Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 13 · Chapter 12

Book of Sales and Transactions

Hadith 6650–6689

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6650

Majma al-Zawaid #6650

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْغَنِيَّ الظَّلُومَ، وَلَا الشَّيْخَ الْجَهُولَ، وَلَا الْفَقِيرَ الْمُخْتَالَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْغَنِيَّ الظَّلُومَ، وَالشَّيْخَ الْجَهُولَ، وَالْعَائِلَ الْمُخْتَالَ» "". وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ali (رضي الله عنه) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, in another wording that Allah hates them: > **"Allah does not love the unjust rich, nor the ignorant shaykh, nor the arrogant poor. Indeed Allah detests the unjust rich, the ignorant shaykh, and the destitute arrogant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ‘ ظالم خوشحال شخص اور جاہل بوڑھے اور غریب متکبر کو پسند نہیں کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ‘ ظالم خوشحال ‘ جاہل بوڑھے اور غریب متکبر کو ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6651

Majma al-Zawaid #6651

وَعَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا الْحَقَّ مِنْ قَوِيِّهَا غَيْرَ مُتَعْتَعٍ "". ثُمَّ قَالَ: "" مَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ حَقِّهِ هَذِهِ وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ، وَنُونُ الْمَاءِ، وَمَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ كَذَا وَهُوَ سَاخِطٌ كُتِبَ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ، وَلَيْلَةٍ وَجُمُعَةٍ، وَشَهْرٍ ظُلْمٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Khawlah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ said, declaring that Allah does not sanctify a nation where the weak cannot take his right from the strong without stammering, then explaining the state of the debtor whose creditor leaves satisfied, for whom beasts of earth and fish of water pray, and whose creditor leaves angry, against whom injustice is written every day, night, Friday and month. > **"Allah has not sanctified a nation where its weak cannot take his right from its strong without stammering. Whoever's creditor turns from his right satisfied with him, the beasts of the earth and the fish of the water pray for him; and whoever's creditor turns away angry, injustice is written against him every day, night, Friday and month."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ‘ طاقتور شخص سے حق کو کسی تردد ( یا مشکل ) کے بغیر نہیں لے سکتا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کا قرض خواہ ‘ اپنے حق کے حوالے سے مقروض سے راضی ہو کر جائے ‘ تو اس ( مقروض ) کے لیے زمین کے جانور ‘ پانی کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور جس شخص کا قرض خواہ اُس سے ناراض ہو کر جائے تو اس ( مقروض ) کے خلاف ہر دن اور رات میں ‘ ہر جمعے ( یعنی ہفتے ) میں ‘ اور ہر مہینے میں زیادتی نوٹ کی جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6652

Majma al-Zawaid #6652

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَيْهَا فَهُوَ زَانٍ، وَمَنِ ادَّانَ دَيْنًا، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَى صَاحِبِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فَهُوَ سَارِقٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ: إِحْدَاهُمَا هَذِهِ، وَفِيهَا [مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْأُخْرَى فِيهَا مَنْعُ الصَّدَاقِ خَالِيًا عَنِ الدَّيْنِ، وَفِيهَا] مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْجَزَرِيُّ شَيْخُ الْبَزَّارِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever marries a woman upon a dower intending not to pay it to her is an adulterer; and whoever takes a debt intending not to pay it to its owner is a thief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص مہر کے عوض میں ‘ کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ اس عورت کو اس کا مہر ادا نہیں کرے گا ‘ تو وہ زنا کرنے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ متعلقہ فرد کو اسے ادا نہیں کرے گا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ شخص چور شمار ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک یہ ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ جبکہ دوسری روایت کی سند میں صرف مہر نہ دینے کا ذکر ہے ‘ اس میں قرض کا ذکر نہیں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین جزری ہے ‘ جو امام بزار کا استاد ہے ‘ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

6653

Majma al-Zawaid #6653

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَكِيلِ الزُّبَيْرِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيِّ «أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ قَالُوا لِصُهَيْبٍ: يَا أَبَانَا، إِنَّ أَبْنَاءَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُونَ عَنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". «وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَنَوَى أَنْ لَا يُعْطِيَهَا مِنْ صَدَاقِهَا شَيْئًا مَاتَ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ زَانٍ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ بَيْعًا فَنَوَى أَنْ لَا يُعْطِيَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا مَاتَ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ خَائِنٌ، وَالْخَائِنُ فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ حَدِيثًا فِي الدَّيْنِ خَاصَّةً غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ هَذَا مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Dinar, agent of al-Zubayr ibn Shu'ayb al-Basri, reported that the sons of Suhayb said to Suhayb (رضي الله عنه): O father, the sons of the Companions of the Prophet ﷺ narrate from their fathers. He said: I heard the Prophet ﷺ say: Whoever lies upon me deliberately, let him take his seat in the Fire. And I heard the Prophet ﷺ say: > **"Whoever lies upon me deliberately, let him take his seat in the Fire. Any man who marries a woman intending not to give her anything of her dower dies the day he dies as an adulterer. And any man who buys from a man a purchase intending not to give him anything of its price dies the day he dies as a traitor, and the traitor is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن دینار ‘ جو زبیر بن شعیب بصری کے وکیل ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابا جان ! نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے صاحبزادے ‘ اپنے والد کے حوالے سے احادیث روایت کرتے ہیں : تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص جان بوجھ کر ‘ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ‘ اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ‘‘۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے : ’’ جو شخص کسی عورت کے ساتھ شادی کرے ‘ اور وہ یہ نیت کرے کہ وہ اس عورت کو اس کے مہر میں سے کچھ نہیں دے گا ‘ تو جس دن وہ مرتا ہے ‘ وہ زانی کے طور پر مرتا ہے ‘ اور جو شخص کسی دوسرے شخص سے سودا کرتے ہوئے کوئی چیز خریدے اور یہ نیت کرے کہ اس کی قیمت میں سے اُسے کچھ نہیں دے گا ، تو جب وہ مرتا ہے ‘ تو خیانت کرنے والے کے طور پر مرتا ہے ‘ اور خیانت کرنے والا جہنم میں ہو گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے ‘ جو صرف قرض کے بارے میں ہے ‘ اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور عمرو بن دینار نامی یہ راوی متروک ہے ۔

6654

Majma al-Zawaid #6654

وَعَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مَنَ الْمَهْرِ، أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَدَانَ دَيْنًا لَا يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى صَاحِبِهِ حَقَّهُ أَخَذَ مَالَهُ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهِ دَيْنَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ سَارِقٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maymun al-Kurdi, from his father, reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"Any man who marries a woman for little or much dower, with no intention in himself to pay her right, deceiving her, then dies without paying her right, will meet Allah on the Day of Resurrection as an adulterer. And any man who takes a debt with no intention to pay its owner his right, taking his wealth, then dies without paying his debt, will meet Allah as a thief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میمون کردی ‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی عورت کے ساتھ تھوڑے ‘ یا زیادہ مہر کے عوض میں شادی کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس عورت کو اس کا حق ادا کرے گا ‘ وہ اس عورت کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہوتا ہے اگر وہ ایسی حالت میں مر جاتا ہے اور اس نے اس عورت کا حق ادا نہیں کیا ہوتا ، تو جب وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ زانی شمار ہو گا ، اور جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ متعلقہ شخص کو اس کا حق ادا کرے گا ‘ وہ اس شخص کا مال لے لیتا ہے اور وہ مر جاتا ہے ‘ اور اس کا قرض اسے ادا نہیں کرتا ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ چور شمار ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

6655

Majma al-Zawaid #6655

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَدَانَ دَيْنًا، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقِّهِ. وَمَنِ اسْتَدَانَ دَيْنًا، وَهُوَ لَا يَنْوِي أَنْ يُؤَدِّيَهُ فَمَاتَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ظَنَنْتُ أَنِّي لَا آخُذُ لِعَبْدِي بِحَقِّهِ. فَيُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَيُجْعَلُ فِي حَسَنَاتِ الْآخَرِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ الْآخَرِ، فَتُجْعَلُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever takes a debt intending to repay it, Allah will repay for him on the Day of Resurrection in truth. And whoever takes a debt with no intention to repay it, then dies, Allah Almighty will say on the Day of Resurrection: Did you think I would not take for My servant his right? Then his good deeds will be taken and placed in the good deeds of the other; if he has no good deeds, the sins of the other will be taken and placed upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ نیت رکھتا ہے کہ وہ اُسے ادا کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف سے اس کے ذمہ لازم حق کو ادا کروا دے گا ‘ اور جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کی یہ نیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اسے ادا کرے گا ‘ اور وہ پھر اسی حالت میں مرجاتا ہے ‘ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا : تم نے یہ گمان کیا تھا کہ میں اپنے بندے کا حق اسے نہیں دلواؤں گا ؟ پھر اس شخص کی نیکیاں لی جائیں گی اور دوسرے شخص کی نیکیوں میں شامل کر دی جائیں گی ‘ اور اگر اس شخص کی نیکیاں نہیں ہوں گی ‘ تو دوسرے شخص کے گناہ لے کر اُس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6656

Majma al-Zawaid #6656

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَيْنَانِ: فَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ، فَأَنَا وَلِيُّهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَا يَنْوِي قَضَاءَهُ فَذَاكَ الَّذِي يُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Debts are two: whoever dies intending its settlement, I am his guardian; and whoever dies with no intention of its settlement, he is one whose good deeds will be taken, when there is neither dinar nor dirham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو قسم کے قرض ہوتے ہیں ‘ جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے ‘ تو میں اس کا نگران ہوؤں گا اور جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کی نیت ہی نہیں رکھتا ‘ تو یہ وہ شخص ہے ، جس کی نیکیاں لی جائیں گی ، اُس دن جب دینار اور درہم نہیں ہوں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6657

Majma al-Zawaid #6657

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا، ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ فَأَنَا وَلِيُّهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever of my Ummah bears a debt, then strives to settle it, then dies before settling it, I am his guardian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کا جو بھی فرد قرض لیتا ہے اور پھر اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہے اور پھر اسے ادا کرنے سے پہلے مر جاتا ہے ‘ تو میں اس کا نگران ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6658

Majma al-Zawaid #6658

وَعَنْهَا: «أَنَّهَا كَانَتْ تُدَانُ فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ، وَلَكِ عَنْهُ مَنْدُوحَةٌ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ ". فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ».

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) used to take debts, so it was said to her: What is with you and debt when you have no need of it? She said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **"There is no servant with intention to repay his debt except he has help from Allah. So I seek that help."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ وہ قرض لیا کرتی تھی ان سے کہا گیا : آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ جبکہ آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں ہے ‘ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو بھی بندہ قرض کی ادائیگی کی نیت رکھتا ہو ‘ تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نصیب ہوتی ہے ‘‘۔ ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) تو میں وہ مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔

6659

Majma al-Zawaid #6659

وَفِي رِوَايَةٍ: " «إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ» ".

EnglishUnverified translation

In another narration from Aishah (رضي الله عنها) from the Messenger of Allah ﷺ concerning intention to repay debt: > **"Except he has from Allah help and protection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور حفاظت کرنے والا نصیب ہوتا ہے ‘‘۔

6660

Majma al-Zawaid #6660

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ، أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَتْ: فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ لَا يَزَالَ مَعِي مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ. وَفِيهِ قِصَّةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported concerning one burdened with debt who is anxious for its settlement and strives to repay it, and her own love for that accompanying guard, with a full account mentioned in the narration. > **"Whoever has debt upon him and is concerned with repaying it, or strives to repay it, there remains with him a guard from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جس شخص کے ذمہ قرض لازم ہو اور اس کی نیت اسے ادا کرنے کی ہو ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ اُس کے ساتھ رہتا ہے ‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میرے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔

6661

Majma al-Zawaid #6661

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: "" «كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَسَبَّبَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ سَعِيدَ بْنَ الصَّلْتِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا وَاحِدًا يَرْوِي عَنِ الصَّحَابَةِ فَلَيْسَ بِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported in another wording concerning the one who intends repayment of debt. > **"For him is aid from Allah, and Allah will bring about provision for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ اُس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کا سبب پیدا کر دیتا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ محمد بن علی بن حسین ( شاید امام باقر مراد ہیں ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کی سند متصل ہے ‘ البتہ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : سعید بن صلت نے ہشام بن عروہ سے یہ روایت نقل کی ہے اور میں نے ایسے ایک شخص کو پایا ہے ‘ جس نے صحابی سے روایت نقل کی ہو ‘ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

6662

Majma al-Zawaid #6662

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُقَالُ: يَا ابْنَ آدَمَ، فِيمَا أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ، وَفِيمَا ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ، فَلَمْ آكُلْ، وَلَمْ أَشْرَبْ، وَلَمْ أَلْبَسْ، وَلَمْ أُضَيِّعْ، وَلَكِنْ أَتَى عَلَيَّ إِمَّا حَرْقٌ، وَإِمَّا سَرَقٌ، وَإِمَّا وَضِيعَةٌ. فَيَقُولُ اللَّهُ: صَدَقَ عَبْدِي، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ، فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ، فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ؛ وَثَّقَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Abi Bakr (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the debtor brought on the Day of Resurrection and halted before his Lord, questioned about taking debt and neglecting the rights of people, excusing himself that he did not eat it nor drink it nor wear it nor waste it but was struck by burning, theft, or loss, whereupon Allah declares him truthful and most worthy to settle for him, placing something in the scale of his balance so his good deeds outweigh his evil deeds, entering Paradise by the bounty of His mercy. > **"Allah will call the debtor on the Day of Resurrection until he is halted before Him, and it will be said: O son of Adam, for what did you take this debt, and for what did you neglect the rights of people? He will say: My Lord, You know that I took it and did not eat, nor drink, nor wear, nor waste, but there came upon me either burning, or theft, or loss. Allah will say: My servant has spoken truthfully; I am most worthy to settle for you today. Then Allah will call for something and place it in the pan of his scale, so his good deeds outweigh his evil deeds, and he will enter Paradise by the bounty of His mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ مقروض کو بلائے گا ‘ یہاں تک کہ اس کو سامنے کھڑا کر دے گا اور یہ کہے گا : اے ابن آدم ! تو نے اس شخص کا قرض کس لئے حاصل کیا تھا ؟ اور لوگوں کے حقوق کیوں ضائع کیے تھے ؟ وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ لیا تھا اور میں نے اسے کھایا نہیں تھا ، پیا نہیں تھا ‘ لباس کے طور پر پہنا نہیں تھا ‘ اور میں نے ضائع نہیں کیا تھا ‘ بلکہ مجھ پر آفت آ گئی تھی ، جو جلنے کی صورت میں ، یا چوری کی صورت میں یا نقصان کی صورت میں تھی ‘ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے نے سچ کہا ہے اور میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ آج تمہاری طرف سے ادائیگی کر دوں ‘ پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوائے گا اور وہ اُس کے میزان کے پلڑے میں رکھ دے گا ‘ تو اس کی نیکیوں کا پلڑا ‘ اس کی برائیوں سے بھاری ہو جائے گا ‘ تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فضل کی وجہ سے ‘ جنت میں داخل ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی صدقہ دقیقی ہے مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6663

Majma al-Zawaid #6663

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثٌ مَنْ تَدَيَّنَ فِيهِنَّ، ثُمَّ مَاتَ، وَلَمْ يَقْضِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْهُ: رَجُلٌ يَكُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَخْلَقُ ثَوْبُهُ، فَيَخَافُ أَنْ تَبْدُوَ عَوْرَتَهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَمُوتُ وَلَمْ يَقْضِ، وَرَجُلٌ مَاتَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَلَمْ يَجِدْ مَا يُكَفِّنُهُ وَلَا مَا يُوَارِيهِ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ، وَرَجُلٌ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعَنَتَ فَتَعَفَّفَ بِنِكَاحِ امْرَأَةٍ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْضِي عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ. وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مَعَ اخْتِلَافٍ فِي بَعْضِهِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning three situations in which one contracts debt then dies without repaying, for which Allah repays on his behalf: one in the path of Allah whose garment wears out fearing exposure of his nakedness, one who finds a dead Muslim with nothing to shroud him and cover him, and one who fears hardship upon himself and seeks chastity through marriage to a woman. > **"There are three: whoever contracts debt in them, then dies without repaying, Allah will repay for him: a man in the path of Allah whose garment wears out and he fears his nakedness will appear, then dies without repaying; a man with whom a Muslim dies and he finds nothing to shroud him nor to cover him, then dies without repaying; and a man who fears hardship upon himself and seeks chastity through marriage to a woman, then dies without repaying. Allah, Blessed and Exalted, will repay for him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین قسم کی صورت حال ایسی ہے کہ جو شخص اس صورت حال میں قرض لے اور اسے ادا کیے بغیر مر جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا ‘ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں ( جہاد میں ) ہو اور اس کا لباس پرانا ہو جائے اور اسے یہ اندیشہ ہو کہ اب اس کی شرمگاہ ظاہر ہو جائے گی ‘ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ‘ پھر وہ شخص مر جائے اور اس نے قرض واپس نہ کیا ہو ‘ یا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان شخص فوت ہو جائے ‘ اور وہ شخص اس کو کفن دینے کے لئے اور اس کے جسم کو ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ پاتا ہو ( تو وہ قرض لے کر کفن دفن کا انتظام کرے ) اور پھر وہ قرض ادا کرنے سے پہلے خود فوت ہو جائے ‘ اور وہ شخص جسے اپنی ذات کے حوالے سے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ‘ تو وہ کسی عورت کے ساتھ نکاح کر کے پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو ( اور وہ قرض لے کر شادی کر لے ) اور پھر قرض کی ادائیگی سے پہلے انتقال کر جائے ‘ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف سے قرض کو ادا کروا دے گا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

6664

Majma al-Zawaid #6664

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ، وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning one who desires his supplication answered and his distress removed through granting relief to one in hardship, with the wording of easing the insolvent in another narration. > **"Whoever desires that his supplication be answered and his distress removed, let him grant relief to one in hardship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ مستجاب الدعوات بن جائے اور اس کی پریشانی ختم ہو جائے ‘ اُسے تنگدست کو آسانی فراہم کرنی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص تنگدست کو آسانی فراہم کرتا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

6665

Majma al-Zawaid #6665

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَظَلَّ اللَّهُ عَبْدًا فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ؛ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ تَرَكَ لِغَارِمٍ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَفِيهِ عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ؛ وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Uthman (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ supplicate for shade for the servant who grants respite to one in hardship or forgoes the debt of one indebted. > **"May Allah shade a servant in His shade on a day when there is no shade but His shade: one who grants respite to one in hardship, or forgoes for one indebted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ‘ اس بندے کو اپنے سائے میں رکھے گا ‘ جس دن اُس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ، جس ( بندے نے ) تنگدست کو مہلت دی ہو گی ‘ یا مقروض کو چھوڑ دیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ نے ’’ مسند ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ‘ جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔

6666

Majma al-Zawaid #6666

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ -: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعُوبَةَ السُّلَمِيُّ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ came out toward the mosque gesturing with his hand toward the ground concerning granting respite or remitting for one in hardship. > **"Whoever grants respite to one in hardship, or remits for him, Allah will protect him from the blaze of Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد کی طرف تشریف لے گئے ‘ آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے اس طرح فرما رہے تھے ‘ یہاں ابوعبدالرحمن نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے زمین کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دیتا ہے ‘ یا اُسے ادائیگی معاف کر دیتا ہے ‘ اللہ تعالی اسے جہنم کی تپش سے بچائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعوبہ سلمی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6667

Majma al-Zawaid #6667

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ يَسَّرَ عَلَيْهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِيُ الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتَّبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ concerning granting respite or easing for one in hardship. > **"Whoever grants respite to one in hardship, or eases upon him, Allah will shade him in His shade on a day when there is no shade but His shade."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دیتا ہے ‘ یا اُسے آسانی فراہم کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس دن اپنے سائے میں رکھے گا ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے اور وہ متروک ہے ۔

6668

Majma al-Zawaid #6668

وَعَنْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ فَلْيُيَسِّرْ عَلَى مُعْسِرٍ، أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْعَدَ. وَعَاصِمٌ ضَعِيفٌ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ.

EnglishUnverified translation

Asad ibn Zurarah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described what gladdens one seeking shade on the day without shade through easing or remitting for one in hardship. > **"Whoever is gladdened that Allah shade him on a day when there is no shade but His shade, let him ease upon one in hardship, or remit from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس دن سایہ نصیب کرے ‘ جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ‘ تو اسے تنگدست کو آسانی فراہم کرنی چاہیے ‘ یا اسے ادائیگی معاف کر دینی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عاصم بن عبیداللہ کے حوالے سے ‘ حضرت اسعد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ عاصم نامی راوی ضعیف ہے ‘ اُس نے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

6669

Majma al-Zawaid #6669

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning granting respite or remitting for one in hardship. > **"Whoever grants respite to one in hardship, or remits from him, Allah will shade him in His shade on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تنگ دست کو مہلت دے ‘ یا اسے ادائیگی معاف کر دے ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُسے اپنا سایہ عطا کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔

6670

Majma al-Zawaid #6670

وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ: «أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِرًا حَتَّى يَجِدَ شَيْئًا، أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبُهُ، يَقُولُ: مَا لِي عَلَيْكَ صَدَقَةٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَيَخْرِقُ صَحِيفَتَهُ» "". قُلْتُ: لِأَبِي الْيَسَرِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Yasar (رضي الله عنه) testified that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the first of people to seek shade in the shade of Allah on the Day of Resurrection as one who grants respite until ease or gives as charity what he seeks, saying it is charity seeking the Face of Allah, then tearing his document. > **"The first of people to seek shade in the shade of Allah on the Day of Resurrection is a man who grants respite to one in hardship until he finds something, or gives as charity to him what he seeks from him, saying: What is mine upon you is charity seeking the Face of Allah, and he tears his document."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں میں سے سب سے پہلے ‘ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے سائے میں آئے گا ‘ وہ ایسا شخص ہو گا ، جس نے تنگدست کو اتنی مہلت دی ہو گی ‘ جب تک اسے گنجائش نہیں ملتی ‘ یا جو چیز اس سے لینی تھی ‘ وہ چیز اس پر صدقہ کر دی ہو گی ‘ اور یہ کہا ہو گا : کہ میرا مال تم پر صدقہ ہے ‘ اور یہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہے ‘ اور پھر اس نے ( لین دین کے ) صحیفے کو پھاڑ دیا ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

6671

Majma al-Zawaid #6671

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَامٍ الْأَفْرِيقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ promise shade for granting respite or giving as charity to one in hardship. > **"Whoever grants respite to one in hardship, or gives as charity to him, Allah will shade him in His shade on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دے ‘ یا ( لازم ادائیگی کو ) اُس پر صدقہ کر دے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے اپنے سائے میں رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلام افریقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6672

Majma al-Zawaid #6672

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «أَشْهَدُ عَلَى حِبِّي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" يُظِلُّ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ أَعَانَ أَخْرَقَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) testified by his beloved ﷺ that he heard him promise shade for granting respite to one in hardship or aiding one lacking skill. > **"Allah will shade in His shade on the Day of Resurrection whoever grants respite to one in hardship, or aids one lacking skill."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے محبوب ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں : کہ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سائے میں رکھے گا ‘ جو تنگدست کو مہلت دے گا ‘ یا اپاہج شخص کی مدد کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے اور وہ متروک ہے ۔

6673

Majma al-Zawaid #6673

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَنْ يُظِلَّهُ تَحْتَ عَرْشِهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah (رضي الله عنه) and Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ described attaining salvation and shade beneath His Throne through granting respite to one in hardship. > **"Whoever is gladdened that Allah save him from the distresses of the Day of Resurrection, and shade him beneath His Throne, let him grant respite to one in hardship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا کرے ‘ اور اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے اُسے تنگدست کو مہلت دینی چاہیئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6674

Majma al-Zawaid #6674

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised shade for granting respite and described every good as charity. > **"Whoever grants respite to one in hardship, Allah will shade him in His shade on the Day of Resurrection, and every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ‘ اللہ تعالی قیامت کے دن اُسے اپنے سائے میں رکھے گا اور ہر بھلائی صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6675

Majma al-Zawaid #6675

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا إِلَى مَيْسَرَتِهِ أَنْظَرَهُ اللَّهُ بِذَنْبِهِ إِلَى نَوْبَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ الْجَارُودِ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ. وَشَيْخُ الْحَكَمِ، وَشَيْخُ شَيْخِهِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ described recompense for one who grants respite to one in hardship until ease. > **"Whoever grants respite to one in hardship until his ease, Allah will grant him respite for his sin until his turn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص تنگدست کو گنجائش ملنے تک کی مہلت دے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے گناہ کے حوالے سے اس کی نوبت تک کی مہلت دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن جارود ہے ‘ جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور حکم کا استاد ‘ اور اس کے استاد کا استاد ‘ میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

6676

Majma al-Zawaid #6676

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَهٌ "". قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُكَ تَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ. ثُمَّ سَمِعْتُكَ تَقُولُ: "" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ "". قَالَ: "" لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ، فَإِذَا حَلَّ فَأَنْظَرَهُ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ first mention charity like the debt for each day for granting respite, then mention charity like it doubled for each day, and upon questioning explained the distinction between before maturity and after maturity with continued respite. > **"Whoever grants respite to one in hardship, for him for each day is charity like it. Whoever grants respite to one in hardship, for him for each day is charity like it doubled. For him for each day is charity before the debt falls due; then when it falls due and he grants him respite, for him for each day is charity like it doubled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ‘ تو اسے ہر ایک دن ‘ اتنی رقم جتنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا “۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ‘ اُسے روزانہ اُس سے دُگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ‘‘۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے پہلے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا تو اسے روزانہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ‘‘۔ پھر میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا اسے روزانہ دگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب قرض کی واپسی کا وقت نہ آیا ہو ‘ اس سے پہلے روزانہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ‘ اور جب وہ وقت گزر جائے اور وہ پھر بھی اسے مہلت دے ‘ تو اسے روزانہ اُس سے دُگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6677

Majma al-Zawaid #6677

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، فَأَخَّرَهُ إِلَى أَجَلِهِ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ، فَإِنْ أَخَّرَهُ بَعْدَ أَجَلِهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described charity for deferring a due right to its term and for deferring beyond its term day by day. > **"When a man has a right upon a man and he defers it to its term, for him is charity; then if he defers it after its term, for him for each day is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی شخص کا ‘ کسی دوسرے شخص پر حق ہو ‘ اور وہ اس کو متعین مدت تک مؤخر کر دے ‘ تو اسے صدقہ کرنے کا اجر ملے گا ‘ اور اگر وہ متعین مدت کے بعد بھی اس کو مؤخر کر دے ‘ تو اُسے روازنہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

6678

Majma al-Zawaid #6678

عَنْ جَرِيرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِصَاحِبِ الْحَقِّ: "" خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَيْرَ وَافٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ addressed the owner of a right concerning taking his due with dignity. > **"Take your right with dignity, complete or deficient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک حق دار سے یہ فرمایا : تم اپنا حق احتیاط سے ( یعنی اچھے طریقے سے ) لو ! خواہ پورا ملے ‘ یا پورا نہ ملے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالجبار ہے اور وہ متروک ہے ۔

6679

Majma al-Zawaid #6679

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ. قَالَ لِي أَبِي: يَا جَابِرُ، لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا [أَنِّي] أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ. قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ، فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِنَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي: [أَلَا] إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَيُدْفَنُوا فِي مَصَارِعِهِمَا، حَيْثُ قُتِلُوا، فَرَجَعْنَاهُمَا، فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا. فَبَيْنَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عُمَّالَ مُعَاوِيَةَ [فَبَدَا]؛ فَخَرَّجَ طَائِفَةً مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتَهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ أَوِ الْقَتِيلُ. فَوَارَيْتُهُ. قَالَ: وَتَرَكَ أَبِي دَيْنًا عَلَيْهِ مِنَ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِنَ التَّمْرِ، وَقَدِ اشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّهُ أَنْ يُنْظِرَنِي طَائِفَةً مِنْ نَخْلِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ. قَالَ: "" نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ "". فَجَاءَ، وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّوهُ، وَقَدِ اسْتَأْذَنَ، وَدَخَلَ، وَقَدْ قُلْتُ لِامْرَأَتِي: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ الْيَوْمَ فَلَا أَرَيْتُكِ، وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي فِي شَيْءٍ، وَلَا تُكَلِّمِيهِ، فَدَخَلَ، فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ. قَالَ: وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِي: اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ، وَالْوَحَاءَ وَالْعَجَلَ، افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَنَا مَعَكَ. فَلَمْ يَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا، وَهُوَ نَائِمٌ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ، وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ إِلَّا وَالْعَنَاقُ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَلَمَّا قَامَ قَالَ: "" يَا جَابِرُ، ائْتِنِي بِطَهُورٍ "". فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طَهُورِهِ حَتَّى وُضِعَتِ الْعَنَاقُ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ، ادْعُ إِلَيَّ أَبَا بَكْرٍ "". قَالَ: ثُمَّ جَاءَ حَوَارِيُّوهُ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدَهُ، فَدَخَلُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ، وَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا "". فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضَلَ لَحْمٌ كَثِيرٌ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلَمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرَبُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ، فَلَمَّا فَرَغُ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ، فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَكَانَ يَقُولُ: "" خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ "". وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ: وَأَخْرَجَتِ امْرَأَتِي صَدْرَهَا، وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَفِيفٍ فِي الْبَيْتِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: "" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ "". ثُمَّ قَالَ: "" ادْعُ لِي فُلَانًا "" لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ: فَجَاءَ، فَقَالَ: "" أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ - طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ "". قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ. وَاعْتَلَّ، وَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى. فَقَالَ: "" أَيْنَ جَابِرٌ؟ "". فَقَالَ: أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" كُلٌّ لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ "". فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ: "" الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ ""، فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ. فَكِلْتُ لَهُ مِنَ الْعَجْوَةِ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فِي مَسْجِدِهِ] كَأَنِّي شَرَارَةٌ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟ "". فَجَاءَ يُهَرْوِلُ، فَقَالَ: "" سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ "". فَقَالَ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ [أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ]، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: مَا أَنَا بِسَائِلِهِ. وَكَانَ لَا يُرَاجَعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ. فَقَالَ: "" يَا جَابِرُ، مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: وَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا. فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ، وَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: كُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَهُ بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ، وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ، وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ»؟. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported in a long narration that the Messenger of Allah ﷺ went out from Madinah toward the polytheists to fight them, his father charged him to remain among those watching in Madinah and expressed his expectation of martyrdom while leaving daughters behind, that his aunt brought his father and maternal uncle slain upon a camel to bury them in Madinah until a caller announced the command of the Prophet ﷺ to return the slain to be buried where they fell, that in the caliphate of Muawiyah ibn Abi Sufyan (رضي الله عنه) his father's grave was disturbed by workmen and he found him unchanged except what killing leaves, that his father left debt in dates and some creditors pressed him harshly, so he asked the Prophet ﷺ to assist him that the creditor grant respite from his palms until the coming harvest, the Prophet ﷺ promising to come near midday with his companions, entering with permission, and blessing his affair until Allah sufficed him. > **"Yes, I will come to you, if Allah wills, near midday."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ سے نکل کر مشرکین کی طرف گئے ‘ تاکہ ان کے ساتھ لڑائی کریں ، میرے والد نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر تم مدینہ میں رہ کر اس بات کا جائزہ لو ‘ یہاں تک کہ تمہیں اس بات کا پتہ چل جائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا ؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنے بعد بیٹیاں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں منتظر لوگوں میں شامل تھا ، اسی دوران میری پھوپھی ‘ میرے والد اور میرے ماموں کی لاشیں لے کے آئیں ‘ ان دونوں کی میتیں ایک اونٹنی پر موجود تھیں ‘ وہ ان دونوں کو لے کر مدینہ منورہ آ گئی تھیں ، تاکہ ہم ان دونوں کو اپنے قبرستان میں دفن کریں ‘ اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ مقتولین کو واپس لے جاؤ اور جہاں وہ شہید ہوئے ہیں ، انہیں وہاں دفن کیا جائے ‘ تو ہم انہیں واپس لے گئے اور ہم نے ان دونوں کو وہاں دفن کیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا : اے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہلکاروں نے آپ کے والد کی قبر کو خراب کیا ہے ، جس سے ان کا جسم ظاہر ہو گیا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : میں وہاں آیا تو میں نے یہ صورت حال پائی کہ وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے میں نے انہیں دفن کیا تھا ‘ ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ‘ البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو قتل چھوڑ جاتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر میں نے انہیں ڈھانپ دیا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے اپنے ذمہ کچھ کھجوریں قرض کے طور پر چھوڑی تھیں ‘ ان کے قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے والد فلاں موقع پر جام شہادت نوش کر گئے تھے ‘ ان کے ذمہ کچھ کھجوروں کی ادائیگی قرض کے طور پر لازم تھی ‘ تو ان کے بعض قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ہے ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس حوالے سے میری مدد کریں ‘ ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مجھے اتنی مہلت دے دیں کہ جب تک اگلی دفعہ کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آ جاتا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے اگر اللہ نے چاہا ‘ تو میں دوپہر کے قریب تمہارے پاس آ جاؤں گا ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ‘ آپ کے ساتھ آپ کے حواری بھی تھے ‘ آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ‘ پھر اندر تشریف لے آئے ‘ میں نے اپنی بیوی سے کہا : آج نبی اکرم ﷺ نے تشریف لانا ہے ‘ تو میں یہ نہ دیکھوں کہ تم نے میرے گھر میں کسی حوالے سے اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانے والا کوئی کام کیا ہو ‘ اور تم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کوئی بات بھی نہ کرنا ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے اس عورت نے آپ کے لئے چٹائی بچھائی اور تکیہ رکھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے سر رکھا اور سو گئے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنے غلام سے کہا : کہ تم اس بکری کے بچے کو ذبح کر دو ‘ جو موٹا تازہ تھا ‘ اور تم یہ کام جلدی اور سرعت کے ساتھ کرنا ‘ تم نبی اکرم ﷺ کے بیدار ہونے سے پہلے اس کام سے فارغ ہو جانا ‘ میں تمہارا ساتھ دیتا ہوں وہ ایسا کرتا رہا ‘ یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہو گئے اور نبی اکرم ﷺ اس دوران سوئے رہے ‘ میں نے اس سے کہا : جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوں گے تو وضو کے لئے پانی طلب کریں گے اور میری یہ خواہش ہے کہ جب آپ اٹھ کر فارغ ہوں ، تو آپ کے وضو سے فارغ ہونے تک کھانا آپ کے سامنے ہونا چاہیے ‘ جب نبی اکرم ﷺ اٹھے ‘ تو آپ نے فرمایا : اے جابر ! میرے وضو کا پانی لے کے آؤ ! ابھی آپ وضو کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران وہ گوشت آپ کے سامنے رکھ دیا گیا تھا ‘ آپ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : تمہیں یہ پتہ تھا کہ ہمیں گوشت پسند ہے ‘ تم ابوبکر کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ کے وہ ساتھی بھی تشریف لے آئے ‘ جو آپ کے ساتھ پہلے موجود تھے ‘ وہ حضرات اندر آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ‘ ان حضرات نے کھانا کھایا ‘ یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! بنو سلمہ کی محفل میں لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپ ان لوگوں کے نزدیک ان کی آنکھوں سے زیادہ محبوب تھے ‘ لیکن اس کے باوجود کوئی آپ کے قریب نہیں آتا تھا ‘ اس اندیشے کے تحت کہ کہیں آپ کو اذیت نہ پہنچا دے ‘ جب آپ فارغ ہوئے ‘ تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے اصحاب بھی اٹھ کھڑے ہوئے ‘ وہ حضرات آپ سے آگے نکل گئے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے پیچھے والی جگہ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو ‘‘۔ میں اُن حضرات کے پیچھے چلتا ہوا آیا ‘ یہاں تک کہ جب یہ حضرات دروازے کی چوکھٹ پر پہنچے ‘ تو میری بیوی نے گھر کے پردے کے پیچھے سے منہ نکال کر عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کر دیں ! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے ! پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس فلاں شخص کو بلا کر لاؤ ! یہ اس قرض خواہ کے بارے میں تھا ، جس نے مطالبہ کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ہوئی تھی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہ شخص آیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جابر بن عبداللہ کو آسانی فراہم کرو ! جب تک اسے گنجائش میسر نہیں آ جاتی ‘ جو اس قرض کے حوالے سے ہو ‘ جو اس کے والد کے ذمہ تھا ‘ یہ آسانی اس وقت تک دو ‘ جب تک اگلی مرتب کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آتا ‘ اس شخص نے کہا : میں ایسا نہیں کروں گا ‘ اس نے علت پیش کی اور یہ کہا : کہ یہ یتیموں کا مال ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جابر کہاں ہے ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہاں ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کو ماپ کر دو ! اللہ تعالیٰ اسے ادائیگی کروا دے گا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے آسمان کی طرف دیکھا ‘ سورج ڈھلنے والا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ‘ یہ حضرات مسجد تشریف لے گئے ‘ میں نے کہا : تم اپنا برتن آگے کرو ‘ پھر میں نے اسے ماپ کر عجوہ کھجوریں دینی شروع کیں ، تو اللہ تعالی نے اسے پوری ادائیگی کروا دی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ‘ اتنی کھجوریں بچ گئیں ۔ میں دوڑتا ہوا ‘ نبی اکرم ﷺ کے پاس مسجد میں آیا ‘ یوں جیسے میں کوئی شرارہ ہوں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ؟ کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجوریں ماپ کر دیں ، تو اللہ تعالی نے پوری ادائیگی کروا دی ‘ اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ‘ اتنی کھجوریں بچ گئیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر بن خطاب کہاں ہے ؟ وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جابر بن عبداللہ سے اس کے قرض خواہ اور اس کی کھجوروں کے بارے میں پوچھو ! انہوں نے کہا : میں اس سے نہیں پوچھوں گا ‘ کیونکہ مجھے یہ بات پتہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی پوری ادائیگی کروا دے گا ‘ جب آپ نے یہ بات بیان کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی پوری کروا دے گا ‘ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر مرتبہ یہی گزارش کی کہ میں اس سے نہیں پوچھوں گا ‘ تیسری مرتبہ کے بعد نبی اکرم ﷺ سے مراجعت نہیں کی جاتی تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے جابر ! تمہارے قرض خواہ اور کھجوروں کا کیا معاملہ ہوا ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری ادائیگی کروا دی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ‘ اتنی کھجوریں باقی بچ گئیں ۔ پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس گئے اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ کلام نہیں کرنا ہے ؟ اس خاتون نے کہا : کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنے رسول کو میرے گھر لے کے آئے اور پھر آپ ﷺ ایسے ہی واپس تشریف لے جائیں ‘ اور میں نے آپ سے یہ بھی درخواست نہ کی ہو کہ آپ تشریف لے جانے سے پہلے میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کر دیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نبیج عنزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

6680

Majma al-Zawaid #6680

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «حَضَرَ قِتَالُ أُحُدٍ فَدَعَانِي أَبِي فَقَالَ لِي: يَا جَابِرُ، إِنِّي أَرَانِي أَوَّلَ مَقْتُولٍ يُقْتَلُ غَدًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَإِنِّي لَا أَدَعُ أَحَدًا أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ دَيْنٌ، وَلَكَ أَخَوَاتٌ، فَاسْتَوْصِ بِهِنَّ خَيْرًا، وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي، فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَنْتُهُ، وَآخَرَ فِي قَبْرٍ. فَكَانَ بِمَكَانٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ، فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ دَفَنْتُهُ إِلَّا هَيْئَتَهُ عِنْدَ أُذُنِهِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ غَرِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ قَدْ أَلَحَّ عَلَى جَابِرٍ. فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ: "" خُذْ بَعْضًا، وَأَنْسِئْ بَعْضًا إِلَى تَمْرِ عَامٍ قَابِلٍ "". فَأَبَى الرَّجُلُ، فَأَغْلَظَ لَهُ عُمَرُ وَقَالَ: أَرَاكَ يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذْ بَعْضًا وَأَنْسِئْ بَعْضًا فَتَأْبَى؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْ يَا عُمَرُ، لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالٌ "". قَالَ: فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّخْلِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَعْطِ الَّذِي لَهُ تَامًّا وَافِيًا، وَإِذَا صَرَمْتَ فَأَعْلِمْنِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَدْرَكَتْكَ الْقَائِلَةُ عِنْدَنَا سَائِرَ الْيَوْمِ. فَفَرَشْتُ لَهُ فِي عَرِيشٍ لَنَا وَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لَنَا فَذَبَحْتُهَا فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَرُدَّانِ عَنْهُ النَّاسَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَّبْتُ إِلَيْهِ الطَّعَامَ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَلَمَّا قَرُبَ لِيَنْطَلِقَ أَخْرَجَتِ امْرَأَتِي رَأْسَهَا وَوَجْهَهَا مِنَ الْخِدْرِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَذْهَبُ وَمَا تَدْعُو لَنَا أَوْ لَمَّا تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أَرَاهَا إِلَّا كَيِّسَةً أَوْ أَكْيَسَ مِنْكَ "". فَدَعَا لَنَا، ثُمَّ انْصَرَفَ. فَلَمَّا صَرَمْتُ قَضَيْتُ الَّذِي كَانَ لَهُ تَامًّا وَافِيًا وَفَضَلَ لَنَا سَبْعَةُ أَوْسُقٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: "" ادْعُ لِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "". فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَلْهُ "" فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ تَقُولُ: سَلْهُ إِنْ سَأَلْتُهُ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَلَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَوَاتِهِ مُبَارَكَةٌ فِيهَا مُسْتَجَابٌ لَهَا. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ عُمَرُ فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ. فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ الْخِلَافَةَ وَفَرَضَ الْفَرَائِضَ وَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ وَعَرَّفَ الْعُرَفَاءَ عَرَّفَنِي عَلَى أَصْحَابِي، فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْفَرِيضَةَ فَقَصَّرَ بِهِ عُمَرُ عَمَّا كَانَ يَفْرِضُ لِأَصْحَابِهِ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ: مَا تَذْكُرُ مَا صَنَعَ فِي دَيْنِ عَبْدِ اللَّهِ. فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَلْحَقَهُ بِأَصْحَابِهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَحْمَدَ الْمُتَقَدِّمَةِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah (رضي الله عنهما) reported that before the fighting of Uhud his father called him and told him he saw himself as the first slain among the companions of Muhammad ﷺ, leaving none dearer to him after the Messenger of Allah ﷺ than Jabir, with debt upon him and sisters, enjoining good care of them and settlement of his debt, that he was indeed among the first slain and was buried with another in a grave, that after six months Jabir exhumed him finding him as on the day of burial except near his ear, that upon return to Madinah complaint was made that the creditor of Abdullah pressed Jabir, so the Messenger of Allah ﷺ came walking before Abu Bakr and Umar (رضي الله عنهما) asking the man to take part and defer part until the dates of the coming year, the man refusing, Umar (رضي الله عنه) speaking harshly to him, the Prophet ﷺ restraining Umar for the right-holder has speech, then touring the palms and commanding full payment with notice at harvest, sharing food with them at midday while Abu Bakr and Umar kept people back, and his wife supplicating for the Prophet ﷺ. > **"Take part, and defer part until the dates of the coming year. Gently, O Umar, for the owner of the right has speech. Give the one to whom is due fully and completely, and when you harvest inform me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگ اُحد کا وقت آیا ‘ تو میرے والد نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ کل حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے پہلے شہید ہونے والے افراد میں سے ‘ ایک میں ہوؤں گا اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑ کے جا رہا ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے بعد میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہو ‘ میرے ذمہ کچھ قرض ہے اور تمہاری بہنیں بھی ہیں ، تو تم ان کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو اور میری طرف سے میرا قرض ادا کر دینا ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو وہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے شہید ہونے والے پہلے افراد میں شامل تھے ‘ میں نے انہیں دفن کر دیا اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب کو ایک قبر میں دفن کیا ، ان کی قبر کے حوالے سے میرے ذہن میں کچھ الجھن تھی ، چھ ماہ گزرنے کے بعد میں نے ان کی میت نکالی ‘ تو وہ اسی دن کی طرح تھی ، جیسے اس دن میں نے انہیں دفن کیا تھا ‘ البتہ ان کے کان کے پاس کی جگہ کچھ تبدیل تھی ۔ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یہ گزارش کی گئی کہ ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد ) حضرت عبداللہ کے قرض خواہ نے جابر کے ساتھ سختی کی ہوئی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آگے پیدل چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے ( قرض خواہ سے ) فرمایا : تم کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو ‘ جو اگلے سال کھجوریں آنے تک ہو ‘ اس شخص نے انکار کر دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص پر سختی کی اور فرمایا : میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے رسول تمہیں ارشاد فرما رہے ہیں کہ کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمر ! رک جاؤ ‘ حق دار کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے کھجور کے درخت کا چکر لگایا ‘ پھر آپ نے فرمایا : اسے پوری ادائیگی کر دو اور جب تم کھجوریں اتار لو ‘ تو مجھے بتا دینا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ آپ کو دوپہر کے وقت ہمارے ہاں آرام کرنا چاہیئے ‘ میں نے آپ کے لئے اپنے چھپر میں بچھونا بچھایا اور پھر اپنی بکری کی طرف بڑھا ‘ تاکہ اسے ذبح کر دوں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ‘ تاکہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکیں ‘ جب نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا ‘ آپ نے وہ کھانا کھایا جب آپ تشریف لے جانے لگے ‘ تو میری بیوی نے پردے کے پیچھے سے اپنا سر اور چہرہ باہر نکالا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تشریف لے جانے لگے ہیں ، جبکہ آپ نے ہمارے لئے کوئی دعا ہی نہیں کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عورت سمجھدار ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم سے زیادہ سمجھ دار ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں دعا دی اور پھر تشریف لے گئے ۔ جب میں نے کھجوریں اتاریں ، تو میں نے مکمل ادائیگی کر دی اور پھر بھی سات وسق ہمارے پاس بچ گئے ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ کو بتایا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر بن خطاب کو میرے پاس بلا کے لاؤ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس سے پوچھو ! انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اگر آپ نے یہ بات ارشاد نہ فرمائی ہوتی کہ تم اس سے پوچھو ! تو میں نے اس سے نہیں پوچھنا تھا کیونکہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی دعا اس کے لئے برکت والی بھی ہو گی اور اس کے حق میں مستجاب بھی ہو گی ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے ‘ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تو میں نے انہیں پوری بات سنائی ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور انہوں نے ادائیگیاں مقرر کیں ‘ اور دیوان میں نام نوٹ کرنے شروع کیے ‘ اور مختلف لوگوں کو عریف مقرر کیا ‘ تو انہوں نے مجھے بھی میرے ساتھیوں کا عریف بنا دیا ‘ پھر وہ شخص آیا ، جس نے ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کو اس کے دیگر ساتھیوں کی بہ نسبت کم حصہ دیا ‘ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں بات چیت کی ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تمہیں یاد نہیں ہے ؟ کہ عبداللہ کے قرض کے سلسلے میں اس شخص نے کیا کیا تھا ؟ لیکن میں مسلسل اُن کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ‘ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص کو بھی اس کے ساتھیوں کے ساتھ ملا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ جو امام احمد کی نقل کردہ روایت ہے اور پہلے گزر چکی ہے ۔

6681

Majma al-Zawaid #6681

وَرَوَاهُ أَيْضًا بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ عَجْوَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي نَخْلِي وَفَاءٌ فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُأَخِّرَ عَنِّي أَوْ يَأْخُذَ بِحِسَابِ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَتَى هُوَ وَعُمَرُ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ، خُذْ مِنْ جَابِرٍ، وَأَخِّرْ عَنْهُ ". فَأَبَى فَكَادَ عُمَرُ أَنْ يَبْطِشَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " يَا عُمَرُ مَهْ؛ هُوَ حَقُّهُ ". ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ: " اذْهَبْ بِنَا إِلَى نَخْلِكَ ". فَانْطَلَقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ النَّخْلَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ فِي رُءُوسِهَا، ثُمَّ قَالَ: " يَا جَابِرُ، إِذَا جَدَّدْتَ نَخْلَكَ فَأَعْلِمْنِي " قَالَ: فَصَرَمْتُ نَخْلِي وَوَفَّيْتُهُ تَمْرَهُ، وَبَقِيَ لِي عَشَرَةُ أَوْسُقٍ، أَوْ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported in another wording that a man had ajwah dates due upon him with insufficient yield in his palms, he asked for deferment or settlement by account and was refused, then the Prophet ﷺ and Umar came and interceded, Umar nearly seizing the man, the Prophet ﷺ restraining him for it is his right, then entering the palms and looking at their tops and commanding notice at harvest, after which Jabir harvested, settled his dates in full, and ten or fifteen wasqs remained for him. > **"O so-and-so, take from Jabir and defer from him. O Umar, gently; it is his right. Go with us to your palms. O Jabir, when you harvest your palms inform me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں : ( وہ روایت یہ ہے : ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کی عجوہ کھجوریں دینی تھیں اور میرے کھجور کے درخت میں پوری ادائیگی کی جتنی کھجوریں نہیں تھیں ، میں اس شخص کے پاس گیا اور اس کے بارے میں بات چیت کی ‘ تو اس نے مجھے مہلت دینے سے انکار کر دیا ‘ یا اس حساب سے وصولی کرنے سے انکار کر دیا ‘ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے ساتھ بات چیت کی ‘ آپ نے فرمایا : اے فلاں ! تم جابر سے ( کچھ ) وصولی کر لو اور کچھ مؤخر کر دو ‘ اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مارنا چاہا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم رک جاؤ ! یہ اس کا حق ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم ہمیں ساتھ لے کر اپنے کھجوروں کے باغ کی طرف جاؤ ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلتا ہوا آیا ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ نے کھجور کے درختوں کا جائزہ لینا شروع کیا ، پھر ارشاد فرمایا : اے جابر ! جب تم اپنی کھجور کے درخت سے پھل اتار لو گے تو مجھے بتا دینا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے کھجوروں کے درختوں سے پھل اتارا ‘ اور اس شخص کو پوری ادائیگی کر دی ، پھر بھی میرے پاس دس وسق ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) پندرہ وسق باقی بچ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔

6682

Majma al-Zawaid #6682

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اضْمَنُوا سِتَّ خِصَالٍ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ "". قَالُوا: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا تَظْلِمُوا عِنْدَ قِسْمَةِ مَوَارِيثِكُمْ. وَأَنْصِفُوا النَّاسَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ. وَلَا تَجْبُنُوا عِنْدَ قِتَالِ عَدُوِّكُمْ. وَلَا تَغُلُّوا غَنَائِمَكُمْ. وَامْنَعُوا ظَالِمَكُمْ عَنْ مَظْلُومِكِمْ "". قُلْتُ: سَقَطَتِ السَّادِسَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ called for guarantee of six traits for guarantee of Paradise, then mentioned not wronging in division of inheritances, doing justice to people from oneself, not showing cowardice when fighting the enemy, not misappropriating booty, and restraining one's oppressor from one's oppressed, while the sixth did not appear in the narration. > **"Guarantee six traits and I guarantee Paradise for you. Do not wrong in division of your inheritances. Do justice to people from yourselves. Do not show cowardice when fighting your enemy. Do not misappropriate your booty. Restrain your oppressor from your oppressed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وراثت کی تقسیم کے وقت تم ظلم نہ کرو ‘ اپنی ذات کے حوالے سے لوگوں سے انصاف کرو ‘ دشمن کے ساتھ جنگ کے وقت بزدلی نہ کرو ‘ مال غنیمت میں خیانت نہ کرو ‘ اور ظالم کو مظلوم ( پر ظلم کرنے ) سے روکو ‘‘۔ ( مصنف فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : چھٹی چیز اس میں ذکر نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان رقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6683

Majma al-Zawaid #6683

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ اسْتِقْرَاضِ الْخَمِيرِ وَالْخُبْزِ؟ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّمَا هِيَ مِنْ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ، خُذِ الصَّغِيرَ وَأَعْطِ الْكَبِيرَ، وَخُذِ الْكَبِيرَ وَأَعْطِ الصَّغِيرَ، وَخَيْرُكُمْ أَحَسَنُكُمْ قَضَاءً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ؛ وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about borrowing yeast-dough and bread and declared it from noble morals, permitting taking small and giving large and taking large and giving small, with the best being best in repayment. > **"Glory be to Allah! It is only from noble morals. Take small and give large, and take large and give small, and the best of you are best in repayment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے گوندھے ہوئے آٹے اور روٹی کو قرض لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! یہ اچھے اخلاق کا حصہ ہے ‘ تم چھوٹا لے کر بڑا دے دو ‘ یا بڑا لے کر چھوٹا دے دو ‘ اور تم میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ‘ جو اچھے طریقے سے ادائیگی کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔

6684

Majma al-Zawaid #6684

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ مَشَى إِلَى غَرِيمِهِ بِحَقِّهِ صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ، وَنُونُ الْمَاءِ، وَيَنْبُتُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَذَنْبٌ يُغْفَرُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ described one who walks to his creditor with his right, for whom the beasts of the earth and the fish of water invoke blessings, with a tree planted in Paradise for each step and a sin forgiven. > **"Whoever walks to his creditor with his right, the beasts of the earth and the fish of water invoke blessings upon him, and there is planted for him for each step a tree in Paradise, and a sin is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص قرض خواہ کی طرف ‘ اس کے حق کے سلسلے میں چل کر جاتا ہے ‘ زمین کے جانور اور پانی کی مچھلیاں اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں اور ہر قدم کے عوض میں اس کے لئے جنت میں درخت لگا دیا جاتا ہے اور اس کے ایک گناہ کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن کے حالات بیان کرتے ہوئے ‘ میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

6685

Majma al-Zawaid #6685

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the best through excellence in settling debts. > **"The best of you are best in repayment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں زیادہ بہتر وہ لوگ ہیں ‘ جو اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ( یعنی قرض واپس کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

6686

Majma al-Zawaid #6686

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ جَزُورًا، أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ. - وَتَمْرُ الذَّخِيرَةِ: الْعَجْوَةُ - فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَيْتِهِ فَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّا قَدِ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا - أَوْ جَزَائِرَ - بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ، فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاغَدْرَاهْ! قَالَ: فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ، وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللَّهُ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا "". ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ، وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ "". فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاغَدْرَاهْ! فَنَهْنَهَهُ النَّاسُ، وَقَالُوا: قَاتَلَكَ اللَّهُ، أَتَغْدِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ""، فَرَدَّ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: "" اذْهَبْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ، فَقُلْ لَهَا: إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِيرَةِ فَأَسْلِفِينَا حَتَّى نُؤَدِّيهِ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ، ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ قَالَ: قَالَتْ: نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ إِلَيَّ مَنْ يَقْبِضُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ "". قَالَ: فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ، فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ [يَوْمَ الْقِيَامَةِ] عِنْدَ اللَّهِ الْمُوفُونَ الْمُطَيِّبُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ purchased a camel, or camels, from a Bedouin for a wasq of stored dates, meaning ajwah, then returned to his house seeking the dates and not finding them, went out excusing himself that they had supposed it was with them, the Bedouin twice or thrice crying breach of trust while people rebuked him, the Messenger of Allah ﷺ restraining them for the owner of the right has speech, then sending to Khawlah bint Hakim ibn Umayyah to lend a wasq of stored dates until Allah enables repayment, she consenting and sending one to take possession, whereupon he settled the man in full and supplicated for Khawlah. > **"Leave him, for the owner of the right has speech. O servant of Allah, we purchased from you a camel, and we supposed we had what we named for you, but we sought it and did not find it. Go to Khawlah bint Hakim ibn Umayyah and say to her: if you have a wasq of stored dates then lend to us until we repay you, if Allah wills. Go with him and settle him in full."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک دیہاتی سے ایک اونٹ خریدا ‘ یا کچھ اونٹ خریدے ‘ وہ ذخیرہ کی کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں خریدے ‘ ذخیرہ سے مراد عجوہ کھجوریں ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر واپس گئے ‘ آپ نے کھجوریں تلاش کیں ، تو وہ آپ کو نہیں ملیں ، نبی اکرم ﷺ اس شخص کے پاس واپس گئے اور اس شخص سے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے ایک اونٹ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ اونٹ خریدے تھے ‘ جو عجوہ کھجوروں کے ایک وسق کے عوض میں تھے ‘ ہم نے اسے تلاش کیا ، لیکن وہ ہمیں نہیں ملیں ‘ اس دیہاتی نے کہا : یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ تو لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا : کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے ! کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ اس سے کہا : اے اللہ کے بندے ! ہم نے تم سے تمہارے اونٹ خریدے ہیں ‘ ہمارا یہ خیال تھا کہ ہمارے پاس وہ چیز موجود ہے ‘ جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کی تھی ، لیکن ہم نے اسے تلاش کیا ، تو وہ ہمیں نہیں ملی ، تو اس دیہاتی نے کہا : یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے کیا تم اللہ کے رسول کو عہد شکن قرار دے رہے ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات اس کے سامنے دو مرتبہ ‘ یا تین مرتبہ اس کے سامنے دہرائی ‘ جب آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا کہ اس کو آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی ، تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے فرمایا : تم خولہ بنت حکیم بن امیہ کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو : کہ اگر تمہارے پاس عجوہ کھجور کا ایک وسق ہے ‘ تو وہ ہمیں ادھار دے دو ! اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ‘ وہ صاحب اس خاتون کی طرف گئے ‘ پھر وہ صاحب واپس آئے اس نے کہا : کہ وہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ جی ہاں ! یا رسول اللہ ! وہ میرے پاس موجود ہیں ‘ آپ میری طرف اس شخص کو بھجوا دیں ‘ جو انہیں قبضے میں لے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس شخص کو ساتھ لے جاؤ اور اسے پوری ادائیگی کروا دو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اسے ساتھ لے گیا اور اسے پوری ادائیگی کروا دی ‘ پھر اس دیہاتی کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا ‘ آپ اس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرماتے تھے ‘ اس دیہاتی نے کہا : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ‘ آپ نے پوری ادائیگی کی ہے اور اچھا کام کیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ قیامت کے دن ‘ وہ لوگ اللہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے بہتر ہوں گے ‘ جو اچھے طریقے سے پوری ادائیگی کرتے ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کی سند صحیح ہے ۔

6687

Majma al-Zawaid #6687

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ: «كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسْقٌ مِنْ تَمْرٍ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فَأَتَاهُ يَقْضِيهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْضِيَهُ فَقَضَاهُ تَمْرًا دُونَ تَمْرِهِ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ فَقَالَ: أَتَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! فَاكْتَحَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدُمُوعِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" صَدَقَ، مَنْ أَحَقُّ بِالْعَدْلِ مِنِّي؟! لَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ شَدِيدِهَا، وَلَا يُتَعْتِعُهُ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا خَوْلَةُ، غَدِّيهِ وَادْهَنِيهِ، وَاقْضِيهِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ غَرِيمٍ يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِ غَرِيمِهِ رَاضِيًا إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ، وَنُونُ الْبِحَارِ، وَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْوِي غَرِيمَهُ، وَهُوَ يَجِدُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِثْمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint Qays (رضي الله عنها), wife of Hamzah ibn Abd al-Muttalib (رضي الله عنه), reported that a wasq of dates was due from the Messenger of Allah ﷺ to a man of Banu Saidah who came demanding it, the Messenger of Allah ﷺ commanding an Ansari man to settle him who settled him with dates inferior to his, the man refusing and declaring none worthier of justice than the Messenger of Allah ﷺ, the eyes of the Messenger of Allah ﷺ filling with tears in assent and warning that Allah does not sanctify a nation whose weak does not take his right from its strong without hardship, then commanding Khawlah to feed him and oil him and settle him, for no creditor leaves his debtor pleased but the beasts of the earth and the fish of the seas invoke blessings upon the debtor, and no servant who evades his creditor while able but Allah records against him sin each day and night. > **"He has spoken truthfully; who is worthier of justice than me?! Allah does not sanctify a nation whose weak does not take his right from its strong without hardship. O Khawlah, feed him and oil him, and settle him, for there is no creditor who leaves his debtor pleased but the beasts of the earth and the fish of the seas invoke blessings upon him, and there is no servant who evades his creditor while able but Allah records against him in each day and night a sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ، جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کھجوروں کا ایک وسق بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا دینا تھا ‘ وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے ادائیگی کر دے ‘ تو اس نے ایسی کھجوریں ادا کیں ‘ جو اس شخص کی کھجوروں سے کم تر تھیں ، تو اس شخص نے لینے سے انکار کر دیا ‘ انصاری شخص نے کہا : کیا تم اللہ کے رسول کی بات کو واپس کر رہے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! عدل کرنے کا اللہ کے رسول سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ‘ آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے ‘ عدل کرنے کا مجھ سے زیادہ حق دار اور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ‘ طاقتور شخص سے اپنا حق کسی مشکل کے بغیر نہیں لیتا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خولہ ! اسے کھانا دو اسے تیل دو ‘ اور اسے ادائیگی کر دو کیونکہ جب بھی کوئی قرض خواہ ‘ اپنے مقروض کے پاس سے راضی ہو کر نکلتا ہے ، تو ( مقروض ) کے لئے زمین کے جانور اور سمندر کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں اور جو بھی بندہ اپنے قرض خواہ کے ساتھ ٹامٹول سے کام لیتا ہے ‘ حالانکہ اس کے پاس ( ادائیگی کی ) گنجائش ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ روزانہ اس شخص کے خلاف ایک گناہ نوٹ کر لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

6688

Majma al-Zawaid #6688

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: «جَاءَ يَهُودِيٌّ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمْرًا، فَأَغْلَظَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا قَدَّسَ اللَّهُ - أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ - أُمَّةً لَا يَأْخُذُونَ لِلضَّعِيفِ مِنْهُمْ حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ "". ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، فَاسْتَقْرَضَهَا تَمْرًا، فَقَضَاهُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَذَلِكَ يَفْعَلُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُوفُونَ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ، وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ غَبِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Sufyan (رضي الله عنه) reported that a Jew came demanding dates from the Prophet ﷺ and spoke harshly, his Companions rose against him, the Messenger of Allah ﷺ restraining them that Allah does not sanctify, or have mercy upon, a nation whose weak do not take their right without hardship, then sending to Khawlah bint Hakim seeking a loan of dates and settling him, explaining that thus do the faithful fulfilling servants act, though dates had been with them but dusty. > **"Allah does not sanctify a nation whose weak do not take their right among them without hardship. Thus do the faithful fulfilling servants of Allah act. There were dates with us, but they were dusty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نبی اکرم ﷺ سے کھجوروں کا تقاضا کرنے کے لئے آیا ‘ اور اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی ‘ صحابہ کرام اس کی طرف بڑھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایسی امت پر رحم نہیں کرتا ، جس کے کمزور افراد ‘ اپنے حق کو کسی پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتے ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجوایا اور ان سے کچھ کھجوریں ادھار طلب کیں ، تو انہوں نے وہ ادا کر دیں پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کے بندے اس طرح پوری ادائیگی کرتے ہیں ، ہمارے پاس کھجوریں موجود تھیں ، لیکن وہ غبار آلود تھیں ( یا ہلکی قسم کی تھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

6689

Majma al-Zawaid #6689

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: «اسْتَسْلَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رَجُلٍ تَمْرَ لَوْنٍ فَلَمَّا جَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ عِنْدَنَا الْيَوْمَ مِنْ شَيْءٍ فَلَوْ تَأَخَّرْتَ عَنَّا حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنِقْضِيَكَ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاغَدْرَاهْ! فَتَذَمَّرَ لَهُ عُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعْهُ يَا عُمَرُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا. انْطَلِقْ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، فَالْتَمِسُوا عِنْدَهَا تَمْرًا "". فَانْطَلَقُوا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا تَمْرُ ذَخِيرَةٍ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" خُذُوا فَاقْضُوا "". فَلَمَّا قَضَوْهُ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَسْتَوْفَيْتَ؟ "" قَالَ: نَعَمْ قَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطَبْتَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُطَيِّبُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Abu Humayd al-Saidi (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ borrowed dates of a fine kind from a man who came demanding, the Messenger of Allah ﷺ asking delay until something comes, the man crying breach of trust, Umar speaking harshly, the Messenger of Allah ﷺ restraining him for the owner of the right has speech and sending to Khawlah bint Hakim al-Ansariyyah, with whom was found only stored dates, commanding settlement therewith, the man upon settlement testifying to full and good repayment, whereupon the Prophet ﷺ praised those who make repayment good. > **"Leave him, O Umar, for the owner of the right has speech. Go to Khawlah bint Hakim al-Ansariyyah and seek dates with her. Take and settle. Have you received in full? The best servants of Allah of this nation are those who make repayment good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے عمدہ کھجوریں ادھار لیں ‘ جب وہ شخص آپ کے پاس آیا اور آپ سے تقاضا کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تو ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے اگر تم ہمیں موقع دو ‘ جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ‘ اس شخص نے کہا : یہ کیسی عہد شکنی ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے مارنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ صاحب حق کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، تم خولہ بنت حکیم انصاریہ کے پاس جاؤ اور تم ان سے کھجوروں کا پتہ کرو ‘ لوگ گئے تو اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس تو صرف عجوہ کھجوریں ہیں ‘ اس شخص نے آ کے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : تم وہی لو اور ادائیگی کر دو ‘ جب ان لوگوں نے اس شخص کو ادائیگی کر دی تو وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے مکمل وصولی کر لی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے مکمل ادائیگی کی ہے ‘ اور اچھی ادائیگی کی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت میں سے ‘ اللہ کے بہتر بندے وہ ہیں ‘ جو اچھی ادائیگی کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ بات بیان کی ہے ‘ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔