqi agreed. Al-Miqdad (رضي الله عنه) passed by them, so the creditor seized his mount's bridle to make him witness. When the account was related to him he declared both had taken notice of war from Allah and His Messenger.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعارک بیان کرتے ہیں : غافق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مہرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ایک سو دینار لینے تھے ‘ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بات ہے ان لوگوں کو اچھی غنیمت حاصل ہوئی تو مہری نے کہا : میں تمہیں ستر دینار فوری ادا کر دیتا ہوں ‘ اس شرط پر کہ تم ایک سو کی ادائیگی والی تحریر مٹا دو ( یعنی باقی رقم چھوڑ دو ) حالانکہ ایک سو کی رقم بعد میں ادا کی جانی تھی ، غافقی شخص اس بات سے راضی ہو گیا ، حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس سے گزرے ‘ اس شخص نے ان کے جانور کی لگام تھام لی ‘ تاکہ انہیں گواہ بنا لے ‘ جب اس نے انہیں پورا واقعہ سنایا ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا ہے ( یعنی سود والا کام کرنے کی کوشش کی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابومعارک سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

6648

Majma al-Zawaid #6648

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ said: > **"Delay of the rich is injustice; when one of you is referred to a solvent one, let him follow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ‘ اور جب کسی شخص کو ( وصولی کے لئے ) کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے ‘ تو اسے چلے جانا چاہیئے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6649

Majma al-Zawaid #6649

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَقَالَ: "" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ عَرَفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ forbade two sales in one sale, and said: > **"Delay of the rich is injustice, and when one of you is transferred to a solvent one, let him transfer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی سودے میں ، دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ‘ اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ‘ جب ایک شخص کو کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا جائے گا ‘ تو اُسے دوسرے کے پیچھے چلے جانا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔